Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04
” دیکھ نین تارا۔۔۔۔ہماری روزی روٹی اب تیرے ہاتھ میں ہے، تو کماۓ گی تو ہم بیٹھ کے کھا لیں گے ورنہ دوہری ہوتی کمر سے کام میں جتے رہیں گے۔“
شکیلہ جزباتی لہجے میں بول رہی تھی۔
” تیرے ہاتھ میں ہے تو ہمیں سکھ کے چار روز دکھاتی ہے یا بڑھاپے کی اس لاچاری میں بھی کام کرواتی ہے۔“
شکیلہ نے آنسو پونجھے۔
نین تارا چپ رہی۔
“ میں نے تیرے سارے نیے جوڑے رکھ دیے ہیں،فیضی صاحب آتے ہونگے تجھے لینے۔“
شکیلہ نے کہا۔
نین تارا خاموشی سے بیٹھی رہی۔
” دل لگا کر کام کرنا پتر۔۔۔۔۔فیضی صاحب کے سارے کام خود کرنا ۔۔۔کیا پتہ تنخواہ اور بڑھا دے۔“
شکیلہ نے رازدانہ انداز میں کہا۔
”اماں تو نے یہ کیوں نہیں سوچا مجھے اتنے سے کام کے لیے پچاس ہزار دے رہا ہےتو کیو ں دے رہا ہے۔۔۔۔۔حویلی سے کسی کو بھی لے جا سکتا تھا۔۔۔مجھے ہی کیوں۔“۔
نین تارا سنجیدگی سے بولی۔
” تیرا کام پسند۔۔۔۔۔“
شکیلہ بولی ہی تھی کہ نین تارا نے بات کاٹ دی۔
” نہیں۔۔۔۔۔میرے کام کی وجہ سےنہیں ہے۔۔۔۔۔وہ کسی اور کام کے لیے مجھے لے جا رہا ہے۔“
نین تارا کچھ سوچتے ہوۓ بولی۔
” اور تو کیا کرلیتی ہے بھلا۔“
شکیلہ نے بھنویں سکیڑیں۔
” ایویں وہم نا پال۔۔۔۔۔۔ملازمہ کام ہی کرتی ہے بس۔“۔شکیلہ نے بات ختم کی اور اٹھ گٸ۔
اتنے میں گاڑی کا ہارن بجا۔
نین تارا ہلکے گلابی سوٹ میں ملبوس تھی، کمر کو چھوتے رنگت کی طرح سیاہ بال چوٹی میں گندھے تھے۔
نین تارا کی سہیلیاں اور ہمساٸیاں اس سے ملنے آٸیں تھیں۔
نین تارا سب سے ملی اور گاڑی کی طرف بڑھی ہی تھی جب اسکی سنگی صبا روتے ہوۓ اسکے گلے لگ گٸ۔
” کیا ہو گیا صبی۔۔۔۔۔میری رخصتی نہیں ہو رہی۔۔۔کام کرنےجا رہی ہوں۔“
نین تارا کوفت سے بولی اوراسے گلے سے ہٹایا۔
فیضی نے ہنسی ضبط کی۔
نین تارا لینڈ کروزر کی پچھلی سیٹ پربیٹھ گٸ۔
گاٶں والوں کی نظر میں اپنے لیے رشک دیکھ نین تارا نے غصے سے سر جھٹکا۔
” ملازمہ بن کے جا رہی ہوں دیکھ ایسے رہے ہیں جیسے عمرے پہ لے جا رہا ہو۔“۔
خودسے بڑبڑاٸی۔
” تمہیں پتہ ہے نین تارا تم اتنی کالی کیوں ہو۔۔۔؟“
فیضی نے فرنٹ مرر سے اسے دیکھا۔
نین تارا نے بھنویں سکیڑیں۔
” کیونکہ تم اندر ہی اندر جلتی رہتی ہو۔۔۔۔۔تب ہی جل جل کے کوٸلہ بنتی جارہی ہو۔“
فیضی شرارت سے بولا۔
نین تارا نے منہ بنایا۔
فیضی نے اسکی حرکت پر قہقہہ لگایا۔
” مجھے پچاس ہزار تنخواہ کیوں دینی ہے آپ نے فیضی صاحب۔“
نین تارا نے پوچھا۔
” بتایا تو تھا۔“
فیضی نے اسکی گہری سبز آنکھوں میں دیکھا۔
” مجھے نہیں لگتا۔“
نین تارا نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔
فیضی کا پیر بریک پر گیا اور گاڑی بیچ سڑک میں جھٹکے سے رکی۔
نین تارا دونوں سیٹوں کے بیچ جاگری۔
” تمہیں کیوں نہیں لگتا“
فیضی نے حیرت سے پیچھے مڑ کے براہ راست اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
” صاحب مجھے نہیں لگتا کوٸی ماسی کو پچاس ہزار دے سکتا ہے۔“
نین تارا سیدھی ہوٸی۔
” ہممم۔۔۔۔بڑی سمارٹ ہو۔“
فیضی نے سراہا۔
” نہیں سمارٹ نہیں ہوں صاحب۔۔۔۔عقل سے کام لیتی ہوں۔“
نین تاراصاف گوٸی سے بولی۔
” فیضی کہو۔۔۔۔صاحب واب نہیں۔۔۔۔۔“
فیضی نے کہا۔
” کیوں۔“
نین تارا ناسمجھی سے بولی۔
” شہر میں یہ سب نہیں چلتا نین تارا۔“
فیضی نے گاڑی موڑی۔
نین تارا چپ ہو گٸ۔
فیضی کا دماغ اگلا لاٸحہ عمل طے کر رہا تھا۔
تین گھنٹوں میں شہر کی حدود میں داخل ہوۓ۔
فیضی نے ایک خوبصورت بنگلے کے سامنے گاڑی روکی اور ہارن دیا۔
گیٹ کھلا تو اس نے گاڑی پورچ میں روکی۔
حویلی سے کہیں زیادہ خوبصورت بنگلہ تھا۔
” آ ٶ۔“
نین تارا کو جھجکتے دیکھ بولا۔
” صابر گاڑی سے سامان نکالو اور بشری سے پوچھ کمرے میں پہنچاٶ۔“
فیضی حکم دیتا اسے لیے کمرے میں پہنچا۔
” بشری۔۔۔۔“
فیضی اندر آتے میڈ کو آوازیں دینے لگا۔
” ییس سر۔۔“
انتیس تیس سالہ لڑکی نمودار ہوٸی۔
” ان کے لیے کمرہ صاف کرواٶ۔“
فیضی حکم دیتا سیڑھیاں چڑھ گیا۔
بشری نے ایک تمسخرانہ نگاہ اس پہ ڈالی اور چلی گٸ۔
” میم آپ کا کمرہ صاف ہو گیا۔“
بشری نے طنزاً کہا۔
نین تارا کو اس کے انداز پر بہت سبکی محسوس ہوٸی۔
نین تارا کمرے میں چلی گٸ۔
کمرہ بہت خوبصورت تھا، سفید پینٹڈ بے داغ کمرے کے وسط تک آتا سفید اور گولڈن کمبینیشن کا بیڈ، بیڈ کے آگے کارپٹ پر رکھا واٸٹ پوشنگ سیٹر ، داٸیں جانب ڈریسنگ روم اور باٸیں جانب کھڑکی کے آگے رکھے سلیقے سے دو ون سیٹر صوفے جب کے درمیان ایک خوبصورت ٹیبل پڑا تھا، جس پر ایک خوبصورت گلدان رکھا ہوا تھا اور اسکے ساتھ واش روم تھا۔
پورا کمرہ بلیو کارپٹڈ تھا، دیوار کے ساتھ پانچ فٹ کا چھت تک جاتا بلیو رنگ کا ڈیزائن بنا ہوا تھا جس پر خوبصورت فریم آویزاں تھے۔
” یہ تمہارا سامان۔“
بشری نے نخوت سے سامان اسکے پیروں میں پھینکا۔
” یہ کیا طریقہ ہے بشریٰ۔۔۔۔۔۔“
فیضی جو نین تارا کے کمرے میں آرہا تھا، بشری کی حرکت دیکھ تلملایا۔
” سوری سر۔“
بشری شرمندگی سے نین تارا کی طرف بڑھی اور بیگ اٹھا کر ڈریسنگ روم میں چلی گٸ۔
” جاٶ فریش ہو جاٶ۔۔۔۔۔مل کے کھانا کھاتے ہیں۔“
فیضی مسکرا کے بولا۔
” جی صاحب۔“
نین تارا اٹھی تھی جب فیضی نے اسے ٹوکا۔
” میں نے تمہیں کچھ کہا تھا گاڑی میں۔“
فیضی غصے سے بولا۔
” سر رکھ دیے۔“
بشریٰ منمناٸی۔
” ٹھیک ہے جاٶ۔“
فیضی نے سنجیدگی سے حکم دیا۔
” کیا کہا تھا فیضی صاحب۔“
نین تارا گھبراگٸ۔
” بیٹھو ادھر۔“
فیضی نے اسے کندھوں سے پکڑ کر صوفے پر اپنے مقابل بٹھایا۔
نین تارا مزید گھبرا گٸ۔
” یہاں سب کی طرح تم بھی مجھے فیضی بولو گی اوکے۔“
فیضی نرمی سے اسکی گہری سبز آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولا۔
” نین تارا نظریں جھکا گٸ۔
” پر ۔۔۔۔۔“
نین تارا گھبرا رہی تھی۔
” بولو فیضی۔“
فیضی نے کہا۔
” نہیں صاحب۔۔۔۔میں آپکو نام سے کیسے پکار سکتی ہوں۔۔۔اماں کو پتہ چلا تو میری زبان کھینچ لیں گی۔“
نین تارا نظریں جھکاۓ ہاتھ مسلتے ہوۓ بولی۔
” یہاں کون دیکھ رہا ہے بدھو۔“
فیضی نے اسکے سر پر ہاتھ مارا۔
” اللہ۔“
نین تارا بولی تو فیضی نے گھورا۔
” بات مت بدلو۔۔۔۔۔جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔میرا حکم ہے۔“
فیضی نے زرا سختی سے کہا۔
نین تارا نے شکاٸتی نظروں سے دیکھا۔
” بولو بھی۔“
فیضی اسکی گھبراہٹ سے محظوظ ہوا۔
”فف۔۔۔۔۔فیضی۔“
نین تارا نظریں جھکاۓ بولی۔
”اونہہ۔۔۔۔میری طرف دیکھ کہ کہو۔“
فیضی شرارتی انداز میں بولا۔
” نہیں صاحب۔“
نین تارا مزید گھبرا گٸ۔
” اووووو نین تارا کی بچی۔۔۔۔۔پھر سے وہی بات۔“
فیضی چڑ گیا۔
نین تارا کی موٹی سبز آنکھیں بھر آٸیں۔
” کیا ہوا۔۔۔۔؟؟“
فیضی اسے روتے دیکھ بولا۔
”آپ مجھے یہاں کیوں لاۓ ہیں صاحب۔“
نین تارا سر جھکاۓ سوں سوں کرتے ہوۓ بولی۔
” تمہیں آزاد کرنے کے لیے۔۔۔۔۔آزادی سے جیو یہاں رہ کر۔“
فیضی نے کہا۔
” مجھے ہی کیوں۔“
نین تارا آنکھیں صاف کرتے ہوۓ بولی۔
”کیونکہ تم میں جینے کی امنگ ہے۔۔۔۔۔“
فیضی اٹھتے ہوۓ بولا۔
” اب سوال نامہ بند کرو منہ دھو کے آ جاٶ۔“
فیضی مزید سوالوں سے بچنے کے لیے کمرے سے نکل گیا۔
نین تارا واش روم میں گٸ فریش ہوٸی اور تولیے سے منہ صاف کرنے لگی۔
” تم میں جینے کی امنگ ہے۔“
فیضی کا جملہ اسکی سماعت میں گونجا۔
وہ مسکرا دی، سفید موتی ک مانند چمکتے دانت نمودار ہوۓ۔
کھانے کی ٹیبل پر بیٹھتے وہ بری طرح گھبراٸی ہوٸی تھی۔
ٹیبل کے گرد دو ملازماٸیں کھڑی تھیں، بشریٰ اسے مسلسل گھور رہی تھی۔
فیضی کھانے میں مصروف ہو چکا تھا اور وہ ہونقوں کی طرح اسکا منہ دیکھ رہی تھی۔
”کھاٶ۔“
فیضی اسے جوں کا توں بیٹھے دیکھ بولا۔
” کیسے۔“
وہ منمناٸ۔
فیضی ہنس یے۔
” ایسے پیس اٹھا۔
چاولوں پہ رکھو۔۔۔۔فوگ اٹھاٶ چکن پیس الگ کرو اور چمچ کے ساتھ کھاٶ۔“
فیضی نے بتایا تو بشریٰ کی بتیسی نکل آٸی۔
نین تارا نے لرزتے دل کے ساتھ پلیٹ میں تھوڑے سے چاول نکالے اور پیس ساتھ رکھا۔۔۔۔۔پیس پر فوگ رکھ کر الگ کرنا چاہا تو سارا پیس اٹھا ہو جاتا۔۔۔۔
” اس پہ چمچ رکھ لو نا۔“
فیضی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے چمچ پر رکھا۔
نین تارا نے بلکل ایسے ہی کیا۔
اسنے ڈھنگ سے دو نوالے بھی نہیں لیے تھے کہ فیضی اٹھ گیا۔
وہ بھی پلیٹ ساٸڈ پہ کھسکاۓ اٹھ گٸ۔
فیضی فون سنتا گھر سے نکل گیا۔
نین تارا جا کر کمرے میں بند ہوگٸ۔
” فیضی سر نے تو حد کر دی۔“
بشریٰ کچن میں کھڑی کک کے ساتھ باتیں کر رہی تھی۔
” کیا کیا فیضی سر نے۔“
کک انجان بنتے ہوۓ بولی۔
” دیکھا نہیں گاٶں سے کس جاہل کالی کلوٹی کو اٹھا لاۓ ہیں، آنکھیں دیکھی ہیں اسکی جیسے کسی کالی بلی کی ہوتی ہیں، اور رنگ تو ایسا ہے جیسے افریقہ سے اٹھ کے آٸی ہو۔“
بشریٰ ناگواری سے بول رہی تھی۔
” اسے تو کھانا بھی نہیں آتا۔“
کک لڑکی ہنستے ہوۓ بولی۔
” ہاں۔۔۔۔اور فیضی سر کیسے اسکا ہاتھ پکڑ کے سکھا رہے تھے۔۔۔۔۔ہمیں تو ڈانٹ کے رکھتے ہیں اس کالی بلی میں پتہ نہیں کیا دیکھا۔“
بشریٰ جلے کٹے انداز میں بولی۔
” ہاہاہا۔۔۔۔۔۔تم جیلس ہو رہی ہو بشریٰ۔“
کک علینہ ہنستے ہوۓ بولی۔
” نیور۔۔۔۔۔ایک جاہل سے کیا جیلسی۔“
بشریٰ نے سر جھٹکا۔
” ہمارے ساتھ تو کبھی ہنس کے دیکھا بھی نہیں، بات کرنا تو دور کی بات ہے۔“
بشریٰ کو واقعی جلن ہو رہی تھی۔
” چلو چھوڑو ۔۔۔۔ہمیں کیا۔“۔
علینہ نے بات بدلنی چاہی۔
” میرا تو جاب کرنا بھی ضاٸع گیا۔“
بشریٰ کو افسوس ہو رہا تھا۔
” تم جاب اسلیے کرتی ہو۔۔۔۔؟“
علینہ حیرت زدہ ہوٸی۔
” تو اور کیا۔۔۔۔۔۔ان کے قریب رہنا چاہتی تھی۔“
بشریٰ دھیرے سے بولی۔
” اوہ ۔۔۔۔یہ تو پھر اچھا نہیں ہوا۔“
علینہ افسردہ ہوٸی۔
قدموں کی آہٹ پر سر اٹھایا۔
نین تارا کو سامنے دیکھ انہیں حیرت ہوٸی۔
” کیا چاہیے۔“
بشریٰ پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی۔
” پانی۔“
نین تارا دھیرے سے بولی۔
” میں دیتی ہوں۔“
علینہ اٹھنے لگی۔
” تم بیٹھو۔۔۔۔۔خود ہی لے لے گی ہاتھ پیر سلامت ہیں اسکے۔“
بشریٰ تنک کے بولی۔
نین تارا چپ چاپ فریج کی طرف بڑھی پانی کی بوتل اٹھاٸی اور سٹینڈ سے گلاس اتارا اور باہر کی طرف قدم بڑھاۓ۔
” سنو۔۔۔۔تمہارا نام کیا ہے۔“
علینہ نے پوچھا۔
نین تارا کے قدم رک گیے وہ پلٹی اور مسکراٸی۔
” نین تارا۔“
جواب دیا اور چلی گٸ۔
” واٶ۔۔۔۔۔نین تارا۔“
علینہ نے اسکے نام کو سراہا۔
بشریٰ کے منہ کے زاویے بگڑ گیے۔
” چلو چلتے ہیں۔۔۔۔میرا سر پھٹ رہا ہے۔“
بشری اٹھتے ہوۓ بولی۔
” تم فضول میں اسے سر پہ سوار کر رہی ہو۔۔۔۔۔شریف سی تو ہے بیچاری۔۔۔۔“
علینہ اسے جھڑک کے بولی۔
” شریف لوگ ہی رنگ دکھاتے ہیں۔“
بشریٰ کمر پہ ہاتھ رکھے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی۔
” مجھے تو بے ضرر سی لگی۔“
علینہ نے کندھے اچکاۓ۔
” آہستہ آہستہ جوہر دکھاۓ گی۔“
بشریٰ نین تارا کے خلاف ہو گٸ۔
علینہ نے افسوس سے اسے دیکھا جو تن فن کرتی چلی گٸ۔
جاری ہے
