Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Last Episode)Part 1,2
Rate this Novel
Maan Yaram (Last Episode)Part 1,2
Maan Yaram by Maha Gull Rana
پانچ سال بعد:-
وہ ابھی میٹنگ سے فری ہوتے آفس میں آیا تھا—کوٹ اتار کر رولنگ چئیر کی پشت پر رکھتے—بالاج شاہ نے کف فولڈ کرتے—کافی کا مگ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا تھا—چئیر اور ٹیبل کے درمیان کھڑے بالاج شاہ نے لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظر آتی ای میل کو دیکھتے—ہنوز کھڑے کھڑے بائیں ہاتھ کی انگلیاں کی بورڈ پر چلاتے جواب ٹائپ کرنا شروع کیا ہی تھا کہ دھاڑ کی آواز پر بالاج شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے سر نفی میں ہلایا تھا
“ون—ٹو—تھری”—آنے والی ہستی سے وہ باخوبی واقف تھا—اور آتے ہی جو باتوں کے جو تیر چلنے والے تھے ان وہ بالاج شاہ کو ازبر یاد تھے
“سنبھالوں اپنی بگڑی اولاد کو—میرا تو خیر تمہیں کوئی احساس ہی نہیں ہے بالاج— تم کم تھے جو اسے بھی اپنے جیسی بلّا بنا دیا ہے—اگر سارا دن یہی پڑے رہنا ہوتا ہے تو سونے کا انتظام بھی یہی کر لو— یہاں تمہیں کام کرتے کچھ نہیں ہوتا—بیوی کوئی کام کہہ دے تو نواب صاحب کی شان کے خلاف ہو جاتا ہے اسے کرنا”—دھاڑ کی ہی آواز کے ساتھ دروازا بند ہونے کے ساتھ صبغہ کی غصے سے بھری اؤاز پر بالاج شاہ نے مگ ٹیبل پر رکھتے پلٹ کر اسے دیکھا تھا—جبکہ اپنے چار سالہ بیٹے صالح کو اپنی ٹانگوں کے قریب کھڑے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے دیکھ بالاج شاہ نے جھک کر اسے باںہوں میں بھرا تھا—
“او میری پیاری بیوی—میری جان—کیا ہو گیا ہے— غصہ نا کرو تمہیں پتہ نا تمہارے لیے غصہ کرنا ٹھیک نہیں—اور اب کیا کر دیا ہے میرے بیٹے نے”—صالح کو ٹیبل پر بٹھاتے قدم صبغہ شاہ کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تھا جو اولیو کلر کے ڈریس پر چادر کندھوں اور اپنے بھرے بھرے وجود پر پھیلائے سرخ چہرے سمیت گھور کر ںالاج شاہ کو دیکھ رہی تھی—
“مجھے مکھن لگانے کی ضرورت نہیں بالاج—یا تو خود سدھر جاؤ یا اپنی اس اولاد کو سمجھا لو— ورنہ میں سچی کہہ رہی ہوں ماما کے پاس شفٹ ہو جاؤں گی میں”—بالاج شاہ کو اپنے قریب آتے دیکھ قدم پیچھے لیتے انگلی اٹھائے تنبیہہ کرتے لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا تھا
“جو پہلے ہی مکھن ہے اسے مکھن لگانے کی کیا ضرورت”(بازو صبغہ شاہ کی کمر کے گرد لپیٹتے خود کے قریب کرتے—بھاری لہجے میں سرگوشی کی تو صبغہ کے گال شرم سے سرخ پڑے تھے)—اور کیوں دیتی ہو ایسی دھمکیاں جن کے بعد پتہ بھی ہے کہ یہ نازک جان مصیبت میں پر جاتی ہے”— صبغہ شاہ کی مزاحمت کو نظر انداز کرتے بانہوں میں اٹھاتے صوفے پر لے جا کر بٹھاتے ذومعنی لہجے میں کہا تو صبغہ شاہ نے نظریں اٹھائے بالاج شاہ کو دیکھا تھا جو کے اس کے چہرے کے قریب جھکا— جزبے لٹاتی نظریں صبغہ شاہ کے چہرے پر ٹکائے ہوئے تھا—بالاج شاہ کے کلون کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارتے صبغہ کی نظریں بالاج شاہ کی آنکھوں سے سرکتی گلے کی ہڈی پر ان رکی تو بالاج شاہ کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا—تبھی بالاج شاہ نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہاتھ صبغہ شاہ کے چہرے پر ٹکاتے نرمی سے سہلایا تھا جس پر صبغہ ٹرانس سی کیفیت میں آنکھیں بند کیں تھی—بالاج شاہ آنکھوں میں خمار لیے ابھی جھکا ہی تھا کہ ٹھاہ کی آواز پر صبغہ کے ہونٹوں پر اپنی ہتھیلی جماتا اپنی جگہ سے اٹھا تھا—
“کچھ مت کہنا یار صبغہ بچہ ہے ابھی”—ایک نظر صالح کو دیکھا جو بڑے سکون سے بالاج شاہ کے قیمتی لیپ ٹاپ کو زمین پر پٹک کر ٹیبل پر کھڑے ہوتے اس پر جمپ کرکہ اس کا مزید حشر کر چکا تھا
نظریں صالح سے ہٹاتے صبغہ شاہ کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ بالاج شاہ تیزی سے کہتا جھک کر اپنے ہونٹ صبغہ کے ماتھے پر رکھتا صالح کی طرف بڑھا تھا
“ڈیڈ—اٹ واز لاکل—انتی جلدی ٹوٹ گیا”—کندھے آچکاتے—دونوں ہاتھوں کو ہلاتے تاسف بھرے لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے گھٹنوں کے بل بیٹھتے—سر اثبات میں ہلایا تھا—
“یا اٹ واز—ہم اب نیو اچھے والا لے لیں گے—لیکن پہلے یہ بتائیں کیا کِیا ہے آپ نے—ماما کیوں ناراض ہو رہی ہیں”— لیپ ٹاپ پر افسوس بھری نگاہ ڈالتے صالح کو بازوؤں میں بھرتے صبغہ کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے استفسار کیا تو اس نے ہونٹوں کو سیٹی سی شیپ میں کھولتے—ایک نظر اپنی ماں کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا تھا—
“کچھ نہیں—یو نو نا—مام اور ریکٹ کرتی ہیں”— صالح کے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر کہنے پر صبغہ نے غصے سے دانت کچکچا کر اسے دیکھا تھا—جبکہ بالاج شاہ نے بامشکل اپنی مسکراہٹ دباتے—صالح کو گھورا تھآ
“یہ اب پٹ جائے گا میرے ہاتھوں سے—عمر دیکھو اور اس کی حرکتیں دیکھو—پہلے باپ میری نیند کا دشمن تھا—اب یہ بیٹا—اگر دو گھڑی سکون سے میری آنکھ لگ ہی گئی تھی تو اس نے اٹھتے میرا سکون برباد کر دیا—یہ دیکھو( چادر کندھوں سے سرکاتے—اپنی کمر سے بال آگے کرتے بالاج شاہ کے سامنے کیے تھے تو بالاج شاہ نے صبغہ کی روہانسی شکل سے نظریں ہٹا کر اس کے بالوں کو دیکھا تو بالوں پر بری طرح سے چپکی ببل گم کو دیکھتے—اس بار سخت نظروں سے صالح کو دیکھا تھا—
یہ حال کیا ہے تمہاری نکمی اولاد نے—آج خان حویلی جانا تھا—اور آج ہی—اب میں کیا کروں—میرے سارے بالوں کا ستیاناس کردیا”—بال جھٹکتے چہرہ ہاتھوں میں چھپائے روتے ہوئے کہا تو اس بار بالاج صحیح معنوں میں پریشان ہوتا آگے بڑھتے صبغہ کو بانہوں میں سمیٹ گیا
“یہ کیا حرکت ہے صالح”—سوری ڈیڈ”—بالاج شاہ کے چہرے کے بگڑے تاثرات دیکھ وہ جلدی سے کانوں کو ہاتھ لگاتا سوری کر گیا تھا—کیونکہ یہ بہت کم ہوتا تھا کہ بالاج اس سے سے سختی سے پیش آئے—غصہ اور ڈانٹنے کا کام صبغہ ہی کرتی تھی—لیکن صالح کے زیادہ تنگ کرنے پر جب وہ روہانسی ہو جاتی تو تب بالاج سارے لاڈ بلائے طاق رکھ دیتا تھا—
“مجھے نہیں ماما سے سوری کریں—اور کہے کہ نیکسٹ ٹائم نہیں کریں گے ایسا کچھ—اور اگر کیا نا صالح تو ڈیڈ اس بار بہت ناراض ہوگے ماما سے بھی برے والا”—
“سوری مومی”—آگے بڑھتے ننھے ہاتھوں میں صبغہ کا چہرہ تھامتے—معصوم لہجے میں کہا تو صبغہ شاہ سب بھلائے صالح کو چہرہ ہاتھوں میں بھرتی چٹا چٹ چومتی اسے خود میں بھنچ گئی تو بالاج شاہ نے اب کی بار دونوں میں بیٹوں کو گھور کر دیکھا تھا
“اعوان انکل باہر ہیں—انہیں کہے وہ آپ کو آفس کی سیر کروائیں”—صالح کو بازوؤں سے تھامتے صبغہ سے دور کرتے ہوئے کہا تو وہ سر اثبات میں ہلاتا صوفے سے اترتا تیزی سے باہر بھاگا تھا جبکہ صالح کے دھاڑ سے دروازا بند کرنے پر صبغہ کے چہرے کی ساری نرمی ہوا ہوئی تھی—
“کوئی اتنا تنگ نہیں کرتا جتنا یہ لڑ”—ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ بالاج شاہ صبغہ کے بھرے بھرے وجود سے گزارتے صوفے کی پشت پر ٹکاتے اس کے ہونٹوں کو اپنی نرم گرفت میں لیتے قید کر گیا
بالاج شاہ کے دہکتے ہونٹوں کے جانیوا لمس پر صبغہ نے سختی سے اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچا تھا
“اتنا پیارا تو ہے میرا بیٹا—لیکن اگر زیادہ تنگ کرتا ہے تو اسے تنگ کرنے کے لیے اس کی چار پانچ بہنیں لے آتے ہیں—جیسے اس نے تمہارے بالوں کو حشر کیا—جب وہ مل کر اس کے بالوں پر نت نئے ایکسپیریمنٹ کریں گی تو ماں کا دکھ سمجھ جائے گا”—ماتھا صبغہ کے ماتھے سے ٹکراتی اس کی بکھری سانسوں میں گہری سانس بھرتے ہوئے کہا تو صبغہ نے اپنی اتھل ہتھل ہوئی سانسوں کو بامشکل قابو پاتے سر صوفے کی پشت سے ٹکایا تھا—
“بہت مطلبی ہو تم بالاج—ہو نا پھر بزنس مین یہاں بھی اپنا ہی نفع دیکھو گے جنگلی انسان— میں بتا رہی ہوں—یہ جو آنے والا یا آنے والی ہے نا اس کے بعد مجھ سے امید مت رکھنا—اور اگر اس نیت سے میرے قریب آئے تو تمہارا سر پھاڑ دوں گی میں”—بالاج شاہ کے بالوں کو مٹھیوں میں دبوچتے—چہرہ اپنی جانب جھکاتے دانت کچکچا کر کہا تو بالاج شاہ نے مسکراہٹ ضبط کرتے سر اثبات میں ہلایا تھا
“جیسے آپ حکم کریں”—ہاتھ نرمی سے صبغہ کے پیٹ پر رکھتے بازو اس کے کندھے کے گرد حائل کرتے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا تو صبغہ نے سکون سے آنکھیں موندی تھیں
“اب مجھے لے کر چلو کسی سلون میں— لیکن اس سے پہلے مجھے کچھ کھلاؤ کنجوس انسان بھوک سے حشر ہو رہا ہے میرا”—صبغہ کے آخری بات پر چلا کر کہنے پر بالاج نے اپنے کان پر ہاتھ رکھتے گھور کر صبغہ کو دیکھنے کی کوشش کی مگر جیسے ہی نظریں اس کے پھولے گالوں اور بند آنکھوں پر گئیں تو بالاج شاہ کی آنکھوں میں نرمی اتری تھی
ایک وقت تھا کہ وہ صبغہ کا وجود بھی اپنے اردگرد برداشت نہیں کر پاتا تھا اور اب یہ وقت تھا کہ وہ کچھ دیر کے لیے اس سے دور ہو تو بالاج شاہ کو چین نہیں آتا تھا—وہ خون بن کر بالاج شاہ کی رگوں میں دوڑنے لگی تھی—سانسوں سے زیادہ قریب اور جان سے زیادہ عزیز ہوگئی تھی
صبغہ کے لیے کھانے کا کہتے—وہ اسے نرمی سے صوفے پر لٹاتا سر اپنی گود میں رکھتے اس کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں پھیرنے لگا تھا
نظریں بالوں پر لگی ببل پر گئیں تو اپنے بیٹے کی حرکت پر بالاج شاہ کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگی تھی—سر جھٹکتے بالاج نے جھک کر صبغہ کے ماتھے پر نرم گرم لمس چھوڑا تھا—
________
“عرشمان دیہان سے گر جائے گی بہن”—پلوشہ نے کبرڈ کا دروازا بند کرتے ہوئے کہا تو عرشمان حدائق شاہ نے نفی میں سر ہلاتے اپنے سے دو سال چھوٹی ہالہ کو مضبوطی سے تھاما تھا
“نو مام—یہ میلی(میری) بہن ہے—اول(اور) عشمان(عرشمان) انپی(اپنی) بہن کو گرنے نئی دے گا”—نیلی آنکھوں کو میں معصومیت سجائے اپنے دونوں ہاتھ ہالہ کے چہرے پر رکھتے جواب دیا تو پلوشہ نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا
اس کی آنکھیں حدائق پر تھیں کیونکہ پلوشہ کی آنکھیں ہلکی نیلی جبکہ حدائق شاہ کی گہری نیلی آنکھیں تھیں—جبکہ پٹھانی نقوش اس نے پلوشہ سے چرائے تھے—ہالہ بھی ہو بہو پلوشہ خان کی کاپی تھی—
جب وہ پیدا ہوئی تو نام رکھنے کی باری آئی تو بالاج شاہ نے تو کہا تھا کہ نیا نام کیا کرنا اس کا نام منی پلوشے رکھ دو—جس پر ارمغان نے بھی تائید کی تھی—مگر پھر عائث خان نے اسے پہلی بار دیکھتے ہی ہالہ پکارا تو پھر کسی نے کوئی سوال جواب نہیں کیا—اور پھر وہ منی پلوشے سے ہالہ حدائق شاہ بن گئی
عرشمان—صالح اور ضرغام کے دونوں بیٹے ہم عمر تھے—
سب سے پہلے ضرغام کے جڑواں بیٹے ہوئے تھے جو کہ اج چار سال کے ہو چکے تھے– اس کے کچھ دن بعد بالاج کا بیٹا اور پھر مہینے بعد عرشمان حدائق شاہ اس دنیا میں تشریف لایا تھا—
عرشمان کا نام بالاج شاہ نے رکھا تھا جس پر حدائق شاہ نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا کہ کہی شیطان ہی نہیں رکھ دیا بالاج شاہ سے اسے کسی نیکی کی توقع نہیں کر سکتا تھا—
کمرے کا دروازا کھلنے کی آواز پر پلوشہ نے پلٹ کر کمرے میں داخل ہوتے حدائق شاہ کو دیکھا تھا—
“آپ فریش ہو جائیں میں چائے لے کر آتی ہوں”—آگے بڑھتے حدائق شاہ کے ہاتھ سے بیگ تھامتے—ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے سر نفی میں ہلاتے آگے بڑھتے نرمی سے پلوشہ خان کے ماتھے کو چھوا تھا—
“ماں جی کے پاس بیٹھا تو چائے پانی پی آیا ہوں— کپڑے نکال دو میں فریش ہو کر آتا ہوں تو اپنی بیوی اور بچوں سے ملتا ہوں”—بیڈ پر بیٹھے عرشمان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے مسکراتی نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہا تو پلوشہ سر اثبات میں ہلاتی کبرڈ سے حدائق شاہ کا ڈریس اور ٹاول نکالتی واشروم میں ہینگ کر آئی تو حدائق شاہ ٹیبل پر اپنی چیزیں رکھتا واشروم کی جانب بڑھ گیا
“حدائق—ہم عرشمان کی برتھ ڈے کے بعد اس کا سکول میں ایڈمیشن کروا دیں”— واشروم سے نکلتے حدائق شاہ کو دیکھتے عرشمان کی گود سے سوئی ہوئی ہالہ کو لیتے— بیڈ پر لٹاتے ہوئے پوچھا تو حدائق شاہ نے سر اثبات میں ہلایا تھا
بیڈ کے قریب آتے بازو وا کیے تو عرشمان کھڑے ہوتے جمپ لگا کر حدائق کے بازو سے کندھوں پر سوار ہوا تو پلوشہ نے سر نفی میں ہلایا تھا—
“بابا—میں نے نئی دانا(جانا)”—حدائق شاہ کے کندھوں پر بیٹھتے اس کے بال اپنے چھوٹے ہاتھوں میں لیتے منہ بسور کر کہا تو پلوشہ نے گھور کر اسے دیکھا تھا—
“کیوں نہیں جانا—صالح بھائی کی بات مانتے ہیں نا ان کے ساتھ کھیلتے بھی ہو—تو وہ بھی تو سکول جاتے ہیں نا—وہاں انجوائے کرتے ہیں تو آپ بھی ان کے ساتھ سکول جا کر انجوائے کرنا”—حدائق کے کندھوں سے عرشمان کو بازوؤں سے کھینچ کر اپنے سامنے بیٹھاتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے—نامحسوس میں پلوشہ خان کو اپنے حصار میں لیتے—دوسرے ہاتھ سے سوئی ہوئی ہالہ کو تھامتے اپنے سینے پر لٹایا تھا—
“وہ نئی کلتے(کرتے) ان جائے(انجوائے) وہ تو نادن(ناگن) سے بچنے کے لیے جاتے”— پلوشہ خان کے ہاتھ احتیاطاً تھامتے کہی وہ تھپڑ ہی نا لگادے صالح صاحب کے خیالات بتائے تو پلوشہ نے گھور کر عرشمان کو دیکھا تھا—جبکہ حدائق شاہ کے قہقہہ لگانے پر پلوشہ نے دہل کر سینے پر ہاتھ رکھتے—پلٹ کر اپنی بیٹی کو دیکھا مگر خود کو حدائق شاہ کے حصار میں اور ہالہ کو اس کے سینے پر سکون سے سوتے دیکھ گہری سانس بھری تھی–
وہ سب جانتے تھے کہ صالح اپنے باپ کا پسندیدہ لفظ اپنی ماں کو خطاب کے طور پر نواز چکا ہے—اور یہ بات اب تک صبغہ شاہ کو معلوم نجانے کیسے معلوم نا ہوئی تھی—صالح کو سکول بھیجنے پر صبغہ نے بھی یہی کہی تھا کہ وہ اس کی حرکتوں سے تنگ آکر بھیج رہی رہے اور اب وہی خیالات اس کے بیٹے کے بھی تھے—
“تو وہ آپ کا بھائی ہے نا—وہاں وہ انجوائے نہیں کرتا تو کتنا بور ہوتا ہوگا آپ کو بھی مس کرتا ہوگا گھر کو بھی—تو آپ کو چاہئے نا کہ آپ اس کے ساتھ جائے—جیسے گھر میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ویسے ہی وہاں بھی رہے”—حدائق شاہ کے سمجھانے والے انداز پر عرشمان سر ہلاتا پیچھے ہوتے—حدائق کے بازو سے سر ٹکا کر لیٹتے آنکھیں موند گیا تو پلوشہ نے بھی سر جھٹکتے اٹھنا چاہا مگر اپنے کمر کے گرد حائل ہوتے بازو پر وہ ٹھٹھک کر رکی تھی—
“حح-حدائق میں نے تیار بھی ہونا ہے—بچوں کو بھی کرنا ہے—اور ٹائم دیکھیں کیا ہوگیا ہے”—حدائق شاہ کی لو دیتی نظروں میں دیکھتے—پلوشہ خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے نظریں اطراف میں گھماتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے آبرو آچکا کر اسے دیکھا تھا—
“عرشمان—کبرڈ سے اپنا ڈریس لے—اور دادو سے کہیں کے آپ کو تیار کر دیں—اگر کچھ دیر سونا بھی ہے تو دادو کے پاس سو جائیں”—حدائق شاہ کے کہنے پر وہ جھٹ سے آنکھیں کھولتا بیڈ سے چھلانگ لگاتے اترا تھا—سامنے صوفے پر پڑا اپنا ڈریس اٹھاتے وہ کمرے کا دروازا بند کرتے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا—جبکہ اپنے بیٹے کی سپیڈیں دیکھ پلوشہ نے دانت کچکچاتے مٹھیاں بھنچی تھی—
“چلو بیگم شرافت سے ادھر آجاؤ—ورنہ دیر کی صورت میں تمہیں ہی مسئلہ ہوگا”—ہالہ کو بیڈ پر لٹاتے—نرمی سے اس کے روئی جیسے گالوں کو چھوتے پیچھے ہوتے—وہاں سے کھسکتی پلوشہ خان کو دیکھتے بھاری لہجے میں کہا تو وہ منہ بسورتی حدائق شاہ کے قریب ہوئی تھی—
“اب تو جیسے دیر نہیں ہوگی نا”—منہ بسور کر کہتے—چہرہ جھکایا تو حدائق شاہ نے کندھے آچکاتے پلوشہ خان کو اپنی بانہوں میں بھرتے—سر پیچھے تکیے سے ٹکایا تھا—
“ایسے کاموں میں دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے پھر”—پلوشہ کی تھوڑی کو شہادت کی انگلی سے اٹھاتے چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے ذومعنی لہجے میں کہتے جھک کر اپنے تشنہ لب پلوشہ خان کے ہونٹوں پر رکھے تو پلوشہ نے سختی سے آنکھیں میچتے—حدائق شاہ کو کندھوں سے تھاما تھا
“لل—لیکن ہم سویر ہونا افورڈ نہیں کر سکتے—ہمیں شام میں ہی پہنچنا ہے”— پلوشہ کو بیڈ پر لٹاتے وہ اس پر جھکا تو پلوشہ نے اپنے کپکپاتے ہاتھ حدائق شاہ کے سینے پر رکھتے—روہانسے لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے گہری سانس بھرتے—جھک کر شدت سے پلوشہ کے گال کو چھوا تھا—
“بیوی تمہاری یہ ادائیں—ابھی تو چھوڑ رہا ہوں—لیکن رات چاہے جتنی بھی تھکن ہوئی مجھ سے فرار کا سوچنا بھی نا—آج تمہاری ساری تھکن حدائق شاہ خود میں سمیٹ لے گا مگر تم پر ترس بالکل نہیں کھائے گا”—گردن ہر جھکتے اپنا جارحانہ لمس چھوڑتے پیچھے ہوتے ہوئے کہا تو پلوشہ نے گردن پر ہاتھ رکھتے—گھور کر حدائق شاہ کو دیکھا تو جواباً حدائق شاہ نے آبرو آچکائے تو پلوشہ نے روہانسی ہوتے سر نفی میں ہلایا تھا—
“آوو میری—کیوٹ وائفی”— بازو سے کھینچ کر سینے سے لگاتے محبت بھرے لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے حدائق شاہ کے سینے پر ہلکا سا پنچ کرتے اسے پیچھے کیا تھا—
“یہاں تو بس لوگوں کو فری ہونے کا بہانہ چاہئے ہوتا ہے”—بیڈ سے اترتے—طنزیہ لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے سر اثبات میں ہلایا تھا—جس پر پلوشہ پر پٹختی کبرڈ سے ڈریس نکال کر دیکھنے لگی تھی—
________
یہ بہرام یہ چپ کیوں نہیں کر رہی”—
“آپ چپ کریں گی تو یہ چپ ہوگی نا امتثال”— آیت کے ساتھ زور و شور سے روتی امتثال کو دیکھ بہرام شاہ نے تاسف سے کہا تو امتثال کے رونے کو یک دم بریک لگی تھی—
آیت کو بخار تھا جس کی وجہ سے بہرام امتثال کے ساتھ اسے لیے ہاسپٹل ایا تھا—جہاں انجیکشن لگنے کے بعد سے آیت مسلسل رو رہی تھی اور اس کے ساتھ امتثال خان بھی جس پر بہرام شاہ نے گاڑی چلاتے تاسف سے سر جھٹکا تھا
“اوو—میرے ذہن میں ہی نہیں رہا—یہ روتی ہے تو مجھے کچھ اور سمجھ ہی نہیں آتا”—چادر کے پلو سے اپنی آنکھیں صاف کرتے—ہچکیاں بھرتی آیت کو گلے سے لگاتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے گاڑی ڈھابے کے باہر روکی تو امتثال نے چونک کر بہرام شاہ کو دیکھا تھا—
“کھانا کھا لیتے ہیں—گھر جا کر آپ کو تیار ہونے کی پر جائیں گی اور پھر آپ کھانے کو نظر انداز کر دے گی—اسی لیے کھانا کھا کر ہی چلتے ہیں”—گاڑی روکتے—ہچکیاں بھرتی آیت کو امتثال خان کے بازوؤں سے لیتے ہوئے کہا تو امتثال نے سر اثبات میں ہلاتے آیت بہرام شاہ کے حوالے کی تھی جو آیت کو لیتے گاڑی سے نیچے اترا تھا—
کھانے کا آڈر دیتے—وہ واپس گاڑی میں واپس آکر بیٹھا تو آیت دونوں پاؤں بہرام شاہ کے سینے پر رکھتی اوپر چڑھنے لگی جسے دیکھتے بہرام نے سیٹ تھوڑی پیچھے کو جھکا لی
“امتثال آیت کے لیے کچھ کھانے کو رکھا تو دیں—مجھے لگ رہا اسے بھوک لگی ہے”—دونوں باپ بیٹی کو ایک دوسرے سے لاڈیاں کرتے دیکھ بہرام شاہ کی آواز پر امتثال نے سر ہلاتے اپنے بیگ میں سے چھوٹا سا لنچ باکس نکال کر اس کی جانب کیا تو بہرام شاہ سیٹ ٹھیک کرتا اٹھ بیٹھا تھا—
باکس میں چھوٹے چھوٹے فروٹس کے ٹکڑے آیت کے ہاتھ میں پکڑائے تب تک بچہ کھانا لے کر آگیا تو امتثال نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے کھانا پکڑا تھا
“بابا وہ کھانا”—ننھے ننھے ہاتھوں میں تھامے فروٹس کے ٹکڑے بہرام شاہ کے ہونٹوں پر زبردستی رکھتے—کھانے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے آیت کے بڑھائے گے فروٹس کو کھاتے اسے اپنے گھٹنوں پر بٹھایا تھا
“بابا کی جان نے یہ کھائے گی”— خمیری روٹی کا نوالہ توڑتے—اسے مکھنی کڑاہی لگاتے—آیت کی جانب بڑھایا تو امتثال نے گہری سانس بھری تھی—
“ابھی اس کا بخار بھی نہیں ٹھیک سے اترا—آپ یہ کھلا رہے ہیں”— نوالہ بہرام شاہ کی جانب بڑھاتے تاسف سے کہا تو بہرام شاہ نے گہری سیاہ آنکھیں امتثال خان کے خوبصورت چہرے پر ٹکاتے ہونٹ واہ کرتے نوالے کے ساتھ امتثال خان کی انگلیوں کو بھی نرمی سے دانتوں تلے دبایا تو امتثال کو اپنے وجود میں سنسنی دوڑتی محسوس ہوئی
“کچھ نہیں ہوتا—بخار تھا کونسا گلا خراب تھا یا کچھ اور—سیرپ پی پی کر میری بیٹی کے ویسے بھی منہ کا ٹیسٹ خراب ہوا ہوگا”— آیت کو شوق سے کھاتے دیکھ مسکراتے ہوئے کہا تو امتثال نے سر نفی میں ہلایا تھا—
“یار کیا دور دور سے کھلا رہی ہے—زرا پاس آئیں—میں کونسا کھانے کے ساتھ آپ کو کھا جانے والا ہوں”—امتثال نے نوالہ کنارے سے پکڑتے—بہرام کے منہ کھلتے ہونٹوں پر رکھتے جلدی سے ہاتھ کھینچا تو بہرام شاہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تو امتثال نے گھور کر اسے دیکھا تھا—
“فری نا ہو آپ شاہ—آپ آیت کو کھلا رہے تھے اسی لیے میں نے آپ کو ایوے ہی کھلا دیا—اب وہ خود کھا رہی ہے تو آپ اپنے ہاتھوں کا استعمال کھانا کھانے کے لیے کر سکتے ہیں”—پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے سر اثبات میں ہلاتے پانی کی طرف اشارہ کیا تو امتثال نے گلاس اس کی جانب بڑھایا تھا—بہرام کے گلاس پکڑتے وہ ہاتھ کھینچتی تھی—اپنے ہاتھ کو بہرام شاہ کی گرفت میں دیکھتے—امتثال نے سرخ پڑتے اطراف میں دیکھا تھا کہی کوئی دیکھ تو نہیں رہا
“کوئی نہیں دیکھ رہا—اگر دیکھ بھی رہا ہوتا تو باہر سے اسے کچھ نظر نہیں آنا تھا”—انگھوٹے کی پشت سے امتثال کی کلائی سہلاتے بھاری لہجے میں کہا تو امتثال نے روہانسی ہوتے ہاتھ کھینچنا چاہا تھا—
“بہرام آیت”—روہانسے لہجے میں کہتے نظریں آیت کی جانب کی تو بہرام شاہ نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے تھے—
“میری بیٹی اپنا کھانا کھانے میں مصروف ہے—لیکن میں پھر بھی ہاتھ چھوڑنے پر تیار ہوں اگر آپ مجھے اپنے ہاتھ سے کھلائے گی”—کندھے آچکاتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو امتثال نے بہرام شاہ کو گھور کر دیکھتے سر اثبات میں ہلایا تو بہرام شاہ نے امتثال کی کلائی چھوڑتے—آیت کو اٹھاتے—اسے بیک سیٹ پر بٹھایا تو وہ تالیاں بجاتی—شیشے سے لگتی باہر دیکھنے لگی تھی
“اب بس میں نہیں کھلا رہی اور”—وہ کب سے اسے کھلا رہی تھی—لیکن بہرام شاہ تھا کہ اس کا پیٹ ہی نہیں بھر رہا تھا—جبکہ ہر نوالے پر وہ جب وہ امتثال کی انگلیوں کو ہونٹوں سے چھوتے دانتوں سے دباتا تو وہ جھرجھری لیتی ہاتھ پیچھے کھنچتی تھی—
“میرا پیٹ تو کب سے بھر گیا یہ تو آپ کھلا رہی تھی اسی لیے میں کھا رہا تھا”—امتثال کے پیچھے ہوتے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لیتے—ہتھیلی پر شدت بھرا لمس چھوڑتے—کندھے آچکا کر کہا تو امتثال نے گھور کر بہرام شاہ کو دیکھا تھا
“میں ٹھیک ہی کہتی ہوں—اندھے ہیں وہ لوگ جو آپ کو شریف اور سلجھا ہوا سمجھتے ہیں—کوئی مجھ سے پوچھے تو بتاؤں کہ یہ آدمی ایک نمبر کا فلرٹ انسان ہے—کوئی موقعہ نہیں آپ جانے دیتے آپ ہاتھ سے”— دانت کچکچا کر کہتے ٹشو سے ہاتھ صاف کیے تو بہرام شاہ نے فخریہ انداز میں سر کو خم دیا تھا
“آپ کی بات سے کبھی انکار کیا میں نے—ہمیں یقین ہے کہ آپ نے جو کچھ بھی کہا وہ حرف بہ حرف سچ ہے—لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ یہ سچ کسی کو بتا نہیں سکتی”—بہرام شاہ کے شوخ لہجے میں مسکرا کر کہنے پر امتثال نے اس ڈھٹائی پر ہونٹ بھنچتے چہرے کا رخ بدلا تھا
“اوو شٹ(بہرام شاہ کی آواز پر امتثال نے اس کی جانب دیکھا تھا—مگر اگلے ہی لمحے اپنے چہرے کو بہرام شاہ کے ہاتھوں میں دیکھتے اس کی آنکھیں پھیلی تھیں ) سویٹ ڈش تو رہ ہی گئی”—ایک نظر امتثال کی پھیلی آنکھوں کو دیکھتے—گردن ترچھی کر کہ باہر دیکھتی آیت کو دیکھ وہ پوری شدت سے امتثال کے گلابی ہونٹوں پر جھکا تھا—
امتثال خان کی سانسوں میں اپنی دہکتی سانسیں انڈیلتے—وہ نرم ہونٹوں کے لمس پر مدہوش ہوتا بامشکل خود کو سنبھال کر پیچھے ہوا تو امتثال نے سینے پر ہاتھ رکھتے—سر پیچھے شیشے سے لگاتی اپنی اتھل پتھل ہوئی سانسوں پر قابو پاتے—سرد خون چھلکاتے چہرے پر غصہ طاری کرتے خود کو شوخ نظروں سے تکتے بہرام شاہ کو گھورا تھآ
“آج رات میں خان حویلی رکنے والی ہوں”—انگلی اٹھائے غصے بھری آواز میں کہا تو بہرام شاہ نے سر اثبات میں ہلاتے—ہاتھ کے اشارے سے دوپٹہ ٹھیک کرنے کو کہا تو امتثال نے سرعت سے دوپٹہ ٹھیک کیا تو بہرام شاہ نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے—لڑکے کو برتن تھماتے—والٹ سے نوٹ نکال کر اس کی جانب بڑھائے تھے—
“صاحب یہ زیادہ”—کوئی بات نہیں رکھ لو بیٹا”—ابھی لڑکا بات مکمل کرتا—اسے ہاتھ کے اشارے سے روکتے نرم لہجے میں کہتے شیشہ اوپر کیا تھا—
جبکہ امتثال نے پیچھے بیٹھی آیت کو آگے بلانا چاہا تو وہ سر نفی میں ہلاتی—سیٹ پر منہ کے بل گرتی—چہرہ چھپا گئی
part 2
ایشان واپس آؤ ورنہ سچ میں دو لگاؤ گا”—ایشان کو دیوار کے ساتھ لگے پائپ پر چڑھتے دیکھ ارمغان خان نے دانت کچکچا کر سخت لہجے میں کہا تو ایشان خان نے پائپ سے چپکے گردن موڑ کر غصے سے سرخ پڑتے ارمغان خان یعنی اپنے باپ کو دیکھا تھا—
جبکہ ارمغان خان افسوس سے نیچے گاڑھے سے بڑھی زمین کو دیکھتے— گیلی مٹی سے نہائے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا—جو حویلی کے بیک سائیڈ پر پڑے مٹی کے ڈھیر پر پر پانی کا پائپ کھول کر اس کا کیچر بناتے اس میں نہا چکا تھا—اور اب دیوار پر لگے پائپ پر بندر کی طرح چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا—
پہلے جو ارمغان خان یہ سوچتا تھا کہ اس کی(ارمغان خان کی بچپن کی) شرارتیں اس کے لیے یادیں بنے گی– بڑھاپے میں انہیں یاد کر کہ خوش ہوگا اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو قصے سنایا کریں گا اب انہیں شراروں کو یاد کرتے خود کو کوستا تھا کیونکہ ایشان خان اسے چھوٹے خان کا چار قدم آگے والا منی پیس ملا تھا—جو ساری دنیا کو چھوڑ کر بس اپنے باپ کی ناک میں دم کیے رکھتا تھا— سب کے لیے وہ نہایت اچھا بچہ تھا جبکہ اپنی ماں کی نظر میں تو ابھی سے وہ کوئی سلجھا ہوا سمجھدار بیٹا تھا—لیکن صرف ارمغان خان ہی جانتا تھا کہ اس کا بیٹا کتنا بڑا پھپھا کٹنا ہے—
“کوں آؤ(کیوں آؤ)—ننھے سے گلابی ہاتھ کو گھماتے آبرو آچکانے کی کوشش کرتے جواب دیا تو ارمغان خان نے گھور کر اسے دیکھا تھا—جو ہاتھ چھوڑنے کی وجہ سے پائپ سے تھوڑا پھسلا تھا
“کوں کے بچے—ادھر آرہے ہو یا میں ادھر آؤ—اور اگر میں ادھر آیا نا ایشان بہت پٹائی کروں گا”— ماتھے پر بکھرے سلکی براؤن بالوں کو پیچھے کرتے—سخت لہجے میں کہا تھا
“میں بلے(بڑے) بابا کو بتاؤ گا”— چھوٹی سی ناک کو سکوڑے—موٹی موٹی ڈارک براؤن آنکھوں کو ارمغان خان کے سرخ پڑتے چہرے پر ٹکائے تنبیہ کرتے لہجے میں کہا تو ارمغان خان اپنے بیٹے کی دھمکی پر عش عش کر اٹھا
“بڑے پاپا کے کچھ لگاتے—پہلے اپنے باپ سے تو نمٹ لے پھر جسے بتانا جا کر بتا دینا”—آگے بڑھتے ایشان خان کے رونے کی پرواہ کیے بغیر اسے دونوں بازوؤں سے پکڑتے آگے بڑھتے زمین پر بٹھایا تھا
پانی کا پائپ پکڑتے—وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتے ایشان کے قریب آتے اسے زبردستی وہاں بیٹھایا تھا—ایک ہاتھ سے پائپ تھامے—دوسرے ہاتھ سے ایشان کے سر اور چہرے سے مٹی اتارتے ارمغان خان نے تاسف سے سر جھٹکا تھا
“یار تو کس پر گیا ہے—تیرا باپ شرارتی تھا لیکن تو شرارتی نہیں افلاطون ہے—کہاں تیرا صاف ستھرا ہنڈسم باپ اور کہاں تو مٹی میں نہانے والا بندر”—ارمغان خان نے ایشان کا چہرہ صاف کرتے جھنجھلاتے ہوئے کہا تو ایشان خان نے زوروں سے روتے ارمغان خان کے ہاتھ کو پیچھے کرنا چاہا تھا—جب وہ نہیں کر سکا تو ارمغان خان کے بازو کو مٹھیوں میں دبوچتے—اپنے ننھے ننھے دانت پوری شدت سے اس میں گاڑھ گیا کہ ارمغان خان نے کراہ کر ہاتھ پیچھے کیا تھا—
لیکن اس سے پہلے ارمغان اسے کچھ کہتا ایشان کا رونا ہچکیوں اور چیخوں میں بدلا تھا— اپنے بیٹے کی بدلی ٹون دیکھ ارمغان خان کو اپنے اردگرد خطرے کی گھنٹیاں سنائی دی تھی—ایسا وہ تب ہی کرتا تھا جب اس نے اپنا کیا اپنے باپ پر ڈالنا ہوتا تھا یہ چیخیں وہ داجی اور اپنی ماں کی ہمدردیاں بٹورنے کے لیے ہی مارتا تھا ابھی ارمغان خان کچھ سمجھتا کہ اپنی پشت سے گرجدار آواز سنتے پائپ ہاتھوں سے گرا تھا—جبکہ ایشان خان چیخوں سے روتا زمین پر پاؤں مارتے بازو پھیلائے ارمغان خان کے پیچھے دیکھ رہا تھا—
“چھوٹے خان—یہ کیا حرکت ہے—کوئی خدا کا خوف ہے کہ نہیں—کیا حال کر دیا ہے بچے کا”—داجی کی گرجدار آواز کے ساتھ ان کے اپنی جانب بڑھتے قدموں کی آواز پر ارمغان خان نے مٹھیاں بھنچ کر اپنے سامنے مگر مجھ کے آنسو بہاتی اپنی اولاد کو دیکھا تھا—
“دا دا”—ہچکیوں سے روتے وہ داجی کے پھیلائے بازوؤں میں سمٹتا ان کی گردن میں منہ چھپا گیا تھا جبکہ داجی نے ایشان کے سرخ پڑتے چہرے اور ہچکیوں کو سنتے—بت بنے بیٹھے ارمغان خان کے کندھے پر تھپڑ رسید کیا تھا
“کیا ہوا داجی—یہ کس نے کیا”—بس ان کی کسر تھی—سلوی کی آواز سنتے ارمغان خان منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اٹھا تھا—
” ببا- با نے—مالا(مارا) بھی”—ہچکیوں سے روتے ننھی سی شہادت کی انگلی ارمغان خان کی جانب کرتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے سلگی نظروں سے اسے گھورا تھآ
“ارمغان آپ”—سلوی شاہ نے بے یقینی سے دیکھتے کہا تو ارمغان خان نے گہری سانس لیتے کندھے آچکائے تھے—
“میں بہو سے کہتا ہوں کہ نہلائے ذرا اسے—اور تم آکر ملو ذرا مجھے”—ایشان کو جیب سے پیسے نکال کر پکڑاتے—سلوی شاہ کو کہتے آخر میں ارمغان خان کو کہا تو اس نے بالوں کو پیچھے جھٹکتے سر کو خم دیا تو دا جی نے گھور کر اسے دیکھتے ایشان کے گیلے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے قدم آگے بڑھائے تھے
“کیوں کیا آپ نے—آپ کو ذرا شرم نہیں آئی ارمغان – وہ بیمار ہو گیا تو”—سلوی شاہ نے دونوں بازو کمر پر ٹکاتے افسوس بھرے لہجے میں کہا تو ارمغان خان سر نفی میں ہلاتے نیچے جھکا تھا
“نہیں آئی مجھے شرم – کیونکہ مجھے تو بہت پسند ہے نا اس عمر میں ایک بچے کا باپ ہو کر مٹی میں کھیلنے کا”—طنزیہ لہجے میں کہتے پانی والے پائپ کو دائیں ہاتھ میں تھامتے—کھڑے ہوتے بنا سلوی شاہ کو سمجھنے کا موقع دیے بایاں بازو سلوی شاہ کی کمر کے گرد لپیٹتے— دو قدم پیچھے لیتے سلوی شاہ کو دیوار سے لگایا تھا—
“وہ مجھے اچھے سے پتہ ہے کہ کتنے بے شرم ہیں آپ—لیکن اگر یہ حرکت آپ نے میرے ساتھ کی تو جان لے لوں گی میں آپ کی”— انگلی اٹھائے تپے تپے لہجے میں کہتے آخر میں چلا کر کہا تو ارمغان خان نے ابرو آچکا کر ستائشی انداز میں سلوی شاہ کو دیکھا تھا
“لو کر لی یہ حرکت تمہارے ساتھ—اب لو جان”—پانی پائپ سلوی شاہ کے سر کے اوپر کرتے—مسکراہٹ ضبط کرتے طنزیہ لہجے میں کہا تو سلوی شاہ نے مٹھیاں بھنچتے گھور کر ارمغان خان کے ہنسی ضبط کرتے چہرے کو دیکھا تھا—
“ہٹیں یہاں سے(دونوں ہاتھ ارمغان خان کے سینے پر رکھتے—چلا کر کہا تو ارمغان خان نے پائپ کو نیچے پھینکا تھا)—نہیں ہٹتا کیا کر لو گی— جان لو گی—میں تو کہہ رہا ہوں کہ لے لو جان”—سلوی شاہ کے چہرے کے گرد بھیگی لٹو کو اپنی انگلی پر لپیٹتے—چہرہ سلوی کے بھیگے چہرے سے مس کرتے کان میں سرگوشی کی تو سلوی نے سرخ پڑتے—جھٹکے سے ارمغان خان کو دھکا دیتے وہاں سے جانا چاہا تھا مگر اگلے ہی قدم پر خود کو ارمغان خان کی گرفت میں پاتے وہ بری طرح مچلی تھی
“کیا مسئلہ ہے ارمغان چھوڑیں مجھے—ورنہ میں داجی کو آواز لگاؤں گی”—واہ کیا کہنے بیٹا بڑے بابا کی دھمکیاں دیتا اور ماں داجی کی—صدقے جاؤں میں اپنے دو انمول رتن کے—خود تو شرم چھو کر بھی نہیں گزری ہوگی شوہر کو ایسی دھمکی دیتے”—بازو پہلو کر گرد لپیٹے جھٹکے سے رخ اپنی جانب کرتے—تاسف بھرے لہجے میں کہا تو سلوی شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے سر نفی میں ہلاتے—نظریں پھیریں تھیں
“تو پھر میں تو ہوں ہے پیدائشی بےشرم اور ڈھیٹ—مجھ سے بھی شرم کی امید نا رکھنا—اور اب تمہاری چونچ کھلی تو دیکھنا—میں بھی ساسوں ماں کو جا کر شکایت لگاؤں گا کہ کسی فرمانبردار بیوی ہو تم”— تنبیہ لہجے میں کہتے سلوی شاہ کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ پوری شدت سے اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا—ارمغان خان کے جارحانہ لمس پر وہ بری طرح پھرپھرائی تو ارمغان خان سلوی شاہ کی کلائیاں اپنی گرفت میں لیتے پشت پر ٹکا گیا
نجانے کتنے لمحے گزر گئے تھے مگر ارمغان خان سلوی شاہ کے نرم ہونٹوں کے لمس کو شدت سے محسوس کرتے مدہوش ہونے لگا تھا— جب سانس لینا دشوار ہونے لگا تو سلوی شاہ نے اپنا پاؤں پوری شدت سے ارمغان خان کے پاؤں میں مارا تھا کہ وہ سی کرتا پیچھے ہوا تھا مگر گرفت ابھی بھی برقرار تھی—
ہونٹ بھنچے ابھی وہ کچھ کہتا کہ نظریں سلوی شاہ کے خون چھلکاتے چہرے سے ہوتی—اپنی شدت سے سرخ پڑتے ہونٹوں پر گئی تو آنکھوں میں خمار اترا تھا—جبکہ سلوی کی بکھری سانسوں کو محسوس کرتے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے سلوی کی کلائیاں چھوڑتے اسے سینے سے لگاتے پیٹھ سہلانی تھی—
“یہ تمہارا بیٹا بہت بڑا نوٹنکی ہے—یہ سب میں نے نہیں کیا—میں تو اسے ڈھونڈتے ہوئے آیا تھا—اور یہ نواب مٹی میں شاور لیتے دیوار کے ساتھ پائپ سے چپکے اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے—قسم لے لو مجھ سے تمہارے بیٹے کی ساری حرکتیں چوروں والی ہیں—پریکٹس بھی ابھی سے شروع کر دی ہے—اور جھوٹ تو ایسے بولتا جیسے ڈگری لے کر پیدا ہوا ہو”— ارمغان خان کی باتوں پر سلوی غصے سے سرخ پڑتی جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی—
“آپ نے کہا اور میں نے مان لیا نا—خبردار میرے بیٹے کے بارے میں آئندہ ایسا کچھ کہا آپ نے—میں تو دعائیں کرتی ہوں اتنی معصوم اور سمجھدار اولاد اللہ سب کو دیں—اور میرے باقی بچے بھی اپنے بھائی پر ہی جائیں”—انگلی اٹھائے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے سرعت سے سر نفی میں ہلایا تھا
“اللہ نا کرے کیا اول فول بول رہی کو—اگر ساری اولادیں ایسی ہی ہوئی تو میرے رہنے کا انتظام ڈیرے پر ہی کروادو—کیونکہ جیسا یہ سلوک مجھ سے اب کرتا ہے نا مجھے پورا یقین دو چار سالوں میں اس نے سازشیں کر کہ مجھے حویلی سے نکال دینا”—سلوی شاہ کے پیچھے قدم بڑھاتے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا تو سلوی نے پلٹ کر گھور کر ارمغان خان کو دیکھا تھا—
” مذاق کر رہا تھا میں— اللہ ایسی اولادیں سب کو دے( میرے ساتھ باقی سب کو بھی پتہ چلے کہ تین سال کے بچے کے ہاتھوں درگت بننے پر کیسا فیل ہوتا ہے)— سرنڈر کرنے کے انداز میں ہاتھ اٹھا کر کہتے آخر میں منہ میں بڑبڑا کر کہتے قدم آگے بڑھائے تھے—
جبکہ نظریں اپنے کرتے پر لگی مٹی پر گئیں تو اپنے بیٹے کی حرکت یاد کرتے ارمغان خان کے ہونٹوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ بکھری تھی—
______
“ممانی آپ رہنے دیں میں کر لیتی ہوں”—حوریہ نے ڈریسنگ ٹیبل پر چیزیں سیٹ کرتے پلٹ کر مبین بیگم کو کہا جو حور عین کے لیے کبرڈ سے ڈریس نکالتی بیڈ پر رکھتی اس کے جوتے نکال رہی تھیں–
ان پانچ سالوں میں مبین بیگم کا رویہ حوریہ کے ساتھ بالکل ماں جیسا ہوگیا تھا— انہوں نے اپنے رویے اور تلخ لہجے کی معافی مانگنے کی کوشش بھی کی تھی مگر حوریہ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا—
کیونکہ غلط فہمی کی وجہ سے وہ سب کہی نا کہی ایک دوسرے کو بہت غلط سمجھ چکے تھے— سب کی کہی نا کہی غلطی ضرور تھی—اس نے عائث خان کو بھی اس لیے ہی جلدی معاف کر دیا تھا—وہ پہلے اسے معاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی—وہ ڈائیورس نہیں چاہتی تھی لیکن عائث کے ساتھ رہنا بھی—لیکن جب اسے وہ منانے آیا تھا—تب وہ لمحے میں اپنی سوچ بدل چکی تھی—پہلے ہی سب ٹھیک کرنے میں نجانے زندگی کے کتنے خوبصورت سال دشمنی کی نظر ہوگئے تھے—اب بھی وہ اگر عائث کو چھوڑ دیتی تو سب ٹھیک ہو کر بھی ٹھیک نا ہو پاتا—حدائق تو پہلے یہ حوریہ کی باتیں سن کر عائث سے لڑنے جانے والا تھا اگر وہ نا روکتی تو شاید پھر سب خراب ہو جاتا – اور اگر وہ اسے چھوڑ ہی دیتی تو کیا ہوتا—حدائق اور پلوشہ کا رشتہ—ضرغام اور عقیدت کا رشتہ بھی ان کی وجہ سے ڈسٹرب ہو جاتا—پھر سے دونوں خاندانوں میں تناؤ اجاتا—وہ عائث سے محبت کرتی تھی—اور محبت تو اسی چیز کا نام ہے کہ آپ چھوڑنے کی ہزار وجوہات ہونے کے باجود کسی ایک وجہ کے لیے رک جائے—اور وہ رک گئی تھی—اور محبت صرف حوریہ شاہ کو ہی تو نہیں تھی عشق تو عائث خان نے بھی اس سے کیا تھا—اور ان گزرے پانچ سالوں میں اس نے حوریہ شاہ کو خود سے عشق کرنے پر بھی مجبور کر دیا تھا—اس نے اگر حوریہ شاہ کو پلکوں پر بٹھا کر رکھا تھا تو اپنی بیٹی کو ہتھیلی کا چھالا بنا رکھا تھا—وہ اپنی زندگی میں موجود تینوں عورتوں پر جان نچھاور کرتا تھا—اپنی ماں کی محبت کی جو کمی عائث خان کو ساری زندگی محسوس ہوئی تھی وہ حور عین کے دنیا میں آجانے کے بعد ختم ہوگئی تھی— کیونکہ جو محبت مبین بیگم آج تک عائث خان سے نا کر سکی وہ حور عین کے آنے کے بعد ظاہر ہونا شروع ہوگئی تھی—
“او ہو—تم چھوڑو—اپنی پوتی کو میں خود تیار کر لیتی ہوں—تم خود جلدی سے تیار ہو جاؤ اور اپنے شوہر کو ریڈی کرو—کیوں حور عین—دادی سے تیار ہونا نا”—کمرے میں داخل ہوتے عائث خان کو مسکرا کر دیکھتے—جواب دیتے حور عین کو بانہوں میں بھرتے ہوئے کہا تو حوریہ نے سر اثبات میں ہلاتے آگے بڑھ کر کبرڈ سے عائث خان کے کپڑے نکالے تھے—
“بابا کی ڈول—اتنی پیاری بن کر کدھر جا رہی ہے”—دو سالہ حور عین کے پھولے گلابی گالوں کو نرمی سے چھوتے مسکرا کر کہا تو وہ کھلکھلا کر ہاتھ اٹھاتی بابا کرنے لگی تو عائث خان نے اسے ہاتھوں میں لیتے ہوا میں اچھالا تو کمرے میں حورعین کی قلقاریاں گونجی تھیں
“بابا کا شیر بیٹا”— حور عین کو بیڈ پر لٹاتے گداگداتے ہوئے کہا تو مبین بیگم نے مسکراتے ہوئے دل ہی دل میں ماشاءاللہ کہا تھا
“اچھا یہ لاڈ بعد میں کر لینا—جلدی سے تیار ہو جاؤ—اور میں جا کر ذرا ضرغام سے پوچھو کہ اس کی بیوی اور بچوں کا گھر آنے کا کوئی ارادہ ہے کہ نہیں— جن کے لیے پارٹی رکھی وہ عوام ہی گھر نہیں”— حورعین کو بیڈ سے اٹھاتے بانہوں میں بھرتے عائث اور حوریہ کو بیک وقت مخاطب کرتے ہوئے کہا تو عائث خان نے بیڈ پر گرنے کے انداز میں لپیٹتے—دونوں بازو سر تلے رکھتے—نظریں حوریہ شاہ کے سراپے پر ٹکرائی تھیں جو مبین بیگم جو جواب دیتی—عائث خان کی نظروں سے نروس ہوتی رخ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب کر چکی تھی—
“ادھر آئیں”—دروازا بند ہونے کی آواز کے ساتھ اپنی پشت پر ابھرتی عائث خان کی بھاری آواز سنتے حوریہ نے گردن ترچھی کرتے عائث خان کو دیکھا تھا—
“میں کام کر رہی ہوں عائث”—آہستہ آواز میں کہتے—جواب دیا تو عائث خان نے ستائشی نظروں سے حوریہ کو دیکھا تھا—
“میں آکر کام کرنے میں ہیلپ کرواؤں مسسز عائث”—حوریہ شاہ کے لہجے میں دوبدو جواب دیا تو وہ سر نفی میں ہلاتی—خشک پڑتے حلق کو تر کرتی چھوٹے چھوٹے قدم لیتی بیڈ کی جانب بڑھی تھی—
“ادھر آئیں( انگلی کے اشارے سے پاس آنے کا کہا تو حوریہ نے سر نفی میں ہلایا تھا)—ادھر ہی بتائیں(گردن اکڑا کر دوبدو جواب دیا تو عائث خان کی مونچھوں تلے شنگرفی لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی جسے بروقت عائث خان نے چھپاتے چہرے پر سخت تاثرات سجائے تھے)—
“ادھر آکر بتایا تو وہ سب بتاؤ گا جس کا ابھی میں نے ارادہ نہیں کیا —اسی لیے خاموشی سے ادھر ہی آجائیں کہ جتنا ارادہ کیا ہے بس اتنے پر ہی عمل کروں”— وارنگ دیتے لہجے میں کہا تو حوریہ نے مٹھیاں بھنچتے—روہانسی شکل بناتے اپنے مسینے خان کو دیکھا تھا—
“آپ ہمیشہ مجھے بلیک میل کرتے ہیں”—گھٹنوں کے بل پر بیڈ پر عائث سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھتے دانت کچکچا کر کہا تو عائث خان نے سر کو خم دیتے اس اعزاز کو جیسے قبول کیا تھا
“اور تم مسسز عائث مجھے ہمیشہ مدہوش کر دیتی ہو—بن پیے بہکا دیتی ہو—تو سوچو زیادہ قصور وار کون ہوا میں یا تم”—ہاتھ بڑھاتے بازو تھام کر جھٹکے سے اپنے سینے پر گراتے ہوئے کہا تو حوریہ نے کرسٹل گرے آنکھوں میں شکوہ لیے عائث خان کو گھورا تھآ
آنکھیں دیکھیں تو میں دیکھتا رہ گیا
جام دو اور دونوں ہی آتشہ
حوریہ شاہ کی آنکھوں کو محبت سے چھوتے—اپنی خوبصورت آواز میں گنگنا کر کہا تو حوریہ شاہ نے ہونٹوں پر شرمیگی مسکراہٹ سجاتے— سر عائث خان کے سینے سے ٹکایا تھا—
“منہاج اور معاویہ کے لیے گفٹ کے ساتھ باقی سب کے لیے بھی سرپرائز پلین کیا ہے”—عائث خان کی بات پر حوریہ نے تھوڑی عائث کے سینے پر ٹکاتے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا—
“پہلے تو سب الگ الگ گئے تھے اب میں چاہتا ہوں کہ ساری فیملیز ایک ساتھ عمرے پر جائیں— داجی کے ساتھ بھی گئے کافی ٹائم ہوگیا تو اس لیے میں نے یہ پلین کیا”—حوریہ کے بالوں میں انگلیاں الجھاتے جواب دیا تو حوریہ شاہ کے چہرے پر خوشی کے کئی رنگ بکھرے تھے—
“میں بتا کر آتی ہوں—نن-نہیں پہلے صبغہ کو کال کرتی ہوں ابھ”—خوشی سے چہکتے پیچھے ہوتی ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتی کہ عائث خان نے سر نفی میں ہلاتے—حوریہ کا بازو تھامتے—ایک ہاتھ اس کی کمرے پر لپیٹتے—اسے بیڈ پر گرا کر خود پر اس پر سایہ کیا تھا—
“مائے انوسنٹ وائفی—ابھی کہا نا کہ سرپرائز ہے”—شہادت کی انگلی حوریہ کے ہونٹوں پر رکھتے—چہرہ حوریہ کے چہرے کے قریب تر کرتے بھاری لہجے میں کہا تو حوریہ نے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے سر اثبات میں ہلایا تھا
“تت-تو پھر میں ویسے جاؤں”— انگلیاں چٹخاتے—مدھم آواز میں کہا تو عائث خان نے جھکتے اپنی ناک حوریہ کے گال پر ٹریس کی تھی
“ویسے کیسے”—عائث خان کے بھاری بہکے لہجے پر حوریہ کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تھیں—
“ویسے ہی—مم-طلب بتانے نہیں اپنا کام کرنے”—چہرے دائیں جانب موڑتے آنکھیں میچتے—جواب دیا تو عائث خان نے ہنکارہ بھرتے—حوریہ کا چہرہ اپنی جانب کرتے—حوریہ کی مدھم سانسوں میں گہری سانس بھری تو حوریہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا
“ویسے جیسے مرضی چلی جانا—لیکن پہلے مجھے میرا کام کرنے دو”—انگلیوں کے پوروں کو حوریہ کے چہرے پر پھیرتے خمار آلود لہجے میں کہتے نظریں حوریہ کے باریک گلابی ہونٹوں پر ٹکائی تو حوریہ کو اپنے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوتی محسوس ہوئی
چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں خمار لیے وہ آنکھیں بند کرتا حوریہ کے کپکپاتے ہونٹوں پر جھکا تھا—کپکپاتے ہاتھوں سے شیٹ کو مٹھیوں میں بھنچتے—حوریہ نے عائث خان کے سلگتے لمس پر سختی سے آنکھیں میچی تھی
قطرہ قطرہ اپنی دہکتی سانسوں میں حوریہ کی ٹھنڈی سانسیں اتارتے عائث خان نرمی سے پیچھے ہوا تھا مگر اپنی اتنی سی قربت پر حوریہ شاہ کے خون چھلکاتے چہرے—اور کپکپاتے وجود کو دیکھتے عائث خان نے نرمی سے اسے بانہوں میں سمیٹا تھا
“فیملی کے ساتھ ہو آئیں تو پھر اپنی فیملی بڑھانے کے لیے سینکڈ ہنی مون پر بھی جانے کے لیے تیار ہونا”— حوریہ کے بال سہلاتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو حوریہ نے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے سختی سے آنکھیں میچتے—چہرہ عائث خان کی گردن میں چھپایا تھا
________
“آج آپ کے پوتوں کی برتھ ڈے ہے—آج دونوں چار سال ہوگئے ہیں—آپ کو خوش تو نہیں ہوگی لیکن میری خوشی آپ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ماں”— سلاخوں کے پار گھٹنوں کے بل بیٹھے ضرغام خان نے اپنے نم لہجے پر حتی الامکان قابو پاتے نرم لہجے میں کہا تو تھوڑے فاصلے پر دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی عقیدت نے ہونٹ بھنچتے گہری سانس بھری تھی
اسے ضرغام کے یہاں آنے سے کبھی مسئلہ نہیں ہوا تھا مگر جو تکلیف وہ محسوس کرتا تھا جو دکھ اس کی آنکھوں میں نظر آتا تھا وہ عقیدت کے لیے ناقابل قبول تھا
جبکہ سلاخوں کے پار چادر اوڑھے سر جھکائے غیر مری نقطے پر نظریں ٹکائے بیٹھی مقدس بیگم نے نم ہوتی آنکھوں کو چادر کے پلو سے صاف کرتے گردن ترچھی کرتے اپنے جوان خوبرو بیٹے کو دیکھا تو دل میں پھر سے ٹھیس اٹھی تھی—وہ اس بیٹے کو مارنا چاہتی تھی—وہ بھی دولت کے لیے—دولت حاصل کرتی کرتی وہ اپنا اتنا انمول ہیرا کھو چکی تھیں—
وہ ہر پندرہ دن بعد ان سے ملنے آتا تھا—کبھی کبھار تو ہفتے میں بھی دو بار اجاتا تھا—جو تڑپ ماں ہو کر ان کے دل میں نہیں تھی اس سے کہی زیادہ تڑپ اس بیٹے کے دل میں تھی جو ماں کی ہر غلطی ہر گناہ کو فراموش کرتے گھنٹوں سلاخوں کے پار بیٹھا نجانے ان سے کتنی باتیں کرتا رہتا تھا—
“بابا پلیز ڈونٹ کرائے”—معاویہ نے آگے بڑھتے اپنے دونوں بازو ضرغام خان کے کندھے کے گرد پھیلاتے سر ضرغام خان کے سر سے ٹکاتے نم لہجے میں کہا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی—
جبکہ اپنے پوتے کی میٹھی نرم آواز پر مقدس بیگم کا دل اسے بانہوں میں بھرنے کے لیے تڑپا تھا—ایسی ہی تڑپ انہیں تب بھی محسوس ہوئی تھی جب سنا تھا کہ عقیدت ماں بننے والی ہے—وہ اس کے پاس بھی گئی تھی—دل عجیب سی بے چینی کا شکار بھی ہوا تھا—مگر پھر وہ اسے نظر انداز کر گئی—ہمیشہ کی طرح اپنے ضمیر کی آواز کو خاموش کروا گئیں
“آپ باہر کیوں نہیں آتی – میلے(میرے)بابا اتنی باتیں کرتے جباب(جواب) کیوں نہیں دیتی”—دونوں ہاتھ کمر پر ٹکاتے وہ ایک دم سے ضرغام کے سامنے آتے سلاخوں کے پار حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی مقدس بیگم سے مخاطب ہوا تھا—
وہ اپنی ماں کی طرح تھا—اس کی نانی نے اسے باغی کے لقب سے نوازا تھا—
پٹھانی نقوش میں غصے کے باعث گھلی سرخی—سبز گہری آنکھیں—ستواں ناک—ضرغام خان سے چرائے ہونٹ”—وہ ماں اور باپ دونوں کا عکس تھا وہ منہاج ضرغام خان تھا
“منہاج—بیہو”—عقیدت کی تنبیہ آواز پر گردن ترچھی کر کہ ماں کو دیکھتے سر نفی میں ہلایا تھا—
“شی ہیو ٹو آنسر—بابا ہرٹ ہوتے—لیکن یہ کچھ نئی کہتی”—ہاتھ جھلا کر بات کرتے وہ مقدس بیگم کی جانب متوجہ ہوا تھا—
“تم بہت پیارے ہو—دادی کو گلے ملو گے”—مقدس بیگم کی آواز پر وہاں لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا تھا
اتنے برسوں بعد ماں کی آواز کانوں میں گونجی تو ضرغام خان کی آنکھیں بے ساختہ ںم ہوئی تھی—
جبکہ منہاج ناسمجھی سے کبھی مقدس بیگم کو دیکھتا اور کبھی اپنی ماں کو کہ اب کیا کریں—عقیدت کے اشارہ کرنے پر وہ سلاخوں کے قریب ہوتے اپنے بازو پھیلا گیا تو ضرغام کے معاویہ کو اشارہ کرنے پر وہ بھی بھائی کے ساتھ جا کھڑا ہوا تو مقدس بیگم نے تڑپ کر سلاخوں سے بازو باہر نکالتے ان دونوں کو بانہوں میں بھرا تھا—
“سٹاپ کرائنگ دادو”—جب مقدس بیگم چپ نا ہوئی تو منہاج نے منہ بسورتے مدھم لہجے میں کہا تو ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی تھی پلو سے آنسو صاف کرتی وہ پیچھے ہوئی تو معاویہ نے ان کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا تھا—
“ڈیڈی ہرٹ ہوگے—سو ڈونٹ کرائے”—مقدس بیگم کو سمجھ نہیں آیا وہ ان سے محبت کرتے ہیں یا انہیں اپنی باپ کے ہرٹ ہونے سے تکلیف ہوگی لیکن وجہ جو بھی تھی دونوں وجہ ہی خوبصورت تھیں—
“ماں”—بیٹا خاموش ہوا تو ضرغام خان نے تڑپ کر پکارا تھا—کہ تبھی مقدس بیگم نے اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو ضرغام اپنا گال اسے سے ٹکاتے—تڑپ کر ان کا ہاتھ تھام گیا
“یہاں دوبارا مت آنا ضرغام—میں بہت گنہگار ہوں— تمہیں دیکھتی ہوں تو تمہارا باپ یاد آتا ہے—یاد آتا کہ ہے کس فرشتہ صفت انسان کی مجرم ہوں—اگر مجھے شوہر بھی اپنے جیسا ملتا تو شاید تم جیسا بیٹا دیکھنا نصیب نا ہوتا—میں نے نا اس کی قدر کی نا تمہاری—تمہیں دکھتی ہوں—تمہارا ظرف دیکھتی ہوں تو اپنی نظروں میں مزید گر جاتی ہوں”— نم لہجے میں کہتی وہ اپنا ہاتھ پیچھے کرتی رخ موڑ گئی تو ضرغام خان کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی مانند گرے تھے—جس پر عقیدت نے آگے بڑھتے بیٹوں کو باہر جانے کا اشارہ کرتے اپنا ہاتھ ضرغام خان کے کندھے پر رکھا تو وہ عقیدت کا ہاتھ تھامتے—کھڑا ہوا تھا—
ٹھیک ہے میں نہیں آؤ گا—لیکن میرے بچے اپنی دادی سے ملنے آتے رہے گے”—آنسو صاف کرتے نم لہجے میں کہتے کچھ دیر وہ ان کے پلٹنے کا انتظار کرتا رہا جب وہ ہنوز چہرہ موڑے بیٹھی رہی تو ضرغام خان نے قدم آگے بڑھا دیے تھے—
جبکہ دیوار سے سر ٹکاتے مقدس بیگم نے ہونٹوں پر چادر کا پلو رکھتے—اپنی سسکیوں کا گلہ گھونٹا تھا
_______
ضرغام خان کا موڈ ٹھیک کرنے کی خاطر وہ ضد کرتی اسے ڈیرے پر لے کر آئی تھی—جبکہ ضرغام خان جانتا تھا کہ یہاں ان ماں بیٹوں نے اسے آتے ہی بھول جانا ہے—
اور ویسا ہی ہوا تھا—
دیوار سے پشت ٹکائے گھور کر ان تینوں ماں بیٹا کو دیکھ رہا تھا—
عقیدت کو گھڑسواری کا شوق تھا—اور فارم ہاؤس گاؤں سے باہر تھا—اس لیے عقیدت کی گھڑسواری کے شوق کے لیے وہ ڈیرے میں ہی اس کا انتظام کر چکا تھا—جبکہ عقیدت کو وہ جاب کی اجازت بھی دے چکا تھا مگر عبایا اور نقاب میں—وہ جاب اس کا خواب تھی—اور ضرغام خان کبھی بھی عقیدت سے اس کا کوئی خواب نہیں چھین سکتا تھا—
سفید گھوڑے پر بیٹھی عقیدت اور اس کے آگے اپنے دونوں سپوتوں کو دیکھتے ضرغام خان نے کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھا تھا شام کے پانچ بجتے دیکھ اب کی بار اس نے ٹیک ہٹاتے قدم آگے بڑھائے تھے—
“عقیدت بس کرو—حویلی سب ویٹ کر رہے ہوگے”— ضرغام خان کے چلا کر کہنے پر عقیدت نے گھوڑے کی لگام تھامے کندھے آچکاتے تھے—جبکہ اس کے بیٹوں نے یہاں ماں کے ساتھ اپنا شوق پورا کرتے دیکھ باپ کی آواز پر آنکھیں میچتے—بازو پھیلائے تھے—
“اگلے دو منٹ میں اگر تم ماں بیٹا نا رکے تو یاد رکھنا—یہ ڈیرہ میرا ہے—آئندہ تم لوگوں کو نا یہاں گھوڑے نظر آئیں گے نا یہ جگہ”— ضرغام خان کی گرجدار آواز پر ان دونوں نے پٹ سے آنکھیں کھولیں تھیں—جبکہ عقیدت نے ضرغام خان کے قریب آتے گھوڑے کی لگام کھنیچی تو وہ اپنی ٹانگیں ہوا میں اٹھاتا زور سے زمین پر رکھتے رکا تو ضرغام خان نے دانت کچکچا کر اڑتی دھول پر آنکھیں میچ کر کھولیں تھیں—
“بابا”— گھوڑے کے رکتے ہی ان دونوں نے باپ کو دیکھتے بازو واہ کیے تو ضرغام خان نے سر نفی میں ہلاتے بازو اوپر کرتے ان دونوں کو تھامتے نیچے اتارا تھا— کیونکہ گھڑسواری ماں کے ساتھ کرنی ہوتی تھی اور اتارنے اور گھوڑے کی پشت پر بیٹھانے کی زمہ داری باپ کی تھی—
“آئیں ملکہ عالیہ—آجائیں خادم کو یہی تو کام ہے”—بازو اوپر کرتے عقیدت کی کمر پر ٹکاتے کہا تو وہ شان بے نیازی سے دونوں بازو ضرغام خان کی گردن میں حائل کرتی نیچے اتری تھی—
“تم دونوں ڈرائیور انکل کے ساتھ حویلی پہنچو—اگر میرے گھر آنے تک ریڈی نا ہوئے تو خیر نہیں تم دونوں کی”—ان دونوں کی معصوم شکلوں کو دیکھتے تنبیہہ کرتے لہجے میں کہا تو وہ اوکے بابا کہتے وہاں سے بھاگتے ہوئے نکلے تھے—انہیں وہاں سے نکلتا دیکھ ضرغام خان عقیدت کی جانب متوجہ ہوا تھا—
“غصہ آرہا ہے”—دونوں بازو ضرغام خان کی گردن کے گرد حائل کرتے—ہونٹ ضرغام خان کی گال پر مس کرتے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو ضرغام نے گھور کر عقیدت کو دیکھتے اپنے دونوں ہاتھ سختی سے عقیدت کی کمر پر ٹکاتے اسے خود میں بھنچا تھا
“اپنے بیٹوں کے سامنے تم مجھے یعنی ضرغام خان کو فراموش کر جاتی ہو—اگر آئندہ تم نے ان کے ہوتے مجھے ذرا سا بھی اگنور کیا تو یاد رکھنا میں بھی باپ ہوں ان کا—حویلی سے اٹھا کر بورڈنگ میں ڈالنے پر مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا”— ضرغام خان کی انگلیاں اپنی کمر میں دھنستی محسوس ہوئی تو عقیدت نے اپنے دانت اس کی تھوڑی میں گاڑھے تھے
“اور تم ایسا کرنے کا سوچ کر بھی دیکھو—اپنے بیٹوں کے ساتھ نا شفٹ ہوئی پھر کہنا”—دو بدو جواب دیتے—ہونٹ ضرغام خان کے گلے کی ہڈی پر رکھے تو ضرغام خان نے رخ بدلتے عقیدت کو دیوار سے ٹکاتے—ایک ہاتھ سے اس کے بازو تھامتے سر کے اوپر پن کیے تھے—
“تمہارے ساتھ تو میں کہی اور شفٹ ہونے کا سوچ رہا ہوں—جہاں صرف تم اور میں ہو—میری محبتیں—میری شدتیں اور میری شدتوں سے بکھری تمہاری سانسیں”— انگھوٹھا عقیدت کے ہونٹوں پر پھیرتے— خمار آلود لہجے میں کہتے—عقیدت کی سبز نگینوں سی آنکھوں میں جھانکا تھا—
عقیدت کی سانسوں کی خوشبو حواسوں پر چھاتی محسوس ہوئی تو ضرغام خان پوری شدت سے عقیدت کے بھرے بھرے ہونٹوں پر جھکا تھا—
ضرغام خان کی شدت کو محسوس کرتے عقیدت نے جھٹکے سے اپنے بازو چھڑواتے ضرغام خان کے کرتے کو گریبان سے دبوچتے—اپنی جانب کھینچا تھا—ضرغام خان کی شدتوں میں اپنی شدتیں شامل کرتی—وہ آنکھیں موند گئیں تھیں
عقیدت کے آنکھیں موندنے پر ضرغام خان کے ہونٹوں پر شریر مسکراہٹ رینگی تھی—عقیدت میں نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دباتے ہلکا سا کھینچا تو اس سے زیادہ شدت عقیدت کے لمس میں محسوس کرتے ضرغام خان کا قہقہہ فضا میں گونجا تھا
“تم بہت بتمیز ہو ضرغام”—پھولی سانسوں سمیت وہ حلق کے بل چلائی تو ضرغام خان نے نفی میں سر ہلاتے اسے اپنے حصار میں لیا تھا
“میری شیرنی—بس یہ روپ دیکھنے کا دل کر رہا تھا”—نرمی سے عقیدت کے ہونٹوں کی نمی کو چنتے—گردن سے بال ہٹاتے وہاں ہونٹ رکھتے پیچھے ہو کر کہا تو عقیدت نے سخت نظروں سے ضرغام خان کو گھورا تھآ
اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتا عقیدت اس کی گردن ہر جھکتی اپنے دانت گاڑھتی—پیچھے ہوئی تو ضرغام خان نے گردن پر ہاتھ رکھتے—آبرو آچکا کر اسے دیکھا تھا—
“مجھے لگا اسے بھی مس کر رہے ہوگے”—
“کر تو بہت کچھ رہا ہوں مس—لیکن وہ رات میں بتاؤں گا—فلحال جلدی چلو”—دونوں ہاتھوں سے عقیدت کے چہرے کے گرد بکھرے بالوں کو ٹھیک کرتے—چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے کہا تو عقیدت نے آبرو آچکاتے سر ہلایا تھا—
جس پر ضرغام پیچھے ہوتا عقیدت کا ہاتھ تھامتے—باہر کی جانب بڑھا تھا
_________
“تمہیں پتہ ہے—عائث نے سب کے لیے عمرہ پر جانے کا پلین کیا ہے”—کھانا کھاتے صبغہ کے کان میں سرگوشی نما لہجے میں کہا تو صبغہ نے خوشی و حیرت کے ملے جلے تاثرات سمیت اسے دیکھا تھا
“سچی”— ہاں نا یار—لیکن ابھی کسی کو نا بتانا وہ خود بتائیں گے”— صبغہ کے کہنے پر راز درانہ لہجے میں کہا تو صبغہ نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا تھا
برتھ ڈے سییلبریٹ کرنے کے بعد بچوں کو کھانا کھلا کر ان سب نے سلا دیا تھا— گھر کے بڑے بھی سونے کے لیے چلے گئے تھے—
ضرغام اور باقی سے لان میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے—جبکہ وہ سب بھی وہی سائیڈ پر دائرے کی صورت میں کرسیاں رکھے بیٹھیں تھیں—
تم دونوں نے ہمیں ایک ایک پر ہی ٹھرکا دینا ہے کیا”—صبغہ نے امتثال اور سلوی کو بیک وقت مخاطب کرتے ہوئے کہا تو امتثال نے بری گڑبڑائی تھی—جبکہ سلوی نے گھور کر اسے دیکھا تھا—
“نہیں جب تمہاری ٹیم بن جائے گی تو تم سے انسپائر ہو کر ہم بھی سوچ لے گے”—سلوی کے جواب دینے پر صبغہ نے منہ بسورا تھا
“یہ بات تم حوریہ کو بھی کہہ سکتی تھی نا”—عقیدت نے کیک کھاتے حوریہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو صبغہ نے ہاتھ جھلایا تھا
“یہ میری نازک جان ہے— اسے میں کیوں کچھ کہوں—جب حورعین بڑی ہوگی تھوڑی تب دیکھی جائے گی”—حوریہ کا گال کھینچتے—مسکرا کر کہا تو عقیدت کے ساتھ ان سب نے اسے گھور کر دیکھا تھا—
“سلوی چائے بنا کے لا دو یار”—ارمغان خان کے آکر کہنے پر سلوی سر ہلاتی اپنی جگہ سے اٹھی تھی
“صبغہ کافی بناؤ یار”—بالاج شاہ نے صبغہ کی کرسی کے پیچھے آتے—دونوں ہاتھ صبغہ کے کندھے پر رکھتے محبت بھرے لہجے میں کہا تو صبغہ نے گردن ترچھی کرتے گھور کر اسے دیکھا تھا
سب ایک ساتھ ہی بتا دیں”—عقیدت نے پلیٹ سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا تو اس کی جانب آتے ضرغام نے ہاتھ اٹھایا تھا—
جبکہ عائث نے بھی کندھے آچکا کر حوریہ کو دیکھا تو پلوشہ نے سوالیہ نظروں سے حدائق شاہ کو دیکھا تھا—جس پر اس نے مسکرا کر سر کو خم دیا تھا
امتثال نے بہرام کو دیکھنا چاہا تو وہ سامنے کہی نہیں تھا—پھر اپنے دائیں جانب سے آتے کپ کو دیکھتے گردن ترچھی کی تھی—اپنے پیچھے بہرام کو ہاتھ میں مگ تھامے دیکھ امتثال کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی تھی—
“یہی میسنا انسان ہمارے سامنے چائے کا نام لے کر گیا تھا”—حدائق شاہ نے دانت کچکچا کر کہا تو بہرام شاہ نے اسے نظر انداز کرتے امتثال کے قریب کرسی کھنیچتے جگہ سنبھالی تھی—
جبکہ صبغہ کا ہاتھ تھام کر اٹھاتے بالاج نے کچن کی جانب قدم بڑھائے تھے
حدائق کو منہ بناتے دیکھ پلوشہ نے تاسف سے سر ہلاتے قدم کچن کی جانب بڑھائے تھے—
“میں صرف اپنے لیے بناؤ گی”—عقیدت کے کہنے پر ضرغام خان نے اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے سر ہلایا تھا—
“میں اسی میں سے پی لوں گا”—ساتھ چلتے عقیدت کے پہلو میں گرے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی جسے اس نے فوراً چھپایا تھا
“آج میں بناتا ہوں چائے”— اگر اچھی نا بنی”—عائث خان نے آگے بڑھتے ہوئے کہا تو حوریہ نے مسکراہٹ دباتے سوال کیا تو عائث خان نے گردن ترچھی کرتے آنکھیں چھوٹی کرتے اسے دیکھا تھا
“پھر بھی پینی پڑے گے—اور کوئی آپشن نہیں”—کندھے آچکاتے لاپرواہی سے کہتے حوریہ کا ہاتھ تھامتے—قدم آگے بڑھائے تھے—
“میں دو کپ پیوں گا”—سلوی کو فریج سے دودھ نکالتے دیکھ قریب آتے کہا تو سلوی نے گھور کر ارمغان کو دیکھا تھا
“میں رہنے دوں گی وہی پی لیجئے گا”—نہیں کسی کا حق نہیں کھاتا میں— مطلب پیتا میں”— چہرے پر معصومیت سجائے جواب دیا تو سلوی نے گہری سانس بھرتے خود پر قابو کیا تھا
ان سب کی یہ نوک جھوک پچھلے پانچ سالوں سے ایسے ہی جاری تھی اور آگے ہمیشہ ایسے ہی رہنی والی تھی—
ان سب نے دشمنی سے محبت تک کا سفر ایک ساتھ کیا تھا—ایک دوسرے کے ہر روپ کو دیکھا تھا—اور پھر ہر روپ کو محبت کے رنگ میں رنگا تھا—نا ان میں اب کوئی حسد تھا—نا زیادہ کم کا لالچ—وہاں محبتیں تھیں—دلوں میں ایک دوسرے کے لیے فکر تھی پیار تھا—اور وفا تھی—ایک دوسرے پہ یقین تھا—اور یہی سب سے بڑھ کر تھا
