Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23

سجے سجاۓ کمرے کےوسط میں رکھے بیڈ پر ادا سر جھکاۓ ان چاہے ہمسفر کی ناچاہتے ہوۓ بھی منتظر بیٹھی تھی۔
چہرہ بیٹوشن نے پھر سے دیکھنے لاٸق بنا چھوڑا تھا۔
وہ بنا گھوگھٹ نکالے سر سر گھٹنوں پر رکھے اداس سی بیٹھی تھی۔
محبت ہار جاۓتو اکڑ کا وجود ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے، انسان تھکن کےاندھیروں میں گم بسا اوقات چپ سادھ جاتا ہے۔
دروازہ کھلا تو اس نے سر گھٹنوں سے اٹھا کر دروازے کی سمت دیکھا۔
احسن کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔
ادا پر ایک فاتحانہ نظر ڈالی اور خراماں خراماں چلتا اسکے پاس چلا آیا۔
” ادا احسن۔۔۔۔۔“
وہ بیڈپر نیم دراز ہو گیا، نظریں ادا کی لرزتی پلکوں پرمرکوز تھیں۔
” تم نے دیکھا ادا، احسن نے تمہیں جیت لیا فیضان سکندر سے۔“
احسن نے اسکا مہندی لگا ہاتھ تھاما۔
” فیضان سکندر سے جس کی مرضی کے بغیر کوٸی اسکی شے کو دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔“
احسن نے کوفت سے کہا۔
” فیضی نے مجھے چھوڑا تھا، ورنہ اس سے کون جیت سکتا ہے۔“
ادا نے اپنا ہاتھ احسن کے ہاتھ سے کھینچا۔
” کیا مطلب۔۔۔۔۔۔؟“
احسن کو برا لگا۔
” وہی جو تم سمجھے۔“
ادا نے سر جھٹکتے ہوۓ کہا۔
” تم کہنے کی جرأت تو آج تک حویلی میں کسی کی نہیں ہوٸی۔۔۔۔“
احسن نے ادا کے بالوں کو جکڑا۔
” آہ ۔۔۔۔چھوڑو۔“
ادا درد سے بلبلاٸی۔
” میں عورت کو پیر کی جوتی سمجھتا ہوں، اور پیروں میں ہی رکھتا ہوں، تم میری ضد تھی، جو پوری ہو گٸ۔“
احسن نے اسے گھسیٹ کے بیڈ سے اتارا۔
” آج کے بعد فیضی کا نام بھی تمہاری زبان پر نا آۓ۔“
احسن نے اسکا منہ دبوچا اور جھٹکے سے چھوڑ دیا۔
ادا سہم کے ہیچھے ہٹی۔
” چوہدری احسن کی ملکیت ہو تم سمجھی۔“
وہ اسے پیر سے ٹھوکر مارتا واش روم میں گھس گیا۔
ادا صدمے سے ڈری سہمی دیوار کے ساتھ لگ گٸ، دل میں ڈوف بھرنے لگا۔
❤❤❤
” تارا جلدی کرو، آج براٸیڈل فوٹو شوٹ دینا ہے۔“
فیضی اسے تیار ہوتا دیکھ بولا۔
” میں ریڈی ہوں۔“
نین تارا نےمسکرا کے موبائل اورہینڈ بیگ اٹھایا اور اسکے ساتھ باہرنکل آٸی۔
ناشتہ کرتے سمے فیضی کی نظریں بھٹک بھٹک کر اسکے لپ اسٹک لگے خوبصورت ہونٹوں پر جا رہیں تھیں۔
” فیضی۔۔۔۔۔کل رات مس عالیہ کی بیٹی کی برتھڈے پارٹی ہے، انہوں نے ہمیں انواٸیٹ کیا ہے۔“
نین تارا نوالہ توڑتے ہوۓ بولی۔
” اوکے۔“
فیضی نے سر ہلایا۔
” مجگے کچھ شاپنگ کرنی ہے۔“
نین تارا نے کہا تو فیضی نے سرہلا دیا۔
” ٹھیک ہے کر لینا۔“
فیضی نےمسکراتی نظر اسکے خوبصورت چہرے پر ڈالی اور نیپکن سےہاتھ صاف کرنے لگا۔
“ تم سیلون چلی جاٶ ۔۔۔۔میں دو گھنٹے میں تمہیں پک کر لوں گا۔“
فیضی گاڑی سیلون کے سامنے روکتے ہوۓ بولا۔
نین تارا بیگ لیتے گاڑی سے اتری اور سیلون میں داخل ہو گٸ۔
فیضی نے گاڑی آفس کی طرف موڑی اور براٸیڈل فوٹوشوٹ کے لیے ڈیزائنرز اور سپانسرز کو ٹائم دینے لگا۔
❤❤❤
علی آفس میں داخل ہوا تو فیضی ٹھٹھک گیا۔
بکھرے بال شرٹ کے اوپری بٹن کھلے ہوۓ رف سے حلیے میں تھا۔
” میں اپنا بزنس الگ کرنا چاہتا ہوں۔“
علی نے بنا تمہید باندھے کہا۔
” کیوں۔؟“
فیضی کودھچکا لگا۔
”میری مرضی۔“
علی سنجیدگی سے بولا۔
” پرپھر بھی ہوا کیا ہے۔۔۔۔؟“
فیضی اسکی طرف آیا۔
” مجھے تمہاری ہیلپ کی قطعاً ضرورت نہیں، میں خود بھی کام کر سکتا ہوں، اپنا بزنس چلا سکتا ہوں۔“
علی قطعیت سے بولا۔
” میں تمہاری ہیلپ کب کر رہا ہوں، بلکہ تم میری ہیلپ کرتے ہو۔“
فیضی نے اسے سمجھانا چاہا۔
” میں نا ہیلپ کرنا چاہتا ہوں اور لینا چاہتا ہوں۔“
علی اٹھتے ہوۓ بولا۔
” اب تک جتنی ماڈلز کے ساتھ کنٹریکٹ چل رہا ہے ان میں سٕے ہاف تمہاری ہاف میری۔“
علی نے فاٸل اسکے سامنے رکھی۔
” یہ میرا آفس ہے، تم اپنا نیا آفس سیٹ کر لو۔“
علی اسے خاموش پا کر بولا۔
فیضی حیرت سے گنگ اسے دیکھتا رہا۔
” تم یہ سب کیوں کر رہے ہو۔“
فیضی لب بھینچے اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
” میں تمہارے کسی سوال کا جواب دہ نہیں ہوں۔“
علی تلخ لہجے میں بیگانگی سے بولا۔
فیضی کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔
” تمہاری ساری پیمنٹ تمہیں مل جاۓ گی۔“
علی لیپ ٹاپ کی سکرین پر دیکھتے ہوۓ بولا۔
فیضی چپ چاپ آفس سےنکل آیا۔
گاڑی تک آتے اسکی آنکھیں بہنے لگیں تھیں۔
ایک افسردہ نظر آفس پر ڈالی اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
سیٹ کی پشت سے سر ٹکاتے بزنس شرع کرنے سے آج تک کے لمحے اسکی آنکھوں میں گھوم گیے۔
” نیا آفس بنانا، نیے ورکرز۔۔۔۔۔۔۔۔مطلب پھر سے زیرو سے سٹارٹ لوں۔“
فیضی دکھ سے بڑبڑایا۔
موبائل کی بپ بجی تو فیضی نے موبائل نکالا، بینک سے ایمیل تھا۔
علی نےایک کروڑ اسکے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر کے ہر طرح سے فارغ کر دیا تھا۔
دفعتاً دوسری دفع بپ بجی۔
علی کا میسیج تھا۔
” کل آ کرپیپر ورک کمپلیٹ کر لینأ، پیمنٹ تمہیں بھیج دی ہے، تمہارے پیسے پورے ہو گیے، یہ بزنس اب میرا ہے،کل آکر ساٸن کر دینا۔“
علی کا میسیج تھا۔
فیضی کا اپنا آپ ہارتا ہوا محسوس ہونے لگا۔
”نین تارا کے آنے سے ہر کڑی ٹوٹتی جا رہی ہے، میں خود کو تن تنہا ڈوبتا ہوا محسوس کرنے لگا ہوں۔“
فیضی پریشانی سے بڑبڑایا۔
“ کہیں نین تارا کی محبت مجھے لے نا ڈوبے۔“
فیضی کو پریشانی نے آگھیرا۔
” میرےاکاٶنٹ میں اب بھی اتنا پیسہ ہے چھوٹے پیمانے سے بزنس شروع کر سکتا ہوں۔“
فیضی نے ڈوبتے دل کو دلاسا دیا۔
کچھ سوچتے ہوۓ اس نے اگنیشن میں چابی گھماٸی اور فوٹو شوٹ کے لیے سیٹ دیکھنے نکل گیا۔
❤❤❤
رات کا سماں حویلی پر بڑا خوبصورت لگ رہا تھا، روشنیوں سے جگمگاتی بڑی حویلی کے نفوس اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے، حویلی خاموش پڑی تھی۔
” جہاں آرا بیگم۔۔۔۔۔!!!!“
چوہدری سکندر نے ہر سوچ اندا میں پکارا۔
”جی چوہدری صاحب۔“
وہ انکی طرف متوجہ ہوٸیں۔
” میں سوچ رہا ہوں، رعنا کا ہاتھ مانگ لیتا ہوں فیضی کے لیے۔“
چوہدری سکندر نے انکا چہرہ دیکھا۔
” پہلے ہی ادا کے رشتے سے ہماری بہت بدنامی ہو گٸ ہے چوہدری صاحب، اس نے پھر سے انکار کر دیا تو مزید باتیں بنیں گیں۔“
جہاں آرا بیگم دانشمندی سے بولیں۔
” احرام بھاٸی نے خود کہا ہے۔“
چوہدری سکندر پریشانی سے بولے۔
” آپ انہیں کہہ دینا، فیضی کا بھروسہ نہیں ہے ، آج مان جاۓ کل کو انکارکردے۔“
جہاں آرا بیگم نے کہا۔
” میں نے رعنا کی آنکھوں میں فیضان کے لیے پسندیدگی دیکھی ہے۔“
چوہدری سکندر افسردگی سے بولے۔
” ادا بھی تو کتنا پسند کرتی تھی فیضی کو۔۔۔۔۔“ جہاں آرا بھی افسردہ ہو گٸیں۔
” فیضی کی مت ماری گٸ ہے۔“
انہوں نے ناگواری سے سر جھٹکا۔
” وہ اس ملازمہ سے محبت وحبت تو نہیں کرتا نا۔“
چوہدری سکندر نے پوچھا۔
” پتہ نہیں چوہدری صاحب۔۔۔۔اس کے انداز تو محبت والے ہیں۔“
جہاں آرا بیگم نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا۔
” ضد میں آگیا تو شادی کر لے گا اس سے، اسے سمجھداری سے نکالنا ہوگا اس لڑکی کے ہاتھ سے۔“
چوہدری سکندر نے جہاں آرا بیگم کے چہرے کو تکا۔
” ضد میں تو آپ پر گیا ہے، جیسے آپ نے ضد باندھ لی تھی مجھ سے شادی کی۔“
جہاں آرا بیگم مسکراٸیں تو چوہدری سکندر بھی مسکرا دیے۔
” ہماری ضد بے جا نہیں تھی بیگم، آپ خاندان سے تھیں، جبکہ فیضی جس کے لیے ضد پال کہ بیٹھ گیا ہے ملازمہ ہے ہماری۔“
چوہدری سکندر نرمی سے بولے۔
” کچھ کریں اور نکالیں فیضی کو اسکے چنگل سے۔“
جہاں آرا بیگم جماٸی لیتے ہوۓ بولیں اور لیٹ گٸیں۔
” ہممم۔۔۔۔۔کچھ کرنا پڑے گا۔“
چوہدری سکندر کے چہرے پر سوچ کی گہری پرچھاٸیاں تھیں۔
❤❤❤
نین تارا کے براٸیڈل فوٹو شوٹ ہوتے شام ہو گٸ۔
” بہت اچھے شاٹس دیے تم نے۔“
فیضی نین تارا سے مخاطب ہوا۔
” بہت تھک گٸ ہوں، بہت ہیوی ڈریسسز تھے۔“
نین تارا کے چہرے پر تھکن واضح تھی۔
” باقی کےدو فوٹو سیشن کل ہونگے۔“
فیضی نے محبت سے اسکا گال تھپتھپایا۔
نین تارا مسکرا دی۔
فیضی نے گہری نظروں سے نین تارا کو دیکھا اسکے ہونے سے وہ اپنی پریشانی بھول چکا تھا۔
” چلو گھر چلیں۔“
فیضی اسے لیے وہاں سے نکلا اور دونوں باتیں کرتے گھر پہنچ آۓ۔
”فریش ہو جاٶ، پھر کھانا کھاتے ہیں۔“
فیضی اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوۓ بولا۔
فریش ہو کہ نیچے آیا تو شازیہ کھانا لگا چکی تھی۔
فیضی ٹیبل پر بیٹھا نین تارا کا منتظر تھا۔
” کیامیں تارا کے بغیر رہ پاٶں گا۔“
وہ خود سے سوال کر گیا۔
” شاید نہیں۔۔ہ۔۔“
وہ نین تارا کے کمرے کے بند دروازے کر دیکھنے لگا۔
دفعتاً دروازہ کھلا اور نین تارا باہر نکلی۔
سمپل بلیک سوٹ میں ملبوس اسکی کھلتی رنگت دمک رہی تھی۔
” سوری آپ کو ویٹ کرنا پڑا۔“
نین تارا شرمندہ ہوٸی۔
” میں تا عمرتمہارا انتظار کرتے نا تھکوں تارا۔“
فیضی محبت سے مخمور لہجے میں وارفتگی سے بولا۔
نین تارا الجھ کے اسے دیکھنے لگی۔
“ اب شروع بھی کرو۔۔۔۔۔صبح سے کچھ نہیں کھایا۔“
فیضی نے خود ک سنبھالا اور نامل لہجے میں بولا۔
نین تارا نے سر جھٹکا اور کھانا کھانے لگی۔
” دل محبت کا غلام ہوجاتا ہے، تب ہی محبت کی ہر خواہش پر سر تسلیم خم کرتا تشنگی کا شور مچاۓ، بے چینی و بے قراری سے مچلتا رہتا تھا۔“
فیضی نین تارا کو محبت پاش نظروں سے تکتے ہوۓ سوچنے لگا۔
نین تارا ہمیشہ کی طرح بے نیازی سے کھانے میں مگن تھی۔
❤❤❤
” اب آۓ گا مزہ۔۔۔۔۔۔فیضان سکندر جب تم بے روزگار ہوۓ تو دیکھوں گا کیسے لڑکیاں تم پہ فدا ہوتیں ہیں۔“
علی چیر گھماتے ہنسا۔
” نین تارا پر کب تک جیب سے خرچو گے۔۔۔۔۔“
علی نے ابرو اٹھاۓ گویا فیضی سامنے ہو۔
” میں تمہارا نین تارا کی طرف آتا ہر راستہ بند کردوں گا۔“
علی نے پیپر ویٹ گھمایا۔
” نین تارا کا ہر وہ راستہ کھلا رکھوں گا جو علی یزدانی کی طرف آتا ہو۔“
پپر ویٹ گھومتا ہوا زمین بوس ہو گیا۔
” تم میں کچھ تو ہے نین تارا ۔۔۔۔جو فیضان سکندر نے تم سے محبت کی، تمہارے لیے سب سے لڑگیا۔“
علی نین تارا کی تصاویر دیکھتے ہوۓ بڑبڑایا۔
” تمہای سبز رنگ آنکھوں میں غرق ہونے کو جی چاہتا ہے۔“
وہ نین تارا کی تصویر آنکھوں کے سامنے کرتے ہوۓ بولا۔
” اب مجھے خود کنٹریکٹ ڈھونڈھنے ہونگے، اکاؤنٹ میں موجود ساری رقم تو فیضی کو دے دی۔“
علی کو اپنی فکر لاحق ہوٸی۔
” کمرشلز میں لگاتا ہوں ماڈلز کو۔۔۔۔کچھ رقم توملے گی۔“
علی نے سوچا اور لیپ ٹاپ کھول لیا۔
❤❤❤❤
”کمرے میں ہوٸی بات چیت باہر کسی کے کانوں پر پڑی تو زندہ گاڑھ دوں گا۔“
احسن نے اسے دھمکی دی اور بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔
ادا لہنگا گھسیٹتی واش روم میں داخل ہوٸی اور دیوارسے لگ کر رونے لگی۔
” رات واش روم میں گزارنےکا ارادہ ہے کیا۔“
احسن کی کرخت آواز گونجی تو ادا ہڑبڑا کے اٹھی اور چینج کر کے باہر آگٸ۔
ادا خوف کے زیر اثر چلتی ہوٸی بیڈ پہ جا لیٹی۔
آنکھیں بند کیے خود کو احسن کے سپرد کر دیا۔
” گڈ گرل۔۔۔۔“
احسن فاتحانہ انداز میں ہنسا۔
❤❤❤
” واک کرنے چلیں۔؟“
فیضی نے پیار بھرے لہجے میں پوچھا۔
” کہاں۔“
نین تارا نے چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ پوچھا۔
” چاند پہ۔“
فیضی ہنسی ضبط کرتے بولا۔
نین تارأحیران ہوٸی۔
” چلو۔۔۔۔۔پتہ چل گیا۔“
فیضی اسے کھینچتے ہوۓ باہر لے آیا۔
رات پھیل رہی تھی، وہ تنہا اسے ہم قدم چلنا چاہتا تھا۔
نین تارا کا چہرا چاند کی شفاف روشنی میں چمک رہا تھا، ہلکی ہلکی ہوا سے سلکی بال اڑ کے فیضی کے شانے پر اٹھکیلیاں کر رہے تھے۔
” اچھا لگ رہا ہے نا۔“
فیضی جیبوں میں ہاتھ گھساۓ اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
” بہت اچھا۔“
نین تارا نے سراہا۔
وہ باتیں کرتے کافی دور نکل آۓ۔
بڑے خوشقسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جنہیں محبوب کی قربت کے چند لمحے میسر آجاٸیں۔
” نین تارا تم نے کبھی سوچا تھا، زندگی تمہیں یہاں بھی لاۓ گی۔“
فیضی نے اکے سبز آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی۔
” نہیں بلکل بھی نہیں۔“
نین تارا نے سر نفی میں ہلایا۔
” میں نے بھی نہیں سوچا تھا، زندگی یہاں لے آۓ گی، ایک ساتھ کی خواہش پر مجھ سے ہر رشتہ جدا کر دے گی۔“
فیضی نے گہری سانس خارج کی۔
” کیا مطلب۔۔۔۔؟“
نین تارا ناسمجھی سے اسکے تھکے تھکے چہرے کو دیکھنے لگی۔
” کچھ نہیں۔۔۔۔“
فیضی ناچاہتے ہوۓ مسکرادیا۔
” کبھی کبھی بہت الجھا دیتے ہیں۔“
نین تارا نارمل سی بولی۔
” میں خود بہت الجھ گیا ہوں نین تارا۔۔۔۔۔“
فیضی سوچ سکا۔
” دل کہہ رہا ہے، تمہیں اپنی محبت کی شدتوں سے آگاہ کردوں۔“
فیضی دل میں اس سے ہمکلام تھا۔
” پر تم مجھے بھی علی نا سمجھ بیٹھو۔۔۔۔“
فیضی نظریں جھکاۓ نین تارا کے پیروں کو دیکھنے لگا اور دانستگی میں اسکے قدم سے قدم ملانے لگا۔
” کیا خبر علی کی محبت سچی ہو۔۔۔۔۔۔کتنی عجیب بات ہے اپنی محبت سچی لگتی ہے، دوسرے سب جھوٹے لگتے ہیں۔“
وہ ہنسا۔
” کیا ہوا۔۔۔۔۔؟“
نین تارا اسکے اچانک ہنسنے پر حیران ہوٸی۔
” کچھ نہیں ۔۔۔۔۔“
فیضی مسکرایا۔
” آپ اکثر بڑی مشکوک حرکتیں کرتے ہیں۔“
نین تارا خفا سی بولی۔
” مشکوک حرکتیں۔۔۔۔۔؟“
فیضی نے نین تارا کو دیکھا۔
” یہی کبھی گھورتے رہتے ہیں کبھی خود سے باتیں، کبھی خود ہی ہنسنا۔۔۔۔۔“
نین تارا کےبتانے پر وہ زور سے ہنسا۔
” اتنا غور ناکیا کرو مجھ پہ۔۔۔۔۔محبت ہو جاۓ گی۔“
فیضی اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
” اس سب کی وجہ بھی تم ہی ہو۔۔۔۔“
فیضی کی زبان پھسل گٸ پر نین تارا نے نوٹس نہیں کیا۔
فیضی نے شکر ادا کیا اور دونوں واپس گھر کی طرف ہو لیے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *