Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22

وہ گاٶں میں داخل ہوا تو خوبصورت طرز کی سٹریٹ لاٸٹس کی طرح کی لاٸٹس گاٶں کی حدود سے حویلی تک لگاٸی گٸیں تھیں۔
فیضی نے ستاٸش سے اس منظر کو دیکھا۔
دن کے اجالے میں لاٸٹس بند تھی پھر بھی منظر دیکھے لاٸق تھا۔
حویلی میں خوب چہل پہل تھی، لوگوں کا ایک جم غفیر تھا، فیضی نے گاڑی ساٸڈ پہ لگاٸی اور دعا و سلام کرتا حویلی تک چلا آیا۔
”سلام چچی جان۔“
فیضی لاٶنج میں داخل ہوا اور چچی سے ملا۔
” یہ تیرا وقت ہے آنے کا۔۔۔۔“
وہ خفا ہوٸیں۔
” طبعیت خراب تھی چچی جان۔“
فیضی بولا تو انہوں نے سر ہلا دیا۔
فیضی سیدھا احسن کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازہ ناک کیا اور جیبوں میں ہاتھ گھساۓ کھلنے کا منتظر ہوا۔
” ٹائم دیکھا ہے۔؟“
احسن دروازہ کھولتے ہی برسا۔
” شکر مناٶ آ گیا ہوں۔“
فیضی نے ابرو اٹھا کے کہا تو احسن کا منہ کھل گیا۔
” ایک تو لیٹ اوپر سے اکڑ بھی۔“
احسن اسے اندر آنے کا راستہ دیتے ہوۓ بولا۔
مہرون ویلوٹ کی شیروانی میں وہ کافی جچ رہا تھا۔
” یہ فیضان سکندر کا طریقہ ہے۔“
فیضی متانت سے ہنسا۔
” چلو میری ہیلپ کرو۔“
احسن نے کُلا اسکے ہاتھ میں تھمایا۔
” بڑی جلدی تیاری کی باس۔“
فیضی کمرے کا جاٸزہ لینے لگا۔
پورے کمرے کی دیواروں پر سرخ گلاب لگاۓ گیے تھے، نہایت نفیس سا بکے بیڈ کی پشت کو خوبصورتی سے سجاۓ ہوۓ تھا، چھت سے بیڈ کے اطراف میں گرتی گلابوں کی نفیس سی لڑیاں منظر کو دلکش بنا رہیں تھیں۔
” اتنی مشکل سے تو ہاتھ آٸی ہے ادا۔“
احسننے کن اکھیوں سے فیضی کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
” ہاہاہا۔۔۔۔۔۔واقعی“
فیضی نے قہقہہ لگایا۔
” تم تو ادا سے محبت کرتے تھے فیضی۔“
احسن اسکی طرف مڑا۔
” نہیں تو۔۔۔بس اچھی انڈرسٹینڈنگ تھی، لوگوں نے محبت کا نام دے دیا۔“
فیضی صوفے پر بیٹھتے ہوۓ رسانیت سے بولا۔
دروازہ بجنے لگا۔
” کون ہے۔؟“
احسن نے آواز لگاٸی۔
”بھیا میں ہوں رعنا۔“
احسن کی چھوٹی بہن بولی۔
” کیا ہے۔۔۔۔؟“
احسن ناگواری سے بولا۔
” بابا جان بول رہے ہیں جلدی کیجیے۔“
رعنا وہیں سے بولی۔
” ٹھیک ہے میں بس ریڈی ہوں۔“
احسن نے لہجے کو نارمل رکھا۔
” چلو ریڈی ہو تو۔“
فیضی اٹھتے ہوۓ بولا۔
احسن نے کلا سر پر رکھا، شیروانی پر بروچ سیٹ کیا اور پیروں میں انتہاٸی خوبصورت کھسّہ پہننے لگا، پرفیوم سپرے کیا اور نکل آیا۔
” سیلون چلے جاتے۔“
فیضی نے مشورہ دیا۔
” چوہدری احسن کو کسی تراش خراش کی ضرورت نہیں۔“
احسن مغرورانہ لہجے میں بولا اور گردن اکڑاۓ کھڑا ہو گیا۔
فیضی احسن کے ہمراہ باہر نکلا تو عورتوں نے احسن کو گھیرے میں لیا اور گانےگاتی نیچے ہال میں لے گٸیں۔
فیضی سیڑھیوں کے پاس کھڑا بے زار سا سارا منظر دیکھتا رہا۔
” فیضی تم کب آۓ۔؟“
اریان اسے دیکھتے ہوۓ گلے ملا۔
” تھوڑی دی پہلے۔“
فیضی مسکرایا۔
” کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے تمہاری آنکھیں سرخ ہو رہیں ہیں۔“
اریان فکر مند سا بولا۔
فیضی کو اس پہ بے حدپیار آیا، اسکا کم گو سا بھاٸی کبھی کبھی یوں فکر مند ہوتا تھا۔
” بخار تھا بھیا۔۔۔نا آتا تو خاندان والے نٸ باتیں بنا لیتے۔“
فیضی بےزار لہجے میں بولا۔
” اماں جان اور بابا جان کہاں ہیں۔؟“
فیضی فاطمہ اور زونیشہ کو دیکھ چکا تھا۔
” وہ چھوٹی حویلی ہیں، مٕیں اور فاطمہ ادھر آۓ ہیں۔“
اریان مسکرایا اور کسی کے بلانے پر چلا گیا۔
فیضی نے نظروں کی تپش پر پلٹا تو رعنا کو دیکھتا پا کر مسکرایا۔
” کیسے ہیں آپ۔؟“
رعنا مسکراتی ہوٸی اسکے پاس چلی آٸی۔
مہرون کرتی اور گولڈن لہنگے میں دوپٹہ سر پر ٹکاۓ، ہلکے پھلکے میک اپ میں اسکی سرخی ماٸل رنگت دمک رہی تھی۔
” ٹھیک ہوں۔“
فیضی جواباً مسکرایا۔
” میں رات سے آپ کی منتظر تھی، آپ آۓ کیوں نہیں۔“
وہ بتا رہی تھی یا شکوہ کر رہی تھی، فیضی سمجھ نہیں پایا۔
” طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔“
فیضی مختصر بولا۔
” سنا ہے آپ کو کوٸی سبز آنکھوں والی لڑکی پسند آگٸ ہے۔“
رعنا نے اسکے وجیہہ چہرے کو وارفتگی سے تکا۔
” بلکل۔“
فیضی نے اقرار کیا۔
” وہ حویلی کی ملازمہ تھی۔“
رعنا نے طنز کیا۔
” تھی اب پاکستان کی ٹاپ ماڈل ہے۔“
فیضی نے جتلایا۔
” آپ کو خاندان کی دوشیزاٸیں نظر نہیں آٸیں جو ایک ملازمہ پر مرمٹے۔“
رعنا جل کر بولی۔
” خاندانی دوشیزاٶں کے پاس وہ حسن کہاں، وہ معصومیت کہاں جو اسکے پاس ہے۔“
فیفی نے جلتی پر تیل ڈالا۔
” ہے تو ملازمہ ہی نا۔“
رعنا کڑھ کے بولی۔
” تھی۔۔۔۔۔اب ملکہ ہے فیضان سکندر کی۔“
فیضی نے مسکرا کرکہا اور وہاں سے چلا گیا۔
رعنا نے پیر پٹخے۔
” ہماری قسمت ہی خراب ہے، ادا سے جان چھوٹی تو نٸ مصیبت تیار ہو گٸ، آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے۔“
رعنا جل کے بڑبڑاٸی اور سیڑھیاں اترتے فیضی کو دیکھا۔
❤❤❤
نین تارا نے تیاری کی اور آفس چلی آٸی۔
” فیضی سر نہیں آۓ۔۔؟۔“
مس عالیہ نے پوچھا۔
” گاٶں گیے ہیں۔“
نین تارا نے جواب دیا اور ان کےپاس بیٹھ گٸ۔
” مجھے انہیں انواٸیٹ کرنا تھا۔“
مس عالیہ مدھم لہجے میں بولی۔
” انواٸیٹ کس لیے۔“
نین تارا نے سرسری سا پوچھا۔
” یہ پوزز دیکھو، یہ فیضی سر کی ماڈل تھی، آجکل انڈسٹری کی ٹاپ ماڈلزمیں سے ہے۔“
مس عالیہ نے ایک میگزین اسکی طرف بڑھایا۔
” میری بیٹی کی برتھ ڈے پارٹی ہے۔“
مس عالیہ مسکراٸیں۔
” اچھا۔“
نین تارا میگزین کے پیج الٹتے ہوۓ بولی۔
” تم بھی ضرور آنا، یہ تمہارا کارڈ۔“
مس عالیہ نے کارڈ اسکی طرف بڑھایا۔
” جی ضرور۔“
نین تارا مسکراٸی۔
” کب ہے پارٹی۔؟“
نین تارا نے کچھ سوچتے ہوۓ پوچھا۔
” پرسوں رات۔“
مس عالیہ نے اسکی گہری سبز آنکھوں میں دیکھا۔
” ہاۓ لیڈیز۔“
علی مسکراتا ہوا ان کی طرف آیا۔
مس عالیہ جواباً مسکراٸی جبکہ نین تارا نے اگنور کر دیا۔
” کیا ہو رہا ہے نین تارا۔“
علی کرسی کھنچے انکے پاس بیٹھ گیا۔
” غالباً آپ دیکھ سکتے ہیں۔؟“
نین تارا نہایت سنجیدگی سے بولی تو علی کی مسکراہٹ سمٹی۔
مس عالیہ نے مسکراہٹ ضبط کی اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
” فیضی نہیں آیا۔؟“
علی نے بات بدلی۔
” نہیں۔“
نین تارا نےمختصر کہا۔
” کیوں۔؟“
علی کی نظریں مسلسل اسکے چہرے کاطواف کر رہیں تھیں۔
” گاٶں گیے ہیں ادا کی شادی پر۔“
نین تارا نارمل لہجے میں بولی۔
” تمہاری تو ادا بی بی تھیں وہ۔“
علی استہزایہ انداز میں طنزاً ہنسا۔
” تو۔۔۔۔“
نین تارا نے پلکیں اٹھاٸیں۔
”تو کچھ نہیں۔“
علی گڑبڑا گیا۔
” اپنے معاملات پر نظر رکھیں تو بہتر ہوگا۔“
نین تارا سختی سے بولی۔
”اتنا ایٹیٹیوڈ تمہیں لے ڈوبے گا۔“
علی سنجیدگی سے بولا۔
” وہ میرا مسٸلہ ہے آپکانہیں۔“
نین تارا دوبدو بولی۔
علی کرسی چھوڑتا اٹھ کے چلا گیا۔
” نین تارا یوں بار بار اسے دھتکارکر اسکی ضد مت بنو۔“
مس عالیہ سنجیدہ ہوٸیں۔
” تو کیاہتھیار ڈال کے خود کو اس کے سپرد کر دوں۔“
نین تارا تھکن زدہ لہجے میں بولی۔
” نہیں بس جہاں وہ آۓ وہاں سے ہٹ جایا کرو۔“
مس عالیہ نےاسکی معصومیت بھری آنکھوں میں دیکھا جہاں دکھ کا رنصر نمایاں تھا۔
” مرد ایسے کیوں ہوتے ہیں، یہاں اتنی ساری ماڈلز آتیں ہیں، میں ہی کیوں۔؟“
نین تارا سر تھامے روہانسی ہوٸی۔
” کیونکہ تم سب سے الگ ہو، اچھی ہو، انوسینٹ ہو، خوبصورت ہو۔“
مس عالیہ نے اسکےہاتھ پہ ہاتھ رکھا۔
” وہ حسن تو مصیبت ہے جو عزت کو خطرے میں ڈال دے۔“
نین تارا بڑبڑاٸی۔
❤❤❤
بارات چھوٹی حویلی پہنچی تو آتشبازی دیکھنے لاٸق تھی۔
چوہدری احسن گردن اکڑاۓ حویلی میں داخل ہوا۔
لاٶنج میں بیٹھتے ہی ٹھیک آدھے گھنٹے بعد مولوی حاضر ہوا اور نکاح ہو گیا۔
کھانے کے بعد فیضی اندروں حویلی آیا، اماں جان اور ارم سے ملنے کے بعد وہ حویلی سے نکل آیا۔
بخار شدت اختیار کرنے لگا تھا۔
اس نے دو پیناڈول کھاٸیں اور گاڑی سڑک پر ڈال لی۔
❤❤
ڈارک ریڈ فل امبراٸڈڈ میکسی میں ملبوس ادا کا سوگوار حسن دو آتشہ لگ رہا تھا، بیوٹیشن کی کلاکاری نے اسکے حسن کو مزید جلا بخشی۔
وہ کزنوں کے جھرمٹ میں بیٹھی تھی جب ارم نے اسکے اوپر چادر اڑھا دی۔
نکاح پڑھایا گیا تو اسنے لرزتے ہاتھوں سے ساٸن کیے۔
دو آنسو ٹوٹ کر نکاح نامے کے کاغزات پر پھیل گیے۔
کھانے کا دور شروع ہوا اور پھر دلہن اور دلہے کو بٹھا دیا۔
احسن کی گردن میں موجود سریا مزید اکڑ گیا۔
”واہ کیا جوڑی بناٸی ہے اللہ نے۔“
سب ہی کی زبان پرایک ہی گردان تھی۔
ادا سر جھکاۓ بیٹھی رہی۔
رخصتی کا شور بلند ہوا تو ادا نعمان کے گلے لگ کر خوب روٸی۔
فیضی کی یاد میں بہاۓ گیے ہر آنسو کو بابل کاانگنا چھوڑنے کے دکھ کا نام مل گیا۔
کچھ دی قبل حسن کی دیوی کا سا روپ رکھنے والی دلہن کے چہتے پر رنگوں کا ایسا امتزاج ہوا کہ حسین چہرہ کسی بھیانک چڑیل کا روپ لے گیا۔
رخصتی ہو گٸ، ادا کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ احسن کو کوفت ہونے لگی تھی۔
” ادا احسن جاہلوں کی طرح ماتم کرنا بند کرو۔“
احسن کی کرخت آواز گونجی تو اسکے ہچکیوں کا تسلسل ٹوٹا۔
” سر پھٹنے لگا ہے میرا۔“
احسن نے کنپٹی مسلی۔
ادا کے ساتھ بیٹھی رعنا کے چہرے پر تفاخرانہ مسکراہٹ کھیلنے لگی۔
” ادا بی بی اب پتہ چلے گا۔“رعنانے ہمکلام ہوٸی اور گاڑی سے باہر دوڑتے مناظر دیکھنے لگی۔
❤❤❤
فیضی کو گھر پہنچتے رات ہو گٸ۔
نین تارا لاٶنج میں ٹی وی دیکھ رہی تھی۔
فیضی وہیں چلا آیا اور گرنے کے انداز میں بیٹھا۔
” کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے۔“
نین تارا نے ٹی وی کا والیوم کم کیا۔
” ہاں تھکاوٹ ہو گٸ ہے بہت۔“
فیضی نے آنکھیں موندیں۔
” کھانا لگواٶں۔؟“
نین تارا نے اسکے تھکن زدہ چہرے کو دیکھا۔
” نہیں۔۔۔۔چاۓ بنوا دو۔“
فیضی مدھم سا بولا۔
نین تارا اٹھ کے کچن میں چلی گٸ۔
” شازیہ باجی۔۔۔۔!!!“
نین تارا نے کچن صاف کرتی شازیہ کو پکارا۔
” جی باجی۔“
شازیہ الرٹ ہوٸی۔
” فیضی کے لیے ایک کپ چاۓ بنا دو۔“
نین تارا نرمی سے بولی اور کچن سے نکل گٸ۔
” آپ فریش ہو جاٸیں تب تک چاۓ بن جاۓ گی۔“
نین تارا نے کہا تو وہ مسکراتے ہوۓ اٹھا۔
” اپنے لیے بھی بنوا لینا۔“
فیضی کہتا ہوا سیڑھیاں چڑھ گیا۔
نین تارا مسکرادی۔
” شازیہ دو کپ بنا دینا۔“
نین تارا ٹی وی بند کرتی اپنے کمرے میں چلی گٸ۔
❤❤❤
” چاۓ۔“
نین تارا کمرے میں داخل ہوٸی تو فیضی بیڈ پر نیم دراز تھا۔
” یہاں رکھ دیں۔“
شازیہ نے چاۓ بیڈ پررکھ دی اور کمرے سے نکل گٸ۔
نین تارا نے ایک کپ فیضی کی طرف بڑھایا اور دوسرا خود سنبھال لیا۔
” کیسا گزرا دن میرے بغیر۔“
فیضی نے اسکی جھکی سبز آنکھوں کو دیکھنے کی کوشش کی۔
” بورنگ۔“
نین تارا نے منہ بنایا۔
” کیوں۔“
فیضی نے سے کریدا۔
” علی سے جھڑپ ہو گٸ تھی آج پھر۔“
نین تارا نے کہا تو فیضی نے بے بسی سے غصہ ضبط کیا۔
” چھوڑو علی کو۔۔۔۔ایک گڈ نیوز ہے۔“
فیضی نے موضوع بدلا۔
” کیا۔؟“
نین تارا ہمہ تن گوش ہوٸی۔
” تمہارے لیے تین فوٹو شوٹس کی آفر آٸی ہے۔“
فیضی نے مسکرا کرکہا۔
” رٸیلی۔“
تارا حیرانی و خوشی کی ملی جلی کیفیت میں بولی۔
” ہاں یار۔۔۔۔۔ایک براٸیڈل فوٹو شوٹ ہوگا جس کی پیمنٹ بھی زیادہ ہے ایک کیژیول وٸیر ڈریسز کا اور دوسرا سیزن کے ڈیزاٸن ہیں۔“
فیضی نے تفصيل سے بتایا۔
” بہت اچھی خبر ہے۔“
نین تارا اقعی خوش تھی۔
” اچھے شوٹس دینا، بڑی محنت سے ملے ہیں،کیونکہ لوگ جانتے ہیں فیضی ایسی ویسی ماڈلز نہیں لاتا۔“
فیضٕی نے کہا تو نین تارا نے سر ہلا دیا۔
” ایک بات پوچھوں۔؟“
نین تارا نے اسکی طرف دیکھا۔
” ایک کیوں دس پوچھو۔“
فیضی نے اجازت دی۔
”آپ کوادا کی شادی کا دکھ ہوا۔؟“
نین تارا نےبغوراسکا چہرہ دیکھا۔
” نہیں۔۔۔۔۔مجھے خوشی ہوٸی ہے۔“
فیضی مسکرایا تھا۔
” واقعی۔“
نین تارا بے یقین ہوٸی۔
” تمہاری شادی کابہت دکھ ہوگأ“
فیضی نے اسکی طرف دیکھا تھا۔
” وہ کیوں بھلا۔“
نین تارا نے پوچھا۔
” کالی بلی جو چلی جاۓ گی۔“
فیضی ہنسا تو نین تارا کھلکھلا دی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *