Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09
” فیضی!!!!“
علی نے مخاطب کیا۔
” ہاں۔۔۔“
فیضی مصروفیت سے بولا۔
” ارم آپی کی کالز آ رہیں۔“
علی نے موبائل اسے تھمایا۔
فیضی نے موبائل ساٸلینٹ کر کے جیب میں ڈال لیا۔
” دیکھو تو سیٹ ریڈی ہے۔“
فیضی نے علی کو بھیجا۔
ماڈل ریڈی تھی، سکرپٹ یاد کر رہی تھی۔
” ہاں ماڈل کو بھیجو۔“
علی نے کہا۔
” تم چلو۔۔۔۔میں کال ریسیو کر کے آیا۔“
فیضی موبائل لیے ساٸڈ پہ آ گیا۔
” جی آپی۔“
فیضی نے کال بیک کی۔
”پر کیوں آپی۔“
ارم کی بات سن کے فیضی کو حیرت ہوٸی۔
” میں ایک دو دن میں واپس آجاٶں گا، پھر دیکھ لوں گا۔“
فیضی مدھم سا بولا۔
” پلیز آپی۔۔۔“
فیضی نے غصے میں فون رکھ دیا۔
لینڈ لاٸن پر کال کرنے لگا پھر ارادہ ترک کر دیا۔
نین تارا نے فارٕیہ کے کہنے پر جینز نکالی اور سی گرین کُرتہ دوپٹہ نکال کے زیب تن کیا، بال برش کر کے ساٸڈ پہ ڈالے، چھوٹے چھوٹے ٹاپس نکال کے پہنے رسٹ واچ لگاٸی سینڈل پہنے اور ہینڈ بیگ لیے باہر آگٸ۔
فاریہ کے کہنے پر ہاٸی ہیلز ساتھ لے آٸی۔
فیضی کو گیے دو ہفتے ہونے والے تھے، نین تارا کافی حد تک نکھر گٸ تھی۔
” ہٕیلو۔۔۔“
نین تارا مسکراٸی۔
” واٶ نین تارا ۔۔۔یو آر ریٸلی لکنگ گورجیٸس۔“
فاریہ خوشی سے بولی۔
” آج تم ہیل پہنو گی اوکے۔“
فاریہ نے اسے ہاٸی ہیل تھماٸی۔
” کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔فیضی نے پہناٸی تھی مجھے، بہت بری طرح گری تھی، اب مجھے معاف ہی رکھو۔“
نین تارا نے صاف گوٸی سے کام لیا۔
” کم آن یار۔۔۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہوگا، میں ہوں نا۔“
فاریہ نے اسے زبردستی ہیلز پہناٸی۔
” میں گری تو تمہاری خیر نہیں۔“
نین تارا ڈرتے ڈرتے چلنے لگی۔
” کچھ نہیں ہو گا۔“
فاریہ بھی اسکے ساتھ چلنے لگی۔
اسکا دھیان بٹانے کو فاریہ باتیں کرنے لگی۔
باتیں کرتے کرتے اسکی چال میں کافی پختگی آگٸ۔
” چلو ٹیرس پہ چلتے ہیں ، موسم کافی پیارا ہے۔“
فاریہ نے کہا اور دونوں سیڑھیاں چڑھ گٸیں۔
سارا دن وہ ہیل پہن کے گھومتی رہی ، شام تک اسکی ٹانگیں تھک چکیں تھیں۔
” فاریہ اب میں چلتی ہوں۔“
نین تارا تھکن سے چور لہجے میں بولی۔
” گھر جا کے سو جاٶں گی۔“
سیٹ سے ٹیک لگاتے ہمکلام ہوٸی۔
نین تارا تھکی سی اندر آٸی تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔
فیضی اور علی کا آج لاسٹ شو تھا۔
انہیں پاکستان سے آۓ دو ہفتے ہو گیے تھے۔
” آج کام مکمل ہو جاۓ تو دو دن ریسٹ کروں گا اور دوبٸی گھوموں گا۔“
علی نے اپنا پلین بتایا۔
” گھوم لینا۔۔۔۔۔“
فیضی ڈریسز کی پکچرز دیکھتے ہوۓ بولا۔
” ہمیں اس بار کم سے کم پچاس لاکھ کا پرافٹ ہو گیا ہے، کمرشلز اور ایوینٹ سے۔“
علی نے کہا تو فیضی نے سر ہلا دیا۔
” نیو ماڈل کون ہے، کب تک ان کرو گے اسے۔“
علی نے سوالیہ اندازمیں اسکے وجییہہ چہرے کو دیکھا۔
” بتا دوں گا، اتنی جلدی بھی کیا ہے۔“
فیضی مصروف سا بولا۔
” بتاٶ گے۔۔۔۔؟؟ دکھاٶ گے نہیں۔“
علی خفگی سے بولا۔
” دکھا دوں گا یار۔“
فیضی نے ہار مانی۔
” چلو ماڈلز ریڈی کرواٶ۔“
فیضی لیپ ٹاپ بند کر کے اٹھا۔
ماڈلز میک اپ روم میں پہنچ چکیں تھیں۔
فیضی سب کا جاٸزہ لے رہا تھا۔
اسکی موجودگی میں سب اپنا کام بہترین کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہوتے۔
” کب تک سٹارٹ ہو گا شو۔“
فیضی نے پوچھا۔
” its about to start.“
علی مسکرایا۔
ریڈی ماڈلز کو دروازے کی سمت لے آیا۔
میک اپ روم میں لگی ایل ای ڈی پر وہ ریمپ پر ہوتی کارکردگی دیکھ سکتے تھے۔
” ایک ایک ماڈل بھیجنا۔“
فیضی نے ہدایت دی اور ایل ای ڈی پر نظر آتی شخصیات کا جاٸزہ لینے لگا۔
“Ladies and gentalmans now thses design is by saila shafi from dubai.”
ریمپ کی لاٸٹس آف ہو کے آن ہوٸیں۔
” گو رانیہ۔“
علی نے اسے بھیجا۔
رانیہ عجیب طرز کا عربی لباس زیب تن کیے ہوۓ تھی، ساتھ میں ہاٸی ہیلز اور کندھوں کو چھوتے خوبصورت آویزے، چہرے پر ماڈل میک اپ کیے وہ ریمپ پر ایک ادا سے چلتی جا رہی تھی۔
” رمشہ ریڈی ہو۔“
علی نے رمشہ کی طرف دیکھا۔
” ییس سر۔“
” سب لوگ واپس آنے کے بعد اپنے اپنے ٹیبل پر آٸیں گے ڈریسز، شوز اور جیولری چینج کر کریں کے ریڈی ہونگے اوکے۔“
علی نے سب کی طرف دیکھا۔
فیضی سینے پر ہاتھ باندھے ایل ای ڈی پر نظریں جماۓ ہوۓ تھا۔
” گو رمشہ۔۔۔“
علی نے رمشہ کو بھیجا۔
باری باری کر کے سب کو بھیجا۔
آخری ماڈل کے واپس آنے پر ریمپ کی لاٸٹس آف ہوٸیں اور دوبارہ آن ہوٸیں۔
”Ladies and gentalmans now the round of close for the designer “ saila shafi.“
کمپیرر کی آواز پر ماڈل ہی کی طرح کا لباس زیب تن کیے ڈیزائنر ریمپ پر گٸ۔
اسکے ساتھ ساری ماڈلز ایک دفع دوبارہ گٸیں اور الٹے چکر واپس آگٸیں۔
” گو اینڈ ریڈی۔“
علی سب ماڈلز کو بھیج رہا تھا۔
دو منٹ کے اندر دوسرے ڈیزائنر کے ڈیزائنز ریڈی تھے۔
شو مکمل ہوا اور فیضی علی کو لیے پیمنٹ کرنے چلا گیا۔
” فیضی ماڈلز کو اجازت دےدوں واپس جانے کی۔“
علی نے پوچھا۔
” ہاں دےدو۔۔۔اور انہیں بتا دینا، ان کی پیمنٹ میں کل تک انکے اکاؤنٹس میں سبمٹ کر دوں گا۔“
فیضی نے کہا۔
” اوکے۔“
علی نے ماڈلز کو میل کر دی۔
” تم کب جاٶ گے پاکستان۔“
علی نے اسکی طرف دیکھا۔
” کل تک۔“
فیضی نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
” میں نہیں جا رہا ابھی۔“
علی نے بتایا۔
” ساری ماڈلز کی پیمنٹ کلیر کرو۔۔۔۔میں کل کی سیٹ کنفرم کروا لوں۔“
فیضی نے سارا حساب اسکے سر ڈالا اورلیپ ٹاپ بند کر کے لیٹ گیا۔
اس نے سیٹ کنفرم کرواٸی اور پیکنگ کرنے لگا۔
” کل تک رک جاٶ۔۔۔۔مل کے مستی کریں گے۔“
علی منہ لٹکاۓ بولا۔
” ضروری ہے۔“
فیضی نے پیکنگ کرتے ہوۓ جواب دیا۔
” السلام وعلیکم بی بی جی۔“
نین تارا نے ادب سے سلام کیا۔
ارم کو نین تارا کا حلیہ دیکھ آگ ہی لگ گٸ۔
” کیسی ہو بیٹا۔“
نعمان نے خوشدلی سے پوچھا۔
” ٹھیک ہوں صاحب جی۔“
نین تارا ان کےمقابل بیٹھ گٸ۔
” ہمارے برابر بیٹھو گی، اوقات بھول گٸ ہو اپنی۔“
ارم کاٹ دار لہجے میں بولی۔
”بہت کچھ بھول گٸ ہے یہ تو، یاد دلانا پڑے گا۔“
ادا نخوت سے بولی۔
” کیا ہو گیا ہے تم لوگوں کو۔“
نعمان نے دونوں کو ڈپٹا۔
” اتنے پیسے کہاں سے آۓ تمہارے پاس، جو اتنی مہنگی چیزیں لیے پھر رہی ہو۔“
ارم کی نظر اس کے سراپے پر پڑی تو سوالات شروع کر دیے۔
” فیضی نے دیے تھے۔“
نین تارا سر جھکاۓ بولی۔
” فیضی۔۔۔؟“
ارم کو حسد کی لگی آگ نے مزید بھڑکا دیا۔
” سوری ۔۔۔۔فیضی صاحب۔“
نین تارا کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔
” بی بی جی جوس۔“
شازیہ نے نین تارا کے آگے جوس رکھا۔
ارم نے شعلہ بار نگاہوں سے نین تارا کودیکھا۔
” تم تو واقعی سب کچھ بھول گٸ ہو۔“
ارم کڑواہٹ بھرے لہجے میں بولی۔
” سامان باندھو۔۔۔۔تمہارا ٹھکانہ حویلی ہی ٹھیک ہے۔“
ارم دانت پیس کے بولی۔
” پر فیضی صاحب۔۔۔۔“
نین تارا منمناٸی۔
ادا نین تارا کے رنگ ڈھنگ دیکھ ہی جل رہی تھی۔
” پہلے فیضی سے پوچھو۔۔۔۔ایسے تم اسکے گھر میں آ کے فیصلہ نہیں لے سکتی۔“
نعمان نے زرا سخت لہجے میں کہا۔
” آپ چپ رہیے، آپ ہی نے اسکی حمایت کی تھی تب بھی، یہ میری ملازمہ ہے،میری مرضی میں اسے کہاں رکھوں گی۔“
ارم دو ٹوک لہجے میں بولی۔
” یہ میرا حکم ہے۔“
نعمان انتہاٸی سنجیدگی سے بولا۔
ارم فیضی کا نمبر ڈاٸل کرنےلگی، پر وہ کال ریسیو نہیں کر رہا تھا۔
نین تارا مجرموں کی مانند سر جھکاۓ نیۓ حکم کی منتظر تھی۔
” ہیلو فیضی۔“
ارم نے فیضی کی کال بیک پک کر لی۔
” مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی، میں نین تارا کو واپس حویلی لے جا رہی ہوں، وہاں سے دوسری ملازمہ بھیج دوں گی۔“
ارم نین تارا کی طرف دیکھتے ہوۓ دانت پیس کے بولی۔
” پر کیوں آپی۔“
فیضی نے الجھن سے پوچھا۔
” اس کبوتری کے پر بہت بڑھ گیے جو یہ اڑان کی سپنے سجانے لگی ہے، میں تمہیں دوسری پرکٹی کبوتری بھیج دوں گی۔“
ارم انتہاٸی غیر مہزبانہ لہجے میں بولی۔
” میں ایک دو دن میں آجاٶں گا، پھر دیکھ لوں گا۔“
غصہ ضبط کرتے فیضی مدھم لہجے میں بولا۔
” میں اسے یہاں مزید رکنے نہیں دے سکتی، اس نے کوٸی گل کھلا دیا تو کیا جواب دیں گے اسکے گھر والوں کو۔“
ارم تیز لہجے میں بولی۔
” آپی پلیز۔۔۔۔نین تارا کہیں نہیں جاۓ گی۔“
فیضی نےکہا اور فون بند کر دیا۔
ارم تلملا کے نین تارا کی طرف بڑھی۔
” کیا گھول کے پلایا ہے میرے بھاٸی کو۔“
ارم اسے بالوں سے پکڑ کر بولی۔
” آہ۔۔۔۔!!!!!! بی بی جی میں نے کچھ نہیں کیا.“
نین تارا رونے لگی۔
” ارم چھوڑو بچی کو۔“
نعمان نے ارم کو پیچھے دھکیلا۔
نین تارا ہچکیاں لینے لگی۔
” تم میں اور ایک جاہل میں کیا فرق رہ گیا ارم۔“
نعمان سیخ پا ہو گیا۔
” تم بھی اب اسی کی زبان بولو گے نعمان۔“
ارم غضب ناک لہجے میں بولی۔
” شرم آنی چاہیے تمہیں۔“
نعمان غصے سے بولا۔
”دیکھ لو ادا، فیضی کے ساتھ تمہارا بھاٸی بھی اس نے مٹھی میں کر لیا۔“
ارم رونے لگی۔
” بکواس بند کرو اپنی اور چلو یہاں سے۔“
نعمان انتہاٸی سخت لہجے میں بولا۔
” میں نے کہا چلو۔“
نعمان کے لہجے کی کرختگی نے دونوں کو اٹھنے پر مجبور کر دیا۔
نین تارا گھٹنوں پہ سر رکھ کے رودی۔
”دیکھ لو ادا، فیضی کے ساتھ تمہارا بھاٸی بھی اس نے مٹھی میں کر لیا۔“
ارم کا جملہ اسکی سماعت پر ہتھوڑے بن کے برس رہا تھا۔
” اماں۔“
نین تارا سسکنے لگی تھی۔
” بی بی کیا ہوا۔“
شازیہ اسے بلکتا دیکھ گھبرا گٸ۔
” کک۔۔۔۔کچھ نہیں۔“
نین تارا بیگ لیے کمرے میں چلی گٸ۔
” فیضی آپ کے احسان الٹ ہو رہے ہیں۔“
نین تارا روتے ہوۓ بولی۔
” میں آپ کے بارے میں کبھی ایسے نہیں سوچ سکتی، آپ تو دیوتا ہیں، آپ نے صرف میرے تن کی کالک نہیں ہٹاٸی بلکہ میرا نصیب بھی اجلا کردیا، آپ کے احسانات میں تا عمر بھی نا چکا سکوں۔“
نین تارا سسکی تھی۔
دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کے مسلا تھا۔
روتے روتے وہ کب نیند کی گہری وادیوں میں اتری اسے خبر ہی نا ہوٸی۔
”دیکھ لو ادا، فیضی کے ساتھ تمہارا بھاٸی بھی اس نے مٹھی میں کر لیا۔“
وہ ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی۔
” نہیں میں نے ایسا تو کبھی نہیں چاہا ارم بی بی۔“
نین تارا پھر سے رونےلگی تھی۔
” بی بی آپ نے میرے کردار کو اتنا ہلکا کر دیا، میں اپنےہی مالکوں کے گھر میں نقب کیسے لگا سکتی ہوں۔“
دل پہ لگا الزامات کا گھاٶ رسنے لگا تھا۔
” میں اس ماں کی بیٹی ہوں، جو آپ کے واری صدقے جاتی ہے، میں بے شک منہ پھٹ ہوں، لیکن ایسی سوچ ایسا خیال بھی میرے دل میں نہیں آیا۔“
نین تارا کا دکھ کسی طور پر کم نہیں ہو رہا تھا۔
ساری رات اسکی آنکھوں میں کٹی، سبز آنکھیں ہمیشہ کی طرح سرخی میں اس طرح گھل گٸیں تھیں مانو سفیدی بے نام سی ہو، پپوٹے سوج گیے تھے۔
ساری رات روتے روتے گزرنے کے باعث صبح وہ بخار میں پھنک رہی تھی۔
گرے شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس کوٹ بازو پر رکھے ایک کندھے پربیگ ڈالے آنکھوں پر برینڈڈ گاگلز چڑھاۓ قیمتی رسٹ واچ اور پیروں میں چمکتےسیاہ شوز۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح دلکش لگ رہا تھا۔
ایر پورٹ سے نکلتے اس نے ڈراٸیور کو کال کی اور دس منٹ میں ڈراٸیور اسے لیے گھر کی طرف جا رہا تھا۔
گاڑی پورچ میں رکی تو وہ سرعت سے اترا اور اندر چلا گیا۔
” سر جوس۔“
شازیہ نے جوس پیش کیا۔
” نین تارا کہاں ہے۔“
فیضی علی کی میل چیک کرتے ہوۓ بولا۔
” صاحب بی بی صبح سے دروازہ نہیں کھول رہیں۔“
شازیہ پریشانی سے بولی۔
” کیوں۔“
فیضی گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولا۔
” صاحب کل جب حویلی سے نعمان صاحب ، ارم اور ادا بی بی آٸیں تھیں، اسکے بعد نین تارا بی بی کمرے سے نہیں نکلیں۔“
شازیہ نے صاف گوٸی سے کام لیا۔
فیضی پریشانی میں نین تارا کے کمرے کی طرف بڑھا۔
” ایکسٹرا کیز لے کے آٶ۔“
فیضی نے کہا تو شازیہ نے جھٹ کیز لا دیں۔
سامنے کامنظر دیکھ فیضی ہق دق رہ گیا۔
جاری ہے
