Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 09)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 09)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
عائث خان کمرے کا دروازا کھول کر اندر داخل ہوا تو نظریں بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سوگوار حسن لیے پلوشہ خان سے ٹکرائی
روئی روئی نیلی آنکھیں—سرخ سوجھے آنکھوں کے پپوٹے—جامن کلر کی لانگ شرٹ کے ساتھ آف وائٹ کیپری پہنے—سر پر دوپٹہ اوڑھے—گلابی بھرے بھرے گالوں پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشانات—نظریں اپنے ہاتھوں پر ٹکائے خاموش ساکت بیٹھی تھی
اپنی بہن کی اجڑی حالت دیکھ عائث خان کو لگا کسی نے اس کا دل پاؤں تلے روند دیا ہو
تڑپ کر لمبے لمبے ڈنگ بھرتا پلوشہ کی جانب بڑھا
“پلوشہ لالا کی جان یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے اپنی”—لہجے میں تڑپ لیے پلوشہ کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے استفسار کیا تو پلوشہ نے چونک کر اپنے سامنے بیٹھے عائث خان کو دیکھا
کئی باغی آنسوں لاکھ روکنے کے باوجود پلکوں کی باڑ توڑ کر رخسار پر بہہ نکلے
“لالا”—سسکی کی صورت میں عائث خان کو پکارا تو عائث خان نے سختی سے پلوشہ کو اپنے سینے میں بھینچ لیا
“لالا کی جان—کیا ہوا ہے—کسی نے کچھ کہا ہے کیا—کیا بات تنگ کر رہی ہے—اپنے لالا کو بتاؤ—میں سب ٹھیک کردوں گا لیشے—اپنے لالا کو بتاؤ تو صحیح—میں وعدہ کرتا ہوں کسی کو نہیں بتاؤ گا—ضرغام کو بھی نہیں بس تم مجھے بتاؤ کہ کیا پریشانی ہے—تمہاری ماں نے کچھ کہا ہے کیا”—پلوشہ کا سر تھپتھپاتے نرم لہجے میں کہتے آخر میں مقدس بیگم کے ذکر پر لہجہ سخت ہوا تو پلوشہ نے نفی میں سر ہلاتے بامشکل مسکرانے کی کوشش کرتے عائث خان کو دیکھا
“مم—میں آپ کی شادی انجوائے نہیں کر سکی—حوریہ اور عقیدت بھابھی کو برا نا لگا ہو—ضرغام لالا بھی ناراض”— عائث خان کے کندھے سے سر ٹکاتے مدھم لہجے میں اپنی بات کہی تو عائث خان نے نرمی سے ٹوک دیا
“نا ہم ناراض ہے نا تمہاری بھابھیاں—اور اب تو وہ دونوں ہمیشہ کے لیے آگئی ہیں—تم جب کہو گی تمہاری بھابھی کو پھر سے دلہن کی طرح سجا دوں گا— مجھے تو ویسے بھی اس کا دلہا بننے کا شوق—وہ دلہن بنے گی تو میں بھی دلہا بن جایا کروں گا—اسی لیے ٹینشن مت لو—تمہارا جب دل چاہے گا ہم شادی کر لیا کریں گے پھر تم دل کھول کر انجوائے کرنا”—پلوشہ کے ماتھے پر پیار کرتے نرم لہجے میں کہا تو پلوشہ نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا
عائث خان کافی دیر تو خاموشی سے پلوشہ کے جھکے سر کو دیکھتا رہا پھر نرمی سے پلوشہ کے ہاتھو کو اپنے ہاتھوں میں تھاما
“کیا بات ہے لیشے—یہ نہیں پوچھو گا کہ حدائق سے کیوں رشتہ توڑنے کی بات کی—نا یہ کہوں گا کہ تم نے غلط کیا—مگر بس یہ پوچھو گا اس کے پیچھے وجہ کیا تھی—کیونکہ جتنا میں اپنی بہن کو جانتا ہوں—تو پلوشہ خان صرف اور صرف محبت کر سکتی ہے—اس کا وجود محبت کی گواہی دیتا ہے—ذرا سی اونچی آواز پر سہم جانے والی کے دل میں اس قدر کسی کے لیے نفرت کیسے ہو سکتی ہے—پلوشہ خان محبتوں اور وفاؤں کی تو امین ہو سکتی ہے مگر نفرت اور رشتے توڑنے والی بے وفائی کرنے والی نہیں ہو سکتی—جانتا ہوں کہ منگنی کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی—مگر پھر بھی یہ رشتہ ایک دوسرے سے دو لوگوں کو منسوب کر دیتا ہے—
حدائق کو کیسے سنبھالا ہے وہ میرا مسئلہ ہے تم اس کی فکر مت کرو—مگر مجھے صرف یہ بتاؤ کہ تمہیں کس نے یہ کرنے کے لیے کہا ہے— آج اپنے بھائی سے جھوٹ مت بولنا لیشے—میرا مان نا توڑنا—اپنے لالا پر یقین رکھو اور بتاؤ”— پلوشہ خان کی آنکھوں سے متواتر بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے نرم لہجے میں کہا تو پلوشہ نے اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے عائث خان کو دیکھا
رو رو کر آنکھوں میں جلن ہوتی محسوس ہوئی
“لالا—مم—میں مم—مجھے معا—ف حدا—ئق مم-مارن”—ہچکیوں سے روتی ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتی کہ دھاڑ سے دروازا کھولتی مقدس بیگم ہڑبڑا کر اندر داخل ہوئی
عائث خان نے خون چھلکاتی آنکھوں سے ناگوار سے مقدس بیگم کو دیکھا
جو جبراً مسکرانے کی کوشش کرتی باہر کھڑی ملازمہ کو اندر آنے کا اشارہ کر رہی تھی
ملازمہ خاموشی سے ٹرے ٹیبل پر رکھ کر باہر گئی تو مقدس بیگم نے اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کیا
جبکہ پلوشہ سہمی نظروں سے مقدس بیگم کو دیکھ رہی تھی
“یہ کیا بتمیزی ہے–کسی کہ کمرے میں آنے کا یہ کونسا انسانی طریقہ ہے”—اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو عائث خان کے خطرناک تیور دیکھ کر مقدس بیگم نے بے ساختہ اپنے قدم پیچھے لیے
“وہ طبعیت ٹھیک نہیں تھی نا پلوشہ کی تو کھانا لائی تھی صبح سے کچھ کھایا نہیں تھا”—ماتھے پر آئے پسینے کو اپنے پلو سے صاف کرتے منمنا کر کہا تو عائث خان نے خون چھلکاتی آنکھوں سے گھور کر انہیں دیکھا
“واہ مطلب جانتی تھی کہ اس کی طبیعت خراب ہے اسی لیے اتنی احتیاط سے دروازا کھول کر اندر آئی ہیں”—چبھتے لہجے میں طنز کیا تو مقدس بیگم نے دانت پیس کر اپنے سامنے کھڑے اس دیو قامت شخص کو دیکھا
چھ فٹ سے نکلتا قد—چوڑا مضبوط سینہ –کسی ریاست کے شہزادے کی مانند مغرور ناک—مونچھوں تلے سختی پیوست عنابی ہونٹ—وائٹ شروانی پہنے—چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں غصے کی سرخی لیے–
اپنی مردانہ وجاہت سے وہ کسی کو بھی زیر کرسکتا تھا—
چہرے پر ہمہ وقت چھائی سنجیدگی عائث خان کی مردانہ وجاہت کو اور دلکش بناتی تھی
“ہنہہ—بڑے آئے بہن کی فکر کرنے والے—آڑے جس لڑکے کو اپنی ماں کی پرواہ نہیں کہ وہ منہ اندھیرے تن تنہا شہر چلی گئی—اکلوتے بیٹے کی شادی کا ارمان پورا ناکر سکی—اور بیٹے کو ماں سے زیادہ دشمن کی بیٹی عزیز تھی—اسے بیاہنے کا بھوت سوار تھا—وہ شخص اب میرے سامنے اپنی سوتیلی بہن کی فکر کے ڈرامے کرے گا”— اپنے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتی ہمت کر کے طنزیہ لہجے میں بولی مگر عائث خان کو پشت پر دونوں ہاتھ باندھے—چہرے پر خونخوار تاثرات سجائے اپنی جانب بڑھتا دیکھ مقدس بیگم کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی
“آپ کی عزت اس وجہ سے نہیں کرتا کہ عورت ہے—اس لیے کرتا ہوں کہ میں مرد ہوں— عورت کا سائبان اور اس کا محافظ—عورت جس روپ میں بھی ہو اس کی عزت کرنا مجھ پر فرض ہے—اس کے علاؤہ آپ کی عزت ضرغام خان کی ماں سمجھ کر کرتا ہوں—ورنہ آپ جیسی عورت تو ماں کہلانے کے لائق نہیں—وہ سب ایک طرف آج کے بعد میری بہن کے لیے سوتیلی کا لفظ استعمال کیا تو یقین رکھے سوتیلی ماں جی پہلی فرصت میں شوہر کے پاس کا ٹکٹ کٹوا دوں گا—
اور رہی بات میری ماں کے تن تنہا جانے کی—تن تنہا تو عائث خان سے رشتہ رکھنے والی عورت اللہ کے حکم صرف عزرائیل کے ساتھ اوپر ہی جاسکتی ہے—اس سے پہلے تو یہ غلط فہمی اپنے دماغ سے نکال دیں—میری ماں کے یہاں سے نکلنے سے اپنے کمرے میں داخل ہونے تک وہ میری نظروں کے حصار میں تھیں—آئندہ پلوشہ ٹھیک ہو یا نا ہو بنا اجازت کے کوئی اس کے کمرے میں داخل بھی ہوا تو ٹانگیں توڑ دوں گا—اور جائیں آپ یہاں سے کھلا دوں گا میں کھانا”—سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو مقدس بیگم نے کپکپاتے ہاتھوں پر بامشکل قابو پانے کی کوشش کرتے سر اثبات میں ہلایا
اور عائث خان کے باہر کی جانب اشارہ کرنے پر سر پٹ وہاں سے بھاگی جبکہ پیچھے بیٹھی پلوشہ سانس روکے عائث خان کے اس روپ کو دیکھ رہی تھی
پھر عائث خان کے کھانا کھلانے پر خاموشی سے کھانا کھاتے—عائث خان کے سوالوں سے بچنے کی خاطر نیند کا بہانہ کرتی آنکھیں موند گئی
جسے دیکھ عائث خان گہری سانس بھرتا لائٹس اوف کرتا پلوشہ کے روم سے نکل آیا
————
عائث خان کمرے میں داخل ہوا تو نظریں سامنے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے—چہرے پر گھونگھٹ اوڑھے حوریہ شاہ پر گئی
حوریہ کے وجود میں کوئی حرکت محسوس نا کر کہ عائث کو اندازہ ہوا کہ وہ سو رہی ہے—
اپنے پیچھے کمرے کا دروازا بند کرتے—اپنی شیروانی کے بٹن کھولتے چھوٹے مگر مضبوط قدم لیتا حوریہ کی جانب بڑھا
حوریہ کے قریب صوفہ پر بیٹھ کر خاموش مگر گہری نظروں سے حوریہ کے دلکش سراپے کو آنکھوں کے رستے دل میں اتارا
نظریں گھونگھٹ سے سرکتی کلائیوں پر آئیں تو ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ اپنی چھپ دکھلا گئی
اپنا بایاں ہاتھ بڑھا کر نرمی سے حوریہ کا دایاں ہاتھ تھاما تھا — چوڑیوں کی چھن سے ارتعاش پیدا— حوریہ شاہ کی کلائیوں میں پہنی چوڑیوں کی چھن عائث خان کو اپنے دل میں گونجتی محسوس ہوئی—
“کوئی دھن اور ساز مجھے اس قدر مسرور نہیں کرسکتے جتنا تمہاری ہاتھوں میں پہنی ان چوڑیوں کی چھن چھن کی آواز مجھے مسرور کرسکتی ہے—دنیا کے سارے ساز اس کے آگے کوئی معنی نہیں رکھتے”— مان بھرے لہجے میں سرگوشی کرتے نظریں گھونگھٹ سے نظر آتے جھکے چہرے پر مرکوز کیں
گھونگھٹ کی اوٹ میں سہمی ہرنی جیسی آنکھوں سے عائث خان کو دیکھتے اپنے خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیر کر انہیں تر کیا
“اب تو شوہر ہوں تمہارا اب تو میرا انتظار تم پر فرض ہے مسسز عائث خان—ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے– کلائی میں پہنی چوڑیوں اور کنگنوں کو گھماتے مسکراتے ہوئے کہا تو حوریہ نے نا محسوس انداز میں ہاتھ پیچھے سرکاتے چہرہ اٹھایا تھا
میں تو ان- انتظار ہی کر رہی تھی”— اپنی کپکپاتی آواز پر بامشکل قابو پاتے نرم لہجے میں جواب دیا
“میرا انتظار کیوں کریں گی اپ– میرا انتظار کیا ہوتا تو بے وفائی نا کرتی”– یک دم ہی اس کا لہجہ بدلا تو جو حوریہ کا رنگ فق کر گیا تھا اس بات کے بعد کمرے میں سکود چھا گیا تھا
ہاتھوں پر سر گرائے اپنے بالوں میں انگلیاں الجھا کر گہری سانس بھری
حوریہ کو عائث خان اس وقت اپنے حواسوں میں نا لگا
ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ عائث خان جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا اور کبرڈ کی جانب بڑھا
کبرڈ کا دروازا کھول کر سامنے نظر آتے لاکر پر کوڈ ڈالتے اسے کھولا لاکر میں سے ایک بلیک کلر کا باکس نکالا
جبکہ حوریہ نا سمجھی سے عائث خان کو دیکھ رہی تھی
حوریہ کے قریب کھڑے ہوتے جھک کر نرمی سے حوریہ کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے روبرو کھڑا کیا
بائیں ہاتھ میں باکس تھامے— دوسرے ہاتھ سے گھونگھٹ پلٹا تھا
“صدقے”— عائث خان کے ہونٹوں سے بے ساختہ نکلاتو حوریہ نے پٹ سے اپنی گرے کانچ سی شفاف آنکھوں کو کھولا
نظروں کا تصادم اس قدر تصادم اس قدر جان لیوا تھا کہ عائث خان کو اپنا آپ ان میں ڈوبتا محسوس ہوا
ہاتھ میں تھامے باکس سے ڈائمنڈ پینڈٹ نکال کر حوریہ کے گلے میں پہنایا
پینڈٹ پر لکھے مسسز—عائث کو دیکھتے دو قدم پیچھے ہوتے باکس کو بند کرتے ٹیبل پر رکھا تھا
جبکہ حوریہ سانس روکے عائث خان کو دیکھ رہی تھی
“مجھے ہمیشہ اپنی ذات میں ایک خالی پن محسوس ہوتا تھا—مگر تمہارا یہ روپ دیکھنے کے بعد—تمہیں میرے نام سے منسوب— دیکھ مجھے وہ خالی پن ختم ہوتا محسوس ہو رہا ہے—مجھے معلوم نہیں تھا کہ تمہارا میرا ہوجانا اور خود کو میرے لیے یوں سجانا میرے وحشتوں بھرے خالی پن کو ختم کر دے گا—تو یقین مانو حوریہ شاہ میں بہت پہلے تمہاری رضامندی کے بغیر بھی تمہیں اپنا بنا کر—اس خالی پن کو ختم کر گزرتا—”— لہجے میں جذبات کی آنچ لیے سرگوشی کی تو حوریہ کو اپنا وجود ٹھنڈا پڑتا محسوس ہو رہا تھا
اپنی بے ترتیب ہوئی دھڑکنوں کا شور کانوں میں سنائی دینے لگا تو حوریہ شاہ نے گھبرا کر دور ہونا چاہا
تبھی عائث خان نے ایک جھٹکے میں حوریہ کا بازو تھامتے قدم ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھائے
حوریہ کو ڈریسنگ ٹیبل کے قریب کھڑا کرتے خود دو قدم پیچھے لیے—
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں”—ہتھیلیوں کو آپ میں رگڑتے نظریں جھکائے مدھم لہجے میں کہا تو عائث خان کا خوبصورت قہقہہ روم کی فضا میں گونجا تو حوریہ نے حیرت سے عائث خان کو دیکھا
“کیا ہوا ہستا ہوا اچھا نہیں لگتا کیا—جو اس قدر حیرت سے دیکھ رہی ہو—یا تمہیں میرا خوش ہونا ہی نہیں پسند حوریہ شاہ”—- سرد لہجے میں کہتے –
“عائث—مجھ سے ناراض ہیں”— رخ بدلنے پر لہنگا دونوں ہاتھوں میں تھامتے اس کی پشت کے قریب کھڑے ہوتے سوال کیا تو دوسری جانب ہنکارہ بھرا گیا
“ہنہہ—مگر میں ناراض رہنا نہیں چاہتا—
آنا کہتی ہے چھوڑ دوں تمہیں
مگر عشق کہتا ہے سب قربان تم پر”— رخ حوریہ کی جانب کرتے دونوں ہاتھ پیچھے پشت پر باندھتے تھکے تھکے لہجے میں کہا تو حوریہ نے بے ساختہ سر جھکایا تھا
“انتظار کیوں نہیں کیا میرا”— حوریہ کی تھوڑی کو نرمی سے تھامے—سرد لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو حوریہ نے عائث خان کی چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں دیکھتے دانے کچکچائے تھے
عجیب پیس تھا– جب سے روم میں آیا تھا ہزار باد موڈ چینج کر چکا تھا — کسی ایک موڈ پر قائم رہے تو وہ بیچارہ بھی اس کے مطابق بات کریں– لیکن شاید اس پیس کا موڈ والا سسٹم ہی خراب تھا — ہونٹوں کو زبردستی پھیلاتے حوریہ نے دل میں سو سلواتوں سے اس خان کو نوازتے مسکراتے ہوئے اس دیکھا تھا جو اس کے صبر کو بہر بری طرح آزما رہا تھا–
“آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ میں آپ کا انتظار کر رہی تھی”— مدھم لہجے میں کہتے لہنگا تھامے رخ ڈریسنگ مرر کے سامنے کیا
“ہاں نیند کے مزے میں ڈوب کے انتظار کیا جا رہا تھا– طنزیہ لہجے پر حوریہ نے آئینے میں نظر آتے عائث کے چہرے کو دیکھتے سر جھٹکا تھا
کتنا مناتی وہ اسے– تھی تو شاہوں کا خون نا چاہے لاکھ مختلف ان سے مگر آنا تو وراثت میں ملی تھی — لاکھ کوشش کے باوجود میں آڑے آجاتی تھی — مگر پھر بھی آنا کو پاؤں تلے روندتے اس نے اس رشتے کو ٹھیک کرنے کے لیے پہل کرنے کا فیصلہ کیا تھا
“مجھے آپ کا ساتھ ہمیشہ کے لیے مل گیا ہے عائث—اب میں ہمیشہ کے لیے یہی ہوں — آئندہ آنے والے دنوں میں انتظار کی نسبت آئی تو جاگ کر ہی کروں گی”–حوریہ کے دانت پیس کر کہنے پر عائث خان آنکھوں کو گھمایا تھا–
“آپ کا اس احسان کا بدلا یہ خان نجانے کیسے اتار سکے گا”— طنزیہ لہجے میں کتے کبرڈ سے اپنے کپڑے نکالتے دھار کی آواز سے واشروم کا دروازا بند کرتے چینج کرنے گیا تو حوریہ نے تلملا کر مٹھیاں بھینچی تھیں اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتی تھی —
“اگر بت بن کر کھڑے ہونے کا شوق پورا ہوگیا ہو تو مسسز عائث جا کر چینج کر لے-رات بہت ہو گئی ہے—صبح میرے مہمانوں نے شہر سے آنا مجھے انہیں رسیو کرنے بھی جانا — واشروم سے نکلتے حوریہ کو اپنی جگہ وہی کھڑے دیکھ کہتے قدم بستر کی جانب بڑھائے
اور دوسری بات تیار رہیے گا مسسز عائث بہت سی باتوں کا حساب بھی بے باک کرنا ہے “–
جبکہ اس نے سر اثبات میں ہلانے پر اکتفا کیا کپڑے لیے اگلے ہی لمحے وہ واشروم میں فرار ہو چکی تھی
“آج کہ بعد تمہارے وجود پر میں کوئی ایسی چیز نا دیکھو جو کسی غیر مرد کو تمہاری جانب متوجہ کرنے کا باعث بنے—چوڑیاں پہننی ہیں پہنو—پائل پہننی ہیں پہنو—
ہار سنگھار کیا سولہ سنگھار بھی کرنا ہے تو دل کھول کر کرو—مگر اس حویلی کی چار دیواری تک—زیادہ بہتر یہی ہے کہ تم یہ سب صرف میری موجودگی میں کرو—باہر جاتے وقت تم کوئی ڈارک پرفیوم یوز نہیں کرو گی—یہ کوئی پابندی یا حکم نہیں میرا حق ہے مسسز عائث خان”— ابھی وہ آکر آنکھیں موندے سونے کی کوشش کر رہی تھی جب عائث کی بھاری آواز روم میں گو جی تو حوریہ نے کوفت سے آنکھیں کھولے اندھیرے میں اسے گھورنے کی کوشش کی تھی عجیب خان اس کے پلے پڑا تھا — عجیب نہیں شاید عجیب تر– ابھی وہ اپنے خیالوں میں گم ہی تھی کہ آواز پھر سے گو جی تو حوریہ نے سختی سے آنکھیں میچتے کروٹ بدلتے کمبل کو سر تک تانا تھا جبکہ وہ کہہ رہا تھا–
“تم میری ہو حوریہ—اور میں اپنی چیزوں میں شراکت برداشت نہیں کرتا—تم تو پھر میری بیوی ہو—— تمہاری چوڑیوں اور پائل کی چھنکار کو سننے کا حق صرف میرا ہے—تمہارا سجنا سنورنا صرف میرے لیے ہونا چاہیے—تم خان کی عزت ہو—اور عزت سے بڑھ کر تو خان کو جان بھی عزیز نہیں ہوتی—اسی لیے تمہیں عزت بنایا ہے جان نہیں—کیونکہ جان تو قربان کر سکتا ہے خان—مگر عزت پر کسی کا سایہ بھی برداشت نہیں کرسکتا—قربان کرنا تو دور کی بات—تمہیں لگے کہ میں شوہر ہونے کا ناجائز فایدہ اٹھا رہا ہوں دھونس جما رہا ہوں—تو تمہیں بھی اجازت ہے جیسے مرضی حق جتالو — خیر یہ سب پابندیاں یا قید نہیں ہیں — اگر تم یہ سب کرو گی تو مجھے اچھا لگے گا”– کمرے میں خاموشی چھائی تو حوریہ نے آنکھیں کھولتے چہرے سے کمبل کو ہٹایا تھا نم آنکھوں سے چھت کو گھورتے سر جھٹکتے دوبارا سے آنکھیں موندی تھیں
___________
یہ منظر جنگل کے قریب بنے ایک شاندار فارم ہاؤس کا تھا—جو اس وقت گہری رات کا ہی حصہ لگ رہا تھا—
جہاں ہر طرف گہری رات کی سیاہی تھی وہی—فارم ہاؤس کی سیاہ دیواریں بھی اسی رات کا حصہ معلوم ہو رہی تھی
آسمان پر چمکتے چاند کی روشنی بکھری وہی فارم ہاؤس کے گلاس ڈور سے لاونج میں لگی لائٹس اور فانوس کی روشنی چھن سے باہر دور تک نظر آرہی تھی—
تبھی میں بیٹھے وجود نے ساری لائٹس کو بند کر کہ ہاتھ میں تھامے ریموٹ سے فانوس کی روشنی کو کم کرتے ریموٹ سامنے ٹیبل پر رکھا
کھڑے ہو کر ایک نظر ہاتھ میں بندھی گھڑی پر ڈالی تو ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ رینگ گئی
صوفے سے کھڑے ہوتے قدم لاؤنج کے دائیں جانب راہدری کی طرف بڑھائے تو اس وحشت بھری خاموشی میں ٹک ٹک کی آواز گونجنا شروع ہوئی
مغرورانہ اور مضبوط چال چلتی وہ اس خاموشی کو اپنی ہیل کی ٹک ٹک سے توڑتی لفٹ کے سامنے رکی
لفٹ کے دروازے واہ ہوتے ہی اس میں داخل ہو کر بیسمنٹ کے لیے نمبر بٹن دبایا تو اگلے کچھ لمحوں میں لفٹ بیسمنٹ میں کھلی
ہاتھ بڑھا کر لائٹس اون کی تو شیشے سا چمکتا بیسمنٹ روشنی میں نہا گیا
بیسمنٹ میں ایک الگ ہی دنیا قائم تھی—
جہاں بڑے سے لیکثری لاونج میں سفیدی مرمری چمکتے فرش پر اپنا عکس تک دکھائی دے رہا تھا—
لاونج کو آف وائٹ اور گولڈن رنگ کے امتزاج سے سیٹ کیا گیا تھا—
آف وائٹ صوفہ—جس پر لائٹ گولڈن کلر کے کشنز پڑے تھے— صوفے کے سامنے شیشے کی میز جس کے کناروں پر گولڈن ڈیزائن بنے تھے—
ٹیبل کے بالکل اوپر لاونج کے وسط میں لگے گولڈن فانوس سے لاونج کی خوبصورتی میں چاند چار لگ گئے تھے—
لاونج کے دائیں جانب امریکن طرز سے بنے اوپن کچن کے قریب سے گزرتے ہاتھ بڑھا کر سلیپ سے سیب اٹھا کر ہاتھ میں تھاما
دس قدم کے فاصلے پر آکر رک کر گہری سانس بھرتے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر دروازا کھولا
_____________
بالاج شاہ کو معلوم تھا کہ حوریہ اور عائث خان کی شادی کی تاریخ طہ ہو گئی ہے
مگر وہ اسے ڈائیریکٹ جا کر نہیں توڑ سکتا تھا—حوریہ پہلے سے ہی اس سے بدگمان تھی—اس نے غصے میں حرکت ہی ایسی کی تھی—
مسئلہ صرف بدگمانی کا نہیں تھا—وہ پسندیدگی جس کی جھلک بالاج شاہ کو حوریہ کی آنکھوں میں دکھائی دی تھی وہ اس دن کے بعد کبھی دکھائی نا دی
ان کانچ سی شفاف آنکھوں میں بالاج شاہ نے اپنی لیے نفرت محسوس کی تھی—
اور اب۔ بالاج شاہ کو حوریہ کی ناراضگی ختم کرنا تھی
وہ پاکستان کب کا آچکا تھا—
مگر اس نے بہرام شاہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی کہ وہ ابھی ترکی میں ہی ہے—
عائث خان کو شادی کے دن قتل کر کہ وہ اس کا قصہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا تھا—
کیونکہ وہ سچ میں بے رحم شاہ تھا—اس کی نظر میں دشمنی کا مطلب مرنا یا مار دینا تھا—نا کہ انسانیت یا رشتوں کے واسطے دشمنی سے پیچھے ہٹ جانا—
شادی والے دن وہ حویلی موجود تھا—مگر ہر کوئی اس کی موجودگی سے ناواقف تھا—
عائث خان پر نشانہ تانے وہ اسے موت کے گھاٹ اتارنے ہی والا تھا جب اپنی گردن پر کوئی چیز چبھتی محسوس ہوئی
اس کے اگلے ہی پل بےجان ہوتے ہاتھوں سے بندوق چھوٹ کر زمین بوس ہوئی
اپنی بند ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھولنے کی کوشش کرتے اپنے پیچھے کھڑے لوگوں کو دیکھنے کو دیکھنا چاہا مگر پل میں آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا
دوگھنٹے پہلے سے وہ ہوش میں آچکا تھا—مگر کمرے میں چھائے گھپ اندھیرے سے وہ جگہ اور وقت کا اندازہ نہیں لگا پارہا تھا
مگر جو چیز بالاج شاہ کے سینے میں آگ لگانے کا باعث بن رہی تھی—وہ تھی حوریہ شاہ کا عائث خان کا ہوجانا
یہ بات بالاج شاہ کو ان دیکھی آگ میں جلا رہی تھی
ابھی وہ اپنی ہی سوچو میں گم تھا کہ کمرے کے باہر کسی کے چلنے کی آواز سن ٹھٹھکا
قدموں کی چاپ جیسے جیسے قریب ہو رہی تھی—ویسے ویسے بالاج—شاہ کے غصے کا گراف بڑھ رہا تھا
وہ جو بھی تھا بالاج شاہ کے قہر سے بچنے نہیں والا تھا—
تبھی کمرے کا دروازا کھلا تو بالاج شاہ نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچ لیے
اتنی دیر اندھیرے میں رہنے کے باعث—دروازے سے آتی لاونج کی تیز روشنی میں آنکھوں میں چھبن سی ہوئی
اپنی گہری سیاہ آنکھوں کو زور سے بند کر کہ کھولا تو نظریں دروازے کے بیچوں بیچ استاذہ وجود پر گئیں
ابھی بالاج شاہ غور کرتا کہ اسی وجود نے قدم آگے بڑھا کر دروازا اپنے پیچھے بند کر دیا
کمرے میں ایک بار پھر سے سکوت چھا گیا تھا
ہیل کی آواز نے بالاج شاہ کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا—
تبھی اپنے چہرے کے قریب کسی کی گرم سانسوں کی تپش محسوس ہوئی تو بالاج شاہ نے اندھیرے میں اس وجود کو گھورنا چاہا
کہ ایک دم سے کمرہ روشنی میں نہا گیا—
اہنی آنکھوں کو زور سے بند کر کہ کھولتے بالاج شاہ نے قہر بھری نظروں سے سامنے دیکھا
جہاں سفید پینٹ شرٹ کے ساتھ—پنک گھٹنوں تک لانگ کوٹ پہنے—اسٹریٹ بالوں کو کندھوں پر کھلا چھوڑے—گلابی بھرے بھرے ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک لگائے—بھوری شہد رنگ آنکھوں میں چمک لیے—گلے میں پہنے پینڈٹ پر لکھے لفظ بی پر اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی پھیرتے بالاج شاہ کے دیکھنے پر آنکھ دبائی تو بالآج شاہ نے اپنے بندھے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی
“سبھی جانتے ہیں یہاں کہ
محبت کو ازل سے زوال ہے
مگر تجھ سے کرنے کو
خسارے کون دیکھے گا”
بالآج شاہ کے چہرے پر جھکتے پراسرار لہجے میں شعر کہتے ایک ہی جھٹکے میں بالآج شاہ کے ہونٹوں پر لگی ٹیپ کو کھینچ کر اتارا تو بالآج شاہ نے جبڑے بھنچ کر خون چھلکاتی آنکھوں سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا
جو اس قدر خوبصورت تھی کہ کوئی بھی اسے دیکھ کر دل ہار بیٹھے
“میں تمہاری چمڑی ادھیڑ دوں گا صبغہ شاہ—تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہ گھٹیا حرکت کرنے کی—اگر اگلے دس سیکنڈ میں تم نے مجھے آزاد نا کیا تو اپنا انجام سوچ لینا بیوقوف لڑکی—
تمہاری وجہ سے اگر میں نے حوریہ کو کھویا تو یاد رکھنا—میں تمہاری رگ رگ میں زہر بھر کر وہ موت دوں گا کہ دیکھنے والے توبہ کر اٹھے گے”— شیر سی دھاڑ لیے غرا کر کہا تو کسویٰ شاہ نے زخمی شکوہ کناں نظروں سے بالاج شاہ کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھا
“میں تو تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنی محبت میں قید کرنا چاہتی ہوں بالاج شاہ—دنیا کے توبہ کرنے کا تو نہیں پتہ مگر میری محبت پر عش عش ضرور کر اٹھے گی—میری رگ رگ میں تم کیا زہر بھرو گے بالاج—یہاں تو پہلے ہی تمہارا عشق خون کی مانند گردش کرتا ہے—تمہیں غصہ دکھانا ہے غصہ دکھاؤ—برا بھلا کہنا ہے کہہ لے—تمہارا ہر ستم سر آنکھوں پر—
مگر اب تم حوریہ کا نام بھی مت لینا”— بالآج شاہ کی سیاہ گہری آنکھوں میں اپنی شہد رنگ آنکھیں گاڑھے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو بالآج شاہ نے ناگواری سے صبغہ شاہ کی جانب دیکھا
“آواز نیچی رکھو جاہل عورت—بہت اچھے سے جانتا ہوں کہ کس کے دم پر اتنا اچھل رہی ہو—بہرام شاہ نے ساتھ دیا ہے نا تمہارا—وہی ہے نا اس سب کے پیچھے—
کیونکہ یہ تو ناممکن ہے کہ بہرام شاہ کے ہوتے کوئی اس کے بھائی کے سائے تک پہنچ جائے—
اب اگر اپنی زندگی عزیز ہے تو ہاتھ کھولو میرے—یہ جو عشق عاشقی کا بھوت چڑھا ہے نا دماغ پر یہ میرے ہی دم درود سے اترے گا ہاتھ کھولو میرے—
میں بھی دیکھو تو دیکھو عشق خون میں سرائیت کرتا کیسا دکھتا ہے”—بالاج شاہ کے جبڑے بھنچ کر دھاڑنے پر صبغہ شاہ نے بے ساختہ قدم پیچھے لیے
“نہیں کھولو گی جو کرنا ہے کر لو—اگر تم نے مجھے ہاتھ بھی لگایا تو یاد رکھنا بالآج—بہرام لالا تمہاری عمر کا لحاظ بھی نہیں کرے گے—اور جو پھر تمہاری کٹ لگے گی بستر پر لیٹنے سے بھی قاصر ہوجاؤ گے”—چہرے پر معصومیت طاری کیے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا تو بالآج شاہ نے نخوت سے سر جھٹکتے چہرے کا رخ بدلا
“دفع ہو جاؤ یہاں سے—اور لالا سے کہو جو کہنا ہے جلد میرے سامنے آکر کہیں—یہ جو کمزور سی رسیاں میرے ہاتھوں میں بندھی ہیں— انہیں میں صرف اپنے لالا کی مرضی جان کر خاموشی سے برداشت کر رہا ہوں—ورنہ تمہاری سوچ ہے کسویٰ شاہ یہ معمولی سی رسیاں مجھے روک سکتی ہیں—شکل گم کرو اپنی—اور یہ غلطی فہمی نکال دو کہ حوریہ کہ رخصتی ہوگئی ہے تو میں اسے چھوڑ دوں گا—
وہ بالآج شاہ کی تھی اور تاحیات میری ہی رہے گی—اب کھسکو یہاں سے”— آبرو آچکا کر طنزیہ لہجے میں کہتے کرسی کی پشت سے سر ٹکایا تو صبغہ شاہ نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر قابو پایا
اگر یہ شخص صبغہ شاہ کے دل کی سلطنت پر براجمان نا ہوتا تو وہ کبھی پلٹ کر بھی اس کی طرف نا دیکھتی— وہ جس نے کبھی شکست نہیں کھائی تھی—اس شخص کی محبت میں ہر روز ہار رہی تھی—کبھی اپنے دل کے آگے اور کبھی اس شخص کی نفرت کے آگے
“اب بندھے رہو یہی—تمہیں عزت راس ہی نہیں پاگل شخص—جب تک عائث خان تمہیں اپنے بچوں کا ماموں نہیں بنا دیتا تب تک بہرام لالا سے کہہ کر تمہیں یہی قید رکھنے والی ہوں— لالا کی مرضی کی وجہ سے رکے ہو نا تو یہی رہو اب”—بالاج شاہ کے بال دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں دبوچتے سر کو جھٹکے دیتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو بالآج شاہ نے دانت کچکچا کر اس پاگل لڑکی کو دیکھا
جو اس کے پہلے سے چکراتے اور درد سے پٹھتے سر کو اپنے غصے کا نشانہ بنا رہی تھی—
ابھی بالآج شاہ غصے میں پھر سے کچھ کہتا جھٹکے میں بالآج شاہ کے بالوں کو چھوڑتے دروازے کی جانب دوڑ لگائی
جیسے وہ اپنے لالا کی مرضی کو بھاڑ میں جھونک کر ابھی ان رسیوں کو توڑ کر صبغہ شاہ کی ہڈیوں کا سرمہ بنا دے گا
یہ حرکت تو کر لی تھی مگر اب وہ جانتی تھی کہ یہ شخص اسے چھوڑنے نہیں والا
————-
“لالا وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں”—صبغہ شاہ کے کہنے پر دوسری جانب فون کان سے لگائے کھڑے بہرام شاہ نے ہنکارہ بھرا
“ٹھیک ہے میں کل تک آجاؤں گا— اور اب تم گھر جاؤ واپس وہاں نا آنا— بالآج کو میں سنبھال لوں گا”— بہرام شاہ کے سنجیدہ لہجے پر صبغہ شاہ نے سر اثبات میں ہلایا
“جی لالا میں بس نکل ہی رہی ہوں—بالاج کی کل میٹنگ بھی تھی—میں اسے اٹینڈ کر لوں گی—آپ بس انہیں سنبھال لیجئے گا”—صبغہ شاہ کے منہ بسور کر کہنے پر بہرام شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“ٹھیک ہے اپنا رکھنا اللّٰہ حافظ”— بہرام شاہ کے فون بند کرنے پر صبغہ نے گہری سانس بھر کر کمرے کے بند دروازے کو دیکھا اور اٹھ کر قدم لفٹ کی جانب بڑھائے
_________
کمرے میں پھیلی روشنی کو محسوس کرتے عقیدت نے چہرے سے کمفرٹر ہٹایا تھا — گردن موڑ کر صوفے کی جانب دیکھا تو ہاتھ میں نیوز پیپر تھامے ضرغام خان نے نظریں اٹھاتے اسی جانب دیکھ تھا– نظریں ملنے پر وہ نظریں چراتی اٹھ کر بید کراؤن سے ٹیک لگا چکی تھیں
“ایسے کیوں دیکھ رہے ہو – اور کیا ٹائم ہوا ہے”—ضرغام خان کو مسلسل اپنی جانب دیکھتے پا کر اردگرد نگاہ دوڑاتے مدھم لہجے میں کہا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں”– کندھے آچکا کر جواب دیتے نیوز پیپر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے پیج پلٹا تھا
“آیا بڑا بیوی والا( منہ میں بڑبڑا کر کہا تھا)– اور ٹائم کیا ہوا ہے—اتنے بڑا کمرہ تو بنا لیا ایک گھڑی بھی دیوار پر لگا لیتے تو کونسا پیسے کم پڑ جانے تھے تمہارے”—
“تمہارے آنے سے پہلے لگی ہوئی تھی—مگر جیسے ہی تمہارے آنے کی خبر ہوئی میں نے گھڑی آتار دی”— نیوز پیپر کو ٹیبل پر رکھتے– وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا — دونوں ہاتھ پیچھے پشت پر باندھتے عقیدت کی آنکھوں میں ابھرتی حیرت کو دیکھتے مسکرا کر دیکھتے قدم اس کی جانب بڑھائے تھے
“کیا مطلب میرے آنے سے گھڑی کیوں اتروا دی”—ضرغام خان کی نیلی آنکھوں میں اپنی سبز نگینوں جیسی موٹی موٹی آنکھوں کو گاڑھتے حیرت سے استفسار کیا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی
“کیونکہ تمہارے آنے سے پہلے میں وقت کا پابند تھا—اپنا ہر کام گھڑی کی سوئی کے گھومنے کے حساب سے کرتا تھا—مگر اب میں صرف تمہارا پابند بن کر رہنا چاہتا ہوں—تمہیں اپنی محبت کا پابند کرنا چاہتا ہوں— میری اجازت کے بنا کوئی اس کمرے کے دروازے کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا اندر آنا تو دور کی بات ہے—باہر والوں سے بے فکر ہوں میں—مگر اس کمرے میں– میں چاہتا ہوں کہ تم باہر کی دنیا کو بھول جاؤ—نا یہاں گھڑی ہو گی اور پھر نا تمہیں وقت گزرنے کا احساس ہوگا”— بیڈ کے قریب کھڑے ہوتے اپنی چوڑی ہتھیلی اس کے سامنے کی تو وہ جو آنکھوں کو چھوٹی کیے مشکوک نظروں سے گھور رہی رہی تھی اپنے سامنے پھیلی ہتھیلی کو ہاتھ سے ہٹاتی سائیڈ سے ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی
تمہاری فصول گوئی بعد میں سن لوں گی پہلے یہ بتا دو نماز کا وقت تو نہیں گزر گیا”– سلیپر پاؤں میں ارستے واشروم کی جانب قدم بڑھاتے پلٹ کر پوچھا تو ضرغام خان نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا تھا جسے دیکھتے وہ جھپاک سے واشروم میں بند ہو گئی تھی
—————
عجیب رشتہ تھا ان کا وہ اسے شوہر بھی مانتی تھی—مگر وہ اس کے باپ کو قاتل مانتا تھا—
اس سے دشمنی بھی نبھانی تھی—مگر نفرت کرنا بس سے باہر تھا—
چال بھی چلنی تھی—مگر دھوکہ بھی نہیں دینا تھا—
غرور توڑ کر منہ کے بل گرانا تھا—مگر اس کی عزت بن کر عزت کی جان سے بڑھ کر حفاظت بھی کرنی تھی—
دھڑکنیں اس کے ساتھ پر حشر برپا کرتی تو کبھی عشق کی تال پر رقص کرتی تھی—مگر دماغ میں چلتے کھیل کو بھی نہیں جھٹلانا تھا–
اس کے ہونے سے دنیا بھول جاتی تھی – مگر دنیا کی باتوں کو بھلانا بھی نہیں تھا—
ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آنے والے کل کے سپنے سجانے تھے— مگر ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے ماضی کو دہرانا بھی تھا—
دوسرے کو اس کھیل میں ہرانا بھی تھا—مگر پھر اپنی جیت بھی قبول نہیں تھی—
عقیدت نے گہری سانس بھر کر اپنے سامنے جائے نماز پر کھڑے ضرغام خان کو دیکھا
اور خود ضرغام خان کے پیچھے تھوڑے فاصلے پر جائے نماز بچھا کر کھڑی ہوگئی
ضرغام خان کی امامت میں نماز پڑھتے عقیدت شاہ کو اپنے رگ و پے میں سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا
دعا کے لیے ہاتھ اٹھے تو عقیدت نے نم نگاہوں سے آگے بیٹھے ضرغام خان کی چوڑی پشت کو دیکھا
نظریں ضرغام خان کی پشت سے ہوتی اپنی ہتھیلیوں پر ان ٹکی
خاموش نم نظروں سے ہاتھ کی ہتھیلیوں کو دیکھتی نجانے کتنے لمحے سرک گئے
چونکی تو تب جب ضرغام خان کے ہاتھوں کا لمس اپنے ہاتھوں کے گرد محسوس کیا
“رحم مانگ لو عقیدت کچھ سمجھ نہیں آرہا تو—رب کی رحمت سے بڑھ کر اور کچھ نہیں—وہ جب رحم کرتا ہے تو سب کچھ عطا کر دیتا ہے”—ضرغام خان کے نرم محبت بھرے لہجے پر عقیدت نے سر اثبات میں ہلایا تو ضرغام مسکرا کر عقیدت کو دیکھتا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
نماز سے فارغ ہو کر عقیدت نے دوپٹہ اتار کر صوفے پر رکھا ابھی پلٹ کر بیڈ کی جانب جاتی کہ وہ رستے میں حائل ہوا تھا–
“حد ہوگئی ہے طبعیت ٹھیک ہے نا خان— کل سے عجیب حرکتیں کر رہے ہو—پینی وینی تو شروع نہیں کر دی—اب تمہارا یہ بیہویر مجھے تنگ کر رہا ہے”— عقیدت کے جھنجھلاہٹ بھرے انداز پر وہ بھی سنجیدہ ہوا تھا–
“رات کو ملتے ہیں—اور مجھے امید ہے میری والدہ نے تمہارے لیے بہت اچھا سرپرائز تیار کیا ہوگا—تم سوجاؤ کیونکہ اس کے بعد ویسے بھی تمہاری نیندیں اڑنے والی—سکون و چین سب برباد ہو جانا”—چہرے پر چٹانوں سی سختی سجائے سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت نے الجھ کر ضرغام خان کے پل میں بدلتے لہجے کو دیکھا
“بتا دینا انہیں کہ اگر ان کا سرپرائز میری نیندیں اڑائیں گا—تو سونے میں انہیں بھی نہیں دوں گی—اور پھر انہیں یہ بھی بتا دینا کہ سکون تو صرف قبر میں ہی ہے—میرے سرپرائز سے انہیں سکون صرف وہی ملے گا”— ضرغام خان کی گھوریوں کی پرواہ کیے بغیر تنک کر کہتی جھپاک سے بستر میں گھس کر چہرے تک کمفرٹر اوڑھ لیا
جبکہ ضرغام تاسف سے سر ہلاتا ٹیرس کا دروازا کھول کر باہر جا کر کھڑا ہو گیا
کیونکہ اسے صبح اٹھنے کے بعد نیند بہت کم ہی آتی تھی—
