Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 34,35)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 34,35)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
اب کیوں منہ پھلایا ہوا ہے”—گلاب اور موتیوں کے پھولوں سے بنی بندیاں کو ٹھیک کرتے سلویٰ شاہ نے منہ پھلائے بیٹھی صبغہ سے استفسار کیا تو صبغہ نے منہ بسور کر ہاتھوں میں پہنے گجروں کو گھمایا تھا
تمہارا سڑیل لالا آخر چاہتا کیا ہے— میں نے سوچا تھا کہ ہماری رسم ساتھ ہوگی—رسم ساتھ ہونا تو دور اُس نے جو رسم ہونی تھی اسے بھی بالکل نا ہونے کے برابر کر دیا—سر جھکا کے جاؤ—خاندان کی آنٹیوں چچیوں سے مہندی لگواؤ اور ویسے ہی منہ جھکا کر واپس روم میں آجاؤ—نا کوئی میوزک نا کوئی ڈھول دھمکا—ایسی ہوتی ہے لڑکیوں کی مہندی—اور خود نواب صاحب نے ڈیرے پر اپنے دوست یاروں کے لیے سارے انتظامات کیے ہیں—میرا نہیں تو اپنی بہن کا خیال کر لیتا اس کی بھی تو مہندی ہے نا—بالکل دل نہیں کر رہا میرا نیچے جا کر ان آنٹیوں میں شو پیس بن کر بیٹھنے”— ایک ہی سانس میں روانی سے کہتی وہ سلویٰ شاہ کو بوکھلا گئی تھی—
ہلکے گلابی رنگ کی شرٹ جس پر بریک گولڈن کام ہوا تھا کے ساتھ ہلکے سبز رنگ کے شرارہ پہنے— دونوں رنگوں کے امتزاج کا کام والا دوپٹہ جسے پیچھے سر کہ پن کر کہ دائیں بازو کے نیچے سے گزار کر پن کیا تھا—
مہندی لگے ہاتھوں میں گجرے پہنے— ماتھے اور کانوں میں پھولوں سے بنے خوبصورت اویزے پہنے—شہد رنگ آنکھوں میں غصہ لیے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی—
سلوی نے دل ہی دل میں ماشاءاللہ بولتے صبغہ کو آہستہ بولنے کا اشارہ کیا تھا
جبکہ وہ بھی صبغہ جیسی ڈریسنگ کیے کرسٹل گرے آنکھوں سے صبغہ کو چپ رہنے کا اشارہ کرتی بیوٹیشن کی طرف مڑی تھی
“آپ جا سکتی ہے—کمرے کے باہر ملازمہ ہوگی وہ آپ کو حویلی سے باہر تک چھوڑ آئے گی”—بیوٹیشن کو نرم لہجے میں کہتی ٹیبل پر رکھے گلاس میں پانی انڈیلتی وہ صبغہ کے پاس آئی تھی—
جبکہ بیوٹیشن اپنا سامان اٹھاتی کمرے سے باہر نکلی تھی
“اور خود کے بارے میں کیا خیال ہے— تم تو رسم بھی نہیں کرنا چاہتی تھی—اتنی منتیں کر کہ پھوپھو تمہیں لائی ہیں—اور مہندی کے لیے تو وہ رونے والی ہو گئی تب جا کر تمہیں ان پر اور ہم سب پر ترس آیا—صرف لالا نہیں—تم بھی ان جیسی سڑیل ہی ہو—اور اب زیادہ منہ پھلائے کی ضرورت نہیں جیسی بھی رسم ہو رہی نیچے چلو—ہر چیز کا تو انتظام کیا ہے—صرف میوزک نہیں ہے—باقی کس چیز کی کمی ہے—اتنا ہلہ گلہ تو لڑکیاں ویسے بھی کر لیتی ہیں— تم بس نیچے چلو—یقین کرو نہیں ہوگی بور—عقیدت اور حوریہ بھی آئیں گی مہندی لے کر—ان کے ساتھ بھی تو وہاں سے لڑکیاں آئیں گی نا”— صبغہ شاہ کو سمجھانے والے انداز میں کہتے پانی کا گلاس تھمایا تو صبغہ نے منہ بسور کر گلاس لبوں کو لگایا تھا
جبکہ صبغہ کے مان جانے پر سلوی نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا—
تبھی ثمرین اور ندا بیگم دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی تھیں
ماشاءاللہ میری بیٹیاں تو بہت پیاری لگ رہی ہیں—ثمرین شاہ کے محبت بھرے لہجے پر صبغہ مسکرا کر ان کے گلے لگی تھی
جبکہ ندا بیگم نے سلوی کو گلے لگاتے سر پر پیار کیا تھا
دونوں تیار ہو تو میں لڑکیوں کو بھیجتی ہوں—پھر آجانا ان کے ساتھ نیچے”—ثمرین شاہ کے کہنے پر سلوی نے سر اثبات میں ہلایا تھا
“حلیمہ چچی کہاں ہے”
عقیدت اور حوریہ نے آنا مہندی لے کر ساتھ مہمان بھی ہوگے تو بس انتظامات دیکھ رہیں حلیمہ—اور پھر پلوشہ اور امتثال کے لیے مہندی بھی مہندی لے کر جانی—دو لڑکے تو اس گھر کے داماد تو صرف بالاج بچتا اب ہم نے سوچا کہ بالاج کو ساتھ لے جائے یا اس کے ہاتھ بھجوا دیں بس وہ لڑکا اب مان جائے”— سلوی کے پوچھنے پر ثمرین بیگم نے بتایا تو صبغہ شاہ نے بالاج کے نام پر ناک سکوڑی تھی جس پر ندا بیگم نے گھور کر صبغہ کو دیکھا تھا
“میری مانے تو ممانی اس سڑ—میرا مطلب میرے سر کے سائیں کی منتیں کرنے سے اچھا کہ آپ بہرام لالا کو بھیج دیں—پہلی بار میں ہی مان جائیں گے”—روانی میں بولتی وہ سلوی شاہ کے آنکھیں دکھانے پر بوکھلا کر سڑیل سے سر کے سائیں پر آئی تھی—جبکہ اس کے منہ سے بالاج شاہ کے لیے ایسے الفاظ سنتی ثمرین شاہ اب کا دل اس کے صدقے واری جانے کا کر رہا تھا
“نہیں بیٹا اچھا تھوڑی لگتا—سب کیا کہے گے کہ دلہا صاحب خود ہی مہندی کے کر آئیں”— ندا بیگم نے صبغہ کو آنکھیں دکھاتے ہوئے دانت کچکچا کر کہا تو صبغہ نے ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں ہوا میں ہاتھ لہرایا تھآ
“او ہو—کچھ نہیں ہوگا—بہرام لالا کہ شرافت کی گواہی تو ان کا دشمن بھی دے دیں—وہاں تو پھر سب آپنے—بہرام لالا کے جانے پر کوئی کچھ نہیں کہے گا—انہوں نے کونسا مہندی لگانے بیٹھ جانا—اپنی ساس کو پکڑا کر آجائیں گے – اگر لگے ہاتھوں ان کا چانس بن بھی گیا کہ اپنی مہندی کی دلہن کو دیکھ لیں تو آپ کا کیا جاتا ہے” صبغہ کی فراٹے بھرتی زبان کو دیکھتے ندا بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنا جوتا اتار لیں
جبکہ ثمرین شاہ پرسوچ نظروں سے سوچتی سر اثبات میں ہلاتی ندا بیگم کی جانب متوجہ ہوئی تھیں
“ویسے ٹھیک ہی کہہ رہی صبغہ—بہرام نے کونسا اندر پکڑانے جانا مہندی—ساتھ ہمارے ہاں سے بھی تو لڑکیاں جائیں گی نا—وہ لے جائیں گی مہندی حویلی کے اندر—بہرام کے جانے سے یہ تو ہوگا کہ گھر سے تو کوئی آیا—اور ساتھ ایسا کرے گے کہ حلیمہ یا میں چلی جاؤں گی—باقی حویلی کے انتظامات آپ یا اگر میں رک گئی ہم دیکھ لیں گے”— ثمرین بیگم کے کہنے پر ندا بیگم نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تھا
“اور خدا کا واسطہ صبغہ اب چپ کر کہ بیٹھ جاؤ—اور جب نیچے او تو کوشش کرنا کہ تم نا ہی بولو—بس تھوڑا سا شرما لینا”—باہر کی جانب بڑھتے ندا بیگم نے پلٹ کر سخت لہجے میں کہا تو صبغہ نے معصوم چہرہ بنائے سر اثبات میں ہلایا تھا جبکہ سلوی نے مسکراہٹ ضبط کرتے چہرے کا رخ بدلا تھا—
_________
ویسے کہنا تو نہیں چاہیے لیکن پھر بھی بات تو سارے خاندان کی عزت کی ہے نا—چلو ضرغام سردار تھا بچپن کا نکاح ہوا تھا—نہیں بنتا تھا کہ اپنی عزت کو چھوڑ دیتا چاہے خون بہا کر بھی لاتا ہم آف نا کرتے—لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ اب ہمارے گھر کی بیٹیاں دشمن کے ہاں بیاہنے لگا ہے—میں نے تو سنا مقدس بھی نہیں راضی—پتہ نہیں کیا جادو چلایا ان دشمنوں کی بیٹی نے کہ اس قدر پاگل ہو چلا کہ یہ تک بھول گیا کہ اس کے باپ کے ساتھ چچا کے بھی قاتل”— خان حویلی کے لاونج میں بیٹھی عورتوں میں سے ایک کی جھنجھلائی ہوئی سخت آواز گونجی تو لمحے کے لیے وہاں خاموشی چھا گئی
تبھی لاونج کی فضا میں سیڑھیاں اترتی لاونج کی فضا میں ہیل کی ٹک ٹک کی آواز گونجی تو کچھ عورتوں نے گردن ترچھی کر کہ دائیں جانب سیڑھیوں کی طرف دیکھا تھا—
جہاں نارنجی اور آتشی گلابی رنگ کے امتزاج کی پاؤں کو چھوتی فراک جس کے دامن اور گلے پر سبز اور گولڈن کام جبکہ باقی فراک پر باریک گولڈن کام تھا—دائیں کندھے پر آتشی گلابی—گولڈن کام والا دوپٹہ سیٹ کیے— کندھوں پر سکن اور میرون امتزاج کی چادر کندھوں پر پھیلائے—بھاری ڈائمنڈ سیٹ گلے اور کانوں میں پہنے—مہندی لگے ہاتھوں میں سونے کی چوڑیاں پہنے—سبز نگینوں جیسی آنکھوں میں سختی لیے سہج سہج کر سیڑھیوں پر قدم رکھتی وہ کسی ریاست کی ملکہ ہی لگ رہی تھی—ضرغام خان کی ریاست کی ملکہ
“جو لوگ ضرغام خان کے منہ پر بولنے کی ہمت نہیں رکھتے—انہیں چاہئے کہ وہ اپنی زبان کو اس کی پیٹھ پیچھے بھی لگام دے کر رکھے—ورنہ اگر میں نے دی تو زبان کو نہیں سانسوں کو ہی لگام ڈال دوں گی”— عقیدت کے سخت لہجے پر سیڑھیوں کی جانب پشت کیے بیٹھی عورت نے گردن ترچھی کر کہ کینہ توز نظروں سے دیکھا تھا
مگر کچھ لمحے تو وہ بھی اس قدر حسن دیکھ کر ساکت ہوئی تھی—پھر خود کو سنبھالتے وہ اپنی ازلی لہجے میں آئی تھی—
“ہو کون تم—بڑوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے کیا”— آنکھیں چھوٹی کیے سخت لہجے میں کہا تو عقیدت نے اپنے دونوں ہاتھ صوفے کی پشت پر ٹکائے چہرہ عورت کی جانب جھکایا تھا
“اپنا تعارف کروانے کی ضرورت نہیں مجھے— اتنا ہی حوالہ کافی ہے کہ میں سردار ضرغام خان کی بیوی ہوں—عقیدت ضرغام خان—میں نے اپنے شوہر پر جادو کیا ہو یا اسے کسی جادو سے نکالا ہو یہ آپ لوگوں کا سر درد نہیں—اور دوسری بات جہاں بات میرے شوہر کی آتی ہے وہاں میں تمیز کیا ہر لحاظ بھول جاتی ہوں—آئندہ بولنے سے پہلے احتیاط کیجئے گا—آپ کو شادی میں انوائیٹ کیا ہے—شادی پر مشاعرہ کرنے کے لیے نہیں”—- سخت نظروں سے گھورتی ابھی وہ کچھ اور کہتی کہ پیچھے سے آتی کشف بیگم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“عقیدت جاؤ حوریہ باہر ویٹ کر رہی لیٹ نا ہو جانا—پھر تم لوگ آؤ گی تو رسم بھی شروع کرنی ہے”—مسکرا کر عورتوں کو دیکھتے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت نے گہری سانس بھرتے خود پر ضبط کیا تھا اور آنکھوں کے اشاروں سے عورت کے بارے میں استفسار کیا تھا
مقدس بیگم کی ننھیال کی طرف سے ہیں”—کشف بیگم نے آہستہ آواز میں کہا تو عقیدت نے آبرو آچکا کر سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تھا
“میں بھی کہوں ان کے علاؤہ اتنا زہر کس میں ہو سکتا ہے—ان کے جاننے والوں کا اتنا زہریلا ہونا تو بنتا ہے”— چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے جھٹکتے طنزیہ لہجے میں کہتی لاونج سے باہر کی جانب بڑھ گئی جبکہ کشف بیگم نے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے جبرا مسکرا کر اطراف میں نگاہ دوڑائی تھی
مجھے لگتا تھا صرف ضرغام ہی ایسا ہے”—سر کو نفی میں ہلاتے بڑبڑا کر کہتی وہ پلٹ کر کچن کی جانب بڑھی تھی
جبکہ لاونج میں پھیلی خاموشی سرگوشیوں میں بدل چکی تھی—
___________
چادر کا پلو سنبھالتے وہ بری طرح سامنے سے آنے والے سے ٹکرائی تھی
ابھی وہ غصے سے کچھ بولتی کہ اپنے اطراف میں پھیلی مخصوص خوشبو کو محسوس کرتے پر سکون ہوئی تھی
پلکوں کی جھالر اٹھائے سامنے دیکھا تو خود کو محویت سے دیکھتے ضرغام خان کو دیکھتے گلابی گالوں پر مزید بلال بکھرا تھا
سفید کرتا شلوار پہنے— کندھوں پر سیاہ چادر پھیلائے—نیلی سمندر سی گہری آنکھوں میں لو لیے وہ عقیدت کا دل بری طرح دھڑکا چکا تھا—
نظریں ضرغام خان کی گہری آنکھوں سے ہوتی ماتھے پر بکھرے چاکلیٹ براؤن بالوں پر گئی تو عقیدت نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا تھا
“میں جانتی ہوں کہ میں خوبصورت ہوں—اور اس وقت تو بہت زیادہ خوبصورت”— دونوں ہاتھوں سے ضرغام خان کے بال سیٹ کرتے اٹھلا کر کہتی ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ ضرغام خان نے دونوں ہاتھ عقیدت کی کمر پر باندھتے اسے اپنے قریب کیا تھا
“بہت نہیں—جان لیوا حد تک خوبصورت”—ناک عقیدت کی ناک سے مس کرتے اپنے ہونٹ شدت سے عقیدت کے دائیں گال پر ثبت کیے تھے—جس پر عقیدت نے بوکھلا کر دونوں ہاتھ ضرغام خان کے کندھوں پر رکھے تھے
یہ لاونج سے باہر نکلے تو راہداری سے دائیں جانب کا حصہ تھا جس کا رخ باہر کی جانب تھا جہاں سے حویلی کی عورتوں کے لیے باہر جانے کا رستہ تھا اس جانب کسی غیر مرد کا ہونا تو ناممکن تھا اور جو عورتیں مہمان تھی وہ سب حویلی کے لاونج یا گارڈن میں موجود تھی—لیکن پھر بھی ضرغام خان نے اطراف میں نگاہ دوڑاتے—شوخ نظروں سے عقیدت کو دیکھا تھا–
“ہاں—تو اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ایسے کہی بھی آہیں بھرنے لگ جاؤ—باز آجاؤ خان کسی نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا—اتنے اٹیٹیوڈ میں رہنے والا خان بیوی کے سامنے ایسے پگھل جاتا ہے”—ضرغام خان کو پیچھے کرنے کی کوشش کرتے دانت پیستے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے گھور کر عقیدت کو دیکھا تھا
“خان تو کبھی باز نہیں آنے والا—لیکن تم یہ رسمیں نمپٹا کر جلدی روم میں آنے کی کرنا—کیونکہ آج رات یہ خان تمہارے منہ سے وہ ساری تعریفیں پھر سے سننے کا ارادہ رکھتا ہے جو تم اس دن کسی اور کی شان میں کر رہی تھی”— ایک بازو عقیدت کی کمر پر ٹکائے جبکہ بایاں ہاتھ گردن اور چہرے کے درمیان رکھتے مسکراتے ہوئے کہا تو عقیدت کو اپنے گلے میں گلٹی سی ابھرتی محسوس ہوئی
“مم—میں کسی کی تعریف نہیں کر رہی—اتنے کام ہیں میں تھکی ہوگی اج”—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے مدھم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے ہاتھ پر دباؤ بڑھاتے عقیدت کو خود میں بھینچا تھا
“میں ساری تھکن اتار دوں گا”—ضرغام خان کے سلگتے ہونٹوں کی جنبش اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے عقیدت نے بے ساختہ اپنی سانسیں روکی تھی
چہرہ ضرغام خان کی سلگتی سانسوں کی تپش سے سرخ انگارہ ہوا تھا—
کچھ لمحے معنی خیز خاموشی میں گزرے تو ضرغام نے نرمی سے عقیدت کو پیچھے کیا تھا
“میں انتظار کروں گا جلدی آنا”—عقیدت کا گال تھپتھپاتے تنبیہ لہجے میں کہ کر ایک بھرپور نگاہ ڈالتے اندر کی جانب قدم بڑھائے
“اور ہاں—سانس لے لو اب—ابھی سانس روکنے کی ضرورت نہیں—یہ کام میں رات میں خود کر لوں گا”—اپنی پشت سے آتی ضرغام خان کی آواز پر عقیدت نے بوکھلا کر سانس لی تھی اور پھر سمجھ آنے پر پلٹ کر جاتے ہوئے ضرغام خان کی پشت کو گھورا تھآ
_______
حوریہ نے اکتا کر سیٹ کی پشت سے سر ٹکایا تھا—
لیمن کلر کا کمر تک اتے بلاؤز کے ساتھ بے بی پنک کلر کا لہنگا جس پر لیمن اور پرپل کلر کے چھوٹے چھوٹے پھول بنے تھے—لہنگے کے گھیرے پر گولڈن کلر کا بھاری کام تھا—بے بی پنک کلر کا ہی کامدار دوپٹہ بائیں کندھے سے سیٹ کر کہ دائیں بازو پر رکھے—گولڈن اور لائٹ پنک کلر کے امتزاج کی ڈائمنڈ جیولری پہنے—مہندی لگے ہاتھوں میں رنگ برنگی چوڑیاں پہنے—چہرے پر نفاست سے کیے گئے میک اپ کے ساتھ وہ انتہائی دلکش لگ رہی تھی—
وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی کہ گاڑی کا دروازہ کھلنے کی آواز پر تھوڑی پرسکون ہوئی تھی کہ شاید عقیدت آگئ
مگر آنکھیں ہنوز بند تھی
مگر گاڑی میں چھائی خاموشی اور اپنے حواسوں پر چھاتی مرادانہ کلون کی خوشبو پر حوریہ شاہ کے دل نے بیٹ مس کی تھی
سیٹ پر بائیں جانب رکھا ہاتھ بری طرح کپکپایا تھا
آنکھیں کو سختی سے میچتے حوریہ نے نامحسوس انداز میں اپنا ہاتھ اٹھانا چاہا مگر اس سے پہلے ہی سخت تپش زدہ مرادنہ ہاتھ کی گرفت اپنے ہاتھ پر محسوس کرتی جھٹکے سے آنکھیں کھولیں تھیں
اور اتنے دنوں بعد اپنے میسنے خان کو دیکھتے حوریہ کو اپنی روح میں سکون اترتا محسوس ہوا تھا—
گرے آنکھیں بے ساختہ نم ہوئی تھیں
جبکہ سامنے سفید کرتا شلوار پہنے—سیاہ گھنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے—چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں سرخی لیے—عنابی ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے عائث خان جان لیوا حد تک ہنڈسم لگ رہا تھا—شاید وہ اتنے دنوں بعد دکھا تھا یا پھر کہ وہ بہت کم شلوار قمیض پہنتا تھا اور جب بھی پہنتا تھا اس قدر ہی دلکش دکھتا تھا—
عائث خان کا تو پتہ نہیں لیکن حوریہ کا اپنی نظریں اس سے ہٹانا مشکل ہو گیا تھا
“شوہر گھر آئیں تو اچھی بیویوں پر فرض ہے کہ محبت سے شوہر کا استقبال کریں”—حوریہ کو یک ٹک اپنی جانب دیکھتے پا کر عائث خان نے ہاتھ بڑھا کر حوریہ کو بازو سے تھامتے اپنے سینے سے لگاتے شوخ لہجے میں کہا تو حوریہ ہڑبڑا کر ہوش میں آئی تھی—
“اور جو شوہر اتنے دنوں تک گھر سے غائب رہے—بیوی سے کوئی رابطہ نا رکھے اس شوہر کا استقبال کیسے کرنا چاہیے”—عائث خان کی گردن میں منہ چھپائے شکوہ کناں لہجے میں کہا تو عائث خان نے سختی سے حوریہ شاہ کو بانہوں میں بھینچا تھا—
“گھر نہیں تھا—لیکن نظریں ہر لمحہ تم پر ہی تھیں—یہ جو تمہیں اداسی کا شوق چڑھا ہوا ہے نا آج اچھے سے اتاروں گا”— حوریہ کو اپنے سامنے بیٹھاتے—خود گاڑی کے دروازے سے ٹیک لگا کر حوریہ کے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے سینے پر رکھا تھا
“یہ شوق نہیں تھا خان—میں سچ میں اداس تھی—آپ کو”—نم لہجے میں کہتے بری طرح ہونٹ بھنچتے چہرہ جھکایا تھا
تبھی عائث خان نے شہادت کی انگلی حوریہ کی تھوڑی پر رکھتے چہرہ اوپر کیا تھا
“آپ کو میری ذرا سی یاد بھی نہیں ائی—کوئی ایسے بھی کرتا ہے اپنی بیوی کے ساتھ”—عائث خان کی لو دیتی آنکھوں میں دیکھتے شکوہ کیا تو عائث خان نے مسکرا کر سر نفی میں ہلایا تھا
“ایسے نہیں کرتے تو جو کرتا ہوں اس پہ بھی تمہیں اعتراض ہوتا ہے—اب بتاؤ معصوم شوہر جائے تو جائے کہا”—کندھے آچکا کر کہتے حوریہ کے ہاتھ کی پشت پر ہون ثبت کیے تو حوریہ نے ہونکو کی طرح عائث خان کو دیکھا تھا—
“عائث آپ – آپ مجھے یا میرے کسی اعتراض کو کسی کھاتے میں لاتے ہی کہاں ہیں– جو ایسے کہہ رہے ہیں – اب تک آپ نے اپنی ہی کی ہے—کہاں کس بات پر میری سنی آپ نے”— حوریہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس میسنے خان کا سر پھاڑ دیں جو پہلے خود اتنے دنوں سے غائب تھا اور اب جب آگیا تھا تو سارا الزام اس پر ڈالتے ہوئے معصوم بننے کی کوشش کر رہا تھا—۔
“مائے انوسنٹ وائفی یہ خان تمہیں اپنے کھاتے میں لاتا ہے—تم بتاؤ کہاں سنوں تمہاری—کیا سنانا چاہتی ہو تم—بندہ افف بھی نہیں کہے گا اور سب سن لے گا چاہے اسے کچھ سمجھ نا بھی آئے—اور رہی بات تمہارے اعتراضات کی تو وہ بالکل فضول ہے بالکل اس وقت تمہاری لپ اسٹک کی طرح”— وہ جو منہ کھولے عائث خان کو سن رہی تھی—ایک دم سے اسے پٹری سے اترتا دیکھ بوکھلا کر پیچھے ہونا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی وہ پوری شدت سے اس کے ہونٹوں پر جھکتا لپ اسٹک کا حشر نشر کر چکا تھا—
“عائثثثث—کتنے—حد ہے کتنے بے شرم میسنے انسان ہیں آپ”—مٹھیاں بھنچے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو اپنے ہونٹوں پر انگھوٹے کی پشت پھیرتے عائث خان نے حوریہ کے تپے تپے چہرے کو دیکھتے آنکھ دبائی تھی
جس پر حوریہ نے صبر کے گھونٹ بھرتے اپنے کلچ سے ٹشو نکالتے بکھری ہوئی لپ اسٹک کو صاف کرنے کی کوشش کی تھی
“ادھر کرو میں ہیلپ کر دوں”— ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تو حوریہ نے گھور کر عائث خان کو دیکھا تھا
“مجھے بالکل ضرورت نہیں آپ کے اس احسان کی”—
“ٹھیک ہے یہ والا احسان مجھے کرنا پسند نہیں—لیکن جو پہلے کیا وہ میرا فیورٹ ہے—اور وہ احسان میں ساری عمر کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں—تم بھی کیا یاد کرو گی وائفی کہ کیسا آدمی شوہر ملا ہے”—حوریہ کو جھکٹے سے اپنی جانب کھینچتے مسکرا کر کہتے ہاتھ میں تھامے سیاہ کٹر کے دانے سے بھی چھوٹی چپ کو ہاتھ بڑھا کر سیٹ اور دروازے کی درمیان والی جگہ پر لگایا تھا
جبکہ اپنی بانہوں میں مزاحمت کرتی حوریہ کو زور سے بھنچتے وہ پیچھے ہوا تھا
ایک بھرپور نگاہ حوریہ کے دلکش سراپے پر ڈالتے وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا
جس پر پر کچھ لمحے پہلے شوخ مسکراہٹ تھی وہی چہرہ اب چٹانوں سی سختی لیے ہوا تھا
فائف—آل ڈن کا میسج کرتے موبائل جیب میں رکھتے—لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا
________
“بہت پیاری لگ رہی ہو تم دونوں”—عقیدت نے سلویٰ کے سر سے پیسے وارتے ہوئے کہا تو حوریہ نے مسکرا کر صبغہ کے ہاتھ پر رکھے پتے پر مہندی لگائی تھی
“تم لوگوں کو مہندی رات میں لگوانی چاہیے تھی—اب اگر یہ خراب ہو گئی تو”—پتے پر لگی مہندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حوریہ نے کہا تو صبغہ نے گھور کر اسے دیکھا تھا—
“تم انسانوں کی طرح لگاؤ گی تو نہیں خراب ہوگی”
“میں انسانوں کی طرح ہی لگاؤ گی—مگر تم اگر انسانوں کی طرح بیٹھ جاؤ تب نا”—صبغہ کے جواب پر حوریہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا تو صبغہ نے ناک سکوڑ کر عقیدت کو دیکھا تھا
“اس چھوٹی چیونٹی کے بھی پر نکل آئیں ہیں”—حوریہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے قہقہ لگایا تو حوریہ نے گھور کر صبغہ کو دیکھا تھا
“اور تمہارے جو پر نکلیں ہوئیں ہیں نا میرے لالا ہی باندھیں گے انہیں—کاٹے گے نہیں—اگر کٹ گئے تو سوچو کیسی لگو گی—پر کٹی کبوتری اور سوری پر کٹی صبغہ”— سلوی شاہ کے کہنے پر عقیدت اور حوریہ کا قہقہ بے ساختہ تھا جبکہ صبغہ نے سرخ پڑتے چہرے سے ان تینوں کو گھورا تھا—
“تمہارے لالا کو اپنی انگلی کے اشاروں پر نا چلایا تو میرا نام بھی صبغہ بالاج شاہ نہیں—اور میری فکر چھوڑو اپنی کرو—کیونکہ تمہارا ہونے والا شوہر صرف خان نہیں چھوٹا خان ہے–شوہر خان ہو تو بیوی پھر بھی حوصلہ کر کہ زبان کھول لیتی ہوگی لیکن اگر چھوٹا خان ہو تو بیوی کا چپ رہنا ہی بہتر ہے—کیونکہ اپنے اگے وہ کس کی سنتا ہے—ویسے بھی مجھے شاہ سارے سڑیل اور ان رومینٹک لگتے اور خان سر پھرے باقی وہ ان کی بیویوں کو پتہ ہو کہ وہ کیسے ہیں رومینٹک یا ان رومینٹک”— مٹھائی کا ٹکرا اپنے منہ میں ڈالتے کندھے آچکا کر کہا تو ارمغان خان کا سوچتے سلوی نے اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کیا تھا—ابھی تو نجانے اس خان نے کس کس بات کا غصہ نکالا تھا
ایک غلطی کم تھی جو وہ انجانے میں ایک اور کر چکی تھی—
—جبکہ حوریہ نے تلملا کر اور عقیدت نے گھور کر صبغہ کو دیکھا تھا—
“تم دونوں نند بھابھی والی لڑائی بعد میں کر لینا او پہلے ڈانس کرتے ہیں”— سامنے لڑکیوں کو ڈھولکی رکھتے اور ایک دائرے میں بیٹھتے دیکھ عقیدت نے اٹھتے ہوئے کہا تو صبغہ شاہ سر اثبات میں ہلاتی جھٹکے سے اٹھی تھی
جس پر حوریہ اور سامنے سے آتی ندا بیگم نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا تھا
________
تم دونوں کا ہو گیا ہو تو ڈیرے پر پہنچ جاؤ—وہاں مہمان تم لوگوں کی مہندی کی رسم کے لیے آئیں ہیں—ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے نہیں”— بہرام شاہ نے کمرے میں قدم رکھتے ڈریسنگ مرر کے سامنے حدائق اور بالاج شاہ کو کھڑے دیکھتے سخت لہجے میں کہا تو حدائق نے آئینے میں نظر آتے بہرام شاہ کے عکس کو دیکھتے آنکھیں گھمائی تھیں
“خود شاہ صاحب سسرال جانے کی خوشی میں ٹائم سے پہلے تیار ہو چکے ہیں اس لیے اب ہم پہ بلا وجہ حکم چلانے آگئے ہیں”— سفید کرتا پہ پہنی نیوی بلیو واسکٹ کے بٹن کرتے ہوئے حدائق شاہ نے طنزیہ لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے دونوں پر خاموش نگاہ ڈالتے برش اٹھا کر بالوں کو سیٹ کیا تھا—
“شاہ صاحب اگر سسرال جا بھی رہے ہیں تو گھر والوں کی اجازت سے—تم دونوں کی طرح بنا بتائے—چھپ چھپا کر تو نہیں جاتا نا”— حدائق اور بالاج کو کندھوں سے تھام کر تھوڑا سائیڈ پر کھسکاتے آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے کرتے کا کالر ٹھیک کرتے چڑانے والے انداز میں کہا تو حدائق نے نفی میں سر ہلایا تھا
جبکہ بالاج شاہ نے سفید کرتا پہ ڈارک بلیو ویسکوٹ کے بند بٹنوں کو جائزہ لیتی نگاہوں سے دیکھتے نفی میں سر ہلاتے انہیں کھولا تھا
بہرام شاہ نے بالوں کو سیٹ کرتے اپنے کرتے کے بازوؤں کو کہنیوں تک گولڈ کرتے—ڈارک براؤن ویسکوٹ پر پرفیوم چھڑکایا تھا
“آپ دونوں بھائی اپنی لڑائی میں مجھے مت گھیسٹے—کیونکہ بالاج شاہ نا کسی کہ حکم کا محتاج ہے نا کسی کے باپ سے ڈرتا ہے جو اپنی بیوی یا اپنے سسرال جانے کے لیے چور رستے ڈھونڈتا پھرے”— جیب سے موبائل نکالتے آئینے میں نظر آتے تینوں کے عکس کو دیکھتے پکچر کلک کرتے وہ پیچھے ہوا تو حدائق نے آبرو آچکا کر نیلی آنکھوں داد لیے بالاج شاہ کو دیکھا تھا
“ہاں بھئی—آپ کا تو الگ ہی لیول ہے—اور ہم ابھی اس لیول تک نہیں پہنچے نا”— بہرام کو بازو سے پیچھے کرتے بالاج شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو بالاج کی نظریں اپنے کندھے سے ہوتی حدائق شاہ کی مسکراتی آنکھوں پر گئی تو آبرو آچکا کر سیاہ گہری آنکھوں سے حدائق شاہ کو ایسے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہا ہو اصل بات پر آئیں
“ڈھٹائی—مائے لٹل برو ڈھٹائی کے اس لیول پر نہیں پہنچے نا ہم جس پر آپ جناب ہیں”—- حدائق شاہ کی بات پر بہرام شاہ نے بالاج کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے بامشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی
“ڈھٹائی کے لیول پر پہنچنے سے بہتر اپ نے اپنے سالے سے چھپ کر چوروں کی طرح جانے والے لیول کے آپشن کو بہتر سمجھا”— حدائق شاہ کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تو حدائق نے گھور کر بالاج کو دیکھا تھا
“اگر تم دونوں نے نظروں کے وار سے ایک دوسرے کو ہرا دیا ہو تو اب انسانوں کی طرح ڈیرے پر پہنچو—وہاں جا کر صرف اسٹیج پر منہ پھلا کر نہیں بیٹھ جانا میرے آنے تک انتظامات بھی دیکھ لینا—باقی میں خود آکر دیکھ لوں گا “—دونوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کرتے تنبیہ لہجے میں کہا تو دونوں نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا تھا
“اب ایسے بھی مت دیکھو مجھے پتہ ہے کہ بہت پیارا لگ رہا ہوں”— بالاج شاہ کو دیکھتے چھیڑنے والے انداز میں کہا تو بالاج نے گہری سانس لیتے حدائق شاہ کو دیکھا تھا
“مجھے نہیں پتہ تھا کہ ڈاکٹرز کو اپنی شادی کی اتنی خوشی ہوتی ہے کہ خوشی خوشی میں وہ اپنا مانسک سلتونت کھو بیٹھتے ہیں”— بالاج شاہ کے نفی میں سر ہلا کر کہنے پر بہرام شاہ کا قہقہہ گونجا تو حدائق نے گھور کر دونوں کو دیکھا تھا—
“اور مجھے بھی نہیں پتہ تھا کہ شادی سے انکار کرنے والے بالاج شاہ کو شادی کی اب اتنی خوشی ہے کہ اپنی تیاری اور حویلی کے سب انتظامات چھوڑ کر وہ مہندی کے دن اپنی بیوی کو منانے گیا ہوا تھا”— حدائق شاہ کے قہقہ لگا کر کہنے پر بہرام شاہ نے کا قہقہ بے ساختہ تھا
“لالا ناؤ ویٹ اینڈ واچ—اب اس بات کا بدلہ نا لیا نہ تو میرا نام بھی بالاج شاہ نہیں”— بالاج شاہ کے تلملا کر کہنے پر حدائق شاہ نے بامشکل اپنی ہنسی ضبط کرتے اسے گلے لگایا تھا جس پر بالاج شاہ نے منہ بسورتے پیچھے کرنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی بہرام شاہ دونوں کو بازوؤں میں دبوچ چکا تھا
چلو اپنی اپنی ماؤں کے شیروں منا لو اپنی آزادی کے آخری دن کو—کل سے تو بیویوں کے مرید ہی بننا ہے”—
“کہہ تو ایسے رہے جیسے آپ کے والی نے آپ کو بخش دینا— بالاج شاہ نے قدم باہر کی جانب بڑھاتے بہرام شاہ کی بات کا جواب دیا تو حدائق شاہ نے نفی میں سر ہلایا تھا
تم لوگوں نے اپنی پسٹلز”— ابھی بہرام شاہ اپنی بات مکمل کرتا کہ بالاج شاہ نے پلٹتے کرتا کمر سے اٹھایا تو وہاں بندھی پسٹل دیکھ بہرام شاہ نے سر اثبات میں ہلایا تھا
جبکہ حدائق شاہ نے بھی سر اثبات میں ہلاتے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے
_____
یہ سب آج بھی تو ہو سکتا ہے نا—سب انتظامات تو مکمل ہیں—پھر کیوں کل یا پرسوں پر کام کو ڈالنا”— بادام گل کی فون سے گونجتی جھنجھلائ ہوئی بات پر مقدس بیگم نے کوفت سے فون کو دیکھا تھا
“نام تمہارا بادام گل ہے اور عقل نام کی کوئی چیز نہیں تم میں— میں چاہتی ہوں کہ وہ الگ الگ نہیں – ایک ہی جگہ ایک دوسرے کو تڑپتے ہوئے دیکھ کر مریں—یا پھر ان کے مرنے سے پہلے ان کے درمیان ایسی غلطی فہمی پیدا کر دوں کہ کوئی چاہ کر بھی کسی دوسرے کو بچانے کی کوشش نا کرے—اور یہ صرف کل یا ولیمہ والے دن ہی ممکن ہی”—کچھ گھنٹے یا ایک دن ہی کی تو بات ہے—جتنا خوش ہونا چاہتے ہیں ہو جائیں—پھر تو نا کوئی خوشی ہوگی نا خوشی منانے والا”—مقدس بیگم کے زہر بھرے لہجے پر دوسری جانب بادام گل نے ہنکارا بھرا تھا کہ تبھی دروازا کھلنے کی آواز پر مقدس بیگم نے ہڑبڑا کر فون بند کیا تھا
جبکہ اپنے سامنے شہزادوں سی شان لیے آتے ضرغام خان کے چہرے پر پھیلی نرم مسکراہٹ کو دیکھتے مقدس بیگم کو بے چینی ہوئی تھی—
“تم ڈیرے پر نہیں گئے”— اپنا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگاتے ضرغام خان کو دیکھتے حیرانی سے استفسار کیا تو ضرغام خان نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تھا
“گیا تھا—پھر مجھے خبر ملی کے میری خوشیوں میں سب سے زیادہ جس کا حق بنتا ہے وہ ابھی تک اپنے کمرے میں ہیں—تو بس پھر یہ خان چلا آیا”—مسکرا کر کہتے مقدس بیگم کے دائیں جانب جگہ سنبھالی تو مقدس بیگم نے ہنکارا بھرا تھا
سچ کہو کہ بیوی میکے چلی گئی تو ماں کی یاد اگئی”— مقدس بیگم کے منہ بنا کر کہنے پر ضرغام خان نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا تھا
“سچ تو ہے کہ میکے چلی گئی—اور آپ جانتی ہیں ماں—وہ جب مجھ سے دور جاتی ہے تو مجھے لگتا ہے میرے وجود کا کوئی حصہ اپنے ساتھ لے گئی ہو—اس سے دور ہو کر سکون نہیں آتا—لیکن سچ تو یہ بھی ہے کہ ماں تو ماں ہوتی ہے—ماں کی جگہ تو کوئی نہیں لے سکتا—اس بات سے ہم چاہے انکار کریں یا اقرار لیکن اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے”— نرم نظروں سے مقدس بیگم کو دیکھتے سر ان کے کندھے سے ٹکایا تھا—
خیر میری چھوڑیں یہ بتائیں آپ کو مجھ سے کتنی محبت ہے—یا کب ہوئی تھی جب میں دنیا میں آگیا تھا یا آنے والا تھا”— ضرغام خان کے سوال پر مقدس بیگم ساکت ہوئی تھی—
گردن ترچھی کر کہ اپنے کندھے پر دھرے ضرغام خان کے سر کو دیکھا تھا
اور پھر ذہن میں ضرغام خان کے سوال کو دہرایا تھا
کب محبت ہوئی تھی—یا محبت تھی ہی کب
دل بری طرح بے چین ہوا تھا—اپنے اندر ایک عجیب سا سناٹا محسوس ہوا تھا—
اچھا چھوڑیں– ماں کو تو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہی ہے— کیا فضول سوال پوچھ رہا ہوں—آپ یہ بتائیں کیا آپ اب بھی خوش نہیں—میری خوشی میں بھی خوش نہیں—میں یقین دلاتا ہوں ماں عقیدت سے آپ کو کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی—وہ پلٹ کر آپ کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے گی—آپ جیسا چاہے گی میں اسے ویسا کرنے کا کہہ دوں گا—وہ مان جائے گی—وہ تھوڑی جذباتی ہے بالکل آپ کے بیٹے جیسی لیکن دل کی بہت اچھی ہے”— مقدس بیگم کی طرف سے کوئی جواب نا پاکر بات جاری کی تو مقدس بیگم نے خاموش نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا تھا—
اگر وہ غور کرتی تو ضرغام خان کے لہجے میں گھلی نمی کو باآسانی محسوس کر سکتی تھی—اگر وہ غور کرتی تو—
“خوش ہوں میں— اور آرہی ہوں رسم میں— تم چلو—جا کر ڈیرے پر اپنے کام سنبھالو”— ضرغام خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تھا
“میں نے عقیدت سے پہلے آپ سے محبت کی ہے ماں—سب سے زیادہ”—کھوئے کھوئے لہجے میں کہتا وہ جھٹکے سے اٹھتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا جبکہ مقدس بیگم نے اپنے کندھے پر نمی محس کرتے حیرت سے چھو کر دیکھا تھا—
زندگی میں پہلی دفعہ دل اس قدر بے چین ہو کر دھڑکا تھا کہ مقدس بیگم کو خوف محسوس ہونے لگا تھا
نظریں اپنے کپکپاتے ہاتھوں پر گئی تو کانوں میں ضرغام خان کے الفاظ گونجنے لگے تھے
خیر میری چھوڑیں یہ بتائیں آپ کو مجھ سے کتنی محبت ہے—یا کب ہوئی تھی جب میں دنیا میں آگیا تھا یا آنے والا تھا”—
اچھا چھوڑیں—ماں کو تو اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہی ہے— کیا فضول سوال پوچھ رہا ہوں—آپ یہ بتائیں کیا آپ اب بھی خوش نہیں—میری خوشی میں بھی خوش نہیں—
Episode 35
گاڑی ایک جھٹکے سے خان حویلی کے گیٹ کے باہر رکی تو بہرام شاہ نے گردن ترچھی کر کہ روشنیوں میں نہائی خان حویلی کے کھلے گیٹ کی جانب دیکھا
گیٹ کے دونوں اطراف پانچ سے دس قدم کے فاصلے پر گارڈز بندوقیں تھامیں—اطراف میں جائزہ لیتی نظروں سے دیکھتے کھڑے تھے—
مردان خانے کا دروازہ دوسری جانب اور مردوں کے لیے مہندی کا سارا انتظام ڈیرے پر ہونے کی وجہ سے وہاں گارڈز کے علاؤہ کوئی مرد موجود نہیں تھا—
مہندی کی رسم کے لیے لڑکیاں حویلی میں داخل ہو رہی تھی جبکہ چھوٹی بچیاں بچے گیٹ کے باہر کھیل میں مصروف تھے
“جانے سے پندرہ منٹ پہلے مجھے بتا دیجئے گا”— اسٹیرنگ پر ہاتھ رکھے بہرام شاہ نے نا محسوس انداز میں اطراف میں نگاہ دوڑاتے—نرم لہجے میں اپنے بائیں جانب بیٹھی ثمرین بیگم سے کہا تو انہوں نے سر اثبات میں ہلایا تھا
جیسے گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں مجھے لگ رہا مہمان زیادہ ہوگے عقیدت بھی بتا رہی تھی–تو مجھے لگ رہا کہ ملنے ملانے میں کافی وقت لگ جائے گا— کیا تم تب تک گاڑی میں بیٹھو رہو گے”—
“نہیں—مجھے کسی کام سے جانا ہے—اسی لیے کہا ہے کہ جب آپ فری ہونے لگے تو دس پندرہ منٹ پہلے بتا دیجئے گا تا کہ میں وقت پر پہنچ جاؤں”— بہرام شاہ کے کہنے پر ثمرین بیگم نے سر اثبات میں ہلایا
اس سے پہلے ثمرین بیگم گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اترتی کہ بہرام شاہ نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکتے خود گاڑی سے اتر کر ان کے لیے دروازہ کھولا
جبکہ اپنے پیچھے رکی گاڑیاں جن میں شاہ حویلی میں مہمان آئی لڑکیاں موجود تھی انہیں باہر نکلنا کا اشارہ کرتے وہ گیٹ کے باہر کھڑے گارڈز کی جانب متوجہ ہوا
“حویلی میں کون کون ہے”— ویسکوٹ کے بٹن کھولتے—سیاہ مقناطیسی چمک لیے آنکھوں کو اطراف میں دوڑاتے—ہلکی بئیرڈ پر انگوٹھا رب کرتے سرسری لہجے میں استفسار کیا تو گارڈ نے اپنے سامنے کھڑے بہرام شاہ کو دیکھتے حلق تر کیا تھا—
“وہ صاحب آندر اس وقت—شہر سے آئیں مہمان عورتیں ہیں—اور کچھ اس پاس کے گاؤں سے خان صاحب کے خاندان والوں کی عورتیں”— اپنی بندوق کو مضبوطی سے تھامتے—خشک ہونٹوں کو تر کرتے گھبرائے لہجے میں جواب دیتا وہ بہرام شاہ کے ہاتھ کے اشارے سے رکا تھا—
“حویلی میں اس وقت مردوں میں سے کون کون ہیں—اور کتنی تعداد ہوگی مہمانوں کی”- — بہرام شاہ کی آنکھوں میں سختی اور سپاٹ لہجے کو سنتے گارڈ نے بے ساختہ قدم پیچھے لیے تھے
“زیادہ نہیں—مہمانوں اور گھر والوں کو ملا کہ تقریباً-اور ملازمہ آٹھ دس ہوگی—اور مرد کک—کوئی نہیں صرف عورتیں”—ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتا کہ بہرام شاہ کا دایاں ہاتھ اٹھا تھا اور ایک مکے کی صورت میں گارڈ کے چہرے پر نشان چھوڑتا چلا گیا
جبکہ گارڈ لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے دیوار سے جا لگا تھا
گارڈ کا مطلب حفاظت کرنے والا ہوتا ہے— حویلی میں موجود چاہے مرد ہیں یا صرف عورتیں—تمہاری زمہ داری ان کی حفاظت کی ہے نا کہ ہر راہ چلتے کو ان کی تعداد بتانے کی”— سیاہ آنکھوں میں خون لیے دبے دبے لہجے میں دھاڑتا وہ سب کو کانپنے ہر مجبور کر گیا تھا—
جبکہ گارڈ نے خوف سے سفید پڑتے سر اثبات میں ہلایا تھا
“اب چاہے تمہارے سامنے بہرام شاہ ہو یا ضرغام خان—اس سوال کے جواب پر تمہارے منہ سے ایک لفظ نا نکلے”—انگلی اٹھائے سرد لہجے میں کہا تو گارڈ نے بلا تاخیر سے ہلایا تھا
“شش—شاہ صاحب جانے دیں—آج پہلا دن ہے اس کا”— گارڈز کا سپروائزر جو کہ کافی سالوں سے حویلی اور ڈیرے کی حفاظت پر معمور تھا—بہرام شاہ کے بارے میں سنتا تقریباً بھاگتے ہوئے وہاں آیا تھا—
جس کی آواز سنتے بہرام شاہ نے گردن ترچھی کرتے اسے دیکھا تھا
وہ پچاس پچپن سال کا بزرگ تھا جس کی وردی کا رنگ دوسرے گارڈز کی سیاہ وردی سے مختلف سبز تھا
وہ گیٹ پر کھڑے ہو کر ڈیوٹی نہیں کرتا تھا—وہ صرف گارڈز کی ڈیوٹی ٹائمنگ کو مینج کرتا اور ان کے کھانے پینے کا خیال رکھتا تھا
“آج پہلا دن ہے اور آپ نے اسے گیٹ کی ڈیوٹی پر رکھ دیا—ضرغام خان کو اس کے بارے میں معلوم ہے”—دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر باندھتے لہجے کو حتی الامکان نرم کرتے استفسار کیا تو گارڈ نے سر اثبات میں ہلایا تھا
“جی صاحب— سردار صاحب کا ہی حکم تھا کہ اسے یہاں ڈیوٹی پر رکھا جائے – ہم نے تو مشورہ دیا تھا کہ ڈیرے کے باورچی خانے میں اس کی ڈیوٹی لگا دیں—کھانا بنانے والوں کا بھی اعتبار نہیں – لیکن سردار نے انکار کر دیا”—
“ہاں—باورچی کھانے میں لگوا دو تا کہ سب کا ایک ساتھ ہی اوپر کا ٹکٹ کٹا دے”—منہ میں بڑبڑاتے سر نفی میں ہلایا تھا
“اسے میری گاڑی میں بیٹھاو— اور گارڈز سے کہو شاہ صاحب کی خاص جگہ چھوڑ آئیں اسے”—اپنی پرسنل کار کے پیچھے کھڑی گارڈز کی گاڑی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو گارڈ نے الجھ کر بہرام شاہ کو دیکھا تھا—مگر کوئی سوال و جواب کیے بغیر آگے بڑھ کر سرخ چہرہ جھکائے کھڑے گارڈ کو بازو سے تھام کر گاڑی کی جانب رخ کیا تھا—
جبکہ بہرام شاہ نے جیب سے موبائل نکالتے کان سے لگایا تھا—ایک نظر گارڈز پر ڈالتا وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا
گاڑی میں بیٹھے وہ زن گاڑی آگے بڑھاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا
_________
ٹیرس کے دروازے کے پار سے اتی مسلسل ٹھک ٹھک کی آواز پر امتثال نے اپنی ہیزل ہنی آنکھوں میں الجھن لیے کھڑکی کی جانب دیکھا تھا
مہندی رنگ کا لہنگا پہنے جس پر گلابی رنگ کے نگیینے سجے ہوئے تھے کے ساتھ فیروزی رنگ کی گولڈن اور ہلکے گلابی رنگ کے کام والی کرتی پہنے—سر پر سگلابی دوپٹہ سجائے جس پر جا بجا گولڈن رنگ کے نگینے اور اطراف پر مہندی رنگ کا بھاری کام ہوا تھا—
چہرے پر لائٹ میک اپ اور سفید کلائیوں میں سرخ گجرے پہنے—ہیزل ہنی کاجل سے سجی آنکھوں میں الجھن لیے ٹیرس کے بند دروازے کی جانب دیکھا تھا—
جہاں سے تھوڑے تھوڑے وقفے سے ٹھک ٹھک کی عجیب سی آواز آرہی تھی
یہ عائث اور حوریہ شاہ کا کمرہ تھا جہاں امتثال خان تیار ہونے کی غرض سے آئی تھی—
جبکہ پلوشہ امتثال اور اپنے مشترکہ کمرے میں ہی تیار ہو رہی تھی
حوریہ اور امتثال کو تیار کرنے والی بیوٹیشن ایک ہی تھی اسی لیے حوریہ نے امتثال کو یہاں آکر تیار ہونے کا کہا تھا
حوریہ کے جانے کے بعد بیوٹیشن نے امتثال کو تیار کیا تھا
تیار کر کہ بیوٹیشن تو ملازمہ کے ساتھ باہر چلی گئی لیکن امتثال وہی صوفے پر سر ٹکا کر بیٹھ گئی تھی
ابھی تک کوئی اسے لینے نہیں آیا تھا—صرف کشف بیگم ایک دو بار آکر اسے کھانے پینے کے لئے فروٹس اور جوس دے کر گئی تھیں
دونوں ہاتھوں سے لہنگا تھامتے وہ سنبھل کر صوفے سے اٹھتی اس جانب بڑھی تھی جہاں سے آواز آنا اب بالکل بند ہو چکی تھی
ہاتھوں میں لہنگا تھامے چھوٹے چھوٹے قدم لیتی وہ ٹیرس کے دروازے کے سامنے جا رکی تھی
دونوں ہاتھوں سے کھڑکی کے آگے پھیلے گرے رنگ کے کرٹنز کو جھٹکے سے پیچھے کرتی وہ کھڑکی کھول چکی تھی—
ٹیرس کا ث کھولتے سرد ہوا کا تیز جھونکا وجود سے ٹکرایا تو امتثال کا جسم لمحے کے لیے بری طرح کپکپایا تھا—
نظریں ٹیرس پر لگی خوبصورت لائٹس سے ہوتی حویلی کے پچھلے روشنیوں میں نہائے لان میں جا کر ٹھہر گئی
جہاں گارڈز پشت کیے ہتھیار تھامے کھڑے تھے—
نظریں گارڈز سے ہوتی کھلے ستاروں سے سجے آسمان پر گئی تو امتثال خان کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ رینگ گئی
“اس نے کب کھڑے ہو کر دیوانوں کی طرح اس سیاہی لیے ہر جانب بکھرے آسمان کو دیکھا تھا—سیاہ رنگ نے کب زندگی بھر امتثال خان کی توجہ اپنی جانب کھینچی تھی—فقط تب تک جب تک وہ سیاہ رات سی گہری آنکھوں والے مغرور شہزادے کے عشق میں گرفتار نہیں ہوئی تھی—ان آنکھوں کی چمک کو امتثال خان نے ہر رات ان ستاروں میں ڈھونڈا تھا اور ہر بار وہ ناکام رہی تھی—اسے ان ستاروں کی چمک بھی بہرام شاہ کی سیاہ چمکتی آنکھوں کے آگے مانند لگی تھی—
مگر وہ پھر بھی ہر رات اب پہروں سر اٹھائے محبت بھری آنکھوں میں اشتیاق لیے اس سیاہ ستاروں بھرے آسمان کو تکتی رہتی تھی
کمرے سے آتی فون کی چنگاڑتی آواز پر وہ بری طرح چونکی تھی
نظریں بے ساختہ بائیں جانب گملوں کے پاس بکھری مٹی پر گئی تھیں جنہیں نظر انداز کرتی وہ
نفی میں سر ہلاتے— لہنگا سنبھال کے پلٹتی کمرے میں داخل ہوکر ٹیرس کا دروازا بند کرتی کرٹینز آگے کر چکی تھی
جبکہ ساتھ والے کمرے کے ٹیرس کی زمین پر منہ کے بل گرے شخص کے سر سے بہتے بھل بھل خون کو نظر انداز کیے بہرام شاہ نے اس کی پشت پر بیٹھتے سر کو بالوں سے دبوچتے جھٹکے سے پیچھے کھینچا تھا کہ وہ شخص بری طرح تڑپتے نفی میں سر ہلانے کی کوشش کرتا تو سر اور جسم سے اٹھتی ٹیسو کو محسوس کرتے حرکت چھوڑ دیتا—
_________
خان حویلی سے نکلتا وہ اپنے گاڑی میں رکھے اپنے لیپ ٹاپ پر شاہ حویلی میں لگے کیمروں کی مدد سے ہر چیز کا جائزہ لیتا کچھ سوچتے خان حویلی کے مناظر لیپ ٹاپ کی سکرین پر ان کر چکا تھا—
وہ بہرام شاہ تھا ہر چیز سے با خبر رہنے والا اس کے لیے خان حویلی کے کیمراز تک رہائی حاصل کرنا کبھی بھی نا ممکن نہیں تھا—
ہر منظر کو بغور دیکھتے وہ حوریہ کے ٹیرس اور کمرے کے باہر کے مناظر پر ٹھٹھکا تھا
رویورس کرتے وہ ایک کی سین کو کئی بار چلا چکا تھا—جسے دیکھتے بہرام شاہ کی سیاہ آنکھوں میں سرخی اتری تھی چہرے پر چٹانوں سی سختی سجائے لیپ ٹاپ پٹکنے کے انداز میں سیٹ پر پھینکتا وہ ڈیرے کے رستے جاتی کار کو جھٹکے سے موڑ چکا تھا—
کیونکہ لائیو ریکارڈنگ میں بظاہر نظر آتا وہ سین آج کا نہیں کل کا تھا
اور کچھ سین آج شام کے کچھ حصے کا تھا جسے بار بار رپیٹ کیا جا رہا تھا—
گاڑی کو خان حویلی سے کچھ فاصلے پر روکتا وہ جھٹکے سے نیچے اترا تھا
مگر اب وہ یکسر مختلف لباس میں تھا
بلیک پیںٹ کے ساتھ بلیک لیدر کی جیکٹ اور ہاتھوں پر بلیک گلوز پہنے وہ ناک کی سید میں چلتا خان حویلی کے پچھلے حصے کی جانب آیا تھا—
یہاں پہنچنے تک وہ اپنے ہیکر سے کہہ کر خان حویلی کے کیمراز دس منٹ کے لیے بند کروا چکا تھا
دیوار کے قریب رکتے بہرام شاہ نے اردگرد نگاہ دوڑائی تھی
پھر چند قدم پیچھے لیتے دیوار کو دیکھتے وہ بھاگ کر جھٹکے سے دونوں ہاتھ دیوار پر رکھتا دوسری جانب کود چکا تھا—
گرنے کی آواز سنتے جیسے ہی گارڈ وہاں بھاگ کر آیا تو چند ہی سیکنڈز میں بہرام شاہ وہاں لگے درخت کی انچائی پر چڑھتے مضبوط چوڑی ٹہنی پہ منہ کے بل لیٹتے خود کو چھپا چکا تھا—
گارڈز کو نیچے آگے پیچھے منڈلا کر واپس جاتے دیکھ بہرام شاہ نے سامنے ٹہنی سے کچھ فاصلے پر نظر آتے کمرے کے ٹیرس کو دیکھا تھا جو کہ درخت کی ٹہنی سے تھوڑا نیچے تھا—
تبھی پنجوں کے بل ہوتا—زیرک نگاہوں سے آگے پیچھے دیکھتا وہ کنارے تک آیا تھا—
ہاتھوں کو اٹھاتے—ہونٹوں پر زبان پھیرتے—آنکھوں کو چھوٹی کرتے ٹیرس پر ٹکائے دونوں بازوؤں کو دائیں بائیں کھڑا کیا تھا
تھوڑا سا ڈگمگاتے وہ ایک قدم آگے بڑھا تھا
عنابی ہونٹوں پر زبان پھیرتے بہرام شاہ کے ہونٹوں پر اسرار مسکراہٹ رینگی تھی
تبھی ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا وہ ٹیرس پر کود چکا تھا—
ٹیرس پر کودتے بہرام شاہ کمرے میں داخل ہوتا وہاں سے باہر نکلا تھا
حوریہ کے کمرے کے باہر آتے وہ اس سے پہلے اندر داخل ہوتا سیڑھیوں سے آتی لڑکیوں کی آواز سنتا ساتھ والے کمرے میں جاتے دروازا لاک کر چکا تھا—
کمرے کے اطراف میں نظریں دوڑاتا وہ کھڑکی کے پاس آیا تھا—
بنا آواز پیدا کیے ٹیرس کا دروازا کھولتے دبے قدموں سے وہ ٹیرس میں داخل ہوا تھا—
کہ تبھی ساتھ والے ٹیرس سے آتی ٹھک ٹھک کی آواز پر بہرام شاہ نے مٹھیاں بھنچتے اپنے اشتعال پر قابو پایا تھا—
دیوار کی اوٹ میں ہوتے وہ آگے بڑھا تھا
سر دیوار سے ٹکائے بہرام شاہ نے دوسری جانب لوگوں کی موجودگی محسوس کرنے کی کوشش کی تھی
مگر وہاں وقفے وقفے سے ہوتی ٹھک ٹھک کی آواز کو سنتے بہرام شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبایا تھا
دونوں ٹیرس کے درمیان بنی پتلی سی دیوار پر انگلیاں پھیرتے بہرام شاہ نے اپنا ہاتھ وہاں ٹکایا تھا—
جس سے اسے اندازا ہو گیا تھا کہ وہاں جو بھی موجود ہے اس کا دیہان اس جانب نہیں ہے
نظریں سامنے نظر آتی گارڈز کی پشت پر ٹکاتے بہرام شاہ نے گردن آگے کر کہ ٹیرس کے دروازے کی جانب دیکھا تھا
جہاں چھ فٹ سے نکلتا قد آور بھاری جسامت لیے پیںٹ شرٹ میں ملبوس ایک شخص پشت کیے کھڑا تھا
جس کے دائیں ہاتھ میں پسٹل تھا جسے وہ وقفے وقفے سے دیوار اور کبھی دروازے پر مار رہا تھا—جبکہ بائیں ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کا بکے تھا
جسے دیکھتے بہرام شاہ کے ماتھے کی رگیں تن کر واضح ہونے لگی تھی—
تبھی اپنا بایاں ہاتھ دیوار پر ٹکاتے بہرام شاہ جھٹکے سے چھلانگ لگاتے اس جانب کودا تھا کہ سامنے کھڑے شخص نے سرعت سے رخ پلٹا تھا—
“گھر چاہے خان کا ہے—لیکن عزت شاہ کی ہے”— دبے دبے لہجے میں غرا کر کہتے سامنے والے کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر بہرام شاہ نے آگے بڑھتے اپنا گھٹنا اس کے پیٹ میں مارا تھا
جس سے اس شخص کے ہاتھوں میں موجود دونوں چیزیں نیچے گرتی اس سے پہلے بہرام شاہ نے پسٹل کو پکڑتے اپنی کہنی اس کی ریڑھ کی ہڈی میں ماری تھی کہ وہ منہ کے بل گرا تھا
نیچے گرے پھولوں کو اٹھاتے بہرام شاہ نے قہر بھری نظروں سے دیکھتے ساتھ والے ٹیرس پر پھینکا تھا
تبھی نیچے گرے شخص نے ہاتھ بڑھا کر گملا اٹھانا چاہا تو بہرام شاہ نے خون آشام نظروں سے دیکھتے اپنی جیب سے انجیکشن نکالتے اس شخص کے پلٹنے سے پہلے اس کی گردن میں لگایا تھا کہ گملا اس کے ہاتھوں سے نیچے گر کر ٹوٹتا اس سے پہلے بہرام شاہ نے اسے پکڑا تھا
لیکن گملے سے نکلتی مٹی اردگرد پھیل چکی تھی جسے ہونٹ بھنچ دیکھتے بہرام شاہ نے گردن ترچھی کیے زمین پر لیٹے ہاتھ پاؤں مارتی شخص کو دیکھا تھا
آگے بڑھ کر ایک جھٹکے سے اسے اپنگ کندھے پر اٹھاتے وہ دیوار سے دوسری جانب دھکیل چکا تھا—
خود بھی دوسری جانب آتے بہرام شاہ نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرتے اپنے قہر بھری نظروں سے اس شخص کو دیکھا تھا—
تبھی آگے بڑھتے اس کے بال دائیں ہاتھ میں دبوچتے اس کا سر پوری شدت سے زمین پر مارا تھا کہ خون فوارے کی مانند سر سے نکلتا جا بجا پھیلنے لگا تھا
بہنتے خون کو دیکھتے بہرام شاہ کا خون مزید کھولا تھا اسی لیے نجانے وہ کتنی بار اس شخص کا سر زمین پر مار چکا تھا—
تبھی دروازا کھلنے کی آواز کو سنتے بہرام شاہ کے ہاتھ تھمے تھے
کراہتے ہوئے شخص کے ہونٹوں پر سختی سے ہاتھ جمائے وہ دوسری جانب موجود امتثال خان کے جانے کا انتظار کر رہا تھا—
مگر کچھ دیر گزرنے کے بعد بھی جب وہ نا گئی تو بہرام شاہ نے مجبورا اپنی پاکٹ سے موبائل نکالتے اسے کال ملائی تھی
منہ کے بل گرے شخص کے سر سے بہتے بھل بھل خون کو نظر انداز کیے بہرام شاہ نے اس کی پشت پر بیٹھتے سر کو بالوں سے دبوچتے جھٹکے سے پیچھے کھینچا تھا کہ وہ شخص بری طرح تڑپتے نفی میں سر ہلانے کی کوشش کرتا تو سر اور جسم سے اٹھتی ٹیسو کو محسوس کرتے حرکت چھوڑ دیتا—
دروازے کے بند ہونے کی آواز سنتے بہرام شاہ نے فون بند کیا تھا اور اپنے فون سے خان حویلی میں کچھ دن پہلے اپنی تعینات کیے گئے بندوں کو بلا کر اس شخص کو وہ سے غائب کرنے کا حکم دیتے وہ دوسری جانب کودا تھا
_________
موبائل پر بہرام شاہ کی کال کی نوٹیفیکیشن دیکھ کر امتثال کا دل بری طرح دھڑکا تھا
ہاتھ میں موبائل تھامے دھڑکتے دل سے وہ سکرین پر نظر آتے بہرام شاہ کے نام کو دیکھ رہی تھی جو آج کل اس نے ہزبینڈ ٹو بی کے نام سے سیو کیا ہوا تھا—
فون لیے وہ آکر صوفے پر بیٹھ چکی تھی—
انگلیاں چٹخاتے سامنے ٹیبل پر رکھے موبائل کو دیکھتی وہ عجیب کشمکش میں تھی—
کال کروں یا نا—انہوں نے کیوں کی ہوگی—یا شاید غلطی سے ہوگئی ہو—ورنہ وہ دوبارا کر لیتے—کال کر کہ پوچھ لوں کیا”—ہتھیلیوں میں چہرہ جھکائے ٹیبل کی جانب جھکتے خود سے ہی سوال جواب کرتے آخر میں نفی میں سر ہلاتی وہ صوفی کی پشت سے کمر ٹکا چکی تھی—
ابھی کچھ ہی وقت گزارا تھا کہ موبائل کی چنگاڑتی آواز کمرے کی خاموش فضا میں گونجی تھی اسی کے ساتھ ٹیرس کے دروازے پر زور دار دستک نے امتثال خان کو اچھلنے پر مجبور کر دیا
سینے پر ہاتھ رکھتی دھک دھک کرتے دل سے کبھی وہ موبائل اور کبھی ٹیرس کے دروازے کو دیکھ رہی تھی—
موبائل کی سکرین پر جگمگاتے “ہزبنیڈ ٹو بی”— کو دیکھتے امتثال خان نے جھٹکے سے ہاتھ بڑھاتے کال اٹینڈ کرتے فون کان سے لگایا تھا
“بہرام”— لہجے میں تڑپ لیے پکارتے وہ جھٹکے سے رکھی فروٹ باسکٹ سے بھری اٹھاتی کھڑکی کی جانب بڑھی تھی—اب باہر جو بھی تھا وہ اسے چھوڑنے والی بالکل نہیں تھی—اپنے ڈر کو نظر انداز کرتی مضبوط قدموں سے چلتی وہ دروازے کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی—
دروازے پر ہوتی مستقل دستک پر امتثال خان نے گہری سانس لیتے موبائل کان سے ہٹایا تھا—جہاں سے کال نجانے کب کی کٹ چکی تھی—
صوفے پر اچھالتے جھٹکے سے کرٹینز پیچھے کیے تھے
سامنے کسی کو نا پا کر گلاس ڈور کھولا تھا—ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ دائیں جانب سے ایک دم کوئی نمودار ہوا تھا—
جس پر امتثال خان نے آنکھیں بند کرتے پوری طاقت سے ہاتھ میں تھامی چھری سے اس پر وار کیا تھا—
“سسس—- ریلیکس شاہ کی جان یہ میں ہوں—تمہارا بہرام”— وہ جو سرپرائز کرنے کے چکر میں چھپ کر سامنے آیا تھا—
اپنی ہونے والی بیوی کی بند آنکھوں اور ہاتھ میں چھڑی دیکھ کر ابھی سنبھلتا کہ وہ اس پر وار کر چکی تھی—
تبھی چھڑی اس کے بائیں بازو کو چیرتے ہوئے گزری تھی—
اس سے پہلے امتثال خان دوبارا سے وار کرتی بہرام شاہ دائیں جانب پیچھے کو ہوتا امتثال خان کا ہاتھ تھامتے—اس کے ہونٹوں پر ہتھیلی جمائے سرگوشیانہ لہجے میں بولا تھا—
جبکہ بہرام شاہ کی آواز سنتے امتثال خان کی آنکھیں جھٹکے سے کھلی تھیں
_________
“آپ کو ایسے نہیں آنا چاہئے تھا شاہ”— بہرام شاہ کے سامنے ٹیبل پر بیٹھتے ہاتھ میں تھامے فرسٹ ایڈ باکس کو اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے شوخ نظروں سے امتثال خان کو دیکھا تھا
“میں نے اندازہ لگایا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ شاہ ہو یا کوئی تیس مار خان”— اپنے زخم کی جانب بڑھتے امتثال خان کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامتے—ہلکے سے جھٹکا دیتے اپنی جانب جھکایا تھا
جس پر سرخ پڑتے امتثال خان نے بہرام شاہ کی شوخ سیاہ چمکتی آنکھوں میں دیکھا تھا—
“کک-کیا مطلب”—اپنا خشک پڑتا حلق تر کرتے ہاتھ چھڑاونے کی کوشش کرتے سرگوشی سے بھی کم آواز میں استفسار کیا تو بہرام شاہ کے مونچھوں تلے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“بیوی—بیوی ہی ہوتی ہے— کوئی شاہ بھی ہو تو اسے بھی گھٹنے ٹیکنے ہی پڑتے ہیں—پھر وہ چاہے بانہوں کا ہار پہنا کر استقبال کریں—یا چھری سے وار کر کہ— بندے کو قبول کرنا ہی پڑتا ہے”— نظریں ہیزل ہنی آنکھوں سے سرکتی گلال بکھرے چہرے سے ہوتی لائٹ پنک لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں پر ا کر رکی تو بہرام شاہ کو اپنے گلے میں کانٹے سے چبھتے محسوس ہوئے
ہاتھ کو جھٹکا دیتے امتثال خان کو اپنی جانب کھسکایا تھا—جبکہ بائیں ہاتھ سے فرسٹ ایڈ باکس تھامتے ٹیبل پر سائیڈ پر رکھتے ہاتھ امتثال خان کے دائیں جانب ٹیبل پر ٹکایا تھا
“اگر اتنی ہی مجبوری میں قبول کرنا پڑ رہا ہے تو نا کریں—میں نے کونسا عدالت میں درخواستیں لکھ ڈالیں ہیں کہ بندے کو ہر حال میں قبول ہی کرنا ہے—نہیں کرنا تو نا سہی—میں کونسا روز پھولوں کے یا بانہوں کے ہار لیے استقبال کے لیے دروازے میں کھڑی ہونے والی ہوں”— اپنے چہرے پر پڑتی بہرام شاہ کی گرم سانسوں کی تپش سے سرخ پڑتے چہرے کا رخ بدلتے منہ بسور کر کہا تو بہرام شاہ نے گہری نظروں سے امتثال خان کو دیکھا تھا
تبھی امتثال خان کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر بازو سے تھامتے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے لا کھڑا کیا تھا—
بائیں جانب کندھے سے تھوڑا نیچے لگے کٹ کو دیکھتے بہرام شاہ نے امتثال خان کو دیکھا تھا جو انگلیاں چٹخاتے شرمندہ نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھ رہی تھی—
“شش—شاہ تکلیف ہو گی آپ کو—کیا کر رہے ہیں”— بہرام شاہ کے ہاتھ تھامنے پر امتثال خان نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا لیکن جب بہرام شاہ نے امتثال خان کا ہاتھ اپنے زخم پر رکھ کر دبایا تو امتثال خان نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا—
“جو تکلیف مجھے اس دن ہوئی تھی امتثال خان وہ اس تکلیف کے آگے کچھ بھی نہیں”— سیاہ آنکھوں کی چمک پل میں غائب ہوئی تھی—آنکھوں میں اتری سرخی اور چہرے پر چھائی چٹانوں سی سختی دیکھتے امتثال خان نے نا سمجھی سے بہرام شاہ کو دیکھا تھا
“آئندہ تمہاری زبان سے میں کسی غیر مرد کی تعریف نا سنو—نا ہی تمہاری آنکھوں میں کسی اور کے لیے ستائش دیکھو— محبت میں تمہارا دیا ہر زخم سہہ سکتا ہوں—مگر محبت میں رتی برابر کیا نام کی بھی شراکت داری برداشت نہیں کر سکتا —میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں بہرام شاہ امتثال خان پر دل و جاں سے فدا ہے—میں تمہارے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں—اگر تم—امتثال خان اگر تم مجھ سے دور ہوئی تو یقین رکھو کہ بہرام شاہ سب کچھ تباہ کر دے گا”— دایاں بازو امتثال خان کی کمر پر سختی سے ٹکاتے اپنے لہجے میں چٹانوں سی سختی لیے ایک ایک لفظ چبا کر کہتے وہ امتثال خان کے رونگھٹے کھڑے کر چکا تھا
اپنی ریڑھ کی ہڈی تک سنسناہٹ محسوس کرتے امتثال خان نے اپنی سانس روکی تھی
جبکہ بہرام شاہ نے چہرہ جھکاتے امتثال خان کے وجود سے اٹھتی دلکش خوشبو کو اپنی روح تک اترتا محسوس کیا تھا
تنے تاثرات ڈھیلے پڑے تو ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے شوخ نظروں سے امتثال خان کی حیرت سے پھٹی آنکھوں میں دیکھا تھا—
امتثال خان کو یک ٹک اپنی جانب دیکھتے پا کر آنکھ دبائی تو امتثال سٹپٹا کر پیچھے ہوئی تھی—
“اور میں نے بھی آپ کے بارے میں بالکل ٹھیک اندازہ لگایا تھا”—بہرام شاہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دھکیلتے ناک سکوڑ کر کہا تو بہرام شاہ نے آبرو آچکا کر امتثال خان کو دیکھا تو جو یوں سجی سنوری اس کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی
“یہی کہ آپ صرف شکل کی حد تک ہی سوبر اور شریف ہے—اندر سے پورے فلرٹ اور ٹھرکی ہیں”— دونوں ہاتھوں میں لہنگا اٹھائے ٹیبل کی طرف جاتے منہ بسور کر کہا تو بہرام شاہ نے گھور کر امتثال خان کو دیکھا تھا جو کاٹن پر ڈیٹول لگائے بہرام شاہ کے زخم پر رکھ چکی تھی—
“باقی کی مرہم پٹی گھر جا کر کیجئے گا شاہ صاحب— ہونے والی بیوی کے ہاتھ سے ملا زخم ہے—کچھ دیر اس سے خون رسے اتنا تو بنتا ہے—محبت میں تو انسان زہر کا پیالہ پی جاتا ہے—یہ تو پھر ایک چھوٹا سا زخم ہے”— انگلی کو زخم کے اردگرد دائرے کی صورت میں ٹریس کرتے نظریں اٹھائے بہرام شاہ کی آنکھوں میں دیکھتے سرگوشی نما لہجے میں کہتے انکھ دبا کر ہلکا سا زخم دبایا تو بہرام شاہ نے بغور امتثال خان کے چہرے کو دیکھا تھا—جہاں کچھ دیر پہلے زخم پر ہاتھ رکھتے وقت تکلیف کے تاثرات اس وقت کہی بھی نہیں تھے
ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے گردن ترچھی کرتے بازو کو دیکھا تھا—جہاں سے خون رسنا پھر سے شروع ہو چکا تھا—
“زہر کے پیالے کا بھی سوچ لیں گے—لیکن کل یہ شاہ محبت کا جام پینے کا ارادہ رکھتا ہے—بس اس کی تیاری کر لیجئے گا”—امتثال خان کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر انگھوٹے کو امتثال خان کے ہونٹوں پر پھیرتے سرخی بکھیر کر معنی خیز لہجے میں کہا تو امتثال خان کان کی لو تک سرخی پڑتی جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی جسے دیکھتے بہرام شاہ نے بامشکل اپنا قہقہ ضبط کیا تھا—
اور پھر ایک گہری نگاہ امتثال خان کے سراپے پر ڈالتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا
جبکہ امتثال خان نے آگے بڑھتے ٹیرس کا دروازا بند کیا تھا _______
ما شاءاللہ ہماری پلوشہ تو چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہے”—پلوشہ کے سر پر پیار کرتے محبت بھرے لہجے میں کہا تو پلوشہ نے شرما کر سر جھکا یا
لیمن کلر کا خوبصورت شرارہ پہنے—جس پر گولڈن اور گرین کلر کا کام اس کہ دلکشی میں اضافہ کر رہا تھا—سر پر گرین کام دار بھاری دوپٹہ سجائے—ہاتھوں میں بھر بھر کر مہندی لگائے—پٹھانی نقوش والے گلابی چہرے پر لائٹ میک اپ کیے— خمدار پلکوں کی اوٹ میں گہری نیلی آنکھوں کو چھپائے—ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتی— شہزادیوں سا حسن لیے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی
ثمرین بیگم نے بغور پلوشہ خان کے معصوم چاند سے روشن چہرے کو دیکھا تھا—
وہ معصوم تھی—اور مختلف بھی—ان سب سے مختلف— اس میں حسن کے علاؤہ بھی ضرور ایسا کچھ تھا کہ نظریں اس کے چہرے سے ہٹنے سے انکاری ہو جاتی تھیں—اس کی سمندر سی گہری نیلی آنکھیں یا کچھ اور—کچھ تو تھا—جو راز تھا— کچھ تو تھا جو سامنے آنا ضروری تھا—اس کا چہرہ معصومیت لیے ہوئے تھا مگر اس کی آنکھیں کچھ اور کہہ رہی تھی—کچھ ایسا کہ جو وہ نہیں سمجھ پا رہی تھیں
“حلیمہ خود نہیں آئی اپنی اکلوتی بہو کے لیے مہندی لے کر”—- مقدس بیگم کی آواز پر ثمرین بیگم نے چونک کر انہیں دیکھا تھا—جو ان کے پاس سے گزرتی آگے بڑھ کر پلوشہ کے سر پر پیار کر رہی تھیں
“آنا تھا لیکن خان حویلی کی بہووؤں مہمان بن کر گئیں تھیں—وہ ان کی مہمان نوازی میں مصروف تھی—اور پلوشے صرف حلیمہ کی ہی بہو نہیں میری بھی ہے—شاہ حویلی کی بہو ہے—حلیمہ آئے یا میں ایک ہی بات ہے”—ثمرین بیگم نرم لہجے میں گویا ہوئی تو مقدس بیگم نے ہنکارا بھرا تھا
جبکہ مبین بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے سلام کیا تو ثمرین بیگم نے آگے بڑھ کر انہیں گلے لگایا تھا جس پر وہ جزبز ہوتی گلے لگ کر پلوشہ کی جانب بڑھی تھیں
کشف ہماری دوسری بیٹی کو تو بلاؤ—میں اسے بھی دیکھ لوں کہ میرے بہرام کہ دلہن کیسی لگ رہی ہے—سارا وقت تو مہمانوں کو ملنے میں لگ گیا اب رسم تک رکنا میرے لیے بہت مشکل ہے—اسی لیے امتثال کو لے آؤ تا کہ اسے دیکھ کر پھر ہم نکلے وہاں بھی سب انتظار کر رہے ہونگے”— ثمرین بیگم صوفے پر بیٹھتی کشف بیگم سے مخاطب ہوئی تو انہوں نے دروازے کی جانب دیکھا تھا—
“بس لڑکیوں کو بھیجا ہے—آ ہی رہی ہو گی”+– کشف بیگم کے مسکرا کر جواب دینے پر مقدس بیگم نے کینہ توز نظروں سے انہیں دیکھا تھا اور پھر ایک نظر پلوشے پر ڈالتے کمرے سے نکلتی چلی گئی جسے کشف بیگم کے ساتھ ثمرین بیگم نے بھی مکمل نظر انداز کیا تھا
________
شام ہر سو اپنے پر پھیلائے ہوئے تھی—ڈوبتے سورج کی سرخی اندھیرے میں ڈھلتے آسمان پر بکھری ہوئی تھی—
سر سبز پہاڑوں کے درمیان سے بہتے نیلے پانی کا شور برپا کرتا پانی کا بہاؤ چٹانوں سے ٹکراتا آگے بڑھتا جا رہا تھا—
تبھی ان پہاڑوں— شور برپا کرتے پانی کے بہاؤ میں کسی کی دلکش ہنسی گونجی تھی
تبھی بلیک پیںٹ کے ساتھ سفید خون آلود شرٹ پہنے دیوانہ وار بھاگتے وہ اس ہنسی کی آواز پر رکا تھا—
جاناں— کرب زدہ آواز میں وہ دھاڑا تھا کہ وہ گونجتی دلکش ہنسی تھم گئی تھی
ہر طرف خاموشی چھا گئی تھی—تبھی تیز ہواؤں کے سراسرانے کی آواز پانی کے تیز بہاؤ کی آواز مزید تیز ہوئی تھی
اپنے خون آلود ہاتھوں کو نم آنکھوں سے دیکھتے وہ پھر آگے کی سمت بڑھا تھا
تمہیں پتہ ہے بالاج— لاعلاج مرض کونسا ہے”—کانوں میں سرسراتی ہوئی آواز گونجی تو اس کے قدم جیسے زمین نے جکڑے تھے
خشک گلے میں جیسے کانٹے سے چبھتے محسوس ہوئے تھے— گہری رات سی سیاہ آنکھیں سرخ ہوئی تھی— عنابی ہونٹ کپکپا کر سختی سے پیوست ہوئے تھے—
“عشق—لاحاصل کی چاہ”—- پھر سے سرگوشی گونجی تھی اور فضا میں گونجتی وہ دلکش ہنسی لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی جا رہی تھی بالاج شاہ نفی میں سر ہلاتے جھٹکے سے پلٹتا دیوانہ وار اس کی جانب بڑھا تھا
تم نے مجھ سے سب چھین لیا بالاج—میں کبھی معاف نہیں کروں گی”— حوریہ شاہ کے سسکتی آواز پر وہ جھٹکے سے رکا تھا—
پورا جسم پسینے سے شرابور ہوا تھا—آنکھوں میں بے یقینی لیے اس نے پلٹ کر حوریہ شاہ کو دیکھا تھا—
جو گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی— انگلی سے لکیریں کھینچتی بے آواز رو رہی تھی
قدم بری طرح ڈگمگائے تھے—وہ لڑکھڑا کر چند قدم پیچھے ہوا تھا—
نظریں حوریہ کے جھکے سر سے ہوتی بے چینی سے اطراف میں گھومتی اس آواز کو ڈھونڈ رہی تھی—
ابھی وہ قدم حوریہ کی جانب بڑھاتا کہ اس کا وجود ہوا میں تحلیل ہوتا گم ہوا تھا—
جسے دیکھتے بالاج شاہ نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے تھے
“عشق—لاحاصل کی چاہ”—پھر سے وہی آواز گونجی تو اس بار وہ دیوانہ وار اس آواز کے پیچھے بھاگا تھا—
آسمان پر بکھری سورج کی سرخی سیاہی میں ڈھل چکی تھی— ہواؤں کے شور میں اضافہ ہو چکا تھا—
تبھی بالاج شاہ کے قدم رکے تھے—
اپنے اردگرد گھنے درخت دیکھتے اس کی نظریں— درخت سے ٹیک لگائے بیٹھی صبغہ شاہ کے بھیگے چہرے پر گئیں تھیں
جسے دیکھتے بالاج شاہ گہرے سانس لیتے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا تھا
“صبغہ”—ابھی وہ اسے پکارتا کہ ہر طرف اندھیرا چھا گیا تھا
ہر چیز سیاہی میں ڈوب چکی تھی—
“آٹھ جاؤ بالاج—یہ سونے کا ٹائم نہیں ہے”— بہرام شاہ نے بالاج شاہ کے کندھے کو ہلاتے ہوئے کہا تو اس نے نیند میں ڈوبی آنکھوں کو بامشکل کھولا تھا
نظریں بہرام شاہ کے چہرے سے ہوتی اطراف میں گھومی تھی—وہ جھٹکے سے اٹھا تھا—پورا جسم پسینے میں شرابور تھا
دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ تھی
تم ٹھیک ہو”— بالاج شاہ کو سر ہاتھوں میں گرائے دیکھ بہرام شاہ نے تشویش زدہ لہجے میں پوچھا تو اس نے سر اثبات میں ہلایا تھا اور پھر گہری سانس لیتا اٹھ بیٹھا تھا—
چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرتا وہ خود کو کمپوز کر چکا تھا—
“تمہیں لگتا ہے کہ تم سردار ضرغام خان کے گھر کے کیمراز بند کرواؤ گے تو اسے پتہ نہیں چلے گا—ایسا نہیں ہو سکتا—وہ سب جانتا ہے—وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ہم سب کیا کر رہے ہیں—وہ کسی وجہ سے خاموش ہو—اور گارڈ کو بھی اگر اسنے وہاں تعینات کیا ہے تو اس کے بارے میں بھی اس نے کچھ سوچا ہوگا”— حدائق شاہ کے کہنے پر بہرام شاہ نے سر اثبات میں ہلایا تھا
جانتا ہوں میں— لیکن میں پھر بھی اس گارڈ کو وہاں برداشت نہیں کر سکتا تھا—اس کی نظریں حویلی میں داخل ہوتی ہر بچی پر تھی—جبکہ ضرغام کے سب گارڈز عورتوں کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے– میرا بس چلتا تو میں اس کی آنکھیں نوچ لیتا—بہرام شاہ کے سرد لہجے پر حدائق نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
اس گارڈ کی ڈیوٹی ڈیرے پر لگا دی ہے—میرے آدمی نظر رکھے ہوئے ہیں—باقی صبح دیکھتے ہیں”— بالاج شاہ کے کہنے پر بہرام شاہ نے سر اثبات میں ہلاتے بغور بالاج شاہ کے چہرے کو دیکھا تھا—
بعد میں پوچھنے کا ارادہ کرتے اس نے سر جھٹکا۔ تھا
تمہارا دماغ خراب تھا بالاج جو یہاں اتنی گرمی میں سو رہے تھے”— بالاج شاہ کے پیسنے سے تر کرتے کو دیکھتے حدائق شاہ نے ڈپٹنے کے انداز میں کہتے جیب سے رومال نکالتے آگے بڑھ کر اس کی گردن اور ماتھے سے پسینہ صاف کیا تھا—
“پتہ نہیں چلا لالا کب آنکھ لگ گئی”—بیسمنٹ سے باہر کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے سر نفی میں ہلایا تھا
