Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary NovelR50764 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20
No Download Link
605.6K
51
Rate this Novel
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode01 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode02 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode03 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode04 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode05 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode06 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode07 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode08 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode09 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode10 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode11 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode12 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode13 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode14 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode15 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode16 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode17 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode18 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode19 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20 (Watching)Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode21 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode22 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode23 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode24 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode25 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode26 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode27 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode28 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode29 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode30 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode31 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode32 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode33 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode34 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode35 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode36 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode37 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode38 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode39 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode40 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode41 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode42 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode43 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode44 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode45 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode46 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode47 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode49 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode50 Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Last Episode
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20
Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode20
فیضی صبح اٹھا تو کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا۔
اتنے میں دروازے پر دستک ہوٸی وہ جان گیا تھا کون ہے۔؟
نین تار فریش سی جوس ہاتھ میں لیے حاضر ہوٸی۔
” گڈ مارننگ۔“
وہ خوشگواریت سے مسکراٸی تو ہلکی گلابی لپ اسٹک سے مزین خوبصورت ہونٹوں کا کٹاٶ مسکراہٹ کی خوبصورتی دو چند کر گیا۔
” مارننگ۔“
فیضی اسکی خوبصورتی کو نظر بھر کر دیکھتے بازو فولڈ کر کے سر کے نیچے رکھ لیا۔
” طبعیت کیسی ہے اب۔۔؟“
نین تارا جوس گلاس میں انڈیلتے ہوۓ بولی۔
” ٹھیک ہوں۔“
وہ اسکے بالوں پرنظریں ٹکاۓ ہوۓ تھے۔
” نین تارا۔۔۔!!!“
فیضی بے خودی سے بولا۔
” جی۔“
نین تارا فوراً بول اٹھی۔
” وہ تم علی سے دور رہنا، اسکے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے مجھے۔“
فیضی سنبھل کر بولا۔
” اوکے۔“
نین تارا نے سر ہلا دیا۔
” اس فوٹو شوٹ کے بعد تمہیں بہت سی آفرز ملیں گیں۔“
فیضی جوس کا سپ لینے کو رکا۔
نین تارا بغور سن رہی تھی۔
” تم ہر آفر ایکسیپٹ کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ لینا۔“
فیضی نے اسکے چہرے کو نگاہوں میں رکھا۔
” بہت پیاری لگ رہی ہو۔“
وہ بے اختیار بول اٹھا۔
نین تارا نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔
” میں تمہیں کبھی ماڈلنگ کرنے نہیں دیتا، تمہارا سٹینڈرڈ ہاٸی کرنے کے لیے یہ کڑوا گھونٹ بھرنا ہوگا۔“
فیضی آنکھیں بند کیے سوچ سکا۔
” ناشتہ بنواٶں۔؟“
نن تارا کی پکار پر اس نے آنکھیں کھولیں۔
” ہاں بنوا لو۔۔۔۔۔“
فیضی بولتے ہوۓ اٹھا اور کپڑے لیے واش روم میں گھس گیا۔
تیاری کی اور ناشتے کے لیے آگیا۔
نین تارا علینہ کے ساتھ محو گفتگو تھی۔
” آفس جاٸیں گے۔۔۔۔؟“
نین تارا نے اسکی تیاری دیکھی۔
” ہاں تمہاری پکس کلیکٹ کرنی ہیں۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
نین تارا اسے سرو کرنے لگی اور پھر اپنے لیے ناشتہ نکالنے لگی۔
ناشتے کے بعد دونوں آفس کے لیے نکل آۓ۔
فیضی کے پہنچنے کے سے قبل ہی جاسم اسکے انتظار میں تھا۔
” السلام وعلیکم مارننگ سر۔“
جاسم اٹھتے ہوۓ بولا۔
نین تارا دروازے سے ہی پلٹ کر پریکٹس ایریا میں چلی گٸ۔
” وعلیکم السلام۔۔۔ہیو آ سیٹ پلیز۔“
فیضی بیٹھتے ہوۓ بولا۔
جاسم نے پکس اسکی طرف بڑھا دیں۔
” تھینکس اور یہ رہی آپکی پیمنٹ۔“
فیضی نے مسکرا کر کہا اور لفافہ اسکی طرف بڑھا دیا۔
” تھینکس آلوٹ۔“
جاسم اجازت لیتا چلا گیا۔
فیضی نیو فیشن کیچور ویکس کی ڈیٹس دیکھنے لگا اور پھر کچھ سوچ کے اپنے پروڈیوسر فرینڈ کو نین تارا کی کچھ کلکس میل کر دیں۔
” ہو از دس بیوٹیفل ماڈل فیضی۔“
پروڈیوسر کا میسیج آگیا اور ساتھ ہی فیضی کا موبائل تھرتھرانے لگا۔
” ہیلو فیضان سکندر ہیر۔“
فیضی نے کہا۔
” میں شاہ ویز بات کررہا ہوں بڈی۔“
پروڈیوسر نے تعارف کروایا۔
” اوہ شاہ ویز ۔۔۔کیسے ہو یار۔“
فیضی نے پہچانتے ہوۓ کہا۔
” میں ٹھیک تم سناٶ۔۔۔پہچاننے سے بھی گیے۔“
شاہ ویز شکوہ کر گیا۔
” سوری فار دیٹ۔“
فیضی نرمی سے بولا۔
” کس کی پکس بھیجی ہیں۔؟“
شاہ ویز مدعے پر آیا۔
” شی از نیو ماڈل۔۔۔نین تارا۔“
فیضی رسانیت سے بولا۔
” اوہ گڈ۔“
شاہویز چہکا۔
” پر وہ ایکٹنگ نہیں کرتی۔“
فیضی نے ٹیبلپر کہنیاں رکھیں۔
” کروا لیں گے، اٹس ناٹ ڈیفیکلٹ۔“
شاہ ویز نےنارملی کہا۔
” اوکے۔۔۔۔کوٸی نیو فلم ہو تو بتانا۔“
فیضی نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
” ہاں فلم تو ہے۔۔۔۔“
شاہ ویز کی آواز ابھری۔
” ہیرو ڈھنگ کا ہو۔۔۔۔“
فیضی نے کہا تو شاہ ویز ہنس دیا۔
” تم آجاٶ۔۔۔۔“
شاہ نواز نے آفر کی۔
” آٸیڈیا برا نہیں ہے۔“
فیضی نے ہنستے ہوۓ کہا۔
” سچ میں فلم سپر ہٹ ہو جاۓ گی اگر تم ہیرو کے لیے مان جاٶ۔“
شاہ ویز سنجیدگی سے بولا۔
” پھر ایسا کرو کے فلم کو پینڈنگ کردو۔۔۔۔۔یہ فلم میں اور نین تارا ہی بناٸیں گے۔“
فیضی نے گرین سگنل دے دیا۔
” اوۓ سچ کہہ رہے ہو۔“
شاہ ویز کو یقین ہی نہیں آیا، کتنی بار وہ منتیں کر چکا تھا اسکی پر فیضی صاف انکار کرتا رہا۔
” ہاں یار۔“
فیضی ہنسا۔
” اوکے باۓ۔۔۔۔میں بزی ہوں۔“
فیضی نے علی کو آتے دیکھ کال کاٹ دی۔
” تم آ گیے آفس۔۔۔؟“
علی کو حیرت نے آگھیرا۔
” ہاں طبعیت ٹھیک ہو گٸ تھی، نین تارا نے بہت خیال رکھا۔“
فیضی کام میں مصروف دکھتے ہوۓ سرسری سا بولا۔
علی نے لب بھینچ لیے اور کرسی پر جا بیٹھا۔
فیضی نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔
” نین تارا سے کنٹریکٹ ساٸن کروا لو۔۔۔۔“
علی سنجیدگی سے بولا۔
” نہیں وہ کنٹریکٹ بیس پر کام نہیں کرے گی ہمارے ساتھ۔“
فیضی نے کہا تو علی نے پلکیں سکیڑی۔
”کیا مطلب۔۔۔۔اتنا پیسہ فضول میں لگا رہے ہیں۔“
علی فاٸل پھنکتے ہوۓ اٹھا۔
” تمہارا ایک بھی پیسہ نہیں لگا اس پہ۔“
فیضی رسانیت سے بولا۔
” تم کہنا کیا چاہتے ہو، نین تارا صرف تمہاری ماڈل ہے۔“
علی تیز لہجے میں بولا۔
فیضی اسکے اس لہجے کے لیے تیار تھا۔
” نہیں ۔۔۔میں اسے باٶنڈ نہیں کرنا چاہتا، جو پیسہ اس پہ لگا رہا ہوں وہ مجھے دے دے گی۔“
فیضی نرمی سے بولا۔
” جو ٹائم میں نے ویسٹ کیا عالیہ نے ویسٹ کیا اور میک اپ آرٹسٹ نے ویسٹ کیا اسکا کیا۔“
علی بلند آواز میں بولا۔
” عالیہ بھی منتھلی سیلری لیتی ہے اور میک آرٹسٹ بھی، میں نے انسے جو مرضی کرواٶں۔“
فیضی کی پیشانی پر بل پڑ گیے۔
” میں تم سے سیلری نہیں لیتا۔“
علی ٹیبل پہ ہاتھ رکھے، آگے کو جھک کے بولا۔
” تم میرے دوست ہو، فیور میں اتنا تو کر سکتے ہو۔“
فیضی آرام سے بولا۔
علی پیچ و تاب کھا کے رہ گیا۔
” دوستی میں بغاوت نہیں ہوتی علی، لیکن تم کرنے کی کوشش کر رہے ہو، فیضی نوالہ کان میں نہیں ڈالتا جو اسے تمہارے بدلے لہجے کا علم نا ہو۔“
فیضی سنجیدگی سےاسکی طرف بڑھااور ٹاٸی ٹھیک کرتے ہوۓ بولا۔
علی نے لب بھینچ لیے۔
” یوں میری پیٹھ میں چھرا نا گھونپو اسکے لیے، جو شاید تمہیں جانتی تک نہیں۔۔۔۔“
فیضی نے کہا تو علی نے اسکی طرف دیکھا۔
” کیا تم پسند نہیں کرتے اسے۔۔۔۔؟“
علی نے تلخی سے الٹا سوال داغا۔
” میں ابھی خود کشمکش میں ہوں تمہیں کا بتاٶں۔۔۔۔“
فیضی ٹیبل پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
” میرے پسند کرنے سے کیا ہونا، ہوگا وہی جو وہ چاہے گی۔“
فیضی یاسیت سے بولا۔
” میں اسے منا لوں گا۔“
علی گویا عقل و شعور سے بیگانہ ہو گیا تھا۔
فیضی نے افسوس سے اسے دیکھا۔
” جاٶ ایک ماہ میں منا لو۔۔۔۔۔مان گٸ تو ٹھیک ورنہ کبھی تنگ مت کرنا اسے۔“
فیضی نے ڈوبتے دل کے ساتھ اسے اجازت دی۔
” اسے میرے اپارٹمنٹ میں شفٹ کردو۔۔۔“
علی نے جھٹ سے کہا۔
فیضی نے نفی میں سر ہلایا۔
” تمہارے ہوتے وہ کبھی میری نہیں ہو سکتی۔“
علی نے تیز لہجے میں کہا۔
” جو محبت عقل و شعور سے بیگانہ کردے، اس پہ غور کرلینا چاہیے، کہیں محبت کے لباس میں حوس تو نہیں۔۔۔۔۔۔“
فیضی سنجیدگی سے کہتا اپنی سیٹ پہ آ گیا۔
” ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔تم میرے ماضی کے طعنے نا دو۔“
علی درشتی سے بولا۔
”اپنے لہجے پر قابو رکھو۔“
فیضی نے گویا سختی سے کہا۔
پوری حویلی میں روشنیاں کا سمندر امنڈ آیا تھا، ہرطرف افراتفری کا عالم تھا۔
پیلے جوڑے میں ملبوس ادا سوگوار سی بالکونی میں کھڑی چہل پہل کو دیکھ رہی تھی۔
آنکھیوں کے گوشے نم ہونے لگے تھے۔
” ہماری شادی اتنی دھوم دھام سے ہوگی فیضی، زمانہ یاد رکھے گا، کیوں بھابھی۔“
اپنے ہی لفظوں کی بازگشت سماعت سے ٹکراٸی تو ہونٹوں پر یاسیت بھری مسکراہٹ آن ٹھری جو آتے سمے آنکھوں کی منڈیر پر موتی بھر لاٸی۔
” فیضی تم نے مجھے رلایا ہے۔“
وہ ہاتھ کی پشت سے آنسو رگڑتے ہوۓبولی۔
” تم بھی روٶ گے اپنی محبت کے لیے۔“
دل سے بدعا نکلی تھی۔
نیچے لان میں چہکتی لڑکیاں ہنستی عورتیں اسکے پہاڑ جیسےدکھ سے بےخبر خوشیاں منا رہیں تھیں،داٸیں جانب ڈھولکی پر راگ الاپتی عوتیں گلے پھاڑ رہیں تھیں۔
” چھلا میرے جی او ڈھولا کوٸی چلدا وے زور ہوندا۔
تیرے پیچھے کیوں رلدے جے کوٸی تیرے جیا ہور ہندا۔“
گاٶں کی عورتیں ایک آواز میں گا رہیں تھیں۔
ادا کی آنکھیں بہہ نکلیں۔
” امی جان۔۔۔۔۔۔“
وہ وہیں بالکونی میں بیٹھ کے رو دی۔
” چھلا میراجی ڈھولا کوٸی اُڈدا روں ماہیا۔
تیری آں میں تیری سوہنیا ایویں کملا نا ہوماہیا۔“
ادا کے رونے میں مزید شدت آنے لگی۔
” چھلا مرا جی ڈھولا تسی آۓ تے جانا ناں۔
سانوں بھانویں بُھل جانا ساڈا پیار بھلانا ناں۔“
کسی نے خوب درد بھری آواز میں گایا تھا۔
” چھلا میرا جی او ڈھلا کوٸی سونے دا کِل ماہیا۔
لوکاں دی آں رون اکھیاں ساڈا روندا اے دل ماہیا۔“
ادا نے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیے۔
” چھلا میرا جی ڈھولا کوٸی امبیاں نوں امب لگدے۔
ناں ہندا توں سوہنیا ناں جندڑی نوں غم لگدے۔
ادا نے سر گھٹنوں پر رکھ لیا۔
” ادا۔“
ارم جو اسے لینے آٸی تھی یوں بلکتا دیکھ اسکی طرف بھاگی۔
” بھابھی۔“
وہ ارم کے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
اسکی کزنز سب حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔
اٹھو یہاں سے۔“
ارم اسے بیڈ پر لے گٸ۔
” شادی تو ایک نا ایک دن ہونی ہی ہے۔“
ارم نے اسے سمجایا۔
سیاہ آنکھیں سرخ ہونے لگیں تھیں۔
” پانی پیو۔“
پانی کا گلاس ادا کی طرف بڑھایا جو اس نے ہچکیاں لیتے پی لیا۔
” چلو آٶ۔۔۔۔چچی لوگ آنے والے ہیں۔“
ارم نے اسے اٹھایا اور کزنز کے گھیرےمیں نیچے لان میں آگٸ۔
ایک طرف انتہائی خوبصورت سٹیج بنا ہوا تھا۔
ادا کو صوفے پر بٹھاۓ ارم نیچے اتر گٸ۔
کزن کی چیھڑچھاڑ پہ بلکل بھی نا شرماٸی بلکہ سٹیچو بنے اہنے مہندی لگے ہاتھ گھورتی رہی۔
” چھلا میرا جی ڈھولا گیلے بالاں دی گُت کیتی۔
دیساں والے گلاں کر دے، پردیسن چپ کیتی۔
ادا کی آنکھ سے ایک موتی گر کے شگن کے پیلے جوڑے میں جزب ہوگیا۔
” نین تارا ۔۔۔“
علی نے اسے پکارا۔
” جی۔“
نین تارا مڑی۔
” لنچ کرنے چلیں۔۔۔۔۔“
علی نے سنجیدگی سے آفر کی۔
” سوری۔“
نین تارا نے بے تاثر لہجے میں کہا اور دوبارہ مڑ کے پکس دیکھنے لگی۔
” انکار کی وجہ جان سکتا ہوں۔“
علی نے اشتعال کو دباتے ہوۓ پوچھا۔
” میری مرضی۔“
نین تارا نہایت سنجیدگی سےبولی۔
” فیضی کے ساتھ تو چلی جاتی ہو۔“
علی استہزایہ ہنس کے بولا۔
دروازے کے اس پار کھڑے فیضی کے دل پر گھونسا لگا۔
نین تارا کا بلند ہوتا ہاتھ پوری قوت سے اسکے منہ پر چھپا۔
” زبان سنبھال کے بات کرو۔۔۔۔آج کے بعد فیضی یا میرے بارے میں ایسا کہا بھی تو زبان گدی سے کھینچ لوں گی۔“
نین تارا سیخ پا ہو گٸ۔
” فیضی تم سے۔۔۔۔۔“
علی بولنے لگا تھا۔
” کیا ہوا۔۔۔۔؟“
مس عالیہ چلی آٸی۔
” کچھ نہیں۔“
علی سرخ ہوتی آنکھوں سے نین تارا کو گھورتا چلا گیا۔
” اس فیلڈ میں یہ سب برداشت کرنا پڑتا ہے۔“
عالیہ نے تھکن سے گرتی نین تارا سے کہا۔
” کیوں۔۔۔۔“
وہ زور دیتے لہجے میں بولی۔
”کیونکہ یہ مردوں کامعاشرہ ہے۔“
مس عالیہ نے دکھ سے کہا۔
” تم نے بہت اچھا جواب دیا۔
مس عالیہ خوشی سے بولی۔
نین تارا سر تھامے بیٹھ گٸ۔
فیضی علی سے پہلے ہی آفس میں آ گیا تھا۔
” اس نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔“
علی فیضی پر برسا۔
” میں نے تو نہیں کہا اسے۔“
فیضی زخمی نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔
” وہ تمہارے ٹاٸپ کی نہیں ہے علی۔“
فیضی نے سنجیدگی سے کہا۔
” میں بنا لوں گا۔“
علی نے زور دیا۔
فیضی نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
دل نے ایک موہوم سی امید کا جلتا بجھتا دیا اسکے ہاتھ میں تھمایا تھا کہ شاید نین تارا منع کر دے، پر مرد کے الفت کے لٹاتے سمندروں میں اکثر مضبوط نواب زادیاں بھی پھسل جاتیں ہیں۔
” آہ۔۔۔۔۔محبت یہ کیسا ظلم ہے، میرے دوست کو دشمن بنا ڈالا۔“
فیضی نے تھکن سے سر سیٹ کی پشت پر گرایا۔
” مجھے محبت کے اس آتش نما ساگر میں لا پھینکا جہاں میں اسے منجدھار پر دیکھ سلگھتا جلتا رہوں گا۔“
آنکھوں میں نمی بڑھنے لگی تھی۔
فیضی نے ایک نظر علی پر ڈالی اور موبائل لیے کرسی سے اٹھ گیا۔
” مس عالیہ میں گھر جا رہا ہوں۔“
فیضی نے کہا اور آفس سے نکل گیا۔
نین تارا نے افسردگی سے اسکی پشت کو گھیرا۔
” تو مجھے اب خود انسان نما بھڑیوں سے بچنا ہوگا۔“
نین تارا نے سوچا۔
جاری ہے
