Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13
No Download Link
605.6K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13
” اماں۔۔۔۔۔“
نین تارا چیخی، پر شکیلہ پر کوٸی اثر نا ہوا۔
تھک کر نین تارا چارپاٸی پر گر گٸ۔
موبائل پر نظر پڑتے اسکے دماغ میں جھماکا ہوا۔
نین تارا نے فیضی کا نمبر ڈاٸل کیا اور موبائل کان سے لگا لیا۔
” ہیلو۔۔۔“
کال ریسیو ہونے پر نین تارا بولی۔
” کون۔“
دوسری طرف ادا بولی تھی، نین تارا پہچان نا سکی۔
” فیضی سے بات کرنی ہے پلیز فون انہیں دیں۔“
نین تارا ٹہلتے ہوۓ سنجیدگی سے بولی۔
” آپکا نام۔“
ادا نے پوچھا۔
” نین تارا۔“
نین تارا نے نام بتا دیا۔
” نین تارا تم۔“
ادا کو پنگے لگ گیے۔
” آپ کون۔؟؟“
نین تارا چونکی۔
” ادا بات کر رہی ہوں، تم اپنی اوقات سے نکلتی جارہی ہو نین تارا۔“
ادا چبا چبا کے بولی۔
” آٸیندہ فیضی کو فون کیا تو جان سے مار دوں گی۔“
غصے سے کہہ کے کال کاٹ دی۔
نین تارا کا دل سکڑ گیا۔
نین تارا بار بار کال کر رہی تھی فیضی کا نمبر نہیں لگ رہ تھا۔
تھک ہار کر نین تارا بیٹھ گٸ۔
” فیضی آجاٸیں پلیز۔“
نین تارا نے سر ہاتھوں میں گرا لیا۔
ادا نے نعمان کی باتیں سوچنے لگی۔
” صبح منا لوں گی فیضی کو۔“
ادا کچھ سوچتے ہوۓ لیٹ گٸ۔
صبح ناشتہ کیے بنا وہ فیضی سے ملنے کے لیے نکل گٸ۔
شہر پہنچتے دس بج گیے تھے۔
وہ سیدھی فیضی کے کمرے میں پہنچ گٸ، وہ شاید باتھ لے رہا تھا۔
ادا صوفے پر ٹک گٸ۔
فیضی کا موبائل بجنے لگا، ان نون نمبر دیکھ ادا نے کال ریسیو کر لی۔
لڑکی کی آواز پر اسے تعجب ہوا۔
” آپ کا نام۔“
ادا نے پوچھا۔
” نین تارا تم۔“
ادا کے سر پر لگی تلووں بجھی۔
” دوبارہ فیضی کو کال کی تو جان سےمار دوں گی۔“
شدید غصے میں کہہ کے ادا نے نمبر بلاک کیا اور کال ہسٹری ریممو کر کے موباٸل رکھ دیا۔
فیضی باتھ لے کر نکلا تو ادا کو کمرے میں ٹہلتا پایا۔
وہ چپ چاپ ڈریسنگ کے سامنے آگیا۔
” ایم سوری فیضی۔“
ادا ہاتھ مسلتے ہوۓ بولی۔
فیضی نے آٸینے میں دیکھتے ایک خفا نظر اس پر ڈالی اور بال بنانے لگا۔
” ارم بھابھی نے کہا تھا مجھے۔“
ادا منہ بسور کے بولی۔
” اب بھی آپی کے کہنے پہ آٸی ہو۔“
فیضی بنا مڑے بولا۔
” نہیں۔۔۔۔بھیا نے سب کلیرلی بتایا ہے۔“
ادا شرمندہ سی بولی۔
” تمہیں اب مجھ پر اعتبار نہیں ہے کل کیا خاک ہوگا، میری فیلڈ ایسی ہے تم ایسی سوچ لیے میرے ساتھ نہیں چل پاٶ گی۔“
فیضی نے صاف گوٸی سے کہا۔
” ایم سوری نا یار۔“
ادا نے کان پکڑے۔
فیضی استہزایہ ہنسا۔
” تم نے مجھے ہرٹ کیا ہے۔“
فیضی بیڈ پہ بیٹھ کر جھک کے جوتے پہننے لگا۔
” دوبارہ ایسا نہیں ہوگا۔“
ادا پنجوں کے بل بیٹھ گٸ۔
فیضی نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی۔
سیاہ ریشمی بال جو کندھوں سے تھوڑے نیچے تھے، سیاہ آنکھیں سفید دودھیا رنگت، نیوی بلیو شرٹ کے ساتھ جینز پہنے وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔
فیضی دونوں کو ملانے لگا۔
” اوکے۔“
فیضی نے سر جھٹکا۔
” لنچ کرنے چلیں۔“
ادا اسکے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔
” آفس جانا ہے، علی واپس نہیں آیا ابھی تو مجھے دیکھنا ہے سب۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا اور اٹھ گیا۔
” میرے لیے تمہارے اس اتنا ٹائم بھی نہیں ہے۔“
ادا تیز لہجے میں بولی۔
” واٹ پرابلم ود یو ادا۔“
فیضی کو غصہ آنے لگا۔
”پرابلم میرے ساتھ نہیں ہے فیضی، ایکچویلی تم پرابلم میں ہو۔“
ادا دوبدو بولی۔
” تم کہنا کیا چاہتی ہو۔“
فیضی اسکے سامنے آگیا۔
” تمہیں اب مجھ میں انٹرسٹ نہیں رہا، تب ہی اگنور کر رہے ہو۔“
ادا اس کے سینے پرانگلی رکھتے ہوۓ بولی۔
” مجھے تم میں کبھی بھی انٹرسٹ نہیں تھا، اب کی بات نہیں ہے۔”
فیضی نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔
” فیضی۔۔!!!۔۔۔۔تم۔۔“
ادا کو دھچکا لگا۔
” پھر کس میں انٹرسٹڈ ہو تم۔“
ادا نے اسکا بازو پکڑا۔
” تم اس سے مطلب۔“
فیضی نے اسکا ہاتھ جھٹکا اور چلا گیا۔
” میں ماموں کو بتاٶں گی۔“
ادا چیخی۔
” شوق سے بتاٶ۔“
فیضی نے ہانک لگاٸی اور گھر سے نکل گیا۔
ادا نے غصے میں خوب توڑ پھوڑ مچاٸی اس کے کمرے میں، پھر نکل گٸ۔
” بڑی حویلی چلو۔“
ادا نے ڈراٸیور کو حکم دیا۔
ڈراٸیور نے گاڑی بڑی حویلی موڑ لی۔
ادا غصے سے پیچ و تاب کھا رہی تھی۔
تین گھنٹے کی مسافت کے بعد وہ بڑی حویلی کے پہنچ گٸ۔
” ماموں جان کہاں ہیں۔“
ملازمہ سے مخاطب ہوٸی۔
” صاحب اندر کھانا کھا رہے ہیں۔“
ملازمہ نے ادب سے جواب دیا۔
ادا تن فن کرتی اندر چلی گٸ۔
” السلام وعلیکم۔“
ادا آہستگی سے بولی۔
اریان کی نظر اسکے لباس پر پڑی تو رخ موڑ بابا جان کی طرف دیکھا۔
” آج بڑی حویلی کا رخ کیسے کر لیا۔“
جہاں آرا بیگم اسکے گلے ملیں۔
” فیضی کی شکایت لے کر آٸی ہوں۔“
ادا گلو گیرلہجے میں بولی۔
” کیا کیا فیضی نے۔“
جہاں آرا بیگم نے ایک نظر چوہدری سکندر پر ڈالی اور ادا کی طرف دیکھا۔
” ممانی جان فیضی نے میری بہت انسلٹ کی کل شام بھی اور آج صبح بھی۔“
ادا نے رونا شروع کر دیا۔
” کیا کہا اس نے۔“
سکندر صاحب بولے۔
” کہتا نا مجھے تم پہلے کوٸی انٹرسٹ تھا نا اب ہے، نکل جاٶ میرے گھر سے۔“
ادا نے کمال اداکاری سے جھوٹ بولا۔
” تم فکر نا کرو، میں دیکھ لوں گا اسے۔“
سکندر صاحب نے غصہ ضبط کیا۔
ادا نے دھواں دار طریقے سے رونا شروع کر دیا اور جھوٹی سچی کہانیاں گڑھ کے چوہدری سکندر کو ایموشنل کر دیا۔
” ادا بس بیٹا۔“
جہاں آرا نے اسے گلے لگایا۔
” ممانی جان میں نے بڑوں کے فیصلے پر سر جھکایا تھا۔“
وہ ہچکیاں لیتے ہوۓ بولی۔
جہاں آرا بیگم نے اسے چپ کروایا کافی دیر ان کے ساتھ گزار کے ادا واپس حویلی آگٸ
ادا تھکی ہاری سے صوفے پر گری۔
” کہاں گٸ تھی۔“
ارم نے سرسری سا پوچھا۔
” فیضی سے ملنے پھر بڑی حویلی۔“
ادا سر صوفے کی پشت سے لگاتے ہوۓ بولی۔
” ان کپڑوں میں گٸ تھی حویلی۔“
ارم نے حیرت سے پوچھا۔
” ہاں۔“
ادا نےمختصر جواب دیا اور واٹس ایپ چیک کرنے لگی۔
” بی بی صاحبہ فیضی صاحب نےتارا کو آپ کے موبائل جیسا موبائل لے کے دیا۔“
فضیلہ ادا سے مخاطب ہوٸی۔
” کب۔۔۔۔؟؟“
ادا سیدھی ہوٸی۔
” پتہ نہیں بی بی۔“
فضیلہ صفاٸی کرتی ہوٸی بولی۔
” تم نے کب دیکھا۔؟“
ارم نے پوچھا۔
” جی آج دیکھا۔۔۔تارا آٸی ہوٸی ہے نا صبح سے۔“
فضیلہ نے کہا تو ارم اور ادا نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
” چلیں بھابھی۔۔۔۔زرا اسکے کرتوت بتا آٸیں۔“
ادا نے ارم کی طرف دیکھا۔
” بات تو ٹھیک ہے۔۔۔نعمان بھی زمینوں پر گیے ہیں۔“
ارم اٹھتے ہوۓ بولی۔
” میں چینج کر لوں۔“
ادا کمرے کی طرف چلی گٸ۔
چینج کر کے چادر لیے باہر نکلی اور دونوں کارخ محلے کی جانب تھا۔
گھر کے باہر گاڑی کھڑی دیکھ دونوں کا آگ ہی لگ گٸ۔
” بلاٶ نین تارا کو۔“
ارم نے فضیلہ سے کہا۔
محلے کی عورتیں جمع ہونے لگیں۔
” اماں تارا کو باہر بی بی بلا رہیں ہیں۔“
فضیلہ نے کہا۔
شکیلہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور تالا کھول کے کنڈی نکال دی۔
” اب بھی نہیں کھولنا تھا۔“
نین تارا باہر آتے ہوۓ بولی۔
” بک بک نا کر بی بی نے بلایا ہے۔“
شکیلہ نے اسے لتاڑا۔
نین تارا باہر نکلی تو ہجوم دیکھ کر حیران ہوٸی، دل دھک دھک کرنے لگا۔
” چٹاخ۔۔۔۔چٹاخ۔“
ادا نے اوپر تلے دو تھپڑ جڑ دیے۔
سب نے حیرت سے منہ پر ہاتھ دھرے۔
” تم اتنی گر جاٶ گی نین تارا، میرے فیضی کو میرے خلاف کر دیا۔“
ادا چلاٸی۔
” یہ تربیت کی ہے اپنی بیٹی کی مردوں کا ورغلاتی پھرے۔“
ادا انتہائی بدتمیزی سے مخاطب ہوٸی۔
” تمہارے جیسی بدکردار۔۔۔۔۔“
” بس۔۔۔۔۔“
نین تارا نے ہاتھ اٹھا کہ کہا۔
” آپ اپنی حد سے بڑھ رہی ہیں ادا افضل۔“
نین تارا سرخ آنکھوں سے بولی۔
” میں آپ کی عزت کر رہی ہوں، کیونکہ آپ فیضی کی منگیتر ہیں۔“
نین تارہر لحاظ بالاۓ طاق رکھ کے بولی۔
” نین تارا۔۔۔۔“
شکیلہ نے اسے روکنا چاہا۔
” ماں پلیز۔۔۔۔۔“
نین تارا نے انہیں سختی سے روکا۔
” تم نے اپنی اوقات دکھا ہی دی۔“
ارم طنزاً آگے بڑھی جبکہ ادا کی آنکھیں پھٹی رہ گٸیں۔
” ہونہہ ۔۔۔اوقات۔۔۔۔۔کس نے دکھاٸی ہے آپ بہتر جانتی ہے ارم نعمان صاحبہ۔“
نین تارا چبا چبا کے بولی۔
” فیضی مجھے رات رکنے سے کیوں منع کر رہے تھے، مجھے اب سمجھ آٸی۔“
نین تارا استہزایہ انداز میں بولی۔
” ہمارے ٹکڑے کھانے والی آج ہمیں ہی آنکھیں دکھا رہی ہے۔“
ارم کا بس نہیں چل رہا تھا نین تارا کا گلا دبا دے۔
” مفت میں نہیں کھاتے تھے، کام کرتے تھے۔“
نین تارا تنک کے بولی۔
” میں حویلی کی ملازمہ تھی، اب نہیں ہوں۔۔نیکسٹ ٹاٸم آٸی کانٹ بیر اینی ٹاٸپ آف مس بی ہیو۔“
نین تارا نے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔
پورا ہجوم حیران پریشان تھا۔
” ڈراٸیور گاڑی نکالو۔“
حکمیہ لہجے میں بولتی وہ ہجوم کو چیرتی گھر داخل ہوٸی بیگ اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھ گٸ۔
گاڑی دھول اڑاتی منظر سے غاٸب ہو گٸ۔
ارم اور ادا تن فن کرتی چلی گٸیں۔
” نین تارا کے بہت پر نکل آۓ ہیں۔“
لوگ باتیں کرنے لگے تھے۔
فیضی بار بار نین تارا کا نمبر ڈاٸل کر رہا تھا، لیکن نمبر لگ نہیں رہا تھا۔
اس نے لینڈ لاٸن پر کال کی۔
” ہیلو شازیہ ۔۔۔نین تارا واپس آگٸ۔“
فیضی نے پوچھا۔
” نہیں صاحب جی۔“
شازیہ نے کہا تو فیضی نے کال کاٹ دی۔
” کہا بھی تھا، رکنا مت وہاں۔“
فیضی کو پریشانی ہونے لگی۔
چار بج رہے تھے۔
وہ کوٹ پہنتا آفس سے نکل آیا۔
گاڑی ڈراٸیو کرتے اسکی سوچوں کا محور نین تارا تھی۔
فیضی کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھو لیا۔
گھر پہنچا تو گھر خالی خالی لگنے لگا۔
چینج کر کے نیچے آیا اور لینڈ لاٸن سے تارا کو کال کرنے لگا۔
دوسری بیل پر گیٹ پر گاڑی کا ہارن سناٸی دیا۔
فیضی نے کال کاٹ دی اور باہر کی سمت بڑھ گیا۔
نین تارا گاڑی سے نکل رہی تھی۔
” ٹائم دیکھا ہے۔۔۔؟“
فیضی نے کہا تو نین تارا شرمندہ ہو گٸ۔
” اماں نہیں آنے دے رہیں تھیں۔“
نین تارا بال کانوں کے پیچھے اڑستے ہوۓ بولی۔
” کیوں۔“
فیضی نے اچنبھے سے اسکی طرف دیکھا۔
” کہہ رہیں تھیں دوسری ملازمہ بھیج دیں گی ارم بی بی،اسلیے کمرے میں بند کر کےتالہ لگادیا۔“نین تارا صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
” پھر۔“
فیضی اسکے چہرے پر تھکان کے تاثرات دیکھنے لگا۔
” پھر ادا بی بی آٸیں تو اماں نے دروازہ کھول دیا۔“
نین تارا سر جھکاۓ بولی۔
”ادا نے کچھ کہا تو نہیں۔“
فیضی کو ادا کا غصہ یاد آیا۔
” دو تھپڑ لگاۓ اور مجھے بدکردار کہا، کہا کہ میں نے آپ کو چھین لیا اس سے، میں مردوں کو ورغلاتی ہوں۔“
نین تارا کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔
فیضی نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
” تم اسکی باتوں کی پرواہ مت کیا کرو۔“
فیضی نے اسے ریلیکس کرنا چاہا۔
” کوٸی آپکے کردار کو تول دے اور آپ پرواہ مت کریں۔“
نین تارا خفگی سے سر جھٹکا۔
” بکھرے بکھرے سے سلکی مہرون بال، غصہ لیے تمہاری سبز آنکھیں، خفگی سے پھولا منہ۔۔۔۔۔غصے میں بھی بڑی کیوٹ لگ رہی ہو۔“
اسکا ماٸینڈ چینج کرنے کے لیے فیضی شرارتی لہجے میں بولا۔
نین تارا نا چاہتے ہوۓ ہنس دی۔
” فیضی۔“
نین تارا نے سنجیدگی سے پکارا۔
” بولو۔“
فیضی نے اسکے سنجیدہ چہرے کی طرف دیکھا۔
” میں ارم بی بی اور ادا بی بی کو کھری کھری سناٸی تھیں۔“
نین تارا نے اسکی طرف دیکھا۔
” پھر تو وہ اور مسٸلہ پیدا کریں گی۔“
فیضی نے کہا تو نین تارا مزید پریشان ہو گٸ۔
” وہ بہت باتیں سنا رہیں تھیں۔“
نین تارا روہانسی ہوٸی۔
” تم فکر نا کرو، میں سنبھال لوں گا۔“
فیضی نے مسکرا کر تسلی دی۔
” فریش ہو جاٶ۔۔۔کھانا کھاتے ہیں، بہت بھوک لگ رہی ہے۔“
فیضی نے کہا تو وہ سر ہلاتی چلی گٸ۔
” تھینک گاڈ۔۔۔تم نے بھی اپنے لیے کچھ سٹینڈ لیا۔“
فیضی نے اسکی پشت کو دیکھا۔
” ادا کی طبعیت ریفریش کرنی پڑے گی۔“
فیضی غصے سے سوچنے لگا۔
جاری ہے
