Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 45)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 45)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
ڈیڑھ ماہ پہلے:-
نیلے آسمان پر شام کی سیاہی دور تک پھیلتی چلی جا رہی تھی—موت سے سکتے میں گولیوں کی آواز گونجی تو ویلیم کے ساتھ گھسیٹنے کے انداز میں پیچھے کی جانب قدم لیتی عقیدت بری طرح پھرپھرا کر خود کو ویلیم کی گرفت سے آزاد کروانا چاہا تھا—
“ڈونٹ یو ڈئیر عقیدت—ورنہ میں تو مرو گا ساتھ تمہیں بھی لے مروں گا”—دبے دبے لہجے میں چلا کر کہتے دروازے سے باہر نکلتے حدائق اور ضرغام کو دیکھتے ویلیم نے بے ساختہ گرفت سخت کی تھی—
“تمہیں وہ چہرہ پسند تھا – میں نے وہ چہرہ لے لیا – میں نے اپنی شناخت ختم کر لی—تمہارے لیے میں یہاں تک ایا—تمہارے لیے میں نے یہ سب پلین کیا—تم نے پہلے بھی مجھے چھوڑ دیا اب بھی چھوڑ رہی ہو—لیکن اس بار ایسے نہیں ہوگا”—عقیدت کو بازو سے تھامتے گاڑی میں دھکا دیتے خود بھی سوار ہوتے ہوئے کہا تو عقیدت نے سختی سے آنکھیں میچ کر کھولیں تھیں—
“تم اس کی شکل لے سکتے ہو—اس کی روح اور اس کا کردار نہیں—تم چاہے میرے لیے چاند پر بھی چلےجاو ویلیم مجھے تم سے کبھی محبت نہیں ہوگی—نا میں تب تمہاری تھی نا اب— مجھے صرف و صرف اپنے شوہر سے محبت ہے—تم مجھے مارنے کی دھمکی دے رہے ہو تو سن لو کہ ضرغام خان کے بغیر میں ویسے بھی کبھی جی نہیں سکوں گی—وہ شخص نا صرف کہ میرا شوہر ہے بلکہ میرے ہونے والے بچے کا باپ بھی ہے اور شاید یہ بات ان لوگوں نے تمہیں نہیں بتائی”— عقیدت شاہ کے سنجیدہ سپاٹ لہجے پر ویلیم نے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا تھا—
اور پھر عقیدت نہیں جانتی تھی کہ کس لمحے اس نے گاڑی کا دروازا کھولتے اسے ایک جھٹکے میں باہر کی جانب دھکا دیا تھا کہ وہ کئی قدم دور تک جا گری تھی—
پورا وجود درد کی ٹھیسوں سے بلبلا اٹھا تھا—سبز نگینوں سی آنکھیں تاریکی میں ڈوبتی جا رہی تھی—ایک دم سے دھماکہ نما تیز آواز پر وجود میں جنبش ہوئی تو آنکھیں کھولنے کی سعی بھی کی تھی مگر ذہن اندھیرے میں ڈوبتا چلا گیا تھا—
_______
نظریں کمرے کی چھت پر ٹکائیں وہ خاموش نظروں سے اسے گھورنے میں مصروف تھی—ہوش سنبھالتے ہی جو چیز اس نے محسوس کی تھی وہ تھا اپنے وجود کا خالی پن
جو احساس وہ کچھ دن سے محسوس کر رہی تھی اسے محسوس نہیں کر پارہی تھی—اور پھر کمرے میں ڈرپ اتارنے کی غرض سے آئی نرس اس کے شک کو یقین میں بدل چکی تھی—
سبز آنکھوں کے کناروں سے کئی آنسوں پلکوں کی باڑ توڑ کر تکیے میں جذب ہوئے تھے—
نجانے کتنا ہی وقت گزرا تھا کہ حلیمہ بیگم کمرے کا دروازا کھولتے اندر داخل ہوئی تھی
عقیدت جو خاموش نظروں سے چھت کو گھورتے دیکھ وہ اپنی نم آنکھیں صاف کرتی بیڈ کے قریب کرسی گھیسٹ کر بیٹھی تھیں—
“ضرغام کہاں ہے ماں”— عقیدت کی سپاٹ آواز پر حلیمہ بیگم تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھتی اس کے دونوں ہاتھ تھامتی اس کے اوپر جھکی تھیں
“ٹھیک ہے وہ تم ٹینشن نا لو— آتا ہے تم سے ملنے”— عقیدت کے ماتھے پر نرمی سے ہاتھ پھیرتے جواب دیا تو عقیدت نے خاموش نظروں سے انہیں دیکھا تھا—
“میں نے کہا تھا نا کہ میرا باپ بے قصور ہے—اور عقیدت شاہ ایک دن یہ بات ثابت کر کہ رہے گی—دیکھیں آج کر دیا—میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا – میں نے آج ایک فوجی کی بیٹی ہونے کا حق ادا کر دیا—مم-میرا بہت قیمتی نقصان ہوا ہے(یہ کہتے ہونٹ بری طرح کپکپائے تھے)لیکن باقی کی آنے والی نسل اس دشمنی سے بچ گئی ہے”—ٹھہر ٹھہر کر کہتی وہ حلیمہ بیگم جو سسکنے ہر مجبور کر گئی تھی—تبھی انہوں نے عقیدت شاہ کو اپنی آغوش میں لیا تھا
“مجھے معاف کرو دو—میں نے ہمیشہ تمہیں باغی کہا لیکن یہ ماں کب جانتی تھی کہ اس کی بیٹی اس قدر بہادر اور صبر کرنے والی ہے”—
“ضرغام کو نہیں بتانا ماں—لالا سے کہیں یا کسی سے بھی—اس کے آنے سے پہلے مجھے یہاں سے کہی بھیجیں— وہ اس بات سے بے خبر تھا—لیکن اگر وہ مجھ سے ملنے آیا تو وہ ضرور جان جائے گا—اور میں اسے مزید کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتی”— مقدس بیگم کے ہاتھ تھامتے تیز لہجے میں کہتی وہ حلیمہ بیگم کو حیرت میں مبتلا کر چکی تھی—
“کیسی باتیں کر رہو عقیدت—اور ضرغام تو ہوش میں نہیں ہے— حدائق نے منع کیا تھا تمہیں بتانے سے مگر گاڑی والا جو بھی حادثہ ہوا وہ سمجھ رہا اس میں تم تھی—وہ ابھی کونسا ہوش میں آتا تم سے سوال جواب کرنے آرہا بیوقوفوں والی باتیں مت کرو”—ڈپٹنے والی انداز میں کہتی وہ کرسی پر بیٹھیں تھی کہ عقیدت کو اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کرتے دیکھ سر نفی میں ہلاتے اس کی جانب بڑھی تھی
“میں کہہ رہی ہوں نا ماں کی میں اسے مزید تکلیف نہیں دینا چاہتی—وہ اپنی ماں کی وجہ سے پہلے بہت اذیت میں ہوگا—اگر وہ سمجھ رہا کہ میں گاڑی میں تھی تو اسے سمجھنے دیں—کوئی میرے متعلق اسے کچھ نہیں کہے گا—کیونکہ وہ میرا شوہر ہے اور مجھ تک پہنچنا اچھے سے جانتا ہے— اس کے پہنچنے تک مجھے بالکل ٹھیک ہونا ہے”— عقیدت کے دو ٹوک لہجے پر انہوں نے بے بسی اور غصے کی ملی جلی کیفیت لیے اسے دیکھا تھا
“جتنا کچھ دیر پہلے تم پر پیار آرہا تھا اب اتنا ہی غصہ آرہا ہے—دل کر رہا ہے جوتا اتار لوں اور سیدھا کر دوں تمہیں عقیدت—انتہا کی باغی اور ضدی لڑکی ہو”— دانت کچکچا کر کہتی وہ دھاڑ کی آواز سے دروازا بند کرتی باہر نکلی تھی—
جبکہ حلیمہ کے غصے پر عقیدت کے ہونٹوں پر ایک لمحے کے لیے مسکراہٹ بکھری تھی—
_________
حال:-
ویسے بہرام لالا بھی کوئی بہت پہنچی ہوئی چیز ہیں—بھلا کوئی سوچ سکتا تھا کہ وہ سب یہاں ہوگی”— ارمغان خان کے تاسف بھرے لہجے میں کہنے پر بالاج شاہ نے گردن ترچھی کرتے پیچھے بیٹھے ارمغان خان کو دیکھا تھا—
“پہنچی ہوئی نہیں میسنی چیز”—حدائق شاہ نے تصحیح کرنے کے انداز میں کہا تو ارمغان خان نے تائیدی انداز میں سر اثبات میں ہلایا تھا
“اگر تبصرہ ہوگیا ہو تو نیچے اتر کر گارڈ کو دروازا کھولںے کا کہہ دو—اگر ہارن دیا تو اندر بیٹھی مخلوقیں ہماری آمد سے باخبر ہو جائیں گی—اور میرے پاس گارڈ کا نمبر نہیں ہے—اس پہنچی ہوئی چیز نے گارڈ بدل دیا ہے–“—بالاج شاہ کے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہنے پر حدائق نے گھور کر اسے دیکھا تھا—
“کیوں جلتے توے پر بیٹھے ہوئے ہو—سب ایک ساتھ جاتے ہیں یہ مشورہ تمہارا تھا تمہاری گاڑی میں جانے کی آفر بھی تھماری تھی تو اب کیا تکلیف ہو رہی ہے—گاڑی اندر لے جانے کی کیا ضرورت گارڈ کو چابی پکڑا دینا کہنا تھوڑی دیر بعد اندر کر دے— ابھی ایسے ہی جاتے ہیں”—بالاج شاہ کو گھورتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہتے گاڑی کا دروازا کھولتے قدم باہر رکھے تھے جبکہ بالاج شاہ نے سرخ پڑتے چہرے سے حدائق شاہ کی پشت کو دیکھا تھا—
جبکہ عائث خان مکمل لاتعلقی کا مظاہرہ کرتے کندھے اچکائے باہر نکلا تھا—اور بالاج شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا سر دیوار میں مار لے—ڈھائی تین گھنٹے کے سفر میں ایک منٹ بھی ایسا نہیں تھا جب حدائق شاہ اور ارمغان خان کی زبان کو بریک لگی ہو—ایک تو وہ سارے رستے کھاتے آئے تھے اور ساتھ دنیا جہاں کی باتیں کرتے جن کا آغاز کہی سے بھی ہوتا اینڈ ارمغان خان کا بہرام شاہ کو بہت پہنچی ہوئی چیز کہنے پر ہوتا اور حدائق شاہ کا اس کی تصحیح کر کہ میسنی چیز کہنے پر
ان کی بےتکی باتوں اور ایک ہی ڈائیلاگ کو سن سن کر بالاج شاہ کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہو رہے تھے—
اب وہ دل سے ان کے ساتھ کہی نا جانے کی توبہ کرتا گاڑی سے اتر کر گیٹ کی جانب بڑھا تھا جو کہ حدائق شاہ کھلوا چکا تھا—
فارم ہاؤس کے داخلی دروازے کے قریب آکر حدائق شاہ اور ارمغان خان نے پلٹ کر بالاج شاہ کو دیکھا تھا جو طنزیہ نظروں سے انہیں دیکھتا قریب آیا تھا—
“کھولا نہیں دروازا”—بازو سینے پر باندھتے طنزیہ لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے آنکھیں گھمائی تھی
“ٹرائے کرو چھوٹے خان شاید کھل جائے—دونوں بازو پھلا کر کہو کھل جا سم سم دیکھنا کیسے کھلتا”—سیاہ گہری آنکھوں میں چمک اور چہرے پر سنجیدگی طاری کیے طنزیہ لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے منہ بسورتے قدم پیچھے لیے تھے—جس پر بالاج شاہ نے دروازے کے سامنے کھڑے حدائق شاہ کو آبرو آچکا کر دیکھا جیسے کہنا چاہتے ہو آپ بھی جس پر حدائق شاہ دانت کچکچاتے سائیڈ پر ہوا تھا
لیکن اس سے پہلے بالاج شاہ آگے بڑھتا کہ خاموشی سے ان تینوں کے ڈرامے دیکھتا عائث خان آگے ہوتے—دروازے کے سائیڈ پر نصب کچھ بٹنز کو پریس کرتے دروازا کھول چکا تھا—
جس پر بالاج شاہ کے چہرے کے زاویے پل میں بگڑے تھے جسے دیکھتے حدائق اور ارمغان خان کا قہقہہ بے ساختہ تھا
“لالا اندر آکر آپ بھی بازو پھیلا کر ٹرائے کیجئے گا کہ کیوں کیا سم سم”—ارمغان خان کے شوخ لہجے پر بالاج شاہ نے گھور کر اسے دیکھا تھا کہ اگلے ہی لمحے ارمغان خان کی ہنسی کو بریک لگی تھی—
_______
وہ چاروں اندر داخل ہوئے تو پہلے چھوٹی سے راہداری تھی جو کہ لاونج میں جاتی تھی—ابھی وہ راہدری میں ہی تھے کہ تیز میوزک کے ساتھ ان لوگوں کی باتوں اور قہقہوں کی آوازیں سنتے ان چاروں کے چہرے کے تاثرات حد درجے تک سنجیدہ ہوئے تھے—
“قیامت کے دن ان عورتوں کا بھی الگ حساب ہوگا— کیسے شوہروں کو بے آسرا چھوڑے یہاں پارٹیز کر رہی ہیں—ہماری جان پر بنی ہوئی تھی اور یہاں جاندار قہقہے لگ رہے ہیں”—ارمغان خان کے جلے کٹے لہجے پر ان تینوں نے بیک وقت گھور کر اسے دیکھتے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا
پھر بالاج شاہ انہیں خاموشی سے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا آگے بڑھا تھا کیونکہ فارم ہاؤس اس کا اور بہرام کا تو تھا اور وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اسے کہاں چھپنا چاہیے
وہ لوگ شاید سائیڈ پر تھیں—ان کی آوازوں کے تعاقب میں بالاج شاہ نے گردن تھوڑی سے باہر نکالتے انہیں دیکھا تھا—اور پھر دوسرے ہاتھ کے اشارے سے ان لوگوں کو دائیں جانب جانے کا اشارہ کیا تھا جس پر وہ تینوں فوراً اس جانب بڑھے تھے جبکہ ان سب میں صبغہ کو متلاشی نگاہوں سے دیکھتے بالاج شاہ بھی اس کے نظر نا آنے پر عائث لوگوں کی جانب بڑھا تھا
اس روم سے لاونج واضح نظر آئے گا”—کمرے میں داخل ہوتے کھڑکی کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کہا تو ان سب نے سر اثبات میں ہلائے تھے
کھڑکی کا پٹ تھوڑا سے کھولتے بالاج شاہ نے باہر جھانکا تو نظریں سیدھا اس دشمن جان کے چہرے سے ٹکرائیں تھیں جو ہاتھ میں ٹرے تھامے ابھی لاونج میں داخل ہوئی تھی
______
اب کونسی مووی دیکھنی ہے”—سلوی شاہ نے صوفے سے کھڑے ہوتے—آگے بڑھ کر ٹیبل پر پڑے پیزہ باکس سے پیزے کا ٹکڑا اٹھا کر منہ میں رکھتے سوالیہ لہجے میں پوچھا تھا جبکہ سلوی شاہ کی آواز پر ارمغان خان کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا—
وہ سب کھڑکی سے ہٹ چکے تھے کہ کہی ان لوگوں کو شک نا ہو جائیں لیکن میوزک بند ہونے پر ان لوگوں کی آوازیں واضح طور پر سنائیں دے رہی تھیں
“ٹاپ ٹین ہنڈسم ایکٹرز کے نام چٹ پر لکھتے ہیں پھر جس کا نام آیا اس کی جو بھی نیو مووی آئی ہوگی وہ دیکھیں گے”—پلوشہ خان کی میٹھی آواز میں کہے گے یہ چند الفاظ حدائق شاہ کو زہر سے بھی برے لگے تھے—دانت کچکچاتے پہلو بدلا تھا—حدائق شاہ کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس کی معصوم پٹھانی ہرہنڈسم سلیبرٹی کو کرش بنا لیتی ہے
“پھر نام میں بتاؤں گی اور وہ بھی ہولی ووڈ کے ایکٹرز کے—مجھے وہی ہنڈسم لگتے ہیں”—حوریہ شاہ کی ضد بھری آواز پر عائث خان نے بری طرح اپنے ہونٹ کچلے تھے—نازک سی جان تھی مگر انتہا کی ضدی تھی—وہ پہلے بھی اسے باز رہنے کا بول چکا تھا مگر وہ عائث خان کی کوئی بات مان لے ایسا ہو سکتا ہے بھلا
“نہیں کورین بھی ہوگے—مجھے وہ پسند ہیں—یار کتنے کئیرںگ اور لونگ ہوتے ہیں اور ہاٹ تو”—صبغہ شاہ کی چہکتی آواز پر بالاج شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھنچی تھی—
“عجیب سائیکو عورت ہے—محبت ہے محبت ہے کر کہ میرے کان کھائی رکھے—اور ہاٹ اسے کورین لگتے ہیں—تعریفوں کے قصیدے کبھی کریکٹرز کے پڑھے جاتے اور کبھی کورینز کے تو مجھ سے محبت ترس کھا کر کی تھی یا آندھی ہو کر—اگر مجھے اس عورت سے محبت نا ہوتی تو قسم سے شوہر کی ہٹھ پیچھے دوسرے مردوں کی شان میں قصیدے پڑھنے پر زندہ زمین میں گاڑھ دیتا”— کھڑکی کے پٹ کو سختی سے ہاتھ میں دبوچتے—دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو حدائق شاہ نے ناک سے مکھی اڑانے کے انداز میں ہاتھ جھلایا تھا
“تو جب محبت نہیں تھی تب کونسا کچھ کہہ دیا تھا—کہاں ہوتا تو آج یہ سننے کو نا ملتا”—کندھے اچکائے طنزیہ لہجے میں کہتے بالاج شاہ کو مزید سلگایا تھا
“ہاں نا ڈاکٹر صاحب آپ نے تو بہت اچھے طریقے سے سمجھایا یوگا نا کہ پہلے ایک کریش تھا کم تھا تو بیگم نیکسٹ ٹائم دس ٹاپ ہنڈسم کی لسٹ بنانا”— بالاج شاہ کے دوبدو جواب دینے پر حدائق شاہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا
جبکہ عائث بیڈ پر اور ارمغان صوفے پر بیٹھ کے اس پارٹی کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے تا کہ ان کی بیویاں کمرے میں جائیں تو ان کو اپنا دیدار کروائیں
_______
عقیدت نے بے چینی سے کروٹ بدلتے آنکھیں کھولیں تھیں—کچھ دیر یونہی لیٹے رہنے کے بعد وہ کمفرٹر ہٹاتی بیڈ سے اترتی کمرے کی لائٹس ان کر چکی تھی—
سی گرین شرٹ ٹراؤزر پہنے بالوں کا میسی سا جوڑا بنائے—سبز نگینوں سی آنکھوں میں نیند کے باعث بنے سرخ ڈورے لیے وہ جان لیوا حد تک دلکش لگ رہی تھی—
وہ رات کا کھانا کھا کر جلد روم میں آگئی تھی—جبکہ وہ چاروں ہر روز کی طرح رات دیر تک جاگنے کا پلین بنائے ہوئے تھی—روم میں آکر نماز پڑھنے کے بعد وہ سونے کے لیے لیٹ گئی تھی مگر نجانے کیوں عجیب سی بے چینی تھی—نیند سے آنکھیں بند ہو رہی تھی لیکن وہ سونے کی کوشش کرتی تو سویا بھی نہیں جا رہا تھا—
بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلتے ایک ہی سانس میں گلاس خالی کیا تھا—
ایک نظر کمرے کے اطراف میں گھماتے وہ فریش ہونے کی نیت سے واشروم گئی تھی—
فیس واش کرتے عقیدت کو محسوس ہوا جیسے کوئی روم میں آیا ہے—حوریہ لوگوں کا سوچتی وہ جلدی سے فیس واش کرتی منی ٹاول پکڑتی دروازے کی جانب بڑھی تھی—
“تم لوگ سو کیوں”— اپنے دیہان میں وہ ڈپٹنے والے انداز میں کہتی کمرے میں داخل ہوئی تھی مگر کمرے میں پھیلی جانی پہچانی مرادنہ کلون کی خوشبو نتھنوں سے ٹکرائی تو عقیدت کی زبان کو بریک لگی تھی—
چہرے کی جانب بڑھتا ٹاول والا ہاتھ اپنی جگہ ساکت ہوا تھا—دل اتنی تیزی سے دھڑکا تھا کہ عقیدت کو اپنی کانو میں سنائی دیا تھا
“یاد تو نہیں آئی ہوگی میری”— ضرغام خان کی بھاری شکوہ کناں آواز پر سانسیں تھمی تھی—ٹاول پر گرفت سخت ہوئی تھی— ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے چہرہ گھماتے بائیں جانب دیکھا تھا جہاں وہ دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے ہاتھ سینے پر باندھے نظریں عقیدت شاہ کے نم چہرے پر ٹکائے کھڑا تھا—جس پر عقیدت نے نظریں چڑاتے چہرہ جھکایا تھآ
نجانے کتنے لمحے خاموشی کی نظر ہوئے تو ضرغام خان گہری سانس بھرتے—مضبوط قدم لیتا عقیدت شاہ کی جانب بڑھا تھا
ایک قدم کے فاصلے پر رکتے خاموش گہری نظر سے عقیدت شاہ کو سر جھکائے ہونٹ کچلتے دیکھا تھا—
مگر جب وہ ہنوز ویسے ہی کھڑی رہی تو ایک قدم کے فاصلے کو ختم کرتے ضرغام خان نے اپنے دونوں بازو واہ کرتے عقیدت شاہ کو اپنے سینے میں بھنچا تھا
“لیکن میں نے تمہیں بہت یاد کیا ہے ضرغام کی جان”— تھوڑی عقیدت کے سر پر ٹکاتے محبت سے چور لہجے میں کہا تو کمرے کی فضا میں عقیدت شاہ کی سسکی گونجی تھی
اور پھر اگلے ہی لمحے وہ ضرغام خان کی پشت پر دونوں ہاتھ باندھتی ہچکیوں سے روتی ضرغام خان کی جان لبوں پر لے آئی تھی—
“مم-میرا بچہ ضض-رغام میں نے کھو دیا—تم نن-نہیں آئے مم—میں نے بلایا تھا—کہا تھا کچھ سپیشل بتانا ہے—مگر تم نہیں آئے—میں اس خوشی کو تمہارے محسوس کرنا چاہتی تھی—میں اسے دیکھنا چاہتی تھی—محسوس کرنا چاہتی تھی لل—لیکن مم—میں نے کھو دیا”—- وہ جو نا بتانے کا سوچے بیٹھی تھی—اب لمحے میں ضبط کھو چکی تھی—جو بے چینی و بے سکونی وہ خود میں محسوس کر رہی تھی وہ اس سہارے اس کندھے کی کمی کی وجہ سے کر رہی تھی—اور اب وہ سہارہ ملتے ہی وہ بری طرح ٹوٹ کر بکھرتی انہیں بازوؤں میں سمٹتی جا رہی تھی—
جبکہ ضرغام خان سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ سختی سے ہونٹ بھنچے—نم آنکھوں کو سامنے دیوار پر ٹکائے سختی سے عقیدت کو خود میں بھنچ گیا
جب وہ رو رو کر نجانے کتنی دیر بعد خاموش ہوئی تو اپنے سینے پر عقیدت کو ہچکیاں بھرتے محسوس کر کہ ضرغام خان بنا کچھ کہے اسے باںہوں میں بھرتے بیڈ کی جانب بڑھا تھا-
نرمی سے عقیدت کو بیڈ پر لٹایا تو وہ غصے خفگی اور اپنے اس طرح رونے پر شرمندہ ہوتی کروٹ بدلتی چہرہ تکیے میں چھپا گئی
جبکہ ضرغام خان گہری نظروں سے اسے دیکھتے جوتے اتار کر بیڈ پر اس کے قریب جگہ بناتے زبردستی رخ اپنی جانب کر چکا تھا—
“تم کیا سمجھتی ہو—تم نہیں بتاؤ گی تو میں جان نہیں سکوں گا—ضرغام خان کا اتنا بڑا نقصان ہوجائے اور وہ بے خبر رہے ایسا سمجھ رکھا ہے کیا—تمہیں لگتا ہے کہ تم ماں ہو تو سارے احساسات تمہارے پاس ہی ہیں—میں یہاں دل کی( دل کے مقام پر انگلی سے اشارہ کرتے) پتھر لیے پھر رہا ہوں—تمہیں کیا لگتا ہے میرا دل نہیں تڑپا ہوگا—میری روح بے چین نہیں ہوئی ہوگی—تم نے مجھے تکلیف سے بچانے کے لیے اس بات کو چھپایا—اور خود اکیلے یہاں گھٹ گھٹ کر مرتی اس تکلیف کو اس درد کو بھولنے کی کوشش کر رہی ہو—جب نقصان ہم دونوں کا تھا تو تم کیسے سوچ سکتی ہو کہ ہمیں ایسے دور رہ کر اس جھیل سکتے ہیں—اگر اب تک تم تک نہیں آیا تھا تو تمہاری بات کا مان رکھ رہا تھا اور دیکھ رہا تھا کہ کتنی ہمت ہے خان کی بیوی کتنا حوصلہ ہے کہ وہ میرے بغیر رہ کر خود کو سنبھال لے—اور آج دیکھ بھی لیا—لیکن ایک بات بتاؤں—تمہارے خان میں اتنا بھی حوصلہ ایک بس رویا نہیں ہوں باقی ہر احساس اور تکلیف اپنی روح تک محسوس کی ہے”—- نیلی آنکھوں کو سبز نگینوں سی آنکھوں میں گاڑھے نرم و نم لہجے میں کہتے ضرغام نے نرمی سے عقیدت کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا—
“مم—میں بس نہیں چاہتی تھی کہ تمہیں”— نم لہجے میں ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتی کہ ضرغام خان نے جھک کر نرمی سے عقیدت شاہ کے کپکپاتے ہونٹوں کو اپنی شدت بھری گرفت میں قید کر گیا
“مجھے صرف ایک سوال کا جواب چاہیئے—مجھے یاد کیا تھا یا نہیں”—پیچھے ہوتے—انگھوٹے کے پور سے عقیدت کے نم ہونٹوں کو سہلاتے سنجیدہ لہجے میں استفسار کیا تو عقیدت نے ضرغام خان کے ہاتھ کو چہرے سے ہٹاتے—ہونٹوں سے چھوتے اپنی کمر پر رکھتے سر ضرغام کے سینے سے ٹکایا تھا—
“تمہیں کیا میں بھول سکتی ہوں بھلا—ایک میرا خان ہی تو یاد رہتا ہے مجھے”— تھوڑی ضرغام خان کے سینے پر ٹکائے نم آنکھوں میں چمک لیے محبت بھرے لہجے میں جواب دیا تو عقیدت کے چہرے سے آنسوؤں کے نشان صاف کرتے ضرغام خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا
نیلی گہری آنکھوں میں محبت لیے عقیدت شاہ کے چہرے کے ایک ایک نقوش کو والہانہ انداز میں دیکھتے اسے سختی سے خود میں بھنچتے اپنے ہونٹ عقیدت کی آنکھوں پر رکھے تھے—
“ضرغام کی جان آج سکون سے نیند پوری کر لو— حویلی جاتے ہی میں نے اپنے دس بارہ بچوں کو دنیا میں لانے کی جو پلیننگ کی ہے اس پر عمل شروع کر دینا ہے—پھر ہر سال ایک نیا بچہ— تم اگلے دس بارہ سالوں تک بالکل بور نہیں ہونے والی—پرمانیٹ انٹرٹینمنٹ کا انتظام کریں گے—ایک بچہ تھوڑا سا بڑا ہوا تو نئے کو لانے کی پلیننگ سٹارٹ کر دیں گے—ٹھیک ہے نا”— عقیدت شاہ کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاتے سنجیدہ لہجے میں آخر میں رائے پوچھی تو عقیدت نے نیند سے بند ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھولتے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا تھا
دونوں ہاتھ ضرغام خان کے کندھوں پر رکھتی آگے کو ہوتی اسے بنا سمجھنے کا موقع دیے وہ اپنی دانت ضرغام خان کی گردن میں گاڑھ چکی تھی—
“ایسی پلیننگ کا دوبارا سوچا بھی تو تمہارا سر پھاڑ دوں گی ضرغام”— عقیدت شاہ کو پہلے روپ میں آتے دیکھ ضرغام خان کا قہقہہ روم کی فضا میں گونجا تھا
“ٹھیک ہے میری شیرنی—میں پٹی کروا کر بھی یہ کام سرانجام دے لوں گا”— ضرغام خان کے شوخ لہجے پر عقیدت اسے خود سے دور دھکیلتی کے ضرغام خان سرعت سے اس کے بازو تھاما تھا عقیدت کو مزید سختی سے خود میں بھنچتے اپنے دانت اس کے گال پر گاڑھتے شدت بھرا لمس چھوڑا تھا
“سو جاؤ—پھر گھر بھی چلنا ہے”—کمفرٹر عقیدت پر اوڑھتے بیڈ سے اتر کر روم کی لائٹ بند کر کہ واپس آتے نرمی سے اپنے حصار میں لیتے آنکھیں موندیں تھی—کچھ ہی دیر میں نیند نے دونوں کو اپنے حصار میں لیا تھا—
________
وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی کمرے میں آئی تھی— کپڑے چینج کر کہ نائٹ ڈریس پہنے—ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہاتھوں پر لوشن لگاتے وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ دروازا کھلنے کی آواز پر چونکی تھی—نظریں اٹھائے آئینے میں دیکھا تو اپنی جانب آتے بالاج شاہ جو دیکھتے صبغہ کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا—
سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھتے بالاج شاہ کی جانب پلٹی تھی—
“تم—تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہاں آنے کی”—مٹھیاں بھنچے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو بالاج شاہ نے گہری سانس بھرتے خود کو کچھ سخت کہنے سے روکا تھا—
“دیکھو صبغہ ہمارے درمیان جو بھی ہے—مگر میں یہ ہرگز برداشت نہیں کروں گا کہ تم—کہ تم”— انگلی اٹھائے وارن کرنے کے انداز میں کہتے وہ لاکھ کہنے کی کوشش کرتے مٹھیاں بھنچے ہاتھ نیچے گرا گیا تھا
“کیا تم—کیا برداشت نہیں کرو گے— تمہارے کچھ برداشت کرنے کی یہاں کسی کو کوئی فکر یا پرواہ نہیں– تمہاری برداشت تمہارا مسئلہ لیکن فلحال تم مجھے یہاں برداشت نہیں ہو رہے نکلو یہاں سے”—انگلی اٹھائے تیز لہجے میں کہتی وہ بالاج شاہ کے قریب سے گزرتی دروازے کی جانب بڑھی ہی تھی کہ بالاج شاہ چہرے پر سختی لائے پلٹ کر صبغہ کا بازو دبوچتے رخ اپنی جانب کر چکا تھا—
“میں یہاں کوئی فضول کی بحث کرنے نہیں آیا صبغہ میں لینے آیا ہوں—ابھی اور اسی وقت تم میرے ساتھ حویلی چلو گی”—دو ٹوک لہجے میں کہتے وہ اسے مزید قریب کرتا کہ صبغہ دونوں ہاتھ بالاج شاہ کے سینے پر رکھتی اس سے دور ہوئی تھی
“تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہارے ساتھ جاؤں گی—تم جیسے شخص کے ساتھ – میں مرجاوں گی مگر تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی”— چلا کر کہتے آنکھیں اور لہجہ بے ساختہ ںم ہوا تھا
“میرے ساتھ جانے سے بہتر مرنا لگ رہا تو پھر کیوں بچایا تھا مجھے—کیوں اپنی جان کی پرواہ نہیں کی تھی—کیوں منہ اٹھا کر میرے پیچھے آئی تھی”—دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے صبغہ شاہ کے سامنے کھڑے ہوتے سخت لہجے میں سوال کیا تو صبغہ نے دانت کچکچا کر اپنے سامنے ڈھیٹ بن کر کھڑے بالاج شاہ کو دیکھا تھا
” وہ جو تمہارے نظر میں دو ٹکے کی محبت کرتی تھی نا میں اس محبت کا حق ادا کیا تھا—اور وہ کرنے کے بعد میں اب آزاد ہوں—اور غلطی ہوگئی مجھ سے کہ اپنی زندگی کے اتنے سال تمہارے پیچھے آنے پر تمہارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے تمہارے ساتھ زندگی کے سفر کو طے کرنے کی اس پر گنوا دیے میں نے—اور اب اس غلطی کو بہت جلد سدھار لوں گی میں—اب تم جا سکتے ہو”—سیاہ گہری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا—
