Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48

Milan Ke Deep by Kiran Chaudhary Episode48

ابر آلود آسمان سر؟ٸ بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا، ہر طرف دکھتی برف کی سفیدی عجب لگ رہی تھی، وہ دونوں روش پر جیبوں میں ہاتھ گھساۓ سر جھکاۓ ایک دوسرے کے پیروں کو تکتے چلے جا رہے تھے۔
” تم نےسیریل میں بہت زبردست ایکٹنگ کی۔“
فیضی اسےسراہتے ہوۓ بولا۔
” تھینکس۔“
وہ سر اٹھاۓ اسے دیکھ کر مسکراٸی تھی۔
شہر کا یہ علاقہ ایک دم پرسکون تھا۔
” تم سے کچھ کہنا تھا۔“
فیضی نے تمہید باندھی۔
” بولیں۔“
وہ متوجہ ہوٸی تھی۔
” تم یہ فیلڈ چھوڑ دو۔“
فیضی نے نیچے دیکھتے ہوۓ کہا۔
” کیوں۔۔۔۔؟“
نین تارا ناسمجھی سے رک گٸ۔
” میں نہیں چاہتا تم یہ کام کرو، بس سٹینڈرڈ تک لانےکے لیے یہ سب کیا۔“
وہ لاچاری سے بولا۔
” میں کیا کروں گی پھر۔۔۔۔“؟“
وہ شانے اچکاۓبولی۔
” سکول کھول لو، سٹاف اور باقی سب کچھ میں ارینج کردوں گا۔“
فیضی کےپاس اسکی ہر مشکل کا حل تھا۔
نین تارا سر نفی میں ہلاتے ہوۓ مسکرا دی۔
”سکول کا نام کیا رکھیں۔“
اس نےگویا رضامندی دے دی۔
” فرید احمدسکول سسٹم۔“
فیضی نے اسکے بابا کا نام لیا۔
نین تارا ورطہ حیرت میں گم ہوٸی۔
” آپ نے جو بزنس سٹارٹ کیا ہے اسکاکیا۔“
وہ کمرپر ہاتھ ٹکاۓ خفگی سے اسکے سامنے آگٸ۔
” وہ میں منیجر کو ہینڈ اوور کر دوں گا۔“
فیضی نے مسکرا کے کندھے اچکاۓ۔
” اونہہ۔۔۔۔۔میں اس فیلڈ سے نکلوں گی تو آپ بھی نکلیں گے۔“
وہ منہ پھلاۓ سینے پر ہاتھ باندھے رخ موڑ گٸ۔
فیضی اسک ناراضگی کے انداز پر مسکراۓ بنا نا رہ سکا۔
” یار اتنا پیسہ لگایا ہے۔“
فیضی اسکے سامنے آتے ہوۓ بولا۔
” مجھے نہیں پتہ۔“
وہ دوسری طرف رخ موڑے کھڑی ہو گٸ۔
فیضی سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا رہا۔
نین تارا نے مڑ کے دیکھا تو وہ ہنس دیا۔
” فیضی۔“
وہ چلاٸی۔
فیضی ہنستے ہوۓ گر پڑا۔
نین تارا نے برف اٹھا کے اس کے اوپر پھینکنا شروع کر دی۔
” سٹاپ اٹ یار۔“
وہ چہرے کے سامنے ہاتھ کیے چلا رہا تھا۔
وہ نہیں رکی۔
فیضی نے بھی لیٹے ہی اس پر پھینکنا شروع کردی۔
تھک کر دونوں چت لیٹے آسمان کر گھورنے لگے۔
فیضی نے رخ اسکی طرف موڑ لیا۔
” خفا ہو کہ مراثن لگتی ہو۔“
فیضی نے اسکی ناک دباٸی۔
” اور آپ۔۔۔۔۔“
نین تارا نے بیٹھتے ہوۓ کپڑے جھاڑٕے اور داٸیں جانب بھنوں کا کونہ اٹھا کہ پوچھا۔
” ڈیشنگ ہیرو۔“
وہ آگے کو جھک کے رازداری سے بتانے لگا۔
” ہیرو ہونہہ۔“
وہ بال پیچھے کرتی کیپ لینے لگی۔
” آپ نا۔۔۔۔۔“
وہ رخسار پر انگلی رکھے سوچنے لگی۔
فیضی گھٹنوں پہ ٹھوڑی رکھے اسے دیکھنے لگا۔
” مراثن کے مراثی۔“
وہ بھی رازدارانہ انداز میں بولی اور کھلکھلا کے ہنس دی۔
فیضی کا قہقہہ فضا میں بلند ہوا۔
نین تارا کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا تھا۔
” مجھے سردی لگ رہی ہے۔“
نین تارا ہاتھ رگڑتے ہوۓ بولی۔
” چلو گھر چلیں۔“
وہ اٹھتے ہوۓ بولا اور جیکٹ اتار کے دینے لگا۔
” زیادہ ہیرو نا بنیں، سردی آپکے مامے کی بیٹی نہیں ہے آپکو بھی لگ سکتی ہے۔“
نین تارا منہ بناتے ہوۓ بولی۔
فیضی نے زبردستی اسکے کندھوں پر پھیلا دی۔
” لگنے دو، میرا فاٸدہ ہے، تمہارے ہاتھ سے سوپ پٸیوں گا۔“
فیضی آنکھ کا کونا دباتے ہوۓ بولا۔
” فلرٹی لگ رہے ہیں۔“
وہ سر جھٹکتے ہوۓ ناگواری سے بولی۔
فیضی ہنس دیا۔
” پہن لیں جیکٹ۔“
نین تارا نے اتار کے اسکے بازو پکڑ کے پہناٸی۔
” سوپ بناٶ گی نا۔“
وہ جیکٹ کی زپ بند کرتے ہوۓ بولا۔
نین تارا نے سنجیدگی سے دیکھا۔
” بنا دوں گی۔“
وہ دل سے مسکراٸی تھی۔
” سردی زیادہ لگ رہی ہے۔“
وہ اسکی سرخ ہوتی ناک کو دیکھ کر بولا۔
” ہممم۔“
وہ ہاتھ رگڑتی ہوٸی اثبات میں سر ہلانے لگی۔
دوپہر کے قریب گھر آۓ تو محسم ہاسپٹل تھا۔
❤❤❤
کمرے میں سناٹا چھایا ہوا تھا، وہ کھڑکی کے پاس وہیل چٸیر پر اداسی سے بیٹھے ہوۓ تھے۔
گود میں رکھے فون کو دیکھا۔
چھ ماہ بیس دن ہو گیے تھے، فیضی کی کال نہیں آٸی تھی۔
کچھ سوچتے ہوۓ نین تارا کا نمبر ڈاٸل کیا۔
بیل جاتے ہی فون کان سےلگا لیا۔
” کیسی ہو بیٹا۔“
نحیف سی آواز میں بولے۔
” میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں۔؟“
وہ خوشگواریت سے بولی۔
” جوان بیٹے کی ناراضگی کا غم لیے تڑپ رہا ہوں۔“
وہ کرب سے بولے۔
آنکھوں سے پانی جھریوں زدہ چہرے پر گرنے لگا تھا۔
وہ رعب وہ دبدبہ وہ آن بان سب کہیں کھو گیا تھا۔
وہاں بس ایک باپ تھا، جسے اپنا بیٹا چاہیے تھا۔
” آپ فکر مت کریے، سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔“
نین تارا تسلی آمیز لہجے میں بولی۔
” کہاں ہے وہ۔“
وہ بے قراری و تڑپ سے بولے
” نہیں ابھی پاس نہیں ہیں۔“
نین تارا بولی اور الوداعی کلمات کہہ کے رابطہ منقطع کر دیا۔
❤❤❤
وہ گھر آ کے آرش دان جلاۓ بیٹھ گیے۔
نین تارا کا موبائل رنگ کرنے لگا۔
چوہدری سکندر کا فون تھا، فیضی سے بات کرنا چاہتے تھے، اس نے ٹال دیا گو کہ فیضی سے ابھی اس ٹاپک پہ بات نہیں ہوٸی تھی۔
” کس کا فون تھا۔۔؟“
فیضی نے سرسری سا پوچھا۔
” پروڈیوسر کا۔“
وہ نظریں جھکاۓ بولی۔
” دوبارہ ریسیو مت کرنا۔“
فیضی سنجیدگی سے بولا۔
”ٹھیک ہے، ایک بات پوچھوں۔“
نین تارا اسکی سیاہ آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ بولی۔
” ہاں بولو۔“
فیضی نرم سے مسکرایا۔
” آپ چوہدری سکندر سے کیوں ناراض ہیں۔“
وہ آپکے بابا کہنے کی بجاۓ چوہدری سکندر بولی۔
” کیونکہ چوہدری سکندر کا جرم بہت بڑا ہے۔“
وہ سر جھکاۓ افسردگی سے بولا۔زف
” جرم۔۔۔۔؟“
نین تارا نے بھنویں سکیڑ کے اسے دیکھا۔
” مس عالیہ اور شاداب کا قتل۔۔۔۔۔۔“
وہ جملہ ادھورا چھوڑے سر جھکاگیا۔
” لیکن کیوں۔۔۔۔“
نین تارا کی ششدر سی آواز نکلی۔
” ان کاٹارگٹ تم تھی۔“
وہ مدھم لہجے میں افسردگی اور بیچارگی سے بولا۔
نین تارا ساکت رہ گٸ۔
وہ لب سیے سر ہاتھوں میں گرا گٸ۔
اتنا انتہائی قدم تو کبھی اسنے سوچا ہی نہیں تھا۔
سادہ لوگ سادگی سے سوچتے ہیں۔
” فکر مت کرو اب کچھ نہیں ہوگا تمہیں۔“
فیضی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
نین تارا نے سر ہلایا دیا۔
” وہ بات کرنا چاہتےہیں تم سے۔“
نین تارا دل کڑا کر کے بولی۔
” تم اب بھی ان کی ساٸڈ ہو۔۔۔؟“
فیضی نے اچنبھے سے پوچھا۔
” وہ اہنے کیے کی سزا بھگت رہے ہیں، اور سزاجزا کا فیصلہ تو اللہ کا ہے۔“
وہ آہستگی سے بولی۔
” تمہارا دل اتنا بڑا ہے۔“
فیضی نے اسکے خوبصورت ہاتھوں کو دیکھا۔
” پتہ نہیں۔“
اس نے کندھے اچکا دیے۔
” لو ابھی بابا سے بات کر لیتے ہیں، پر تم پہلے سماٸل کرو۔“
فیضی اسے افسردہ دیکھ کر بولا۔
نین تارا نے ہلکی سی سماٸل پاس کی۔
فیضی نے چوہدری سکندر سے بات کرلی۔
❤❤❤
چھ ماہ ہو چکے تھے، علی کا ریکورینگ کورس پورا ہو گیا تھا۔
” کیسا فیل کر رہے ہیں۔؟“
ڈاکٹر نے مسکرا کر ہوچھا۔
” اچھا۔“
علی نے مسکرانے کی کوشش کی۔
ہاشم نے محبت سے اپنے بھاٸی کی اکلوتی نشانی کو دیکھا۔
ڈاکٹر نے مسکرا کے اجازت دی تو وہ ہاشم کے ساتھ سینٹر سے باہر نکلا۔
” میں فیضی سے ملنا چاہتا ہوں بابا۔“
علی مدھم لہجے میں بولا۔
” تم نے مجھے بابا کہا۔“
ہاشم کی خوشی کا ٹھکانہ نا رہا۔
” جی۔“
وہ مسکراتے ہوۓ سر جھکا گیا۔
” فیضی یوکے چلا گیا ہے۔“
ہاشم نے اطلاع دی۔
علی کے چہرے پر افسردگی چھا گٸ۔
” ہم چلیں گے نا ملنے، تم اداس مت ہو۔“
ہاشم نے خشدلی سے کہا۔
علی مسکرا دیا۔
ان چھ ماہ میں سب ہی سودوزیاں من وعن یاد آٸیں۔
وہ سب کا منا لینا چاہتا تھا۔
❤❤❤
” ادا یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔“
احسن اسے کچن میں جاتے دیکھ پیچھے چلا آیا۔
” جوس۔۔۔۔“
وہ فریج سے فروٹ نکالتے ہوۓ بولی۔
” اتن ملازماٸیں ہیں ان سے بولو۔“
وہ اسکے ہاتھ سے چھری لیتےڈپٹ کے بولا۔
” مجھے نہیں چاہیے ان کے ہاتھ کام“
وہ منہ بناتے ہوۓ بولی۔
” ہٹو پھر میں بنادیتا ہوں۔“
وہ اسے وہاں سے ہٹاتے ہوۓ بولا۔
” تم بیٹھو جا کے میں ابھی لے کے آیا۔“
احسن فروٹس چھلیتے ہوۓ بولا۔
ادا مسکرا کے کچن سے نکلنے کی بجاۓ وہیں بیٹھ گٸ۔
احسن نے جوس بنایا اور اسے لیے ہال میں رکھے صوفوں پر چلا آیا۔
”لیجیےمادام۔“
وہ شرارت سے جوس تھماتے ہوۓ بولا۔
ادا نے ایک ادا سے جوس کا گلاس تھام کر لبوں سے لگایا۔
” آٸیندہ کچن میں نظر نا آٶ۔“
وہ تنبییہ کرتا صوفے پر بیٹھ گیا۔
” ورنہ۔“
ادا شرارت سے بولی۔
” ورنہ تب ہی بتاٶں گا۔“
وہ موبائل نکالتے ہوۓ بولا۔
ادا ہنس دی۔
” بے بی کا نام میں رکھوں گی۔“
نقوشہ پرجوش سی بولی۔
” کیا رکھو گی۔؟“
احسن نقوشہ کی جانب متوجہ ہوا۔
” بے بی بواۓ ہوا تو امان اور بے بی گرل ہوٸی تو عفاف۔“
نقوشہ جوش سے بولی۔
خوشی اسکے چہرے سے عیاں تھی۔
رعنا چپ چاپ بیٹھ گٸ۔
ادا مسکرا دی۔
” اونہہ ۔۔۔مجھے نہیں پسند۔“
احسن نے سر نفی میں ہلایا۔
” کیوں۔۔۔۔؟“
نقوشہ کا چہرہ لٹک گیا۔
” اچھے نہیں ہیں۔“
احسن نے منہ بنا کے کہا۔
” بھابھی آپ کو بھی نہیں پسند۔۔۔۔“
نقوشہ روہانسی ہوٸی۔
” نہیں نہیں مجھے تو بہت پسند آۓ۔“
ادا مسکراتے ہوۓ بولی۔
احسن نقوشہ کے بال کھینچتا ہنس دیا۔
” بہت اچھے نام گڑیا۔“
احسن ہنستے ہوۓ بولا۔
” آپ مزاق کر رہےتھے۔“
نقوشہ نےگہرا سانس خارج کیا۔
” ہاں۔“
احسن ہنس دیا۔
❤❤
” چلیں۔“
نین تاراسوٹ کیس کھینچتی باہر لے آٸی۔
” اتنی جلدی بھی کیا ہے یار۔۔۔“
محسم ناخوش لگ رہا تھا۔
” جاٸیں گے تو ہی تمہیں بلاٸیس گے نا اشادی پر۔“
فیضی نین تارا کی طرف کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا بولا۔
نین تارا رخ موڑ گٸ۔
محسم ہنس دیا۔
” ابھی تو مزہ آنے لگا تھا یار، چھ ماہ تو تمہاری سڑی شکل ہی دیکھی ہے۔“
محسم منہ بناتے ہوۓ بولا۔
” اب تم سڑی شکل نا بناٶ۔“
فیضی نے اسکا گال تھپتھپایا۔
محسم نے اسکا ہاتھ جھٹکا۔
” آپ نے اچھا نہیں ، میرے بھاٸی کو بھگا کے لے جا رہی ہوں۔“
محسم نین تارا کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ کندھے اچکا کہ مسکرادی۔
” ہم لیٹ ہو رہے ہیں، چلیں نین۔“
فیضی نے کہا اور دونوں سوٹ کیس گھسیٹتا باہر آگیا۔
محسم نے گھر بند کیا اور ڈرائيونگ سیٹ سنبھالی۔
” دیکھو پورا یوکے اداس لگ رہا ہے۔“
محسم اداسی سے بولا۔
” تم تو بیوی کی طرخ ریکٹ کر رہے ہو۔“
فیضی شرارت سے بولا۔
محسم نےگھونسا اسکی کمر میں جڑا۔
” ظالم بیوی کا روپ دھار گیے اب تو۔“
فیضی کراہتے ہوۓ بولا۔
گاڑی برف سے ڈھکی سڑکوں سے ہوتی فراٹے بھرتی ایر پورٹ جا پہنچی۔
” مس یو محسم۔“
فیضی اس سے بغلگیر ہوا۔
” مس یو ٹو یار۔“
محسم مسکراتے ہوۓ بولا۔
” اللہ حافظ بھاٸی۔“
نین تارا مسکراٸی۔
محسم نے سر کے اشارے سے قبول کیا۔
دونوں ایرپورٹ کے اندر چلے گیے۔
” مجھے پلین اڑتے وقت بہت ڈر لگتا ہے۔“
نین تارا پریشان سی بولی۔
” میں ہوں نا۔“
فیضی محبت سے بولا۔
نین تارا کا دل سکون سے بھر گیا۔
اسنے سر اسکے شانے پر ٹکا لیا۔
محبت کا پہلا حق تھا جو اس نے جتایا تھا۔
فیضی سرشار سا مسلرا دیا۔
پلین جیسے ہی ٹیک آف ہوا نین تارا نے آنکھیں میچ لیں، اور سر گھٹنوں پر رکھ لیا۔
فیضی نے اسے سیدھا کیا۔
اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
” ریلکس۔“۔
مسکرا کے پیار سے کہا۔
نین تارا کو کچھ تسلی سی ہوٸی۔
وہ سر جھکا کے رہ گٸ۔
فیضی نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔
ہینڈ فری ایک اپنے کان میں اور ایک پکڑ کے نین تارا کے کان میں اڑس دی۔
دل وچ یار لٸ پیار بے شمار اے۔
دنیا توں سوہنا میرے یار دادیدار اے۔
راحت فتح علی خان کی آواز انکے کانوں میں گونج رہ تھی۔
دونوں کی نگاہیں بے اختیار ٹکراٸیں اور چہرے پر تبسم کھیلنے لگی۔
” نین۔۔۔۔“
فیضی نے کان سے ہینڈ فری نکال دی۔
نین تارا نے اسے دیکھا۔
” آنکھیں بند کرو۔“
فیضی نے کہا اور اسکی آنھیں بند کر دیں۔
وہ سیٹ سے اٹھ کے اسکے قدموں میں آبیٹھا۔
سرخ گلاب اور وہی رنگ نکالے اسے کے آگے کر دی۔
” نین آٸی لو یو۔“
فیضی نے کہا اور سر جھکا لیا۔
”آج انکار کیا تو اس جہاز سے کود جاٶں گا۔“
سر اٹھا کے خفگی سے کہا۔
نین تارا ہنس دی۔
مسافر مڑ مڑ کے انہیں دیکھ رہے تھے۔
سب کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
” آٸی لو یو ٹوفیضی۔“
وہ گلاب تھامتے ہوۓ بولی۔
” ول یو میری می۔“
فیضی نے محبت سے چور لہجے میں کہا۔
” ییس۔“۔
وہ ہاتھ آگے کرتے ہوۓ بولی۔
جہاز میں تالیاں گونج اٹھیں۔
فیضی نے رنگ اسکے تیسی انگلی کی زینت بناٸی اور اسکے خوبصورت ہاتھ پر لب رلھ دیے۔
” آپ کی جگہ یہاں نہیں ہے، اٹھ جاٸیں پلیز۔“
نین تارا نے کہا تو فیضی مسکراتے ہوۓ اٹھ گیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *