Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35
”کیا ضرورت تھی اتنے مہنگے گفٹ کی۔“
نین تارا برینڈ نیو بی ایم ڈبلیو کو دیکھ کر سینے پر ہاتھ باندھے خفگی سے بولی۔
فیضی سینے پر ہاتھ باندھے اسے یک ٹک دیکھے جا رہا تھا۔
” تم سے مہنگا نہیں ہے۔“
وہ محبت سے بولا، آنلھیں اب بھی من موہنے روپ پر ٹکیں تھیں۔
” فیضی آپ بھی نا۔“
نین تارا نے سر نفی میں ہلایا۔
فیضی اسے لیے اندر آگیا۔
کھانا کھایا گیا اور ایک بجے کے قریب پارٹی ختم ہوٸی، سب کو رخصت کیے وہ ہال سے نکلے۔
” مس عالیہ آپ میری گاڑی لے جاٸیں، میں نین تارا کو ڈراپ کر دوں گا۔“
فیضی مسکرا کر بولا اور دونوں نین تارا کی گاڑی کی طرف بڑھے۔
گاڑی گھر کے اندر روکے نین تارا اتری۔
” نین تارا بات سنو۔“
فیضی گاڑی سے نکل کر اسکی سمت آیا۔
” جی۔“
نین تارا رک گٸ۔
فیضی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
” آٸی ایم ان لو ود یو۔“
گلاب کا پھول ہاتھ میں لیے وہ شفاف چاندنی کی رات میں اپنی محبت کاراز افشاں کر چکا تھا، سیاہ آنکھیں محبت سے لبریز اسکے جواب کی منتظر تھیں۔
” فیضی۔۔“
نین تارا ہکلا گٸ۔
” آٸی ایکسٹریملی لو یو نین۔“
وہ سر جھکاۓ مجرمانہ انداز میں بولا۔
” آٸی وانٹ ٹو میری ود یو۔“
فیضی نے رنگ نکال کے سامنےکی۔
چاند کی پر نور روشنی میں انگوٹھی پر جگمگاتا ہیرا بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔
نین تارا نے ہاتھ منہ پر رکھے ہچکی روکی۔
آنکھیں برسنے لگیں تھیں۔
” فیضی۔۔۔۔۔۔میں ہمارے بیچ کے فرق کو کبھی نہیں بھول سکتی۔“
نین تارا روتے ہوۓ بولی اور دوڑتی ہوٸی اندر چلی گٸ۔
فیضی کی آنکھ سے موتی ٹوٹ کر کوٹ پت گرا اور پھسلتا ہوا زمین پر گر گیا۔
وہ گھٹنوں کے بل گر سا گیا۔
” میں ہار گیا۔“
سر جھکاۓ وہ ہاتھ میں رنگ اور پھول لیے رو رہاتھا۔
اور پھر جب محبوب ساتھ نا دے تو آنسو ہمراز کی طرح ساتھ نبھانے کو دوڑے چلے آتےہیں۔
وہ کتنی ہی دیر وہاں بیٹھا بند دروازے کو گھورتا رہا۔
عاشق کی امید تو زلت و رسواٸی کے بعد بھی نہیں ٹوٹتی، وہ امید کاچدامن تھامے کاسہ محبت لیے محب کا خواہاں تھا۔
” میری محبت کلاس کی بھینٹ چڑھ گٸ۔“
وہ ہارے ہوۓ جواہری کی طرح اٹھا۔
” تم نے مجھے پھر دکھایا ہے نین۔“
وہ بہتی آنکھوں سے ہاتھ کی پشت سے بے دردی سے آنسو رگڑتے ہوۓ بولا۔
” تم ہر چیز کو اہمیت دے جاتی ہو، لیکن فیضی کو بھول جاتی ہو۔“
آنکھوں میں جھڑی لگی ہوٸی تھی۔
وہ سست روی سے ایک ہاتھ رنگ اور ایک ہاتھ میں پھول تھامے سڑک کنارے چلتا جا رہا تھا۔
” نین تارا ۔۔۔۔آٸی لو یو۔“
وہ سسکا تھا، بلکل بچے کی مانند۔
محبت بچہ بنا دیتی ہے۔
وہ سڑک کنارے سٹریٹ لاٸٹس سے ٹیک لگاۓ بیٹھ گیا، گھٹنے پر بازو رکھے وہ انگوٹھی کے چمکتے ہیرے کو دیکھنے لگا۔
” تم بے وقعت ہو گیے ہو، تمہیں میری نین نے ٹھکرا دیا ہے۔“۔
وہ انگوٹھی سے مخاطب تھا۔
” شاید فیضی بے وقعت ہے اسکی نظر میں۔“
سر سٹریٹ لاٸٹ کے پول سے ٹکاۓ وہ نم آنکھوں سے آسمان پر چمکتے ستارے دیکھنا لگا۔
کتنی ہی دیر وہاں بیٹھنے کے بعد وہ سست روی سے اٹھا اور گھر کی جانب چل دیا۔
وہ ہاتھ منہ پر رکھے دروازے کے ساتھ بیٹھتی چلی گٸ۔
”ایم سوری فیضی۔“
وہ ہچکیوں کا گلا گھونٹتی ہوٸی سسکی۔
”میں آپ کو پھر ہرٹ کر گٸ، کیا کروں آپ کے خاندان والے مجھے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔“
وہ سسک رہی تھی۔
” میں آپ کو مصیبت میں کیسے ڈال دوں۔“
وہ بلک رہی تھی۔
” کیسے آپ سن پاٸیں گے میرے خلاف، کس کس کی زبان کو روکیں گے۔“
وہ سر گھٹنوں پر رکھے سسک رہی تھی۔
دل غم کے سمندر میں ڈوب چکا تھا۔
” مجھے آپ کی عادت نے ہو گٸ ہے، لیکن آپ کے لیےمزید مشکلات کھڑی کرنا نہیں چاہتی۔“
وہ آنسوٶں کے بیچ بول رہی تھی
ساری رات کرب میں آنسوٶں کی جل تھل میں گزری تھی۔
دونوں بری طرح بکھر گیے تھے۔
” آپ کی جداٸی جان لیوا یے۔“
وہ کھڑکی میں کھڑی سوچ رہی تھی۔
” باجی آپ کو باہر آپ کے ابو بلا رہے ہیں۔“
ملازمہ نے اطلاع دی۔
وہ سوگوار سی باہر نکلی۔
لاٶنج میں فیضی کو دیکھ دل کو سکون سا ملا تھا۔
” آٶ نین تارا۔“
نین تارا نظریں جھکا گٸ، وہ فیضی کی نظروں کی تاب نہیں لا سکتی تھی۔
خود کو مجرم سمجھ رہی تھی۔
” فیضی صاحب تم سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔“
فرید نے نین تارا کی طرف دیکھا۔
” جو آپ کا فیصلہ بابا۔“
نین تارا مدھم لہجے میں بولی۔
” لیکن بیٹا۔۔۔۔۔آپ ایک اونچے خاندان سے ہیں۔“
فرید کشمکش میں تھا۔
” اونچے خاندان والوں کے کونسے سرخاب کے پر لگے ہوتیں ہیں، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں چاچا۔“
فیضی نے سر اٹھا کے انہیں دیکھا۔
سیاہ آنکھیں سرخی میں گھلی رت جگے کے چغلی کھا رہی تھیں۔
” چوہدری سکندر ہمیں جان سے مار دیں گے۔“
وہ خوف زدہ لگ رہے تھے۔
” آپ کی حفاظت میری زمہ داری ہے۔“
فیضی ہر حل لے کر آیا تھا۔
” ہم یہ بات بھول نہیں سکتے فیضی صاحب آپ ہمارے مالک ہیں اور ہم ملازم۔“
شکیلہ دھیمے لہجے میں بولی۔
فیضی نے لب کاٹتی نین تارا کو دیکھا۔
” میں نہیں ہوں آپ کا مالک۔“
وہ پھٹ پڑا تھا۔
سب سہم گیے۔
فیضی مٹھیاں بھینچے غصہ ضبط کرتا وہاں سے نکل گیا۔
نین تارا بھگی آنکھوں سے کمرے میں آگٸ۔
”ابو کاش آپ ہی مان جاتے۔“
نین تاراُکی آنکھیں پھر سے برسنے لگیں۔
وہ جیسے تیسے ہوٹل پہنچا۔
منیب نے اسے دیکھا تو منہ مروڑ لیا۔
”مجھے اپنا موبائل دے دو پلیز۔“
احسن کک سے مخاطب ہوا۔
” میرے پاس نہیں ہے وہ بے رخی سے بولا۔
احسن بے بسی سے لب کاٹتا لانڈری میں جا بیٹھا۔
زخموں سے اٹھتا درد بے حال کر رہا تھا، دھیرے دھیرےوہ بخار میں پھنکنے لگا۔
” اماں۔“
خشک ہوتے لبوں سے کراہ نکلی تھی۔
کنپٹی پر لگی چوٹ سے سر چکرا رہا تھا۔
” پانی۔“
وہ چکراتے سر کو تھامے اٹھا اور بے دم ہو کر گر پڑا۔
اسے بے اختیار حویلی کے نوکر چاکر یاد آۓ۔
اہنوں کا پیار اور ساتھ یاد آیا۔
” مجھے معاف کردو ادا۔“
وہ رو رہا تھا۔
” میں نے بہت غلط کیا، کاش میں تمہیں منا لیتا،تو آج یہاں نا ہوتا۔“
وہ بخار سے بے حال سسک رہا تھا۔
ہوٹل کا سویپر ادھر آیا تو اسے اس پہ بے حد ترس آیا۔
وہ چپکے سے واپس ہو لیا اور کچن سے کھانا چھپا کے لے آیا۔
” یہ کھانا کھا لو۔“
اسکے سامنے پلیٹ رکھی۔
“ پانی۔“
احسن کراہتے ہوۓ اٹھا۔
” یہ لو اس نے گلاس اسکی طرف بڑھایا۔
احسن نے چند نوالے اندر کیے اور پانی پیا۔
” میرا ایک کام کر دو بھاٸی۔“
احسن التجاٸیہ ہوا۔
” مجھے موبائل دے دو، ایک کال کرنی ہے بس۔“
آنکھوں میں آنسو لیے وہ منت بھرے لہجے میں بولا۔
” اس میں بیلنس نہیں ہے۔“
سویپر شرمندہ سا بولا۔
”میرٕی ایک دفعہ پاکستان بات کروا دو، میں وعدہ کرتا ہوں، تمہیں پیسوں میں تول دوں گا۔“
احسن نے کہا تو سویپر نے فون اس کی طرف بڑھایا اور کچھ دیر میں کارڈ ریچارج کروادیا۔
احسن ای میل لاگ ان کی اور فیضی کے نمبر پر کال کی۔
” پلیز فون اٹھا لو۔۔۔۔“
احسن آنسوٶں سے لبریز آنکھوں سے بولا۔
” ہیلو۔“
فیضی کی گھمبیر آواز گونجی۔
” فیضی میں احسن ہوں، مجھے بیک کال کرنا پلیز۔“
احسن منت بھرے لہجے میں بولا۔
فیضی نے کال کاٹ کے بیک کال کی۔
” تمہارا نمبر کہاں ہے۔“
فیضی نے حیرت سے پوچھا۔
”مت پوچھو فیضی، میں کس مصیبت میں ہوں۔“
احسن کی آواز بھیگ گٸ۔
” کیا ہوا۔۔؟تم ٹھیک ہو۔“
فیضی پریشان ہوا تھا۔
”صاٸم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا۔۔۔میری مددکرو پلیز۔“
مغرور احسن التجاٸیہ لگ رہا تھا۔
برا وقت اوقات یاد دلا دیتا ہے۔
” میں کچھ کرتا ہوں۔“
فیضی نے کہا اور فون بند کردیا۔
احسن نے اسکا شکریہ ادا کیا۔
سویپر نے مسکرا کے شکریہ قبول کیا اور وہاں سے چلا گیا۔
تین ماہ گزر گیے تھے، علی آفس بند کیے گھر بیٹھا تھا۔
بزنس بند ہونے کے بعد اسکا ہاتھ کافی تنگ ہو گیا تھا۔
باپ سے پیسے مانگنا شان کے خلاف تھا۔
دوسری قسط نا دے سکا۔
وہ جاب کی تلاش میں نکلا۔
ایم بی اے کی ڈگری لیے وہ فرینڈ کے آفس چلا آیا۔
” یار ایکسپیرینس تو تمہارا ہی نہیں پے۔“
دوست کا رویہ بدلا بدلا دیکھ علی کو سخت تاٶ آیا۔
وہ سی وی لیے واپس چلا آیا۔
سکاۓ بلیو سلوٹ زدہ شلوار قمیض میں ملبوس، ہلکی بڑھی شیو ، رت جگوں کا عنصر لیے سرخی میں گھلی سیاہ آنکھیں، آستینیں فولڈکیے وہ ہاتھ میں فریم پکڑے لب سیے آنکھوں سے محو گفتگو تھا۔
نفاست پسند فیضی بکھرا بکھرا لگ رہا تھا، سلقے سے سجا رہنے والاکمرہ بے ترتیبی کی نظر ہوا پڑا تھا۔
” نین تارا۔۔۔۔۔۔کم بیک ایم الون ودآٶٹ یو۔۔۔۔۔۔“
ڈیڑھ گھنٹے کے بعد لبوں کا قفل ٹوٹا تھا۔
آنکھیں بند کیے فریم سینے سے لگاۓ وہ بیڈ کی پشت سے ٹیک لگاۓ سوچوں کی پرواز میں اڑتا قلابازیاں لگاتا بہت دور چلا گیا تھا، جہاں صرف وہ تھا اور اسکی نین تارا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
” میں تمہیں پا لوں گا۔“
وہ ضدی بچا لگ رہا تھا، جسے ہر حال میں من پسند چیز چاہیے تھی۔
” میں تمہیں کسی کا نہیں ہونے دوں گا،“
وہ بکھرا بکھرا سا لگ رہا تھا۔
” اس خاندان کا کیا کروں میں۔۔۔۔۔۔ہر جگہ پر دیوار بن کے ہاٸل ہو جاتا ہے۔“
وہ خاندان سے سخت خاٸف ہو چکا تھا۔
نین تارا مس عالیہ کے ساتھ مارننگ شو کے لیے نکل رہی تھی، جب کچھ لوگ اپارٹمنٹ میں داخل ہوۓ۔
ان میں ایک چہرہ جان پہچانا تھا، فلم میں ولن کا کردار ادا کرنے والا کردار لڑکا ”نمیر“ تھا۔
نین تارا انہیں اندر آگٸ۔
” نین تار ہمیں دس بجے تک پہنچنا ہے۔“
مس عالیہ نے کہا۔
” ہم نین تارا کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں۔“
باتوں کے بعد خاتون نے کہا۔
نین تارا پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔
” ہم آپ کو سوچ کر جواب دیں گے۔“
فرید نے سیچویشن کو سنبھال لیا۔
شکیلہ البتہ خاموش ہی رہی۔
” نین تارا آپ کو کوٸی پرابلم تو نہیں۔“
اسکی ماں نے اسکی طرف رخ کیا۔
” جو بابا کا فیصلہ ہوگا۔“
نین تارا نے مسکرا کر کہا اور معذرت کرتی نکل آٸی۔
مارننگ شو کے بعد وہ سیٹ سے نکلی تو سامنے فیضی چلچلاتی دھوپ میں اسکی گاڑی سے ٹیک لگاۓ ہاتھ سینے پر باندھے آنکھوں پر گاگلز چڑھاٶ کھڑا تھا۔
” آپ ادھر۔۔۔“
نین تارا آہستگی سے بولی۔
” کون لوگ آۓ تھے پرپوزل لے کر۔“
بے لچک تفتیشی لہجہ تھا۔
آنکھوں سے گاگلز ہٹاۓ وہ اسے دیکھ رہا تھا۔
نین تارا کی پلکیں لرز رہیں تھیں۔
” نمیر کے گھر والے۔“
نین تارا آہستگی سے بولی۔
” انکار کر دو۔“
حکمیہ لہجے میں بولتا وہ گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔
نین تارا کی نظروں نے دور تک گاڑی کا پیچھا کیا۔
” چلیں۔۔“
مس عالیہ نے کہا اور نین تارا چپ چا بیٹھ گٸ۔
”آٶ۔۔۔نین تارا۔“
فریدبہت خوش لگ رہے تھے۔
” کیا ہوا سب خیریت۔“
وہ ان کے پاس بیٹھ گٸ۔
” بہت بڑا اور اچھا رشتہ ہے، لوگ بھی اچھے لگ رہے ہیں۔“
وہ بہت خوش لگ رہے تھے۔
” وہ چوہدری سکندر کے جاننے والے ہیں۔“
شکیلہ پرجوش سی بولی۔
” میں نے چوہدری صاحب سے پوچھا ہے، انہوں نے کہا، آنکھیں بند کر کے کر لو بہت اچھا رشتہ ہے۔“
فرید بہت خوش دکھاٸی دے رہے تھے۔
” پربابا۔“
نین تارا کچھ بولنا چاہ رہی تھی۔
”مجھے پتہ ہے میری رانی لاکھوں میں ایک ہے، اور میری بات کا مان رکھتی ہے۔“
وہ اسکے سر پر دست شفقت رلھتے ہوۓ بولے۔
نین تارا کی آواز رندھ گٸ۔
”میں کیسے توڑ دوں بابا کا مان۔“
وہ چپ چاپ اٹھ کے کمرے میں آگٸ۔
فرید بہت کچھ بول رہے تھے، وہ کچھ بھی سن نہیں پا رہی تھی۔
” انکار کردو۔“
فیضی کی آواز کی بازگشت سے وہ بے بس ہو کر بیڈ پر گر سی گٸ۔
جاری ہے
