Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 39)Part 1,2
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 39)Part 1,2
Maan Yaram by Maha Gull Rana
مجھے نہیں پتہ کہ آپ لوگ اب کس چیز کے انتظار میں ہیں – لیکن میں مزید انتظار نہیں کر سکتا—میں جو کر رہا ہوں مجھے کرنے دیں بہرام لالا—میں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہوں—یا پھر اس بات کا انتظار کروں کہ میرا دشمن مجھ پر گولی سے وار کرتا ہے یا زہر سے”— عائث خان کے جھنجھلا کر غصے بھرے لہجے میں کہنے پر بہرام شاہ نے گہری سانس بھری تھی اور پھر کرسی گھیسٹ کر عائث خان کے سامنے رکھتا اس کے روبرو بیٹھا تھا—
بات صرف بادام گل یا مقدس بیگم کی نہیں—ان دونوں کے دل و دماغ میں صرف لالچ ہے—اگر وہ دونوں اس قابل ہوتے کے یہ سب پلین کر سکتے تو بادام گل اتنے سال پہلے سب کی نظروں میں بے گناہ ہونے کے باجود ملک سے نا بھاگ جاتا—
وہ ایک بزدل اور کم عقل انسان ہے—وہ نا اتنے سال پہلے یہ سب خود کر سکتا تھا اور نا آج”— بہرام شاہ نے سمجھانے والے انداز میں ٹھہر ٹھہر کر جواب دیا تو عائث خان نے دونوں ہاتھ بالوں میں الجھا کر سر جھٹکا تھا
میں مزید یہ سب برداشت نہیں کرسکتا لالا—ماضی میں جو بھی ہوا اس سے سنبھلتے سنبھلتے عمر گزر گئی—لیکن اب میں اپنا آج اور مستقبل دشمنوں کے ہاتھوں برباد نہیں ہونے دے سکتا”—نظریں گلاس ونڈوں سے چھن کر آتی سورج کی روشنی پر ٹکائیں کھوئے کھوئے لہجے میں کہا تو بہرام شاہ نے بائیں ہاتھ سے موبائل ٹیبل پر رکھتے بغور عائث خان کے چہرے کو دیکھا تھا—
وہ جو کوئی بھی ہے بہت شاطر ہے—اور اس کے اب تک بچنے کی یہی وجہ ہے کہ ہم جانتے نہیں ہے کہ وہ کون ہے—مہندی والے دن حوریہ کے کمرے کے باہر جو بھی ہوا – اس سے وہ محتاط ہوگئے ہیں— ہمیں پورا یقین تھا کہ وہ شادی پر کچھ کریں گے—لیکن اس دن کے بعد سے ابھی تک کوئی معمولی سی بھی چیز ہماری نظروں سے نہیں گزری—جن چیزوں پر اور لوگوں پر ہمیں شک تھا وہ سب منظر عام سے غائب ہو چکے ہیں—ٹیبل پر رکھے موبائل کو گھماتے ٹھہرے لہجے میں کہا تو عائث خان نے گردن ترچھی کر کہ بہرام شاہ کو دیکھا تھا—
“آپ کا یقین ٹھیک تھا—انہوں میں نے شادی والے دن وار کیا تھا—لیکن ان کا طریقہ الگ تھا—آپ لوگوں سوچ رہے تھے کہ وہ جان لینے کی کوشش کریں گے—ہتھیار چھپا کر لائیں گے یا زہر ملائیں گے—اور آپ کا یقین سچ ثابت ہوا تھا لالا—انہوں نے زہر ملایا تھا—عائث میں کی بات پر بہرام شاہ نے چونک کر اسے دیکھا تھا—سیاہ گہری آنکھوں میں حیرت ابھری تھی—
انہوں نے زہر کھانے میں نہیں ماضی کی طرح اس بار بھی ہمارے رشتوں میں گھولنے کی کوشش کی تھی—بالاج شاہ کے چہرے پر تھپڑ اور اپنی بیوی کو اکیلے چھوڑ کر عائث خان نے ان پر ثابت کر دیا تھا کہ ان کا زہر کام کر گیا ہے”—- چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ سجائے چمکتی آنکھوں کو بہرام شاہ کے چہرے پر ٹکائے آگے کو جھک کر سرگوشی نما لہجے میں کہا تو بہرام شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تھا—اسی لیے اب پلین بی پر کام کرنا کرنا ہے—یہ کہتے بہرام شاہ کے ہونٹ لمحے کے لیے مسکراہٹ میں ڈھلے تھے—
میں تمہاری پرسنل لائف میں کسی بھی طرح انٹرفئیر نہیں کرنا چاہتا تھا—مگر بات صرف تمہاری نہیں—میری بہن کی بھی ہے—اور تم سب کا بڑا بھائی ہونے کے ناطے اتنا حق تو بہرام شاہ کا بنتا ہے نا کہ اگر وہ سوال نا کر سکے مگر تم لوگوں کو سمجھا تو سکے”—اپنی بات پر عائث کی خاموشی پر بہرام شاہ نے سر نفی میں ہلایا تھا—
اور پھر اٹھ کر عائث خان کی کرسی کے قریب کھڑا ہوا تھا—
“میں کسی کی حمایت نہیں کروں گا عائث—تم تیس سال کے مرد ہو—اتنی عقل و شعور تو رکھتے ہو گے کہ چیزوں کو خود دیکھ سمجھ سکو— بالاج پر نہیں تو اپنی بیوی ہر تو یقین ہوگا نا—اگر بیوی پر بھی نہیں تو اپنی محبت پر تو ہوگا نا—اگر تم پھر بھی یقین نہیں کر پا رہے تو بہرام شاہ تمہیں قسم کھا کر بھی اپنی بہن کے کردار اور بے قصور ہونے کا یقین دلانے کو تیار ہے”—بہرام شاہ کی آخری بات پر عائث خان نے زخمی نظروں سے اسے دیکھا تھا
“میں اتنا گرا ہوا نہیں ہوں لالا—کہ اپنی بیوی کے کردار کے لیے اس کے بھائی سے قسمیں اٹھواتا پھروں—مجھے حوریہ عائث خان پر اپنی جان سے بھی زیادہ یقین ہے—لیکن”—زخمی لہجے میں کہتے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے—پھر گہری سانس بھرتے اپنی جگہ سے اٹھتے قدم گلاس ونڈو کی جانب بڑھائے تھے جو کمرے کی ایک دیوار کی جگہ لیے ہوئے تھی
“میری بیوی نے مجھ پر کبھی یقین نہیں کیا—چاہے یہ یقین نا کر پانا اس کے ڈر کی وجہ سے تھا—میں نے ہمیشہ چاہا تھا کہ وہ مجھے سچ بتا دے— میں صرف اس سے سننا چاہتا تھا—عائث خان کی بیوی میں اتنی تو ہمت ہونی چاہیے نا کہ وہ اس کے سامنے بنا کسی ڈر و جھجھک کے سچ بول سکے—یہ جانتے ہوئے بھی کہ سچ چاہے عائث خان کے لیے کتنا ہی جان لیوا کیوں نا ہو عائث خان سچ بولنے والوں کو نا تو روکتا ہے نا انہیں کوئی سزا دیتا ہے— لیکن میرے ساتھ رہتے ہوئے بھی وہ مجھ پر یقین نہیں کر سکی—
اسی بات کو دشمنوں نے ہمارے خلاف استعمال کیا—جو بات میں چاہتا تھا کہ میری بیوی مجھے بتائے اور وہ بات اسی جگہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے— اس بات کو ان لوگوں نے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا—ان لوگوں نے میری بیوی کے کردار اور ماضی کو سوالیہ نشان بنانا چاہا صرف اس لیے کہ عائث خان سچ سے ناواقف تھا—اور سچ سامنے آنے پر وہ غیرت کے نام پر ان دونوں کو جان سے مار دے گا اور ہم سب پھر ایک دوسرے کے دشمن بنتے ایک ساتھ نہیں بلکہ آمنے سامنے آجائیں گے—ان لوگوں نے عائث خان کی زندگی میں زہر گھولنے کی کوشش کی تھی اب عائث خان ان کی رگ رگ میں زہر بھر دے گا”—لہجے میں چٹانوں سی سختی لیے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو بہرام شاہ نے گہری سانس لیتے سر کرسی کی پشت سے ٹکایا تھا—
______
گاڑی سگنل پر رکی تو بالاج شاہ نے کوفت سے آنکھیں گھمائی تھیں
کلائی پر بندھی گھڑی پر ٹائم دیکھا تو ماتھے کی شکنوں میں مزید اضافہ ہوا تھا—
وہ بہرام شاہ کا میسج ملنے اور جلدی آنے کا کہنے پر سارے کام چھوڑ کر شہر کے لیے نکلا تھا—گاؤں سے شہر اور پھر شہر میں آفس تک کا سفر دو گھنٹے تک کا تھا—وہ جلدی کرتے کرتے بھی ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ لیٹ ہو رہا تھا—بہرام شاہ نے نجانے کیا بات کرنی تھی کہ اس نے میسج میں بس جلدی پہنچنے کا کہا تھا— سر جھٹکتے بالاج شاہ نے گاڑیوں کی لمبی قطار کو دیکھا تھا—اور پھر کوفت سے آنکھیں بند کرتے سر سیٹ کی پشت سے ٹکایا تھا—
آنکھیں ابھی بند ہی کی تھی کہ چھن سے صبغہ شاہ کا چہرہ آنکھوں کے پردے کے آگے لہرایا تھآ
وہ سٹدی ٹیبل پر چاہے کا کپ رکھ رہی تھی جب بالاج شاہ شاور لے کر نکلا تھا—
لائٹ بلیو کلر کا کرتا شلوار پہنے—ٹاول بالوں میں پھیرتے وہ ٹیبل کے سامنے پشت کیے کھڑی صبغہ شاہ کے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا—
وہ جو چائے کے ساتھ سنیک وغیرہ رکھ کر پلٹنے لگی تھی ایک دم سے اپنے گرد بانہوں کے حصار کو محسوس کرتے ساکت ہوئی تھی—
” یہ اتنی بے خبری ہے یا اگنورینس مسسز—کہ اپنے شوہر کے اتنے قریب ہونے کا آپ کو احساس تک نہیں ہوا”—گردن پر رقص کرتے جان لیوا ہونٹوں کی سرگوشی پر صبغہ شاہ کا دل کانوں میں دھڑکا تھا—چہرہ پل میں سرخ انگارا ہوا تھا—نظریں بے ساختہ جھکتی اپنے پہلو پر سختی سے رکھے بالاج شاہ کے ہاتھ پر تھمی تھیں—
“بب-بالاج”—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے مدھم لہجے میں پکارا تو بالاج شاہ نے جھٹکے سے صبغہ شاہ کا رخ اپنی جانب کرتے—بایاں ہاتھ سختی سے صبغہ کی کمر پر جمایا تھا—دائیں ہاتھ کو چہرے اور گردن کے درمیان رکھتے—اپنا چہرہ صبغہ شاہ کے چہرے کے قریب تر کیا تھا کہ بالاج شاہ کی گرم سانسوں کی تپش سے صبغہ شاہ کو اپنا چہرہ جھلستا ہوا محسوس ہو رہا تھا—
“ڈو یو لو می مسسز—”—عنابی ہونٹ صبغہ شاہ کے ہونٹوں سے مس کرتے گال پر شدت سے ثبت کرتے سوال کیا تو صبغہ شاہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی
کپکپاتے ہاتھ بالاج شاہ کے سینے پر دھرے تھے—گہرے سانس بھرتے صبغہ شاہ نے آنکھیں سختی سے میچی تھی
جبکہ صبغہ شاہ کے جواب نا دینے پر بالاج شاہ نے سیاہ گہری آنکھوں سے صبغہ شاہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے—کمر پر دباؤ بڑھاتے دائیں ہاتھ سے جھٹکے سے شرٹ کی زپ کھولتے کندھے سے شرٹ کھسکائی تھی—اس سے پہلے صبغہ کچھ سمجھتی بالاج شاہ کندھے پر اپنے ہونٹوں کے دباؤ کے ساتھ دانتوں کا دباؤ بڑھاتے اپنی شدت کے نشان چھوڑنے لگے تھا جس پر صبغہ شاہ نے تڑپ کر اسے روکنا چاہا تھا—
بالاج شاہ کے لمس میں اس قدر شدت تھی کہ صبغہ کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی لڑکھڑا کر وہ پیچھے ہوئی تھی—ہاتھ بے دھیانی میں ٹیبل پر رکھی چائے کے کپ سے لگا تو وہ چھلک کر ٹیبل پر گری تھی اس سے پہلے صبغہ شاہ کا ہاتھ جلتا بالاج شاہ سرعت سے ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتا—اپنی گردن کے گرد حائل کر چکا تھا اور پھر چہرے صبغہ شاہ کی گردن سے اٹھاتے سرخ آنکھوں سے گھورتے صبغہ کے بال مٹھی میں دبوچتے—چہرہ اوپر اٹھایا تھا—
“میں نے کچھ پوچھا ہے مسسز”—سلگتے لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا تو صبغہ شاہ نے ہونٹ کاٹتے کندھے سے شرٹ ٹھیک کرنی چاہی تو بالاج شاہ نے سلگتی نظروں سے صبغہ شاہ کو دیکھتے—جھٹکےسے صبغہ کے دونوں ہاتھ پیچھے پشت کر باندھتے اسے خود میں بھنچا تھا
“آنسر میں ڈیم سے”— صبغہ شاہ کے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں کی سخت گرفت میں لیتے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو صبغہ شاہ کو اپنی ریڈھ کی ہڈی میں سننساہٹ ہوتی محسوس ہوئی
“آئی ڈو”—بالاج شاہ کی سانسوں میں سانس بھرتے مدھم لہجے میں جواب دیا مگر اپنے جواب پر بالاج شاہ کے لمس میں شدت محسوس کرتے صبغہ شاہ کی آنکھیں نم ہوئی تھیں—
“پورا جواب چاہئے مجھے مسسز—جان لیوا ہونٹوں کا لمس چہرے پر جا بجا محسوس ہونے لگا تو صبغہ شاہ نے سختی سے آنکھیں میچ لیں
“آئی لو یو بالاج—آئی رئیلی ڈو”—آنکھیں بند کیے سرگوشی نما لہجے میں اعتراف کیا تھا—
صبغہ شاہ کے اعتراف پر بالاج شاہ کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی تھی اور پھر وہ لمحے کی تاخیر کیے بغیر صبغہ شاہ کے گلابی ہونٹوں پر پوری شدت سے جھکا تھا جس پر صبغہ شاہ کا وجود بری طرح کپکپایا تھا—
صبغہ شاہ کے ہونٹوں پر اپنا جان لیوا لمس چھوڑتے—وہ پوری شدت سے صبغہ کی بکھری سانسوں میں اپنی سلگتی سانسوں کو انڈیلتے – اپنی سیاہ گہری آنکھوں سے صبغہ شاہ کے سرخ انگارا ہوتے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا—جب لگا کہ وہ سانس نہیں لے پائے گی جھٹکے سے دور ہوا تھا—
اس سے پہلے وہ لڑکھڑا کر گرتی بالاج شاہ نے دونوں بازوؤں میں سختی سے بھنچتے ہونٹ صبغہ شاہ کے کان کی لو پر رکھے تھے
” اور مجھے تمہارا اظہار محبت پسند ہے—اپنی شدتوں پر بکھرتی تمہاری سانسوں کا رقص پسند ہے”— بالاج شاہ کے لفظوں پر صبغہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی ابھی وہ کچھ کہتی کہ بالاج شاہ اس کی شرٹ ٹھیک کرتا جھٹکے سے اسے پیچھے کر چکا تھا
سپاٹ نظر صبغہ شاہ کے حیرت بھری آنکھوں پر ڈالتے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا تھا
جبکہ وہ اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی— وہ اب ایسے ہی کرتا تھا اس قدر زچ کرتا تھا یا کبھی اس قدر پیار سے پیش آتا اور اپنی باتوں سے صبغہ کو اظہار محبت کرنے پر مجبور کرتا تھا اور جب وہ کر لیتی تو بالاج شاہ کی آنکھوں میں عجیب سی چمک در آتی تھی اور لہجہ تمسخرانہ ہو جاتا تھا—
“اور تمہیں—تمہیں مجھ سے کبھی محبت نہیں ہوئی بالاج شاہ”— ہاتھ کی پشت سے ہونٹ صاف کرتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو بالاج شاہ نے لاپرواہی سے کندھے آچکائے تھے
“ایک کام کرو—تسبیح لو اور اس پر اس بات کا ورد شروع کر دو کہ مجھے تم سے کبھی محبت نہیں ہوئی”—بے نیاز لہجے میں کہتے بالوں کو جیل سے سیٹ کرنا شروع کیا تھا—
“اگر ورد ہی کرنا ہے تو یہ کیوں نا کروں کہ مجھے بالاج شاہ سے عشق ہے”— صبغہ شاہ کے الفاظ پر بالاج شاہ کے ہاتھ لمحے کے لیے تھمے تھے پر سر جھٹکتے اس نے پرفیوم اٹھایا تھا—
ہارن کی آوازوں پر وہ چونکہ تھا — ایک تیز نظر اردگرد ڈالتے گاڑی سٹارٹ کی تھی—
سوچوں کا رخ پھر صبغہ شاہ کی جانب تھا
وہ بیڈ پر نڈھال سی لیٹی ہوئی تھی—اور بالاج شاہ غصے سے کمرے میں چکر کاٹتا قہر آلود نظروں سے صبغہ شاہ کو دیکھتے اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا—
ایک دن پہلے حویلی واپس آتے وہ پلوشہ اور امتثال کے لیے کچھ سویٹس لے آیا تھا جن میں چاکلیٹس—میفنز—کیک اور پیسٹریز وغیرہ تھیں—جس پر ثمرین شاہ نے بالاج شاہ کو کمرے میں بلا کر کافی شرمندہ کیا تھا کہ جب وہ باقی سب کے لیے لا سکتا ہے تو اپنی بیوی کے لیے کیوں نہیں تو آج اسی لیے واپسی پر وہ باقی سب کے ساتھ صبغہ کے لیے بھی لے آیا تھا— بالاج شاہ نے سب سے پہلے نٹس والی براؤنیز صبغہ کی جانب بڑھائیں تھیں وہ نہیں جانتا تھا کہ صبغہ کو اس سے الرجی ہے اور وہ بھی جانتے بوجھتے اسی وقت بالاج شاہ پر آنکھیں جمائے صوفے پر بیٹھتے– کھانا شروع ہوگئی تھی—
جس پر بالاج شاہ نے کوفت سے اسے دیکھتے ثمرین شاہ کو دیکھا تھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی—
سر جھٹکتے وہ اوپر کمرے کی جانب بڑھا تھا- کمرے کا دروازا بند بھی نہیں ہوا تھا کہ بالاج شاہ کو نیچے سے شور سنائی دیا تھا وہ الٹے قدموں بھاگتا ہوا واپس آیا تھا
اور صبغہ شاہ کی ابتر حالت ہوتے دیکھ ایک پل کے لیے وہ بھی بھونچکا رہ گیا تھا—
“تم پاگل عورت مجھے بتا نہیں سکتی تھی کہ تم نٹس سے الرجک ہو”— بیڈ کے قریب آتے—کھا جانے والی نظروں سے صبغہ شاہ کو دیکھتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو صبغہ شاہ نے مسکرا کر سر نفی میں ہلایا تھا—
“تمہاری دی ہوئی ہر چیز پر صرف و صرف میرا حق ہے بالاج شاہ—چاہے پھر وہ زخم ہو یا مرہم—تکلیف یا خوشی—یا پھر چاہے وہ زہر ہی کیوں نا ہو”—بالوں کی لٹ کو انگلی پر لپیٹتے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ سجائے جواب دیا تو بالاج شاہ نے سختی سے جبڑے بھنچے تھے—پاس پڑی ٹیبل کو ٹھوکر مارتے صوفے پر جا بیٹھا تھا—
“تمہیں کیا لگتا ہے یہ سب ڈرامہ کرو گی—اپنی محبت اور وفاؤں کا یقین دلاؤ گی تو میں محبت کرنے لگو گا—یا تمہارا وفا دار بن جاؤں گا—اگر تم ایسی کسی خوش فہمی میں ہو تو جتنی جلدی ہو سکے باہر نکل آؤ صبغہ شاہ—کیونکہ تمہاری اس محبت کی میری نظر میں کوئی عزت نہیں— اپنے دل کو جھوٹی تسلی دینا چھوڑ دو—حقیقت کو قبول کر لو— مان لو کہ میں بالاج شاہ تم سے کبھی محبت نہیں کر سکتا—تم سے بے وفائی تو کر سکتا ہوں لیکن تمہاری وفا کا یقین نہیں”— ٹانگ پر ٹانگ جمائے—تمسخر اڑاتی نظریں صبغہ شاہ کے فق پڑتے چہرے پر گاڑھے طنزیہ لہجے میں کہا تو صبغہ شاہ کے گلے میں گلٹی سے ابھر کر معدوم ہوئی تھی
“انسان بھی عجیب ہے— اشرف المخلوقات تو بن گیا—مگر نا تو با وفا بن سکا نا ہی قدر دان—اور شاید انسان بھی نہیں”—نظریں بالاج شاہ کے چہرے سے ہٹاتے—چھت پر ٹکائے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے گھور کر صبغہ شاہ کو دیکھا تھا—
گاڑی جھٹکے سے بہرام شاہ کے آفس کے باہر رکی تھی—سوچوں کا تھکا دینے والا تسلسل ٹوٹا تھا—گاڑی سے نکلتے بالاج شاہ نے کیز گارڈ کی طرف اچھالی تھی—
“آئی لو یو بالاج شاہ—آئی رئیلی ڈو”—گلاس ڈور کو دھکیلتا وہ اندر داخل ہوا تھا
“محبت کا میں نے کرنا بھی کیا ہے—یہ تو ہر کسی کو ہو جاتی ہے—میں صبغہ شاہ ہوں——اسی لیے مجھے تمہاری محبت نہیں—تمہارا عشق چاہئے بالاج شاہ—اور مجھے یقین ہے تمہیں عشق ہوگا— صبغہ شاہ سے ہی ہوگا—اور بہت جان لیوا ہوگا”
بہرام شاہ کے آفس روم کے باہر کھڑے ہوتے بالاج شاہ نے اطراف میں نظریں گھمائی تھی
وہ یہاں کہی بھی موجود نہیں تھی—لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ پاس نا ہو کر بھی بالاج شاہ کے دل و دماغ پر بری طرح چھائی ہوئی تھی—
دل تھا تو ہر دھڑکن کے ساتھ اسے ہی یاد کر رہا تھا—یا پھر وہ یاد کر کہ ہی دھڑک رہا تھا—
_______
اپنی پشت پر نظروں کی تپش محسوس کرتے سلویٰ شاہ کے ہاتھ بری طرح کپکپائے تھے—جن پر بامشکل قابو پاتے سلوی نے جلدی سے کپڑے سیٹ کرتے کبرڈ کا دروازا بند کرتے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے تھے—
جبکہ نظروں کی تپش ابھی بھی خود پر محسوس ہو رہی تھی مگر سلوی شاہ نے پلٹ کر غلطی سے بھی صوفے پر براجمان ارمغان خان کو نہیں دیکھا تو جو آج فلافِ معمول حویلی میں موجود تھا—
اور حویلی آتے ہی وہ شام چھ بجے ہی رات کا کھانا کھا کر کمرے میں آگیا تھا—
اور اب گھڑی رات کے نو بجا رہی تھی—وہ جب سے حویلی آیا تھا کمرے میں جانے کے بعد سے باہر نہیں آیا تھا اور یہ سلوی شاہ کے لیے حیران کن تھا—
وہ تو شادی والے دن بھی اسے کمرے میں بیٹھا کر باہر چلا گیا تو اور پھر نجانے رات کے کس پہر واپس آیا تھا—اور پھر یہ روز کا معمول بن جاتا وہ ہمیشہ سلوی کے سونے کے بعد ہی کمرے میں آتا تھا
اگر دن میں کسی وقت وہ حویلی واپس آتا تو کمرے میں کچھ دیر کے لیے ٹھہرتا تھا—اور پھر اگر سلوی کمرے میں موجود ہوتی تو وہ اسے کسی ایسے کام بھیج دیتا کہ جب تک وہ واپس آتی ارمغان خان کمرے سے کیا حویلی سے بھی جا چکا ہوتا—بظاہر تو اس دن کے بعد سے ارمغان خان نا تو سخت لہجے میں اس سے مخاطب ہوا تھا نا ہی کوئی دل دکھانے والی بات کی تھی—مگر جس طرح وہ اس کی ذات کو فراموش کر رہا تھا—سلوی شاہ کے وجود کو ایسے نظر انداز کر رہا تھا جیسے وہ اسے جانتا ہی نہیں—یہ سلویٰ شاہ کے لیے جان لیوا تھا—آپ ہر جان دینے والا شخص—اس قدر انجان بن جائے تو انسان کی جان پر بن آتی ہے—
بیڈ شیٹ ٹھیک کرتے—سلوی شاہ نے گردن ترچھی کرتے چور نظروں سے ارمغان خان کو دیکھنے کی کوشش کی تھی—مگر اسے اپنی جانب متوجہ دیکھ وہ دھک سے رہ گئی تھی
سرعت سے نظریں چرائیں تھی
دل اتنی شدت سے دھڑکا تھا کہ سلوی شاہ کو اپنے سینے سے نکلتا محسوس ہوا تھا—
جبکہ صوفے پر بیٹھے ارمغان خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی تھی—
“ادھر آؤ”—تحمکانہ لہجے میں بلایا تو سلوی شاہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں
رخ موڑے بے یقینی سے ارمغان خان کو دیکھا تھا—جو دونوں ٹانگیں ٹیبل پر وی کی شیپ میں رکھے— ہاتھ کے اشارے سے اپنی جانب بلا رہا تھا—
“مم—میں”—حلق تر کرتے یقین دہانی کے لیے پوچھا تو ارمغان خان نے آنکھیں چھوٹی کرتے—گھور کر سلوی شاہ کو دیکھا تھا—
“نہیں تو میں”—سخت لہجے میں جواب دیا تو سلوی شاہ ہڑبڑا کر جلدی سے اس کی جانب بڑھی تھی—
صوفے کے قریب کھڑے ہوتے نظریں جھکائے وہ ارمغان خان کے اگلے حکم کی منتظر تھی
جبکہ سلویٰ شاہ کے جھکے چہرے کو بغور دیکھتے ارمغان خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی تھی—اگر وہ سب نا ہوا ہوتا—تو کیا وہ آج کی طرح خاموشی سے کچھ تیکھا سا جواب دیے بغیر ارمغان خان کے بلانے پر ایسے آجاتی—نہیں کبھی نہیں—ارمغان خان کو یقین تھا کہ وہ محبت بھرا مان ان کے درمیان رہتا تو وہ ارمغان خان کے اس طرح بہانے اور حکم جھاڑنے پر اس کا سر ضرور پھاڑ دیتی
بیٹھو”—ارمغان خان کے اگلے حکم پر سلوی شاہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا
اور پھر نظریں ارمغان خان سے ہوتی سامنے رکھے ٹیبل سے سرکتی دوسری جانب ارمغان خان کے سنگل صوفہ کے ساتھ رکھے دوسرے صوفہ پر گئی تھی—
خاموشی سے سر اثبات میں ہلاتی ابھی وہ اس صوفہ کی جانب بڑھتی کہ اپنی کلائی کو سخت گرفت میں پاتے اپنی جکہ ساکت ہوئی تھی
“میں نے بیٹھنے کا کہا ہے—جگہ نہیں بتائی کہ کہاں”—کلائی کو جھٹکا دیتے رخ اپنی جانب کیا تو سلوی شاہ نے حیرت سے ارمغان خان کو دیکھا تھا—
“کہاں”—مدھم لہجے میں استفسار کیا تو ارمغان خان نے نظروں سے زمین کی جانب رخ کیا تھا—
جسے دیکھتے سلوی شاہ کے چہرہ ہتک سے سرخ پڑا تھا—نظریں ارمغان خان کی نظروں کے تعاقب پر زمین پر گئیں تو گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی
زمین پر بیٹھنا اس کے لیے کوئی عیب تو نہیں تھا—یہ تو کسی طور عیب والی بات نہیں تھی— مگر سامنے بیٹھا شخص شاید اسے جھکانے یا توہین کے لیے یہ حکم دے رہا تھا—اور یہ بات عزت نفس کو کچلنے اور دل کو دکھانے والی تھی
گرے آنکھوں میں پل میں نمی اتری تھی— مگر خود پر قابو پاتے سلوی شاہ نے گہری سانس بھری تھی—
اگر ارمغان خان کی توجہ اس سے بات اس طرح بات ہو سکتی تھی تو سلوی شاہ کو قبول تھا—
ابھی وہ نیچے جھکتی کہ ارمغان خان نے سختی سے جبڑے بھنچتے—جھٹکے سے اٹھ کر سلوی شاہ کو دونوں بازوؤں سے تھام کر اپنی جگہ بٹھایا تھا—اور پھر اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر خود بھی اس کے ساتھ اسی سنگل صوفے پر آن بیٹھا تھا—
“ہر حکم کی تعمیل نہیں کی جاتی سلویٰ شاہ— حکم ناجائز ہو تو آواز اٹھائی جاتی ہے”— سخت لہجے میں کہا تو سلوی شاہ نے سر اثبات میں ہلایا تھا
جبکہ اندر سے وہ پوری جان سے کانپ چکی تھی—ایک پل میں کیا ہوا اسے بالکل سمجھ نہیں آیا تھا—اس کا سر چکرا گیا تھا
“کہاں ہوتی ہو سارا دن—شوہر کا تمہیں ذرا بھی احساس ہے—کبھی خیال آیا کہ تھکا ہارا گھر آیا ہے تو پانی کا گلاس ہی پوچھ لوں”— سلوی شاہ کا ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے سخت لہجے میں استفسار کیا تو سلوی شاہ نے ہونقوں کی طرح منہ کھولے بے یقینی سے ارمغان خان کو دیکھا تھا—
جو خود کو ہر الزام سے بری الزمہ کرتے سلوی شاہ سے سوال کر رہا تھا—
“مم—میں یہی تھی—حویلی میں—میں نے کہا جانا ہے”—نظریں اپنا ہاتھ تھامے ارمغان خان کے ہاتھ کی ابھری رگوں پر مرکوز کیے مدھم لہجے میں جواب دیا تو ارمغان خان نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا تھا
“پھر مجھے نظر کیوں نہیں آتی”—کمر میں ہاتھ ڈالے خود کے قریب کرتے بھاری لہجے میں استفسار کیا تو اتنی سے قربت پر سلوی شاہ کی پلکیں حیا کے بوجھ سے جھکی تھیں
پھولی پھولی گالوں پر گلال بکھرا تھا
“کیونکہ آپ مجھے اب دیکھنا ہی نہیں چاہتے—ورنہ میں تو یہی ہوں—آپ کی نظروں کے سامنے”—نظریں اٹھائے ارمغان خان کی ہیزل ہنی آنکھوں میں دیکھتے شکوہ کناں لہجے میں جواب دیا تو ارمغان خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے بغور سلوی شاہ کے چہرے کو دیکھا تھا جو اس وقت کسی بھی میک اپ سے پاک تھا—
سادہ سے کاٹن کے جوڑے میں— بالوں کا میسی سا جوڑا بنائے—سادگی میں بھی وہ ارمغان خان کے دل میں حشر برپا کر چکی تھی
مگر دل میں کہی ملال بھی ہوا تھا—وہ کچھ دن کی دلہن تھی اور اس قدر سادگی میں تھی—کلائیوں میں وہ سہاگ کی چوڑیاں بھی نہیں تھی—جو ابھی تک عقیدت اور حوریہ کی کلائیوں میں تھی—یا ہر نئی دلہن کے ہاتھوں میں ہوتی تھیں
“تم تیار نہیں ہوتی”—سلوی شاہ کی بات کو یکسر نظر انداز کرتے استفسار کیا تو لاکھ ضبط کے باوجود بھی وہ اپنی نم ہوتی آنکھوں کو نا روک سکی
گلے میں جیسے آنسوؤں کا گولہ سا اٹکا تھا—
“کس کے لیے ہوں تیار میں”—نم لہجے میں سوال کے بدلے سوال کیا تو ارمغان خان کا دل بری طرح دکھا
کمر پر دباؤ بڑھاتے دوسرا ہاتھ سلوی شاہ کے دائیں گال پر ٹکایا تھا—
“میرے لیے—تمہیں لگتا ہے اپنے ہوتے میں تمہیں تمہارے لیے بھی کچھ کرنے دوں گا مسسز—تم پر صرف میرا حق ہے— تمہارا ہار سنگھار یا بناؤ سنگھار وٹ ایور جو بھی کہتے وہ صرف و صرف میرے لیے ہوگا—تو اب بتاؤ کیوں تیار نہیں ہوتی”— نرم لہجے میں تنبیہہ کرتے پھر سے وہی سوال دہرایا تو سلوی شاہ نے شکوہ کناں لہجے سے ارمغان خان کو دیکھا تھا
“آپ تو اب مجھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے خان—میں نے مزاق کیا تھا جو بعد میں میری غلطی بن گیا اور پھر گناہ—اور اب میری سزا شاید یہی ہے”—آنکھوں سے بہتے سیال پر سلوی شاہ نے بے بسی و شرمندگی سے چہرے کا رخ بدلا تھا—
اہ—یہ آنسو— سلوی کو اب اندازہ ہوا تھا کہ محبت کہ علاؤہ انسان کا ان آنسوؤں پر بھی کوئی زور نہیں—کبھی تو دل پر قیامت بھی گزر جائے تو یہ آنکھ تک نم نہیں ہونے دیتے اور کبھی زرا سی بے بسی پر چہرہ بھگو دیتے ہیں
اور کیا سزا ہے تمہاری”— وہ پھر سے سلوی شاہ کی بات کو یکسر انداز کرتے اپنے مطلب کے سوال کیے جا رہا تھا
جس پر سلوی نے نم آنکھوں سے ارمغان خان کو دیکھا تھا—
“ممطلب”—
“میں پوچھ رہا ہوں کہ کیا سزا ہے تمہاری—مطلب تم تیار نا ہو کر خود کو سزا دے رہی ہو”— سلوی شاہ کی بات پر پر سوچ نظریں اطراف میں گھماتے جواب دیا تو سلوی شاہ کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہوا تھا—
“یہ مطلب نہیں تھا میرا خان—میرا یہ مطلب تھا کہ میں نے جس کے لیے تیار ہونا ہے اگر وہی مجھے نہیں دیکھے گا سارا سارا دن حویلی سے باہر رہے گا—رات کو بھی میرے سونے کے بعد کمرے میں آئے گا تو میں پھر کس کے لیے تیار ہوں—جب مجھے اپنے دیکھنا ہی نہ”— ارمغان خان کی باتوں پر جھنجھلا کر روانی میں کہتے سلوی شاہ کے لفظوں کو ارمغان خان کے سلگتے ہونٹوں کے شدت بھرے لمس نے روکا تھا—
“بس یہی—یہی سننا تھا میں نے—اور کس نے کہا میں تمہیں نہیں دیکھتا—میں صرف تمہیں ہی تو دیکھتا ہوں—اور آج تو میں فرصت سے تمہیں دیکھنے والا ہوں تا کہ میری بیوی کے سارے شکوے ختم ہو جائے”— سلوی شاہ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتے بوجھل لہجے میں سرگوشی کی تو سلوی شاہ پل میں کان کی لو تک سرخ ہوئی تھی
لیکن اس سے پہلے میں تمہیں یہ سب کلئیر کر دینا چاہتا ہوں—تا کہ بعد میں تمہارے دل میں میرے لیے کوئی بدگمانی نا آئے—میں ناراض تھا اور شاید اس سے بھی زیادہ ہرٹ—میں تمہیں کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتا تھا—میں نے آج تک جو چاہا وہ پاہ لیا تھا—تمہیں سمجھانے کے بعد بھی جب شادی کی خبر سنی تو مجھے لگا جیسے کسی نے میرے پاؤں سے زمین کھینچ لی ہو—تم میری محبت تھی میں جانتا تھا کہ تمہیں اپنے علاؤہ کسی کا نہیں ہونے دوں گا—مگر پھر بھی دل میں کہی ڈر بھی تھا کیونکہ تم کوئی کوئی چیز نہیں تھی جیتی جاگتی انسان تھی—اگر تم ہی انکار کر دیتی تو میں کیسے زبردستی خود سے باندھ سکتا تھا– – مگر پھر یہی بات آنا کا مسئلہ بن گئی- میں تمہیں تکلیف دینا چاہتا تھا—چاہتا تھا تم بھی وہی محسوس کرو جو میں نے کیا—مگر پھر جس لمحے تم میرے نکاح میں آئی تو میری ساری آنا ختم ہو گئی— میں خود سے جڑے ایک نازک وجود کو کیسے تکلیف دے سکتا تھا—تم میری روح میں شامل میرے وجود کا حصہ ہو—چاہتا تو شادی والے دن بھی تمہیں اپنا بنا سکتا تھا—لیکن میں دل میں کوئی بھی خلش رکھ کر رشتہ آگے نہیں بڑھانا چاہتا تھا—میں تمہیں نظر انداز نہیں کر رہا تھا—بس خود کو وقت دے دیا تھا—میں جانتا ہوں کہ ارمان( نرم لہجے میں کہتے ارمان شاہ کے ذکر پر چہرے کے زاویے بگڑے تھے—مگر سر جھٹکتے بات شروع کی) وہ تمہاری نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا وہ بس اپنے ہونے والا شوہر کا دل جلانے کے لیے حوالہ تھا—مگر پھر بھی اس شخص کے نام کی پھانس مجھے اپنے سینے میں محسوس ہوتی تھی—اسے ختم کرنے کے لیے یہ کرنا ضروری تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ مستقبل میں ہماری کسی بھی بات میں اس کا نام آئیں یا میں تمہیں کبھی اس بات کا حوالہ دو”— نرم لہجے میں سمجھاتا وہ کہی سے بھی اپنے بھائیوں کا بگڑا ہوا ضدی خان نہیں لگ رہا تھا—اس وقت وہ سلوی شاہ کو ایک سمجھدار—رشتے نبھانے والا مرد لگ رہا تھا جو اپنی زمہ داریاں نبھانا جانتا تھا—زندگی کے ہر پہلو پر نظر رکھتا تھا— جو اپنے گھر—اپنی بیوی کی حفاظت کے لیے دوراندیشی کیے ہوئے تھے
“آپ کو کیوں لگتا ہے کہ ہماری کسی بھی بات میں اس کا ذکر ہوگا”—ارمغان خان کے خاموش ہونے پر استفسار کیا تو ارمغان خان نے گہری سانس بھرتے سلوی شاہ کو دیکھا تھا
“بتاتا ہوں—پہلے قریب تو آؤ—دور سے سننے میں تمہیں مشکل ہوگی”—شوخ نظروں سے سلوی شاہ کو دیکھتے—دونوں بازو سلوی کی کمر کے گرد لپیٹتے جھٹکے سے اسے خود پر گرایا تھا—
“انسان غصے میں کچھ بھی بول جاتا ہے—یا شاید وہ سب جو وہ عام حالات میں نا کہہ سکتا ہو—مگر کہی اس کے دل و دماغ میں موجود ہو—اور پھر غصے میں کہہ ڈالے—میاں بیوی تو میاں بیوی ہی ہوتے ہیں—چاہے وہ کسی بھی دنیا کہ ہو—جنہوں نے عمر بھر کا سفر ساتھ کرنا ہو تو وہاں کئی باتوں میں اختلافات بھی ہوجا تے ہیں—ناراضگیاں بھی ہوجاتی ہیں—لیکن پھر ناراضگیوں اور اختلافات کو ختم کر کہ ساتھ ہی چلنا ہوتا ہے—اور میں بس یہی نہیں چاہتا کہ ہماری کسی ناراضگی یا اختلاف میں کبھی غصے میں آکر میں کچھ غلط بول جاؤ”— کندھے آچکا کر جواب دیا تو سلوی شاہ نے نم آنکھوں سے ارمغان خان کو دیکھا تھا—
اور پھر بنا کسی جھجھک کے وہ اپنے دونوں بازو ارمغان خان کے کندھوں کے گرد حائل کرتی چہرہ ارمغان خان کی گردن میں چھپا چکی تھی—
“آئی رئیلی مسڈ یو غان”— نم لہجے میں سرگوشی میں کہا تو اس نئے طرز تخاطب پر ارمغان خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا
“بٹ آئی لو یو غان کی جان”—سلوی شاہ کو سختی سے خود میں بھنچتے شدت بھرے لہجے میں جواب دیا تو سلوی شاہ نے سکون سے آنکھیں موندی تھی—
اتنے دنوں سے وہ خود کو جس بے سکونی کے حصار میں محسوس کر رہی تھی وہ اب بالکل ختم ہوگئی تھی—
“تمہیں پتہ ہے کہ میں چچا بننے والا ہوں”—سلوی شاہ کے بال پشت پر بکھرتے—ان میں نرمی سے انگلیاں پھیرتے سوال کیا تو سلوی شاہ نے سر اثبات میں ہلایا
“تو میں سوچ رہا تھا کہ اگر بیٹا ہوا تو پھر تو ٹھیک ہے اگر ہماری بیٹی تھوڑی لیٹ بھی ہوجائے میں لالا سے کہہ کر ان کا بیٹا پہلے ہی بک کر لوں گا—مگر اگر میری بھتیجی ہوئی تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں زیادہ دیر کرنے چاہئیے سو ہمیں باتوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ابھی چھوٹا خان لانے کی پلیننگ کرنی چاہیے”—سلوی شاہ کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ جھٹکے سے اسے بازوؤں میں اٹھائے بیڈ کی جانب بڑھا تھا-
Part 2
“تمہیں پتہ ہے کہ میں چچا بننے والا ہوں”—سلوی شاہ کے بال پشت پر بکھرتے—ان میں نرمی سے انگلیاں پھیرتے سوال کیا تو سلوی شاہ نے سر اثبات میں ہلایا
“تو میں سوچ رہا تھا کہ اگر بیٹا ہوا تو پھر تو ٹھیک ہے اگر ہماری بیٹی تھوڑی لیٹ بھی ہوجائے میں لالا سے کہہ کر ان کا بیٹا پہلے ہی بک کر لوں گا—مگر اگر میری بھتیجی ہوئی تو مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں زیادہ دیر کرنے چاہئیے سو ہمیں باتوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ابھی چھوٹا خان لانے کی پلیننگ کرنی چاہیے”—سلوی شاہ کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ جھٹکے سے اسے بازوؤں میں اٹھائے بیڈ کی جانب بڑھا تھا-
جبکہ ارمغان خان کے معنی خیز لفظوں پر سلوی شاہ نے گھبرا کر اپنا چہرہ ارمغان خان کے سینے میں چھپایا تھا—
“ارمغان— میری بات”— سلوی شاہ کو بیڈ پر لٹا کر وہ لائٹ بند کرنے کے لیے پلٹتا اس سے پہلے سلوی نے سرعت سے ارمغان خان کا بازو تھاما تھا جس پر ارمغان خان نے پلٹ کر سلوی شاہ کو دیکھا تھا جو بری طرح گھبرا رہی تھی پھر جھک کر نرمی سے ہونٹ سلوی شاہ کے ماتھے پر رکھے تھے—
پلٹ کر لائٹ بند کر کہ وہ بیڈ کے قریب آیا تھا—کمرے میں جلتے واحد لیمپ کی مدھم روشنی میں سلوی شاہ کے خوبصورت چہرے کو دیکھا تھا جو اس وقت شرم سے سرخ انار ہو رہا تھا—
ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے ارمغان خان نے اپنی شرٹ اتار کر دور اچھالی تھی—
اور نظریں بیڈ پر سختی سے آنکھیں میچتے—بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں دبوچے—گہرے سانس لیتی سلوی شاہ کے چہرے پر مرکوز تھیں
“تمہاری سانسیں مجھے بن پئیے بہکا رہی ہیں”—خود پر سایہ محسوس کرتے سلوی شاہ نے جھٹ سے آنکھیں واہ کی تو نظریں خود پر جھکے ارمغان خان کی نظروں سے ٹکرائی تھی
اس سے پہلے وہ نظریں جھکاتی ارمغان خان نے سلوی شاہ کا چہرہ تھوڑی سے تھامتے اوپر کیا تھا
“تم نے تھوڑی دیر پہلے اظہار کیا تھا – اور میں تب سے تمہارے اعتراف کا منتظر ہوں”—کندھوں کے تھام کر اوپر کرتے شرٹ کی زپ کھسکاتے—نرمی سے سلوی شاہ کی آنکھوں کو چھوا تھا
جبکہ ارمغان خان کے جان لیوا ہاتھوں کے لمس کو اپنے وجود پر رینگتے محسوس کرتے سلوی شاہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہو رہی تھی
“اظہار کافی نہیں ہے کیا”—ارمغان خان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دھکیلتے—سرعت سے پلٹ کر چہرہ تکیے میں چھپاتے مدھم لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے خمار آلود نظروں سے سلوی شاہ کو دیکھا تھا—
نظری براؤن سلکی بالوں سے سرکتی دودھیا گردن پر آئی تو ارمغان خان کو اپنے گلے میں کانٹے چبھتے محسوس ہوئے
ہاتھ بڑھا کر شرٹ کو دونوں کندھوں سے مزید نیچے کھسکایا تھا—جس پر سلوی شاہ نے تڑپ کر سیدھے ہونا چاہا مگر ارمغان خان دائیں ہاتھ میں سلوی شاہ کے ہاتھ تھامتے لاک کر چکا تھا—
دوسرے ہاتھ کی پشت کندھوں سے پھیرتے کمرے پر لاتے جھک کر اپنے لب سلوی شاہ کی گردن پر رکھتے وہ اپنا سارا بوجھ سلوی شاہ کے نازک وجود پر ڈال چکا تھا
“اظہار یہ بتانے کے لیے تھا کہ میری غیر موجودگی میں تم نے کیسا محسوس کیا—میرا تمہارے اس پاس نا ہونا تمہیں کیا اذیت دیتا ہے – اب اعتراف کی باری ہے—اب مجھے یہ جاننا ہے کہ میرا ہونا کتنا ضروری ہے—میری موجودگی تمہارے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے—ارمغان خان سلوی شاہ کے لیے کیا ہے”— جا بجا شدت بھرا لمس چھوڑتے—سلوی شاہ کا رخ اپنی جانب کیا تھا—
سلوی شاہ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتے – چہرہ سلوی کے چہرے کے قریب تر کرتے سلوی شاہ کی تیز چلتی سانسوں میں گہری سانس بھری تو سلوی شاہ کو لگا جیسے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا ہو
پلکوں کی جھالر اٹھائے ارمغان خان کو دیکھا تھا—جو منتظر نگاہوں سے سلوی شاہ کو دیکھ رہا تھا—پھر ہونٹ تر کرتے لب واہ کیے تھے—
“ارمغان خان کی غیر موجودگی مجھے نامکمل کر دیتی ہے—اور اس کی موجودگی مجھے مکمل کرتی ہے— مجھے آپ سے بہت محبت ہے—آئی میڈلی ان لو ود ہو—اب تک آپ مجھے نظر انداز کر رہے تھے تو مجھے امید تھی کہ میں آپ کو منالوں گی—لیکن اب کبھی آپ مجھے سے ناراض ہوئے تو میں منا نہیں سکوں گی – آپ کی ناراضگی جان لیوا ہے میں مر جاؤں گی”—نم لہجے میں اعتراف کرتے ارمغان خان کی آنکھوں میں دیکھا تھا جن میں ابھرتے جذبات کو دیکھتے—سلوی شاہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا اسے سے پہلے وہ کوئی جائے فرار تلاش کرتی ارمغان خان پوری شدت سے اس کے ہونٹوں پر جھک چکا تھا
ہاتھ بڑھا کر کمفرٹر سے دونوں کے وجود ڈھانپتے—ارمغان خان نے سلوی شاہ کے ہونٹوں پر اپنے دانت گاڑھے تھے جس پر سلوی شاہ نے کراہ کر آنکھیں واہ کی تو ارمغان خان آنکھ ونک کرتا سلوی شاہ کی گردن پر جھک چکا تھا—ہاتھ بڑھا کر کمرے میں چلتے واحد لیمپ کو بھی بجھا دیا تھا—
“ار-ارمغان پلیز”—ارمغان خان کے شدت بھرے لمس کو اپنے دل کے مقام سے سرکتے پہلو پر محسوس کرتے تڑپ کر کہا تو ارمغان خان نے اپنے دانتوں کا دباؤ بڑھاتے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا
“بتایا نا مسسز—کے مجھے اپنے بچے کو جلد از جلد دنیا میں لانا ہے—اور اس لیے میں تمہاری کسی پلیز کو کسی خاطر میں نہیں لانے والا”—چہرہ سلوی شاہ کے خون چھلکاتے چہرے کے قریب کرتے—تنبیہ کرتے لہجے میں کہتے—سلوی شاہ کے دائیں انکھو سے نکلتے آنسو پر رکھتے وہ سلوی شاہ کو اپنے شدت بھرے حصار میں قید کر چکا تھا
جبکہ سرکتی رات کے ساتھ کمرے کے معنی خیز خاموشی میں سلوی شاہ کی مدھم سسکیوں اور ارمغان خان کی معنی خیز سرگوشیاں رقص کر رہی تھی
ارمغان خان کی شدتوں پر سلوی شاہ کی سانسیں بکھرتی تو ارمغان خان پوری شدت سے انہیں خود میں جذب کر لیتا
“غان سوجائیں اب”—سلوی شاہ کی نیند میں ڈوبی آواز پر ارمغان خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی
سلوی شاہ کے چہرے پر جا بجا اپنا لمس چھوڑتے وہ پیچھے ہوا تھا—سر تکیے پر ٹکاتے سلوی شاہ کی کمر میں بازو لپیٹتے اپنے سینے پر گرایا تھا—
“سو جاتے ہیں میری جان—میں تو بس تمہارے لیے جاگ رہا تھا کہ شاید تم ابھی سونا نا چاہتی ہو”—ارمغان خان کے اس قدر سفید جھوٹ پر سلوی شاہ نے لمیپ کی مدھم روشنی(جو کہ وہ تھوڑی دیر پہلے ان کر چکا تھا) میں نظر آتے ارمغان خان کے چہرے کو دیکھا تھا—
لیکن کچھ کہے بغیر سر جھٹکتے آنکھیں موندی تھی—
سلوی شاہ کو نیند کی وادیوں میں اترتے دیکھ ارمغان خان نے نرمی سے ہونٹ سلوی شاہ کے سر پر رکھتے اسے خود میں بھنچا تھا
جبکہ پٹھانی نقوش والے چہرے پر سکون بھری مسکراہٹ رقص کر رہی تھی تھوڑی سلوی شاہ کے سر پر ٹکائے ارمغان خان نے آنکھیں بند کی تو تھوڑی ہی دیر میں نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوتی اپنی آغوش میں لے چکی تھی
__________
یارِ من بس کچھ دیر—ایک خوبصورت منظر کی تلاش میں ہوں جسے دیکھتے تمہاری ساری تھکن اتر جائے گی—اگر تب بھی نا اتری تو خادم حاضر ہے—تمہاری ساری تھکن اپنے ہونٹوں سے سمیٹ لوں گا”—عقیدت میں بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرتے گھمبیر لہجے میں کہا تو عقیدت نے سر اٹھا کر ضرغام خان کو دیکھا—
عقیدت کی سرخ پڑتی آنکھوں میں دیکھتے ضرغام خان نے اپنا بایاں بازو عقیدت کی کمر کے گرد لپیٹتے—گھما کر عقیدت کی پشت کو درخت سے لگاتے اپنے دونوں ہاتھ عقیدت کے اطراف میں رکھے—
“تو کیا خیال ہے یار من کمرے میں تو کچھ ہونا نہیں—یہاں جنگل میں ہی منگل کر کہ اپنی کہانی آگے بڑھائے”— ناک عقیدت کے گال پر ٹریس کرتے شوخ لہجے میں کہا تو عقیدت نے آنکھیں گھما کر ضرغام خان کو دیکھا
“جو کمرے میں نہیں ہو سکا وہ یہاں کیسے ہو جائے گا”—کندھے آچکا کر افسوس بھرے لہجے میں کہتے ضرغام خان کے کندھے پر نا نظر آنے والی گرد کو جھاڑا تو ضرغام خان نے گھور کر عقیدت کو دیکھا
“چیلنج کر رہی ہو خان کو”—عقیدت کے بالوں کو مٹھی میں بھرتے چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے مصنوعی سخت لہجے میں کہا تو عقیدت نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے مسکراہٹ روکی
“نہیں بس بتا رہی ہوں کہ اگر کمرے میں نہیں آپ کی چلی تو یہاں خاک چلے گی”— سبز نگینوں کو گول گول گھماتے چہرے پر معصومیت طاری کیے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“چلو پھر شروع کرتے ہیں — لیکن سوچ لو یہاں کی گرمی پہلے نہیں جھیلی جا رہی—خان کی جان لیوا قربت کیسے سہو گی”— عقیدت کے نچلے ہونٹ کو انگھوٹے اے سہلاتے بے باک لہجے میں کہا تو عقیدت کا چہرہ پل میں سرخ اناری ہوا
“خان کی بیوی ہوں—خان سے دل لگا کر نبھانا مشکل تھا— خان کے ہجر کو جھیلنا سوہان روح تھا—جب کہ اس کی قربت تو روحِ سکون ہے”— خود میں ہمت پیدا کرتے—ضرغام خان کی معنی خیز نظروں میں آںکھیں گاڑھے مضبوط لہجے میں کہا تو ضرغام خان کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ رینگ گئی
“اوکے سو لیٹس سٹارٹ دا منگل”—انکھوں کے پردے پر جنگل میں پہلی دفعہ آنا کا منظر لہرایا تو عقیدت کے ہونٹوں پر نرم سی مسکراہٹ در آئی پھر سر جھٹکتے—اطراف میں نظریں گھماتے قدم آگے بڑھائے تھے–
ضرغام نے کہا تھا کہ وہ ایک دو دن میں واپس آنے والا ہے—جس ہر عقیدت نے اسے جلدی آنے کو کہا تھا کونکہ وہ اسے کوئی سرپرائز دینا چاہتی تھی—اور آج صبح عقیدت کو اس کا میسج آیا کہ وہ جنگل میں اس کا انتظار کر رہا ہے—اس کے پاس بھی عقیدت کے لیے سرپرائز ہے—
قدم آگے بڑھاتے عقیدت کی نظریں سامنے درختوں کی بنی قطار پر گئیں تھی جو آگے جا کر گول دائرے کی صورت میں تھی
اسے دیکھتے عقیدت کے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی تھی—
جب وہ یہاں پہلی دفعہ آئی تھی تو ضرغام نے اسے یہ جگہ دکھائی تھی—یہ اس کی فیورٹ جگہ تھی—وہ اکثر یہاں آتا تھا—اس کا کہنا تھا کہ یہاں آکر اسے سکون ملتا ہے—اور اب تو یہ جگہ عقیدت کے لیے بھی بہت خاص تھی یہاں ان دونوں نے اپنی نئی زندگی کا آغاز شروع کیا تھا—
“یہ—یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے ضرغام”— ضرغام خان کے نیچے اتارنے پر عقیدت نے اردگرد دیکھتے لہجے میں اشتیاق لیے کہا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
جنگل کے بیچوں بیچ درختوں کے گول دائرے کے درمیان ایک چھوٹا سا تالاب تھا—جبکہ تالاب کے کنارے پر ایک کافی پرانا درخت تھا—جو بائیں جانب سے تالاب کی جانب جھکا ہو تھا—اس کی لمبی موٹی شاخیں تالاب کے پانی پر سایہ فگن تھی—کچھ لمبی پتلی ٹہنیاں تالاب کے پانی کو چھو رہی تھی— تالاب کے اردگرد رنگ برنگے پھول لگے ہوئے تھے—جبکہ پھولوں کے بعد کچی زمین سے کچھ فاصلے پر درخت موجود تھے—جو اطراف میں پھیلے ہوئے تھے—سبز پتو سے گھنے درخت اندر کی جانب کو جھکے ہوئے تھے—اور ہر درخت پر رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے گھونسلے پردوں کے لیے لٹکائے گئے تھے—
“عقیدت”—وہ جو آنکھوں میں اشتیاق لیے آگے بڑھ رہی تھی ضرغام خان کے پکارنے پر ٹھٹھک کر رکی تھی—پھر گردن ترچھی کرتے سوالیہ نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا تھا–
ہنہہ—کیا ہوا—ضرغام خان کے خود کے قریب تر آکر کھڑے ہونے پر نامحسوس انداز میں ہونٹ کو جنبش دے کر استفسار کیا
تربان شمه ستانہ”(میں تمہارے قربان جاؤں)–
ضرغام حسان کے گھمبیر لہجے میں کئی گئی سرگوشی پر عقیدت نے سرخ پڑتے ضرغام حسان کی نیلی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔ اور پھر خاموش فضا میں عقیدت کی مدھم ہنسی کی جلترنگ گونجی جسے روح تک محسوس کرتے ضرغام خان نے آگے بڑھتے-دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے عقیدت کو اپنے نرم حصار میں لیتے ۔ سکون سے آنکھیں موند لیں۔
“ویسے اس بات کی کیا لاجک بنتی تھی اس وقت”— تھوڑی ضرغام خان کے سینے پر ٹکائیں—سبز نگینوں جیسی آنکھوں کو چھوٹی کیے استفسار کیا تو ضرغام خان نے مسکرا کر کندھے جھٹکے
“کچھ نہیں—بس ایسے ہی دل کیا—کہ تمہیں بتاؤں کہ یہ خان تم پر خود کو قربان بھی کرسکتا ہے”—بایاں بازو عقیدت کی کمر کے گرد سختی سے لپیٹتے—دائیں ہاتھ کے انگھوٹے کو عقیدت شاہ کے بھرے بھرے ہونٹوں پر پھیرتے—سادہ سے لہجے میں جواب دیا تو عقیدت نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلاہا تھا
تبھی وہ عقیدت کو اپنی بانہوں میں اٹھاتا تالاب کے قریب لایا تھا— نرمی سے عقیدت کو تالاب کے قریب خشک جگہ پر لٹا کر وہ اس پر جھکا تھا—
“کک—کیا ہوا—ایسے کیوں دیکھ رہے ہو”— ضرغام خان کی لو دیتی نظروں سے گھبراتے ہوئے استفسار کرتے ساتھ اٹھنے کی کوشش بھی کی جسے ضرغام خان نے نرمی سے ناکام کر چکا تھا
“پیاس لگی تھی بس اسی لیے”—زومعنی لہجے میں کہتے بہکی نظروں سے عقیدت کے ہونٹوں کو دیکھا تھا—جس پر عقیدت نے سٹپٹا کر چہرے کا رخ پھیرا تھا
“تت-تو پی لو پانی—یہ اتنا بڑا تالاب نظر نہیں آرہا کیا”—خود میں ہمت مجتمع کرتے ضرغام خان کو گھورتے ہوئے کہا تو اس نے نرمی سے سر انکار میں ہلایا تھا—جبکہ نظریں ہنوز عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے پر تھیں—
“نہیں—یہ تالاب میری تشنگی ختم کرنے کے لیے ناکافی ہے”— بھاری لہجے میں کہتے ہاتھ بڑھا کر پانی اپنے ہاتھ میں لیا تھا
پھر عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ پانی کی بوندوں سے اس کے ہونٹ اور گردن نم کر چکا تھا
وہ جو ہونقوں کی طرح منہ کھولے ضرغام خان کو دیکھ رہی تھی ضرغام خان کے ایک دم سے جھکنے اور شدت بھرے لمس پر جی جان سے کانپی تھی—
عقیدت کے احتجاج کرتے ہاتھوں کو لاک کرتے وہ سر کہ اوپر پن کر چکا تھا
جبکہ ضرغام خان کے شدت بھرے لمس پر عقیدت شاہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھی—اور وہ کافی لمحے گزرنے کے بعد بھی پیچھے نا ہوا تو عقیدت نے پوری شدت سے اپنے دانت ضرغام خان کے ہونٹوں پر گاڑھے تھے جس کے بدلے وہ اپنی شدت بڑھاتا عقیدت کو خود میں بھنچ چکا تھا—
ہونٹوں پر شرمیگی مسکراہٹ لیے وہ ان لمحوں کو سوچتی تالاب کے قریب بیٹھی تھی—کہ اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے عقیدت کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی
“ضرغام”—سرگوشی نما آواز میں ہونٹوں نے جنبش کی تھی—مگر اگلے ہی لمحے ہونٹوں پر بکھرتی مسکراہٹ سمٹی تھی—
اپنی اردگرد بکھرتی انجان ڈارک پرفیوم کی خوشبو پر عقیدت کا ماتھا ٹھٹھکا تھا
نظریں بے ساختہ تالاب کے پانی میں نظر آتے عکس پر گئیں تھیں
اپنے پیچھے ہڈ پہنے چہرہ ماسک سے چھپائے کھڑے شخص کو دیکھتے عقیدت شاہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا
ہاتھوں میں لمحے کے لیے کپکپاہٹ پیدا ہوئی تھی—
اور پھر اگلے ہی لمحے وہ خود پر قابو پاتے—نامحسوس انداز میں مٹھیوں میں مٹی بھرتی جھٹکے سے پلٹتی اس شخص کے چہرے پر پھینکتی—دائیں ٹانگ سے اس کی ٹانگوں پر وار کرتی بھاگی تھی—
مگر اگلے ہی لمحے وہ اپنی جگہ سکتے سی کیفیت میں وہی جامد ہوئی تھی—
کیونکہ وہاں درختوں کی جھنڈ سے نکلتے مرد اطراف میں گھیرا بنا چکے تھے
ہتھیاروں سے لیس سر جھکائے وہ ایسے کھڑے تھے جیسے اپنے مالک کے اگلے حکم کے منتظر ہو
اور پھر عقیدت نے محسوس کیا کہ اس کے مٹی پھینکنے اور وار کرنے پر بھی اس وجود میں کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی—
ہاتھوں کی کپکپاہٹ چھپانے کی کوشش کرتے سختی سے مٹھیاں بھنچی تھی—
تبھی اپنے قریب تر کسی کو محسوس کرتے عقیدت نے گردن ترچھی کر کہ دیکھنا چاہا اس سے پہلے وہ دیکھ پاتی
درد کی شدید لہر اسے اپنی گردن سے اٹھتی محسوس ہوئی تھی—ہاتھ بے ساختہ پیچھے گیا تھا
جو پہلا احساس اسے محسوس ہوا تھا وہ یہ تھا کہ اسے انجیکٹ کیا گیا تھا
اور اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا تھا—
نیچے گرنے سے پہلے اس نے دوسرا احساس خود کو کسی کی بانہوں میں محسوس کیا تھا
اور یہ احساس کسی بچھو کی مانند عقیدت کو ڈسا تھا—
