Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28

” تمہاری وجہ سے خاندان کے سامنے بے عزت ہونا پڑے گا۔“
چوہدری احرام احسن پر برس رہے تھے۔
” چوہدری نعمان کو کیا لگتا ہے، وہ اپنی بہن کو لے گیا ہے تو میں دوڑا چلا جاٶں گا۔۔۔۔۔“
چوہدری احسن درشتی سے بولنے لگا۔
” میں چوہدری احسن ہوں، لے گیا ہے تو بٹھاۓ رکھے اسے،نا میں لے کر آٶں گا، نا طلاق دوں گا۔”
احسن فیصلہ کن انداز میں بولا۔
” احسن خاندان میں طلاق کا رواج نہیں ہے، ایسا سوچنا بھی مت۔“
چوہدری احرام نے تنبیہہ کی۔
” میں اسے طلاق دے بھی دوں تو۔۔۔خاندان میں اسے کون اپناۓ گا، ان کے پاس احسن کے علاوہ کوٸی راستہ نہیں۔“
احسن مغرور لہجے میں بولا۔
” تم ادا کو واپس لاٶ گے، چوہدری نعمان سے معافی بھی مانگو گے۔“
رابعہ بیگم حکمیہ لہجے میں بولی۔
” آپ کو لگتا ہے میں ایسا کروں گا، میں چوہدری احسن کسی کے آگے نہیں جھکتا۔“
وہ لاپرواہی سے بولتا نکل گیا۔
چوہدری احرام سر ہاتھوں میں گراۓ صوفے پر بیٹھ گیا۔
” اس لڑکے نے کہیں سر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔“
چوہدری احرام شدید پریشان لگ رہے تھے۔
” پتہ نہیں کس پر چلا گیا ہے، میری تربیت میں کہاں کمی رہ گٸ۔“
رابعہ بیگم افسوسناک لہجے میں بول رہیں تھیں۔
” بری صحبت تربیت کا اثر مٹا دیتی ہے۔“
چوہدری احرام مدھم لہجے میں بولے۔
چوہدری نعمان نے بڑی حویلی میں پنچاٸت رکھی تھی، خاندان کے سب ہی لوگ مدعو تھے۔
چوہدری احرام شدید پریشان تھے۔
❤❤❤
” فیضی لنچ کرنے چلیں۔“
نین تارا اسکے کمرے میں چلی آٸی۔
” کیوں۔۔۔۔؟“
فیضی لیپ ٹاپ بند کرتے ہوۓ بولا۔
”دل کررہا ہے۔“
نین تارا نے بال کانوں کے پیچھے اڑسے۔
” ٹھیک ہے تم ریڈی ہو جاٶ،میں کچھ کام کر لوں پھر نکلتے ہیں۔“
فیضی نے ہامی بھرلی۔
نین تارا کھل اٹھی۔
فیضی نے نے نظر بھر کے اسے دیکھا۔
دل بے اختیار کام سے اچاٹ ہوگیا۔
لیپ ٹاپ بند کیے ساٸڈ پر رکھا اور آنکھیں بند کیے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاۓ آنکھیں مند لیں۔
نین تارا کی من موہنی صورت آنکھوں کے پردوں پر ابھر آٸی، فیضی کے لبوں پر تبسم کھیلنے لگی۔
گہری سانس لیے مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ وہواٸٹ کاٹن کا سوٹ لیے واش روم میں چلا گیا۔
نین تارا ریڈی ہو کر آٸی تو فیضی کو واٸٹ سوٹ میں دیکھ کر حیران ہوٸی۔
” میری کاپی۔۔۔۔“
وہ مسکراٸی۔
” جی نہیں ۔۔۔۔تم نے مجھے کاپی کیا۔“
فیضی نے تردید کی اوربال بنانے لگا۔
” آج جلدی تیار نہیں ہوگی۔“
فیضی آٸینے میں اسے دیکھ کر بولا۔
” ہاں۔۔۔۔۔کہیں آپ کا موڈ نا بدل جاۓ اس لیے۔“
وہ صوفے پر ٹک گٸ۔
فیضی نے تاسف بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
” اسکے مہرون بال شانتی سے کندھے پر ٹکے ہوۓ تھے۔
وہ جب ہنستی تو سرکنے لگتے تھے۔
فیضی نے کف لنکس لگاۓ، واچ لگاٸی ، پرفیوم سپرے کیا اور سینڈل پہننے لگا۔
” چلیں۔“
نین تارا اٹھ کھڑی ہوٸی۔
” آج خیریت تو ہے۔“
فیضی اسکے انداز پر بولا۔
نین تارا نے ہنسنے پر اکتفاکیا۔
” آج میں ڈراٸیو کروں۔۔؟۔“
نین تارا نے پوچھا۔
” مجھے حیران کر رہی ہو۔“
فیضی نے چابی اسکی ہتھیلی پر دھری۔
” اور آپ مجھے بے چین کر رہے ہیں۔“
وہ منہ میں بڑبڑاٸی اور اسے دیکھتی ڈراٸیونگ سیٹ پر آگٸ۔
” سٹارٹ کروں۔۔۔؟“
نین تارا چابی اگنیشن میں لگاتے ہوۓ بولی۔
” سیٹ بیلٹ لگاٶ پہلے۔“
فیضی نے اپنا سیٹ بیلٹ بند کیا۔
گاڑی سٹارٹ کیے وہ آہستہ آہستہ باہر لے کر آٸی، گو کہ سٹیرنگ پر فیضی کی گرفت تھی۔
”جس سپیڈ سے چلا رہی ہو کل ریسٹو رینٹ پہنچیں گے۔“
فیضی گاڑی سیدھی کرتے ہوۓ بولا۔
نین تارا نے ایکسلیٹر پر دباٶ بڑھایا۔
” اب سٹیرنگ بھی کنٹرول کرو۔“
فیضی نے سٹیرنگ چھوڑ دیا۔
گاڑی سڑک پرادھر ادھر جانے لگی۔
فیضی نے دوبارہ تھام لیا۔
” آہستگی سے کرو۔“
فیضی نے گاڑی سیدھی کی اورپھر چھوڑ دیا۔
نین تارا نروس ہو رہی تھی۔
” ریلیکس ہو کے چلاٶ۔“
فیضی اسکے چہرے کی اڑی رنگت دیکھ کر بولا۔
”دونوں ریلیکس ہو جاٸیں گے۔“
نین تارا کافی حد تک کنٹرول کرگٸ تھی۔
” اب بس۔“
وہ گاڑی روکتے ہوۓ بولی۔
فیضی نے ہینڈبریک کھینچی اور اتر کے ڈراٸیونگ سیٹ سنبھالی۔
نین تارا بار بار اسے دیکھ رہی تھی۔
” ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔۔“
فیضی نے پوچھ ہی لیا۔
”بہت کیوٹ لگ رہے ہیں۔“
نین تارا آنکھیں چھوٹی کیے مسکرا کے بولی۔
”تم بھی۔“
فیضی مسکرایااور گاڑی ریسٹورینٹ کی پارکنگ میں روکی۔
کھانا کھا کے وہ ریسٹورینٹ سے نکلے۔
” فیضی پیدل چلیں۔“
نین تارا نے مان سے کہا۔
فیضی نے گہری نظروں سے اسکا جاٸزہ لیا۔
” یہ راستہ بہت مشکل ہے تارا جس پہ تم چلنے لگی ہوں۔“
فیضی اسکے ساتھ فٹ پاتھ پر پیدل چلتے ہوۓ بولا۔
” آپ بھی تو چل رہے ہیں۔“
نین تارا نظریں جھکاۓ فیضی کے پیروں کے دیکھنے لگی۔
فیضی نے مسکرا کے اسکے بالوں کو دیکھا۔
” اس راستے نے میرا ہر راستہ بند کر دیا ہے۔“
فیضی جیسے روکنا چاہ رہا تھا۔
” میرا تو پہلے ہی کوٸی راستہ نہیں ہے۔“
نین تارا نے لاپرواہی سے شانے اچکاۓ۔
فیضی نے اسکی سبز آنکھوں میں دیکھا۔
” اگر یہ راستہ بھی بند ہو گیا پھر۔۔۔۔“
وہ دونوں بنا کسی کی پرواہ کیے ایک دوسرے سے محو گفتگو چلتے جا رہے تھے۔
” پھر۔۔۔۔۔۔۔مجھے اس پھر کے بعد اندھیرا دکھاٸی دیتا ہے۔“
نین تارا سنجیدگی سے بولی۔
نین تارا نے شاپ سے دو کارنیٹو خریدیں۔
ایک فیضی کی طرف بڑھاٸی اور ایک خود کھولنے لگی۔
فیضی چپ ہو گیا۔
خاموشی سے ایک دوسرے کے ہم قدم چلتے وہ شہر سے کافی دور نکل آۓ تھے۔
” مجھے یہ منظر بہت اداس لگتا ہے فیضی۔“
شام ڈھلنے لگی تھی، سورج کی نارنجی کرنیں ہر سو بکھری ہوٸیں تھیں۔
” کیوں۔۔۔؟“
فیضی نے اچنبھے سے دیکھا۔ سورج کی کرنیں اسکے مہرون بالوں پر پڑتیں چمک رہیں تھیں۔
” پتہ نہیں۔۔۔۔“
نین تارا نے کندھے اچکاۓ۔
” میں تھک گٸ ہوں۔“
نین تارا نے ےھکن سے اسے دیکھا۔
” پیدل چلنے کا مشورہ کس کا تھا۔۔۔“
فیضی ہنستے ہوۓ بولا۔
” آپ روک نہیں سکتے تھے۔“
نین تارا نے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
” نہیں۔۔۔۔“
فیضی نے نفی میں سر ہلایا۔
” واپس بھی پیدل ہی جاٸیں۔“
نین تارا سینڈل اتار کے بولی۔
” اف۔۔۔۔“
گرم سڑک پر پیر جلے تو دوبارہ سینڈل پہن لیے۔
” میں ڈراٸیور کو کال کرتا ہوں۔“
فیضی نے کہا اور نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔
” نہیں نا۔۔۔۔رکشے میں چلتے ہیں۔“
نین تارا آنکھ دباتے ہوۓ بولی۔
فیضی نے اسکی ناک دباٸی اور ہنس دیا۔
” ہمیں کون عقل مند کہے گا۔۔۔“
فیضی نے کہا۔
” چلیں بھی۔۔۔۔“ نین تارا اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچتی سڑک پار کھڑے رکشوں تک لاٸی۔
فیضی خاموشی سے بیٹھ گیا۔
” تم بھی نا تارا۔۔۔۔۔“
فیضی ان کمفر ٹیبل فیل کر رہا تھا۔
” میں بھی نا کیا۔۔۔۔؟“
نین تارا نے اسکے بازو پہ ہاتھ رکھا۔
ہوٹل کی پارکنگ میں اتر کر دنوں گاڑی تک آۓ۔
” یہ میراپہلا تجربہ تھا۔“
فیضی نے رکشے کی طرف دیکھا۔
نین تارا کھلکھلا دی۔
وہ جان چکی تھی، فیضی کو بلکل اچھا نہیں لگا۔
ایک ماہ یونہی ایک دوسرے کے سنگ گزرا۔
❤❤❤
حویلی کے لاٶنج میں خاندان کے سب ہی مرد حضرات موجودتھے۔
چوہدری نعمان نے شعلہ بار نظروں سے احسن کو دیکھا۔
خاندان کے بزرگ چوہدری فراز تھے، جو کہ چوہدری سکندر اور چوہدری احرام کے چچا زاد تھے۔
” کیا ہوا نعمان بیٹا۔۔۔؟“
چوہدری فراز گلا کھنکارتے ہوۓ بولے۔
چوہدری نعمان نے ساری حقیقت ان کے گوش گزاری۔
چوہدری احرام نے سر جھکا لیا۔
” یہ میں کیا سن رہا ہوں احرام۔“
چوہدری فراز نے احرام کی طرف دیکھا۔
” چچا جان وہ۔۔۔۔۔“
چوہدتی احرام بولنے لگے تھے جب احسن نے انکی بات کاٹی۔
” یہ کیا بتاٸیں گے، میں بتاتا ہوں“
احسن چوہدری فراز کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔
” چوہدری نعمان کی بہن اور میری بیوی جو کہ پہلے فیضی کی منگیتر تھی، فیضی سے ہی محبت کرتی ہے، اسکا اٹھتے بیٹھتے، فیضی کا زکر میری برداشت سے باہر ہوگا، میں ایک غیرت مند مرد ہوں۔“
احسن نے چوہدری نعمان کی طرف دیکھا۔
”بکواس بند کرو احسن۔۔۔۔“
چوہدری نعمان دھاڑا۔
”جب میں نے ادا کو منع کیا تو اس نے میری مردانگی پہ وار کیا، میرے سامنے انتہاٸی گھٹا الفاظ استعمال کیے، مجبوراً میراہاتھ اٹھ گیا۔“
احسن نے بات مکمل کی۔
” یہ جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔۔“
چوہدری نعمان غصہ ضبط کرتے بولے۔
” ادا بیٹی کو بلاٶ۔۔۔۔“
چوہدری فراز نے سنجیدگی سےکہا۔
ادا ارم کے ہمراہ لاٶنج میں داخل ہوٸی۔
” السلام وعلیکم۔“
ادا نے سلام کا اور نعمان کے ساتھ بیٹھ گٸ۔
” ادا بیٹی۔۔۔۔کیا تم نے احسن سے زبان درازی کی۔“
چوہدری فراز نے پوچھا۔
” نہیں نانا ابو۔۔۔۔“
ادا نے نفی میں سرہلایا۔
” یہ مجھے روز بلاوجہ مارتے تھے، پہلے دن سے کل تک۔“
ادا نے گلوگیر لہجےمیں کہا۔
” کیوں احسن۔۔۔۔؟“
انکا رخ احسن کی طرف ہوا۔
” مجھے غصہ دلاتی تھی۔“
احسن نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔
” نانا ابو ۔۔۔۔۔میرا موبائل تک چھین لیا، مجھ پرفیضی کے جھوٹے الزامات لگاۓ اس نے۔“
ادا روتےہوۓ بولی۔
” کل ماموں جان کے سامنےمجھے مارنے کی کوشش کی اس نے۔“
ادا بلند آواز میں بولی۔
احسن ضبط سے سنتا رہا۔
” یہ سب کیا ہے احسن۔“
چوہدری فراز غصیلے لہجے میں بولے۔
چوہدری احسن خاموش رہا۔
” ایک چوہدری ہو کر ایک جاہل جیسی حرکتیں، عورت پر ہاتھ اٹھانے والامرد نہیں ہوتا۔“
چوہدری سکندر بولے تھے۔
” تمہیں ادا سے معافی منگنی پڑے گی۔“
چوہدری فراز بولے۔
” چوہدری احسن کسی سے معافی نہیں مانگتا۔“
چوہدری احسن چبا چبا کے بولا۔
” یہ ہمارا حکم ہے۔۔۔۔“
چوہدری فراز گرجے۔
” احسن اپنی حد میں رہ کے بات کرو چچا جان سے۔“
چوہدری احرام نے ٹوکا۔
” میں اسکے ساتھ نہیں رہوں گی، یہ ایک نفسیاتی مریض ہے۔“
ادا چوہدری فراز سے بولی۔
” مجھے بھی شوق نہیں ہے تمہارے جیسی بدکردار کے ساتھ رہنے کا، جو سابقہ منگیتر کی یاد میں ٹسوے بہاتی پھرے۔“
احسن پھنکارا۔
چوہری احرام کا ہاتھ اٹھا اور اسکے گال پہ چھپ گیا۔
” بکواس بند کرو اپنی“
وہ دھاڑے۔
”مجھےطلاق چاہیے۔“
ادا روتے ہوۓ بولی۔
” یہ کیا کہہ رہی ہو بیٹی۔۔۔۔۔؟“
سب ششدر رہ گیے۔
” دیکھانہیں آپ نے کتنی گندی زہنیت کا مالک ہے۔“
ادا بولی۔
” احسن اگر تم نے اپنے کیے کی معافی نہیں مانگی تو ہم احرام کو حکمدیں گے تمہیں جاٸداد سے عاق کر کے خاندان سے نکال دیا جاۓ۔“
چوہدری فراز بےلچک لہجے میں کرختگی سے بولے۔
” منظور ہے۔“
احسن چباچبا کےبولا۔
” خاندان میرے لیے میری عزت نفس سے زیادہ ضروری نہیں۔“
احسن اٹھتے ہوۓ بولا۔
”اور طلاق تو میں کبھی نہیں دوں گا۔۔۔۔۔“
احسن کہتے ہوۓ لاٶنج سے نکل گیا۔
ادا نعمان کے گلے لگ کے رودی۔
چوہدری فراز اسکے قریب آۓ۔
” بیٹی صبر کرو۔۔۔۔۔وہ سدھر جاۓ گا کچھ دنوں میں جب اس سے چودراہٹ اور دولت چھن گٸ۔“
وہ اسکے ر پردست شفقت رکھتے ہوۓ بولے۔
” خاندان میں طلاق کا رواج نہیں ہے، شوہر جیسابھی ہو زندگی گزارنی پڑتے ہے۔“
چوہدری فراز بول رہے تھے۔
” شوہر جیسابھی ہو بیوی گزارا کرلے، بیوی جیسی بھی ہو شوہر گزارا کیوں نہیں کر سکتا۔“
ادا سراپا سوال ہوٸی۔
چوہدری فراز بنا جواب دیے اٹھ گیے۔
” چوہدری احرام مجھے کل تک عاق کرنے کے کاغذات ملنے چاہیے، اسکے اکاؤنٹ بھی بند کروادو۔“
وہ حکمیہ لہجے میں بولتے بیٹھ گیے۔
” جی چچا جان۔۔۔۔۔“
چوہدری احرام بولے۔
” اب یہ تمہارے گھر میں نا رہے۔“
دوسرا حکم ہوا۔
چوہدری احرام کا سر مزید جھک گیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *