Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06

” نین تارا چینج کر لو۔۔۔۔ہمیں جانا ہے کہیں۔“
فیضی نین تارا کے کمرے میں آیا۔
” کہاں جانا ہے۔۔۔۔؟؟“
نین تارا نے سوالیہ انداز میں اسکی طرف دیکھا۔
” بتا دوں گا۔۔۔۔تم ریڈی تو ہو جاٶ۔“
فیضی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
نین تارا مضطرب سی ہاتھ مسل رہی تھی۔
فیضی موبائل میں مصروف تھا۔
” کھڑی کیوں ہو ۔۔۔۔۔؟“
فیضی نے اچنبھے سے دیکھا۔
” آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔۔۔۔؟“
نین تارا سنجیدگی سے بولی۔
” نین تارا ۔۔۔۔۔میں ایک ہی بات دوہرانے کا عادی نہیں۔۔۔۔جو کہا ہے وہ کرو۔“
فیضی نہایت سنجدگی سے لہجے میں سختی کا عنصر لیے بولا۔
” ادا بی بی خفا ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔“
نین تارا پریشانی سے بولی۔
” جتنا تم دوسروں کے بارے میں سوچتی ہو۔۔۔۔۔اپنے بارے میں سوچو تو کم از کم مجھے بار بار لیکچر نہیں دینے پڑیں۔“
فیضی اٹھتے ہوۓ بولا۔
فیضی کمرے سے نکل گیا اس کا رخ کچن کی جانب تھا۔
” علینہ آر یو فری۔۔۔۔“
فیضی کچن کے دروازے میں کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔
” ییس سر۔۔۔۔“
علینہ مڑی۔
” ایک فیور چاہیے تھی۔“
فیضی نارمل سے لہجے میں۔
” ییس سر۔۔۔۔“
علینہ متوجہ ہوٸی۔
” نین تارا کو ریڈی ہنے میں ہیلپ کر دیں پلیز۔۔۔۔“
فیضی نے کہا تو علینہ سر ہلاتی کچن سے نکل کر نین تارا کے کمرے میں چلی گٸ۔
” کیا ہو نین تارا۔۔۔۔۔؟“
علینہ اسکی پریشان صورت دیکھ کربولی۔
” کچھ نہیں۔۔۔۔“
نین تارا اٹھتے ہوۓ بولی۔
علینہ بیڈ پر پڑے شاپنگ بیگز کی طرف بڑھی۔
ریڈ اور گرین کمبینیشن کا سوٹ نکال کے دیا۔
” یہ پہنو۔۔۔۔۔“
علینہ اسے زبردستی ڈریسنگ روم میں دھکیل کے آٸی۔
گھٹنوں تک آتی شارٹ شرٹ اور کیپری پہنے وہ باہر آٸی۔
”یہ لو دوپٹہ اوڑھنا مت سمجھی۔“
علینہ اسکے کندھے پر دوپٹہ رکھتے ہوۓ بولی۔
” واٶ۔۔۔۔تمہاےبال۔۔۔۔“
علینہ اسکے کمر تک آتے سیاہ بال دیکھتے ہوۓ بولی۔
” کیا لگاتی ہو یار۔۔۔۔۔کتنے پیارے اور صحت مند بال ہیں۔“
علینہ بال برش کرتے ہوۓ بول رہی تھی۔
” کچھ نہیں۔۔۔۔“
نین تارا خجل ہو گٸ۔
علینہ نے پومنی ٹیل بناکے چھوڑ دیے۔
” یہ لپ اسٹک لگا دوں۔“
علینہ نے اسکی طرف دیکھا۔
” نہیں۔۔۔۔“
نین تارا نے انکار کر دیا ار سینڈل پہننے لگی۔
دل دھک دھک کر رہا تھا۔
” سر شی از ریڈی۔۔۔“
علینہ فیضی سے مخاطب ہوٸی۔
” چلیں۔۔۔۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا کا دل لرزنے لگا۔
وہ کانپتی ٹانگوں کے ساتھ فیضی کے پیچے چلنے لگی۔
فیضی نے ڈراٸیونگ سیٹ سنبھالی۔
” آگے آٶ۔۔۔۔“
فیضی ڈپٹ کے بولا۔
” پر۔۔۔۔“
نین تارا گھبرا گٸ۔
” پر ور کو چھوڑو ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔۔۔۔“
فیضی کلاٸی پہ بندھی گھڑی دیکھتے ہوۓ بولا۔
نین تارا فرنٹ سیٹ پہ آ گٸ۔
” کانفیڈینٹ رہا کرو۔۔۔۔۔کوٸی تمہیں کھا نہیں جاۓ گا۔“
فیضی اسکی گھبراٸی شکل دیکھ کر بولا۔
” میں نے شہر نہیں دیکھا فیضی صاحب۔۔۔۔۔اس لیے گھبراہٹ ہو رہی ہے۔۔۔“
نین تارا دھیرے سے بولی۔
” اگت تم نے مجھے اب صاحب بولا تو نین تارا۔۔۔۔۔تمہیں چلتی گاڑی سے دھکا دے دوں گا۔“
فیضی چڑ کے بولا۔
” عادت ہوٸی ہے۔۔۔۔عادتیں جلدی ختم نہیں ہوتیں فیضی۔“
نین تارا سر جھکاۓ بولی۔
فیضی زیر لب مسکرایا۔
” جتنی جلدی ختم کرو گی ، تمہارے لیے اچھا ہوگا۔۔۔۔ورنہ تمہارا امیج لوگوں کی نظر میں خراب ہو جاۓ گا۔“
فیضی نے ٹرن لیا۔
” اچھی لگ رہی ہو۔۔۔۔۔“
فیضی ڈراٸیو کرتے ہوۓ بولا۔
نین تارا حیران ہوٸی۔
” میرے ساتھ جانا آپ کی امیج خراب نہیں کرے۔۔۔۔“
نین تارا نے اسکی طرف دیکھا۔
” اسی پرابل کو سلوشن دینے جا رہا ہوں۔“
فیضی نے اسکی طرف دیکھ معنی خیزی سے کہا۔
” مطلب۔۔۔۔“
نین تارا سمجھی نہیں اسکی بات۔
” سب سمجھ جاٶ گی وقت کے ساتھ زرا دھیرج رکھو لڑکی۔“
فیضی گاڑی پارک کرتے ہوۓ بولا۔
گاڑی سے اترتے نین تارا نےآنچل سر پہ اوڑھا اور فیضی کے ساتھ کلینک کے اندر داخل ہوٸی۔
معمول کے خلاف کافی رش تھا۔
ویٹنگ روم میں بیٹھے لوگ نین تارا کو عجیب نظروں سے گھور رہے تھے۔
فیضی چلتاہوا ڈاکٹر کے روم میں چلا گیا۔
” السلام وعلیکم۔“
فیضی مسکرا کر بولا۔
” وعلیکم السلام۔۔“
ڈاکٹر سفینہ بشاشت سے بولی۔
فیضی نین تارا کولیے صوفے پر بیٹھ گیا اور ڈاکٹر سفینہ کے فارغ ہونے انتظار کرنے لگا۔
سرخ و سپید رمگت کی حامل انتہاٸی گوری ڈاکٹر دیکھ نین تارا کی آنکھیں شرم سے جھک گٸیں۔
” کیا ہوا۔۔۔۔“
فیضی نین تارا کے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھتے ہوۓ بولا۔
” نین تارا۔۔۔۔۔اس چیز پر مت سر کو جھکاٶ جو تمہیں تمہارے رب نے دی ہے۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” نین تارا نے بھراٸی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
” یہ بات لوگ بھی تو جانتے ہیں نا۔۔۔۔“
نین تارا سراپا سوال بنی۔
” لوگ۔۔۔۔۔۔“
فیضی ہنسا۔
” لوگ کیا کہیں گے اس بات کو سوچنا چھوڑ دو۔۔۔۔۔لوگ آخر میں بس إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ کہتے ہیں۔“
فیضی ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ بولا۔
” میں تو بلکل ٹھیک ہوں پھر ہم ڈاکٹر کے پاس کیوں آۓ۔۔۔؟“
نین تارا کچھ سنبھلی تو سوال کر ڈالا۔
فیضی نے گھور کے دیکھا۔
” یہ اتنی بڑی بڑی آنکھیں دیکھنے کے لیے ہیں نا تو ارد گرد دیکھو اور پڑھو۔۔۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا نے ارد گرد دیکھا۔
سمجھ نا آٸی تو کندھے اچکا دیے۔
” کیسے ہو فیضی۔“
سفینہ مسکرا کے بولی۔
فیضی نین تارا کو لیے ڈاکٹر کے پاس چیر پر بیٹھ گیا۔
” مجھے اسکا کملیکشن آپکے جیسا چاہیے۔“
فیضی بیٹھتے ہوۓ بولا۔
”نین تارا ادھر بیٹھ جاٶ۔“
فیضی نے اسے سفینہ نے قریب بٹھایا۔
سفینہ اسکی بات پہ ہنس دی۔
ٹیبل پر رکھی لاٸٹ جلاٸی اور نین تارا کی سکن پر رکھے دوسری جانب دے دیکھنے لگی۔
” کملیکشن فیر ہو جاۓ گا، ڈارکنیس جانے میں وقت لگ سکتا ہے، یہ نیچرلی نہیں ہے، یہ دھبے الرجی سے ہوتے ہی اگر بروقت میڈیسن نا لی جاۓ۔“
ڈاکٹر سفینہ تفصیلاً بولی۔
” واٸٹننگ انجیکشن سے ٹھیک نہیں ہوگا۔“
فیضی نے پوچھا۔
” ہو جاۓ گا۔۔۔۔کہا نا دھبے جانے میں ایک ماہ لگ سکتا ہے، انہیں ون منتھ ایلوپیتھک کورس کرنا ہوگا۔“
ڈاکٹر سفینہ میڈیسن لکھنے لگی۔
” کلر زیادہ ڈارک ہے تو انہیں ہاٸی پوٹینسی انجیکشن لگیں گے اور ہر سکس منتھ بعد لگیں گے۔“
ڈاکٹر سفینہ بولی تو فیضی نے سر ہلا دیا۔
” اور کوٸی پرابلم نہیں ہے۔“
فیضی نے پوچھا۔
” چیک کرتی ہوں۔“
ڈاکٹر سفینہ نے ایک سکرین ٹاٸپ مشین اسکے چہرے کے آگے کی اور کمپیوٹر پر دیکھنے لگی۔
” نہیں کوٸی پرابلم نہیں ہے۔۔۔“
ڈاکٹر سفینہ مسکراٸی۔
” اسکی آنکھیں بہت پیاری ہیں۔“
ڈاکٹر سفینہ مسکرا کے بولی۔
” اوکے تھینکس۔۔۔۔۔“
فیضی نے بل پے کیا اور دونوں کلینک سے نکل آۓ۔
” تم گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔میں میڈیسن لے آتا ہوں۔“
فیضی نے اسے چابیاں دیں اور خود کلینک کے اندر میڈیکل سٹور پر چلا گیا۔
نین تارا مضطرب سی باہر کی طرف بڑھی۔
” گاڑی کہاں ہے۔۔۔“
وہ ارد گرد دیکھنے لگی۔
پارکنگ میں بہت سی گاڑیاں تھیں۔
” فیضی کی گاڑی کونسی ہوگی۔“
نین تارا ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔
” بلیک کیٹ۔۔۔۔۔“
ایک لڑکی استہزایہ ہنسی۔
” اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔“
نین تارا کے بولنے سے قبل فیضی بولا پڑا۔
” سوری۔“
لڑکی شرمندہ ہوٸی۔
نین تارا کو ڈھارس ملی۔
” تم یہاں کیاکر رہی ہو۔۔۔۔۔۔گاڑی میں جانے کا بولا تھا۔“
فیضی اسکے ہاتھ سے چابیاں لیتے ہوۓ بولا۔
” مجھے گاڑی نہیں ملی۔۔۔۔“
نین تارا شرمندہ ہو گٸ۔
” نین تارا ۔۔۔۔۔تم نا اللہ جی گاۓ لگتی ہو کبھی کبھی۔۔۔“
فیضی ڈپٹ کے بولا۔
نین تارا چپ ہو گٸ۔
” رونے مت بیٹھ جانا۔“
فیضی نے اکے سر پہ چپت رسید کی۔
” تمہارا کلر نیچرلی خراب نہیں ہے۔۔۔تمہیں الرجی ہوٸی ہوگی بچپن میں ۔۔۔۔میڈیسن نا لینے کی وجہ سے دھبے پڑ گیے۔“
فیضی نے بتایا۔
” اچھا۔۔۔۔“
نین تارا س ہلاتے ہوۓ بولی۔
” تمہیں روزدس بجے اس کلینک میں جانا ہے ٹھیک ہے، انجیکشن لگے گاروز اور یہ میڈیسن لینی ہے روگلولرلی۔۔۔۔۔تمہارا کلر ٹھیک ہو جاۓ گا۔“
فیضی اسے بتا رہا تھا۔
” سچی۔۔۔۔میرا رنگ صاف ہو جاۓ گا۔“
نین تاراخوشی سے چہکی۔
فیضی نے اسکی آنکھوں میں پہلی بار خوشی کی چمک دیکھی۔
”مچ۔۔۔۔۔”
فیضی مسکرایا۔
” فیضی نے” افرا گرومنگ اکیڈمی“ کے سامنے گاڑی روکی۔
” چلو۔۔۔۔یہ سب گاڑی میں رہنے دو۔“
فیضی نے میڈیسن گاڑی میں رکھنے کاکہااور گاڑی پارک کر دی۔
” اب کہاں۔۔۔۔“
نین تارا نے پوچھا۔
” چلو تو۔۔۔۔۔۔“
فیضی نے اسے گاڑی سے کھینچ کے نکالا۔
فیضی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھ نین تارا گھبراگٸ۔
فیضی نے ہاتھ چھوڑ دیا اور آگے آگے چلنے لگا۔
الومینیم ڈور دھکیتا وہ اندر داخل ہوا اور ایک جانب راہداری میں چلنے لگا۔
اندر کمرے ہی کمرے بنے ہوۓ تھے۔
” ہیلوافرا۔“
فیضی آفس میں داخل ہوتے خوشگواری سے بولا۔
” ہیلو سویٹ ہارٹ۔۔۔۔“
افرا وارفتگی سے بولی۔
” سدھر جاٶ۔“
فیضی اسکے انداز پر بولا۔
” تم کب سدھرنے دیتے ہو جانِ من۔۔۔۔۔جب سدھرنا چاہوں پھر سے سامنے آ جاتے ہو۔۔۔۔“
افرا مزے سے بولی۔
فیضی نے سر جھٹکا۔
نین تارا فیضی کے ساتھ بیٹھ گٸ۔
” یہ کون ہے۔۔۔۔“
افرا نے نین تارا کی طرف اشارہ کیا۔
” میری فرینڈ۔۔۔۔“
فیضی نے کہا۔
” کیوں جلا رہے ہو“
افرا دل پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔
” میں جاٶں۔۔۔۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” نہیں نہیں ۔۔۔سوری یار۔۔۔۔تم تو ماٸنڈ ہی کر گیے۔“
افرا سنجیدہ ہوٸی۔
” اسے ٹیوٹ کرنا ہے، ہر طرح سے گروم کرنا ہے۔۔۔۔مینرز سے لے کر بولنا۔۔۔۔کانفیڈینٹ سے لے کر میک اپ۔۔۔۔ایوری تھنگ آف آور ہاٸی کلاس ۔۔۔۔۔“
فیضی نے تفصیلاً کہا۔
” اوکے ہو جاۓ گا۔۔۔۔“
افرا مسکراٸی۔
” ٹاٸمنگ بتا دو۔۔۔۔۔“
فیضی نے کہا۔
” گیارہ سے تین۔۔۔۔۔“
افرا لیپ ٹاپ پر شیڈول دیکھتے ہوۓ بولی۔
” اوکے۔۔۔تھینکس۔۔۔۔کل سے جواٸن کر لے گی۔“
فیضی نے کہا اور کھڑا ہو گیا۔
” کافی تو پیتے جاٶ۔“
افرا اسے کھڑا ہوتےدیکھ بولی۔
” نہیں پھر کبھی۔۔۔“
فیضی مسکرایا۔
” انٹرو ڈکشن تو دے دو اسکا۔“
افرا نین تارا کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
” نین تارا۔“
فیضی نے نام بتانے پر اکتفا کیا۔
” اوکے نین تارا کل ملتے ہیں۔“
افرا مسکرا کر بولی۔
” باۓ۔“
فیضی آفس سے نکل آیا۔
”میں یہاں کیا کروں گی۔۔۔“
نین تارا بولی۔
” ڈانس۔۔۔۔۔“
فیضی چڑ کے بولا۔
” وہ کیوں۔۔۔۔۔آپ اس لیے مجھے یہاں لاۓ۔“
نین تارا رونے کو ہو گٸ۔
” اف نین تارا۔۔۔۔۔۔تمہں یہاں وہ کھانا کیسے کھاتے ہیں۔۔۔۔کپڑے میک اپ، اٹھنا، بیٹھنا ،بولنا سب سکھاۓ گی۔“
فیضی نے وضاحت دی۔
” اچھا۔۔۔۔“
نین تارا کو کچھ تسلی ہوٸی۔
فیضی نے گاڑی گھر کی طرف موڑی۔
گھر پہنچے تو کھانا ریڈی تھا۔
” فریش ہو جاٶ ۔۔۔۔پھر کھانا کھاتے ہیں۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا کمرے میں چلی گٸ۔
فریش ہو کے نکلی اور ڈریسنگ روم میں آگٸ۔
اپنے بال اونچی پونی میں مقید دیکھے تو اسے بہت بھلے لگے۔
برش لیے بال نیچے سے ٹھیک کیے پونی ٹاٸٹ کی اوردوپٹہ کندھوں پر پھیلاۓ باہر آگٸ۔
علینہ کھانا لگا رہی تھی اور بشریٰ قریب کھڑی تھی۔
گھر کو وہ دونوں ہی سنبھالتی تھیں، بشریٰ فیضی کے پرسنل کام کرتی تھی اور گھر کے باقی کام کرواتی تھی، علینہ کچن میں کک تھی، ایک اور ملازمہ تھی جو دوسرے کام اور صفاٸی کرتی تھی جو کہ آجکل چھٹی پر تھی۔
” السلام وعلیکم۔“
نین تارا نے مخاطب کیا۔
بشریٰ نے منہ موڑ لیا جبکہ علینہ نے خوشگوار لہجے میں جواب دیا۔
” کہاں گٸ تھی تم فیضی سر کےساتھ۔“
بشریٰ نے کرختگی سے سوال کیا۔
” کلینک گۓ تھے۔“
نین تارا نے سادگی سے جواب دیا۔
” ہو نہہ۔۔۔۔ایک بات بتاٶ کیا جادو کیا ہے تم نے فیضی سر پر۔۔۔۔وہہر وقت تمہارے گرد منڈلاتے رہتے ہیں۔۔۔۔انکی منگیتر اتن خوبصورت ہے اسے بھی کل ناراض کر دیا تمہاری وجہ سے۔“
بشریٰ چبھتے لہجے میں بولی۔
” بشری۔۔۔۔“
علینہ نے اسے جھڑکا۔
” مس بشریٰ۔۔۔۔۔۔یو آر فاٸرڈ۔“
فیضی نے غصہ ضبط کرتے ہوۓ سخت لہجے میں کہا۔
” پر سر۔۔۔۔“
بشریٰ کو جھٹکا لگا۔
” آٸ سیڈ۔۔۔۔یو آر فاٸرڈ۔۔۔۔گو ناٶ۔“
فیضی دھاڑا۔
بشریٰ نین تارا کو شعلہ بار نگاہوں سے دیکھا اور بیگ اٹھاتی نکل گٸ۔
” اللہ نے تمہیں بھی زبان دی ہے۔۔۔۔اسکا استعمال بھی کر لیا کرو۔“
فیضی نے نین تارا کی طرف رخ موڑا۔
” میں نے کیا کیا۔۔۔۔؟“
نین تارا روہانسی ہوٸی۔
” مہرا دماغ مت کھاٶ ۔۔۔۔کھانا کھاٶ۔“
فیضی نے غصے میں جھڑ ک دیا۔
بشریٰ کے چلے جانے سے نین تارا ایزی فیل کر رہی تھی۔
فیضی کو دیکھتے وہ بھی اسی کے انداز میں کھانے لگی۔
کھانا کھا کے فیضی نکل گیا، نین تارا کمرے میں آگٸ۔
کچھ سوچتے ہوۓ وہ الماری کی طرف بڑھی اور فیضی کے لاۓ کپڑے ہینگ کرنے لگی۔
” فیضی میرا اتنا کیوں خیال رکھتے ہیں۔“
نین تارا بال آگے رکھتے ہوۓ بولی۔
” بشریٰ کو نکال دیا میری وجہ سے۔۔۔۔“
” ادا بی بی کو ناراض کیا میری وجہ سے۔۔۔۔“
” ارم بی بی بھی خفا لگ رہیں تھیں۔۔۔۔“
نین تارا الجھ گٸ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *