Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47
No Download Link
605.5K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47
” آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں۔“
وہ نین تارا کے مقابل رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔
”نین تارا۔“
وہ سنجیدگی سے بولی، نظریں آتش دان میں جلتی آگ پر ٹکیں تھیں۔
” بہت یاد کرتا ہے آپکو فیضی۔“
وہ بغور اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
نین تارا کی پلکوں کی گھنی باڑ یکلخت کو اٹھی۔
محسم اسکے عجلت بھرے انداز پر مسکرا دیا۔
” وہ بہت شرمندہ ہے، ہمت نہیں کر پا رہا آپکے سامنے جانے کی۔“
محسم مسکراتے ہوۓ بولا۔
” آپ کیوں نہیں آٸیں تھیں، تاٸی جان کی موت پر۔“
محسم نے پوچھا۔
” میری طبيعت ٹھیک نہیں تھی، میں سلیپنگ پلز لے کر سو گٸ تھی، میری آنکھ نہیں کھلی۔“
وہ ندامت بھرے لہجے میں بولی۔
” پرآپ نے تو کہاسارے چوہدری مر جاٸیں تب بھی نہیں آٶں گی۔“
وہ دونوں کے مابین مسٸلے کو جاننا چاہ رہا تھا۔
” میں ایسا کیوں کہوں گی۔“
وہ دکھ سے کپ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی۔
” مجھے نہیں پتہ فیضی کس بات سے خفا ہ کے چلے آٸیں ہیں۔“
وہ ازیت سے دو چند لہجے میں بولی۔
” وہ اسی بات پر خفا ہوا تھا، تم اسکی ماں کے انتقال پر نہیں آٸی، خود غرض ہو گٸ ہو۔“۔
محسم نے حقيقت سے آشکار کیا۔
” واٹ۔۔۔۔۔“
وہ ششدر سی رہ گٸ۔
”میں ایسا کیوں کروں گی۔؟“
وہ سر ہاتھوں میں گراۓ بھیگے لہجے میں بولی تھی، آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے تھے۔
” انہیں مجھ پر اتنا بھی اعتبار نہیں رہا تھا۔“
بھیگی سبز آنکھوں سے تواتر سے موتی گر رہے تھے۔
چہرے پر کرب کے آثار نمایاں تھے۔
وہ سر ہاتھوں میں گراۓ بیٹھی تھی۔
” آپ پریشان مت ہوں، اسکی غلط فہمی نکالیں گی تو مان جاۓ گا۔“
محسم اسکے شانے پر ہاتھ رکھتے رکھتے رک گیا، وہ یو کے کی بے باک دوشیزہ نہیں تھی۔
” آپ ریسٹ کریں، صبح بات ہو گی۔“
محسم نے کہا اور اٹھ گیا۔
نین تارا کے لیے کمرہ ٹھیک کیا اور اسے کمرے میں جانے کا کہہ کے چلا گیا۔
وہ یک ٹک دکھتے دل سے آتش دان میں بھڑکتی آگ کو تکتی رہی۔۔
” میں نے چھ ماہ میں ایک ایک لمحہ ازیت کی بھٹی میں جل جل کےگزارا ہے اتنی کڑی سزا کاٹی اتنی سی بات کے لیے۔۔۔۔۔“
وہ شکوہ کناں تھی۔
” ایک کال تو کر ہی سکتے تھے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
وہ بہت دکھی لگ رہی تھی۔
دل درد سے بھر گیا تھا۔
” میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی فیضی آپ مجھ سے بدگمان ہو جاٸیں گے۔“
وہ سسکی تھی۔
گیارہ بجے کے قریب محسم کمرے سے نکلا تو نین تارا کو آتش دان کے قریب سسکتے پایا۔
” اوہ گاڈ دونوں ہی ایک سے ایک پاگل ہیں۔“۔
وہ نین تارا کے جھکے سر کودیکھ کر بولا۔
” آپ ابھی تک بیٹھیں ہیں۔“
محسم خفگی سے بولا۔
نین تارا بوکھلا کے سیدھی ہوٸی۔
جلدی سے آنسو صاف کیے اور کھڑی ہو گٸ۔
محسم نے افسردگی سے گہری سبز آنکھوں میں سرخی کے ڈورے دیکھے۔
نین تارا سر جھکاۓ بیگ گھسیٹتی کمرے میں لے گٸ۔
شوز اتارے اور کچھ سوچتے ہوۓ باہر نکلی۔
” ایکسکیوزمی بھاٸی۔“
نین تارا ننگے پیر باہر چلی آٸی، بلیو جینز میں گھٹنوں تک آتی شرٹ اسکے اوپر جیکٹ اور گلے میں مفرل لپیٹے سلکی مہرون بال شانے پر بکھرے ہوۓ تھے۔
” ایک پلز ملے گی۔“
وہ سنجیدگی سے بولی۔
” دونوں مقابلے میں ہو کیا۔“
وہ خاٸف ہوا۔
” مطلب۔۔۔۔؟“
نین تارا ناسمجھی سے بولی۔
” وہ بھی گولی کھاۓ بغیر نہیں سو پاتا اور اب آپ بھی۔۔۔۔“
وہ پانی اور گولی اسے دیتے ہوۓ بولا۔
” یہ نارمل نیند کے لیے ہے۔“
وہ مسکرایا۔
” بہت شکریہ۔۔۔۔“
نین تارا نے وہیں کھڑے گولی نگلی۔
” کب تک ان کے سہارے چلیں گے۔“
وہ کافی کپ میں انڈیل رہا تھا۔
” ازیتوں سے چھٹکارا دیتی ہے، چند لمحے بےخبری میں سکون سے گزر جاتے ہیں۔“
وہ مدھم لہجے میں آہستگی سے بولی اور مڑ کے کمرے میں چلی آٸی۔
پیر ٹھنڈے ہو چکے تھے۔
بیڈ کے پیچھے بنی قد آور کھڑکی سے ہلکا سا پردہ ہٹایا۔
روٸی کے نرم نرم گولوں کی مانند برف باری ہو رہی تھی، اس نے بے دلی سے پردہ گرایا اور لاٸٹ بند کیے لیٹ گٸ۔
نیند نے جلد ہی آگھیرا تھا۔
وہ صبح اٹھا اور تیاری کیے واک کے لیے نکلا۔
محسم اسے جاتے دیکھ مسکرایا۔
” تم نے چلو گے۔؟“
فیضی دروازے پر جا کر مڑا۔
” نہیں۔“
محسم سنجیدگی سے بولا۔
فیضی باہر نکل گیا۔
محسم کچھ سوچتے ہوۓ ٹہلنے لگا اور مڑ کے نین تارا کے بند دروازے کو دیکھا۔
بلآخر اس نے دروازہ بجایا۔
نین تارا کسمساٸی۔
دروازہ دوبارہ ناک ہوا تو وہ بے دلی سے اٹھی۔
” جی۔“
دروازہ کھولتے مندی مندی آنکھوں سے بولی۔
” فیضی واک کے لیے گیا ہے، آپ جانا چاہیں تو ریڈی ہو جاٸیں۔“
محسم رخ موڑے بولا۔
نین تارا کی نیند کھل گٸ۔
وہ بیگ ک ی طرف بڑھی کپڑے نکالے اور فریش ہو کے چینج کر لیے۔
بال سنوار کے شانوں پر چھوڑ دیے اور کیپ لیے باہر نکلی۔
محسم سکے چہرے پر چھاٸی معصومیت ک دیکھ فیضی کو داد دیے بنا نا رہ سکا۔
” یہاں سے راٸٹ لیں اور سیدھا چلتی جاٸیں، وہ آپ کو مل جاۓ گا، گم ہو جاٸیة تو یہ میرا نمبر ہے۔“
وہ دروازے پر کھڑا ہوتا اسے بتانے لگا۔
نین تارا تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
روش کے اطراف میں برف گری ہوٸی تھی۔
وہ آہستہ آہستہ بھاگنے لگی تھی، درختوں کے اوپر اٹکی برف ماحول کو عجب پر اسرار سا بنا رہی تھی۔
اسے جلدہی فیضی نظر آ گیا۔
نین تارا نے رفتار دھیمی کی اور آہستگی سے اسکے ساتھ بھاگنے لگی۔
فیضی نے رخ موڑ کے دیکھا تک نہیں۔۔۔۔
کافی دیر گزرنے کے بعد اسے احساس ہوا تو وہ رک سا گیا۔
نین تارا بنا مڑے رک گٸ۔
فیضی نے اچنبھے سے اسے دیکھا اور وہم سمجھ کر پھر سے رفتار تیز کی۔
نین تارا اسکے ساتھ آہستہ آہستہ بھاگنے لگی۔
فیضی نےگردن موڑے اسے دیکھا۔
نین تارا نے رخ موڑا۔
گہری سبز آنکھیں سیاہ آنکھوں سے ٹکرا گٸیں۔
فیضی کے قدم تھم گیے تھے، وہ وہیں رک گیا۔
بے خودی میں ہاتھ بڑھاۓ نین تارا کی سرخ ہوتی ناک کو چھوا۔
آنسو گہری زبز آنکھوں میں آن ٹھرے تھے۔
” نین۔“
اسکے لب بے ساختگی میں بے قراری سے ہلے تھے۔
“ فیضی۔“
وہ بے چینی سے بولی تھی۔
فیضی کی آنکھیں بھر آٸیں تھیں، وہ رخ موڑ گیا۔
نین تارا بے بسی سے گھٹنوں کے بل گرے کانوں کو پکڑتے ہوۓ گھٹنوں کے بل کھڑی ہوٸی۔
”ایم سوری فیضی فار ایوری تھنگ۔“
وہ سر جھکاۓ مجرمانہ انداز میں بولی۔
اکا دکا لوگ اپنی راہ لیے ہوۓ تھے، کسی نے مڑ کے انہیں دیکھا تک نہیں۔
دور درخت کی اوٹ سے جھنکتے محسم نے سر نفی میں ہلایا۔
” شی از ریٸلی انوسینٹ۔“
وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔
فیضی نے مڑ کے دیکھا تو وہ جھکے ہوۓ تھی۔
فیضی اسکے مقابل گھٹنوں پر کھڑا ہو گیا۔
بھیگی آنکھوں سے اسکے ہاتھ کانوں سے ہٹاۓ اور ان پہ لب رکھ دیے۔
” ایم سوری ٹو۔“
بھیگے لہجے میں بولا۔
نین تارا رو دی۔
فیضی نے پیشانی اسکی پیشانی کے ساتھ لگا دی۔
دونوں بے اختیار رو رہے تھے۔
” مجھ سے غلطی ہوٸی میں نہیں آسکی فیضی۔“
وہ سسکتے ہوۓ بولی۔
” مجھ سے بھی غلطی ہوٸی میں تم سے پوچھ نہیں سکا۔“
فیضی نے اسکا ہاتھ لبوں سے لگایا تھا۔
بے قراری، بے اختیاری اور اتنی شدتوں کے باوجود بھی وہ فاصلہ بناۓ ہوۓ تھے۔
” آپ نے ایک بار بھی نہیں سوچا، میرا کیا ہو گا۔“
وہ ہچکی لیتی ہوٸی معصومیت سے بولی تھی۔
” سوچتا ہی تو آ رہا ہوں، تبھی تو جا نہیں پایا، کیسے سامنا کر لیتا تمہارا۔۔۔۔“
وہ سر جھکاۓ بول رہا تھا۔
نین تارا نے اسکا جھکا سر ٹھوڑی سے پکڑ کر اٹھایا۔
” لڑ لیتے جھگڑ لیتے پر یوں تو نا کرتے آپ۔۔۔۔“
وہ شکوہ کناں ہوٸی تھی۔
” دونوں ایک دم پاگل ہیں۔“
محسم سر ہلاتے ہوۓ ہنسا اور واپس چلا گیا۔
” کہا نا سوری۔“
فیضی اٹھتے ہوۓ بولا۔
نین تارا بھی اٹھگٸ۔
” اٹس اوکے۔“
نین تارا نے آنسو صاف کیے اور اسکے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔
” جب سے یہاں آیا ہوں، میرا سکون کھو گیا ہے نین۔“
وہ بے بسی سے بولا۔
نین تارا کی نظریں اسکے اترے چہرے پر تھیں۔
” تمہیں بے سکون کر کے میں ایک لمحہ بھی نہیں جی پایا۔“
وہ سر جھکاۓ اسکے پیروں کو دیکھ رہا تھا۔
” تمہیں پتہ تھا، مجھے اماں جان سے کتنی محبت تھی تم پھر بھی نہیں آٸی ۔۔۔۔۔۔“
وہ شکوہ کناں نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا۔
” میں بے خبر تھی۔“
وہ ندامت سے بولی۔
” بے خبر تھی تو فضیلہ سے کیوں کہا کہ سارے چوہدری مر جاٸیں پھے بھی نہیں آٶں گی۔“
وہ سنجیدہ لگ رہا تھا۔
” میں بھی ایک چوہدری ہوں، کیا میرے مرنے پر بھی۔۔۔۔“
نین تارا نے جملہ مکمل ہونے سے پہلے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔
” میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔“
وہ بہتی آنکھوں سے بولی۔
” میں نے فضیلہ سے کچھ نہیں کہا، جب انکی ڈیتھ ہونے پر وہ حویلی گیے میں نیند کی گولی لے کر سو رہی تھی، مجھے کچھ خبر نہیں تھی، فرسٹ ٹائم گولی کھاٸی تھی نیند نے بے خبر کر دیا تھا۔“
وہ بیچارگی سے بولی۔
فیضی نے سنجیدگی سے ادے دیکھا۔
نین تارا اسے لاچاری سے دیکھ رہی تھی۔
” اوکے۔“
فیضی نے سر اثبات میں ہلایا۔
دونوں باتیں کرتے گھر چلے آۓ۔
محسم ناشتہ تیار کر چکا تھا۔
” آپ نے کیوں بنایا بھاٸی، میں بنا لیتی۔“
نین تارا شرمندہ سی بولی۔
” فیضی جوتے نہیں کھانے تھے مجھے صبح صبح۔“
محسم ہنستے ہوۓ بولا۔
فیضی نے ہنستے ہوۓ اسکی کمر پہ مکا رسید کیا۔
” اف ظالم انسان ریڑھ کی ہڈی توڑنی ہے۔“۔
وہ دردسے بلبلایا
نین تارا ہنس دی۔
” دفع کرو اسے تم ناشتہ کرو، یہ تو ہے ہی ڈرامے باز۔“
فیضی نین تارا سے مخاطب تھا۔
محسم کا منہ کھل گیا۔
” اٶۓ احسان فراموش۔۔۔یہ جو یہاں تم دونوں بیٹھے ہو نا میری وجہ سے بیٹھے ہو۔“
محسم نے جتایا۔
” اوہ ۔۔۔۔سمجھ گیا۔“
فیضی نے کہا اور جیب سے دس ڈالر نکال کے اسکے آگے رکھے۔
” ٕیہ رہا تمہارا انعام۔“
فیضی شرارت سے بولا۔
” کمینے میں تجھے بھکاری لگتا ہوں، چھ ماہ سے تیری سڑی ہوٸی سگریٹ جیسی شکل دیکھی اور آج دیکھ کیسے سڑی سگریٹ کے پر نکل آۓ ہیں۔“
محسم فیضی کے بازو پیچھے لگاتے ہوۓ بولا۔
نین تارا ہنس ہنس کے دوہری ہو ہی تھی۔
فیضی کی نظر اسکی ہنسی پر پڑی تو دنیا جیسے رک سی گٸ تھی۔
وہ یک ٹک بے خودی سے اسے تکے گیا۔
محسم نے جھٹکادیاتو وہ کراہ کے ہوش میں آیا۔
ڈور بیل بجی تو محسم اسے چھوڑتے ہوۓ دروازے کی طرف بڑھا۔
“ بدتمیز ڈاکٹر۔“
فیضی نے ہیچھے ہنکارا بھرا۔
محسم نے دروازہ کھولا تو ریچل کھڑی تھی۔
محسم نے راستی دیا تو وہ مسکراتی ہوٸی اندر داخل ہوٸی۔
” ہاۓ فیضی۔“
ریچل خوشگواریت سے مسکراٸی۔
” ہاۓ۔“
فیضی خوشدلی سے مسکرایا۔
نین تارا نے حیرت سے دیکھا۔
” ریچل۔۔۔۔محسم کی گرل فرینڈ۔“
فیضی شرارت سے محسم کودیکھتے ہوۓ نین تارا کو دیکھنے لگا۔
نین تارا مسکرا دی جبکہ محسم نے مکا بنا کی فیضی کی کمر میں جڑا۔
” حقيقت بتاٸی نا میں نے نین تارا کو تمہاری بتیسی اندر ہوجاۓ گی۔“
محسم نے دھمکی لگاٸی۔
” بڑے کمینے ہو، خوش نا ہونے دینا“
فیضی خفگی سے بولا۔
ریچل کرسی کھینچتے بیٹھ گٸ۔
” شی از نین تارافیضان سکندرز جی ایف اینڈ سینسیرلی لو۔”
محسم نے تعارف کروایا۔
ریچل کو چہرہ اترا ضرور تھا پر وہ سنبھل گٸ۔
ناشتہ خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔
دونوں کا ایک دوسرے کی آنکھوں کے سامنے آجانا ہی کافی ہوا تھا۔
سچی محبتیں زیادہ صفاٸیاں نہیں مانگتیں، جداٸی کی تپش سے چھٹکارا پانے کو چند جملے ہی کافی ہوتے ہیں۔
بدگمانیوں کے بادل چھٹے تو ہنسی اور کھلکھلاہٹیں اپنے آپ لوٹ آٸیں۔
دنیا مافیا سے بے نیاز وہ باتوں میں مگن تھے۔
محسم نے دل سے انکی داٸمی مسکراہٹوں کی دعا کی۔
جاری ہے
