Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Last updated: 10 July 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary

ڈرائيور اسے شہر اپارٹمنٹ میں چھوڑ گیا۔
اندر آیا اور بیڈ پہ نیم دراز ہوتے کسی کا نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔
” صاٸم چوہدری احسن بات کر رہا ہوں۔“
احسن نےکہا۔
” زرا اپارٹمنٹ آٶ، کچھ بات کرنی ہے تم سے۔“
کہہ کے فون بند کر دیا۔
” شکر ہے اپارٹمنٹ میرے نام ہے۔۔۔“
احسن ہنسا۔
” چوہدری فراز تم مجھے جانتے کہاں ہو۔۔۔۔“
ڈبی میں سے سگریٹ نکال کے سلگاٸی اور ہونٹوں سے لگاۓ دھواں اڑانے لگا۔
” کیا ہوا۔۔۔؟“
” سب ٹھیک تو ہے نا، اتنا ارجنٹ کیوں بلایا۔؟“
صاٸم سیدھا بیڈ روم میں چلا آیا۔
” بابا نے جاٸداد سے عاق کر دیا ہے، میرے پاس کچھ رقم ہے، میں بزنس سیٹ کرنا چاہتا ہوں۔“
احسن نے تفصيل بتاٸی۔
” بزنس ۔۔۔؟“
صاٸم بیڈ پہ نیم دراز ہوتا ہوا بولا۔
” چلا لو گے بزنس۔۔۔؟“
صاٸم نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
” تم کس کھیت کی مولی ہو۔۔۔۔تمہارے مشکل وقت میں تمہارے کام آتا تھا، اب تمہاری باری ہے۔“
چوہدری احسن دھویں کے مرغولے اڑاتا ہوا بولا۔
” دفع کر نیےبزنس کو، ابروڈ چلتے ہیں، ڈیڈ کا بزنس ہے وہاں وہ چلا لیں گے۔“
صاٸم نے مشورہ دیا۔
” میں کسی کا بزنس نہیں چلاٶں گا۔“
چوہدری احسن ازلی اکڑ سے بولا۔
” کسی کا کہاں ہوگا، تم شیرز ڈال لینا اپنے۔“
صاٸم نے پرجوش لہجے میں کہا اور اٹھ کر بیٹھ گیا، چہرے سے لگتا تھا شکار پھنسانے کی کوشش میں ہے۔
” ” ہممم ٹھیک ہے، پھر جلدی انتظام کرو۔“
احسن نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
صاٸم کے لبوں پر شاطرانہ مسکراہٹ رینگ گٸ۔
” بڑی اکڑ ہےتم میں، خاک میں نا ملا دیا تو کہنا، جس دولت پر اکڑتے ہو اسکی پاٸی پاٸی کا محتاج کر دوں گا۔“
صاٸم نکلتے ہوۓ بولا۔
” جس طرح تم میری انسلٹ کرتے تھے، ایک ایک چیز کا بدلہ لوں گام“
صاٸم نے دانت پیسے۔
” رانیہ کو مجھ سے دور کرنے میں تمہارا ہاتھ تھا، نا تم میری انسلٹ کرتے نا وہ مجھ سے بدگمان ہو کے جاتی۔“
نمی سی اسکی آنکھوں میں تیرنے لگی تھی۔
❤❤❤
دونوں دس بجے کے قریب مری کے لیے نکلے۔
نین تارا ریڈ شرٹ اور بلیک کیپری میں ملبوس تھی۔
بال ہمیشہ کی طرح اڑتے پھر رہے تھے۔
فیضی انہماک سے ڈراٸیو کر رہا تھا۔
” ہم رہیں گے کہاں فیضی۔“
نین تارا نیل پینٹ لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔
” کاٹیج میں۔“
فیضی نے ایک نظر اسکے سراپے پر ڈالی۔
” مجھے بہت شوق تھا، برف باری دیکھنے کا۔“
مین تارا پرجوش لگ رہی تھی۔
فیضی مسکرا دیا۔
وہ آنکھیں میچے بولتی جا رہی تھی۔
فیضی مسکراتے ہوۓ سن رہا تھا۔
” یہ ہماری پہلی اور آخری فلم ہو گی، اسکے بعد نہیں، تمہیں نام مل جاۓ گااور مجھے ۔۔۔۔۔“
وہ جملہ خود ہی ادھورا چھوڑ گیا۔
” میرا کام ختم ۔۔۔۔پھر تم اپر کلاس میں آفیشلی داخل ہو جاٶ گی۔“
وہ سوچ رہا تھا۔
” پھر کلاسز کا فرق ختم ہو جاۓ گا، میں تمہیں اپنا لوں گا۔“
اپنی سوچ پہ خود ہی مسکرا دیا۔
” میں جانتا ہوں، تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے۔“
تبسم لبوں کا احاطہ کر گٸ۔
” تم چھپاۓ رکھنے میں کمال رکھتی ہو۔“
سامنے ہونے کے باوجود وہ تصور میں اس سے محو گفتگو تھا۔
نین تارا حیرت سے اسے خود ہی مسکراتا دیکھ رہی تھی۔
” آپ واقعی مشکوک ہیں فیضی۔“
نین تارا بولی تو وہ چونک گیا۔
” کیسے۔۔۔؟“
وہ حیران ہوا۔
” خود ہی مسکراۓ جا رہے ہیں۔“۔
وہ ناخن دیکھتے ہوۓ بولی۔
” کچھ یاد آگیا تھا۔“
فیضی نے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔
” اگر تمہاری آنکھیں گہری سبزنا ہوتی، تو یویناً تم اتنی خوبصورت نیں ہوتی۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا ہنس دی۔
” پھر کوٸی مجھے کالی بلی نا کہتا۔“۔
نین تارا اسکی طرف دیکھ کر بولی۔
”میرے لیے تم ہمیشہ سبز آنکھوں والی بلی ہی رہو گی۔“
فیضی نے محبت و اپناٸیت سے کہا۔
” آپ کو اتنا یقین ہے ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی، آپ کی بیوی نے دوسرے دن ہی نکال دینا مجھے۔“
نین تارا سنجیدگی سے کہتی ہنس دی۔
”نہیں نکالتی، وہ بھی تم سے بہت محبت کرے گی۔“
فیضی پر یقین لہجے میں بولا۔
” اونہوں۔“
نین تارا نے سر نفی میں ہلایا، سلکی مہرون بال اٹھکیلاںکرتے ادھر ادھر پھسلنے لگے ، کانوں میں جھومتے بندے ادھر ادھر جھمنے لگے تھے۔
” وعدہ رہا تم سے۔“
فیضی نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
” اگر ایسا نا ہوا تو۔۔۔۔؟“
نین تارا نے پلکیں اٹھاٸیں۔
” ایسا ہی ہوگا۔“
فیضی کے لہجے میں یقین تھا۔
” میں نے شادی نہیں کرنی، ساری عمر آپکے گھر پڑی رہوں گی کیا۔“
نین تارا خفگی سے بولی۔
فیضی کے فل کو دھکا سا لگا۔
وہ چپ ہو گیا۔
” شادی کے بعد آیا کروں گی کبھی کبھی۔“۔
وہ کن اکھیوں سے دیکھتی بولی۔
فیضی کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔
نین تارا اسے سنجیدہ پا کر خاموش ہو گٸ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *