Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08
لاٸٹ پنک پلین شرٹ کے ساتھ واٸٹ پینٹ پہنے، بازو فولڈ کیے، رولکس کی قیمتی سنہری گھڑی پہنے، وہ باری باری سب ماڈلز کی تیاری چیک کر رہا تھا۔
”رمشہ۔۔۔۔آر یو اوکے۔“
فیضی ایک ماڈل کےقریب رکا۔
” ییس سر۔۔۔۔ایم اوکے۔“
رمشہ نے مسکرانے کی کوشش کی۔
” سر ۔۔۔۔یہ ڈریس مجھ سے کیری نہیں ہو رہا۔“
رانیہ کوفت سے بولی۔
وہ ایک انگوری کلر کی انتہاٸی کامدار فلور لینتھ میکسی تھی، جس کا پچھا گھیر بھی انتہاٸی کامدار اور زمین پر تقریباً تین فٹ پیچھے کو لمباٸی میں تھا، دوپٹہ بھی انتہاٸی کامدار ہونے کی وجہ سے بار بار پھسل رہا تھا۔
” رانیہ ۔۔۔۔یو آر آ ماڈل۔۔۔۔۔ٹراۓ ٹو کیری اٹ۔“
فیضی نے اسکا دوپٹہ ٹھیک کروایا کمر کے پاس چار پانچ پنز لگواٸی۔
” پھر سینڈل چینج کر دیں۔۔۔۔۔ہاٸی ہیلز مینج نہیں ہوں گی مجھ سے۔“
رانیہ روہانسی ہوٸی۔
” اوکے۔۔۔۔علی۔۔!!!“
فیضی نےعلی کو آواز دی۔
” ان کے سینڈل چینج کرواٶ۔“
فیضی نے باری باری ساری ماڈلز کا جاٸزہ لیا۔
دس بجے کا وقت تھا ،ریمپ واک شروع ہو چکی تھی۔
فیضی کی ساری ماڈلز ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہیں تھیں۔
” Ladies And Gentalman hands up for the fabolous desighnes of dubai by Elsa designer.”
ماٸیک سنبھالے کمپیرر پوری دلجمعی سے حاظرین و ناظرین کے دلوں میں تجسس جگا رہا تھا۔
ایوینٹ کی جگہ بہت خوبصورت تھی، سفید بے داغ لمبا ریمپ بنا ہوا تھاجس کے اطراف میں پہلی قطار فوٹوگرافرز، ڈیزائنرز ، سپانسرز اور چیف گیسٹس کی تھی، پچھلی قطاریں مشہور ماڈلز ایکٹریس اور ہاٸی سوسائٹی بزنس مینز سے بھری ہوٸیں تھیں۔
روشنیوں سے جگمگاتا ہال تالیوں کی گونج سے دہل اٹھا جب خوبصورت ماڈلز انتہائی زرق برق لباسوں میں ملبوس، میک اپ اور زیورات سے سجی ریمپ پر ایک ادا سے چلتی ہوٸی آرہیں تھیں، کہیں تالیوں کا شور تھا تو اگلی قطار میں فوٹو گروفرز کے کیمرے کلک کلک کی آواز پیدا کیے ہر لمحہ، اور ماڈل کی ہر ادا کو قید کر رہے تھے۔
ماڈل گولڈن لہنگا پیروں سے ہلاتی ریمپ پر اپنی مہارت سے چلتی آرہی تھی۔
ریمپ کے آخری سرے تک آتے وہ ایک ادا سے رکتیں اور ہر طرف مڑ کے پوز دیتی اور مڑ کے ریمپ کے سینٹر میں بنی اطراف کی راہداری میں کھڑی ہو جاتیں۔
“Ladies And Gental mans hands up for the models presenter Mr Faizan Sikandar and Mr Ali Yazdani from pakistan and the designer Mr Asim khana from dubai“
کمپیرر کی آواز ماٸیک کے زیعے لوگوں میں عجب بجلی بھر گٸ۔
فیضان سکندر، علی یزدانی اور عاصم خناّ کے ساتھ مسکراتا ہوا ریمپ پر چلتا آ رہا تھا۔
لاٸیو کیمرے کی ہر آنکھ اسکی وجاہت کے ہر انداز کو نظر بند کرتی جا رہی تھی۔
فیضی نے ہاتھ ہلا کے اپنے فینز کو جواب دیا اور ماڈلز کے پاس کھڑے ہو گیے۔
ایوینٹ رات کے دو بجے ختم ہوا۔
فیضی تھکا ہارا بیٹھا ہی تھا، جب علی اچھلتا ہوا دھپ سے بیڈ پر گرا۔
” یار فیضی ۔۔۔۔۔ایوینٹ کی ریٹنگز دیکھ۔“
علی کی آواز میں خوشی کی گہری جھلک تھی۔
” ہماری سوچ سے زیادہ کامیابی ملی۔“
فیضی تکیہ سر کے نیچے رکھتے ہوۓ بولا۔
” بلکل۔۔۔۔“ فیضی نے اقرار کیا۔
“اگلا ایوینٹ چار دن بعد کا ہے، ماڈلز اتنی جلد ریڈی نہیں ہونگی۔۔۔۔۔نیکسٹ ویک کا رکھوا لیتے ہیں، اس دوران کمرشلز کمپلیٹ کر لیتے ہیں۔“
علی لیپ ٹاپ بند کرتے ہوۓ بولا۔
“صبح دیکھتے ہیں، فلوقت بہت تھکاوٹ ہو رہی ہے۔“
فیضیی اونگھتے ہوۓ منمنایا۔
” اوکے گڈ ناٸٹ یار۔“
علی جماٸی روکتا ہوا اس کے کمرے سے نکل گیا۔
نین تارا اکیڈمی سے آٸی اور کھانا کھا کے سو گٸ۔
سات بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی، فریش ہو کے باہر آگٸ۔
گھر میں گہرا سکوت تھا، اتنی گہری خاموشی کہ خوف محسوس ہونے لگا تھا وہ اٹھ کے باہر آگٸ۔
ہلکا ہلکا اندھیرا پھیلنے لگا تھا، عجب اداسی سی اداسی روح کو گھاٸل کرنے لگی تھی۔
نین تارا بازو سینے پر لپیٹے چپ چاپ لان کے گرد روش پر چلنے لگی۔
ماں کا تیکھا لہجہ، بابا کا پیار اور فضیلہ کی جلی کٹی باتیں۔۔۔۔۔نین تارا کی آنکھیں نم ہو گٸیں۔
بعص اوقات وقت اپنوں کی کمی کا احساس پوری شدت سے دلاتا ہے کہ بندہ چاہ کر بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتا۔
دل پوری شدت سے گاٶں کی کچی گلیوں کا خواہاں ہونے لگا تھا۔
نین تارا اندر آگٸ۔
سیڑھیاں چڑھتی وہ فیضی کے کمرے میں آگٸ۔
دیوار گیر فیضی کی تصویر دیکھتے وہ مسکرا دی۔
” آپ کو کیا غرض ہو سکتی ہے نین تارا سے فیضی صاحب، اس نین تارا سے جو لوگوں کے لیے باعث تمسخر رہی ہے۔“
تصویر کو نظروں میں رکھتے ہوۓ بولی۔
نین تارا با لکونی میں آگٸ۔
ریلنگ پر ہاتھ رکھے وہ ارد گرد کا جاٸزہ لینے لگی۔
پورے شہر پر خاموشیوں نے ڈیرے جماۓ تھے یا دل میں اتنا گہرا سکوت تھا جو ہر شے کو اداسی میں نہلاۓجا رہا تھا۔
کافی دیر وہاں کھڑے رہنے کے بعد نین تارا اکتا کےنیچے آگٸ۔
اپنےلیے چاۓ کا کپ بنایا اور لاٶنج میں چلی آٸی۔
ٹی وی آن کیا اور چینل سرچنگ کرنے لگی۔
ایک چینل پر فیضی کی جھلک نظر آٸی، نین تارا وہیں رک گٸ۔
نو بجے کا وقت تھا، اینکر دس بجے شوسٹارٹ ہونے کا وقت بتا رہا تھا۔
نین تارا کافی دیر چینل گھماتی رہی، پھر وہیں آ کر چھوڑ دیا۔
انتہاٸی خوبصورت ماڈلز زرق برق لباسوں میں ملبوس اپنے جلوے بکھیرتی آرہیں تھیں۔
نین تارا حیرت و حسرت سے ان کے لباس اور جیولری دیکھتی رہی۔
شو کے ختم ہونے سے کچھ دیر قبل فیضی ریمپ پر آیا۔
ہمیشہ کی طرح دلکش و وجیہہ سراپہ لیے، خوبصورت مسکان لبوں کی زینت بناۓ، اپنے وجاہت کے تمام ہتھیاروں سے لیس۔۔۔۔نین تارا کادل دھڑک اٹھا۔
” ادا بی بی لکی ہیں انہیں آپ کاساتھ ملےگا فیضی۔“
نین تارا اداسی سے مسکراٸی۔
” میرا ہاتھ کوٸی ناقد ہی تھام لے تو زندگی کو احسان کے بدلے ہی اسکے سر سے وار دوں۔“
صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
ٹی وی سکرین پر مسلسل فیضی کی فوٹوز چل رہیں تھیں۔
” اللہ ہر کسی کو آپ جیسا کیرنگ شوہر دیں۔“
دل سے دعا کرتی وہ گیارہ بجے کمرے میں آگٸ۔
نین تارا کیروٹین بن گٸ، وہ روز کلینک جاتی اور پھر اکیڈمی۔
زندگی نے نیا موڑ لیا تھا، جس سے و باخبر بھی تھی اور بے خبر بھی۔
قسمت نے اسے شاید آگہی سے اسلیے بچا رکھا تھا، عموماً آگہی عذاب بن کے روح کو گھاٸل بھی کر دیتی ہے۔
نین تارا فاریہ کے ساتھ کافی اٹیچ ہو گٸ تھی، اس کے لہجے اور چالچلنمیں غیر معمولی فرق واضح ہونے لگا تھا۔
” تارا شاپنگ کرنے چلیں۔“
فاریہ اسکے بال سٹریٹ کرتے ہوۓ بولی۔
ڈارک مہرون شیڈڈ بال سٹریٹہوۓ انتہاٸی دلکش لگ رہے تھے۔
” واٶ۔۔۔۔کتنے پیارے لگ رہے ہیں۔“
نین تارا چہکی۔
” فاریہ کا جادو ہے۔“
فاریہ اتراٸی۔
نین تارا کھلکھلا کے ہنس دی۔
ایک ویک میں اسے دو انجیکشن لگ چکےتھے، سانولی رنگت کافی حد تک نکھرنے لگی تھی، سیاہ دھبے بھی ہلکے ہونے لگے تھے۔
نین تارا ریڈسوٹ میں ملبوس بال ایک ساٸڈ پہ کیے ہوۓ دوسرے کندھے پر دوپٹہ ٹکاۓ، پیروں میں سلیپرز پہنے گاٶں کی نین تارا سے بے حد مختلف لگ رہی تھی۔
فاریہ اسے لیے مال میں چلی آٸی۔
” کم آن نین تارا۔۔۔۔ڈونٹ بی شاۓ۔۔۔۔۔یہاں کوٸی تمہیں رک کے نہیں دیکھے گا، ہر کوٸی اپنی زندگی کی مصروفیات لیے پھر رہا ہے، کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کے کسی پر غور کرے ۔۔۔۔سو بی ریلیکس اینڈ چِل۔“
فاریہ آخر میں آنکھ دبا کے بولی۔
بلیو جینز کے ہمراہ واٸٹ کُرتا زیب تن کیے وہ ہمیشہ کی طرح خوبصورت لگ رہی تھی۔
” یہ جینز دیکھو۔۔۔“
فاریہ نے جینز پکڑی۔
”میں جینز نہیں پہنوں گی۔۔۔“
نین تارا نے صاف انکار کیا۔
” تم سے پوچھا میں نے۔۔۔۔۔؟“
فاریہ جینز دیکھتے ہوۓ بولی۔
” اچھا۔۔۔“
نین تارا چپ ہو گٸ۔
فاریہ نے خوبصورت ٹرینڈی جینز اور کرتے خریدے ساتھ ہم تنگ دوپٹے لیے وہ دونوں باہر نکلیں اور کاسمیٹکس شاپ میں گھس گٸیں۔
شاپنگ کرتے کرتے انہیں پانچ بج گیے تھے۔
” فاری میں تھک گٸ ہوں۔“
نین تارا تھکن سے چور لہجے میں بولی۔
” چلو آٶ کچھ کھاتے ہیں۔“
فاریہ مال میں فوڈ پواٸنٹ کی طرف بڑھ گٸ۔
” آرڈر پلیس کرو۔“
فاریہ مینو کارڈ اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ بولی۔
نین تارا نے جھجھکتے ہوۓ آرڈر پلیس کیا اور دونوں باتیں کرنے لگیں۔
” موبائل لیا ہی نہیں تم نے۔۔۔۔“
فاریہ اسے گھورتے ہوۓ بولی۔
” میرے پیسے ختم ہو گیے ہیں۔“
نین تارا دونوں ہاتھ ٹھوڑی تلے جماۓ کہنیاں ٹیبل پر رکھتے ہوۓ پریشانی سے بولی۔
” اس میں پریشانی والی کیا بات ہے یار۔“
فاریہ نے چٹکی بجاٸی۔
ویٹر سرو کرنے لگا تو وہ چپ ہو گٸیں۔
ویٹرکی نظریں مسلسل خود پر محسوس کیے نین تارا نے دیکھا تو وہ مسکرا دیا۔
فاریہ نے مسکراہٹ ضبط کی۔
” یہ پاگل تھا۔“
نین تارا پیشانی پہ بل ڈالے بولی۔
” تمہاری آنکھوں پر۔۔۔۔“
فاریہ ہنسی۔
نین تارا نےگھوری سے نوازا اور کھانا کھانے لگی۔
کھانے سے فارغ ہو کر فاریہ نے اسے گھر ڈراپ کیا اور چلی گٸ۔
چھ بج رہے تھے نین تارا نے شاپنگ بیگ صوفے پر رکھے اور بیڈ پر نیم دراز ہو گٸ۔
فاریہ نے سختی سے تاکید کی تھی وہ صبح جینز کُرتے میں اکیڈمی آۓ۔
لیٹے لیٹے نین تارا کی آنکھ لگ گٸ۔
فیضی دبٸی میں نیے پراجیکٹس اور کمرشلز میں بہت مصروف ہق گیا تھا۔
” فیضی یار کچھ ریسٹ کر لو ۔۔۔۔صبح سے کام میں بزی ہو۔“
علی نے کہاتو اس نے مسکراہٹ کے ساتھ اسکی طرف دیکھا۔
” صبح کے لیے تین کمرشلز شوٹنگ ہیں اوکے، اور سنڈے کو دونوں شوز ارینج کیے ہیں۔“
فیضی اسے بتانے لگا۔
” ایک ہی دن کیوں۔“
علی نے سرسری سا پوچھا۔
” کام نبٹاٸیں یار اور ویسے بھی دونوں ڈیزائنرز جلدی جلدی کی رٹ لگاۓ ہوۓ تھے۔“
فیضی نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاٸی۔
” ہمارے میک اپ آرٹسٹ کم پڑ جاٸیں گے۔“
علی نے کہا۔
” وہ میں ارینج کر دیتا ہوں۔۔۔ڈونٹ یو وری۔“
فیضی مسکرایا اور نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔
بات کر کے فون رکھا اور علی کی طرف متوجہ ہوا۔
” کل تک آجاٸیں گے مزید میک اپ آرٹسٹ۔“
فیضی لیپ ٹاپ پر دوبارہ مصروف ہو گیا۔
” فیضی۔۔۔۔!!!“
علی نے پکارا۔
” ہاں۔“
فیضی مصروف سا بولا۔
” تمہارے بغیر میں کچھ نہیں کر سکتا۔“
علی پیار سے بولا۔
” میں بھی۔۔۔۔“
فیضی جواباً مسکرایا۔
دونوں کی محبت قابل دید تھی، آفس کے زیادہ تر کام علی سنبھالتا اور آٶٹ ڈور فیضی کے سپرد تھے، دونوں بہت خلوص سے چل رہے تھے۔
” السلام وعکیلم۔۔۔۔مارننگ۔“
ادا کرسی کھینچتے ہوۓ بولی۔
” وعلیکم السلام۔“
دونوں حیرت سے بولے۔
” تم کب آٸی ادا۔“
ارم نے حیرت سے اسکے سراپے پر نظر دوڑاٸی۔
” رات آٸی تھی۔“
ادا سنجیدگی سے بولی۔
” اتنی رات کو آنے کی کیا ضرورت تھی، فیضی کے پاس رک جاتی۔“
نعمان ناشتہ کرتے ہوۓ بولا۔
” وہ موصوف دوبٸی گیے ہوۓ ہیں، اور اسکے گھر میں تو نین تارا دندناتی پھر رہی ہے۔“
ادا نہایت تلخی سے کاٹ دار لہجے میں بولی۔
” کیا مطلب۔۔۔۔“
ارم چونکی۔
” فیضی نے اسے وہاں ملازمہ نہیں بنایا، بلکہ اسکے لیے شاپنگز کرتا پھرتا ہے، رہتی بھی وہ گیسٹ روم میں ہے۔“
ادا پھٹ ۔
” پر وہ ایسا کیوں کرے گا۔۔۔۔اور تمہیں نین تارا سے خطرہ نہیں ہونا چاہیے، کم از کم میرٕے بھاٸی کی چواٸس ایک بدصورت جاہل ملازمہ نہیں ہو سکتی۔“
ارم سکون سے بولی۔
نعمان خاموش رہا۔
” آپ نین تارا کو واپس بلوا لیں اور اسکی جگہ کسی دوسری ملازمہ کو بھیج دیں۔“
ادا نے کہا اور بنا ناشتہ کیے ٹیبل سے اٹھ گٸ۔
” کرتی ہوں کچھ میں تو پہلے ہی کالی بلی کے حق میں نہیں تھی، گھنی لڑکی بہت چالاک ہے۔“
ارم خودکلامی کے انداز میں بولی۔
