Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 16,17)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 16,17)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
ضرغام خان ایک سال کا ہو چکا تھا— شیر خان کو امید تھی کہ ایک نا ایک دن ان کا اور مقدس بیگم کا رشتہ ٹھیک ہو جائے گا—مگر دن بدن ان کا رشتہ بگڑتا جا رہا تھا—اور اب اس کا اثر ضرغام خان پر بھی ہونے لگا تھا—
کیونکہ شیر خان سے چھوٹی سی بحث کے بعد مقدس بیگم اپنا سارا غصہ اس معصوم بچے پر نکالتی تھیں—جس کے نتیجے میں ضرغام خان ڈرا سہمہ رہنے لگا تھا—
شیر خان نے یہ بات بھی شدت سے نوٹ کی تھی کہ وہ مقدس بیگم کے پاس نہیں جاتا تھا—اور جب مقدس بیگم کو اپنے قریب محسوس کر لیتا یا تو رونے لگتا یا سہم جاتا تھا—
اور جو دوسری بات شیر خان نے محسوس کی تھی وہ تھا مقدس بیگم کا انہیں نظر انداز کرنا—رات ان کے کمرے میں آنے کے بعد کسی بہانے سے کمرے سے باہر چلے جانا—یا شیر خان کے ان کے قریب آنے پر کوئی بہانہ بنا دینا—
وہ اس بارے میں مقدس بیگم سے بات کرنا چاہتے تھے مگر اس قدر مصروفیت تھی کہ وہ چاہ کر بھی کچھ پوچھ نا پائے
آج وہ زمینوں سے جلدی فارغ ہو کر حویلی آئے تو کچھ دیر ولی خان اور بہادر خان کے پاس بیٹھے
کیونکہ حویلی میں بہادر خان کی شادی کی باتیں چل رہی تھیں
بہادر خان کے لیے حلیمہ بیگم نے اپنی کزن کا سوچا تو ولی خان کو بھی یہ رشتہ مناسب لگا تو انہوں نے رشتہ بھیج دیا
لڑکی والوں کی طرف سے مثبت جواب ملا تو حویلی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
مگر یہ بات مقدس بیگم کو جب سے پتہ چلی تھی وہ انگاروں پر لوٹ رہی تھیں—
وہ کبھی نہیں چاہتی تھی کہ ان کے علاؤہ کوئی اس حویلی میں آئیں—بہادر خان کی بیوی کی حیثیت سے تو بالکل نہیں
اپنے سینے پر سوئے ضرغام خان کو بیڈ پر لٹاتے شیر خان نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھا
اور اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے قدم ان کی جانب بڑھائے
جبکہ شیر خان کو اپنی جانب آتا دیکھ مقدس بیگم نے منہ بگاڑا
“ناراض ہو مجھ سے کسی بات پر—انجانے میں کوئی غلطی ہو گئی ہے کیا مجھ سے”— نظریں آئینے میں نظر آتے مقدس بیگم کے چہرے پر ٹکائے—ان کی پشت پر کھڑے ہوتے—اپنے دونوں ہاتھ مقدس بیگم کے کندھوں پر رکھتے محبت بھرے لہجے میں استفسار کیا تو مقدس بیگم نے نخوت سے شیر خان کے ہاتھ جھٹکے
جبکہ مقدس بیگم کے اس قدر ہتک آمیز رویے پر شیر خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچ کر اپنے اشتعال پر قابو پایا
“کوئی مسئلہ ہے کیا مقدس—کوئی بات پریشان کر رہی ہے تو مجھے بتاؤ”—اپنے لہجے کو حتی الامکان نرم رکھنے کی کوشش کرتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو مقدس بیگم نے طنزیہ نظروں سے شیر خان کو دیکھا
“آپ ہیں میرا مسئلہ—آپ پریشان کر رہے ہیں مجھے—خدا کا واسطہ دور رہے ہیں مجھ سے”—برش پٹکنے کے انداز میں ٹیبل پر رکھتے جھٹکے سے کھڑے ہوتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو شیر خان نے حیرت سے مقدس بیگم کو دیکھا
جبکہ بادام گل کے پچھلے چھ مہینے سے غائب ہونے اور گھر میں بہادر خان کی شادی کی تیاریوں کو دیکھ ان سے اب یہ سب بالکل برداشت نہیں ہو پا رہا تھا
محبت کا لبادہ جو وہ اوڑھے رکھتی تھی شیر خان نے کے سامنے وہ بھی آج وہ اتار چکی تھیں—
“ہوش میں تو ہو کیا بکواس کر رہی ہو—بیوی ہو میری—تمہارے قریب آنا حق ہے میرا—اگر تمہیں کوئی مسئلہ تھا تو شادی ہی کیوں کی—نا کرتی شادی رہتی اپنے بھائی کے گھر—کسی نے زبردستی تو نہیں کی تھی”— شیر خان کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تو دبے دبے لہجے میں چلا کر بولے تو مقدس بیگم نے نخوت سے سر جھٹکا
“ہو گئی غلطی خوش—مگر اب مجھ سے تمہاری گھٹن زدہ قربت اور یہ رشتہ برداشت نہیں ہوتا—تمہارے سارے رشتے میں رہنا میری مجبوری نا ہوتی اور میرے ماں باپ سلامت ہوتے تو کب کی چلی گئی ہوتی”—شیر خان کے کرتے کو مٹھیوں میں دبوچے چلاتے ہوئے کہا تو مقدس بیگم کے الفاظوں سے شیر خان کا چہرہ خون چھلکانے جیسے ہو گیا—
“اگر یہ رشتہ میرے باپ کی خوشی سے جڑا نا ہوتا—تو ابھی دو لفظ بول کر تم جیسی عورت کو خود پر حرام کر لیتا— اگر تم اس کمرے اور حویلی میں ہو تو صرف میرے بیٹے کی وجہ سے—مگر اگر آج کے بعد میں نے تمہیں اس کے سلسلے میں کوئی لاپرواہی برتتے دیکھا تو اس دن اپنا آخری دن سمجھنا مقدس بیگم”— مقدس بیگم کو خود سے دور جھٹکتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا اور ایک تاسف بھری نگاہ ان کے وجود پر ڈالتے لمبے لمبے ڈنگ بھرتے کمرے سے نکلتے چلے گئے
-_________
تم نے سوچ لیا ہے کہ مبین کو حویلی لے کر جاؤ گے—اگر بھابھی نے کوئئ تماشہ کیا پھر—جہاں تک مجھے اندازہ ہے وہ کبھی مبین اور عائث کو قبول نہیں کریں گی”—شیر خان کی گود سے چار سال کے عائث کو لیتے حدایت شاہ نے کہا تو شیر خان نے گہری سانس لیتے انہیں دیکھا
وہ مبین بیگم سے پانچ سال پہلے شادی کر چکے تھے— وجہ مقدس بیگم کا رویہ نہیں مبین بیگم کا خودکشی کی کوشش کرنا تھا—اور پھر جب ان کے بھائی نے شیر خان کے آگے ہاتھ جوڑے تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی مان گئے
مگر شیر خان نے شرط رکھی تھی کہ وہ یہ رشتہ کبھی بھی دنیا کے سامنے نہیں لائیں گے—جس پر مبین بیگم بنا کسی اعتراض کے مان گئیں تھیں
انہیں صرف شیر خان کا نام اس کا ساتھ چاہئے تھا—انہیں دنیا سے کوئی غرض نہیں تھی
اسی لیے نکاح کرنے کے بعد وہ شہر آگئیں تھیں—جہاں شیر خان مہینے میں کچھ دن رہنے کے لیے آجاتے تھے—
مگر عائث خان کے پیدائش اور اس کے چار سال کے ہوجانے کے بعد شیر خان کو یہ مناسب نا لگا کہ وہ ایک اولاد کو دنیا کی نظر میں رکھے اور ایک کو گناہ کی طرح چھپاتے پھریں
وہ دونوں ان کے خون تھے— اور دونوں کی جان سے زیادہ عزیز تھے—
بہادر خان کی شادی ہوئی اور کشف بیگم بیاہ کر آئی تو ان کے آنے کے بعد مقدس بیگم کا رویہ آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگا
جسے حویلی کا ہر فرد سمجھنے سے قاصر تھا—وہ ضرغام کو اپنا اس قدر عادی کر چکی تھی کہ اب وہ ایک پل بھی ان کے بغیر نہیں رہتا تھا—
ماں کی محبت اور باپ کے لاڈ اٹھانے کا یہ نتیجہ سامنے آیا تھا کہ وہ کافی شرارتی ہوگیا تھا
ضرغام خان کی شرارتیں حویلی میں رونق لگائے رکھتی تھی—جبکہ اس کے برعکس عائث خان بچپن سے ہی خاموش طبعیت کا مالک تھا—وہ بہت کم بولتا تھا— مگر جب بولتا تھا اگلے بندے کی بولتی بند کر دیتا تھا—
انہیں سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے شیر خان نے مبین بیگم اور عائث کو حویلی لے جانے کا فیصلہ کیا—وہ چاہتے تھے کہ ضرغام اور عائث زندگی کے کسی موڑ پر ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو وہ ایک دوسرے سے نفرت نا کریں
وہ اپنے دونوں بیٹوں کو ایک ساتھ خوش دیکھنا چاہتے تھے اور یہ تب ہی ممکن تھا جب وہ ایک ساتھ رہتے ایک دوسرے کو سمجھتے
اس پانچ سال کے عرصے میں مبین بیگم نے واقع اس بات کو ثابت کیا تھا کہ ان کے لیے صرف شیر خان معنی رکھتا ہے—انہوں نے سچے دل سے شیر خان کو چاہا تھا اور شیر خان کو بھی خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دیا تھا—
“ہاں وہ مشکل سے مبین اور عائث کو قبول کرے گی—یا شاید کبھی کرے ہی نا—لیکن یہ شادی میں نے جس جیسے بھی حالات میں کی— لیکن اب میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے—کہی نا کہی میں بھی اس رشتے کے لیے راضی تھا ورنہ مرد سے کون زبردستی کر سکتا ہے—اور اب میں مزید اپنی بیوی اور بچے کو دنیا کی نظروں سے چھپا کر نہیں رکھ سکتا—جتنا حق مقدس کا ہے اتنا ہی مبین کا بھی—مبین کو حویلی جانے سے اور مقدس کے ساتھ رہنے سے کوئی مسئلہ نہیں اگر مقدس کو ہوا اور وہ نا رہنا چاہے تو میں اسے الگ گھر میں رکھ لوں گا”— شیر خان کے سنجیدہ لہجے پر حدایت شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“اگر مقدس بھابھی کے لحاظ سے سوچا جائے تو وہ جیسی بھی تھی یہ غلط ہوا ہے کہ تم نے چھپ کر شادی کی—مگر ان کے رویے کو سامنے رکھا جائے تو تم اپنی جگہ ٹھیک ہو—اور ویسے بھی تم نے کہی بھی ان کے ساتھ نا انصافی نہیں کی— اسی لیے خود کو ملامت کرنا بند کرو”—حدایت شاہ نے شیر خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو انہوں نے مسکرا کر اپنے دوست کو دیکھا
جو ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ رہا تھا—جو دور ہو کر بھی ان کی پرچھائی بنا رہا تھا
مبین بیگم سے جب نکاح کیا تب حدایت ڈیوٹی کرٹ تھا—واپسی پر جب انہیں معلوم ہوا وہ کافی ناراض ہوئے تھے دونوں سے مگر اپنے دوست کو خوش اور مطمئن دیکھ وہ اپنی ناراضگی جلد ختم کر چکے تھے—
“جمعہ کو مبین اور عائث کو لے کر حویلی جا رہا ہوں— تم اس دن حویلی نا ہی آؤ تو بہتر ہے ورنہ سارا ملبہ تم پر ڈال دینا مقدس نے”—اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئے شیر خان نے کہا تو حدایت شاہ نے چونک کر انہیں دیکھا
“مگر میں تو آتے ہوئے حلیمہ کو حویلی چھوڑ کر آیا ہوں—اس کی طبیعت ناساز تھی اور ثمرین بھابھی گھر نہیں تھی—اور جیسی اس کی کنڈیشن تھی میں اسے ملازموں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا تھا—تو کشف بھابھی نے کہا کہ حویلی چھوڑ جاؤ تو میں وہی چھوڑ کر آرہا ہوں—حدایت شاہ کے جواب پر شیر خان نے پریشانی سے اپنا ماتھا مسئلہ
“چلو جو ہوگا دیکھا جائے گا— حلیمہ کی خیر ہے مگر تم حویلی مت آنا—میں نہیں میری وجہ سے وہ تمہیں بلاوجہ کسی بات کا الزام دیں—یا مقدس تم سے بتمیزی کرے—میں بابا سے پہلے ہی بات کر لوں گا—تا کہ وہ معاملہ سنبھال لیں”— شیر خان کے کہنے پر حدایت شاہ نے سر اثبات میں ہلایا
مگر حقیقتاً وہ خود پریشان ہو چکے تھے— کیونکہ حلیمہ بیگم کی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کہ انہیں کوئی ٹینشن دی جاتی— مگر وہ یہ سوچ چکے تھے کہ وہ جمعہ سے پہلے حلیمہ بیگم کو حویلی سے لے آئیں گے—
__________
حال:-
اس دن کے بعد سے ضرغام کا رویہ کافی سرد ہو گیا تھا—پہلے تو شام کے وقت ہی وہ حویلی لوٹ آتا تھا
وہ نجانے کس پہر حویلی آتا اور داجی کے ساتھ تھوڑا وقت گزار کر پھر سے ڈیرے پر چلا جاتا—دن رات ضرغام خان کے وہی گزر رہے تھے
وہ پاس تھا تو اپنی معنی خیز نظروں اور بے باک جسارتوں سے اسے بوکھلائے رکھتا تھا—اور اب ناراض ہوا تھا تو عقیدت کی جان لبوں پر لے آیا تھا—
پہلے وہ ہر وقت نظروں کے سامنے رہتا تھا—مگر ان چند دن میں ضرغام خان نے اپنی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بھی ترسا دیا تھا
ضرغام خان کی بے رخی دیکھ عقیدت کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا—ضرغام خان نے ہاتھ اٹھا کر مردانگی دکھا کر بدلہ نہیں لیا تھا—
اس نے خود کو عقیدت کی نظروں سے دور کر کہ عقیدت کی دکھتی رگ پر وار کیا تھا—
اپنی غلطی کا احساس بھی تھا مگر جو ضرغام کرنے جا رہا تھا—اپنے غصے میں اپنی ہی عزت کو روندنے لگا تھا—یہ حق کسی شوہر کو نہیں کہ وہ غصے میں اپنی بیوی کی ذات کو روند کر بعد میں اسے اپنی محبت کا نام دے دے—
ضرغام خان اس سے لڑتا جھگڑتا کچھ بھی کرتا—وہ سب قبول تھا مگر اپنے شوہر کے ہاتھوں اپنی وقار اپنی نسوانیت کا روندے جانا کسی حال میں بھی قبول نہیں تھا—
ضرغام خان کے وفادار ملازم کو ڈرا دھمکا کر عقیدت ضرغام کے گھر آنے کا وقت پوچھ چکی تھی
اور اب وہ سجی سنوری ضرغام خان کے حویلی آنے کا انتظار کر رہی تھی—
سرخ اناری رنگ کی پٹھانی فراک پہنے— سر پر سرخ رنگ کا دوپٹہ جس کے کناروں پر خوبصورت گوٹے کا کام ہوا تھا—سر پر اوڑھ کر ماتھا پٹی لگائے— سبز نگینوں جیسی چمکتی موٹی آنکھوں میں کاجل لگا کر انہیں مزید دلکش بنایا گیا تھا—گلے میں ضرغام خان کا دیا پینڈٹ پہنے—بھرے بھرے گلابی ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک لگائے— کلائیوں میں بھر بھر کر ست رنگی چوڑیاں پہنے—پور پور سجی وہ آسمان سے اتری کوئی حور ہی لگ رہی تھی—
لبوں کو بری طرح کچلتے رات کے پہر حویلی کے پچھلے دروازے کی اوٹ میں کھڑی وہ بے صبری سے ضرغام خان کے آنے کا انتظار کر رہی تھی—
تبھی دروازا کھلنے اور ملازم کے سلام کرنے کی آواز سن عقیدت کا دل زورو سے دھڑکا
جتنی دیدہ دلیری سے اس دن ضرغام خان سے بات کی تھی—چند دن کی دوری نے ساری انا غصہ اور دلیری ہوا کر دی تھی
یہ شخص نجانے کیا تھا— صرف دشمن تھا تو دیکھنا بھی گوارہ نہیں تھا—مگر شوہر بن کے سامنے آیا تو اسے دیکھے بنا گزارا نہیں ہو رہا تھا—رگوں میں خون کی مانند گردش کرنے لگا تھا—عقیدت اگر اس پر اپنی چلا رہی تھی—تو یہ صرف عقیدت کا دل ہی جانتا تھا کہ وہ شخص بن کچھ کہے بن کچھ کہے عقیدت کے دل کو اپنا پابند کر چکا تھا—
قدموں کی چاپ سن عقیدت اپنے دھڑکتے دل کو سنبھالتی جلدی سے دیوار کی اوٹ میں ہوئی
ضرغام خان ملازم کے سوال کا جواب دیتا تیزی سے اندر کی جانب بڑھا
ابھی وہ مزید آگے بڑھتا کہ اپنی اجرک پر کسی کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کر کہ جھٹکے سے پلٹا
______
ضرغام خان کو آگے بڑھتا دیکھ عقیدت جلدی سے دیوار کی اوٹ سے نکلتی—آگے بڑھتے ضرغام خان کی اجرک کو بائیں جانب سے تھام چکی تھی—
رات کی گہری خاموشی میں چوڑیوں کی کھنک نے خوبصورت ارتعاش پیدا کیا تو ضرغام خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے وہ اس اندھیرے میں بھی جان چکا تھا کہ سامنے موجود ہستی کون ہے—
حویلی کی بیک سائیڈ پر اس وقت ساری لائٹس اوف ہی ہوتی تھی—
اور اس طرف کے آنے جانے کا راستہ حویلی کے لوگوں کے علاؤہ کسی کو معلوم بھی نا تھا
اپنے کمر پر بندھی پسٹل کی جانب ضرغام خان کا جاتا ہاتھ چوڑیوں کی کھنک سن کر رک چکا تھا—
جبکہ عقیدت نے ضرغام خان کے کسی بھی ردعمل کو نا دیکھ ضرغام خان کی اجرک کو دونوں جانب سے تھام کر کھینچا
اور دیوار کے قریب سے ہوتی دوسری جانب آئی
جہاں آسمان پر چمکتے چاند کی روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی
ضرغام خان کی نظریں چاند سے ہوتی—اپنے سامنے کھڑی پور پور سجی اپنی بیوی پر گئی تو ضرغام خان نے دل نے ایک بیٹ مس کی
مگر عقیدت کی باتیں یاد آئیں تو چہرے پر سرد تاثرات سجائے گھور کر عقیدت کو دیکھا
جو آنکھوں میں محبت لیے ضرغام خان کے وجیہہ چہرے کے نقوش کو آنکھوں کے رستے دل میں اتار رہی تھی
“ناراض ہو”— ہاتھ اجرک سے حرکت کرتے ضرغام خان کی گردن کے گرد حائل ہوئے تو ضرغام خان نے سرد نظروں سے عقیدت کو دیکھتے—جھٹکے سے عقیدت کو خود سے دور کیا
“میری بات سمجھ نہیں آئی تھی کیا—میرے قریب آئی تو جان لے لوں گا”—دوپٹے سمیٹ عقیدت کے بالوں کو مٹھی میں دبوچے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا
ضرغام خان کے اس قدر اجنبی اور سرد رویے پر عقیدت کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی
“مگر تم نے یہ تو بتایا نہیں کہ تمہارے دور جانے سے بھی میری جان جائے گی—میں تو ایسے بھی مر رہی ہوں—تو اس بہتر ہے نا کہ تمہارے قریب آکر—تمہاری بانہوں میں مر جاؤں”—ضرغام خان کے کرتے کو سامنے سے مٹھیوں میں دبوچے—ضرغام خان کو اپنی طرف جھکاتے ہوئے سرگوشی نما آواز میں کہا تو ضرغام خان نے سختی سے جبڑے بھنچ کر نیلی خون چھلکاتی آنکھوں سے عقیدت کو دیکھتے تاسف سے نفی میں سر ہلایا
“میں تو تمہارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا—مجھ سے جڑا رشتہ تو گلے کا طوق ہے نا—تو پھر اس ڈرامے کا مقصد—چال چل رہی ہو پھر سے کوئی—محبت کی مار مارنا چاہتی ہو مجھے عقیدت ضرغام خان”— اپنے ہاتھوں کی آہنی گرفت میں عقیدت کی کلائیاں تھام کر پشت پر لگاتے غراتے ہوئے کہا تو عقیدت نے نم آنکھوں سے ضرغام خان کو دیکھتے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا
“محبت کی مار تو میں مر چکی ہوں ضرغام—ایم رئیلی سوری—پلیز مجھ سے دور مت جاؤ—ایسے مت کرو—اٹس ہرٹنگ می—میں تم سے لڑ جھگڑ سکتی ہوں—لیکن تم سے دور اور ناراض نہیں رہ سکتی ہے—میں نے اس دن آنٹی کو سنانے کے لیے وہ سب بولا—لیکن وہ سب جھوٹ تھا ایسا کچھ بھی نہیں”— نم آنکھوں میں آنسوں لیے—نم لہجے میں کہتی وہ ضرغام خان کا دل دھڑکا چکی تھی—
لیکن ضرغام خان کا اس بار جلدی ماننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا—ان دونوں بہن بھائیوں کا دماغ تو بچپن سے ہی خراب تھا—دونوں حد سے زیادہ جذباتی تھے اور دونوں کو خود سے زیادہ عقلمند تو کوئی لگتا ہی نہیں تھا— اور اپنی عقلمند بیوی کو سیٹ کرنے کا ضرغام خان کو اس سے اچھا موقع دوبارا نہیں مل سکتا تھا—
کیونکہ اس بار عقیدت ضرغام خان بھی جانتی تھی کہ غلطی سراسر اس کی تھی
اسی لیے تو بھیگی بلی بنی چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت سجائے آنکھیں پٹپٹاتے ضرغام خان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ رہی تھی
“دولت کے کاغذات کے ساتھ اس طوق زدہ رشتے سے آزادی کے کاغذات بھی تمہیں بہت جلد مل جائیں گے—اسی لیے بہتر ہے کہ تم مجھ سے دور ہی رہو—تمہارے لیے میں ساری دنیا سے لڑنے کو تیار تھا عقیدت شاہ—اس بات کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ میں اپنی ماں کے خلاف تک چلا گیا— ماں سے بڑھ کر تو کچھ نہیں ہوتا نا—اگر تمہیں یہ رشتہ طوق ہی لگتا ہے تو میرا دماغ خراب نہیں کہ میں ایک ایسی لڑکی کے پیچھے اپنی ماں کو ناراض کرتا پھروں جس کی نظر میں میری کوئی اہمیت نہیں—تمہیں آزاد کر کہ تمہاری خوشی دینے والا ہوں اور اپنی ماں کی پسند سے شادی کر کہ انہیں خوش کرنے والا ہوں—اور مجھے امید ہے اس لڑکی کے لیے ضرغام خان سے بڑھ کر کوئی اہم نہیں ہوگا”—- عقیدت کے جبڑے کو سختی سے دبوچے سرد لہجے میں کہتے طنزیہ نظروں سے عقیدت کی حیرت و غم سے پھٹی آنکھوں میں دیکھتے جھٹکے سے عقیدت کو چھوڑتے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گیا
جبکہ ضرغام خان کے الفاظوں سے عقیدت کو لگا جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسہ کانوں میں ڈال دیا ہو
سانس سینے میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی—آنکھوں سے بہتا گرم سیال پل میں چہرے کو تر کر چکا تھا—
قدم بری طرح ڈگمگائے تو تو بے ساختہ دیوار کا سہارا لیا اور نم آنکھوں سے اس جانب دیکھا جہاں سے ابھی ضرغام خان غائب ہوا تھا—
آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھانے لگا تو سر جھٹکتے خود کو سنبھالا
وہ نہیں جانتی تھی کہ ضرغام خان اس قدر عقیدت شاہ کے دل و دماغ پر حاوی ہو جائے گا کہ اس کہ بنا سانس لینا محال ہوگا—اس شخص کی بے رخی سہان روح ہو گی—وہ خون بن کر نہیں ایک ایسے نشے کی مانند رگو میں رچ بس گیا تھا کہ اسے خود سے دور کرنے کے نتیجے میں موت ہی صرف عقیدت ضرغام خان کا نصیب ہو سکتی تھی— ضرغام خان روح بن کر وجود میں اتر گیا تھا اور اس بات کا اندازہ عقیدت کو آج ہوا تھا—کہ وہ شخص جدا ہوا تو اس کا جسم تو فقط ایک مٹی کا بے جان پتلا ہے
ہاتھوں کی پشت سے بے دردی سے آنسو پونچھتے تیز تیز قدم لیتی وہ ضرغام خان کے پیچھے ہی حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھی
_______
دھاڑ سے دروازا کھول کر اندر داخل ہوئی تو واشروم سے پانی گرنے کی آواز سن کر زور سے دروازا بند کرتی جا کر سامنے صوفے پر بیٹھ گئی
وہ اچھے سے جانتی تھی اس خان کو کہ اب تیلی لگائی ہے تو سلگانے کے لیے کمرے میں ہی جائے گا—اسی لیے وہ داجی کے کمرے میں جانے کی بجائے سیدھا اپنے روم میں آئی تو– توقع کے عین مطابق ضرغام خان آج اتنے دنوں بعد اپنے کمرے کو اپنی موجودگی کا شرف بخش چکے تھے—
دو منٹ خاموشی سے انتظار کیا مگر جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو واشروم کے بند دروازے کی جانب بڑھی
“دروازا کھولو ضرغام—باہر کیا بکواس کر کہ آئے ہو—سامنے آؤ میرے—میں کرواتی ہوں تمہاری شادی پاگل خان— بہت شوق ہو رہا ہے دوسری شادی کا—دروازا کھولو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں”—بری طرح دروازے کو پیٹتے چلاتے ہوئے کہا تو شاور کے نیچے—دونوں ہاتھ دیوار پر ٹکائے کھڑے ضرغام خان نے گردن موڑ کر بند دروازے کو دیکھا
جس بچارے کو اب پتہ نہیں کس کس چیز سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا—
“تم ایک سیکنڈ میں باہر نا آئے تو آئی سوئیر ضرغام میں دروازا توڑ دوں گی—اور مجھے کوئی شرمندگی بھی نہیں ہوگی”—ڈریسنگ ٹیبل سے چیزیں اٹھا کر بند دروازے پر مارتے چلاتے ہوئے کہا مگر لہجے میں گھلی نمی صاف ظاہر ہو رہی تھی جسے محسوس کر کہ ضرغام خان کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ معنی خیز مسکراہٹ رینگ گئی
مسرور ہوتے آنکھیں موند کر چہرہ شاور کی جانب کرتے—چاکلیٹ براؤن بالوں میں ہاتھ پھیرتے—گہرا مسکراتے شاور بند کیا
ہاتھ بڑھا کر سٹینڈ سے ٹاول کھینچ کر اپنے گرد لپیٹا اور ایک نظر قد آور آئینے میں اپنے توانا جسم کو دیکھا
جہاں سینے پر پانی کی بوندیں چمک رہی تھیں— گہری نیلی آنکھوں میں چمک لیے بند دروازے کو دیکھا جہاں سے عقیدت کے چلانے اور چیزیں توڑنے کی آوازیں آرہی تھیں
چہرے پر سرد تاثرات سجائے آگے بڑھ کر دروازا کھولا
_______
عقیدت جو کبرڈ سے ڈوبلیکیٹ کیز نکالتی واشروم کا دروازا کھولنے لگی تھی ضرغام کے یوں اچانک دروازا کھول کر نمودار ہونے پر سٹپٹا کر پیچھے ہوئی
نظریں اپنے ہاتھوں میں تھامی کیز سے ہوتی سامنے گئی تو عقیدت کے چہرے کے خدوخال میں پل میں سرخیاں گھلیں
ماتھے پر بکھرے گیلے چاکلیٹ براؤن بال— جس سے بیتی پانی کی بوندیں گردن سے ہوتی مضبوط چوڑے سینے پر گر رہی تھی—جنہیں دیکھ عقیدت کے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی
نظریں ضرغام خان کے سیکس پیکس سے ہوتی پھولے مسلسز پر گئی تو عقیدت نے بے ساختہ قدم پیچھے لیے—
جبکہ عقیدت کو سرخ نظروں سے گھورتے ضرغام خان نے قدم ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھائے—اور وہ جو لڑنے کو پھر سے تیار بیٹھی تھی اس کی زبان تو تالوں سے چپک چکی تھی—
“یہ کیا بتمیزی ہے—تم میں کوئی مینرز ہے بھی کہ نہیں جو یوں منہ اٹھا کر باہر چلے آئے ہو”—نظریں ضرغام خان کی پشت پر ٹکائے لہجے کو حتی الامکان نارمل رکھنے کی کوشش کرتے غصے سے کہا تو ضرغام خان نے آبرو آچکا کر طنزیہ نظروں سے عقیدت کو دیکھا
“جب تم نے دروازا توڑ کر اندر آنا تھا—تو تمہیں کیا لگتا ہے اندر میں سات پردوں میں بیٹھا تھا—اور تم نے ہی کہا تھا کہ تمہیں کوئی شرمندگی نہیں ہوگی—تو مائے ڈارلنگ یقین مانو دروازا کھول کر اندر آنے والی شرمندگی کے سامنے تو یہ کچھ بھی نہیں”— دانت پیستے طنزیہ لہجے میں کہا تو عقیدت نے سٹپٹا کر نظروں کا زاویہ بدلا
“کمینہ خان”—سرگوشی نما آواز میں کہتے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا جو نارمل آنداز میں مرر کے آگے کھڑا اپنے نم بالوں کو ڈرائے کر رہا تھا—
“میں معافی مانگ رہی ہوں نا—اب تم کیا چاہتے ہو سچ میں تمہاری شادی کروا کر تمہیں راضی کروں تو کان کھول کر سن لو تمہاری بیوہ بن جاؤں گی مگر تمہیں کسی اور کا ہونے نہیں دوں گی”—ضرغام خان کے ہاتھوں سے ڈرائیر لیتے ڈریسنگ ٹیبل پر پٹکنے کے انداز میں رکھتے—سخت لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے کینہ توز نظروں سے اپنے سامنے کمر پر دونوں ہاتھ ٹکائے کھڑی آتش فشاں بنی اپنی بیوی کو دیکھا
“تمہیں کس نے کہا میں تمہارے راضی کرنے کے انتظار میں بیٹھا ہوں—مجھے تم سے اب کوئی سروکار نہیں—تمہاری کوئی بھی حرکت یا عمل میرے لیے اب سے کوئی معنی نہیں رکھتا”– عقیدت کے ماتھے پر بندھی سلور رنگ کی ماتھا پٹی جس میں رنگ برنگے پھول بنے تھے— اسے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے ٹھیک کرتے سرد لہجے میں کہا تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا
“دیکھو ضرغام مجھ سے ایسا رویہ نا رکھو میں بول رہی ہوں کہ تمہارا یہ رویہ مجھے ہرٹ کر رہا ہے—اور باہر بہت اچھے طریقے سے منانے کی کوشش بھی کر چکی ہوں—تو اب اچھے شوہروں کی طرح مان جاؤں تم”—دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی ضرغام خان کے سینے پر رکھتے—سبز موٹی آنکھوں کو چھوٹا کرتے تحکمانہ لہجے میں کہا تو منانے کے اس انداز پر ضرغام خان دل ہی دل میں عش عش کر اٹھا
“میں قربان نا ہو جاؤ تمہارے اس منانے کے انداز پر”—عقیدت کی انگلی اپنے سینے سے ہٹاتے طنزیہ لہجے میں کہتے قدم کبرڈ کی جانب بڑھائے
کبرڈ سے اپنا ڈریس نکال کر ڈریسنگ روم میں بند ہوا تو عقیدت نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی—
____________
پانچ منٹ بعد ضرغام باہر آیا تو نظریں خاموشی سے کمرے کا پھیلاوا سمیٹتی عقیدت پر گئی
جسے دیکھ ضرغام خان نے مشکوک نظروں سے عقیدت کو دیکھا—مگر پھر سر جھٹکتے ڈریسنگ ٹیبل سے اپنی گھڑی اٹھا کر کلائی پر باندھی
بالوں میں برش کرنے کے بعد– خود ہر سپرے کرتے—کبرڈ سے اجرک نکال کر کندھوں کے گرد پھیلائی
جبکہ اس دوران کمرے میں عقیدت شاہ کی موجودگی کو سرے سے نظر انداز کیا—جبکہ یہ کرتے ہوئے ضرغام خان کا دل سینے میں سر پٹکتا ضرغام خان کی آنا کو کوس رہا تھا
دل کا کہنا تھا آگے بڑھ کر اس نازک پھولوں سے وجود کو خود میں چھپا لے—اپنی ساری ناراضگی اور انا کو پاؤں تلے روند کر—اس گلاب کے پھول سے وجود کی خوشبو میں گم ہو جائے
مگر عقیدت کو اپنی اہمیت اس رشتے کی خوبصورتی کا احساس دلانے کے لیے یہ سب کرنا بے حد ضروری تھا—ورنہ وہ اپنی جذباتی طبعیت اور غصے میں پھر سے یہی سب کرے گی—
“کیسے مانو گے تم”—کمرے سے باہر جاتے ضرغام خان کا راستہ روکتے— آنکھوں کو گھماتے ہوئے کہا تو عقیدت کی اس دلکش ادا پر ضرغام خان کو ٹوٹ کر پیار آیا
کمبخت دل تو پہلے سے ہی دل و جان سے فدا تھا—اوپر سے وہ ظالم محبوبہ سرخ رنگ میں پور پور سجی اپنی قاتلانہ اداؤں سے ضرغام خان کی جان لینے کے در پر تھی—
“ایک ایسی بیوی لا دو مجھے جسے یہ معلوم ہو کہ شوہر کو مناتے کیسے ہیں—اور اب ہٹو میرے رستے سے—اتنا فضول وقت نہیں جو تمہاری شکل دیکھ کر برباد کروں”—تنک کر کہتے عقیدت کو بازو سے تھام کر سائیڈ پر کیا تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھتے پھر سے اس کے رستے میں حائل ہوتی دروازے سے ٹیک لگا گئی
“میں قسم سے اب تمہاری جان لے لوں گی اب اگر تم نے دوسری شادی کا نام لیا ضرغام—منا رہی ہوں نا—تو مان جاؤ نا”—تیز لہجے میں کہتے آخر میں معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ضرغام خان کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تو ضرغام خان کے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی
اپنا آپ عقیدت کی ان اداؤں کے آگے ہارتا ہوا محسوس ہوا—وہ کوئی نفس پرست یا کمزور اعصاب کا مالک نہیں تھا جو یوں کسی کو بھی دیکھ کر بہک جاتا—مگر اب جو بہک رہا تھا تو سامنے موجود ہستی اس کی ملکیت تھی—ضرغام خان کا عشق و جنون تھی— وہ اس دنیا میں ضرغام خان کے لیے بنا کر بھیجی گئی تھی اور اٹھارہ سال پہلے دنیا میں اسے ضرغام خان کے نام سے منسوب کر کہ ہمیشہ کے لیے اس کا بنا دیا گیا تھا—وہ صرف بیوی ہی نہیں ضرغام خان کی اولین چاہت اور دھڑکتے دل کی وجہ تھی— ضرغام خان کو یقین تھا کہ عقیدت شاہ اس دنیا کی پہلی اور آخری لڑکی ہے جس کی ہر خطا وہ معاف کر سکتا ہے—چاہے وہ پھر ضرغام خان کی جان لینا ہی کیوں نا ہو–
“مجھے چاہے منانا نہیں آتا – مگر مجھے تمہارے علاؤہ کسی اور کو چاہنا بھی تو نہیں آتا – تمہارے بغیر رہنا بھی تو نہیں آتا—کیا تمہارے لیے یہی کافی نہیں—اب تمہاری بیوی ایسی ہی ہے—جنت تک مجھ سے ہی نبھا کر لو—بیوی تو نہیں لیکن کیوٹ پیاری سی بیٹی دے دوں گی—جو ہمیشہ اپنے بابا کی سائیڈ ہوگی—بولو منظور ہے”— دونوں بانہیں ضرغام خان کی گردن کے گرد حائل کرتے اپنا چہرہ ضرغام خان کی گردن میں چھپاتے سرگوشی نما آواز میں کہا تو ضرغام خان نے گہری نیلی آنکھوں سے اپنے سینے سے لگی کھڑی عقیدت شاہ کو دیکھا
عقیدت شاہ کے نرم و نازک لمس اور وجود سے اٹھتی محسور کن خوشبو کو محسوس کر کہ ضرغام خان کی آنکھوں میں پل میں خمار کی سرخی اتری—
ہاتھ بے ساختہ حرکت میں آتے عقیدت کی کمر کے گرد لپٹے
“بیٹی تو میری ہوگی عقیدت ضرغام خان—اور وہ اپنے بابا کی سائیڈ ہی ہو گی—مگر فلحال میری بیٹی کی ماں اس کے بابا کو بری طرح ہرٹ کر چکی ہے— پہلے مجھے منا کر دکھاؤ—پھر بیٹی کیا بیٹوں کے بارے میں بھی پلیننگ کر لیں گے”— دوپٹہ عقیدت کے سر سے اتار کر بیڈ پر اچھالا تو ماتھا پٹی دوپٹہ کے ساتھ اتری زمین بوس ہوئی—عقیدت کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے—سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت کی آنکھیں بے ساختہ ضرغام کی اس قدر بے رخی پر نم ہوئی
غلطی ہو گئی تھی وہ مان بھی تو رہی تھی—حالانکہ وہ اس بارے میں ابھی بہرام شاہ سے بات بھی نہیں کر سکی تھی—کیونکہ وہ شہر گیا ہوا تھا—مگر وہ ضرغام خان سے نفرت کا ڈرامہ نہیں کرسکتی تھی—اس دن جو سمجھ میں آیا کر تو دیا مگر اس کے بعد ایک پل کو چین نہیں تھا—اب عقیدت کو ہر طرح کا نقصان اٹھانا گوارا تھا مگر ضرغام خان کو خود سے خفا کرنا نہیں—مگر وہ تو آج بے حس بن کھڑا تھا—
کسی بھی طرح ماننے کو تیار نہیں تھا—
ضرغام خان کو نم آنکھوں سے دیکھتے عقیدت نے اپنے قدم پیچھے لیے اور سائیڈ پر ہوتی بیڈ کی جانب بڑھی—
ہاتھ مار کر لائٹس اوف کرتی بیڈ پر جا کر نیم دراز ہوتے کمفرٹر چہرے تک اوڑھ لیا
جبکہ عقیدت کے اس عمل پر ضرغام خان ساکت کھڑا رہ گیا—عقیدت کی نم آنکھیں یاد کرتے مٹھیاں بھینچتے جھٹکے سے اجرک اتار کر صوفے پر اچھالی اور لمبے لمبے ڈنگ بھرتا بیڈ پر آکر اپنی جگہ نیم دراز ہو گیا—
کیونکہ اب باہر جانا تو کسی صورت ممکن نہیں تھا—
بیڈ پر چت لیٹے بازو آنکھوں پر رکھے—وہ اپنی ہی سوچو میں گم تھا کہ تبھی کانوں میں دبی دبی ہچکیوں کی آواز گونجی تو ضرغام خان نے جھٹکے سے آنکھیں کھولتے اندھیرے میں اپنے پہلو میں لیٹی عقیدت کو حیرت سے دیکھا
وہ لڑ جھگڑ سکتی تھی—کسی کو رونے پر مجبور کر سکتی تھی—اور ضرورت پڑنے پر مار بھی سکتی تھی—مگر وہ کبھی رو سکتی تھی وہ بھی ضرغام خان کی بے رخی پر اس بات کا اندازہ ضرغام کو بالکل نہیں تھا
ہاتھ بڑھا کر عقیدت سے کمفرٹر اتارتے—جھٹکے سے عقیدت کو اپنی جانب کیا
وہ جس نے کبھی کسی کو منانا تو دور کسی سے بات کرنا گوارا نہیں کرتی تھی—آج اس قدر کوشش کرنے کے باوجود بھی ضرغام خان کے رویے سے پل میں ٹوٹی تھی—
لاکھ مضبوط ہونے کے باجود بھی عام بیویوں کی طرح شوہر کی ذرا سی بے رخی پر وہ آنکھوں سے بہتے سیال کو روک نا سکی—
کہ تبھی ضرغام خان کے بازو کو اپنی کمر کے گرد لپیٹتے محسوس کر دھک سے رہ گئی
ضرغام خان کے کھینچنے سے عقیدت سیدھا ضرغام خان کے سینے سے ٹکرائی تو اس اچانک افتاد پر وہ ہڑبڑا کر پیچھے ہوتی کہ ضرغام خان دونوں بازو عقیدت کی کمر کے گرد لپیٹا اسے بستر پر لٹاتا اس پر جھک آیا تھا—
“کیوں رو رہی ہو”—ہاتھ بڑھا کر سائیڈ لیمپ اون کرتے عقیدت کی نم آنکھوں کو انگھوٹھے کے پوروں سے صاف کرتے نرم لہجے میں کہا تو کمرے کی معنی خیز خاموشی میں عقیدت کی سسکی گونجی تو ضرغام خان کو لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں دبوچ لیا ہو
تڑپ کر عقیدت کا چہرہ ہاتھوں میں بھرتے—جابجا اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتے عقیدت کو خود میں بھینچ لیا
“کیا ہوگیا یار—جان لینی ہے کیا میری—ایک سیکنڈ میں چپ کرو عقیدت ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں”—کروٹ بدلتے عقیدت کو اپنے سینے میں چھپائے ڈپٹنے والے انداز میں کہا تو عقیدت جھٹکے سے ضرغام خان کا حصار توڑتی آٹھ کر فاصلے پر بیٹھی
پہلے سے گلابی چہرہ رونے کے باعث سرخ انار ہوچکا تھا— سبز نگینوں جیسی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھ ضرغام خان کو اپنا آپ ان میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا
“تت-م سس-ے بب-را کک—کوئئ ہہ-و بب-بھی نہیں” ہچکیوں سے روتے شکوہ کرتے چہرہ ہاتھوں میں چھپایا تو ضرغام خان تڑپ کر اٹھتے عقیدت کے دونوں ہاتھ چہرے سے ہٹاتا—ہاتھوں کی پشت پر شدت بھرا لمس چھوڑتے—مزاحمت کرتی عقیدت کو خود میں چھپا چکا تھا—
“خان صدقے اپنی جان کے— قسم سے یار تنگ کر رہا تھا—رونا تو بند کرو میری جان”—عقیدت کی کمر سہلاتے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت نے نفی میں سر ہلاتے چہرہ ضرغام خان کی گردن میں چھپا لیا
عقیدت کی ہچکیاں تھمی تو ضرغام خان نے نرمی سے اسے سامنے کرتے عقیدت کے نم چہرے کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے—نرمی سے عقیدت کی آنکھوں کو چھوتے—چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا
“میری اتنی سی بے رخی برداشت نہیں ہوئی—اور خود جو مجھ سے نفرت کا اعتراف کرتے—ہمارے رشتے کے بارے میں جو بھی کہا تمہیں اندازہ ہے مجھے کتنی تکلیف ہوئی تھی—اگر تمہیں اندازہ ہوتا نا عقیدت تم کبھی وہ سب نا کہتی—وہ میں تھا جو تمہاری محبت میں برداشت کر گیا—یقین مانو تم کبھی نا کر پاتی—میرے ایسا سوچنے پر بھی جان سے مار دیتی”— شکوہ کناں لہجے میں کہتے آخر میں مسکرا کر کہتے ناک عقیدت کی ناک سے مس کرتے نرمی سے اپنے ہونٹوں سے چھو کر پیچھے ہوا
ضرغام خان کے پیچھے ہونے پر عقیدت نے نم پلکوں کی بار اٹھا کر ضرغام خان کی جانب دیکھا تو نجانے کتنے ہی لمحے معنی خیز خاموشی میں گزر گئے
ضرغام خان نے نرمی سے عقیدت کی کمر کے گرد بازو لپیٹتے خود سے لگایا تو کمرے کی خاموشی میں چوڑیوں کی کھنک سے خوبصورت ساز بکھرا
خاموش مگر آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیے ایک دوسرے کو دیکھتے—ضرغام خان نے ہاتھ بڑھا کر عقیدت کی گردن کے گرد بازو لپیٹا تو عقیدت نے بے ساختہ ضرغام خان کے کرتے کو مٹھیوں میں دبوچا
جبکہ نظریں مسلسل ضرغام خان کی لو دیتی نظروں سے الجھی ہوئی تھیں
تبھی ضرغام خان نے ایک گہری استحاق بھری نگاہ عقیدت کے ہوش ربا سراپے پر ڈالتے—عقیدت کے چہرے پر جھکتے
عقیدت کے سرخ بھرے بھرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی شدت بھری گرفت میں لیا
عقیدت کی کمر کے گرد گرفت سخت کرتے پیچھے کو ہوتے سر تکیے پر ٹکایا
اپنی ٹانگوں سے عقیدت کی ٹانگوں کو لاک کیا—اور پوری شدت سے عقیدت کی مدھم چلتی سانسوں کو اپنی سانسوں سے الجھا دیا
اپنے نازک ہونٹوں پر ضرغام خان کے شدت بھرے لمس اور دانتوں کے دباؤ کو محسوس کرتے—عقیدت کے ہاتھ سرکتے ضرغام خان کے بالوں میں الجھے
کمرے کی معنی خیز خاموشی میں دونوں کی دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں کا شور برپا تھا
ایک دوسرے کے سینے میں محبت کی تھاپ پر رقص کرتی دھڑکنوں کے شور سے گھبرا کر عقیدت نے ضرغام خان میں چھپنا چاہا
جسے محسوس کرتے ضرغام خان نے جھٹکے سے کروٹ بدلتے عقیدت کی کلائیوں کو اپنی سخت گرفت میں لیا تو کئی چوڑیاں ٹوٹ کر بستر پر بکھر گئی
مگر محبت میں ایک دوسرے کی قربت میں گم ہوئے دونوں وجودوں کو پرواہ ہی کب تھے—
عقیدت کی بکھرتی سانسوں کو محسوس کرتے ضرغام خان نرمی سے پیچھا ہوا تو نظریں عقیدت کے بکھرے سراپے—بہکی تیز چلتی سانسوں اور نم ہونٹوں سے سرکتی دودھیاں گردن پر آئی تو ضرغام خان کو اپنے گلے میں کانٹے سے چبھتے محسوس ہوئے
خمار آلود نظروں سے عقیدت کو گہرے سانس لیتے دیکھتے—ہاتھ بڑھا کر نم ہونٹوں کو چھوتے جھک کر ان کی نمی کو چنتے پیچھے ہوتے—چہرہ عقیدت کی گردن میں چھپاتے جا بجا اپنا لمس چھوڑتے وہ پل میں عقیدت کے اوسان خطا کر چکا تھا
ضرغام خان کے ہاتھوں کے بے باک لمس کو بازوؤں سے سرکتے اپنے پیٹ پر محسوس کرتے عقیدت نے تڑپ کر پیچھے ہونا چاہا جس پر ضرغام خان نے سختی سے عقیدت کو پیٹ سے تھامتے—عقیدت کی مزاحمت پر عقیدت کی گردن پر بائٹ کیا تو عقیدت نے تڑپ کر ضرغام خان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما تو ضرغام خان نے غصے سے چہرہ اٹھا کر عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا—
جسے دیکھ عقیدت نے اپنے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے—ضرغام خان کی سرخ آنکھوں میں دیکھا
ابھی ضرغام کچھ کہتا کہ کمرے میں فون کی آواز گونجی تو ضرغام خان عقیدت کی کمر کے گرد بازو لپیٹ کر اٹھاتے اپنے سینے سے لگاتا—بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گیا
اپنے کرتے کی جیب سے موبائل نکال کر سامنے کیا تو اپنے خاص بندے کی کال دیکھ ایک نظر اپنے کندھے سے سر ٹکائے آنکھیں موندے عقیدت کو دیکھ نرمی سے عقیدت کے ماتھے کو چھوتے پیچھے ہوا تو عقیدت نے آنکھیں واہ کر کہ ضرغام خان کو دیکھا جو اب فون کان سے لگا چکا تھا—
“اچھا تم معاملہ سنبھالو میں آرہا ہوں—ہاں بس پانچ منٹ میں”—ضرغام خان کے جانے کی بات سن عقیدت جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی
“کھیتوں میں رات کو پہرہ دینے والے آدمیوں میں منہ ماری ہوگئی ہے—معاملہ ہاتھ سے نکل نا جائے مجھے جانا ہوگا—کل ہماری بیٹی کی پلیننگ کرے گے—اب رونا نہیں سکون سے سو جاؤ—میں جلد ہی واپس آجاؤں گا”—عقیدت کے کچھ بھی کہنے سے پہلے—عقیدت کے ہونٹوں پر شہادت کی انگلی رکھتے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تو ضرغام خان نے مسکرا کر نرمی سے عقیدت کو ماتھے کو چھوتے پیچھے ہوا
“تمہاری اجرک”—ضرغام کو دروازا کھولتے دیکھ عقیدت نے اجرک ضرغام خان کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو ضرغام خان رخ بدل کر عقیدت کے سامنے کھڑا ہوا تو عقیدت نے ناسمجھی سے ضرغام خان کی جانب دیکھا
جس پر ضرغام نے آنکھوں کے اشارے سے اجرک کی طرف اشارہ کیا تو عقیدت کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی
دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے ضرغام خان کے کندھوں کے گرد چادر پھیلا کر پیچھے ہوئی تو ضرغام خان کی نظریں عقیدت کی دودھیاں گردن پر گئی جو اب ضرغام خان کی شدتوں سے سرخ ہوئے پڑی تھی—جسے دکھ ضرغام خان کا دل کیا ساری دنیا کو بھاڑ میں جھونک کر وقت کو یہی روک لے—اور آج آپنی محبت کو ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لے—مگر محبت کے ساتھ فرض بھی تو تھا—وہ خان تھا—اور سردار تھا—وہ فرض سے لاپرواہی نہیں برت سکتا تھا—
نرمی سے عقیدت کا گال تھپتھپا کر جھٹکے سے پلٹتا کمرے سے نکلتا چلا گیا
جبکہ عقیدت نے آگے بڑھ کر دروازا بند کرتے دروازے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں
اپنے وجود سے اٹھتی ضرغام خان کی خوشبو کو محسوس کر کہ ہونٹوں پر شرمیگی مسکراہٹ رینگ گئی
ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے— ضرغام خان کے بارے میں سوچتے چہرے پر کئی دھنک رنگ بکھر گئے
Episode 17
یار صبغہ کچھ کرو—اگر عائث کو بھنک بھی لگ گئی کہ میں یہ سب کرتی پھر رہی ہوں— تو میری جان لے لیں گے—اففف تم ایٹلیسٹ مجھ سے بات تو کر لیتی”—کمرے میں بے چینی سے ٹہلتی حوریہ نے پریشانی سے اپنا ماتھا مسلتے ہوئے کہا تو دوسری جانب اپنے آفس میں بیٹھی صبغہ نے پٹکنے کے انداز میں فائل ٹیبل پر رکھی
“حد ہی ہوگئی حوریہ—سب کچھ میں ہی کروں—صبغہ نا ہو گئی کوئی جادو کی چھڑی ہی ہوگئی—جس کو گھما کر سارے کام سیٹ کر وا لو—ایک تو میری جان کا دشمن مجھے سکون کا سانس نہیں لینے دیتا اور اب یہ ایک نئی مصیبت”—صبغہ کے جھنجھلا کر کہنے پر حوریہ نے پریشانی سے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا
اور آہستہ قدموں سے چلتی ٹیبل کے پاس گئی—ہاتھ بڑھا ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے لگا کر ایک ہی گھونٹ میں گلاس خالی کرتی نفی میں سر ہلاتی صوفے کی جانب بڑھی—صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر ایک نظر بند دروازے کو دیکھ گہری سانس بھری
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں—میرے لیے چند گھنٹوں کے لیے یہاں سے نکلنا مشکل نہیں—مگر میرا گھنا شوہر بہت شاطر انسان ہے—چیل کی نگاہ رکھتا ہے—اسے اگر ذرہ سا بھی شک گزرا تو میری خیر نہیں”— حوریہ نے بری طرح لب کچلتے ہوئے کہا تو صبغہ شاہ نے اپنے سامنے پڑے فائلوں کے ڈھیر کو ہاتھ مار کر پیچھے کھسکایا
اور منہ بسور کر دل ہی دل میں بالآج شاہ کو دو سو سلواتوں سے نوازا
جو شاید کمپنی کی ساری فائلز صبغہ کے حوالے ہی کر چکا تھا—
“اب کچھ نا کچھ تو کرنا ہوگا—اور تمہیں اس جاہل انسان کا بھی پتہ ہے—جان کا عذاب بن جاتا ہے—تم بس کسی بھی طرح آجانا—یا میں ہی آجاؤ گی اور شاپنگ کا بہانہ کر کہ تمہیں ساتھ لے آؤ گی”— صبغہ کے پرجوش لہجے میں کہنے پر حوریہ نے بھی سکون کا سانس لیا
“ہاں یہ بیسٹ ہے—بس تم شاپنگ پہلے سے کر کہ رکھنا—خالی ہاتھ گھر آئے نا—تو شک ہو جانا”—حوریہ نے چٹکی بجا کر کہا تو صبغہ شاہ نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا
تبھی کمرے کے باہر قدموں کی چاپ سن کر حوریہ جھٹکے سے ٹیک ہٹا کر سیدھی ہو بیٹھی
“اس بارے میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں—ابھی شاید کوئی آرہا ہے—تم کل ٹائم پر پہنچ جانا”— تیزی سے صبغہ کو جواب دیتے—فون بند کر کہ بیڈ پر اچھالا اور تیز قدموں سے چلتی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی—جبکہ دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا—گہری سانس لیتے بند دروازے کے ہینڈل کو دیکھا جسے باہر کی جانب سے گھمایا گیا تھا
_________
عائث خان دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو نظریں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے نظریں جھکائے کھڑی حوریہ شاہ کی پشت سے ٹکرائی— حوریہ شاہ کو نظروں کے حصار میں رکھتے عائث خان نے دروازہ بند کیا تو
دروازہ بند ہونے کی آواز سن—حوریہ کا دل بے ساختہ دھڑکا
اپنی جانب عائث خان کے بڑھتے قدموں کی چاپ سنتے—حوریہ کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہوا—ہاتھوں میں تھامے ہئیر برش پر گرفت سخت سے سخت ہوتی جارہی تھی
“مجھے لگا تم سو رہی ہوگی”—اپنی کمر پر رینگتی عائث خان کی سلگتی انگلیوں کے لمس—اور گھمبیر لہجے میں کی گئی سرگوشی کو سن حوریہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر آئینے میں نظر آتے عائث خان کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا— جو اس وقت کسی بھی قسم کے جذبات سے عاری تھا—چاکلیٹ براؤن سرد آنکھوں میں دیکھتے حوریہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی
“دن کے تین بجے کون سوتا ہے”— برش کو ٹیبل پر رکھتے—اپنے خشک پڑتے ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے—مدھم لہجے میں کہا تو عائث خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
ابھی حوریہ پلٹتی کہ عائث خان نے دائیں ہاتھ کو حوریہ کی کمر کے گرد لپیٹتے ایک جھٹکے میں اپنی سخت گرفت میں لیتے—حوریہ کی پشت کو اپنے سینے میں بھنچا—اس اچانک افتاد پر حوریہ نے بامشکل اپنی چیخ روکتے—سہمی نظروں سے آئینے میں نظر آتے عائث خان کے وجیہہ مگر سرد و سپاٹ چہرے کو دیکھا—
پینٹ کے ساتھ ڈارک براؤن شرٹ پہنے—جس کے اوپری دو بٹن کھلے ہوئے تھے—شرٹ کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا—جس کے باعث بازوؤں کی پھولی نیلی رگیں واضح ہو رہی تھیں—سیاہ سلکی بال بے ترتیبی سے ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے—اور چاکلیٹ براؤن سرد آنکھیں حوریہ کی گردن پر حرکت کرتی اپنی انگلیوں پر جمی ہوئی تھیں—
جنہیں دیکھ حوریہ کو اپنا سانس رکتا محسوس ہو رہا تھا—
“جو انسان رات آٹھ بجے سو سکتا وہ دن کے تین بجے بھی تو سو سکتا ہے نا”— حوریہ کی گردن سے بائیں جانب سے بال ہٹاتے ہوئے سرد لہجے میں کہتے—کان کی لو کے قریب جھک کر گہری سانس بھرتے احوریہ کے وجود سے اٹھتی محسور کن خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارا تو حوریہ کو اپنا پورا وجود کپکپاتا محسوس ہوا
ابھی حوریہ کوئی جواب دیتی اس سے پہلے ہی عائث خان نے حوریہ کو اپنی گرفت میں لیتے—جھٹکے سے رخ بدلتے ڈریسنگ ٹیبل پر بٹھا کر—حوریہ کے دونوں بازو اپنی گردن کے گرد لپیٹتے—چہرہ حوریہ کی گردن میں چھپا کر آنکھیں موند لیں
جبکہ اس اچانک افتاد پر حوریہ نے سختی سے اپنی آنکھیں میچتے—عائث خان کی شرٹ کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیتے—گہری سانس بھری
وہ جانتی تھی کہ یہ سب غصہ سرد لہجہ کس وجہ سے ہے— عائث خان کو وہ کب سے قبول کر چکی تھی – لیکن وہ اس رشتے کو لاکھ چاہنے کے باوجود بھی آگے نہیں بڑھا پا رہی تھیں— عائث خان کی آنکھوں میں جنون اور شدت دیکھ حوریہ کو ڈر لگنے لگا تھا—
اگر کبھی وہ اس کے ماضی کے بارے میں جان گیا تو کیا وہ اسے چھوڑ دے گا—کیا وہ اس کے کردار پر سوال اٹھائے گا—وہ سب کچھ برداشت کر سکتی تھی—لیکن اب عائث خان کا دور جانا برداشت نہیں کر سکتی تھی—
اور اب تو عائث خان کے ہر انداز میں استحقاق تھا—عائث خان کی نظریں جو حوریہ کو پیغام دیتی تھی اس سے بچنے کی خاطر ہی وہ شام ہوتے کمرے میں گھس جاتی تھی—عائث لاکھ جلدی آنے کی کوشش کرتا—لیکن وہ ہمیشہ اس کے آنے سے پہلے سوتی بنتی تھی
وہ جانتی تھی کہ عائث خان کبھی بھی اس کی اجازت کے بغیر اس رشتے کو نہیں بڑھائے گا—
“عائث”—عائث خان کی دہکتی سانسوں تپش اپنی شہہ رگ پر محسوس کرتے حوریہ نے سرگوشی میں پکارا تو عائث خان نے بنا جواب دیے شدت سے حوریہ کو خود میں بھنچتے اپنے ہونٹ حوریہ کی شہہ رگ پر رکھے
“کسی سے بات کر رہی تھی تم”— چہرہ حوریہ کی گردن سے نکالتے—سوالیہ لہجے میں استفسار کیا تو حوریہ نے چونک کر عائث خان کو دیکھا جس کے چہرے کے تاثرات اس وقت بالکل نارمل تھے
حوریہ کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھامے—ہاتھوں کی انگلیوں سے کھلے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے نرم نظروں سے حوریہ کو دیکھا تو حوریہ نے سر اثبات میں ہلایا
“وہ—در—دراصل صبغہ کی کال تھی—اس نے کل شاپنگ پر جانا—تو مجھے بھی ساتھ لے جانا چاہتی ہے—تو بس اسی بارے میں بات ہورہی تھی”— اپنے چہرے پر رکھے عائث خان کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے نرم لہجے میں مسکرا کر کہا تو عائث خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
لائٹ پنک اور سکائے بلیو کے کابنشین کے کرتے کے ساتھ وائٹ کیپری پہنے—براؤن بالوں کو کھلا چھوڑے—کرسٹل گرے آنکھوں میں کاجل لگائے—گلابی باریک ہونٹوں پر لپ گلوز لگائے—چہرے پر معصومیت سجائے وہ عائث خان کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی
حوریہ کو گہری استحاق بھری نظروں سے دیکھتے—عائث میں نے گہری سانس بھرتے جھک کر نرمی سے حوریہ کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑا تو عائث خان کے اس عمل پر حوریہ کے گالوں میں پل میں گلال اترا
ابھی وہ ان لمحات کو محسوس کرتی کہ کمرے کی معنی خیز خاموشی میں موبائل کی چنگاڑتی آواز گونجی تو عائث خان نے پیچھے ہٹتے—پینٹ کی جیب سے موبائل نکالتے کھا جانے والی نظروں سے سکرین کو گھورا
“ایک بار کی بکواس سمجھ نہیں آتی تمہیں— عائث خان کے سامنے جھوٹ بولنے والوں کا انجام تباہ ہونا ہی ہے— شدید نفرت ہے مجھے جھوٹ بولنے والوں سے شدید— اس چھوٹے سے جھوٹ کی سزا بربادی تھی ورنہ اس گھٹیا شخص کے مرنے سے بھی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا—اور اب پرویز تمہاری کال اگر مجھے اس کی حمایت کے لیے آئی تو تم اپنا انجام سوچ لینا”— حوریہ کے چہرے کے گرد جھولتی آوارہ لٹوں کو انگلی کے گرد لپیٹتے—اگ اگلتے لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو حوریہ کو عائث خان کا ہر لفظ اس کے سیکرٹری کے لیے نہیں — بلکہ اپنے لیے ایک وارننگ ہی لگا—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے—عائث خان کی چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں دیکھتے نرمی سے عائث خان کی گردن کے گرد حائل اپنے ہاتھ پیچھے کیے—تو عائث خان نے آبرو آچکا کر سوالیہ نظروں سے حوریہ کو دیکھا تو حوریہ نے کبرڈ کی طرف اشارہ کیا
جسے سمجھتے عائث خان نے اپنے قدم پیچھے لیے
___________
تو کل کب جانا ہے شاپنگ پہ”— کبرڈ سے کپڑے نکالتی حوریہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے نرم لہجے میں کہا تو حوریہ نے خالی خالی نظروں سے عائث خان کو دیکھا
“پتہ نہیں – ام—میرا مطلب اس نے ٹائم نہیں بتایا—اگر آپ کہے گے تو میں نہیں جاؤں گی”—نظریں عائث خان کے ہاتھوں میں قید اپنے ہاتھوں کو دیکھتے مدھم لہجے میں کہا تو عائث خان نے سر اثبات میں ہلایا
“حور—کیا تم مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہو”— خاموشی کا دورانیہ بڑھنے لگا تو عائث خان نے گہری سانس لیتے—خاموشی سے نظریں اپنے ہاتھوں پر ٹکائے کھڑی حوریہ سے استفسار کیا
“کچھ نہیں — بہت کچھ—مجھے آپ سے بہت کچھ کہنا ہے خان—بہت کچھ”— کرسٹل گرے آنکھوں کو عائث خان کی چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں گاڑھے—دل میں عائث خان سے مخاطب ہوتے جواب دیا تو آنکھیں میں بے اختیار نم ہوئیں
جنہیں خاموشی سے دیکھتے عائث خان نے حوریہ کے ہاتھوں پر گرفت سخت کرتے جھٹکے سے خود کے قریب کیا
“تمہاری خاموشی بھی مجھ سے گفتگو کرتی ہے حوریہ— تمہاری دھڑکنوں کا شور میرے ہر سوال کا جواب دے دیتا ہے – مگر اب میں ہر اعتراف تمہارے ہونٹوں سے سننا چاہتا ہوں—تمہاری آواز میرے کانوں میں رس گھولتی ہے—جب تم ان لبوں سے بولتی ہو تو عائث خان ان ہونٹوں کی جنبش دیکھ بن پئیے بہکتا ہے— تمہارے ہونٹوں سے ادا ہوا ہر لفظ میرے بے جان وجود میں روح پھونکتا ہے”—وہ عائث خان تھا—وہ صرف آواز کا ہی ساحر نہیں تھا—وہ لفظوں کا بھی کھلاڑی تھا— اس کا ہر لفظ حوریہ کو کمزور کر رہا تھا—وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ محبت ہے یا عائث خان سچ جاننے کے لیے یہ سب کر رہا ہے—لیکن جو بھی تھا—وہ اپنے لفظوں کے جال میں حوریہ کو الجھا چکا تھا—
“ہر اعتراف محبت کا تو نہیں ہوتا خان—کچھ اعتراف گناہوں کے بھی ہوتے ہیں—اور ضروری تو نہیں کہ ہونٹوں سے ادا ہوا ہر لفظ روح پھونکے—کچھ الفاظ اس قدر زہریلے ہوتے ہیں کہ وہ پل میں وجود کو بے جان کر دیتے ہیں—روح کو نوچ نکالتے ہیں وجود سے”— نم لہجے میں کہتے بری طرح اپنے لب کچلتے قدم پیچھے لینے چاہے تو ہاتھوں پر عائث خان کی گرفت میں مزید سختی آئی
جسے محسوس کرتے حوریہ کی آنکھوں کے کناروں سے بے ساختہ کئی آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے رخسار پر بہہ نکلیں
“گناہوں کی معافی ممکن ہے”—دو قدم کے فاصلے کو جھٹکے سے سمیٹتے—ایک بازو حوریہ کی کمر کے گرد لپیٹتے—سخت لہجے میں کہا تو حوریہ کا سر میکانکی انداز میں نفی میں ہلا
“ہر گناہ کی معافی ممکن نہیں خان— کوئی بھی انسان اتنا ظرف نہیں رکھتا کہ ہر گناہ معاف کردے”— اپنا دایاں ہاتھ عائث خان کے دل کہ مقام پر رکھتے مدھم لہجے میں کہا تو عائث خان نے سر جھکا کر اپنے سینے میں چھپی کھڑی حوریہ شاہ کو دیکھا
“کسی بھی انسان اور محبت کرنے والے انسان کے ظرف میں بہت فرق ہوتا ہے روحِ من— اور جہاں تمہیں لگے کہ اس گناہ کی معافی ممکن نہیں—وہاں کفارہ ادا کر دو—کبھی بہت محبت دے کر اور کبھی وہ غلطی دوبارا نا کرنے کا عہد کر کہ”— عائث خان کے کہنے پر حوریہ نے چونک کر عائث خان کے چہرے کو دیکھا—عائث خان کے چہرے پر نرمی کے علاوہ کوئی اور تاثر نا دیکھ حوریہ کے دل میں بے چینی پھیلنے لگی
اس شخص کے کتنے رنگ تھے—اور ہر رنگ پہلے سے مختلف—کبھی وہ ایک گہرا راز لگتا تو کبھی کھلی کتاب کی مانند–کبھی ہمدرد تو کبھی ستمگر—کبھی جان نچھاور کرنے والا تو کبھی چھوٹی سی بات پر جان لینے والا—کبھی اتنا شدت پسند کہ اپنے علاوہ کسی کی طرف اٹھی نگاہ برداشت نا کرے اور کبھی اتنا اعلیٰ ظرف ہو جانا کہ ہر گناہ کو معاف کر دینا— ابھی کچھ دیر پہلے وہ کسی کو چھوٹے سے جھوٹ بولنے پر تباہ کر چکا تھا اور یہاں گناہ معاف کرنے کی بات کر رہا تھا”— وہ جتنا اسے سمجھ رہی تھی وہ اتنا سمجھ سے باہر ہو رہا تھا—
حوریہ کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا—ایک طرف کنواں تھا تو دوسری طرف کھائی—ایک طرف حال تھا تو پیچھے ماضی تھا—
نا اگے بڑھ پا رہی تھی نا ماضی پیچھے چھوٹ رہا تھا—غلطی تھی گناہ تو نہیں تھا—لیکن سامنے کھڑے شخص سے جو رشتہ تھا اس رشتے کی نوعیت سے وہ غلطی بھی جیتے جی مر جانے کہ مقام پر لا کھڑا کر رہی تھی
گہری سانس لیتے—حوریہ نے بنا کوئی جواب دیے سر عائث خان کے سینے پر ٹکا کر آنکھیں موند لیں
وہ اس وقت کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی—نا حالات کو نا خود کو—لیکن اس سب کے باوجود جو وہ جانتی تھی وہ یہ تھا کہ حوریہ شاہ کا سکون یہی تھا—اس شخص کی دھڑکنوں کے قریب—ان دھڑکنوں کے شور میں—
حوریہ کہ اس اچانک ردعمل پر عائث خان کے کچھ کہنے کے لیے واہ ہوئے لب خاموش ہو گئے—اپنے انگھوٹے کی پشت کو بائیں آنکھ پر ماتھے کے قریب رب کرتے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے—ایک گہری استحاق بھری نگاہ حوریہ شاہ کے وجود پر ڈالتے—اپنے دونوں ہاتھ حوریہ کی کمر کے گرد لپیٹتے—نرمی سے اپنے سینے میں بھنچا—پشت کبرڈ کے بند دروازے سے ٹکاتے آنکھیں موند لیں
___________
خود کو سخت گرفت میں قید محسوس کرتے حوریہ نے نیند میں خود کو آزاد کروانا چاہا—جس کے نتیجے میں گرفت میں سختی در آئی—جسے محسوس کرتے حوریہ نے مندی مندی آنکھیں کھول کر سر اٹھا کر اردگرد کا جائزہ لینا چاہا— مگر کمرے میں چھائے گھپ اندھیرے کو دیکھ گہری سانس لیتے سر تکیے پر ٹکایا تو دوپہر کے مناظر آنکھوں کے پردے کے سامنے لہرا گئے –
اپنی کمر کے گرد لپٹے عائث خان کے مضبوط بازوؤں کے حصار کو محسوس کرتے—سانسیں سینے میں اٹکتی محسوس ہوئی — سانس روکے گھپ اندھیرے میں اپنے دائیں جانب عائث خان کی جانب چہرے کا رخ کیا تو—عائث خان کی مدھم دہکتی سانسوں کی تپش کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے— رخسار شرم سے تپ اٹھے—
خشک پڑتے ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے—اپنے پہلو پر رکھے عائث خان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے کروٹ عائث خان کی جانب لی
ہونٹوں پر شرمیگی مسکراہٹ نے احاطہ کیا تو ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے—نظریں اٹھا کر عائث خان کے چہرے کی جانب دیکھنے کی کوشش کی—
ہاتھ سرکتا عائث خان کے بازو پر آیا تو حوریہ کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہوا—جبکہ پہلو میں رکھے عائث خان کے ہاتھ کی گرفت میں سختی محسوس کر کہ حوریہ کو عائث خان کے جاگنے کا احساس ہوا جسے نظر انداز کرتی اپنا بایاں بازو عائث خان کے کندھے کے گرد لپیٹ چکی تھی
عائث—چہرہ عائث خان کی گردن میں چھپاتے محبت سے چور لہجے میں سرگوشی کی تو عائث خان کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
دونوں بازو حوریہ کی کمر کے گرد لپیٹتے—جھٹکے سے حوریہ کو اپنے قریب تر کرتے اپنی ٹانگوں میں حوریہ کی ٹانگوں کو لاک کرتے گال حوریہ کے سر پر ٹکا دیا
حکم روح من— محبت سے لبریز لہجے میں کہتے ہونٹ حوریہ کے ماتھے پر ثبت کیے تو حوریہ نے آسودگی سے آنکھیں موندتے عائث خان کے الفاظ کو اپنی روح تک اترتے محسوس کیا
آپ سوئے نہیں تھے کیا—” چہرہ ہنوز عائث خان کی گردن میں چھپائے—بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو عائث خان کے بالوں میں الجھائے استفسار کیا تو کمرے میں چھائی خاموشی میں عائث خان کا مدھم دلکش قہقہہ گونجا
“اففف—میری معصوم روح من— تمہارا شوہر معصوم ہے مگر اتنا بھی معصوم نہیں—کہ پہلو میں حق حلال کی جان لیوا حد تک خوبصورت بیوی ہو—جس کے وجود سے اٹھتی محسور کن خوشبو حواسوں پر سوار ہو رہی ہو—جس کا نرم لمس میرے جذبات کو بڑھاکا رہا ہو تو اس سب میں نیند کس کافر کو آسکتی ہے—زندگی سے قیمتی لمحات کو نیند کی نظر نہیں کرسکتا تھا یہ خان—میں تو تمہیں—تمہارے لمس کو محسوس کر رہا تھا—تمہاری سانسوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں قید کر رہا تھا—مجھے لگتا ہے کہ تم تا عمر یونہی میری بانہوں میں قید رہو اور میں تمہیں محسوس کرتا رہوں تو تب بھی یہ عمر بہت کم پڑتی ہے—یہ عمر تو تمہارے ہونے کے احساس کو محسوس کرتے صرف ہو جائے—تمہاری روح میں اترنے—تمہیں اپنے رنگ میں رنگنے—تمہاری سانسوں—تمہارے لمس کو اپنی روح میں قید کرنے کے لیے مجھے بہت سی زندگیاں چاہیے— میں تمہیں صدیوں جینا چاہتا ہوں روحِ من”—ایک جھٹکے میں حوریہ کو تکیے پر لٹاتے—اور خود اس پر جھکتے دونوں ہاتھوں میں حوریہ کی کلائیوں کو قید کرتے سر کہ اوپر لاک کرتے گھمبیر لہجے میں کہا تو اس اچانک افتاد اور شدت بھرے اظہار پر حوریہ حق دق سی خود پر جھکے عائث خان کو دیکھنے لگی
اندھیرے میں کچھ نظر آنا تو ممکن نہیں تھا—مگر لمحہ بہ لمحہ عائث خان کی سانسوں کی تپش کو قریب تر ہوتے محسوس کر کہ حوریہ نے سختی سے آنکھیں موند لیں
“عا–ئث—پپ—پلیز مم—میں آپ مم—یں بردا—شت نن—ہیں”—عائث خان کی ہلکی بئیرڈ کی چھبن اپنے رخسار سے گردن تک محسوس کرتے حوریہ نے تڑپ کر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہنے کی کوشش کی مگر عائث خان کی بڑھتی بے باکیوں پر شرم سے لال ہوتی ہونٹوں کو بھنچے آنکھیں سختی سے بند کر لیں
“ہشش—آواز نا آئے اب تمہاری—کچھ نہیں کر رہا—بس تمہیں محسوس کرنا ہے اور اس کے لیے بھی اپنا جائز حق استعمال کر رہا ہوں—تمہارا اعتراض کرنا نہیں بنتا”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے حوریہ کے ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتے—اپنے ہونٹ شدت سے حوریہ کے گال پر ثبت کیے—
اپنے چہرے پر جابجا عائث خان کے شدت بھرے لمس کو محسوس کرتے حوریہ نے تڑپ کر اپنے ہاتھ عائث خان کے ہاتھوں سے آزاد کرواتے عائث خان کے کندھوں پر رکھے—لیکن عائث خان کو روکنے کی کوشش نہیں کی—
کمرے کی معنی خیز خاموشی میں حوریہ کی دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں کا شور برپا تھا—جسے محسوس کرتے عائث خان نے حوریہ کی سانسوں کو پوری شدت سے اپنی سانسوں سے قید کرتے—حوریہ کو اپنی سخت گرفت میں لیتے—اپنا سارا بوجھ حوریہ کے نازک وجود پر ڈال دیا
نجانے کتنا وقت اس معنی خیز خاموشی کی نظر ان خوبصورت لمحات میں گزرتا جا رہا تھا—کبھی عائث خان کے ہونٹوں کے شدت بھرے لمس کو اپنے ہونٹوں پر اور کبھی گردن سے سرکتے کندھوں تک محسوس کرتے— حوریہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوتی اور کبھی عائث خان کی شدتوں پر دھونکنی کی مانند چلتی
ابھی وہ کہہ رہا تھا کہ وہ صرف محسوس کرنا چاہتا ہے—اور یہ سوچ کر حوریہ کا دل سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا کہ جب وہ پوری طرح اس کی روح میں اترے گا تو تب وہ کیسے عائث خان کی شدتوں اور جنون کو سہے گی
“عائث—بس—نا—میں مر جاؤں گی”—عائث خان کے ہونٹوں کے لمس کو دل کے مقام پر محسوس کرتے—حوریہ نے تڑپ کر کہتے عائث خان کے ہاتھوں کو تھامتے کروٹ بدلتے چہرہ تکیے میں چھپایا تو
عائث خان نے گہرا مسکراتے حوریہ کو اپنے نرم حصار میں لیتے—سر حوریہ کے کندھے پر ٹکا دیا
“کیا ہوا بیگم—اتنا ہی حوصلہ تھا—پہلے تو بہت دلیری سے مقابلہ کیا جاتا تھا—اب اتنے میں ہی ہتھیار ڈال دیے”— حوریہ کے بازو پر دائیں ہاتھ کی پشت پھیرتے مسکراتے لہجے میں کہا تو حوریہ نے اندھیرے میں ہی گردن ترچھی کر کہ عائث خان کو گھوری سے نوازا جسے محسوس کرتے عائث خان نے بامشکل اپنے قہقہے کا گلہ گھونٹا اور ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پر لیمپ کو اون کیا
“پہلے کب میں آپ سے ایسی جنگیں لڑتی رہوں جس کے طعنے دے رہیں ہیں—اور تب مجھے آئیڈیا بھی نہیں تھا کہ یہ کم گو—شکل سے معصوم نظر آنے والا خان اندر سے عمران ہاشمی سے چار ہاتھ آگے ہیں”—عائث خان کو خود سے پیچھے کرتے—اٹھ کر بیٹھتے بالوں کو جوڑے میں لپیٹتے—منہ بسور کر کہا تو عائث خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے سمجھنے کہ انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“پہلے نہیں—لیکن اب تو ایسی جنگیں روز لڑنی پڑیں گی—اور مقابلہ بھی برابری کا کرنا پڑیں گا روحِ من— تب آئیڈیا نہیں تھا لیکن مجھے امید ہے اب بہت اچھے سے آئیڈیا ہو گیا ہوگا— اور آئندہ مجھے کسی سےکمپئیر مت کرنا— کیونکہ تمہیں بعد میں اپنے تجزیے پر افسوس ہوگا بیگم—بیڈ سے اترتی حوریہ کی کمر میں بازو ڈالتے—اپنے سینے پر گراتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو حوریہ نے تاسف سے سر نفی میں ہلایا
عائث خان کے سینے پر کمر کے بل لیٹے— نظریں کھڑکی سے نظر آتے چاند پر ٹکائے حوریہ نے گردن ترچھی کر کہ عائث خان کو دیکھا جو آنکھیں موندے لیٹا تھا
“اگر آپ سے پوچھے کہ حوریہ کون ہے—یا آپ کی زندگی میں میری کیا اہمیت ہے تو آپ کا جواب کیا ہوگا عائث”— حوریہ کے سوال پر عائث خان نے اپنی خمار آلود چاکلیٹ براؤن آنکھوں کو واہ کیا تو نظروں کہ اس تصادم پر حوریہ کے دل نے بے ساختہ بیٹ مس کی
“میرا ہر عمل ہر انداز لوگوں کو یہ باور کروانے کے لیے کافی ہے کہ حوریہ کون ہے— عائث خان کے لیے اس دنیا میں حوریہ عائث خان کا کوئی نعم البدل نہیں—نا کوئی حوریہ شاہ جیسا اس دنیا میں عائث خان کے لیے ہو سکتا ہے اور نا ہی کوئی عائث خان کے دل و دنیا میں وہ مقام حاصل کر سکتا ہے جو حوریہ شاہ کا ہے”— عائث خان کا محبت بھرا ہر لفظ حوریہ کو اپنی روح میں اترتا محسوس ہو رہا تھا
دل چاہ رہا تھا یہ لمحے یہ تھم جائیں اور وہ انہیں لمحوں میں ساری عمر گزار دے—عائث خان کو اس عشق کے لیے صدیاں درکار تھی مگر حوریہ عائث خان ان محبت بھرے لمحوں میں صدیاں جی سکتی تھی—
“ام—چلیں بہت ہو گیا عائث— نیچے آنٹی ویٹ کر رہی ہونگی—ہم جب سے یہاں آئیں ہیں آپ نے انہیں بالکل ہی ٹائم نہیں دیا—اب چلیں نیچے ویسے بھی ڈنر کا ٹائم ہو گیا ہے”— عائث خان کا حصار توڑ کر کھڑے ہوتے—دونوں ہاتھ کمر پر ٹکاتے تحکمانہ لہجے میں کہا تو عائث خان نے دونوں ہاتھ سر کے نیچے باندھتے آبرو آچکا کر تائیدی انداز میں حوریہ کو دیکھا تو عائث خان کے دیکھنے کے انداز پر حوریہ نے سٹپٹا کر نظروں کا رخ بدلتے کمر سے ہاتھ ہٹائے
چور نظروں سے عائث خان کو دیکھا جو اب سر کے نیچے سے ہاتھ نکالے اٹھنے والا تھا جسے دیکھ حوریہ نے دوڑنے کے انداز میں واشروم کی جانب دوڑ لگائی
کیونکہ اب اگر عائث خان اپنے کچھ دیر پہلے والے روپ میں واپس اجاتا تو حوریہ کو یقین تھا کہ آج وہ حوریہ کہ کسی بھی احتجاج کو خاطر میں نہیں لائے گا
حوریہ کے بھاگ کر واشروم میں بند ہونے پر عائث خان نے حیرت سے واشروم کے بند دروازے کو دیکھا
اور پھر بات سمجھ آنے پر کمرے کی خاموش فضا میں عائث خان کا قہقہہ گونجا جسے واشروم کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی حوریہ نے سنتے اپنا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں چھپاتے سختی سے آنکھیں میچ لیں
__________
سردار اس غلام فرید نے پہلے میرے ملازم پر ہاتھ اٹھایا تھا—میں نے وجہ پوچھی تو جواب دینے کی بجائے مجھ سے بحث کرنے لگا—جس پر مجھے بھی غصہ آگیا تو بس پھر بات بحث سے بڑھتی ہاتھا پائی تک پہنچ گئی”— ضرغام خان کے سامنے سر جھکائے کھڑے ملازم نے لڑائی کی وجہ بیان کی تو ضرغام خان نے تاسف سے سر ہلایا جبکہ جیپ سے ٹیک لگائے کھڑے ارمغان خان نے جمائی لیتے افسوس بھری نظروں سے ان لوگوں کی جانب دیکھا
“میں تو لڑائی دیکھنے کے لیے آیا تھا—مگر یہ کیسی لڑائی تھی جس میں ایک کھروچ تک نہیں آئی تم لوگوں کو—کیا دور دور سے لڑ رہے تھے—اوئے غلام فرید میں نے تیرے منہ پر مکہ مار دیا میں نے تیرا سر پھاڑ دیا— چچچچ—اتنی رات کو اگر لڑائی کا دوڑہ پر ہی گیا تھا تو اپنے خان ہونا کا ہی لحاظ کرلیتے— جان سے چاہے نا مارتے سر پھاڑ دیتے—ہاتھ پاؤں توڑ دیتے—تا کہ پھر میں سردار کا بھائی ہونے کے ناطے آنکھ کے بدلے آنکھ اور سر کہ بدلے سر کا بدلہ لیتا”—جیپ کی بونٹ پر بیٹھتے تاسف بھرے لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے گھور کر ارمغان خان کو دیکھا جس پر ارمغان خان نے لاپرواہی سے کندھے اچکاتے اردگرد نگاہ دوڑائی—رات کے پچھلے پہر وہ
کھیتوں کے قریب کچی سڑک پر کھڑے تھے — جہاں جیپ کی ہیڈ لائیٹس کے علاؤہ دور دور تک اندھیرا چھایا ہوا تھا—موسم خراب ہونے کہ باعث ہر طرف گھنے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے جو رات کی تاریکی میں اور اضافہ کر رہے تھے— ٹھنڈی سنسناتی ہوا— اور دور جنگل سے آتی جانوروں کی آوازیں ماحول کو خوبصورت کے ساتھ خوفناک بھی بنا رہی تھیں
اردگرد نگاہ دوڑاتے ارمغان خان کو سڑک کے دوسرے کناروں درختوں کی اوٹ میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا
ارمغان خان نے ایک نظر ملازموں کے ساتھ بات کرتے ضرغام خان کو دیکھا اور اپنی جیکٹ سے نامحسوس انداز میں گن نکالتے جیپ کے بونٹ سے چھلانگ لگائی
“کدھر جا رہے تم چھوٹے خان—واپس جیپ میں جا کر بیٹھو”—ابھی ارمغان خان آگے بڑھتا کہ پیچھے سے آتی ضرغام خان کی کرخت آواز پر بدمزہ ہوتا منہ بسور کر پلٹا تو ضرغام خان کو اپنی جانب متوجہ دیکھ سر نفی میں ہلایا
“مجھے شک ہے لالا وہاں کوئی ہے”—عنابی ہونٹوں کو ہلکے سے جنبش دیتے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو ضرغام خان کی نیلی آنکھوں میں پل میں سرخی اتری—
“جب تمہیں شک ہے تو تم مجھے بتانے کی بجائے خود کیوں جا رہے ہو”— سخت لہجے میں کہتے آگے بڑھ کر ارمغان خان کو بازو سے تھام کر زبردستی جیپ میں بٹھایا اور خود قدم سڑک کے دوسرے کنارے کی جانب بڑھائے تو ارمغان خان نے تاسف سے سر ہلاتے ضرغام خان کو دیکھا
اور ایک قہر بھری نگاہ چہ مگوئیاں کرتے ملازموں پر ڈالتے انہیں وہاں سے نو دو گیارہ ہونے کا اشارہ کیا اور خود دبے قدموں ضرغام خان کے پیچھے بڑھا
ضرغام خان تیز تیز قدم بڑھتا جیسے ہی درختوں کے پار گیا تو وہاں کسی کو بھی موجود نا پا کر پلٹنے لگا
“مجھے سچ میں یہاں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا– ہو سکتا ہے شاید میرا وہم ہو”— ارمغان خان نے کندھے آچکا کر کہا تو ضرغام خان نے موبائل کی ٹارچ سے اردگرد کا جائزہ لیتے سر نفی میں ہلایا
“وہم نہیں تھا—سچ تھا چھوٹے خان—یہاں کوئی تھا—اور وہ کوئی ایک نہیں تین چار لوگ تھے”— ضرغام خان نے درخت پر لگے تازے خون کے نشان کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے آگے بڑھ کر ہلکی گیلی زمین پر جوتوں کے نشان دیکھتے حیرت سے ضرغام خان کو دیکھا
“مطلب ہمارے آنے سے پہلے یہاں شکار ہو چکا ہے—وہ بھی انسان کا”— درخت پر لگے خون کو دیکھتے ارمغان خان نے حیرت بھرے لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے سختی سے ہونٹ بھنچتے اردگرد نگاہ دوڑائی
اور ٹارچ لائٹ کی مدد سے قدموں کے نشانوں کی جانب قدم بڑھائے
