Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42
گاڑی ایک فیکٹری کے سامنے رکی۔
فیضی گاڑی سے نکلا اور فیکٹری کا چھوٹا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔
گیراج میں گاڑی تھی، ایک طرف بنے دفتر اور دوسری طرف میں چاولوں کی چھوٹی سی فیکٹری تھی۔
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا دفاتر کی طرف چل دیا۔
دو زینے چڑھتا دوازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا۔
سامنے میز پر پیر رکھے ایک تندو توانا آدمی بیٹھا ہوا تھا۔
” یہ گاڑی کس کی ہے باہر۔؟“
فیضی میز پر ہاتھ رکھاتا اسکی طرف جھکتا خطرناک تیوروں سے بولا۔
وہ فیضی کو پہچان گیا تھا۔
” میری ہے۔۔۔“
وہ خود کو سنبھالتا ہوا ٹھیک ہو کے بیٹھا۔
فیضی نے ٹیبل پر پڑا اسکا موبائل اٹھایا اور کال ہسٹری چیک کرنے لگا۔
” میرا موبائل دو۔“
وہ ٹیبل کے اس پار سے ہو کر آیا۔
” فیضی نے گن نکال کے اس کی کھوپڑی پر تان لی۔
” سچ سچ بول دو کس نے کہا تمہیں ایکسیڈینٹ کروانے کے لیے۔“
موبائل ہاتھ میں لیے بولا۔
موبائل پر نظر پڑی تو چوہدری سکندرکا نمبر دیکھ حیرت ہوٸی۔
اس نے موقع کا فاٸدہ اٹھایا اور فیضی کا ہاتھ جھٹک کے بھاگ نکلا۔
فیضی نے فاٸر کیا جو اسکی پنڈلی میں جا لگا وہ بھاگتا ہوا منہ کے بل گرا۔
فیضی موبائل ہاتھ میں لیے دفےر کے زینے اترتا اسکے قریب چلا آیا۔
” میں نے کچھ پوچھا تھا۔“
شدید غصے میں چبا چبا کر بولا۔
” چوہدری سکندر نے کہا تھا۔“
وہ پیچھے کو گھسٹتا ہوا لڑکھڑا کے بولا۔
فیضی نے ضبط سے اسے دیکھا۔
” اب کسی اور کے سامنے زبان کھولی تو یاد رکھنا، بولنے کے لیے زبان نہیں رہے گی، دیکھنے کے لیے آنکھیں نہیں رہیں گی۔“
فیضی نے پانچ پانچ ہزار کے دو نوٹ اس کےمنہ پر پھینکے۔
” اس زخم کی قیمت ہے۔“
فیضی گن سے اسکی ٹانگ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔
گاڑی میں پڑا اسکا موبائل بج بج کے چپ ہو گیا۔
ان نون نمبر سے چھتیس مسڈ کالز تھیں۔
فیضی نے گاڑی سٹارٹ کر کے سڑک پر ڈالی۔
” احمر مجھے یہ گاڑی غاٸب کروانی ہے۔“
فیضی نے موبائل کان سے لگایا۔
” چوری کروا دو۔“
احمر نے جھٹ مشورہ دیا۔
” پر ٹریکر نکلوا دینا پہلے۔“
احمر نے کہا تو فیضی نے کچھ سوچتے ہو فون بند کیا۔
ان نون نمبر سے دوبارہ کال آنے لگی تھی۔
” ہیلو۔۔۔“
فیضی نے موبائل کان سے لگایا۔
جی میں فیضان سکندر ہی بات کر رہا ہوں۔“
فیضی نے اچنبھے سے کان سے فون ہٹا کے دیکھا۔
”واٹ۔۔۔۔لیکن کب۔۔۔؟“
فیضی کا پیر بریک پر جا پڑا۔
“کونسے ہاسپٹل۔؟”
وہ گاڑی دوڑاتے ہوۓ بولا۔
جان ہتھیلی پر آگٸ تھی۔
وہ سب بھول چکا تھا۔
گاڑی سڑک پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔
اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
دکھ سے آنکھیں میچ کر کھولیں اور دھندلاٸی آنکھوں سے ہاسپٹل کی ہارکنگ میں گاڑی روکی۔
بدحواس سا دوڑتا ہوا اندر آیا۔
نین تارا کمرشلز کی شوٹنگ کے بعد باہر نکلی۔
اسکی گاڑی ٹھیک ہو چکی تھی۔
میڈیا والے دوڑے چلے آۓ۔
” میم آپ کا کیا خیال ہے آپکی گاڑی کا ایکسثڈینٹ کس نے کروایا ہوگا۔“
رپورٹرز کے دھڑا دھڑ سوال۔
گارڈز نے جگہ بناتے اسے ہجوم سے نکالا اور گاڑی تک لے آۓ۔
” جس نے بھی کروایا ہے، وہ اس زات سے اپنے کیے کاصلہ پا لے گا، ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔“
وہ پر یقین لہجے میں بولتی گاڑی میں بیٹھ گٸ۔
گاڑی ہجوم کو چیرتی ہوٸی سڑک پر آگٸ۔
نین تارا کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
” شاداب کے گھر چلو۔“
گارڈ کو کہا۔
راستے سے کچھ فروٹ لیے اور گاڑی شاداب کے گھر کے باہر رکی۔
لکڑی کا دروازہ بند تھا۔
گارڈ نے دروازہ بجایا۔
دس سالہ بچی نے دروازہ کھولا۔
نین تارا اندر چلی آٸی۔
چھوٹا سا صحن جسے اینٹوں سےپکا بنانے کی کوشش کی گٸ تھی۔
ایک طرف چھوٹی سے کیاری تھی، جس میں موسمی سبزیاں اگاٸی ہوٸیں تھیں۔
وہ چلتی ہوٸی برآمدے نما کمرے میں آگٸ۔
شاداب کی والدہ چارپاٸی پر بیٹھی تسبیح پھیر رہی تھی۔
نین تارا نے سر اسکے آگے جھکایا اور اسکے پاس ہی بیٹھ گٸ۔
” بچے دورسے اسےدیکھ رہے تھے۔
شاداب کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔
” ان کی والدہ نظر نہیں آ رہی۔“
نین تارا نے اطراف میں دیکھا۔
” وہ کوٹھی والوں کےگھر کام کرنے گٸ ہے، جب تک شاداب زندہ تھا، بیوی کو کہاں نکلنے دیتا تھا، اب بچوں کا پیٹ بھرنے کو نکلنا پڑا اسے۔“
شاداب کی والدہ آزرگی سے بولی۔
” یہ شاداب بھاٸی کی تنخواہ ہے، میں ہر مہینے بھجوا دیا کروں گٕی، آپ بھابھی سے کہیے مت نکلے۔“
وہ تنخواہ ان کے ہاتھ پہ رکھتے ہوۓ بولی۔
بوڑھی والدہ کی آنکھیں بھر آٸیں۔
” بیٹا تم بھی تو کماتی ہو نا۔“
وہ بھیگے لہجے میں سرد آہ بھرتے ہوۓ بولیں۔
نین تارا سر جھکا گٸ۔
” میں چلتی ہوں اب۔“
وہ مسکراتی ہوٸی اٹھ گٸ۔
” اللہ تجھے بھگ لگاۓ دھی رانی۔“
وہ ادکے سرپر دست شفقت رکھتے ہوۓ بولیں۔
نین تارا نے آمین کہا۔
غریبوں کی دعائيں خالص ہوتیں ہیں، وہ قسمت اور مفلسی کے مارے لوگ چیزوں میں ملاوٹ کر سکتے ہیں پر اللہ کے معاملےمیں بڑے خلوص اور نیک نیتی سے کام لیتے ہیں، وہ مفلسی میں رہ کر دل میں حسرتوں کے مزار پال کر بھی اللہ کے بڑے قریب ہوتے ہیں، بجاۓ ان امیروں کی طرح جو نعمتوں کی فروانیوں میں رب سے اتنے دور ہوتے ہیں کہ سنبھلنے کے لیے کسی دھچکے کے منتظر ہوتے ہیں۔
گاڑی میں بیٹھتے اس نے گہرا سانس لیا۔
” میں اپنی اوقات نہیں بھول سکتی، پر اتنا ضرور کہوں گی سب سے مشکل کام کسی کی چاکری ہوتا ہے۔“۔
وہ شیشے سے باہر دیکھتی بڑبڑاٸی۔
کسی کی نوکری کرنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے عزت نفس مر کے رہ جاتی ہے، محنت سے کام کرنے پر بھی طعنوں سے چند سکے ہتھیلی پر دھر دیےجاتے ہیں۔
” میں رب کی شکر گزار ہوں جس نے میرے دن پھیرے، مجھے لینے والوں سے دینے والوں میں کر دیا۔“
سرسیٹ کی پشت سے ٹکاۓ وہ آنکھیں بد کیے سوچ رہی تھی۔
یااللہ کبھی دینے کے معاملے میں میرا دل تنگ مت کیجیو، دل رو ہوتا جس کے مطمئن ہونے پر بندہ صحیح غلط سب کرنے کی ہمت پا لیتا ہے۔“
لامتناہی سوچوں میں گھری وہ چونکی جب گاڑی اپارٹمنٹ لے گیراج میں رکی۔
وہ گاڑی سے اتری اور افسدرگی سے قدم اٹھاتی اندر چلی گٸ۔
چھوٹے سے لان میں گھر کے تینوں نفوس بیٹھے تھے۔
” جا بہن کو چاۓ پانی کا پوچھ، کام سے تھکی ہاری آٸی ہے۔“
شکیلہ نے فضیلہ کو زبردستی اٹھایا۔
فضیلہ منہ بسورتی اندر چلی گٸ۔
” یہ لو پانی۔“
پانی کا گلاس اسکے سامنے ٹیبل پر پٹختے احسان مند لہجے میں بولی۔
نین تارا نے گہرا سانس خارج کیا۔
” میم جوس۔۔۔۔“
زرینہ نے گلاس اسکی طرف بڑھایا۔
” لے جاٶ ابھی دل نہیں ہے۔“
نین تارا پانی کا گلاس پیتے ہوۓ مدھم لہجے میں بولی۔
زرینہ جوس واپس لے گٸ۔
فضیلہ کھڑی رہی۔
” کچھ چاہیے۔۔۔؟“
نین تارا نے مڑ کے دیکھا۔
” نہیں۔۔۔۔تم پریشان لگ رہی ہو۔“
فضیلہ کے دل میں جانے کیا سماٸی وہ اسکے پاس بیٹھ گٸ۔
” شاداب کے گھر گٸ تھی، اسکی بیوی کام والی بن گٸ۔“
نین تارا سرد آہ بھرتے ہوۓ آزردہ سی بولی۔
” تو۔۔۔“
فضیلہ کو پریشانی کی وجہ سمجھ نا آٸی۔
” تو یہ کہ ایک کنبہ اسکے سر پر آگیا ہے، تم تو جانتی ہوملازمہ کے ساتھ کیا رویہ رکھا جاتا ہے۔“
وہ دکھ سے بولی۔
” تم اس لیے دکھی ہو رہی ہو، وہ کسی کے گھر کام کرنے لگی ہے۔“
فضیلہ نے بغور اسکا چہرہ دیکھا۔
” نہیں اسکی مجبوری پر دکھی ہو رہی ہو۔“
نین تارا بے بس سی بولی۔
فضیلہ نے کندھے اچکاۓ گویا کچھ سمجھی ہی نہیں۔
نین تارا واش روم کی طرف بڑھ گٸ اور فضیلہ اسکے کمرے سے نکل آٸی۔
نین تارا نے چینج کیا اور دکھتے سر کو مسلتی کچن میں آٸی۔
نیند کی گولی لی اور گلاس جوس پیے کمرے میں آگٸ۔
” چوہدری سکندر۔“
ریسیپشنسٹ سے پوچھا۔
” سامنے روم میں ہیں۔“
ریسیپشنسٹ نے اشارہ کیا۔
فیضی کمرے کی طرف بڑھا۔
چوہدری سکندر بیڈ پر پڑے ہوۓ تھے۔
فیضی کو دیکھتے ہی رو دیے۔
” بابا یہ سب کیسے۔۔۔۔“
فیضی کی حالت غیر ہو رہی تھی۔
” تمہاری ماں۔۔۔۔“
وہ جملہ ادھورا چھوڑے رونے لگے۔
” کہاں ہیں اماں جان۔۔۔“
وہ ان کے ہاتھتھامے بولا۔
چوہدری سکندر نے سر نفی میں ہلایا۔
” نہیں بابا۔“
فیضی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گٸیں۔
” مسٹر فیضان۔۔۔۔۔آپکی والدہ کی ڈیڈ باڈی ایمرجنسی میں ہے، پلیز ریسیو کر لیں۔“
ڈاکٹر کے الفاظ فیضی کی سماعت پر ہتھوڑے بن کے برسے۔
فیضی بینچ پر ڈھے سا گیا۔
بے یقینی سی بے یقینی تھی۔
” پلیز زرا جلدی کیجیے۔“
ڈاکٹر نے کہا تو وہ خود کو قابو کرتا مرے مرے قدم اٹھاتا ان کے ساتھ چل دیا۔
ایمرجنسی روم میں سر تک سفید کپڑے میں ڈھکی جہاں آرا کی میت دیکھ وہ ضبط کھو بیٹھا۔
آنکھیں میچے وہ منہ موڑ گیا۔
وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ ان تک آیا۔
چہرے سے کپڑا ہٹایا تو زخموں سے مسخ شدہ چہرہ نیلگوں نشان لیے سفید پڑ رہا تھا۔
فیضی نے ضبط سے آنکھیں میچیں۔
ایمبیولینس ریڈی تھی۔
ڈیڈ باڈی ایمبولینس میں رکھواۓ، چوہدتی سکندر کو گاڑی میں بٹھایا، چوہدری سکندر کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گٸ تھی، چہرے اور جم پر ان گنت خراشیں آٸیں تھیں، سر پر بندھی سفید پٹی دیکھتے ان کی آنکھیں بہہ گٸیں۔
” جہاں آرا۔۔۔۔“
وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے چپکے سے آنسو بہانے لگے۔
فیضی نے کال کر کے اریان کو بتا دیا۔
ایمبولینس کے ہیچھے پیچھے وہ دھندلاٸی آنکھوں سے حویلی پہنچا۔
کچھ دیر قبل کا سچ جو اس پر کھلا تھا وہ بھول چکا تھا۔
ایمبولینس کا دل دہلا دینے والے ساٸرن کی گونج سنتے پورا گاٶں بڑی حویلی پہنچ گیا۔
ڈیڈ باڈی ہال کے بیچ و بیچ رکھ دی گٸ۔
ہرطرف کہرام مچ گیا، آہ بکا گریہ وازاری کی گونج نےماحول کو افسردہ بنایا ہوا تھا۔
ارم کو گلے لگاتے فیضی کا ضبط ٹوٹ گیا، وہ ارم کو گلے لگاۓ رو دیا۔
عصر کے بعد تدفین ہوٸی اور ساری حویلی عورتوں اور مردانخانہ مردوں سے بھرا ہوا تھا۔
”چوہدری سکندر کا ایکسٹڈینٹ ہوا ہے، بڑی چودہراٸن کا انتقال ہو گیا ہے فریدے۔“
گرید کے بھاٸی کی کال تھی۔
” ہم ابھی آتے ہیں۔“
فرید نے عجلت میں فون بند کیا۔
”شکیلہ بڑی بی بی کا انتقال ہو گیا ہے۔“
فریدنے شکیلہ سے کہا۔
” چلومیں ڈرائيور سے کہتا ہوں۔“
فرید باہر نکلا ڈرائيور کوریڈی کیا۔
فضیلہ اور شکیلہ تیاری کے باہر آگٸیں۔
” نین تارا کہاں ہے۔۔“
فریدنے انسے پوچھا۔
” وہ سوٸی ہےویسے بھی اس نے کب جانا تھا، کتنی خلاف ہے وہ چوہدری سکندر اور بڑی بی بی کے۔“
فضیلہ منہ بنا کے بولی۔
فرید نے سرہلایا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
فضیلہ اور شکیلہ پچھے بیٹھ گٸیں۔
وہ جنازے سے کچھ دیر قبل پہنچےتھے۔
تدفین کے بعد فیضی حویلی آیا تو فضیلہ نظر آٸی۔
” نین تارا کہاں ہے۔؟“
فیضی فضیلہ کے پاس چلا آیا۔
” وہ تو نہیں آٸی۔”
فضیلہ نے لاپراہی سے کہا۔
” کیوں۔؟“
فیضی کو دھچکا لگا۔
” کہتی میری طرف سے سارے چوہدری مر جاٸیں میں نے نہیں جانا۔“
فضیلہ نے جو منہ میں آیا بول دیا۔
فیضینے لب بھٕنچ لیے اور سیدھا کمرے میں چلا آیا۔
” وہ جیسی بھی تھیں نین تارا میری ماں تھیں، تم ان کے مرنے پر بھی نہیں آٸی۔“
فیضی نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں۔
” تم نے اچھا نہیں کیا تارا۔۔۔۔میں نے زندگی کے ہرمشکل لمحے پر تمہیں سنبھالا اور تم نے میرے مشکل وقت میں منہ پھیر لیا۔“
فیضی کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔۔
” فیضی نے خود کو تمہارے آگے جھکالیاتو تم نےمجھے اتنا ارزاں سمجھ لیا۔“
وہ غصے میں کھول رہا تھا۔
” اب میری بھی ضد ہے، تمہارے پاس بھی نہیں پھٹکوں گا۔“
آنکھیں میچے ہوۓ ضدی لہجے میں بولا۔
” فیضی کی ضد کے آگے تو قسمت بھی گھٹنے ٹیک دیتی ہے تارا۔“
وہ دروازہ کھولتا باہر نکل آیا۔
چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی، سختی بھری سنجیدگٕی۔
جاری ہے
