Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 26)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 26)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
داجی نے سب کو ڈیرے پر آنے کا حکم دیا تھا
عائث خان نے شہر سے آنا تھا اسی لیے اسے آنے میں دیر ہو جانی تھی—تو داجی نے صبح کی جگہ شام چار بجے تک پہنچ جانے کا کہہ دیا تھا—جس پر سب بنا چوچراں کیے مان گئے تھے—
ڈیرے کے پچھلے جانب بنے صحن جس سے سامنے کھیت صاف نظر آتے تھے—وہاں داجی نے درمیان میں چارپائی بچھوا کر دو چارپائیاں اپنے دائیں بائیں بچھانے کا ملازم کو حکم دیا تو ملازم نے جلد داجی کے کہنے پر حکم کی تعمیل کی
چارپائیوں کی درمیان لکڑی کی میز رکھواتے— ملازم کو چائے پانی کا انتظام کرنے کا حکم دیا
اپنی پگڑی اتار کر سرہانے کے قریب رکھتے داجی نے پلٹ کر صحن کی جانب کھلتے اندرونی دروازے کو دیکھا تو نظر بہرام شاہ کی گاڑی پر پڑی تو داجی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“بہرام شاہ ہمیشہ سے وقت کا پابند تھا—وہ ہر چیز ترتیب سے لے کر چلنے والوں میں سے تھا—اس کا ماننا تھا کہ اصول توڑنا بہادری کی بات نہیں بلکہ اصولوں پر قائم رہنا بہادری کی بات ہے—وہ وقت کی قدر کرتا تھا—اور اس کی یہی باتیں اسے باقی سے سب منفرد اور خاص بناتی تھی”—بہرام شاہ کو سفید رنگ کے کرتا شلوار کے ساتھ بھوری اجرک کندھوں پر لیے– بالوں میں ہاتھ پھیرتے تیزی سے صحن کی جانب آتے دیکھ داجی نے مسکراتے ہوئے چہرے کا رخ سامنے کیا
“اسلام و علیکم داجی— کیسے ہیں آپ”— داجی کے سامنے سر جھکاتے سینے پر ہاتھ رکھتے سلام کیا تو داجی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
بہرام شاہ کے سر پر پیار دیتے سلام کا جواب دیا اور اپنے بائیں جانب پڑی چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو بہرام شاہ سر کو خم دیتا بیٹھ گیا—
ابھی وہ شش و پنج میں مبتلا ہی تھا کہ کیا بات کرے کہ نظریں سامنے سے آتے ضرغام اور چھوٹے خان پر گئی تو سکون کی سانس آئی
وہ جتنا بھی سمجھدار یا بات سنبھالنے کا ہنر رکھتا تھا—لیکن داجی کے ساتھ یا ان کے سامنے کیا بات کرنی ہے وہ بری طرح کنفیویز ہو رہا تھا—اور یہ شاید اس وجہ سے تھا کہ وہ جانتا تھا کہ داجی رشتہ کے متعلق بات کرنے والے ہیں—
ضرغام خان نے بھی سفید کرتا شلوار کے ساتھ گرے اجرک کندھوں پر لے رکھی تھی—جبکہ ارمغان خان بلیو جینز کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے ہوئے تھا—
کل وہ عقیدت کے ساتھ بہت خوبصورت وقت گزار کر آیا تھا—اس کا ارادہ تو تھا کہ وہ عقیدت اور اس کے درمیاں حائل سبھی پردے گرادیں—مگر یہ ظالم سماج تو اس کی گولڈن نائٹ کا دشمن بنا ہوا تھا—ڈیرےسے آتی کال کو سنتے وہ سخت بدمزہ ہوتے وہاں سے واپس آیا تھا—اور عقیدت کو حویلی چھوڑنے کے بعد وہ رات گئے لوٹا تھا تب تک وہ سو چکی تھی—اور صبح سے ضرغام پنچائیت کے معاملات دیکھنے میں مصروف تھا—اور پھر جمعہ کے بعد وہ امام صاحب کے پاس بیٹھ گیا— اور وہاں سے وہ ڈیرے کے لیے نکلا تو راستے میں ارمغان خان مل گیا تو اسے ساتھ لیتے وہ ڈیرے آگیا–اس سب کے دوران وہ ایک بار بھی عقیدت کو دیکھ نہیں پایا تھا—
داجی کا حکم ضروری نا ہوتا تو وہ اس وقت حویلی جا کر باقی کا وقت عقیدت کے ساتھ گزارنے کا ارادہ رکھتا تھا—
“اسلام و علیکم داجی”— داجی سے پیار لیتے وہ دونوں بہرام شاہ کی جانب متوجہ ہوئے
“السلام و علیکم— کیسے ہو یار—تم تو گاؤں نظر ہی نہیں آتے”—ضرغام نے بہرام شاہ سے بغلگیر ہوتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ کا مدھم قہقہہ گونجا
“بھئی تم نے میرا رائٹ ہینڈ اپنے پاس چھپا کر جو رکھ لیا—ذمہ داریاں بڑھ گئیں ہیں میری—تو آنا ذرا مشکل ہوتا ہے”— بہرام شاہ نے مسکرا کر جواب دیا تو ضرغام خان نے مسکرا کر سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا اور بہرام شاہ کے سامنے پلنگ پر بیٹھ گیا—
“السلام و علیکم— کیسے ہیں لالا آپ”— ارمغان خان نے آگے بڑھ کر بہرام شاہ سے بغلگیر ہوتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے مسکرا کر ارمغان خان کے بالوں میں ہاتھ پھیرا
“وعلیکم السلام— ہم تو ٹھیک ہیں تم کیسے ہو چھوٹے خان—سننے میں آیا ہے کہ تمہاری شکایتیں آنا کم ہوگئی ہیں—سب خیریت نا”— بہرام شاہ کے سوال پر ارمغان خان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے نفی میں سر ہلایا تو بہرام شاہ نے مسکرا کر اسے اپنے ساتھ بیٹھایا تو ضرغام خان نے آبرو آچکا کر ارمغان خان کی فرمانبرداری دیکھی
کیونکہ پہلے وہ کہی بھی جاتے تو ارمغان خان کی یہی ضد ہوتی کہ وہ ضرغام خان کے ساتھ ہی بیٹھے گا—پھر چاہے کوئی کچھ بھی کر لیتا وہ اپنی ضد منوا کر ہی چھوڑتا تھا—
ضرغام خان کے گھورنے پر چہرے پر معصومیت طاری کرتے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کندھے اچکائے تو ضرغام خان نے بامشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی—
“تمہارے رائٹ ہینڈ پر اب اس کے رائٹ مین کی زمہ داریاں عائد ہو گئیں ہیں—میرا تو اسے اس دنیا سے چرا کر کہی دور لے جانے کا ارادہ ہے تو لوگ دل مضبوط کر کہ اپنی اپنی زمہ داریاں خود سنبھالے کیونکہ میں اپنی مسسز کے کندھوں پر کسی اور کی زمہ داری قطع برداشت نہیں کر سکتا”— حدائق شاہ کو ان کی جانب آتے دیکھ تیز جتلاتے لہجے میں کہا تو بہرام شاہ نے سمجھ کر نفی میں سر ہلایا
“برخوردار تم تو چودھویں کا چاند ہی ہو گئے ہو”— داجی نے حدائق شاہ سے ملتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ کے تھکن ذدہ چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی
بلیو جینز کے ساتھ بلیو ہی شرٹ پہنے اور ساتھ وائٹ آوور کوٹ پہنے وہ ہاسپٹل سے فری ہوتا سیدھا ڈیرے پر ہی آیا تھا—
گرہن لگا چاند”—ضرغام خان کی بڑبڑاہٹ پر حدائق شاہ نے سختی سے میٹھیاں بھنچتے گردن ترچھی کر کہ ضرغام خان کو گھورا جو اپنے دونوں ہاتھ پلنگ پر پیچھے کو ٹکائے—چہرہ آسمان کی جانب کیے لاپرواہ سا بنا بیٹھا تھا—
“بس کام کی مصروفیت ہی بہت ہے—اور آپ جانتے ہیں کہ ابھی سب کچھ نیا نیا ہے تو سنبھالنے میں وقت لگے گا—اور ایسی باتیں دو گھنٹے پنچائیت میں جا کر لوگوں کی سن سنا کر اس کے بعد دن رات فارغ رہنے والوں کو کیسے پتہ ہو سکتی ہے”— داجی کو جواب دیتے چہرے پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ سجائے بہرام شاہ کے دائیں جانب بیٹھتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے چہرہ سیدھا کرتے کینہ توز نظروں سے حدائق شاہ کو دیکھا
“میرے فرصت کا اندازہ اس بات سے لگا لو کہ تم ابھی تک ماما نہیں بن پائے”—- میز پر آگے کو جھکتے دھیمے مگر طنزیہ لہجے میں کہا تو حدائق شاہ کا دل کیا اس بے باک شخص کا سر پھاڑ دیں
جبکہ ساتھ بیٹھے بہرام اور ارمغان امن دونوں کو مکمل نظر انداز کرتے اردگرد نظریں دوڑانے میں مصروف تھے—
داجی نے ان دونوں کو ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے دیکھتے دیکھ گہری سانس بھرتے سر نفی میں ہلایا
“چھوٹے خان فون کرو آیا نہیں عائث—اور بہرام پوچھا کہا رہ گیا ہے بالاج”— داجی نے ایک ساتھ دونوں کو کہا حدائق شاہ اور ضرغام خان نے سخت نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھتے نظروں کا زاویہ بدلا
“داجی بس پہنچنے ہی والے ہیں دونوں کا میسج آگیا تھا—یہ لیں آگئے لالا”— ارمغان ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ سامنے سے آتے عائث خان کو دیکھتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا
حدائق بہرام اور داجی سے ملتا وہ ارمغان خان کے سر پر پیار کرتا—ضرغام خان کے قریب جگہ سنبھال چکا تھا—مگر ارمغان خان کو بہرام کے بائیں جانب بیٹھے دیکھ عائث خان نے حیرت سے پلٹ کر ضرغام خان کو دیکھتے آنکھوں سے سوال کیا تو ضرغام خان نے کندھے آچکا کر لاعلمی کا مظاہرہ کیا
ابھی وہ عائث کچھ کہتا کہ کھیتوں کے قریب سے گزرتے کچھے رستے سے بالاج شاہ اپنی گاڑی اندر لایا تو ان سب نے گھور کر اسے دیکھا
کیونکہ اس راستے سے کوئی بھی گاڑی نہیں لاتا تھا—سڑک نا ہونے کے برابر ہی تھی—گاڑی تھوڑی آگے پیچھے ہو جائے تو فصل خراب ہونے کا خدشہ ہوتا تھا—
“مگر بالاج شاہ نے پہلے کوئی کام سیدھا کیا تھا جو اب وہ اس سے کوئی امید رکھتے”—
باقی سب تو اسے گھورنے میں مصروف تھے—جبکہ ارمغان خان نے بالاج شاہ کو دیکھتے وہاں سے اٹھنے میں ہی عافیت جانی تھی
یہ بندہ تو اسے ہمیشہ سمجھ سے باہر ہی لگا تھا—اس سے پہلے وہ ارمغان خان کی سمجھ ٹھکانے پہ لاتا کہ وہ اس کی جگہ کیوں بیٹھا اسی لیے ارمغان خان نے اٹھنے میں ہی عافیت جانی
ارمغان عائث کو ہاتھ سے سائیڈ پر کرتا دونوں کے درمیان بیٹھا تو ضرغام خان نے گھور کر جبکہ عائث خان نے شک بھری نظروں سے ارمغان خان کو دیکھا جس پر چھوٹے خان نے بتیسی کی نمائش کی
“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری موجودگی اس قدر اہم ہے کہ ابھی تک بات کا آغاز ہی نہیں کیا گیا”— داجی ضرغام اور ارمغان خان سے ملنے کے بعد بہرام کے بائیں جانب جگہ سنبھالتے ہوئے کہا تو عائث خان نے آبرو آچکا کر طنزیہ نظروں سے بالاج شاہ کو دیکھا
“اہمیت کی بات نہیں—بس داجی یا ہمارے پاس اتنا فضول کا وقت نہیں کہ ایک بات دوبارا سے دہرائیں”— مسکراتے ہوئے طنز کیا تو بہرام شاہ گلہ کھنکارتے ان دونوں سے اپنی نظریں ہٹا کر ضرغام کی جانب دیکھا مگر ضرغام اور حدائق کو بھوکے شیروں کی طرح ایک دوسرے کو گھورتے دیکھ فورآ نظروں کا زاویہ بدلہ کیونکہ اس وقت وہ صرف اپنی شادی کی بات کرنا چاہتا تھا—ان چاروں میں پڑ کر وہ کوئی بربادی نہیں چاہتا تھا—
“اب تمہارے ساتھ ایسا سلوک رہ چکا تو میں کیا کہہ سکتا ہوں—صرف افسوس ہی کر کہ تمہارے دکھ میں شریک ہو سکتا ہوں”— جبڑے بھنچتے دوبدو جواب دیا تو ارمغان خان کو اپنی دال گلنے کے آثار نا ہونے کے برابر ہی دکھنے لگے
___________
“میں نے تم سب کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے بلایا ہے نا کہ ایک دوسرے کو نظروں سے کھا جانے کے لیے”— داجی کے سخت لہجے پر ان چاروں کے چہرے کے تاثرات پل میں نارمل ہوئے تھے— کچھ دیر پہلے کی خون آشام نظروں میں پل میں نرمی اتری تھی—ہونٹوں پرنرم مسکراہٹ سجائے وہ سب داجی کی جانب چہرہ کرتے متوجہ ہوئے تھے—
ان سب کی اتنی شرافت اور سعادت مندی پر داجی دل ہی دل میں عش عش کر اٹھے تھے
“حکم داجی”— وہ سب بے ساختہ یک زبان بولے تو داجی مسکرا دیے جبکہ ان سب کے چہروں کے زاویے لمحے کے لیے پھر بدلے تھے
چبا جانے والی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھتے—وہ داجی کی جانب متوجہ ہوئے
“ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ حدائق اور پلوشے کی رخصتی کہ ساتھ امتثال کہ فرض سے ببی سبکدوش ہو جائیں—امتثال بیٹیاں کے لیے ہم نے بہرام شاہ کا انتخاب کیا ہے—- امید ہے تم سب کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا”— داجی کے دو ٹوک لہجے میں کہنے پر ضرغام اور عائث نے نظروں کا رخ بہرام شاہ کی جانب سر تا پیر اس کا بغور جائزہ لیا تو بہرام شاہ نے کنفیوژ ہوتے چہرے کا رخ بدلنا چاہا— مگر دائیں جانب حدائق شاہ کو خود کو گھورتے پا کر سٹپٹا کر بائیں جانب دیکھا—تو بالاج شاہ کو خاموش مگر سوالیہ نظروں سے اپنی جانب متوجہ دیکھ—بہرام شاہ کو اپنا آپ کسی خلائی مخلوق سا لگا
نظریں بالاج سے ہوتی منہ کھولے حیرت سے اپنی جانب دیکھتے چھوٹے خان پر گئیں تو بہرام شاہ کو اپنے خوبرو چہرے پر شک ہونے لگا
“کیا یہ بات اتنی ناقابل یقین تھی کہ ان سب کی حیرت کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی—اگر امتثال خان خوبصورت تھی—تو وہ بھی تو شہزادوں سے کم نہیں تھا پھر وہ سب اس طرح سے کیوں دیکھ رہے تھے اسے – یہ بات بہرام شاہ صرف سوچ ہی سکا تھا کہنے کی ہمت نہیں کر پایا تھا—گلہ کھنکارتے—آگے ہو کر میز سے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگاتے اردگرد نگاہ دوڑائی تو ان سب کو ابھی بھی خود کو مشکوک نظروں سے دیکھتے پا کر گلاس میں اور پانی ڈالتے ہونٹوں سے لگا لیا
“اگر تم لوگوں نے اس بچارے کا ایکسرا کر لیا ہو تو مجھے جواب بھی دے دو”— داجی کی جھنجھلائی آواز پر سب نے چونک کر ان کی جانب دیکھا—
جبکہ بہرام شاہ نے سکون کا سانس لیا
“ہمیں امتثال اور بہرام کے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں—جیسا آپ کو بہتر لگے—مگر ہم امتثال سے اس کی مرضی پوچھ کر ہی کوئی حتمی فیصلہ کریں گے—اور اگر ہمیں کسی دوسری بات پر اعتراض ہوا بھی تو کیا کر سکتے ہیں آپ فیصلہ تو کر چکے ہیں”— داجی کو جواب دیتے آخر میں حدائق شاہ پر نظریں ٹکائے طنز کا تیر پھینکا تو حدائق شاہ نے کچا چبا جانے والی نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا
“ہمم—امتثال سے ہم بات کر لیں گے—اور اہم بات یہ کہ ہم ماضی کی کسی بات کو دہرانا نہیں چاہتے—اگر یہ نئے رشتے بنانے کا ہم فیصلہ لے رہیں ہیں تو صرف نفرت کی دیوار کو گرانے کی خاطر—مگر ایک بات تم سب کان کھول کر سن لو— اگر اپنی آپس کی کسی بحث یا لڑائی میں بچیوں کو گھسیٹا تو پنچائیت کے سامنے سزا بھی سنائی جائیں گی—اور تم لوگوں کو کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ تم لوگوں کہ نکاح میں رہیں— میاں بیوی کے آپس میں کئی اختلافات ہو جاتے ہیں—بیویاں روٹھ کر میکے بھی آجاتی ہیں—اگر اس بات پر کہ میری بہن کے ساتھ تمہارے بھائی نے یہ کیا وہ کیا کر کہ اپنی بیوی کو تکلیف دی تو بھول جانا کہ ولی خان انہیں ایسے کم ظرفوں کے ساتھ رہنے دے گا— میاں بیوی کے معاملے میں کوئی دوسرا نہیں بولے گا اور ان کی وجہ سے اپنا رشتہ بھی خراب نہیں کرے گا— سمجھ آرہی ہے یا جو تھی وہ بھی گنوا چکے ہو”— داجی کے سخت لہجے پر ان سب نے شرافت سے سر اثبات میں ہلایا تھا—
جبکہ نکاح میں نا رہنے والی بات پر ان سب کے دل منہ کو آئے تھے— ضرغام اور حدائق نے تو بے چینی سے پہلو بدلہ تھا—عائث خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے سختی سے مٹھیاں بھینچی—آنکھوں کے سامنے حوریہ کی روئی روئی کانچ سی آنکھیں آئیں تو دل بے ساختہ دھڑکا تھا
“ایسا کچھ نہیں ہوگا داجی”—ضرغام خان نے نظریں جھکائے جواب دیا تو داجی نے ہنکارہ بھرا
“آپ ہم پر اتنا بھروسہ تو کرسکتے ہیں—وہ ہمارے نام سے منسوب ہماری عزتیں ہیں—ان کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے”— حدائق شاہ کے کہنے پر داجی نے سر اثبات میں ہلایا
“ہم خان ہیں داجی—کم ظرف نہیں ہوسکتے— ہم اپنے نام سے جڑی عورت کے لیے ڈھال تو بن سکتے ہیں— مگر اسے کسی دشمنی میں مہرہ نہیں بنا سکتے”— عائث خان کے سخت لہجے پر داجی نے گہری سانس بھرتے بہرام شاہ کو دیکھا جو سر جھکائے بیٹھا تھا—
“یہی امید ہے تم لوگوں سے—صرف ان بچیوں کی نہیں ہماری عزت بھی تم لوگوں کے ہاتھ میں ہیں—ہمیں ان کے سامنے شرمندہ نا کرنا—کل کو وہ ہمارے سامنے شکوہ کرنے نا آئیں کہ نفرت ختم کرنے کے لیے ہم نے انہیں ہی ختم کر ڈالا—اپنی سبھی معصوم پوتیاں اور نواسیاں تم لوگوں سے بھی عزیز تر ہیں—نظروں سے دور بھیجنے کا حوصلہ نہیں اسی لیے تم نالائقوں کے پلے باندھنے پر مجبور ہیں—اسی بہانے تم لوگوں کی بھی قسمت سنور جائیں گی—اور اب آجاؤ سب حویلی رات کے کھانے کا وقت بھی ہونے والا— ساتھ جا کر ہی عورتوں کو اس بات سے بھی آگاہ کر دے پھر تیاریاں شروع کریں وہ”— داجی کی نالائقوں والی بات پر ان سب کی مسکراہٹ پل میں سمٹی تھی— داجی کی معصوم پوتیوں اور نواسیوں کی حرکتیں یاد آئیں تو سب دل ہی دل میں ان کی معصومیت پر عش عش کر اٹھیں
اگر وہ سب داجی کو ان کی معصومیت کے قصے سنانے بیٹھ جاتے تو داجی کا دل ضرور بیٹھ جانا تھا
مگر وہ سب خاموشی سے نالائقوں کا خطاب قبول کرتے خاموشی اختیار کر گئے تھے—کیونکہ داجی کا کچھ معلوم نہیں تھا اپنی معصوم پوتیوں اور نواسیوں کو چھپا ہی دیتے—
داجی نے سب کو اپنی اپنی گاڑیوں میں آنے کی بجائے ایک ساتھ ہی جیپ میں چلنے کا کہہ تو ان سب کے چہرے ایسے ہوئے جیسا کچا بادام کھا لیا ہو
بہرام نے تو اس سب سے بچنے کی خاطر ارمغان خان سے جیپ کی چابی لیتے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی—جبکہ داجی بہرام کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تو حدائق ضرغام عائث بالاج ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے جیپ کے پیچھے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے
وہ سب خاموشی سے ایک دوسرے کو گھورنے میں مصروف تھے تو ارمغان خان نے بھی خاموشی میں ہی عافیت جانی
__________
وہ سب حویلی پہنچے تو ضرغام اور عائث کا ارادہ اپنے کمروں میں جانے کا تھا
مگر داجی نے انہیں ڈرائنگ روم میں ہی روک دیا تو وہ منہ بسورتے وہی بیٹھ گئے کھانے کا وقت ہوا تو وہ داجی کے ہمراہ ڈائننگ ٹیبل پر پہنچے تو وہ ظالم حسینائیں پھر نا دکھی
منہ بسورتے کرسیاں پٹکنے کے انداز میں کھینچتے اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے تو داجی نے ان کی دل کی حالت سمجھتے سر نفی میں ہلایا
“آپ کیوں کھانا لگا رہی ہیں— بڑی بی بی کہاں ہیں—انہیں کہیں آکر کھانا لگائیں”—ملازمہ کو ٹیبل پر کھانا لگاتے دیکھ ضرغام خان نے سخت لہجے میں استفسار کیا تو ملازمہ نے سٹپٹا کر دیکھا
شاہ اور خان حویلی میں رواج تھا کہ حویلی کے سارے کام چاہے ملازم ہی کریں—مگر کھانا بنانا اور ٹیبل پر لگانا یہ حویلی کی عورتوں کی ہی ذمہ داری تھی
مگر اس وقت زمہ داری کی تو ضرغام خان کو پرواہ ہی نہیں تھی—وہ بس جلد اذ جلد عقیدت شاہ کو دیکھ کر اپنی بے چین آنکھوں کو سکون پہنچانا چاہتا تھا—اور وہ تھی کہ سامنے آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی—
جبکہ حدائق شاہ نے ایک نظر ملازمہ کے جھکے سر کو دیکھ ضرغام خان کے سرخ چہرے کو دیکھا—
وہ اس بات پر کوئی اعتراض بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ضرغام کیوں اس کی بہن پر ایسے حکم چلا رہا ہے—وہ جانتا تھا کہ ان سب کو گھر کی عورتوں کے ہاتھ کی کھانے کی عادت ہے اور یہی عادت تو ان سب کو بھی ہے—جبکہ ضرغام کو کچھ کہنے کی بجائے اسے عقیدت اور حوریہ کی لاپرواہی پر غصہ آیا تھا اور ساتھ پلوشہ کے بھی جب انہیں پتہ ہے کہ وہ سب ان کے عادی ہیں تو ملازمہ کو بھیجنے کا مطلب
“وہ—سس-سردار جی داجی نے فون کیا تھا کہ مہمان آنے والے تو بڑی بی بی اور چھوٹی بی بی تب سے کچن میں کھانے کی تیاریاں کرنے میں مصروف تھی—پتہ نہیں تھا جی کہ مہمان لوگ کون اسی لیے وہ نہیں ائیں—میں بھیجتی ہوں انہیں”— ملازمہ نے ایک ہی سانس میں وجہ بتائی تو ضرغام خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“جب پتہ نہیں تھا کہ مہمان کون ہیں تو آپ خود کیوں آئی ہیں—اگر نیکسٹ ٹائم ایسا ہو تو خود بھی مت آئیں گا ارشد کو بھیج کر پہلے پتہ کروا لیجئے گا— ویسے اس کی ضرورت تو نہیں ہونی چاہیے اپنی بیبیوں کا بتا دیجئے گا کہ اگر کوئی غیر مرد ہوتا تو حویلی کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں کجا کہ ہمارے ساتھ ہی—غیر مردوں کے مردان خانہ ہے “— عائث خان نے موبائل پر میسج ٹائپ کرتے ہوئے کہا تو ملازمہ نے سر اثبات میں ہلاتے وہاں سے دوڑ لگانے میں ہی عافیت جانی تھی—
___________
عقیدت نے سالن کا ڈونگا ٹیبل پر رکھتے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا جس کے چہرے پر عقیدت کو دیکھتے زندگی سے بھرپور مسکراہٹ رینگ گئی تھی
ایک تو وہ دوپہر سے اتنا کھپ رہی تھیں کہ پتہ نہیں کون آنے والا—مگر یہاں تو آتے ہی شوہر صاحب نے سب کے سامنے اس کی کلاس لگا دی تھی—
ضرغام خان کی مسکراتی آنکھوں میں دیکھتے جب عقیدت نے حدائق شاہ کے ساتھ والی چئیر پیچھے کھسکائی تو لمحے میں ضرغام خان کی مسکراہٹ سمٹی تھی—
عقیدت کے ساتھ حوریہ کو بیٹھتے دیکھ عائث خان نے گھور کر اسے دیکھا تھا
اب منظر کچھ یو تھا کہ ڈائننگ ٹیبل کی سربراہی کرسی پر داجی—ان کے بائیں جانب بہرام—بہرام کے ساتھ حدائق اور پھر عقیدت اور حوریہ بیٹھیں تھیں—
جبکہ دوسری جانب داجی کے دائیں جانب ضرغام خان—اور درمیان میں دو کرسیاں عقیدت اور حوریہ کے لیے چھوڑ کر عائث خان اور عائث کے ساتھ ارمغان خان بیٹھا تھا—
وہ لوگ راستے میں ہی تھے کہ بالاج شاہ کسی کہ میسج آنے پر وہاں سے جلدی سے نکلا تھا
جس پر داجی نے اسے جانے دیا تھا—
جبکہ پلوشہ بخار کی وجہ سے اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی اور امتثال کو اتنی جلدی کھانا کھانے کی عادت نا تھی
مقدس بیگم تو کل سے اپنے کمرے سے ہی نہیں نکلی تھی—اور کشف بیگم اپنی دوائی لے کر آرام کر رہی تھیں—
عقیدت اور حوریہ کو دوسری جانب بیٹھتے دیکھ عائث خان نا محسوس انداز میں اٹھ کر ضرغام خان کے ساتھ بیٹھ گیا جسے دیکھ ارمغان بھی عائث خان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا
“مرچیں کچھ زیادہ ہی نہیں آج کھانے میں “— ضرغام خان نے کھانا کھاتے ہوئے کہا تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا
“تمہیں تو آج لگنی ہی ہیں”— حدائق شاہ نے مسکرا کر کہتے بریانی کا چمچ بھر کر منہ میں رکھا تو ضرغام خان نے تیز نظروں سے اسے گھورا
“بالکل ٹھیک تو ہے—جیسی روز ہوتی ہیں”— داجی نے ضرغام خان کو دیکھتے سرسری لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے سر جھٹکا
اب وہ انہیں کیا بتاتا مرچیں صرف کھانا کھا کر نہیں لگتی اور بھی بہت طرح لگتی ہیں جیسے ابھی ان سب کو ایک دوسرے کو دیکھ کر خاص کر اپنی بیویوں کو بارڈر کے دوسری جانب بیٹھے دیکھ کر لگ رہی ہیں—لیکن وہ تو معصوم بچہ تھا آگ لگانے والا کام تھوڑی کر سکتا تھا—اسی لیے خاموشی سے سر جھکائے کھانا کھانے میں خود کو مصروف کرلیا
“تمہیں تو لگتی رہتی ہیں—اسی لیے زیادہ فیل نہیں ہو رہیں ہونگی—میرا مطلب تم لوگ سپائسی کھانا کھاتے ہو نا زیادہ تر”— ضرغام خان نے آبرو آچکا کر ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے کہا تو حدائق شاہ نے مٹھیاں بھنچتے ضرغام خان کو دیکھا
“آپ رہنے دیں یہ کھانا کھانے کو—مجھے بھی لگ رہا زیادہ مرچیں ہو گئی ہیں—آپ کے لیے رانی سے کہہ کر کم مرچوں والا کھانا بنوا دیتی ہوں— تب تک آپ پھل وغیرہ کھا لیں”—ایک جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتے ضرغام خان کے قریب جاتے کھانے کی پلیٹ اٹھاتے سپاٹ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے گڑبڑا کر عقیدت شاہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا
جبکہ عقیدت کے اس عمل پر وہاں بیٹھے سب افراد نے بامشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا تھا
جبکہ عائث خان نے اپنے خاموش رہ جانے پر شکر ادا کیا تھا ورنہ وہ بھی اس کھانے سے محروم ہو سکتا تھا
“نن—ہیں میں کھا لوں گا—اتنی محنت سے بنایا ہے—ویسے بھی رزق ضائع نہیں کرتے”—عقیدت شاہ کے ہاتھوں سے پلیٹ پکڑنے کی کوشش کرتے بات سنبھالتے ہوئے کہا تو داجی نے ان کے ڈراموں پر نفی میں سر ہلایا
“کوئی ضرورت نہیں—رانی ویسے بھی صبح سے فارغ ہے—اب تھوڑی محنت وہ آپ کے لیے کر لے گی—آپ یہ زیادہ مرچیں کھانے کی زحمت نا کریں— اور فکر نا کریں رزق ضائع نہیں ہوگا—ارشد کو بھیج دوں گی”— عقیدت نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو ارشد کی بات پر ضرغام خان نے گھور کر دیکھتے پلیٹ چھوڑ دی
عائث خان نے گہری خاموش نظروں سے حوریہ شاہ کے جھکے سر کو دیکھا
جو برائے نام کھانا کھا رہی تھی—پلیٹ میں چمچ گھماتی وہ عائث خان کو کسی اور ہی دنیا میں گم لگی
خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتے حوریہ نے جیسے ہی سر اٹھایا تو نظریں عائث خان کی چاکلیٹ براؤن آنکھوں سے ٹکرائی
اس قدر زور آور آنکھوں کے تصادم پر حوریہ کا دل بے ساختہ دھڑکا تھا
عائث خان کی خاموش روح تک اتر جانی والی نظروں میں دیکھنا حوریہ کے لیے ہمیشہ سہان روح رہا تھا
تبھی گھبرا کر لمحے میں نظروں کا زاویہ بدلا تو حوریہ کی اس حرکت پر عائث خان کی آنکھوں میں پل میں وحشت اتری تھی—
ان سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا سوائے ضرغام خان کے جو ناراض نظروں سے عقیدت کے چہرے کو دیکھنے میں مصروف تھا—
کھانا کھاتے مرد سب اٹھ کر لاونج میں چلے گئے تو عقیدت اور حوریہ ٹیبل سمیٹتی کچن میں چلی گئیں
________
عائث خان بہانے سے اٹھتا کچن کی جانب آیا تو عقیدت اور حوریہ کو ملازمہ سے کچن صاف کرواتے دیکھ دروازے پر ہی رک گیا
جیسے ہی عقیدت فریج کی جانب بڑھی تو بنا آواز کیے آگے بڑھ کر اپنی جانب پیٹھ کیے کھڑی حوریہ کے ہونٹوں پر سختی سے ہاتھ جماتے—ایک ہاتھ پیٹ کے گرد لپیٹے دبے قدموں وہاں سے نکلا تھا—
“کیا بتمیزی ہے یہ خان”— کچن کے پچھلے جانب بنے چھوٹے سے سٹوروم کے قریب پلر کے ساتھ حوریہ کو لگاتے اپنے ہاتھ اس کے اردگرد رکھے تو حوریہ نے اس اچانک افتاد پر سنبھلتے سخت لہجے میں کہا تو عائث خان نے گھور کر حوریہ کو دیکھا
“اور وہ کیا بتمیزی تھی جو تم نے ٹیبل پر کی— میرے دیکھنے پر نظریں کیوں پھریں ہاں”— ایک ہاتھ حوریہ کے سر کے قریب اوپر رکھتے دوسرے ہاتھ سے حوریہ کی تھوڑی تھامے سخت لہجے میں کہا تو حوریہ نے گھور کر عائث خان کو دیکھا
“اب آپ کیا چاہتے ہیں میں وہاں سب کے درمیان بے شرموں کی طرح آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بیٹھ جاتی”—حوریہ کے جھنجھلا کر کہنے پر عائث خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے
“زیادہ زبان درازی مت کرو— ایک بات کان کھول کر سن لو— جب میں تمہاری طرف دیکھو تو تم پر فرض ہے کہ تم میری آنکھوں میں دیکھو— تمہیں لوگوں کے ہونے یا ہونے سے فرق نہیں پڑنا چاہیے—تمہیں صرف اس بات سے فرق پڑنا چاہیے—کہ تمہارا شوہر کیا چاہتا ہے”— حوریہ کے چہرے پر ہاتھ کی پشت پھیرتے گھمبیر لہجے میں کہا تو حوریہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے عائث خان کے سرخ و سپید چہرے کو دیکھا
“اور اپ کیا چاہتے ہیں”— ہونٹوں سے بے ساختہ ادا ہوئے لفظوں پر حوریہ کا دل کیا ماتھا پیٹ لے— وہ اس مسینے خان کی سب چاہتوں سے واقف تو تھی اور اب اپنے سوال پر عائث خان کے ہونٹوں پر رنگتی معنی خیز مسکراہٹ دیکھ حوریہ کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہونے لگی
“تمہیں نہیں پتہ کہ میں کیا چاہتا ہوں”— معنی خیز نظروں سے حوریہ کے ہوش ربا سراپے کو دیکھتے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر سرگوشی کی تو حوریہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی
“نن—ہیں مجھے عقیدت لالی بلا رہی ہیں شاید میں”—نفی میں سر ہلاتے وہاں سے جانے کے لیے ہر تولے تو عائث خان نے شہادت کی انگلی حوریہ شاہ کے باریک گلابی ہونٹوں پر رکھی
“ہشش—چاہتیں تو بہت ہیں میری—اور سبھی تم سے وابستہ ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم ان سب سے واقف ہو—مگر فلحال میں تمہاری نازک سی جان کو زیادہ مشکل میں نہیں ڈالوں گا—بس تھوڑا سا اپنے حق میں سے حصہ چاہئے”—حوریہ کے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لاتے بوجھل لہجے میں سرگوشی کی تو عائث خان کی دہکتی سانسوں کی تپش اور بولنے کے باعث ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے حوریہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا
“عع—عائث کک-کوئئ اجائے گا”—کپکپاتے ہاتھ عائث خان کے سینے پر رکھتے—دیوار کے ساتھ چپکتے—چہرے کا رخ بدلتے التجائیہ لہجے میں کہا تو عائث خان نے جواب دیے بغیر اپنے ہونٹ حوریہ کے گال پر شدت سے ثبت کیے—
سینے پر دھڑے حوریہ کے ہاتھوں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے—جھٹکے سے حوریہ کو قریب کرتے اپنے سینے سے لگا کر حوریہ کے ہاتھ پشت پر باندھے
“آئی ڈونٹ کئیر— آئی وانٹ ٹو فیل یو—رائٹ ناؤ اینڈ ڈیٹس اٹ”— حوریہ کی سانسوں میں گہری سانس بھرتے شدت بھرے لہجے میں کہا تو حوریہ نے چہرہ سیدھا کرتے عائث خان کی جذبے لٹاتی آنکھوں میں دیکھا
ہاتھ کی پشت پر بندھے ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں اڑستے دیوار سے لگاتے—حوریہ شاہ کی کرسٹل گرے آنکھوں میں دیکھتے عائث خان نے جھک کر اپنے تشنہ لب حوریہ کے ہونٹوں پر رکھتے حوریہ کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی سخت گرفت میں لیا
پوری شدت سے حوریہ کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں شامل کرتے عائث خان نے شدت سے حوریہ کو خود میں بھنچ لیا— دایاں ہاتھ حوریہ کے بالوں میں الجھاتے—دوسرے ہاتھ کو کمر کے گرد لپیٹے حوریہ کو زمین سے اٹھاتے—سختی سے خود میں بھنچ لیا
خود کو ہوا میں محسوس کرتے حوریہ نے عائث خان کی پشت پر ہاتھ باندھتے سختی سے شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچا تھا
معںی خیز خاموشی اور قربت کا دورانیہ بڑھنے لگا تو عائث خان نے حوریہ کی بکھرتی سانسوں کو محسوس کرتے اپنے ہونٹ نرمی سے جدا کیے جبکہ حوریہ کو نیچے ابھی بھی نہیں اتارا تھا—
دونوں کی دھونکنی کی مانند چلتی سانسیں ایک دوسرے میں شامل ہوتی—حواسوں پر چھانے لگی تھیں—
خمار آلود بہکی نظروں سے حوریہ کے خون چھلکاتے چہرے اور اپنی شدت سے سرخ پڑتے نم ہونٹوں کو دیکھتے عائث خان نے جھک کر شدت سے اس نمی کو ہونٹوں سے چھوا تھا—
“تمہارا دل نہیں چاہتا کہ ہمارے درمیان یہ جو بے معنی دوریاں ہیں وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں—میں تمہارے اتنا قریب آجاؤ کہ ہم دونوں کے درمیان صرف محبت و قربت ہو اس کے سوا ہوا تک کا گزر نا ہو”— حوریہ کے چہرے کو شدت سے چومتے بہکے لہجے میں سرگوشیاں کرتا وہ حوریہ کو کپکپانے پر مجبور کر گیا تھا
“عع-عائث ہم روم میں نہیں ہیں—سب حویلی میں ہیں—پلیز سمجھے نا”—عائث خان کے گستاخیاں کرتے ہونٹوں پر اپنی ہتھیلی جماتے التجائیہ لہجے میں کہا تو عائث خان نے گھور کر حوریہ کو دیکھا—
“اور تمہیں لگتا ہے کہ مجھے ان کی پرواہ ہے—اگر تم یہ باتیں روم میں کرنا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے—ہم آج رات اس ٹاپک پر ہی بات کریں گے—اور مجھے یقین ہے کہ فیصلہ میرے حق میں ہی ہوگا—اور صبح تک ہم اس فیصلے پر عمل بھی کر چکے ہوگے”—- حوریہ کے ہونٹوں کو سہلاتے دھیمے انچ ذدہ لہجے میں کہا تو حوریہ نے سر اثبات میں ہلانے میں ہی اپنی عافیت جانی
فلحال تو وہ بس اس جان لیوا حصار سے فرار چاہتی تھی— رات کی رات میں دیکھنے کا سوچتے عائث خان کے پیچھے ہوتے وہ چار سو بیس کی سپیڈ میں وہاں سے سر پٹ بھاگی تھی
جبکہ حوریہ کی پھرتی دیکھ عائث خان نے گھور کر اسے خود سے دور جاتے دیکھا تھا—
_________
حدائق پتر تم ذرا پلوشے کو دیکھ لینا—کل رات سے بخار ہے ڈاکٹر کہ پاس بھی یہ لڑکی نہیں گئی—تم دیکھ لو ہماری تسلی ہو جائے گی—اگر کوئی دوا وغیرہ ہوئی تو لکھ دینا ہم ابھی منگوا لیں گے”— داجی نے حدائق شاہ سے کہا تو حدائق شاہ نے چہرے پر سنجیدگی طاری کیے سر اثبات میں ہلایا
اپنا بریف کیس پکڑتے—بہرام کو داجی کو باتوں میں لگانے کا اشارہ کرتے ڈرائنگ روم سے نکلتے پلوشہ کے کمرے کا رخ کیا
احتیاط سے اردگرد نگاہ دوڑا کر عائث اور ضرغام خان کو دیکھا
کیونکہ فلحال وہ ان دونوں سے سر کھپانا نہیں چاہتا تھا—دل تو اس وقت اپنی شائننگ سٹار کے بیمار ہونے کا سن کر بری طرح بے چین ہو رہا تھا—
پلوشہ کے کمرے میں داخل ہوتے—پلٹ کر کمرے کا دروازا بند کیا
نظریں کمرے کے اطراف میں گھمائی تو پلوشہ کہی نظر نا آئی تبھی واش روم کا دروازا کھلنے کی آواز پر حدائق شاہ نے پلٹ کر دائیں جانب دیکھا
جہاں پلوشے بلیک کرتا شلوار پہنے—بالوں کی ڈھیلی چٹیاں کیے— بخار کی حدت سے سرخ پڑتا چہرہ جس پر اس وقت پانی کے قطرے شبنم کے قطروں کی مانند ٹھہرے ہوئے تھے—دوپٹے سے بے نیاز ہوش ربا سراپہ لیے وہ بری طرح حدائق شاہ کے جذبات جگا چکی تھی—
خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتے پلوشہ نے تھکن ذدہ چہرے کو اٹھایا تو دل دھک سے رہ گیا
ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ حدائق شاہ نے بریف کیس صوفے پر اچھالتے قدم پلوشہ کی جانب بڑھائے
“تمہیں اندازا بھی نہیں مائے شائنگ سٹار کے تمہیں دیکھنے کے لیے یہ دل کس قدر بے چین تھا—اور طبعیت خراب تھی تو ڈاکٹر کو کیوں نہیں دکھایا دیکھو کیسے آگ کی طرح جل رہا ہے جسم”—آگے بڑھتے پلوشہ خان کے کندھوں کے گرد بازو لپیٹ کر سینے میں بھنچتے محبت بھری سرگوشی کرتے بعد میں شکوہ کیا تو پلوشہ نے کسمسکا کر حدائق شاہ کا حصار توڑنا چاہا
“حح-حدائق—اففف—شاہ ہٹیں بھی ہمیں سانس نہیں آرہا”— حدائق شاہ کے سینے سے منہ نکالنے کی کوشش کرتے مدھم لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے گھور کر پلوشہ خان کے سر کو دیکھا
پھر سر جھٹکتے جھٹکے سے پلوشہ کو بانہوں میں اٹھاتے قدم صوفے کی جانب بڑھائے
“اور مجھے تو سانس ہی تمہارے قرب میں آتا ہے”— پلوشہ کو صوفے پر بٹھا کر اس کے سامنے بیٹھ کر بوجھل لہجے میں کہا تو حدائق شاہ کی بات پر پلوشہ کی آنکھیں شرم سے جھکی تھیں—ہونٹوں پر شرمیگی مسکراہٹ رینگی تو حدائق شاہ نے جھکتے نرمی سے اس مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں میں قید کیا
جس پر پلوشہ نے سٹپٹا کر دور ہونا چاہا—
“یہ احتجاج—جھجھک اور یہ دوریاں صرف کچھ دنوں تک ہی ہیں شائننگ سٹار—اس کے بعد صرف حدائق شاہ ہوگا اور اس کی جنون خیزیاں—تب مجھ سے اس نرمی کی امید نا رکھنا اس معاملے میں تو کبھی بھی نہیں”— پلوشہ کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے انگھوٹے کو پلوشہ کی دائیں کلائی پر رب کرتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے گھنی پلکوں کی جھالر اٹھا کر حدائق شاہ کی سرخ نیلی آنکھوں میں دیکھا
“آپ ک-کب آئیں”— حدائق شاہ کی نظروں سے بچنے کی خاطر سوال کیا تو حدائق شاہ کچھ یاد آنے پر چونکا
“او ہوں— تمہارا بخار دیکھنے آیا تھا—داجی نے کہا تھا کہ تمہیں دیکھ آؤ انہیں تسلی ہو جائے گی”—پیچھے ہٹتے بیگ سے تھرما میٹر نکالتے ہوئے سرسری لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے ہونٹ بھنچتے سر جھکایا
بخار اور بی پی چیک کرتے حدائق شاہ نے پرچی پر دوائیاں لکھیں انجیکشن لگانے کا اس نے رسک نہیں لیا کیونکہ وہ بچپن سے جانتا تھا کہ اسے انجیکشن سے ڈر لگتا ہے
میڈیسن میں بھی کوئی سیرپ نہیں تھا—کیونکہ اسے یقین تھا کہ میڈم کڑوا کہہ کر نہیں پئیے گی
“ہوگیا آپ کا کام تو اب جا سکتے ہیں”— پلوشہ کے روٹھے لہجے پر حدائق شاہ نے چونک کر اسے دیکھا جو ابھی اپنے ہاتھوں سے کھیلنے میں مصروف تھی
“کیا مطلب—تم ناراض ہو”—اسے سچ میں سمجھ نہیں آئی تھی کہ ہوا کیا ہے تبھی بات گھمائے بغیر ڈائریکٹ استفسار کیا تو پلوشہ نے ناک سکوڑتے چہرے کا رخ بدلا
“مطلب داجی کی تسلی کے لیے مجھے دیکھنے آئیں تھے—دیکھ لیا دوا بھی لکھ دی اب جا سکتے ہیں آپ”— ہنوز نروٹھے لہجے میں جواب دیا تو حدائق شاہ نے پہلے نا سمجھی اور پھر سمجھ آنے پر قہقہہ لگاتے—پلوشہ خان کی کمر میں بازو لپیٹ کر ایک جھٹکے میں اسے اپنے حصار میں لیتے—قید کیا
“داجی کے کہنے پر تمہیں دیکھ لیا ان کی تسلی بھی ہو جائے گی—مگر اب تمہیں شوہر بن کر بھی تو دیکھنا ہے—تب تم نے میرے کام میں دخل نہیں دیا مجھے امید ہے کہ اب میرے پیار والے اہم ترین کام میں بھی احتجاج نہیں کرو گی”— پلوشہ کی چھوٹی سی سرخ پڑتی ناک کو دانتوں تلے دباتے شوخ لہجے میں کہا تو پلوشہ نے سٹپٹا کر حدائق شاہ کو دیکھا—
“مم—میرا وہ مطلب نہیں تھا”—دونوں ہاتھ حدائق شاہ کے کندھوں پر رکھتے منمنا کر کہا تو حدائق شاہ نے مسکراتے محبت سے پلوشہ کے ماتھے کو چھوا
“میرا تو وہی مطلب تھا جو میری بیوی سمجھ چکی ہے”—پلوشہ کی انگلیوں میں انگلیاں اڑستے ہاتھوں کی پشت پر اپنے پرحدت ہونٹوں کا لمس چھوڑتے—شوخ لہجے میں کہا تو پلوشہ بے اختیار سمٹی تھی—
“آپ نے میرا حال تو پوچھا نہیں”— نظریں حدائق شاہ کے ہاتھوں کی رگوں پر ٹکائے شکوہ کیا تو حدائق شاہ نے ہونٹوں کو اووو کی شکل میں کھولا
“تو کیا حال ہے میری بیگم کا—آہہ—تم چھوڑو میں خود ہی اپنی بیگم کا حال دیکھ لیتا ہوں”— سنجیدہ لہجے میں کہتے اپنی بات کی نفی کرتے ہاتھ کی پشت پلوشے کے ماتھے پر رکھا تو پلوشہ نے منہ بسور کر حدائق شاہ کو دیکھا
مگر جان تو تب ہوا ہوئی جب حدائق شاہ نے جھک کر پلوشہ کی بخار کی حدت سے دہکتی سانسوں میں سانس لیتے—بالوں میں ہاتھ پھنسا کر چہرہ اوپر کرتے دل کے مقام پر کان رکھا تو پلوشہ کا دل ننھا سا دل اس بے باکی پر کانپ گیا
حدائق شاہ کے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے جان لیوا لمس کو اپنی گردن سے آگے سے پیچھے کی جانب حرکت کرتے محسوس کر کہ پلوشہ بری طرح کسمسائی تھی—
“حدائق—پپ—پلیز”— حدائق شاہ کے بالوں میں انگلیاں پھنساتے چہرہ اوپر کی جانب کرتے—تڑپ کر چہرہ حدائق شاہ کی گردن میں چھپا کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے بامشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا
“کیا ہوا—ابھی تو میں نے ٹھیک سے حال بھی نہیں دیکھا اور تم چہرہ چھپا رہی ہو—علاج کرنا تو باقی ہے”— پلوشہ کی کمر پر انگلیوں کو پھیرتے ایک ہی جھٹکے میں پشت پر لگی زپ کو کھولتے جھک کر اپنے لب پلوشہ کے کندھے سے تھوڑا نیچے کمر پر رکھا تو پلوشہ کو اپنے وجود میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئی
ابھی وہ بچاری مزاحمت بھی نا کر پائی تھی کہ حدائق شاہ نے کندھوں سے شرٹ کھسکاتے پلوشہ کو چہرہ اپنے سامنے کیا
بنا پلوشہ کو احتجاج کا موقع دیے وہ پوری شدت سے پلوشہ کے کپکپاتے گلاب سی پنکھڑیوں پر جھک گیا
اپنے ہونٹوں میں پلوشہ خان کے ہونٹوں کو شدت سے دباتے کندھوں پر اپنے ہاتھ کے پشت پھیرتے وہ پلوشہ کو کپکپانے پر مجبور کر گیا تھا
پلوشہ کی کمر میں بازو لپیٹتے—اس سے دور ہوئے بغیر اوپر اٹھاتے صوفے پر لٹاتے حدائق شاہ گھنی گھٹا کی طرح پلوشہ پر سایہ کرتا چلا گیا—
حدائق شاہ کے ہونٹوں کو لمحے میں اپنے ہونٹوں سے گردن کا فاصلہ طے کرتے پلوشے نے بکھرے تنفس اور دھڑکتے دل کے ساتھ احتجاج کرنا چاہا
مگر حدائق شاہ سب بھلائے پلوشہ خان کے احتجاج کرتے ہاتھوں میں اپنی انگلیاں اڑستا— گردن اور کندھوں پر جابجا اپنی شدتیں نچھاور کرنے لگا
کمرے کی معنی خیز خاموشی میں پلوشہ کی بکھری سانسوں اور حدائق شاہ کی دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں کا شور برپا تھا—
اپنی گردن سے چہرے تک حدائق شاہ کے جھلسا دینے والے لمس کو محسوس کرتی وہ حدائق شاہ کے سینے میں چھپنے لگی تو حدائق شاہ نے سختی سے پلوشہ کو خود میں بھنچ لیا
وہ ابھی قربت کے ان لمحات میں مزید بہکتا کہ فون پر آتی کال پر سختی سے آنکھیں میچتا—جھٹکے سے پیچھے ہوا
فون میں بہرام شاہ کی کال دیکھتے اٹھانے کی بجائے فون بند کرتے—
خمار آلود نظروں سے صوفے پر آنکھیں بند کیے کپکپاتی پلوشہ خان کو دیکھا— پلوشہ خان کے خون چھلکاتے ہونٹوں سے نظریں سرکتی دودھیاں سرخ گردن پر آئی تو وہاں اپنی شدتوں کے نشان دیکھتے—آنکھوں میں خمار اترنے لگا
دونوں بازو پلوشہ کی کمر کے گرد حائل کرتے جھٹکے سے اٹھا کر اپنے روبرو کیا تو پلوشہ خان نے گھبرا کر کندھوں سے سرکتی شرٹ کو تھاما تو حدائق شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے
پلوشہ خان کی نیلی آنکھوں میں قربت کی سرخی کو دیکھا—
“باقی کا علاج رخصتی والے دن کنٹنیوں کریں گے—اور تمہیں تو میں نے بتایا نہیں کہ میں نے تمہارے لیے بہت پیاری پیاری ڈریسسز لے رکھی ہیں—ایم شیور کہ تم انہیں پہن کے بنا بخار کہ بھی بہت ہاٹ لگو گی”— کالر بون پر اپنے لب رکھتے—پلوشہ کی شرٹ ٹھیک کرتے زپ بند کرتے ہوئے سرگوشی کی تو پلوشہ خان نے سرخ پڑتے چہرے کو مزید جھکا لیا
“ہمیں آپ سے کوئی علاج نہیں کروانا”— سر جھکائے منمنا کر کہا تو حدائق شاہ نے گھور کر پلوشہ خان کے جھکے سر کو دیکھا
“اب علاج کی ضرورت بھی نہیں—اس دن تو ہم جونئیر حدائق یا پلوشہ کو لانے کے لیے پراسیسنگ سٹارٹ کریں گے نا—— اور اس دن میں تمہارا کوئی احتجاج برداشت نہیں کروں گا— کیونکہ میرے جونیئر پہلے ہی بہت لیٹ ہو چکے ہیں میں مزید انہیں انتظار نہیں کرواسکتا”—- پلوشہ خان کا چہرہ ہاتھ میں دبوچتے اپنے چہرے کے قریب تر کرتے سخت لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے حدائق شاہ کی پلیننگ کو سنا تھا
“مجھے امید ہے کہ تم اس نیک کام میں میرا بھرپور ساتھ دو گی—ساتھ نا دے سکی تو چپ چاپ خاموشی سے میری شدتیں برداشت کر لینا مگر مزاحمت کی کوشش بھی مت کرنا بہت بری طرح پیش آؤ گا میں— تمہارا ہر ناز نکھرا سر آنکھوں پر لیکن دوری قائم کرنے والا ایک نکھرا ایک آنکھ برداشت نہیں کروں گا میں—پہلے ہی بہت عمر گزار لی ہے ان دوریوں میں اب ایک لمحہ بھی نہیں”— فون پر آتے بہرام شاہ کے مسیج کا جواب ٹائپ کرتے سخت لہجے میں کہتے ایک بار جھک کر پھر سے پلوشہ خان کے نازک ہونٹوں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے بیگ اٹھا کر لمبے لمبے ڈنگ بھرتے قدم باہر کی جانب بڑھائے
جبکہ پلوشہ خان نے خون چھلکاتے چہرے کو ہاتھوں میں چھپاتے پلٹ کر چہرہ صوفے کی پشت میں چھپایا
