Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25
” احسن کی حرکتوں سے مطلب۔۔۔۔؟“
نعمان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
” احسن کا غرور، خود پسندی اور اپنی پوجا کروانے کا شوق۔۔۔۔“
فیضی نے احسن کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
” جو اس کے شوق کے برخلاف ہو اسکا دشمن بن جاتا ہے۔“
فیضی نے نعمان کی طرف دیکھا۔
” ایسا کچھ نہیں ہو گا، ادا کے سرپرست زندہ ہیں، وہ ایسی کوٸی حرکت نہیں کرے گا، جو میری بہن کو ناگوار گزرے۔“
نعمان نے ڈولتے یقین کو تھاما۔
فیضی نے کندھے اچکا دیے۔
” تم بتاٶ۔۔۔مجھے نہیں لگتا سکندر ماموں کبھی نین تارا کے لیے مانیں گے۔“
نومی سیٹ پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
” پتہ نہیں کیا ہوگا۔“
فیضی نے بے بسی سے فرش کو دیکھا۔
نومی کو اس پہ بے حد ترس آیا۔
” سب ٹھیک ہو جاۓ گا فکر نا کرو۔“
نومی نے اسکا شانہ تھپتھپایا۔
” السلام و علیکم انکل۔“
علی جیبوں میں ہاتھ ڈالے انکے سامنے آکھڑا ہوا۔
” وعلیکم السلام۔“
وہ اسے ساتھ لیے ہال سے نکل آۓ۔
” کیسے مزاج ہیں۔“
علی مسکرایا۔
” اچھے ہیں۔“
وہ چلتے ہوۓ مسکراۓ۔
” بزنس کیسا جا رہا ہے تم لوگوں کا۔“
وہ لان کی طرف بڑھنے لگے۔
” بزنس اب میرا ہے، فیضی کو میں نے نکال دیا، اسے سواۓ اس لڑکی کے کچھ نظر نہیں آتا تھا۔“
علی سر جھٹکتے طنز کیا۔
چوہدری سکندر کھل کے مسکراۓ۔
” گویا اب فیضی کے پاس سواۓ میری زمینوں کے کچھ نہیں رہا۔“
چوہدری سکندر کو جیت محسوس ہوٸی۔
” مجھے تمہاری مدد چاہیے،اس لڑکی کو فیضی سے دور کرنا ہے۔“
چوہدری سکندر نے کہا۔
علی مسکرا دیا۔
”اتنا آسان نہیں ہے، آپکا بیٹا جونک کی طرح چپکا رہتا ہے اسکے ساتھ۔“
علی تلخ ہوا۔
” کچھ بھی کرو انہیں ورغلاٶ، دھمکاٶ ۔۔۔۔مجھے میرا بیٹا چاہیے۔“
چوہدری سکندر حکمیہ لہجے میں بولے۔
” کالونی کا بنگلہ تمہارا ہوا۔“
چوہدری سکندر نے لالچ کا پتہ پھینکا۔
” ٹھیک ہے کچھ کرتے ہیں۔“
لالچ میں علی دم ہلاتا خوشامد کرنے لگا۔
” فیضی کبھی نین تارا سے بدگمان نہیں ہوگا۔“
علی انہیں بتانے لگا۔
” نین تارا ہو سکتی ہے، پر میری بات پر یقین نہیں کرے گی۔“
علی نے انکی طرف دیکھا۔
” میری بات پر تو کر سکتی ہے نا۔“
چوہدری سکندر ہنکارا بھرتے ہوۓ بولا۔
” شاید۔“
علی کی آنکھیں چمکیں۔
” میں اسے کسی طرح ہوٹل تک لے آٶں گا، آگے آپ سنبھال لیجیے گا۔“
علی نے پلان بنایا۔
” ہممم۔۔۔۔۔ٹھیک ہے۔“
چوہدری سکندر نے سر ہلایا اور دونوں اپنی اپنی سوچوں میں غرق اندر چلےگٸے۔
” نین تارا۔“
فیضی نین تارا کے کمرے میں گیا۔
” جی۔“
نین تارا فیس بک پر اپنی پکس کے کمنٹس دیکھ رہی تھی۔
” یہ تمہارے فوٹو شوٹس کی پیمنٹ۔“
فیضی نے چیک اسے تھمایا۔
نین تارا موبائل ایک طرف رکھے حیرت و خوشی کے تاثرات لیے چیک دیکھنے لگی۔
فیضی نے اسے مسکرا کے دیکھا اور کمرے سے نکل آیا۔
” فیضی۔“
نین تارا دوڑتی ہوٸی اسکے پیچھے آٸی۔
” یہ آپ رکھ لیں، میری گرومنگ وغیرہ پرجو خرچ کیے۔“
وہ سانس ہموار کرتی ہوٸی بولی۔
فیضی نے اسے ننگے پیروں کو دیکھا، بے اختیار اسے وہ دن یاد آیا جب اسکے سیاہ پیر ادا کے سینڈلز میں مزحکہ خیزلگ رہے تھے۔
” یہ تمہارا فرسٹ چیک ہے، مطلب پہلی کماٸی، اسے خود کیش کرو۔“
فیضی متانت سے بولا۔
” آپ کتنے اچھے ہیں فیضی۔“
نین تارا فرت جزبات سے بولی۔
” اچھی بات ہے نا۔“
فیضی شرارت سے چہکا۔
نین تارا ہنستی واپس چلی آٸی۔
” شام میں جلدی ریڈی ہوجانا، ورنہ مس عالیہ خفا ہو جاٸیں گی۔“
فیضی نے یاد دہانی کرواٸی۔
نین تارا مڑی اور سر ہلاتی کمرے میں چلی گٸ۔
فیضی کے زہن میں اچانک جھماکا ہوا۔
” نین تارا۔“
فیضی نے عجلت میں پکارا۔
نین تارا گھبرا کے نکلی۔
” ریڈی ہو جاٶ پرو ڈیوسر سے ملنا ہے۔“
فیضی نے یاد کروایا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
نین تارا نے گہری سانس خارج کی۔
نین تارا نے فل واٸٹ سوٹ نکالا جس پر ریڈ اور بلیک بلوچی کڑھاٸی ہوٸی تھی۔
ساتھ میں بلیک کھسہ پہنے بال سٹریٹ کر کے آگے ڈال لیے، میک اپ کے نام پر کاجل کی گہری دھار گہری سبز آنکھوں میں لگاٸی اور لپ اسٹک لگاٸی، کانوں میں ٹاپس پہنے اور موبائل لیے کمرے سے نکل آٸی۔
فیضی نیوی بلیو کاٹن کے سوٹ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔
نین تارا نے نظریں پھیر لیں، مبادا دل دھڑک نا اٹھے۔
” چلیں۔“
وہ رسٹ واچ کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
” کتنی خوش وسمت ہوگی وہ لڑکی جس کو آپ جیسا مکمل انسان ملے گا فیضی۔“
نین تارا اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھتے ہوۓ سوچ سکی۔
گاڑی سڑک پر ڈالتے وہ اسے پروڈیوسر کے متعلق بتانے لگا۔
” ادا۔“
نعمان اسکے پاس چلا آیا۔
” جی بھاٸی۔“
ادا چونکی اور مڑ کے بھاٸی کو دیکھا۔
” کیا ہوا۔۔۔تم ڈری کیوں گٸ۔؟؟“
نعمان کو فیضی کی بات سچ ہوتی معلوم پڑ رہی تھی۔
” کچھ نہیں بس۔“
ادا نے مسکرانے کی سعی کی۔
” احسن کا رویہ تو ٹھیک ہے تمہارے ساتھ۔“
نعمان نہاہت سنجیدگی سے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوۓ بولا۔
ادا گڑبڑا گٸ۔
” جی بھاٸی۔۔۔۔“
وہ خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
” دیکھو ادا اگر وہ کچھ بھی کہے تو فوراً بتانا، مردوں کے غرور پر عورتیں مصلحت کے تحت جھک جاٸیں تواسے لاچار سمجھ لیا جاتا ہے۔“
نعمان سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
” بھاٸی میں ادا ہوں۔“
ادا سرسراتے لہجے میں بولی گویا خود کو بھی یقین دلا رہی ہو۔
” کیا واقعی میں ادا ہوں، ہر بات پر شور مچا دینے والی زندگی کی ستم ظریفی پر لب سی لینے والی۔“
وہ سوچ رہی تھی۔
” کہاں گم ہو گٸ۔“
نعمان نے اسے سوچوں کے حصار سے کھینچا۔
” کچھ نہیں۔۔۔۔بھابھی کیسی ہیں۔”
ادا نے بات کوٹالا۔
” ٹھیک ہے وہ بھی۔“
نعمان مسکرایا۔
” وہ کیوں نہیں آٸیں۔؟“
ادا نے سرسری سا پوچھا۔
” میں زمینوں کے کچھ کام کے لیے نکلا تھا، سوچا اپنی گڑیا سے ملتا چلوں۔“
نعمان محبت سے بولا۔
ادا کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔
” کیوں برداشت کر رہی ہوں میں احسن کو، صرف اسلیے کے خاندان میں طلاق یافتہ ہونا جرم ہے۔“
نعمان کے جانے کے بعد وہ کمرے میں آگٸ۔
آنسو قطار در قطار رخسار چومنے لگے۔
” کیا ظلم کرنا جرم نہیں۔۔۔۔۔؟“
وہ سراپا سوال تھی، جواب ندارد۔
” فیضی صحیح کہتے تھے، خاندان کے رواج توڑ دینے کے لاٸق ہیں۔“
وہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔
” فیضی۔۔۔۔آپ تو ایسے نہیں تھے، جب تک آپ میرے ساتھ رہے، خاندان کی کوٸی رسم فضول نہیں لگی۔“
ادا رو اٹھی۔
” فیضی۔“
وہ ہچکیوں سے رودی۔
اچانک اسکے بال کسی مضبوط شکنجے میں جکڑے گیے۔
” فیضی کی یاد میں آنسو بہارہی ہو۔۔۔؟“
احسن دانت پیستے ہوۓ بولا۔
” ادا کا رنگ فق ہو گیا۔
” تمہیں منع کیا تھا، اسکا نام اسکی سوچ بھی تمہارےزہن میں نا آنے پاۓ۔“
احسن نے زور دار تھپڑ اسکے رخسار پر جڑا۔
” احسن پلیز۔“
ادا رخسار پر ہاتھ رکھے دہشت زدہ سی پیچھے ہٹی۔
” میں نے منع کیا تھا نا۔“
احسن دھاڑا۔
” جج جی۔۔۔“
ادا پیچھے کو گھسٹتے ہوۓ بولی۔
”مجھے نفرت ہے ان سے جو فیضی کے چاہنے والے ہیں۔“
احسن نے دوسرا تھپڑ اسکے رخسار پر جڑا۔
”ایم سوری احسن۔“
ادا روتے ہوۓ خوف زدہ لہجے میں بولی۔
” آج کے بعد یہ غلطی ہوٸی تو فیضی کا نام لینے کے لیے زبان نہیں بچے گی۔“
وہ اسکا منہ سختی سے دبوچتے ہوۓ بولا۔
بیڈ پر گری چادر اٹھاٸی اور تن فن کرتا کمرے سے نکل گیا۔
ادا زمین پر بیٹھی گھٹنوں پر سر رکھے سسک دی۔
” تمہارا غرور توڑنا ہے نین تارا۔“
علی ٹیرس پر کھڑا سوچوں میں غرق نین تار سے محو گفتگو تھا۔
” تمہیں پھانسنا پڑے گا۔“
وہ سوچ رہا تھا۔
یکدم اسکے زہن میں جھماکا ہوا۔
”آج رات مس عالیہ کی پارٹی سے۔۔۔۔“
وہ خوشی سے مسکرایا۔
” مس عالیہ کے گھر سے میرے اپارٹمنٹ تک۔۔۔۔۔فیضی سے بچ کے۔“
وہ پیلیننگ کر رہا تھا۔
” تم نے میری ضد جگاٸی ہے نین تارا، اب تمہیں میرا نوالہ بننا ہی ہوگا۔“
وہ ہاتھ سینے پر باندھے ادھر سے ادھر چکر کاٹنے لگا۔
”فیضی تو آۓ گا منہ کے بل، جب نین تارا کے گھر والوں کو پتہ چلے گا اس نے نین تارا کی عزت پر ڈاکہ ڈالا۔“
علی خباثت سے ہنسا۔
” میں تمہیں ہر طرف سے ہرا دوں گا فیضی، تمہاری غلطی صرف اتنی ہے تم نین تارا کے قریب ہونے لگے ہو۔“
علی ٹیرس کی ریلنگ پر ہاتھ ٹکاۓ جھکا۔
” چوہدری سکندر کو ان کا بیٹا مل جاۓ گا اور علی یزدانی کو اسکا نوالہ۔۔۔۔“
علی کی آنکھیں چمکیں۔
گیارہ بجے وہ پروڈیوسر سےملے اور کنٹریکٹ فاٸنل کے کے ساٸن کیا۔
” ہمیں ایک ماہ کا وقت درکار ہے، باقی کاسٹ کو ریڈی کرنے کے لیے۔“
شاہ ویز مسکراتے ہوۓ بولا۔
” نو پرابلم۔“
فیضی جواباً مسکرایا۔
بارہ بجے کے قریب وہ وہاں سے نکلے۔
” فیضی مجھ سے ایکٹنگ نہیں ہوگی۔“
نین تارا نروس لگ رہی تھی۔
” مشکل نہیں ہے یار۔“
فیضی نے گاڑی کی سپیڈ بڑھاٸی۔
” چلو تمہیں گاڑی سکھاٶں۔“
فیضی نے اسکی طرف دیکھا اور گاڑی ساٸڈ پر روک دی۔
” نہیں پھر کبھی۔“
نین تارا نے انکار کرنا چاہا۔
” چلو بھی۔“
فیضی نے اسے گاڑی سے کھینچا اور اسکی جگہ سنبھال لی۔
” اگر کہیں لگ گٸ تو۔“
نین تارا ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھی۔
” میں ہوں نا۔“
فیضی نے ہمیشہ کی طرح تسلی دی۔
نین تارا مسکرا دی۔
” چلو اب شروع کریں۔“
فیضی نے اسکی طرف دیکھا، نین تارا نے سر ہلا دیا۔
” یہ سٹیرنگ وہیل ہے، اس سے گاڑی کنٹرول ہوتی ہے داٸیں باٸیں کے لیے۔ یہ وہیل پر لگا ہارن ہے۔“
فیضی ہارن کو پریس کرتے ہوۓ بولا۔
” یہ انڈیکیٹر ہے، گاڑی کو لیفٹ راٸٹ لے جانے کے لیے اسے آن کرنا پڑا ہے تا کہ ایکسیڈینٹ نا ہو۔“
فیضی تفصیل سے سمجھا رہا تھا۔
” اوپر میٹر ہے وہ بعد میں بتاٶں گا، نیچے دیکھو۔“
فیضی نے پیروں کی طرف اشارہ کیا۔
” وہ فرسٹ ایکسلیٹر ہے مطلب ریس، اسے ہم اے کہتے ہیں، اسکے بعد بریکس ہیں انہیں بی کہا جاتا ہے پھر سی ہے کلچ، جس سے ہم گاڑی کے گیرز لگاتے ہیں۔“
فیضی نے اسکی طرف دیکھا۔
” یہ گاڑی نیے ماڈل کی ہے تو اس میں یہ دو آپشن ہیں، آٹو اور مینیول۔۔۔۔آٹو میں گیرز خود بخود لگتے ہیں اور مینیول میں لگانے پڑتے ہیں۔“
نین تارا ادے بہت دھیان سے سن رہی تھی۔
” تم آٹو کرلو۔“
فیضی نے پوائنٹ اوپر کی طرف کر دیا۔
” چلو سٹارٹ کرو۔“
فیضی نے اسکا سیٹ بیلٹ بند کرتے ہوۓ کہا۔
نین تارا نے لرزتے ہاتھوں سے چابی گھماٸی۔
فیضی نے گاڑی نیوٹرل کی۔
” اب تھوڑا ایکسلیٹر کو دباٶ، بلکل ہلکا سا۔“
فیضی نے کہا۔
” مجھ سے نہیں چلےگی۔“
نین تارا روہانسی ہوٸی۔
” جو کہا ہے وہ کرو۔“
فیضی سختی سے بولا۔
ناچار نین تارا نے اس کی بات مانی۔
” اب کلچ کو دباٶ۔“
فیضی نے سٹیرنگ پر ایک ہاتھ رکھا۔
آہستہ آہستہ چھوڑو۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا نے آہستہ آہستہ چھوڑا گاڑی رینگنے لگی تھی۔
” ایکسلیٹر دباٶ۔“
فیضی نےسڑک پر نگاہیں رکھیں اور سٹیرنگ کو کنٹرول کیا۔
نین تارا نے زور سے دبایا، گاڑی گل سپیڈ میں ہو گٸ، خود بخود تیسرے گیر تک چلی گٸ۔
” نین تارا آہستہ دباٶ۔“
فیضی گاڑی کو کنٹرول کرتے ہوۓ بولا۔
نین تارا نے ہڑبڑا کے دونوں پیر اٹھالیے۔
گاڑی ایک جھٹکے سے زور سے بند ہوٸی، دونوں ڈیش بورڈ میں جا لگے۔
” شکر ہے سڑک خالی ہے۔“ فیضی سر مسلتے ہوۓ بولا۔
” تمہیں چوٹ تو نہیں آٸی۔“
فیضی نے اسے سر تھامے دیکھا۔
” ہاں زور سے لگی ہے۔“
نین تارا ہاتھ ہٹاتے ہوۓ بولی۔
” میں نے کہا تھا ناں مجھ سے نہیں چلے گی۔“
نین تارا روہانسی ہوٸی۔
” چلی تو ہے۔“
فیضی ہنسا۔
” اور جو لگی ہے وہ۔“
نین تار اتر گٸ۔
فیضی نے اپنی سیٹ سنبھالی اور گاڑی بڑھا دی۔
جاری ہے
