Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31

” فیضی دیکھیں نا سب کتنا خوبصورت ہے۔“
نین تارا بہت خوش لگ رہی تھی۔
فیضی اسکی خوشی محسوس کرتے مسکرا دیا۔
” مجھے سب خواب لگ رہا ہے۔“
وہ ایک دم رکی تھی، اسکی ناک سرخ ہو رہی تھی۔
” نین تارا ہم ایک ماہ تک یہیں ہیں۔“
فیضی نے اسے بازوٶں سے تھاما۔
” اسکے بعد ہم سکردوو جاٸیں گے۔“
فیضی اسے بتا رہا تھا۔
” بہت مزہ آۓ گا۔“
نین تارا نے پرجوش ہو کے آنکھیں میچیں۔
” چلو اب۔۔۔۔سردی لگ جاۓ گی۔“
فیضی اسے کھینچتے ہوۓ اندر لے آیا۔
نین تارا نا چاہتے ہوۓ بھی کھنچتی چلی آٸی۔
” ونڈوز کے سامنے گرلز نہیں ہونی چاہیے تھی۔“
نین تارا ہال کی ونڈو سے پردے ہٹاتے ہوۓ بولی۔
” یہ سیفٹی کے لیے ہے، گھر میں کوٸی نا گھسے۔“
فیضی ہیٹر آن کرنے لگا۔
” رات بارش ہوگی، صبح موسم بہت سرد ہوگا۔“
فیضی اسکی پشت دیکھتے ہوۓ بولا۔
” فیضی مجھے یقین نہیں آرہا۔“
نین تارا کی سبز آنکھیں بےیقینی سے ونڈو کے پار سفید برف پر ٹکیں تھیں۔
فیضی کا دل چاہا اسے خود میں بھینچ لے اور اسکے ہر خواب کو حقیقت کر دکھاۓ۔
” نین تارا۔۔۔۔نین تارا۔“
فیضی کشن گود سے ہٹاۓ اسکے پاس آبیٹھا۔
” مووی دیکھتے ہیں، ورنہ تم پاگل ہو جاٶ گی۔“
فیضی ہنسا۔
” اتنے خوبصورت نظارے چھوڑ کے مووی دیکھیں۔“
نین تارا نے بدمزہ ہو کر برا سا منہ بنایا۔
” تو کیا کریں پھر۔۔۔۔؟“
فیضی صوفے پر نیم دراز ہوتا پیر ٹیبل پر رکھنے لگا۔
“ باہر چلیں۔“
نین تارا نے مشورہ دیا۔
” خود تو بیمار پڑو گی، ساتھ مجھے بھی مرواٶ گی ٹھنڈ میں۔“
فیضی باہر جانے کے موڈ میں نہیں لگ رہا تھا۔
” پلیز نا فیضی۔“
نین تارا بضد ہوٸی۔
” بہت سردی ہے۔“
فیضی نے انکار کیا۔
” ٹھیک ہے۔“
نین تارا افسردہ سی ہو کے بیٹھ گٸ۔
” کیا ہوا۔۔۔؟“
فیضی اسکا اترا چہرہ دیکھ بولا۔
” کچھ نہیں۔“
وہ سنجیدگی سے سر جھکاۓ ناخنوں سے نیل پینٹ کھرچنے لگی۔
” نین۔“
فیضی نے تارا کی بجاۓ نین بلایا تو نین تارا نے سر اٹھایا۔
” چلو کوٹ پہنو اور کیپ لے لو، شوز بھی پہن لینا۔“
فیضی اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوۓ بولا۔
نین تارا کا چہرہ کھل اٹھا۔
وہ اچھلتی ہوٸی کمرے میں چلی گٸ، بلیو جینز کے ساتھ شرٹ پہنی اور واٸٹ کلر کا خوبصورت لونگ کوٹ پہنے سر پر مختلف موتیوں سے مزین کیپ لیے وہ شوزپہننے کے لیے بیڈپر بیٹھی۔
شوز پہنے اور اونی مفرل ٹاٸپ دوپٹہ گلے میں ڈال لیا۔
وہ کمرے دے نکل رہی تھی، جب فیضی چلا آیا۔
دونوں جیبوں میں ہاتھ گھساۓ کاٹیج سے نکلے۔
فیضی نے کاٹیج لاک کیا اور دونوں لان سے ہوتے سڑک پر نکل آۓ۔
سڑک کے اطراف میں برف سے ڈھکے پہاڑ بہت دلکش لگ رہے تھے۔
نین تارا ہر منظر موبائل میں قید کر رہی تھی۔
فیضی کا موبائل بجنے لگا۔
” ہیلو۔۔۔۔جی ہم پہنچ گیے ہیں۔”
فیضی مسکرایا تھا، سیاہ آنکھیں نین تارا پر ٹکیں تھیں۔
”کل کام شروع کریں گے۔“
فیضی نے کہا اور کال بند کر دی۔
وہ گھر سے تھوڑی دور بنی چھوٹی سی مارکيٹ تک چلے آۓ۔
” اب آ ہی گیے ہیں تو کچھ کھا لیتے ہیں۔“
فیضی نے چھوٹے سے ہوٹل کی طرف دیکھا اور نین تارا سے مخاطب ہوا۔
” ایز یو وش۔“
نین تارا مارکیٹ کا جاٸزہ لیتے اسکی تقلید میں ہوٹل کی طرف بڑھی۔
ہوٹل میں اکا دکا لوگ تھے۔
فیضی کارنر کے ٹیبل پر جا بیٹھا۔
فش کری کے ساتھ گرما گرم نان، دونوں نے سیر ہو کے کھایا۔
” بہت مزے کا کھانا تھا۔“
نین تارا نے تعریف کی۔
ہوٹل سے نکل کے دونوں واپسی کے لیے چل دیے۔
” آپ بہت اچھے ہیں فیضی۔“
نین تارا اسکے آگے آ رکی۔
” مجھے پتہ ہے۔“
فیضی ہنستے ہوۓ بولا اور اسکا رخ موڑے چلنے لگا۔
” میری اتنی ضدیں تو کبھی امی ابو نے بھی پوری نہیں کیں۔“
وہ شکر گزار لگ رہی تھی۔
” میں تمہیں افسردہ نہیں دیکھ سکتا۔“
فیضی نے رخ موڑ کے اسکے حسین چہرے پر سرخ ہوتی ناک کو دیکھا۔
نین تارا نے سنجیدگی سے اسکے وجییہہ چہرے کو دیکھا اور گردن جھکا گٸ۔
” چاۓ کا کپ ملے گا مادام۔“
فیضی شرارت سے بولا۔
” بناتی ہوں ویٹ کریں۔“
وہ مسکراتی کچن میں چلی گٸ۔
فیضی اسکی پشت کو تکتا مسکرایا۔
❤❤❤
” یہ لو تمہاری ٹکٹس اور پاسپورٹ۔۔۔۔“
صاٸم نے اسکے سامنے ٹیبل پر رکھا۔
” گڈ۔۔۔۔۔“
چوہدری احسن کی گردن کا سریا جوں کا توں رہا۔
” رات کی فلاٸٹ ہے، دس بجے ریڈی رہنا۔۔۔۔گیارہ بجے نکلیں گے۔“
صاٸم نے کہا۔
احسن نے سر ہلا دیا۔
صاٸم جا چکا تھا۔
” چوہدری فراز۔۔۔۔چوہدری احسن اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر دکھاۓ گا۔“
اکڑ سےبولا۔
سب ریڈی کیے وہ صاٸم کا منتظر تھا۔
دس بجے کے قریب صاٸم کی گاڑی کا ہارن سناٸی دیا۔
چوہدری احسم مغرورانہ چال چلتا گاڑی تک آیا۔
ایرپورٹ پر فلاٸٹ کا ویٹ کرتے چوہدری احسن نے سیلفی لی اور فیس بک پر ڈال دی۔
” چوہدری احسن ٹریولنگ ٹو آسٹریلیا۔“
سب کو ٹیگ کیا اور شان سے مونچھوں کو بل دیا۔
صاٸم نے استہزایہ نظر اسپر ڈالی اور موبائل میں مصروف ہوگیا۔
❤❤
” سر لان اپروو ہو گیا ہے، آپ نے چھ ماہ کی لمٹ رکھواٸی۔“
ماجد نےکہا۔
” اب ماڈلز ڈھونڈھنے کا وقت ہے۔“
وہ فیس بک کھولتے ہوۓ بولا۔
اپنی پروفاٸل پر پوسٹ لگاٸی۔
” کیسے ہو علی، مجھےتو لگتا بھول ہی گیے۔“
میسیجر پر زیمل قریشی کا میسیج آیا۔
” جان من تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں۔“
علی نے ٹاٸپ کیا اور سینڈ کر دیا۔
زیمل قریشی ایک بزنس مین کی بیٹی تھی، علی کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھی۔
” آج نیو ہیون میں لنچ پہ آجانا پھر۔“
زیمل نے آفر کی۔
” واۓ ناٹ۔“
علی ہنسا۔
” زیمل قریشی کو اگر ماڈل بناٶں تو۔۔۔۔۔؟“
علی پروفیشنل ہو کے سوچنے لگا۔
” ملتے ہیں پھر اس سے بھی آج۔۔۔۔۔“
گہری سانس لیتا وہ سیٹ پر سر رکھے چھت کو گھورتا ہوا جھولنے لگا۔
❤❤❤
” ادا شاپنگ کرنے چلیں۔“
ارم اسکے کمرے میں چلی آٸی۔
” آپ چلی جاٸیں میرا دل نہیں ہے۔“
وہ بالکونی سے چلتی ہوٸی کمرے میں آ گٸ۔
” تمہیں خود کو اداس نہیں رکھنا چاہیے، احسن تو زندگی کو انجواۓ کر رہا ہے اور تم اداسی کی تصویر بنی بیٹھی ہو۔“
ارم نے ڈپٹا۔
” انجواۓ۔۔۔۔؟“
ادا ناسمجھی سے ارم کو دیکھنے لگی۔
” وہ آسٹریلیا جا رہا ہے۔“
ارم نے فیس بک پوسٹ اسکے سامنے کی۔
ادا کی آنکھیں بھر آٸیں۔
” بھابھی ۔۔۔وہ کبھی نہیں سدھر سکتا۔“
ادا بھراۓ لہجے میں بولی۔
” تم امید کا دامن مت چھوڑو۔“
ارم نے اسے گلے سے لگایا۔
” اللہ بڑا بے نیاز ہے، وہ انسان کو ڈھیل دے سکتا ہے توکھینچ بھی سکتا ہے۔“
ارم نےاسکے بال سہلاۓ۔
” اب بس چپ۔۔“
ارم نے اسکے آنسو صاف کیے۔
” چلو باہر نکلو، دل بہلے گاتو نکل جاۓ گا تمہارے زہن سے۔“
ارم نے اسے کھنچا۔
” میں ویٹ کر رہی ہوں، جلدی ریڈی ہو کے آٶ۔“
ارم مسکراتے ہوۓ حکم دیتی باہر نکل گٸ۔
ادا ناچاہتے ہوۓ بھی اٹھی اور چینج کیے باہر چلی آٸی۔
” آج ڈھیر ساری شاپنگ کریں گے۔“
ارم نے اسے پچکارا۔
ادا فقط مسکراٸی۔
❤❤❤
مری کی خووبصورت لوکیشنز پر گانے کے سین بناۓ وہ ایک ہفتے میں سکردو کے لیے گیے، برف کے کھلے میدانوں میں خوبصورتی سے سینز بناۓ جا رہے تھے۔
” مجھے بہت سردی لگ رہی ہے۔“
نین تارا نیٹ کی ریڈ ساڑھی میں ملبوس تھی۔
” بس تھوڑی دیر اور۔۔۔۔۔۔۔“
فیضی نے اسکے اوپر اپنی جیکٹ ڈالی۔
” سیٹ ریڈی ہے۔“
ڈاٸریکٹر انکی طرف بڑھا۔
نین تارا کافی حد تک بہتر ڈانس کرنے لگی تھی۔
فیضی کی سنگت نے اسے کہیں دشواری نہیں ہونے دی۔
انہیں سانگ پر ایکٹنگ کرتے بیس دن لگ گیے تھے۔
مختلف جگہوں پر مختلف سینز بناۓ گیے تھے۔
نین تارا اپنی پرفامنس دیکھے ورطہ حیرت میں گم ہوٸی۔
”فیضی آٸی کانٹ بلیو۔“
وہ سکرین پر اپنا سانگ چلتے دیکھ رہی تھی۔
فیضی نے اسکے سر پر چپت لگاٸی۔
سکردو کا موسم انتہاٸی سرد تھا، آگ کے الاٶ بھی اس سردی کو کم نہیں کر پا رہے تھے۔
” مجھے فلو ہو رہا ہے۔“
نین تارا چھینکتے ہوۓ بولی۔
” ہم صبح تک واپسی کے لیے نکلیں فکر مت کرو۔“
فیضی نے اسے ٹشو تھمایا۔
رات انتہاٸی سرد تھی، نین تارا ک طبعیت بگڑ گٸ تھی۔
فلو بخار میں بدلنے لگا تھا۔
فیضی سخت پریشان تھا۔
موسم ایسا تھا کہ کبھی بھی برف باری شروع ہو سکتی تھی۔
” نین تارا۔۔۔یہ ٹیبلٹس لے لو، افاقہ ہوگا۔“
فیضی نے شاۓ کا کپ اسکی طرف بڑھایا اور ساتھ میں گولیاں۔
نین تارا نے گولیاں کھاٸیں اور بستر پر گر گٸ۔
فلو سے ناک سرخ ہو چکی تھی، شاداب چہرہ خزاں کی مانند لگ رہا تھا۔
فیضی اسکا بہت خیال رکھ رہا تھا۔
تیسرے دن موسم کچھ بہتر ہوا تو فیضی اسے لیے واپسی کے لیے نکلا۔
گلگت پپنچ کے میڈیسن لی اور ایک ہوٹل میں رک گیے۔
نین تارا بیڈ پر لیٹی ہوٸی تھی، فیضی صوفے پر بیٹھا اسے تکے جا رہا تھا۔
فیضی کے بے ترتیب بال پیشانی پر بکھرے ہوۓ تھے، چہرے پر فکر اور پریشانی کا عنصر نمایاں تھا۔
سلوٹ زدہ شلوار قمیض میں ملبوس وہ تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔
” فیضی۔“
نین تارا نے اسے ہلایا۔
” ہاں۔“
وہ چونک کے اٹھا۔
” آپ ساری رات یہیں سوۓ رہے ہیں۔“
نین تارا شرمندہ لگ رہی تھی۔
” نہیں بس ویسے ہی، تمہارے طبعیت کیسی ہے۔؟“
فیضی نے بات بدلنے کو اسکی پیشانی چھو کے بخار چیک کیا۔
” کچھ بہتر ہوں۔“
نین تارا مسکراٸی۔
فیضی نے بغور اسکا چہرہ دیکھا، زرد پڑتی رنگت، بے ترتیب بکھرے الجھے الجھے سے بال۔۔۔۔وہ فریش سی تارا نہیں لگ رہی تھی۔
” ناشتہ منگواتا ہوں، تب تک فریش ہو جاٶ۔“
فیضی نے نظریں ہٹاٸیں۔
نین تارا آسودہ سی اٹھی اور واش روم کی طرف بڑھ گٸ۔
فیضی نے انٹرکام سے ناشتے کا آرڈر کیا اور دوبارہ صوفے پر براجمان ہو گیا۔
❤❤❤
” کیسی ہوسویٹ ہارٹ۔“
علی چہکا۔
زیمل ایک ادا سے مسکراٸی۔
” لاسٹ ٹاٸم کے لیے سوری۔“
علی نے کہا تو زیمل ہنس دی۔
” بریک اپ کے بعد پھر سے ریلیشن بنانا چاہتے ہو۔“
زیمل آگےکو ہوٸی اور بازو ٹیبل پر رکھے۔
” ییس۔۔۔۔۔کوٸی تمہارے جیسی ملی ہی نہیں جان من۔“
علی اسی کے انداز میں بیٹھتے ہوۓ گویا ہوا۔
زیمل نے جاندار قہقہہ لگایا۔
علی خجل سا ہو گیا۔
” بہت بڑے فلرٹی ہو۔“
زیمل ہندتے ہوۓ بولی۔
علینے گہتی نظروں سے اسکا جاٸزہ لیا۔
” اسے شیشے میں اتارنا ہوگا۔“
وہ سوچنے لگا۔
” شاپنگ کروانی ہوگی اسے۔“۔علی نے کوفت سے سوچا۔
” کہاں کھو گیے۔“
زیمل اسکی آنکھوں کے سامے ہاتھ لہراتے ہوۓ بولی۔
” تمہاری خوبصورت آنکھوں میں ڈوب گیا تھا۔“
علی وارفتگی سے بولا۔
زیمل نے ابرو اچکاۓ۔
علی نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ دھرا۔
” اتنی حسین ہو تمہیں تو سلیبرٹی ہونا چاہیے، کروڑوں لوگ تمہارے فین ہونگے۔“
علی نے پتا پھینکا۔
” تمہیں کچھ بتانا ہے۔“
زیمل سنجیدہ ہوٸی۔
” بولو۔“
علی متوجہ ہوا۔
” تم سے بریک اپ کے بعد میں نے شافع سے نکاح کر لیاتھا، ڈیڈ نے اپنی امیج بچانے کے لے چپکے سے رخصتی کردی تھی۔“
زیمل پرشان لگ رہی تھی۔
” واٹ۔“
علی کو دھچکا لگا۔
” اب وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، ڈیڈ کو بتا نہیں سکتی، انہوں نے مجھ سے ہر رشتہ ختم کر لیا ہے۔“
زیمل رو دی۔
” رو مت۔“
علی نے ادھر ادھر دیکھا۔
زیمل نے آنسو صاف کیے۔
” میں شافع کو دوسری شادی کی اجازت دے دوں تو وہ مجھے طلاق دے دے گا۔“
زیمل کے لہجے میں کرب تھا۔
دفعتاً اسکا موبائل تھرتھرایا۔
زیمل نے کان سے لگایا۔
” واٹ۔۔۔۔؟ شافع آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔“
وہ دبادبا چلاٸی۔
موبائل کان سے ہٹاۓ وہ ٹیبل پر سر رکھے ہچکیوں کا گلا گھونٹنے لگی۔
” زیمل آر یو اوکے۔“
علی نے کوفت سے اسے دیکھا اور لہجے کو نارمل رکھتے ہوۓ پوچھا۔
زیمل نے ٹشو سے آنسو صاف کیے۔
” شافع نے شادی کر لی۔“
وہ بھیگے لہجے میں بولی۔
” تم پریشان مت ہو۔“
علی نے تسلی دی۔
” میں پریشان نہیں ہوں، بہت خوش ہوں۔“
وہ جل کر بولی۔
” میرے پاس تمہارے لیے ایک آفر ہے۔“
علی رازدانہ انداز میں بولا۔
زیمل نے ابرو اچکاۓ۔
علی مسکرا کے ٹیک لگا گیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *