Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29

تمہیں اپنے دل میں
بسایا ہے میں نے
خطا ہے یہ میری
، یہی جرم میرا
خطا ہے یہ میری،
یہی جرم میرا۔
جو چاہے محبت کی
اب تم سزا دو۔
بہت مجھ کو اس میں
بھی راحت ملے گی۔
میرے دل کی دنیا میں
آ کر تو دیکھو۔
تمہیں زندگی کی
حقيقت ملے گی۔
راحت فتح علی خان کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔
وہ راکنگ چیر پر بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا۔
” محبت۔۔۔۔۔“
وہ ہنسا۔
”کیا علی یزدانی کسی سے محبت کر سکتا ہے۔۔۔؟“
وہ خود سے سراپا سوال تھا۔
” شاید ۔۔“
اپنے سوال کا جواب دیے وہ سیدھا ہوا، سگریٹ ایش ٹرے میں پھینکا۔
” نین تارا۔۔۔۔۔“
وہ نین تارا کی تصویر دیکھتے ہوۓ بولا
” تمہیں بیچ میں نہیں آنا چاہیے تھا، فیضان سکندر۔“
علی نے تصاویر پھینکیں۔
” ایسی لڑکی محبت بے شک نا ہو پر بیوی بننے کے لاٸق ضرور ہوتی ہے، محبت کا کیا ہے۔۔؟ ہو ہی جاۓ گی۔“
علی خود ہی بدلنے لگا۔
” خوبصورتی بھی کمال، کردار بھی پاک اور مشرقی ہونے کے لحاظ سے ایک اچھی بیوی۔“
علی سنجیدہ ہونے لگا۔
”نین تارا از پرفیکٹ۔۔۔۔۔“
علی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ٹیرس پر آگیا۔
” فیضان سکندر کیوں مر گیا نین تارا پر، ایک سے ایک لڑکی کو چھوڑ کر۔۔۔۔۔“ علی ہنسا۔
”وہ نین تارا کو جان گیا تھا شاید۔“
علی کی سوچیں مسلسل دونوں کے گرد منڈلا رہیں تھیں۔
تھک کر وہ کمرے میں چلا آیا۔
❤❤❤
نین تارا تیار ہوکے نکلی، دونوں نے ناشتہ کیا اور نکل گیے۔
آج ان کا پہلا دن تھا، نین تارا نروس ہو رہی تھی۔
” مجھ سے ایکٹنگ نہیں ہوٸی تو فیضی کی انسلٹ ہو جاۓ گی۔“
نین تارا پریشان ہونے لگی۔
” کیا ہوا تارا۔۔۔۔؟“
فیضی اسکی پریشانی بھانپ گیا تھا۔
” اگر مجھ سے نا ہوٸی ایکٹنگ تو۔۔۔۔؟“
نین تارا کے چہرے پر فکر عیاں تھیں۔
” میں ہوں نا یار۔“
فیضی نے اسکی سبز آنکھوں جھانکتے ہوۓ کہا۔
” مجھے آپ کے اس جملے سے تسلی سی ہو جاتی ہے۔“
وہ مسکراتے ہوۓ باہر دیکھنے لگی۔
فیضی اسے مسکراتا دیکھ کر پرسکون ہو گیا۔
” سبز آنکھوں والی کالی بلی۔“
فیضی نے اسے چھیڑا
” آپ سیاہ آنکھوں والے گورے بلے۔“
نین تارا نے کہا تو فیضی کا قہقہہ بےساختہ تھا۔
” ماٸی گاڈ تارا۔۔۔۔۔تمہیں میں بلا لگتا ہوں۔“
فیضی گاڑی موڑتے ہوۓ ہنسا۔
” ہاں ناں۔“
نین تارا مسکراہٹ ضبط کرتے ہوۓ بولی۔
” اچھا سنو۔۔۔۔!!!“
فیضی سنجیدہ ہوا۔
” کسی سے بھی فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کام کی حد تک رکھنا سب کو۔“
فیضی نےگاڑی کی سپیڈ ہلکی کی۔
” تمہیں کوٸی بھی ہراس کرے، تو بلا جھجک مجھے بتانا۔“
فیضی اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
” ٹھیک ہے۔“
نین تارا نے سر ہلایا۔
آفس پہنچ کر وہ ساری کاسٹ سے ملے۔
” شاہ ویز فپم کی سکرپٹ تو دکھاٶ۔“
فیضی ٹانگ پہ ٹانگ چڑھاۓ بولا۔
” یہ لو۔۔۔۔تمہیں دے رہا ہوں بس۔“
شاہ ویز نے جتایا۔
” میں زرا محترمہ ثنا خان تنولی سے بات کرلوں، سانگ لکھ ہوگیا کہ نہیں۔“
شاہ ویز بڑبڑاتا ہوا نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔
” السلام وعلیکم مس ثنا۔“
شاہ ویز فون کان سے لگاۓ ساٸڈ پر ہو گیا۔
” مجھے سانگ کے متعلق پوچھنا تھا۔“
شاہ ویز نرمی سے بولا۔
” اوکے شکریہ میں میل چیک کر لیتا ہوں۔“
شاہ ویز نے فون بند کر دیا اور لیپ ٹاپ کی طرف بڑھا۔
” کہا کہا سانگ کا۔“
ڈاٸریکٹر نے پوچھا۔
” مجھے میل کر دیا ہے۔“
شاہ ویز میلز چیک کر رہا تھا۔
”دل چاہتا تھا تمھیں پا کر نہ کھویا جائے
یوں ہنس کر نہ پھر سے کبھی رویا جائے
آنکھ کی نمی کی وجہ کبھی تم نہ ٹھہرو
وفا کی سیپیوں کو کسی مالا میں پرویا جائے
ختم تم پر ہی اپنی ساری چاہتیں کر دوں
پھر نہ داغِ بے وفائی ہم سے دھویا جائے
تم جو آ رُکے ہو اب کے دل کی نگری میں
پھر کیونکر آنکھ بہے پھر کیوں رویا جائے؟
الفت ومحبت کا پیغام یہ آنکھیں تمھاری
جی چاہے ہے آج اِن میں اُتر کر سویا جائے
(ثناء خان تنولی)
” واہ کیا غزل لکھی ہے اوسم۔“
شاہ ویز خوش ہو گیا۔
” ویری ناٸس۔“
ڈاریکٹر بھی متاثر ہوا۔
” آج کے سینز شروع کریں۔“
شاہ ویز ڈاٸریکٹر سے مخاطب ہوا۔
” مس نین تارا کو انکی سکرپٹ دیں۔“
وہ مصروف سا بولا۔
” پیلس کا رخ کریں آج ایک سین تو بننا چاہیے۔“
شاہ ویز نے کہا اور ضروری چیزیں لیے آفس سے نکلا۔ سب ہی لوگ انکے ہاٸر کردہ پیلس میں چلے گے۔
” مس نین تارا یہ آپکی سکرپٹس، آپ نے کمرے سے نکل کر آنا ہے، ملازم کی انسلٹ کرنی ہے اور باہر نکل جانا ہے۔“
ڈایریکٹر اسے سمجھا رہا تھا۔
” آپ چینج کرلیں۔“
میک اپ آرٹسٹ نے کہا تو اس نے فیضی کی طرف دیکھا۔
فیضی نے سر اثبات میں ہلایا۔
نین تارا کا دل لرز رہا تھا۔
وہ میک اپ آرٹسٹ کی دی گٸ شرٹ اور جینز زیب تن کر آٸی۔
”میک اپ آرٹسٹ نے اسے ہلکاپھلکا تیار کیا اور بالوں کی خوبصورت بریڈ بنا دی۔
” شی از ریڈی۔“
میک اپ آرٹسٹ نے ملازمہ کو بھی ریڈی کر دیا۔
نین تارا فیضی کے پاس چلی گٸ۔
” فیضی مجھ سے نہیں ہوگا، میرا دل ایسے ایسے کر رہا۔“
وہ ہاتھ ہلاتے ہوۓ بولی۔
فیضی نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا۔
”سکرپٹ پڑھ لو۔۔۔۔کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔“
فیضی نے دلاسا دیا۔
نین تارا سکرپٹ پڑھنے لگی۔
” آر یو ریڈی۔“
پروڈیوسر اسکے پاس آیا۔
نین تارا نے سر اثبات میں ہلایا۔
” جب آپ سے کہا جاۓ، آپ نے کمرے سے نکلنا ہے، سیڑھیاں اتر کر اس ملازمہ کی انسلٹ کرنی ہے اور پھر باہر نکل جانا۔“
وہ پھرسے سمجھا رہا تھا۔
نین تارا نے سر ہلا دیا۔
گوکہ چہرے پر ہواٸیاں اڑی تھیں۔
❤❤
” احسن اب بھی سوچ لو، ادا کو لے آٶ۔“
چوہدری احرام کاغذات ہاتھ میں لیے بیٹھے تھے۔
” آپ کو جو کرنا ہے کریں۔“
احسن نے سنجیدگی سے کہا۔
” پھر اپنا بستر باندھو اور چلے جاٶ یہاں سے۔“
چوہدری احرام سختی سے بولے۔
” کیا مطلب ہے آپکا۔“
وہ ناسمجھی سے بولا۔
” چچا جان کا حکم ہے تمہیں گھر اور جاٸداد سے عاق کر دیا جاۓ، میں نے تمہارا اکاؤنٹ بھی فریز کروا دیا ہے، اب جاٶ خود کماٶ اور عیاشی کرو۔“
چوہدری احرام نے کاغذات کی ایک کاپی اسکے منہ پہ ماری اور دوسری کاپی لیے حویلی سے نکل گیے۔
“ یہ سب کیا ہے امی۔“
احسن چیخا۔
” تمہاری حرکتوں کا نتیجہ۔“
وہ ناراضگی سے بولیں۔
” آپ کو کیالگتا ہے، آپ کے شوہر نامدار، مجھے جاٸداد سے عاق کر دیں گے تو میں ادا کو لے آٶں گا۔“
وہ ان کے سامنے کھڑا نہاہت بدتمیزی سے گویا ہوا۔
” یہ بھول ہے آپکی بھی انکی بھی اور چوہدری فراز کی بھی، احسن ہوں جھکنا نہیں سیکھا۔“
وہ کاغذات ٹیبل پر پھینکتا کمرے میں چلا گیا۔
اپنے کپڑے نکالے، دراز سے پیسے اور ادا کی جیولری نکالی اور گن بیگ میں رکھے نکل گیا۔
” گاڑی تمہاری نہیں ہے چوہدری احسن۔“
رابعہ بیگم اسکے یچھے آتیں ہوٸیں بولیں۔
” ڈراٸیور مجھے شہر چھوڑ کر آٶ۔“
وہ ڈراٸونگ سیٹ کا دروازہ بند کرتا پیچھے آبیٹھا۔
گاڑی زن سے حویلی سے نکل گٸ۔
”اللہ اسے ہدایت دے کر جلد لوٹا دٕے۔“
رابعہ بیگم نے دعا کی۔
” مما یہ ٹھیک نہیں کیا، بھاٸی اور بگڑ گیےتو۔۔۔۔“
نقوشہ فکر مند لگ رہی تھی۔
” بلکل ٹھیک کیا ہے، انک اکڑ اور غرور بڑھتا جا رہا ہے۔“۔
رعنا نے مداخلت کی۔
” اسکا کوٸی اور حل بھی تو ہو سکتا تھا۔“
نقوشہ نرمی سے بولی۔
” تمہیں غلط لگے گا، تم ٹھری بھاٸی کی چمچی۔“
رعنا جل کر بولی۔
” رعنا بہت ہو گیا۔“
رابعہ بیگم نے گھرکا۔
رعنا منہ بنا ک نکل گٸ۔
❤❤❤
” یہاں کیوں بیٹھی ہے میری گڑیا۔“
نعمان اسے لان میں اکیلا دیکھ کرچلا آیا۔
” احسن کتنا گرا ہوا ہے بھاٸی۔“
ادا دکھ سے بولی۔
” ماموں جان نے اسے گھر سے نکال دیا ہے، جب در در کی ٹھوکریں کھاۓ گا تو احساس ہو جاۓ گا۔“
نعمان نے کہا۔
ادا نے سر جھکا لیا۔
” تم پریشان مت رہا کرو، میرا پچھتاوا بڑھ جاتا ہے۔“
نعمان نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
ادا چپ کر کے بھاٸی کے آغوش میں چھپ گٸ۔
” آپ کا قصور نہیں بھاٸی، میں نے نین تارا کے ساتھ برا کیا تھا۔“
ادا سسکی۔
” نعمان نے اسکا سر تھپکا۔
” جو ہوا اسے بھول جاٶ۔“
نعمان نے نرمی سے کہا۔
” کیا رازو نیاز ہو رہے ہیں۔“۔
ارم وہاں چلی آٸی۔
” آپکی چغلیاں۔“
نعمان شرارت سے بولا۔
ارم کا منہ کھل گیا، جب کہ ادا ہنس دی۔
” نعمان آپ بھی نا۔۔۔۔“
ارم ہنس دی۔
” چلو شکر ہے تم ہنسی تو سہی۔“۔
ارم نے ادا سے کہا۔
” اب تم لوگ باتیں کرو، میں زرا کام سے ہو آٶں۔“
نعمان اٹھتے ہوۓ بولا۔
❤❤❤
” سوچا ہے اب۔۔۔؟“
چوہدری سکندر نے پوچھا۔
” وہ دونوں فلم بنانے میں مگن ہو گیے، رات گیے تک لوٹتے ہیں، وار کرنا مشکل ہو گیا ہے۔“
علی صاف گوٸی سے بولا۔
” تم سے ایک کام نیں ہو رہا۔“۔
چوہدری سکندر کو غصہ آنے لگا۔
” اتنا آسان نہیں ہے آپکا بیٹا ہر جگہ ٹپک پڑتا ہے۔“
علی بلند آواز میں بولا۔
” آواز دھیمی رکھو۔“
وہ سخت لہجے میں بولے۔
علی نے لب بھینچے سر جھٹکا۔
” کچھ کرتا ہوں، اب مجھے چلنا ہو گا۔“
علی ٹاٸم دیکھے اٹھ کھڑا ہوا۔
چوہدری سکندر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
❤❤❤
” تین ماڈلز کے کانٹریکٹ پورے ہو گیے ہیں۔“
علی کو پریشانی نے آگھیرا۔
” نیو ماڈلز مل نہیں رہی، بزنس کیسے چلے گا۔“۔
وہ سخت پریشان لگ رہا تھا۔
” نا کوٸی فنکشن ہی مل رہا ہے، تنخواہیں کہاں سےدوں گا۔“
علی مسلسل سوچ رہا تھا۔
” فیضی کہیں نا کہیں سے ماڈلز لے ہی آتا تھا۔“
علی سوچنے لگا۔
” میں بھی ڈھونڈھتا ہوں۔“
علی نے کچھ سوچا اور آفس سے اٹھ گیا۔
❤❤❤
” آپ ایسے کمرے سے نکلیں گیں، ڈایرکیٹر اسے چل کے دکھا ریا تھا،۔“
نین تارا نے سر ہلا دیا۔
” کم آن۔“
کمرہ مین کے اشارے پر وہ کمرے سے نکلی، اور ایک ادا سے چلتی سیڑھیاں اترنے لگی، ملازمہ تک پہنچتے اسے سکرپٹ بھول گیا۔
” اس سے کیا کہنا تھا۔“
نین تارا گھبراٸی۔
” یہ لیں دوبارہ پڑھ لیں۔“
شاہ ویز نے مسکراکر سکرپٹ اسکی طرف بڑھاٸی۔
نین تارا نے دو تین بار پڑھ کے واپس تھما دی۔
دوبارہ کمرے سے نکلی سیڑھیاں اتری ار ملازمہ کو ڈانٹنے لگی۔
” کٹ۔۔۔۔کٹ۔“
ڈاٸریکٹر کی آواز پر وہ رکی۔
” ایسے نہیں تھوڑا غصے اور ایٹیٹیوڈ سے ڈانٹیں۔“
ذاٸریکٹر نے کہا تو نین تارا پیچ و تاب کھا کے رہ گٸ۔
” تم سمجھو یہ ملازم نہیں علی ہے۔“
فیضی نے سرگوشی میں کہا۔
نین تارا دوبارہ آٸی اور اسے شدید غصے میں ڈانٹنے لگی۔
” پرفیکٹ۔“
ڈاریکٹر نے سین دیکھ کر کہا۔
فیضی مسکرا دیا۔
نین تارا اسکے پاس آبیٹھی۔
“کیسا لگی ایکٹنگ۔۔؟“
فیضی نے پوچھا۔
” بکواس۔“
نین تارا نے منہ بنایا۔
” وہ کیوں۔“
فیضی حیران ہوا۔
” ایک سین بار بار کرواتے ہیں۔“
نین تارا اکتاۓ لہجے میں بولی۔
” کل سانگ کے سینز کے لیے مری جانا ہے، شاہ ویز نے بتایا۔“
فیضی نے اسے آگاہ کیا۔
” مری میں برف باری بھی ہو گی نا۔“
نین تارا پر جوش سی بولی۔
”ہاں۔“
فیضی نے اسے دیکھا۔
نین تارا باتوں میں مگن ہو گٸ۔
” جگنوجگنوکر کے تیرے ملن کے دیپ جلاۓ ہیں۔“
میوزک چلنے لگا تھا۔
فیضی نے اسکے چہرے پر نظرں ٹکا لیں۔
سب جیسے اوجھل ہو گیے تھے، وہ تھا او اسکے سامنے نین تارا۔
اسکی سبز آنکھوں والی بلی۔
فیضی مسکرا دیا تھا۔
سانگ بند ہونے پر وہ ہال میں لوٹا۔
نین تارا سر جھکاۓ موبائل میں مصروف تھی۔
فیضی اپنی بے خودی پر خود ہی مسکرا کر منہ پھیر گیا۔
” محبت پاگل کر دیتی ہے۔“
وہ خودسے ہی مخاطب تھا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *