Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 01)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 01)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
یہ منظر خان حویلی کا تھا—جہاں رات کے دس بجے مقدس اور کشف بیگم اپنے بیٹوں کے ساتھ دا جی کے کمرے میں موجود تھیں
اتنے لوگوں کی موجودگی کے باوجود بھی وہاں موت سا سناٹا تھا—
غزلان خان جانتا تھا کہ یہ خاموشی آنے والے طوفان کی وجہ سے ہے—
ایسا طوفان جس کے باعث خان اور شاہ ایک بار پھر آمنے سامنے کھڑے ہوگے— جو مضبوط قدم ہوا وہ بچ جائے گا—
اور جس کے قدم لڑکھڑائے اسے یہ طوفان اپنی لپیٹ میں لے کر تباہ کر دے گا—
جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ ضرغام خان بیتس سال کا ہوگیا ہے— ہم کئی سالوں سے اس کی شادی کا انتظار کر رہے ہیں—
اور اب ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں اور دیر نہیں کرنی چاہیے—زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں—
میں مرنے سے پہلے اپنے پوتے کی شادی دیکھنا چاہتا ہوں—
اور مجھے امید ہے کہ تم میں سے کسی کو بھی میری بات سے کوئی اعتراض نہیں ہوگا”—ولی خان کی با رعب آواز پر وہاں بیٹھی مقدس بیگم اور کشف بیگم نے بری طرح پہلو بدلا
ولی خان کے بیڈ کے دائیں جانب پڑے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے—سفید شلوار قمیض پہنے— قمیض کی آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے—دائیں کلائی پر بیش قیمتی گھڑی پہنے—گھنی مونچھوں تلے عنابی ہونٹوں کو سختی سے بھنچے—ماتھے پر بے ترتیبی سے بکھرے چاکلیٹ براؤن بالوں میں ہاتھ پھیرتے— سمندر سی گہری نیلی آنکھوں میں سرخی لیے ضرغام خان نے ولی خان کی بات پر ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچی
“جیسا آپ چاہے دا جی—میری بھی یہی خواہش ہے کہ جلد از جلد میں اپنے بیٹے کے لیے چاند سی دلہن اس حویلی میں لاؤں – اپنے پوتے پوتیوں کو اس حویلی میں پروان چڑھتا دیکھو—
آج آپ نے بھی کہہ دیا تو میں اب خاندان میں نظر دوڑاتی ہوں—جہاں مجھے اپنی ضرغام کی ٹکر کی لڑکی ملی—
اسے جلد از جلد اپنی بہو بنا لوں گی”—مقدس بیگم کے کہنے پر ضرغام خان کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ آئی
جبکہ ضرغام خان کے بالکل سامنے ولی خان کے بائیں جانب بیٹھے اٹھائیس سالہ ارمغان خان نے بیزاریت سے اپنی ماں کو جلد بات ختم کرنے کا اشارہ کیا
جس پر کشف بیگم نے گھور کر ارمغان خان کو دیکھا
یہ کیا بول رہی ہو بہو—ہوش میں تو ہو—ضرغام خان اور عقیدت شاہ ایک دوسرے کے نکاح میں ہیں—عقیدت کے ہوتے تم ضرغام کے لیے کسی اور لڑکی کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتی ہو—
ضرغام خان کی دلہن صرف اور صرف عقیدت ہی بنے گی—چاہے آج یا دس سال کے بعد—اس حویلی میں ضرغام کی بیوی کی حیثیت سے صرف عقیدت ہی آئے گی”—ولی خان کے گرجدار لہجے پر مقدس بیگم نے
بامشکل اپنے غصے پر قابو کیا
آپ کیسے بھول سکتے ہیں داجی کے وہ لڑکی میرے شوہر کے قاتل کی بیٹی ہے—میں اسے کبھی بھی اپنے بیٹے کی بیوی نہیں بناؤں گی—
جب نکاح ہوا تب بھی میری رضامندی شامل نہیں تھی—مگر سب نے اپنی منمانی کی—مگر اب میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گی—مقدس بیگم کے سرد لہجے پر ولی خان نے تاسف سے اپنی بہو کو دیکھا
تمہارا شوہر میرا بیٹا تھا بہو—اگر قتل وہ ہوا تھا—تو اس کا بدلہ بھی لیا گیا تھا— دشمنی بدلے کے ساتھ ہی ختم ہوگئی تھی—اب میں اس بلاوجہ کی نفرتوں کو بھی ختم کرنا چاہتا ہوں—
عقیدت تمہارے شوہر کے قاتل کی نہیں—میری نواسی ہے—میری اکلوتی بیٹی کی جان سے عزیز بیٹی ہے—
تم لوگوں کی دشمنی اور نفرت کی وجہ سے میں پچھلے انیس سال سے اپنی بیٹی سے قطع تعلق رہا ہوں—
مگر اب میں یہ سب ختم کر کہ جانا چاہتا ہوں—
میں نے ملازم کے ہاتھ شاہ حویلی پیغام پہنچا دیا ہے—جیسے ہی جواب آتا ہے—میں شادی کی تاریخ مانگنے جاؤں گا—
اور مجھے امید ہے کہ میری بیٹی مجھے خالی ہاتھ نہیں لٹائے گی”—ولی خان کے سخت لہجے پر مقدس بیگم نے خونخوار نظروں سے اپنے مغرور بیٹے کو دیکھا
جو اس قدر لاتعلق بنا بیٹھا تھا کہ وہاں اس کی نہیں کسی اور کی شادی کی بات ہو رہی ہو
یہ ظلم ہے دا جی—وہ صرف شیر لالا کے ہی نہیں—میرے بہادر خان کے قاتلوں کے خاندان سے ہے—آپ کس طرح اپنے دو دو بیٹوں کے قاتلوں کی بیٹی کو اس حویلی کی بہو بنانے کا سوچ سکتے ہیں—
میں اس لڑکی کو اس حویلی میں برادشت نہیں کروں گی—اگر عقیدت یا اس کی ماں یا شاہ خاندان سے کوئی بھی اس حویلی میں آیا تو میں یہاں ایک پل نہیں رکو گی—
اپنے شوہر کے قاتلوں سے میرا کوئی رشتہ نہیں”—کشف بیگم کے چلا کر کہنے پر ارمغان خان نےتاسف سے اپنا سر ہلایا
اپنی ماں سے اس قدر بتمیزی کی امید ارمغان خان کو نا تھی— شاہو کے ذکر سے بے شک انہیں اپنے وجود میں شرارے پھوٹتے محسوس ہوتے تھے—مگر وہ اس سب کے باوجود بھی کبھی داجی کے سامنے آنکھ اٹھا کر بات نہیں کرتے تھے
جبکہ ضرغام نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ دوڑا کر ایک گہری سانس بھری
اپنی زبان کو لگام دو بہو—اور خاندان کی روایات کو بھولو مت—سارا گاؤں جانتا ہے کہ ضرغام اور عقیدت ایک دوسرے کے نکاح میں ہیں—
عائث—حوریہ اور پلوشہ اور حقائق شاہ ایک دوسرے کے منگ ہیں—
کس کس کا رشتہ توڑیں گے ہم—جبکہ یہ بات ہم سب بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ ہمارے خاندانوں میں منگ کے نام ساری عمر بیٹھ تو سکتے ہیں مگر کسی اور سے شادی کا سوچ بھی نہیں سکتے—
ضرغام سے کون نکاح کروائے گا اپنی بیٹی کا جب سب جانتے ہیں کہ وہ شاہ خاندان کا داماد ہیں—
اور تمہیں لگتا ہے کہ تم حدائق شاہ کی بہن پر سوتن لاؤں گی—اور وہ خاموشی سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے گا—
اپنی منگ لینے آگیا تو ہم انکار بھی نہیں کر سکے گے—اور پھر وہ اپنی بہن کا بدلہ تمہاری بیٹی سے لے اس سے بہتر ہے کہ خاموشی سے اس رشتے کو قبول کر لو—
کیونکہ بچوں کی بھلائی بھی اسی میں ہے اور خاندان کی بھی—اور اب جاؤں یہاں سے—اپنے خالی دماغ کا استعمال دونوں کسی اور جگہ کرو—
میں نے رائے نہیں مانگی حکم دیا تھا—اسی لیے تماشہ کرنے کی ضرورت نہیں”—داجی کے سخت لہجے پر کشف اور مقدس بیگم منہ بسورتی وہاں سے نکلتی چلی گئی
ان کے جانے کے بعد داجی نے اپنے خوبرو جوان پوتوں کو دیکھا
جنہیں دیکھتے ان کا خون سیرو بھر جاتا تھا
ان دونوں کو دیکھ عائث خان کی یاد شدت سے آئی
عائث خان—ضرغام خان کا بھائی تھا
شیر خان کی دوسری من پسند بیوی سے—مگر شیر خان کی دوسری بیوی شاہ خاندان کی تھی—شیر خان کے قتل کے بعد انہوں نے اپنے خاندان سے تعلق ختم کر لیا تھا—
مگر وہ کبھی زیادہ خان حویلی میں بھی نا رہی—اس کی بڑی وجہ ان کی سوتن مقدس بیگم تھی—جو انہیں بات پہ بات قاتلوں کے خاندان سے ہونے اور ان کے شوہر سے چھپ کر شادی کرنے کے طعنے دیتی رہتی—
حویلی میں ان کی وجہ سے ہر دوسرے دن لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے—
جس سے تنگ آکر مبین بیگم نے ولی خان سے انہیں شہر شفٹ کرنے کی خواہش ظاہر کی
جس پر کافی سوچ بچار کے بعد ولی خان نے انہیں اسلام آباد میں شیر خان کے بنگلے میں شفٹ کر دیا
جس کی وجہ سے عائث خان بھی اپنی ماں کے ساتھ وہی شفٹ ہوگیا—
رشتوں سے دوری اور اپنی ماں کے ساتھ مقدس بیگم کا سلوک یاد کر کہ وہ حویلی والوں سے بدزن اور—دور ہوتا چلا گیا
مگر ضرغام خان اور ارمغان خان کے لیے وہ ان کا بھائی ہی تھا—
ارمغان خان جتنی عزت اور محبت اپنے سے چار سال بڑے ضرغام خان کی کرتا تھا اتنی ہی عزت اور محبت خود سے دو سال بڑے عائث خان سے کرتا تھا—
مگر وہ اس قدر بدگمان تھا کہ ان سب کی محبتیں اسے جھوٹ دکھاوا ہی لگتی تھیں
مگر وہ آپنے دلی جذبات کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا تھا—
وہ جب حویلی آتا تو خاموش ہی رہتا تھا— ارمغان خان اور ضرغام خان کے ساتھ ہوتے بھی وہ خاموشی کی چادر اوڑھے رکھتا تھا—
ایک چیز جو ان تینوں میں کامن تھی وہ تھی شاہ خاندان والوں سے نفرت—جن کی وجہ سے وہ باپ کے سائے اس کی شفقت سے محروم ہوئے
محبت رشتے احساس خوشی ان کے لیے اہمیت نہیں رکھتی تھی—ان کے لیے دشمنی—نفرت شاہ خاندان کی بربادی اہمیت رکھتی تھی جس کے لیے وہ تینوں کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھے
لوگ محبت میں مر کر—ایک دوسرے کا ساتھ نبھا کر عشق کی داستانیں لکھتے تھے—اور وہ شاہ خاندان سے نفرت کرتے انہیں تباہ کر کہ دشمنی کی داستان لکھنا چاہتے تھے
“آپ جانتے ہیں عقیدت شاہ کی میری زندگی میں کوئی اہمیت نہیں—میں اسے اپنی بیوی کا مقام کبھی نہیں دے سکوں گا—مجھے عقیدت شاہ سے اور اس سے جڑے اس رشتے سے شدید نفرت ہے داجی—اور آپ جانتے ہیں کہ خان جب کسی سے نفرت کرتا ہے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے— مجھے اپنے ہاتھوں سے عقیدت شاہ کا قتل کرنا تو منظور ہے مگر اسے اپنی بیوی بنا کر حویلی لانا منظور نہیں”—ضرغام خان کے لہجے میں چٹانوں سی سختی محسوس کر کہ ارمغان خان نے ایک خاموش نظر ضرغام خان کے سرخ پڑتے چہرے پر ڈالی
اور ایک نظر داجی کے چہرے پر ڈالی جو بے یقینی سے ضرغام خان کو دیکھ رہے تھے
پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر داجی کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر ان کے کندھے کے گرد اپنا بازو پھیلایا
تمہاری بیوی ہے وہ خان— داجی کے گرجدار لہجے پر ارمغان نے اپنی ہیزل ہنی آنکھوں سے ضرغام کو چپ رہنے کا اشارہ کیا کہی داجی کی طبیعت خراب نا ہو جائے
وہ میرے باپ کے قاتل کی بیٹی ہے—ایک باغی لڑکی—جسے نا اپنی عزت اور خاندان کی پرواہ ہے—آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو بیوی بنا کر لے آؤ تا کہ آئے دن وہ میری عزت کا تماشہ لگاتی رہے—وہ جہاں ہے اسے رہنے دے داجی—اگر وہ کبھی میری بیوی کی حیثیت سے میرے سامنے آئی تو میں اسے مارنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کروں گا”—ضرغام خاندان کے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہنے پر داجی اور ارمغان خان نے تاسف سے سر ہلایا
“تو خان اپنی بیوی کو اس دشمنی کی بھینٹ چڑھائے گا— تم اپنی نفرت اور دشمنی کی نظر اس پاک رشتے کو کرو گے خان— یہ تربیت کی ہے میں نے تمہاری—داجی نے تاسف بھری نظروں سے ضرغام خان کو دیکھتے ہوئے کہا تو ضرغام نے اپنی سمندر سی گہری نیلی آنکھوں میں آگ سی تپش لیے داجی کو دیکھا—
اپنے ہاتھ کی مٹھیاں بھنچ کر اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی—یہی تو ہوتا تھا ہر بار عقیدت شاہ کا ذکر ضرغام خان کے حواسوں کو جھنجھوڑ دیتا تھا—وہ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی اپنے غصے اور لہجے کو قابو نہیں کر پاتا تھا
“میری غیرت کو گوارا نہیں کہ میں خود سے منسوب لڑکی کو کسی اور کے لیے چھوڑ دوں—مگر میری نفرت اور دشمنی کو بھی یہ گوارا نہیں کہ میں اسے اپنی بیوی کی حیثیت دوں—عقیدت شاہ میرے نکاح میں ہے اور تا عمر میرے نکاح میں ہی رہے گی—
اگر کسی نے میری بیوی کو غلط نگاہ سے دیکھا بھی تو ضرغام خان اس کی آنکھیں نوچ کر اسے زندہ درگور کر دے گا—اور اگر عقیدت ضرغام خان نے اپنے دل میں کسی کو بسایا تو میں اس کے سینے میں ہاتھ ڈال کر اس دل کو نوچ نکالوں گا—
جو میرا ہے وہ صرف اور صرف میرا ہے—پھر چاہے میں اس پلکوں پر بٹھا کر رکھو—یا اپنے جوتے کی نوک پر—کسی کو حق نہیں کہ وہ ضرغام خان سے سوال وجواب کر سکے”—سرد لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا
“اچھا چھوڑے لالا آپ بھا—میرا مطلب عقیدت شاہ کو – میری بات سنے—میں شکار پر جا رہا ہوں—ایک دو دن تک لوٹ آؤ گا—تو پریشان مت ہوئیں گا—میں تو داجی کو بس یہی بتانے آیا تھا—مگر آپ لوگ تو اپنی پنچائیت لگا کر بیٹھے تھے “—ارمغان خان نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا تو داجی نے گھور کر اسے دیکھا
یہ شکار کے لیے تمہیں رات کا ہی وقت کیوں ملتا ہے—
ہاہاہا شکار کا اصل مزہ ہی اندھیری رات میں آتا ہے داجی—آپ نہیں سمجھے گے”— داجی کے مشکوک لہجے پر ارمغان خان نے جھک کر رازداری سے سرگوشی کی جو ضرغام خان کے کانوں سے مخفی نا رہ سکی
چلے اب دے اپنے ہنڈسم پوتے کو اجازت – بیڈ سے اتر کر داجی کے آگے سر جھکاتے ہوئے کہا تو انہوں نے مسکرا کر اپنا دایاں ہاتھ ارمغان خان کے سر پر رکھ کر اسے دعائیں دی
اور ایک نظر اضطرابی کیفیت میں بیٹھے ضرغام خان پر ڈالی
ولی خان کے دیکھنے پر ضرغام خان گہری سانس لیتا اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے قریب آکر کھڑا ہوا
اپنے برے لہجے کے لیے شرمندہ ہوں داجی—مگر آپ سے گزارش ہے کہ آج کے بعد عقیدت کا ذکر میرے سامنے مت کیجئے گا—”—سر داجی کے آگے جھکاتے سپاٹ لہجے میں کہا تو ولی خان نے ہنکارہ بھر کر اپنا دایاں ہاتھ ضرغام خان کے سر پر رکھا
———-
آپ عقیدت کو طلاق دے دیں لالا—ہماری دشمنی ان کے مردوں سے ہے—عورتوں کو بیچ میں گھسیٹنا مجھے کافی معیوب لگ رہا ہے—
ارمغان خان نے اپنی جیپ میں شکار کا سامان رکھتے ہوئے سرسری لہجے میں ضرغام خان سے کہا
“تم چاہتے ہو کہ میں بغیرت بن جاؤں—اپنے نام سے منسوب لڑکی کو چھوڑ دوں—تا کہ دشمن اس بات کو میری ہار سمجھ کر میرے سامنے سینہ چوڑا کر کہ کھڑے ہو جائیں—
جب تک شاہ خاندان اس رشتے کو جوڑنے یا توڑنے کے لیے میرے آگے ناک رگڑنے پر مجبور نہیں ہو جاتے—تب تک میں عقیدت شاہ کو نہیں چھوڑنے والا”—ضرغام خان نے سگریٹ کا کش لگاتے سرو سپاٹ لہجے میں کہا
تو ارمغان خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
مطلب آپ چاہتے ہیں کہ حدائق شاہ اپنی بہن کے لیے طلاق کا یا رخصتی کا مطالبہ کرے—اگر وہ طلاق کا مطالبہ کرے گا تو کیا آپ طلاق دے دیں گے”— ارمغان خان نے اپنے کندھوں سے اجرک اتار کر بلیک لیدر کی جیکٹ پہنتے ہوئے استفسار کیا
تو ضرغام نے اپنی خون چھلکاتی آنکھوں سے ارمغان خان کی پیٹھ کو گھورا
“طلاق تو مرتے دم تک نہیں دوں گا میں—جب حدائق شاہ خود اپنی بہن کے لیے طلاق کا مطالبہ کرے گا—تب ضرغام خان اپنے پاؤں تلے شاہو کی ذات کو روند کر عقیدت شاہ کو اس حویلی میں لائے گا— عقیدت شاہ کے لیے ہر دن موت سے بدتر بناؤں گا—
اور پھر عقیدت شاہ کی آنا اور غرور کو توڑنے کے لیے پوری شان و شوکت سے اس کے سر پر سوتن لاؤں گا”—ضرغام خان کے قہقہہ لگا کر کہنے پر خاموش فضا میں ارتعاش پیدا ہوا
اور کیسی بیوی لائیں گے آپ عقیدت شاہ کے غرور کو توڑنے کے لیے”—ارمغان خان نے جیپ میں بیٹھ کر اپنی رائفل کو ہاتھ میں تھام کر چیک کرتے ہوئے استفسار کیا
“عقیدت شاہ کے غرور کو توڑنے کے لیے ضرغام خان کا عقیدت کے علاؤہ کسی اور کا ہونا ہی کافی ہے—مگر بیوی تو میں اپنے لیے اپنی ٹکر کی لاؤں گا—ایسی عورت جو ضرغام خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہو—جس میں اتنی ہمت ہو کہ وہ ضرغام خان کے ارادوں کا رخ بدل دے—ضرغام خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کی ضد ٹال دے—
جس میں اتنا حوصلہ ہو کہ اگر کبھی میرے قدم کہی ڈگمگائے تو وہ مجھے سنبھال سکے—
جو اپنی اداؤں اور محبت سے مجھے دنیا بھلا دے”— جیپ سے ٹیک لگائے آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھتے سنجیدہ لہجے میں جواب دیا تو ارمغان خان نے ضرغام خان کی نظروں کے رخ میں آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھا
“اور یہ سب صرف عقیدت شاہ ہی کر سکتی ہے—وہ لڑکی جو پچھلے انیس سال سے ضرغام کے نکاح میں ہے—جو اس کے وجود اور روح کا حصہ ہے—اس کے علاؤہ نا ہی یہ حق کسی اور کے پاس ہے اور نا ہی حوصلہ—آپ کا دل بھی جانتا ہے لالا کہ عقیدت ضرغام خان کے علاؤہ کوئی عورت آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتی—
آپ عقیدت کو عزت سے اپنا لے پھر چاہے اس کے بھائی کو موت کے گھاٹ اتار دیجیئے گا”—ارمغان خان نے پرسوچ لہجے میں کہا
تو ضرغام خان نے چونک کر اسے دیکھا
اور پھر دونوں ہی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے
“ویسے بھی اڑتی اڑتی خبر ملی ہے کہ وہ ڈاکٹر بھی پاکستان آنے والا ہے—ہاسپٹل تو اس کا آخری مراحل پر ہے—اور اب تین چار ماہ تک وہ بھی اجائے گا”—ارمغان خان نے جیپ سٹارٹ کرتے ضرغام خان سے کہا تو وہ ٹیک ہٹا کر سامنے کھڑا ہوا
سگریٹ زمین پر پھینک کر اپنے جوتے سے مسلی
اور اپنے دونوں ہاتھ پیچھے پشت پر باندھے
“اب تو آنا ہی تھا اس ڈاکٹر نے—قبرستان میں اس کے حصے کی دوگز زمین اسے یاد جو کر رہی ہے—اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارے گاؤں کی زمین کو اسے زیادہ یاد کرنا پڑے—
ایک بار یہ تینوں شاہ اکٹھے ہو ایک ساتھ ہی تینوں کو قبر میں اتار دینا ہے”—ضرغام خان کے سرد لہجے پر ارمغان خان کا قہقہہ بے ساختہ تھا
سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
اور اپنی جیپ لے کر حویلی سے نکلتا چلا گیا
جبکہ پیچھے کھڑے ضرغام خان کی آنکھوں کے پردے پر عقیدت شاہ کا خوبصورت چہرہ لہرا گیا
جس پر ضرغام خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچ کر قدم اندر کی جانب بڑھائے
——-&——–
“میں تم سے دیوانوں کی طرح محبت کرتا ہوں ایمیلیا۔۔ آئی لو یو سو مچ ڈیم اٹ۔۔ مجھے ایک چانس تو دو۔۔ میں اسلام قبول کر لوں گا—میں بالکل تم لوگوں جیسا بن جاؤں گا – مجھے صرف ایک موقع دے دو – میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا—میرا یقین کرو میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر”
کانوں میں ویلیم کے سالوں پرانے الفاظ گونجے تو عقیدت شاہ کو اپنا سانس سینے میں اٹکتا ہوا محسوس ہوا
“عقیدت کہاں ہو تم—ویلیم نے سوسائیڈ کر لی ہے — جلدی پہنچو میرے فلیٹ پر”—کانوں میں عینی کی آواز گونجی تو عقیدت شاہ کا وجود پل میں پسینے سے شرابور ہوا
جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑکی کے پردے ہٹا کر کھڑکی کو کھول کر گہری گہری سانسیں بھری
نظریں سامنے آسمان پر چمکتے چودھویں کے چاند پر ٹکائے خود کو پرسکون کرنا چاہا
ہلکی مگر ٹھنڈی چلتی ہوا کے دوش پر کھڑکی کے پردے لہرانے لگے
سبز نگینوں جیسی موٹی موٹی آنکھیں اس وقت سرخی مائل ہو رہی تھیں—گولڈن اسٹریٹ بال جنہیں نیچے سے کرل کیا گیا تھا کمر پر جھول رہے تھے—
گلابی بھرے بھرے ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست تھے—ستواں مغرور ناک میں ڈائمنڈ کی نوز پن چاند کی روشنی میں جگمگا رہی تھی—
گلابی پھولے پھولے گالوں پر آوارہ لٹے جھول رہی تھیں
اسلام آباد کی ہائی سوسائٹی میں بنے اس بنگلے پر اس وقت خاموشی کا راج تھا—
عقیدت شاہ کے کمرے میں چھائی خاموشی کو موبائل کی آواز نے توڑا تو عقیدت شاہ نے چونک کر گردن موڑ کر اپنے دائیں جانب بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر پڑے اپنے موبائل کو دیکھا
گہری سانس بھر کر ایک نظر چاند کو دیکھ تھکے تھکے قدم بیڈ کی جانب بڑھائیں
بیڈ پر بیٹھ کر ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا
جس پر مائے ورلڈ کے نام سے حدائق شاہ کا نمبر جگمگا رہا تھا
جسے دیکھ عقیدت شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
السلام و علیکم لالا کیسے ہیں آپ—لہجے میں احترام اور محبت سموئے نرمی سے حال پوچھا تو حدائق شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
الحمدللہ بالکل ٹھیک ہوں—میری شیرنی کیسی ہے—گاؤں کیوں نہیں گئی ابھی تک عقیدت—چھ ماہ ہوگئے ہیں تمہیں پاکستان آئیں ہوئے—ماں جی پہلے ہی تم سے ناراض ہیں—تم انہیں منانے کی بجائے اور ناراض کر رہی ہوں— حدائق شاہ کے اتنے سوالوں کی بوچھاڑ پر عقیدت نے اپنا ماتھا مسلہ
آپ مصروف تھے تو بعد میں فون کر لیتے لالا—اب آپ کے اتنے سارے سوالوں کے ایک ساتھ تفصیلی جواب میں کیسے دوں”—عقیدت شاہ نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا
تو لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر چلتی حدائق شاہ کی انگلیاں ایک لمحے کے لیے تھمی
مگر اگلے ہی لمحے اسی تیزی سے دوبارا چلنا شروع ہوگئی
اتنا بھی مصروف نہیں کہ اپنی بہن سے اس کے دل کا حال نا پوچھ سکوں—اور اتنا بھی مصروف نہیں کہ اپنی بہن کو اس کے حال پر چھوڑ دوں—تم جواب دو عقیدت— گاؤں کیوں نہیں گئی”—اس بار حدائق شاہ کے لہجے میں سختی محسوس کر کہ عقیدت شاہ نے گہری سانس فضا کے سپرد کی
“آپ کی شیرنی بھی الحمدللہ سے بالکل ٹھیک ہے – اور گاؤں میں تب تک قدم نہیں رکھوں گی جب تک اپنے باپ کے ماتھے سے قاتل کا داغ نا ہٹا دوں گی—ماں جی کی ناراضگی سے زیادہ میرے لیے میرے باپ کی عزت اور انہیں بے قصور ثابت کرنا اہمیت رکھتا ہے – ماں جی کے ڈر کی وجہ سے میں بزدلوں کی طرح نہیں جی سکتی—اپنے باپ کے لیے قاتل کا لفظ نہیں سن سکتی—میرے بابا ایک شہید تھے – محافظ تھے— قاتل نہیں تھے لالا—
مجھے چین نہیں پڑتا—راتوں کو نیند نہیں آتی جب لوگوں کے الزام میرے کانوں میں گونجتے ہیں – جب جب یہ قاتل لفظ سنتی ہوں میرا دل و دماغ پھٹنے والا ہوجاتا ہے”—عقیدت شاہ کے سرد و سپاٹ لہجے پر حدائق شاہ ایک پل کے لیے ساکت رہ گیا
