Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15

” یہ آخری ہے یار۔۔۔۔“
علی نے سنجیدگی سے نین تارا کے بالوں کودیکھا۔
” اس کی طرف دیکھنا بھی مت، یہ شہر کی تیز طرار لڑکی نہیں ہے، گاٶں کی معصوم سی لڑکی ہے۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا۔
” واٶ۔۔۔۔۔گاٶں میں بھی ایسا حسن۔“
علی کی نظریں مسلسل نین تارا پر تھیں۔
فیضی نے علی سے زرا ہٹ کے ڈراٸیور کو کال کی اور نین تارا کی طرف بڑھ گیے۔
” تارا آر یو اوکے۔“
فیضی اسے پریشان دیکھ کر بولا۔
” ییس ایم اوکے۔“
نین تارا نے مسکرانے کی کوشش کی۔
” تھک گٸ ہو کیا۔۔۔؟“
فیضی نے پوچھا۔
نین تارا نے اثبات میں سر ہلایا۔
” چلو آٶ میرے ساتھ۔۔۔۔“
فیضی اسے لیے ریزارٹ سے نکلا۔
” فیضی۔“
ادا بھی اسکے پیچھے چلی آٸی۔
” گھر جا رہے ہو، مجھے بھی لے جاٶ، بہت تھکن محسوس ہو رہی ہے۔“
ادا تھکے تھکے لہجے میں بولی۔
” میں نے ڈراٸیور کو کال کی ہے، نین تارا جا رہی ہے اسکے ساتھ چلی جاٶ۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
” خفا ہو مجھ سے۔“
ادا نے فیضی کا بازو تھاما۔
” نہیں۔“
فیضی نے نرمی سے بازو ہٹایا۔
” فیضی جا رہے ہو۔۔؟“
علی ان کے پاس چلا آیا۔
فیضی نے لب بھینچے۔
” نہیں نین تارا جا رہی ہے۔“
فیضی نے غصہ ضبط کیا۔
” کس کے ساتھ۔۔۔؟“
علی نے دلچسپی سے نین تارا کو دیکھا۔
” ڈراٸیور کے ساتھ۔“
ادا مسکرا کے بولی۔
” میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔“
علی نے فوراً آفر کی۔
” ہاں یہ بھی ٹھیک ہے، تارا تم علی کے ساتھ چلی جاٶ۔“
ادا جھٹ سے بولی۔
” ہاں میں بھی گھر جا رہا ہوں۔“
علی نے سہولت سے کہا۔
” نہیں۔۔۔۔نین تارا کہیں نہیں جا رہی، آٶ تارا۔“
فیضی منع کرتا اندر چلا آیا۔
” چلیں پھر ہم نے جا کرکیا کرنا۔۔۔۔“
علی ہنستا ہوا ان کے پیچھے چلا آیا۔
فیضی کا بس نہیں چل رہا تھا، نین تارا کو کہیں چھپا دے۔
ادا اور علی باتیں کرتے واپس آگیے۔
” معزز مہمان گرامی۔“
سکندر صاحب نے ماٸک سنبھالا۔
سب کی توجہ اس طرف ہو گٸ۔
” آج چونکہ میری پوتی کی سالگرہ تھی تو میں نے سوچا کیوں نا اس خوشی کو دوبالا کر لیا جاۓ۔“
چوہدری سکندر نے سب کی طرف دیکھا۔
” فیضی ادھر آٶ۔“
انہوں نے فیضی کو بلایا۔
فیضی نا سمجھی سے چلتا ہوا ان کی طرف بڑھ گیا۔
” ادا بیٹا کم ہیر۔“
ادا کو بھی بلالیا۔
” جیسا کہ سب جانتے ہیں، فیضی اور ادا ایک دوسرے سے منسوب ہیں، میں چاہتا ہوں آج یہ اس ریزارٹ سے اہک دوسرے کے ہمسفر بن کے نکلیں۔“
سکندر کے الفاظ فیضی پر ہتھوڑے بن کے برسے۔
” بابا جان۔“
فیضی نے حیرت سے دیکھا۔
” تم چپ رہو، تمہاری حرکتیں یہاں تک لاٸیں ہیں۔“
ماٸیک نیچے کیے وہ سختی سے بولے۔
ادا مسکرا رہی تھی۔
” آج یہیں انکی نکاح کی تقریب ہوگی اور یہیں سے رخصتی بھی ہو گی۔“
چوہدری سکندر کے اعلان پر فیضی چکرا کررہ گیا تھا۔
” بابا جان میں ابھی شادی نہیں کر سکتا۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا۔
” میں اعلان کر چکا ہوں۔“
چوہدری سکندر نے کہا۔
” میں جا رہا ہوں، مجھے نہیں کرنی شادی اس لڑکی سے جسے مجھ پہ اعتبار تک نہیں۔“
فیضی کہہ کے ریزارٹ سے نکل گیا۔
نین تارا بھاگتے ہوۓ اسکے پیچھے گٸ۔
” فیضی۔“
نین تارا نے آواز دی پر فیضی گاڑی بھگا لے گیا۔
” فیضی چلا گیا۔“
علی نین تارا کو پریشان دیکھ کر بولا۔
نین تارا بنا جواب دیے بار بار فیضی کا نمبر ڈاٸل کر رہی تھی۔
” آٸیں میں آپ کو ڈراپ کر دوں۔“
علی نے کہا تو نین تارا سوری کیے ایک ساٸڈ پر آگٸ۔
ریزارٹ کی پارکنگ میں وہ ادھر سے ادھر ٹہلنے لگی۔
” ہیلو فیضی۔“
نین تارأ جلدی سے بولی مبادا کال نا کاٹ دے۔
” ڈراٸیور بھیج رہا ہوں، آجاٶ۔“
فیضی نے کہہ کے کال ڈسکنکٹ کر دی۔
نین تارا نے غصے سے موبائل کو دیکھا۔
علی اسے تکے جا رہا تھا۔
” آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں، پہلے کبھی ایسا معصوم حسن میری بصارت سے نہیں گزرا۔“
علی بازو سینے پر باندھے عاشقانہ انداز میں بولا۔
نین تارا ڈر گٸ۔
” بھیج دیا اسے، مل گیا سکون۔“
ادا درشتی سے بولی۔
” میں نے نہیں بھیجا، وہ اپنی زندگی میں آزاد ہے۔“
نین تارا نے دوبدو جواب دیا۔
” ادا وہ واقعی خود گیا ہے، اس میں ان کا کیا قصور۔“
علی نے نین تارا کی طرف داری کی۔
” تم پربھی اسکی اداٶں کا جادو چل گیا۔“
ادا تمسخرانہ لہجے میں بولی۔
” واٹ ڈو یو مین باۓ دیٹ۔“
علی کو برا لگا۔
” واہ نین تارا۔۔۔۔۔تم اتنے فاسٹ ہو، پہلے فیضی، پھر نعمان بھاٸی اور اب علی۔۔۔۔۔کسی کو تو بخش دو۔“
ادا تلخ لہجے میں چبا چبا کر بولی۔
” یہ تمہارے دماغ کا فطور ہے، میرے اور فیضی کے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے۔“
نین تارا نے نرمی سے کہا اور رخ موڑ گٸ۔
” وہ تمہاری وجہ سےمجھے یوں بیچ خاندان کے بے عزت کر کے گیا ہے۔“
ادا نے جھپٹ کے نین تارا کا بازو مروڑ کے پیچھے لگا دیا۔
” ادا لیو ہر۔“
علی نے بمشکل ادا کو پیچھے کیا۔
” میں منہ نوچ لوں گی تمہارا نین تارا۔“
ادا کا صبر جواب دیا گیا وہ نین تارا کو جان سے مار دینا چاہتی تھی۔
” تمہاری وجہ سے فیضی مجھ سے دور ہوا۔“
ادا پھٹ پڑی تھی۔
” اسکی وجہ سے علی، اسکی وجہ سے فیضی نے آج مجھے ٹھکرایا ہے۔“
ادا چیخ رہی تھی۔
” کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟“
ادا کی آواز سن کر سب دوڑے چلے آۓ۔
” میری زندگی برباد کر دی اس نے۔“
ادا روتے ہوۓ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتی چلی گٸ۔
” ادا بچے کیا ہوا۔۔۔؟“
جہاں آرا بیگم اسکی طرف بڑھیں۔
” میرے بابا ہوتے تو آج فیضی یوں نا جاتا۔“
وہ روتے ہوۓ جہاں آرا کے گلے لگ گٸ۔
” ممانی اس سب کی وجہ یہ ہے، میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی۔“
ادا بھپری ہوٸی شیرنی کی طرح اسکی طرف بڑھیَ، علی نین تارا کے آگے آگیا۔
” ادا رکو۔“
چوہدری سکندر کی آواز پر ادا رک گٸ۔
” کون ہے یہ۔۔۔؟“
وہ نین تارا کی طرف متوجہ ہوۓ۔
” حویلی کی ملازمہ ۔۔۔نین تارا۔“
ادا دانت پیس کے بولی۔
نین تارا نے سر جھکالیا۔
علی حیران پریشان نین تارا کے جھکے سر اور مجسمہ حسن لگتے سراپے کو دیکھ کر رہ گیا۔
” اس کم زات کی اتنی ہمت ہماری خاندانی تقریب میں چلی آٸی۔“
جہاں آرا بیگم نے اسکے مہرون بال ہاتھوں میں جکڑ لیے۔
” آنٹی پلیز چھوڑیں۔“
علی چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا۔
” بول جاہل نیچ زات۔“
انہوں نے نین تارا کو دھکا دیا اور وہ روش پر جا گری۔
”تمہاری فیملی نین تارا کے ساتھ بہت برا سلوک کر رہی ہے۔“
علی نے فیضی کو میسیج کیا۔
” تم جیسی بدکردار لڑکیاں معاشرے کا ناسور ہیں، جو کتنے گھر اجاڑ دیتی ہیں۔“
وہ اسے پیروں سے زدو کوب کر رہیں تھیں۔
خاندان کا کوٸی مرد یا عورت اس ناروا سلوک پر آگے نہیں بڑھا۔
” فیضی جو کہ گھر جا رہا تھا علی کے ٹیکسٹ ملنے پر گھبرا گیا اور فوراً گاڑی گھماٸی۔
” آنٹی پلیز بس کریں۔“
علی انہیں روکنے کی مسلسل کوشش کر رہا تھا۔
” ہٹ جاٶ، تم جیسے مردوں کو بے وقوف بنا کےلوٹتی ہیں یہ، اتنا بناٶ سنگھار مفت میں تو نہیں ہو گیا۔“
انہوں نے علی کی کلاس لے لی۔
” تمہاری اوقات ایک ملازمہ کی ہے، اور بننے چلی ہے مالکن۔“
وہ اسے بالوں سے پکڑ کر اٹھاتے ہوۓ بولیں۔
” بول کیا کیا ہے فیضی کے ساتھ۔“
وہ اسکے بال جھٹکتے ہوۓ بولیں۔
” میں نے کچھ نہیں کیا، میرا یقین کریں بڑی بی بی جی۔“
نین تارا درد سٕے روتے ہوۓ بولی۔
فیضی نے ریزارٹ پارکنگ میں گاڑی روکی۔
” جھوٹ بولتی ہے۔“
انہوں نے تھپڑ رسیدکیا نین تارا گرنے لگی تھی جب دو مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا۔
” ایک ویل ایجوکیٹیڈ خاندان سے اس قدر جہالت کی امید نہیں تھی۔“
فیضی نے غصے سے سب کی طرف دیکھا اور نین تارا کو کھڑا کیا۔
” زبان کو لگام دو فیضی۔“
چوہدری سکندر دھاڑے۔
”جہاں غلط ہوگا، میرے زبان کبھی نہیں رکے گی بابا جان۔”
فیضی نے دو بدو جواب دیا۔
” تم ایک نوکرانی کے لیے اپنے والدین سے بدکلامی کرو گے فیضی۔“
اسکا چچا زاد احسن بولا۔
” میں ہر اس شخص کے خلاف سٹینڈ لوں گا جو غلط کرے گا۔“
فیضی نے انگارہ ہوتی آنکھوں سے سب کی طرف دیکھا اور نین تارا کو گاڑی میں بٹھایا۔
” آپ نے ایک معصوم بے گناہ لڑکی پر ہاتھ اٹھا کے اچھا نہیں کیا ماں۔“
فیضی دکھ سے بولا۔
” آپ کا بیٹا کسی نے نہیں ورغلایا، ہاں نین تارا کے آنے سے ادا کی اوقات مجھ پر ظاہر ہو گٸ ہے۔“
فیضی سختی سے بولا۔
” فیضی زبان سنبھال کے بات کرو۔“
نعمان غضب ناک لہجے میں بولا۔
فیضی نے ایک نظر سب کے چہروں پر ڈالی اور گاڑی میں بیٹھ گاڑی دوڑا لی۔
علی نے بھی اسکے پیچھے گاڑی نکالی اور فیضی کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔
❤❤❤
نین تارا کے بہت چوٹیں آگٸیں تھیں۔
فیضی اسے تھامے لاٶنج میں لے آیا۔
” یہاں بیٹھو۔“
اسے صوفے پر بٹھاۓ فیضی گلاس میں پانی انڈیل رہا تھا جب علی اندر داخل ہوا۔
نین تارا ہچکیاں لیتے پانی پینے لگی۔
“ تمہیں کہا بھی تھا، ڈراٸیورکے ساتھ آجاٶ۔“
فیضی نرمی سے بولا۔
” میں کہہ رہی تھی، مجھے نہیں جانا۔“
نین تارا ہچکیاں لیتے ہوۓ بولی۔
” ایم سو سوری۔“
فیضی شرمندہ ہوا۔
نین تارا مسلسل ہچکیاں لے رہی تھی۔
” پلیز رونا تو بند کرو۔“
فیضی نے کہا تو ادا نے آنسو صاف کیے۔
” تم وہاں پر روک بھی تو سکتے تھے ماں کو۔“
فیضی کارخ علی کی طرف ہوا۔
”میں جب بھی روکتا وہ مجھ پر برس پڑتیں تھیں۔“
علی تپا بیٹھا تھا۔
” تمہاری فیملی میں زرا بھی انسانیت نہیں ہے۔“
علی نین تارا کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔
فیضی نے لب بھینچ لیے۔
” تم کر لیتے ادا سے شادی، تمہارے انکار کاسارا الزام اس بیچاری پہ آیا ہے۔“
علی اب فیضی پر برس رہا تھا۔
”علی وہ میرے ساتھ نہیں چل سکتی، اتنی شکی مزاج عورت کے ساتھ زندگی گزارنے سے بہتر ہے بندہ زہر کھا لے۔“
فیضی نےکہا اور لاٶنج سے نکل گیا۔
تھوڑی دیر بعد پلٹا تو اسکے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ کٹ تھی۔
نین تاراکا بازو پکڑ کے روٸی سے صاف کرنے لگا۔
فیضی نے نین تارا کے چہرے کی طرف دیکھا جس پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے، میک اپ خراب ہو چکا تھا، آٸی لاٸینر اور مسکارا پھیل کر اسے عجیب شکل دے رہےتھے۔
” ہرانسان کی سیلف ریسپیکٹ ہر چیز سے اہم ہوتی ہے، تمہیں اپنی سیلف ریسپیکٹ کو خود ہرٹ ہونے سے بچانا پے تارا۔“
فیضی نے اسکی رگڑوں پر آٸیمٹمنٹ لگاٸی۔
” سمجھ رہی ہو نا میں کیا کہہ رہا ہوں۔“
فیضی نے اسکی گہری سبز آنکھوں میں جھانکا۔
نین تارا نے نفی میں سر ہلایا۔
علی اسکی معصومیت پر مسکرا دیا۔
”آپ کو اپنی خود سب سے اپنی عزت کروانی ہے، کسی کو یہ حق نہیں دینا،وہ آپ کی انسلٹ کرے۔“
علی نے آسان لفظوں میں کہا۔
” آج اگر آپ تن جاتیں تو میرا نہیں خیال دوبارہ کوٸی آپ کو ہرٹ کرنے کی ہمت کرتا۔“
علی نے اسکے بکھرے بکھرے بالوں کو دیکھا۔
” میں واپس جانا چاہتی ہوں فیضی۔“
نین تارا روتے ہوۓ بولی۔
” کیوں۔“
فیضی کی پیشانی پر بل پڑے۔
” میری وجہ سے سب آپ کے خلاف ہو رہے ہیں۔“
نین تارا آنسو بہاتے بھراۓ لہجے میں بولی۔
” ہاٶ سویٹ۔“
علی شرارت سے مسکرایا۔
” شٹ اپ۔“
فیضی نے علی کو گھور کے دیکھا تو علی کا جانداز قہقہہ لاٶنج میں گونجا۔
نین تارا نے حیرت بھری نظروں سے علی کو دیکھا۔
” اسے چھوڑو۔۔۔یہ تو کھسکا ہوا ہے۔“
فیضی علی کی طرف دیکھا۔
” جا کے چینج کرو اور سو جاٶ۔“
فیضی نے حکم دیا۔
” صبح گاٶں چھوڑ آٸیں گے پھر۔“
نین تارا نے فیضی کی طرف دیکھا۔
” نین تارا جاٶ۔“
فیضی نے سختی سٕے کہا تو نین تاراآنکھوں میں آنسو لیے کمرے میں چلی گٸ۔
” میں صبح واپس چلی جاٶں گی، فیضی کو میری وجہ سے سب سے لڑنا پڑ رہا ہے۔“
وہ کپڑے نکالتے ہوۓ بڑبڑا رہی تھی۔
کپڑے لیے اور وش روم میں گھس گٸ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *