Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 48)

Maan Yaram by Maha Gull Rana

“اپنی میڈیسنز رکھی ہیں تم نے”— لاونج میں آتی حوریہ کو دیکھتے عقیدت نے پوچھا تو وہ سر اثبات میں ہلاتی سلوی کے قریب صوفے پر بیٹھی تھی

میری تو ساری پیکنگ ہوگئی ہے—مگر جب تک ہم وہاں پہنچ نہیں جاتے تب تک میں کچھ نا کچھ فضول سمجھ کر نکالتی رہوں گی اور کچھ نا کچھ ضروری سمجھ کر رکھتی رہوں گی”-

اسی چکر میں کہی خود یہی نا رہ جانا”— سلوی کی بات پر عقیدت نے جواب دیا تو حوریہ نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے چہرہ ہاتھ میں تھامے میگزین پر جھکایا تھآ

ہاں میرے شوہر کا بس چلے تو یہی چھوڑ جائے—اور ویسے بھی جتنے وہ اب تک مجھے گھومنے کے طعنے دے چکا ہے—اس کے بعد بنتا تو میرا یہ ہے کہ کمرے میں ہی قید ہو جاؤں—چھوٹے سے کچن کا بھی وہی انتظام کر لوں—ورنہ اس شخص کا کیا بھروسہ حویلی میں چلنے پھرنے پر طعنے دینا شروع کر دے”— فرائز کھاتے—ہاتھ جھلا جھلا کر اپنے جھوٹے دکھ بتاتی مردان خانے کی جانب جاتے ارمغان خان کو ٹھٹھک کر رکنے پر مجبور کر گئی تھی—

رزق کھاتے ہوئے ہی بندہ تھوڑی حیا کر لیتا ہے سلوی – شرم تو نہیں آرہی ایسے جھوٹ بولتے ہوئے”—وہ جو ہمدردی سمیٹنے کے لیے ان دونوں کی جانب دیکھ رہی تھی حوریہ کے تاسف بھرے لہجے پر اسے گھور گئی

تمہیں کیا پتہ کہ مجھ معصوم پر وہ ڈائناسور کتنے ظلم کرتا ہے – کیا تھا اگر میں تم لوگوں کے ساتھ چلی گئی اب کوئی ایسا دن نہیں جس دن اس نے مجھے اس بات کا طعنہ نا دیا ہو”— سلوی شاہ کے ڈھٹائی سے کہنے پر ارمغان خان نے ابرو آچکایا تھا

“عقیدت بھابھی—مردان خانے میں کچھ مہمان آئیں ہیں—ان کے کھانے کا انتظام کر دے ذرا جلدی”—ارمغان خان کی بھاری آواز پر فرائز سلوی کے حلق میں اٹکی تھی—حیرت کی زیادتی سے پھٹی آنکھوں سے وہ سامنے دیکھتی بامشکل فرائز نگلتی –پیچھے کو مڑی تھی

مردان خانے کی جانب جاتی راہداری کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے ارمغان خان کو دیکھتے سلوی کے چہرے کے پر کئی رنگ گزرے تھے—

“کتنے لوگ ہیں —اور ضرغام بھی آیا ہے کیا”—عقیدت کے پوچھنے پر ارمغان خان نے نظریں سلوی سے ہٹا کر اسے دیکھا تھا—

“جی لالا وہی ہیں—ان سے ملنے ہی دوسرے گاؤں سے وہ لوگ آئیں ہیں—گنے تو نہیں لیکن اپ آٹھ لوگوں کے لیے بنا لیں”—ارمغان کے کہتے ہی عقیدت سر ہلاتی حوریہ اور سلوی کو کچن میں آنے کا کہتی کچن کی جانب بڑھی تھی—

مہمانوں سے فری ہو تو سلوی کے دکھ سن لینا – اسے تم سے بہت سے گلے شکوے ہیں”—حوریہ کے مسکرا کر کہنے پر ارمغان خان نے سر کو خم دیا تھا جبکہ سلوی نے مٹھیاں بھنچتے گھور کر کچن کی جانب بڑھتی حوریہ کو دیکھا تھا

اس سے پہلے وہ وہاں سے اٹھ کر فرار ہوتی ارمغان خان اس کے سر پر آن کھڑا ہوا تھا—

دن رات طعنے دیتا ہوں میں— ڈائنوسار ہوں ظلم کرتا ہوں”—صوفے پر بیٹھی سلوی شاہ کی کلائی کو آہنی گرفت میں لیتے جھٹکا دے کر اپنے روبرو کھڑے کیا تو سلوی شاہ نے میکانکی کے انداز میں سر نفی میں ہلایا تھا—

“نن—نہیں تو—وہ تو میں”— ارمغان خان کے چہرے کے بگڑے تاثرات دیکھتے گڑبڑا کر کہتی وہ ایک دم سے جھکتی اپنی کلائی تھامے ارمغان خان کے ہاتھ کی پشت پر دانت گاڑھ چکی تھی یہ سب اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ چیخ ضبط کرتا جھٹکے سے ہاتھ چھوڑتا پیچھے ہوا تھا جس کا فائدہ اٹھاتے سلوی شاہ تیر کی تیزی سے کچن کی جانب بھاگی تھی—

سلوی کی بچی—چھوڑوں گا نہیں تمہیں”—ارمغان خان کے چلا کر کہنے پر سلوی نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے کچن کے دروازے سے سر باہر نکالتے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر اسے دیکھتے پلٹ گئی تو—

سلوی شاہ کی اس حرکت پر ارمغان خان کے دل نے بیٹ مس کی تھی—عنابی ہونٹوں کو مسکراہٹ چھو کر گزری تو ارمغان خان سر جھٹکتے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا

_____

“اگر یہ تم سکائے بلیو ڈریس کے ساتھ پہنو گی تو مجھے اچھا لگے گا”— بھاری آواز پر صبغہ نے گردن ترچھی کر کہ اپنے پیچھے کھڑے بالاج شاہ کو دیکھا تھا جو آنکھوں میں نرمی لیے ہاتھ صبغہ کی جانب بڑھائے کھڑا تھا—

وہ حویلی کے بیک سائیڈ پر بنے گرین ہاؤس کے جھولے پر بیٹھی لیپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلاتی اپنی پشت پر ابھرتی بھاری آواز پر چونکی تھی گردن ترچھی کر کہ دیکھا تو بالاج شاہ کو اپنی جانب ہاتھ بڑھائے کھڑا پایا تھا—بالاج شاہ کی نرم گرم نظروں کی تپش پر بنا کچھ کہے وہ چہرہ موڑ چکی تھی—

جبکہ بالاج شاہ چھوٹے قدم لیتا سامنے آتے صبغہ کے قریب جگہ بنا کر بیٹھا تھا—اس سے پہلے وہ اٹھ کر جاتی بالاج شاہ اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے روک چکا تھا

“ناراض ہونا تمہارا حق ہے—مگر اس حق میں تم مجھے میرے حقوق استعمال کرنے سے نہیں روک سکتی”– نظریں صبغہ کے چہرے پر ٹکائے نرم مگر بہت کچھ باور کراتے انداز میں کہتے—صبغہ کا ہاتھ نرمی سے دباتے چھوڑ چکا تھا—

“میں جانتا ہوں میری غلطی ہے— ہر ہ بات جس سے تمہیں تکلیف ہوئی میں معافی مانگتا ہوں— نا صرف وہ باتیں جو اب ہوئی بلکہ ان کے لیے بھی جو ماضی میں ہوئیں—میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو—ہمیشہ سے یا اسی دن سے جب تم پہلی دفعہ حویلی آئی تھی—یا شاید اس لمحے سے جب تمہیں گرنے سے بچاتے وقت تمہاری آنکھوں میں اترتی چمک کو دیکھا تھا—مجھے تم ہمیشہ ضدی لگی تھی—تمہاری محبت کو میں ضد اور بیوقوفی سمجھتا رہا—تم اس راز سے بھی واقف تھی کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں—اور پھر تمہارا یہ کہنا کہ وہ محبت نہیں—حوریہ سے محبت نہیں صرف ضد اور پچھتاوا ہے—مجھے تمہاری یہ باتیں مجھے تیش دلاتی تھی—اور جیسے وقت کے ساتھ تمہیں پیچھے ہٹتا نا دیکھا تو تمہیں لفظوں سے روکنا چاہا— اس بات سے بھی واقف تھا کہ تم حوریہ کے ڈر کی وجہ سے مجھ پر نظر رکھے ہوئی ہو—کہ میں اس تک پہنچ نا جاؤں—میں اس سے صرف معافی مانگنا چاہتا تھا—اسے اپنے رویے کی وجہ بتانا چاہتا تھا—اور کہی نا کہی اُس سب کے بعد بھی میں چاہتا تھا وہ مجھے اپنا لے—وہ میری ہو جائے”— نظریں سامنے فاؤنٹین سے ہوتی اپنے سیاہ جوتے پر ان رکی تھی—جبکہ صبغہ شاہ سانس روکے—نظریں بالاج شاہ کے گھٹنے پر ٹکے ہاتھ ٹکائے اس کے بولنی کی منتظر تھی

میں اسے عائث سے بچانا چاہتا تھا—نہیں چاہتا تھا کہ اسے مزید کوئی تکلیف ہو—ڈر تھا کہ عائث اسے دشمنی کی نظر نا کردے— تم پر یہی ظاہر کروایا کہ میں اسے تکلیف دینے کے لیے جا رہا ہوں اور پھر اس کا ڈر – لیکن شادی کے بعد سب بدل گیا— وہ خوش تھی اور میں اس کی خوشی میں خوش ہوگیا—لیکن تم سے محبت نا کرسکا—کیوں کرتا کیسے کرتا—یہ بات پھانس کی طرح گلے میں اٹکی تھی کہ یہ لڑکی میرے ہر روپ سے واقف ہے—میں کبھی سمجھ نہیں پایا کہ تم مجھ سے کیوں محبت کر سکتی ہو یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں نے تمہاری دوست اپنی محبت کو غصے کی نظر کرنا چاہا تھا—پھر کیوں—لیکن سب باتوں کو فراموش کرتے میرا دل مجھے دغا دینے لگا تھا”— سنجیدہ لہجے میں کہتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا ہاتھ میں تھامے سلور جھمکو کو صبغہ کے قریب رکھتا نظریں اس کے خاموش چہرے پر ٹکائی تھی—

“میں بچے کے کہنے پر گارڈن تمہارے لیے آیا تھا— اس نے کہا تھا میری وائف نے بلایا ہے—میں تم سے بات بھی کرنا چاہتا تھا—لیکن وہاں حوریہ کو دیکھ میں شاکڈ ہوگیا تھا—اور اس سے بھی زیادہ اس کا پینک ہونا مجھے زندہ زمین میں گاڑھ گیا تھا—وہ سچویشن ایسی نہیں تھی کہ میں وہاں تحقیق کرنے بیٹھ جاتا— مجھے لگا شاید تم (ہونٹ بھنچے وہ لمحے کے لیے رکا تھا) نے کیا ہے—مجھےاس بات سے تکلیف ہوئی تھی— لیکن بعد میں مجھے احساس ہوگیا تھا کہ یہ ان لوگوں کی حرکت ہے لیکن میں نے یہ بات تم پر واضح نہیں کی اس دن کے بعد سے ویسا ہی رویہ رکھا کہ شاید تم تنگ اگر چھوڑ جاؤ—لیکن پھر میں ہار گیا—ایک لمحے کا کھیل تھا اور بالاج شاہ کا دل شکست کھا گیا—میں نفس کے ہاتھوں یا تمہیں تکلیف دینے کی غرض سے تمہارے قریب نہیں آیا تھا—یہ دل بے خود ہوا تھا”— دل کے مقام پر انگلی رکھتے آخری بات کہتے اس طرح گہری سانس بھری کے جیسے سینے پر پڑا بوجھ اتر گیا ہو

“لیکن میں اس دن کے لیے بھی سوری کرتا ہوں—اور ریکوسٹ کرتا ہوں کہ اپنی ناراضگی ختم کرنے کا اظہار انہیں پہن کر کر دینا”—سیاہ گہری نظریں صبغہ کے چہرے سے ہٹاتے—جھمکو پر ڈالی تھی—کچھ لمحے وہ خاموشی سے صبغہ کے کچھ بولنے کا انتظار کرتا رہا مگر جب وہ ہنوز خاموش رہی اور سر بھی جھکا گئی تو بالاج شاہ ہونٹ بھنچتے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا—

صبغہ نے گردن ترچھی کرتے دور جاتے بالاج شاہ کی چوڑی پشت کو دیکھتے—نظریں موڑ کر ان جھمکوں کو دیکھا تھا—

“یہ اس صدی کا معجزہ ہے کہ بالاج شاہ سڑیل انسان سوری اور ریکوسٹ ایک ساتھ ایک ہی بندے سے کر کہ گیا ہے”—ہونٹوں میں مسکراہٹ سجائے سرگوشی نما لہجے میں کہتے صبغہ نے جھمکوں کو مٹھی میں سمیٹا تھا

________

وہ سب ہنزہ آگئے تھے—کلاؤڈ نان آینڈ ہالف ریزورٹ میں بنے خوبصورت ہٹ میں ان لوگوں نے سٹے کیا تھا

حدائق یہ کتنا پیارا ہے نا”—چھوٹے سے لکڑی کے بنے ہٹ جس میں دو کمرے—جن کے تینوں اطراف میں لگے گلاس ڈور سے راکاپوشی اور خوبصورت ویلے کے مناظر صاف دکھائی دے رہے تھے—کمرے سے ملحقہ بالکونی میں چھوٹا سا ٹیبل اور دو کرسیاں سجی ہوئی تھیں—ہٹ میں ایک چھوٹا سا کچن بھی موجود تھا—جہاں حدائق شاہ پلوشہ کے لیے اس کی پسند کی کھانے کی چیزیں لا کر سجا چکا تھا

“بہت پیارا ہے—لیکن میری بیوی سے نہیں—اور اب جلدی فریش ہو جاؤ وہ سب باہر ویٹ کر رہے ہیں”— وہ جو گلاس ڈور کے ساتھ لگی باہر دیکھتے ہوئے اپنی رو میں کہہ رہی تھی حدائق شاہ کی بات سنتے پل میں سرخ ہوئی تھی—جسے دیکھتے حدائق شاہ اپنے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے پلوشہ کی جانب بڑھتا اس سے پہلے وہ بھاگنے کے انداز میں واشروم میں جا بند ہوئی تھی—جس پر حدائق شاہ نے مسکرا کر سر جھٹکا تھا

______

ٹرتھ یا ڈیر”—

ڈئیر”— ارمغان خان نے بوتل درمیان میں رکھتے سوال کیا تو بالاج شاہ کے جواب دینے پر ان سب لڑکیوں نے اسے گھورا تھآ

“کوئی ڈئیر نہیں لالا– – ٹرتھ بھی ہوگا—ورنہ میں نہیں کھیلوں گی”— سلوی کے ناک سکوڑ کر کہنے پر ان سب نے سر ہلاتے حامی بھری تھی—

“ٹرتھ بہت بورنگ ہے—ڈئیر ہی ٹھیک ہے”—حدائق شاہ کے جواب پر پلوشہ نے بری طرح پہلو بدلا تھا اسے بالکل بھی اپنے شاہ سے اچھے کی امید نہیں تھی کہ وہ اسے کوئی آسان سی ڈئیر دے گا

اس وقت وہ سب ہٹ کے باہر زمین پر کپڑا بچھائے—چاروں اطراف میں کشنز رکھیں—دائرے کی صورت میں بیٹھے تھے—جبکہ بہرام اور ضرغام تھوڑے فاصلے پر کھڑے باربی کیو بناتے پلیٹوں میں سجا رہے تھے—

“یار ارمغان تم گھماؤ اسے”—عائث خان کے کہنے پر ارمغان نے سر ہلاتے بوتل کو گھمایا

“ہاہاہاہا—پہلی باری عائث لالا کی”—صبغہ کے قہقہہ لگا کر کہنے پر عائث خان جو حوریہ کو دیکھنے میں محو تھا چونکا تھا—اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کہے گا اور پہلی باری ہی اس کی آجائیں گی

“غور سے دیکھو لڑکی یہ تمہارے شوہر کی طرف ہے”—چونکہ وہ لڑکے دائرے کے ایک جانب تھے تو بالاج اور عائث ایک ساتھ بیٹھے تھے— بوتل کا رخ اپنی جانب دیکھ بھی وہ آگے ہوتا بوتل پر انگلی رکھتے بالاج کی جانب سرکاتے بولا تو بالاج شاہ نے گھور کر عائث خان کو دیکھا تھا—

“کوئی ضرورت نہیں میرے شوہر کا نام لینے کی—ایمانداری سے گیم کھیلے”—گھٹنوں کے بل ہوتی دونوں بازو کمر پر ٹکاتے—وہ لڑنے کے انداز میں بولی تو عائث خان نے ہونٹوں کو سیٹی کی شیپ دیتے—بوتل کا رخ اپنی جانب کیا تھا

جبکہ بالاج شاہ کی نظریں صبغہ کے چہرے پر ٹھہر گئی تھی—اس کا میرے شوہر کہنا بالاج شاہ کا دل دھڑکا چکا تھا—عنابی ہونٹوں کو نامحسوس انداز میں مسکراہٹ نے چھوا تھا—

“ریلیکس مسسز بالاج شاہ—بتائیں کیا کرنا ہے میں نے”—ہاتھ اٹھاتے ہار ماننے والے انداز میں کہا تو صبغہ فخریہ انداز میں گردن اکڑاتی واپس بیٹھی تھی—

“آپ آج اپنی بیگم کو گانا ڈیڈیکیٹ کریں گے”— ہاں لالا آپ نے ہمیں کب سے گانا نہیں سنایا—اور اب تو آپ نے ویسے بھی بریک لیا ہوا تو آپ کا کوئی نیو سونگ بھی نہیں سننے کو کب سے ملا”—عقیدت کے کہنے پر پلوشہ نے بھی حامی بھرتے ہوئے کہا تو عائث خان نے مسکرا کر سر کو خم دیا تھا—

“میں گٹار لے کر آتا ہوں”—ارمغان کہتے اپنی جگہ سے اٹھتے گٹار لینے گیا تو تب تک بہرام اور ضرغام ان کے سامنے کھانے کی پلیٹیں لگانا شروع کر چکے تھے—باربی کیو کے ساتھ چپلی کباب اور کولڈ ڈرنکس سرو کرتے وہ بھی جگہ سنبھال چکے تھے—

“سو دس از فار مائے انوسنٹ وائف”—گٹار تھامتے نظریں حوریہ شاہ کے خوبصورت چہرے پر ٹکاتے کہا تو ان سب نے ہوٹنگ کی تو حوریہ کے گال شرم سے دہک اٹھے تھے

تمہیں دیکھا تو یوں دیکھا

مصور ہوگئیں یہ آنکھیں

تمہیں سوچا تو یوں سوچا

تصور ہوگئیں یہ آنکھیں

تمہیں جو لکھتی ہیں یہ شاعر آنکھیں

بس سے ہمارے ہیں یہ باہر آنکھیں

کہی مجبور ہیں یہ آنکھیں

کہی مغرور ہیں یہ آنکھیں

محبت کی کہانی میں

بڑی مشہور ہیں آنکھیں

عائث خان کی گونجتی خوبصورت آواز میں گونجتے الفاظ پر ضرغام خان نے نیلی آنکھوں میں جزبے لٹاتی نظریں عقیدت شاہ کی سبز نگینوں سی آنکھوں پر ٹھہری تھیں

تمہیں جو لکھتی ہیں یہ شاعر آنکھیں

بس سے ہمارے ہیں یہ باہر آنکھیں

تمہیں دیکھا تو یوں دیکھا

مصور ہوگئیں یہ آنکھیں

ارمغان خان کی چور نظریں پلوشہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی سلوی شاہ کے مسکراتے چہرے بار بار سرک رہی تھیں—

قاتل ہیں آنکھیں نگر نا ان کو سزا ہے

غلطی آنکھوں کی لگے دل کی خطا ہے

سمجھا لو جتنا بھی مگر آنکھیں سنے نا

بولو نا بولو آنکھیں بولیں رکے نا

ہستی بھی دیکھیں دیکھی حیران آنکھیں

بالاج شاہ کی آنکھوں کے پردے پر سیڑھیوں سے گرتی صبغہ شاہ کا چہرہ لہرایا تھا—اپنے گرنے سے بچ جانے کی خوشی و حیرت میں ڈوبی شہد رنگ آنکھیں یاد آئی تو بالاج شاہ نے نظریں اٹھائی تو صبغہ شاہ کی آنکھوں سے ٹکرائی تو بالاج شاہ کو اپنا دل ان میں ڈوبتا محسوس ہوا تھا

دل کے گھر آتی دیکھیں مہمان آنکھیں

تم کو جو ڈھونڈیں وہ مسافر آنکھیں

اپنی ہی مانے نا یہ کافر آنکھیں

کبھی شکایت کرتی

کبھی مشہور ہیں آنکھیں

محبت کی کہانی میں

بڑی مشہور ہیں یہ آنکھیں

حدائق شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے پلوشہ خان کو دیکھا تھا جو چہرہ ہتھیلیوں پر ٹکائے—اشتیاق بھری نظروں سے عائث خان کو نیلی آنکھوں سے ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی

آنکھوں میں کھوئے ایسے راتوں جگے ہیں

آنکھوں میں ڈوبے کبھی پار لگے ہیں

آنکھوں کے پیچھے آنکھیں لے کر پھرے یوں

آنکھوں میں شیشہ تیری دیکھا کریں یوں

خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتے امتثال نے دائیں جانب دیکھا تو بہرام شاہ کو ذومعنی نظروں سے اپنی جانب دیکھتے پا کر وہ بری طرح گڑبڑاتے نظریں پھیر چکی تو بہرام شاہ کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی تھی—

اپنی سی دیکھیں دیکھی انجان آنکھیں

قصے میں یاروں دل کے یوں آنکھیں

دل کا چھپا بھی کر دے یہ ظاہر آنکھیں

جادو ہی کر دیتی ہیں یہ ساحر آنکھیں

ہیں کہی سامنے آ بیٹھیں

کہی مغرور ہیں یہ آنکھیں

محبت کی کہانی میں

بڑی مشہور ہیں یہ آنکھیں

تمہیں جو لکھتی ہیں یہ شاعر آنکھیں

بس سے ہمارے ہیں یہ باہر آنکھیں

تمہیں دیکھا تو یوں دیکھا

مسور ہوگئیں یہ آنکھیں

حوریہ شاہ کے لالیاں بکھیرتے چہرے پر شوخ نظریں ٹکائے گانے کے آخری بول بولیں تو حوریہ نے نظریں اٹھائے خود کو تکتے عائث خان کی جزبے لٹاتی آنکھوں میں ایک لمحہ ہی دیکھتی دہکتے گال لیے چہرہ جھکا گئی تھی—

“امتثال”— بوتل گھمانے پر وہ امتثال کی جانب رکی تو بہرام شاہ نے امتثال خان کے روہانسے چہرے کو دیکھا تھا

“کوئی امتثال نہیں—کھانا کھاؤ اور یہ سمیٹو—وہ سب پہلے ہی تھک چکی ہیں انہیں جانے دو—جائیں آپ لوگ جا کر آرام کریں”– بالاج شاہ کے کھلتے منہ کو دیکھ بہرام شاہ نے اپنی جگہ سے کھڑے دو ٹوک لہجے میں کہتے—لڑکیوں کو روم میں جانے کا کہا تو وہ بھی فوراً سر ہلاتی اٹھی تھی—جبکہ بالاج شاہ نے گھور کر بہرام شاہ کو دیکھا جسے بہرام شاہ نے سرا سر نظر انداز کیا تھا وہ جانتا تھا کہ یہ شخص ضرور اس کی بیوی کو مشکل میں ڈالے گا—ویسے بھی وہ لوگ سچ میں تھک چکے تھے—یہاں پہچنے کے بعد انہوں نے بس تھوڑی دیر ہی آرام کیا تھا کہ ارمغان اور بالاج سب کو باہر لے آئیں تھے— اور تب سے نجانے کتنی گیمز کھیل چکے تھے—

“میں تو پہلے ہی کہتا ہوں کہ یہ آدمی بہت میسنہ ہے”—ان سب کے جاتے حدائق شاہ نے کھڑے ہوتے بہرام شاہ پر طنز کیا تو ضرغام خان نے ابرو آچکا کر اسے دیکھا تھا—

“ٹھیک ہے امتثال کے حصے کی ڈئیر پلوشہ سے کروا لیتے ہیں”— حدائق شاہ کے قریب آتے اپنا بایاں بازو حدائق شاہ کے کندھے پر رکھتے کان میں جھک کر کہا تو حدائق شاہ نے گردن ترچھی کرتے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا تھا

“کیوں ایسی باتیں کر رہے ہیں—ڈاکٹر صاحب کو کچھ ہوگیا تو ہم سے تو علاج بھی نہیں ہونا”—بالاج شاہ نے بازو کے کف فولڈ کرتے استہزائیہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان کا قہقہہ فضا میں گونجا تھا

“جن کی بیویوں کے آگے نہیں چلتی وہ ایسے دوسروں پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں—اور ہم بھی چپ چاپ سن لیتے ہیں—چلو مظلوموں کے دل کے ارمان کہی تو پورے ہو”—حدائق شاہ کے جواب پر اس بار بہرام شاہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا

“لیکن ڈاکٹر صاحب کی تو کہی بھی نہیں سنی جاتی نا یہاں نا وہاں”—پیپسی کی کین کھول کر منہ سے لگاتے عائث خان نے کہا تو حدائق شاہ نے آنکھیں میچتے—گہری سانس بھری تھی—

جبکہ ارمغان خان ہاتھ میں پلیٹ تھامے درمیان میں کھڑا کبھی حدائق شاہ کو دیکھ رہا تھا—اور کبھی ایک ساتھ کھڑے بالاج اور ضرغام اور ایک طرف کھڑے بہرام اور عائث خان کو طنز کے تیر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں جاتے دیکھ اس نے جمائی لی تھی—

“دیکھ لو چھوٹے خان کیسے یہ گیڈر شیر کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں—ابھی ان کی بیویاں یہاں ہونا یہ فراٹے بھرتی زبانوں کو بریکیں نا لگی تو دیکھ لینا—لو آ بھی گئیں تم لوگوں کی بیگمات تم لوگوں کو لینے اب چلاؤں زبان”—حدائق شاہ نے درمیان میں کھڑے ارمغان خان کے سامنے کھڑے ہوتے پیچھے کو اشارہ کیا تو وہ سب تیر کی طرح سیدھے ہوتے پلٹیں تھے جسے دیکھتے حدائق شاہ کے دل جلاتے قہقہے گونجے تھے

جس پر بالاج شاہ نے حدائق شاہ کو گردن سے دبوچا تو ضرغام خان نے اسے پٹک کر زمین پر پھینکا تھا مگر اسے ہنوز قہقہ لگاتے دیکھ دانت کچکچاتے گھور کر دیکھتے سر جھٹک کر قدم اپنے ہٹ کی جانب بڑھائے تھے—

______

بالاج شاہ ہٹ میں آیا تو نظریں صبغہ کے روم کے بند دروازے پر گئیں تھی—سر جھٹکتے اپنے لیے کافی بناتا وہ اپنے کمرے کی بالکونی میں آن کھڑا ہوا تھا

سکون بھری خاموشی میں— اسمان پہ بکھرے ستاروں اور چاند کی ٹھنڈی روشنی چاروں اوڑھ پھیلی ہوئی تھی—

نظریں سامنے غیر مری نقطے پر ٹکائے بالاج شاہ نے کافی کا سپ لیتے مگ ٹیبل پر رکھا تھا کہ کمرے کے دروازے کھلنے کی آواز پر وہ چونکتا اس جانب متوجہ ہوا تھا—

گلاس ڈور سے صبغہ شاہ کی پشت نظر آئی جو کہ سکائے بلیو ڈریس پہنے ہوئی تھی—صبغہ کو پلٹتے دیکھ وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتا کمرے میں داخل ہوا تو ادھ کھلے دروازے سے نظر آتے پلو کو دیکھ بالاج شاہ کا دل بے ساختہ دھڑکا تھا—

تبھی تیزی سے دروازا کھولتے آگے بڑھتی صبغہ شاہ کی کلائی تھامتے واپس کمرے میں کھینچتے بالاج شاہ نے دروازا بند کرتے—صبغہ کو دروازے سے پن کیا تھا—

“یہ بہت غلط بات ہے مسسز بالاج شاہ”—نظریں صبغہ شاہ کی سختی سے میچی آنکھوں پر ٹکاتے—اپنی تیز ہوئی دھڑکنوں پر قابو پاتے شکوہ کناں لہجے میں کہا تھا

—ایک بازو دیوار پر ٹکاتے بالاج شاہ نے پیچھے ہوتے—ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے صبغہ شاہ کا جائزہ لیا تھا—سکائے بلیو پاؤں کو چھوتی فراک پہنے— ہاتھوں میں سلور چوڑیاں—بالوں کو سٹریٹ کر کہ نیچے سے ہلکے سے کرل ڈال کر کھلا چھوڑ رکھا تھا—نظریں بالوں سے سرکتی چہرے پر آئی تو بالاج شاہ کی آنکھوں میں خمار اترا تھا—بے خود ہوتی نظریں صبغہ شاہ کے کانوں میں پہنے سلور جھمکو سے ہوتی—سرخ ہونٹوں پر رکی تو بالاج شاہ کو اپنے گلے میں کانٹے سے چبھتے محسوس ہوئے تھے—

“تو تمہاری معافی کو میں اجازت سمجھو”— دایاں ہاتھ صبغہ کی گردن اور چہرے کے درمیان میں رکھتے—کان میں جھک کر خاموشی کی تو صبغہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں واہ کی تو نظریں بالاج شاہ کی لو دیتی نظروں سے ٹکرائی تھیں—

“جھمکو کے ساتھ ڈریس تو دیا نہیں تھا—تو میں کیوں معافی کے ساتھ اجازت بھی دوں”—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے—گردن اکڑا کر جواب دیا تو بالاج شاہ نے سیٹی کی شیپ میں ہونٹوں کو واہ کیا تھا

“تم اجازت ایڈوانس میں دے دو—میں ڈریس کی جگہ پوری مارکیٹ تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا”— ہاتھ کی پشت صبغہ کے چہرے پر پھیرتے بھاری لہجے میں کہتے جواب طلب نظروں سے صبغہ کو دیکھا تو صبغہ لگا جیسے پورے وجود کا خون اس کے چہرے پر سمٹ آیا ہو—بالاج کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دھکیلتی وہ ابھی پلٹی ہی تھی کہ ںالاج شاہ سرعت سے اس کی کلائیاں پکڑتے اسے دیوار سے لگاتے—صبغہ کی پشت کو اپنے سینے میں بھنچ گیا

“یہ فرار تم یہ رنگ اور یہ جھمکے پہننے سے پہلے اختیار کرسکتی تھی—اب اس بارے میں سوچنا بھی نا”— صبغہ کے کان میں معنی خیز لہجے میں سرگوشی کرتے گردن سے بال ہٹاتے اپنے ہونٹ وہاں رکھے تو بالاج شاہ کے ہونٹوں کے دہکتے لمس پر وہ جی جان سے لرزی تھی—

“لیکن میں ابھی بھی ناراض ہوں”—ںالاج شاہ کے لمس کو جا بجا محسوس کرتے—احتجاج کیا تو بالاج شاہ نے پیچھے ہوتے گھور کر صبغہ شاہ کو دیکھا تھا

“ہاں—مان لیا میں نے کہ تم ناراض ہو—اس لیے میرے لیے یوں سج سنور کر—میرے کمرے میں اپنی ناراضگی ظاہر کرنے آئی تھی—رائٹ—اب تم آہی گئی ہو اور ناراض بھی ہو تو مجھے یہ ناراضگی اپنے طریقے سے ختم کرنے دو”—صبغہ کو کندھوں سے تھامے رخ اپنی جانب کرتے— سنجیدہ لہجے میں کہتے صبغہ کی حیرت سے پھیلی آنکھوں میں دیکھتے نامحسوس انداز میں دوپٹہ صبغہ کے کندھوں سے اتارتے اپنے بائیں ہاتھ پر لپیٹا تھا

“نن—نہیں تم صبح منا لینا—میں صبح مان جاوں گی – میں تو سونے لگی تھی—غلطی سے آگئی”—آنکھیں بالاج شاہ کی گہری سیاہ آنکھوں پر ٹکائے وہ بنا سوچے سمجھے بولی تو بالاج شاہ نے چہرہ جھکاتے اپنی مسکراہٹ کو ضبط کیا تھا—

“نا—تم نے سنا نہیں جو کل کرنا سو آج کر اور جو آج کرنا سو ابھی کر—تو بس میں ابھی مناؤں گا”—دونوں بازو صبغہ کی کمر کے گرد لپیٹتے—ذومعنی لہجے میں کہتا وہ اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر پوری شدت سے صبغہ کے ہونٹوں پر جھکا تھا

بالاج شاہ کی شدت بھرے لمس پر صبغہ نے تڑپ کر اپنے دونوں بازو اسے کے کندھوں پر رکھے تھے—قدم پیچھے کو لیتے—ںالاج شاہ نے ہاتھ بڑھاتے کرٹن گرا کر لائٹ بند کی تھی جبکہ اس سب کے دوران اس نے صبغہ کو سختی سے خود میں بھنچے رکھا تھا

جب صبغہ کی سانسیں اکھڑتی محسوس کی تو وہ لمحے کے لیے اس سے پیچھے ہوا تھا—نیم اندھیرے میں ڈوبے کمرے میں نظریں صبغہ شاہ کے خون چھلکاتے چہرے پر گئی تو بالاج شاہ نے جھک کر صبغہ کو اپنی بانہوں میں اٹھاتے آگے بڑھتے نرمی سے بیڈ پر لٹاتے—اپنی شرٹ اتارتے دور اچھالی تھی—

“نن-نہیں پہلے مجھے بتاؤ بالاج کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے”—خود پر سائے کرتے ںالاج شاہ کے سینے پر اپنے کپکپاتے ہاتھ رکھتے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ نے نرمی سے صبغہ کے ہاتھ تھامتے ان پر شدت بھرا لمس چھوڑتے انہیں بیڈ سے لگایا تھا—

“جتنا لفظوں سے بتانا بنتا تھا بتا چکا ہوں—اب عملاً بتاؤں گا”—ہونٹ صبغہ شاہ کے ماتھے پر رکھتے نرم لہجے میں کہتے وہ کلائیوں پر گرفت سخت کرتا چہرہ صبغہ شاہ کی گردن میں چھپا چکا تھا

“تم میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہو—اتنی کہ ںالاج شاہ تمہارے آگے گھٹنے ٹیک گیا—میرا دل تمہارے عشق میں پور پور ڈوب گیا مسسز بالاج شاہ”— کندھوں سے فراک سرکاتے جابجا اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتے صبغہ کو سختی سے خود میں بھنچتے بے خود لہجے میں کہتے وہ صبغہ شاہ کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا کر گیا تھا

ںالاج شاہ کے ہر لمس کے ساتھ وہ اس میں سمٹتی جا رہی تھی—اپنے وجود پر رینگتے بالاج شاہ کے بے باک ہاتھوں اور ہونٹوں کے لمس پر گہری سانس بھرتے صبغہ نے اپنے دونوں بازو ںالاج شاہ کی گردن میں حائل کرتے چہرہ بالاج شاہ کی گردن میں چھپایا تھا—

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *