Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 46)

Maan Yaram by Maha Gull Rana

” وہ جو تمہارے نظر میں دو ٹکے کی محبت کرتی تھی نا میں اس محبت کا حق ادا کیا تھا—اور وہ کرنے کے بعد میں اب آزاد ہوں—اور غلطی ہوگئی مجھ سے کہ اپنی زندگی کے اتنے سال تمہارے پیچھے آنے پر تمہارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے تمہارے ساتھ زندگی کے سفر کو طے کرنے کی امید میں گنوا دیے میں نے—اور اب اس غلطی کو بہت جلد سدھار لوں گی میں—اب تم جا سکتے ہو”—سیاہ گہری آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا—

“کیا مطلب ہے تمہاری اس بکواس کا—مزاق سمجھ رکھا ہے تم نے سب چیزوں کو”— مٹھیاں بھنچتے—اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کرتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو صبغہ شاہ نے گہری سانس لیتے کوفت سے آنکھیں گھمائی تھیں

“مزاق تو تم نے بنایا ہے میرا—تمہارے لائق نہیں تھی نا—نفرت کرتے تھے نا مجھ سے— تو اب پھر کس بات کا مسئلہ ہے—چھوڑ تو دی ہے تمہاری جان—اور اب مجھ پر رحم کرو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو— میری غلطی صرف اتنی تھی کی میں نے تم سے بے انتہا محبت کی اور تم نے کیا کِیا—تم نے میری ذات کو عزت نفس کو اپنی آنا میں روند ڈالا—میری محبت کی ناقدری کی اور جو محبت کی ناقدری کرتے ہیں نا انہیں محبت کبھی معاف نہیں کرتی—نا ہی میں تمہیں کبھی معاف کروں گی اور نا ہی میری محبت”—بالاج شاہ کا گریبان اپنی مٹھیوں میں سختی سے دبوچتے—لہجے میں تپش لیے چلا کر کہا تو بالاج شاہ نے خاموش نظروں سے صبغہ شاہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا تھا—شہد رنگ انکھوں میں نفرت لیے بالاج شاہ کو گھور کر دیکھتی—ایک جھٹکے سے کالر چھوڑتے بالاج شاہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پلٹی تھی کہ آگے بڑھتے قدم جیسے زمین نے جکڑے تھے

“تم نے پوچھا تھا نا کہ لاعلاج مرض کونسا ہے—جان گیا ہوں میں اور شاید مبتلا بھی ہوگیا ہوں( اپنی کلائی کو بالاج شاہ کی گرفت میں محسوس کرتے—ابھی وہ کچھ سخت سناتی کہ بالاج شاہ کی بھاری آواز پر حیرت زدہ ہوتی پلٹی تھی—مگر نظریں اپنی کلائی کو تھامے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھے بالاج شاہ کو دیکھتے وہ حق دھک سی رہ گئی تھی)—میں نے بہت کوشش کی—ہر ممکن طریقے سے تمہیں خود سے دور کرنے اور تمہاری ضدی محبت کی تپش سے بچنے کی کوشش کی لیکن میں نہیں بچ سکا—میرا پورا وجود اس کی لپیٹ میں آچکا ہے—شاید میں کبھی جان بھی نا پاتا اگر اس دن تمہیں کھو دینے کا ڈر میرے رگ و پے میں سرایت نا کر جاتا”— نظریں صبغہ شاہ کے چہرے پر ٹکائے بھاری لہجے میں کہتے وہ ہنوز کلائی تھامے کھڑا ہوا تھا—

“انا ہوتی تو یہاں نہیں ہوتا—اور اگر دل کے کسی کونے میں رضامند نا ہوتا تو کبھی نکاح نا کرتا اور تب تو کبھی نہیں جب جان گیا تھا کہ وہ سب ڈرامہ تھا—اتنے دن تم نظروں کے سامنے نہیں تھی تو ہر منظر ادھورا تھا—ہر رات بےچینی لیے اور ہر دن بے سکونی کے حصار میں گزرا ہے—تم نے محبت کی تھی مجھ سے صبغہ—بددعا دی تھی کہ بالاج شاہ کو تم سے عشق ہو جائے—ہو گیا ہے عشق—اب کیا کروں”— آنکھوں میں محبت کا جہاں سمائے بھاری لہجہ لیے کہا تو صبغہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے نظریں بالاج شاہ کے چہرے سے ہٹائی تھیں

“میرے لیے یہ سب اب معنی نہیں رکھتا”—

“میں وہی بالاج شاہ ہوں جو دنیا کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتا تھا–مگر آج ساری انا بھلائیں عشق کے آگے گھٹنے ٹیک گیا—میں وہی بالاج شاہ ہوں جس کے لیے اس دنیا میں ایسا کیا نہیں جسے وہ چاہے اور حاصل نا کر سکے ۔ لیکن وہ سرد لہجے میں کہتا کہتا لمحے کو رکا تھا – – عنابی ہونٹ سختی عنابی ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست ہوئے تھے.

لیکن میں ہی ہوں وہ بالاج شاہ جو آج تک اس ایک احساس کو کبھی محسوس نہیں کر سکا کہ جسے چاہو وہ حاصل ہو جائے تو کیسا محسوس ہوتا ہے .. جس شخص کے ساتھ کی خواہش کرو اور وہ خواہش پوری ہو جائے تو سانسیں کیسے چلتی ہیں۔۔ سینے میں دھڑکتا دل کیسے شور مچاتا ہے ۔۔ کیسے انسان خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کرتا ہے ۔ میرا دل کبھی ان احساسات سے نہیں گزرا تو اسی لیے سینے میں دھڑکتے دل کو پتھر کر لیا تھا بالاج شاہ نے ۔۔ نا کوئی خواہش تھی نا ہی کسی احساس کو محسوس کرنے کی چاہت – وہ سن تو رکھا ہوگا تم نے بھی کہ ہم تو بس خواہش کا مرجانا مانگتے ہیں “—لیکن تم نے مجھے مجبور کیا صبغہ بالاج شاہ کے میں تمہیں چاہوں—لیکن خیر—اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو یہی سہی— دل ہی تو ہے اور دل کا کیا ہے—بالاج شاہ کو دل پتھر کرنا آتا ہے—لیکن یاد رکھنا پھر یہ موم نہیں ہوگا—صبر کر لوں گا محبت کے اس خسارے پر کیونکہ بالاج اس معاملے میں بہت صابر رہا ہے”— سیاہ آنکھوں میں اترتی نمی پر قابو پاتے—سرد بھاری لہجے میں کہتے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا جبکہ صبغہ شاہ سر تھامتی وہی بیٹھتی چلی گئی تھی—

عجیب شخص تھا منانے بھی آیا تھا تو اپنی سنا کر چلا گیا تھا

________

پلوشے نیند آگئی ہے تو چلی جاؤ سونے میں یہ سب سمیٹ کر چلی جاؤں گی”— پلوشہ خان کی نیند سے بند ہوتی آنکھوں کو دیکھتے سلوی نے ٹیبل سے چیزیں سمیٹتے ہوئے کہا تو پلوشہ نے سر اثبات میں ہلاتے صوفے پر سوتی حوریہ شاہ کو دیکھا تھا—

“حوریہ تو یہی سوگئی ہے—اسے اٹھاؤ یا سوتی رہنے دوں”—صوفے سے اترتے پاؤں میں چپل پہنتے سلوی شاہ سے پوچھا تو سلوی نے سر نفی میں ہلایا تھا

“نہیں نیند خراب ہوگئی تو جلدی نہیں آئے گی اسے—تم بس یہ سامنے والی لائٹ بند کر جانا—میں چیزیں اٹھا کر باقی بھی کر دوں گی تا کہ یہ سکون سے سوئی رہے”— ٹرے میں چائے کے مگ رکھتے جواب دیا تو پلوشہ نے جمائی لیتے سر اثبات میں ہلایا تھا

“ساری لائٹس نا آف کرنا—ڈر بھی جاتی ہے— بس یہاں سے کرنا باقی کچن وغیرہ یہ سیڑھیوں والی آن رہنے دینا”—سیڑھیوں کی جانب بڑھتے تائیدی انداز میں کہا تو سلوی نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا

ٹیبل اور کارپٹ سے چیزیں سمیٹ کر لائٹس آف کرتے قدم کچن کی جانب بڑھائے تھے—

بچی ہوئی کھانے کی چیزیں فریج میں رکھتے—برتن واش کر کہ رکھتی ایک طائرانہ نگاہ کچن میں دوڑاتے وہ باہر آئی تھی—

حوریہ شاہ کو گہری نیند میں سوئے دیکھتے اگے بڑھ کر بلینکٹ کھول کر اس پر اوڑھایا تھا

پھر گہری سانس بھرتے—جمائی روکتے قدم اپنے روم کی جانب بڑھائے تھے—

______

کمرے میں قدم رکھتے ہاتھ سے ٹٹول کر لائٹ ان کی تو سلوی شاہ کو عجیب سے احساس نے گھیرا تھا—لیکن سر جھٹکتے—کبرڈ سے لائٹ ڈریس لیتے واشروم میں داخل ہوئی تو سامنے کا منظر دیکھتے سلوی شاہ کی چیخ بے ساختہ تھی—

ارمغان خان کو سنک کے سامنے کھڑے فیس واش کرتے دیکھ سلوی شاہ نے اپنی دوسری چیخ کا گلہ ہونٹوں پر ہتھیلیاں جما کر روکا تھا

جبکہ سلوی شاہ کے یوں چلانے پر ارمغان خان نے سرخ ہوتی آنکھوں میں ناپسندیدگی لیے اسے گھورا تھآ

ارمغان خان کے چہرے کے بگڑے تاثر دیکھ سلوی شاہ کے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی تھی— اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ارمغان خان کو پانی بند کرتے دیکھ آنکھیں پھلائے ڈریس ارمغان خان کی جانب اچھالتے الٹے قدموں بھاگنے کے انداز میں باہر نکلی تھی—

جبکہ سلوی شاہ کی بچکانہ حرکت پر ارمغان خان مٹھیاں بھنچے تیزی سے اس کے پیچھے بڑھا تھا

“ہائے اللّٰہ نہیں—میں نے باہر جانا ہے—چھوڑیں مجھے”—اس سے پہلے وہ دروازا کھول کر باہر بھاگتی کے ارمغان خان تیزی سے اس کی جانب بڑھتا—دونوں بازو پیچھے سے سلوی شاہ کی کمر سے گزار کر پیٹ پر سختی سے باندھتے اسے روک چکا تھا—

جبکہ وہ اپنے پاؤں زمین سے اوپر محسوس کرتے زور زور سے ٹانگیں جھلاتی رونے والے انداز میں چلاتی ارمغان خان کے غصے کو مزید ہوا دے گئی تھی کہ تبھی وہ قدم پیچھے لیتا بیڈ کی جانب بڑھتے پٹکنے کے انداز میں سلوی کو بیڈ پر گراتے دونوں ہاتھ کمر پر ٹکاتے خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگا تھا—

“اب اگر تمہاری سریلی آواز حلق سے باہر آئی تو زبان کھینچ لوں گا سلوی شاہ”—ارمغان خان کے انگلی اٹھائے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہنے پر سلوی کا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا—

ارمغان خان کے غصے سے پھولتے تنفس اور سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے وہ حلق تر کرتی کہنیوں کے بل پیچھے ہوتی آہستہ آہستہ سے بیڈ پر کھڑی ہوئی تھی اس سے پہلے ارمغان کچھ کہتا وہ ہاتھ کے اشاروں سے اسے کچھ سمجھانے لگی تھی جسے دیکھتے ارمغان خان کا خون مزید کھولا تھا

“سٹاپ دس نان سنس( ارمغان خان کی شیر سی غراہٹ پر سلوی شاہ کے ہاتھ سرعت سے پہلوں میں ان گرے تھے)—میرا بس نہیں چل رہا سلوی شاہ کے تمہارا حشر کردوں—ایک تم بنا مجھے بتائے بنا اجازت لیے منہ اٹھا کر یہاں آگئی—اور یہاں آکر تم موویز کم اور ان میں نظر آتے ہنڈسم ہیروز کو زیادہ دیکھ رہی ہو—تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرا حق دوسروں پر کٹانے کی”—جبڑے بھنچے چلا کر کہتے جوتے سمیت پاؤں بیڈ پر رکھا تو سلوی شاہ چیخ مارتی پیچھے بیڈ کراؤن سے لگی تھی—

“نن-نہیں تو قسم سے صرف مووی دیکھی – ہیروز کو تو نہیں دیکھا”—دونوں ہاتھ بچاؤ کے لیے سامنے کیے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹا کر کہا تو ارمغان خان نے گھور کر سلوی شاہ کو دیکھا تھا—

“ہاں انہیں دیکھنے سے پہلے تو آنکھیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہوگی نا”— دانت کچکچا کر کہا تو سلوی شاہ کا سر میکانکی انداز میں پہلے نفی اور پھر فورا اثبات میں ہلا تھا

“شرافت سے ادھر آؤ سلوی—اگر میں وہاں آیا تو بہت برا کروں گا”—ہاتھ کے اشارے سے اپنی جانب آنے کا اشارہ کرتے اس بار لہجے کو حتی الامکان نرم رکھنے کی کوشش کی تھی—

“پہلے قسم کھائیں”—گردن اٹھائے سر ہلا کر کہتی وہ ارمغان خان کو مٹھیاں بھنچنے پر مجبور کر گئی تھی—

“تم آرہی ہو یا میں آؤ”— ارمغان خان کے غرا کر کہنے پر وہ لمحے میں سارا فاصلہ سمیٹتے تیر کی تیزی سے قریب آتی بیڈ سے اترتی ہاتھ باندھے سر جھکاتی اس کے سامنے کسی روبوٹ کی طرح کھڑی ہوئی تھی جسے نیند سے تپتی آنکھوں میں سرخی لیے ارمغان خان نے ابرو آچکا کر دیکھا تھا—

” میں مر نا جاؤں کہی اس سعادت مندی پر”—طنزیہ لہجے میں کہتے سلوی شاہ کے دونوں ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے پیچھے کمر سے لگاتے—دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی تھوڑی تلے ٹکاتے چہرہ اٹھایا تھا—

“جو بھی سوال پوچھو گا اس کا جواب مجھے بس ہاں اور نا میں چاہیے کوئی وضاحت یا کہانی سننے کے موڈ میں نہیں ہوں میں”— نظریں سلوی شاہ کی گرے آنکھوں میں گاڑھے سخت لہجے میں کہا تو سلوی شاہ نے چہرے پر معصومیت طاری کرتے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبایا تھا—

“یہاں آنے سے پہلے مجھ سے اجازت لی تھی”— ارمغان خان کے سوال پر سلوی نے بری طرح پہلو بدلا تھا—سوال ایسا تھا کہ کسی بھی جواب پر اس کی جان نہیں بچ سکتی تھی

“مجھے بتانا گوارا کیا تھا”—سلوی کے سر نفی میں ہلانے پر تھوڑی پر دباؤ بڑھاتے دوسرا سوال داغہ تو سلوی شاہ نے سختی سے آنکھیں میچتے—سر نفی میں ہلایا تھا—

“یعنی کہ میں تمہاری نظر میں شوہر نہیں مزاق ہی ہوگیا ہے نا”—ارمغان خان کے تیز لہجے میں چلا کر کہنے پر سلوی شاہ نے گھبرا کر سر اثبات میں ہلایا تھا مگر پھر سمجھ آنے پر روہانسی ہوتی سر نفی میں ہلاتے ہاتھ چھڑوانے چاہے تھے

“سوری آئندہ اجازت لے اور آپ کو بتا کر جاؤں گی”— منہ بسورے روہانسی لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے جبڑے بھنچتے—سلوی شاہ کی کلائیوں پر گرفت بڑھاتے اسے اپنے سینے میں بھنچا تھا

“تمہیں لگتا ہے کہ اب تم ایسا کچھ کرنے کا سوچ بھی سکتی ہو”— ناک سلوی شاہ کی گال پر ٹریس کرتے تپش زدہ لہجے میں کہتے وہ پل میں اس کی سانسیں منتشر کر گیا تھا—

“ارم—غان”—منتشر ہوئی سانسیں—سرخ پڑتے گال لیے کپکپاتے لہجے میں پکارا تو ارمغان خان ہنکارا بھرتے اپنے دہکتے ہونٹ شدت سے سلوی شاہ کے گال پر ثبت کر گیا

“تمہیں اندازا بھی ہے یہ دن کس طرح گزارے ہیں میں نے—تمہارے وجود سے مہکا وہ کمرہ تمہارے بن کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا—تم نہیں تھی تو اس کمرے میں چھائی وحشت زدہ سی تنہائی میں دم گھٹتا تھا میرا—اور تم یہاں میرے بغیر کتنے سکون میں تھی—زرا خیال نہیں آیا شوہر کا کہ وہ کس حال میں ہوگا”— سلوی شاہ کے کپکپاتے ہونٹوں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے دانتوں تلے دباتے شدت بھرے لہجے میں سرگوشی کی تو سلوی شاہ کے وجود میں سنساہٹ دوڑ گئی تھی—

ارمغان خان کی دہکتی سانسوں کی تپش سے سرخ پڑتی وہ بری طرح کسمسائی تو وہ سلوی شاہ کی کلائیوں ایک جھٹکے میں چھوڑتے ایک بازو کمر کے گرد لپیٹتے دوسرا سلوی شاہ کے بالوں میں الجھاتا اسے قریب تر کر گیا تھا

“مم—میں تو بس حوریہ کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتی تھی—وہ ٹھیک نہیں تھی ارمغان—وہ اب بھی ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے—لیکن مجھے ڈر تھا کہ آپ روک نا لیں اس لیے میں نے نہیں بتایا”— دونوں ہاتھ ارمغان خان کے سینے پر رکھتے—نظریں جھکائے کہا تو ارمغان خان نے گھور کر سلوی شاہ کو دیکھا تھا—

اور پھر بنا اسے سمجھنے کا موقع دیے کمرے سے یونہی تھامے اسے لیے بیڈ پر گرا تھا—

سلوی شاہ کے ہونٹوں سے نکلتی چیخ کا گلہ اپنے ہونٹوں میں دباتے وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو قید کر چکا تھا

“میرے سالا صاحب نے کہا تھا کہ میری بیوی کا شکوہ ہے کہ میں اسے کہی گھمانے نہیں لے کر گیا—تو مجھے احساس ہوا کہ مجھ سے کتنی بڑی غلطی ہوگئی ہے اور اب اپنی غلطی کو میں بہت اچھے سے سدھارنے والا ہوں اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس کے بعد میری بیوی کا گھومنے والا شکوہ بہت اچھی طرح دور ہو جائیں گا—اور جتنا مسسز ارمغان تم خان میرا دماغ گھما چکی ہو اس کا بدلہ سود سمیت چکانے کی تیاری اچھے سے کر لو”—انگھوٹھے کے پور کو سلوی شاہ کے ہونٹوں پر پھیرتے—سنجیدہ لہجے میں کہتے چہرہ سلوی شاہ کی گردن میں چھپاتے گہری سانس بھرتے سلوی شاہ کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارتے آنکھیں موندیں تھیں—

جبکہ سلوی شاہ ارمغان خان کی دہکتی بھاری ہوتی سانسوں کو اپنی گردن پر محسوس کرتے سانس تک روک چکی تھی

“فکر نا کرو ابھی بدلہ نہیں لے رہا تو سانس لے لو—اور جب بدلہ لینا ہوگا تب یہ سانسیں میں خود قید کر لوں گا تمہیں روکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی”—ارمغان خان ک نیند میں ڈوبی آواز سنتے سلوی شاہ نے گہری سانس بھرتے جھٹ آنکھیں بند کی تھیں

_________

حدائق شاہ سیڑھیاں پھلانگتے اوپر گیا تو عائث خان دبے قدموں سے لاونج میں آیا تھا— نظریں نیم اندھیرے میں حوریہ شاہ کے چہرے پر گئی تو عائث خان صوفے کے قریب آتے گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا تھا—

نظریں گلابی باریک ہونٹوں سے سرکتی بند آنکھوں سے ہوتی ماتھے پر چوٹ کے نشان پر ان رکی تو عائث خان کی آنکھوں میں درد کے تاثرات ابھرے تھے—

دایاں ہاتھ آگے بڑھاتے نرمی سے انگلیوں کے پوروں سے نشان کو چھوا تھا— اسٹیچیز کے نشان کے گرد پھیلی سرخی اور ہلکی سوجھن کو دیکھتے عائث خان نے نرمی سے اسے ہونٹوں سے چھوا تھا—

حوریہ شاہ کو اپنی بانہوں میں بھرتے قدم اسی کمرے کی جانب بڑھائے جہاں وہ رکے تھے—

جبکہ بانہوں میں سوئی حوریہ شاہ کے وجود میں ہلکی سی جنبش ہوئی تھی—جیسے اس نے کروٹ لینے کی کوشش کی ہو

کمرے میں داخل ہوتے پاؤں کی مدد سے دروازا بند کرتے آگے بڑھ کر حوریہ کو نرمی سے بیڈ پر لٹایا تھا—دروازے کو لاک کرتے وہ دوبارا سے حوریہ کی جانب بڑھا تھا

جبکہ وہ بھی تیز روشنی آنکھوں میں پڑنے پر ہتھیلی آنکھوں پر رکھتی کسمسائی تھی—

بیڈ پر حوریہ شاہ کے قریب دراز ہوتے وہ اس کی کلائیاں نرمی سے تھامتے رخ اپنی جانب کر چکا تھا—جس پر حوریہ شاہ نے نیم واہ آنکھوں سے سامنے والے کو دیکھا تھا—

نظریں چاکلیٹ براؤن آنکھوں سے ٹکرائی تو وہ جیسے ہوش میں آئی تھی—جھٹکے سے پوری آنکھیں کھولتے کمرے میں نظریں دوڑائی تھی کہ وہ کہاں ہے—نظریں اطراف سے ہوتی سامنے خود کو خاموشی سے دیکھتی آنکھوں سے ٹکرائی تو حوریہ شاہ نے اپنی کلائیاں عائث خان کی گرفت میں محسوس کرتے چھڑوانی چاہی تو عائث خان نے نرمی سے انہیں آزاد کیا تھا—

“کب تک ناراض رہو گی”— نرم لہجے میں کیے گئے سوال پر وہ نظریں پھیرتی آٹھ کر کچھ فاصلے پر ہوئی تھی—

“لالا نے بتایا ہے آپ کو—یہاں انہیں کسی بات سے بلیک میل کر کہ پوچھا ہے آپ نے—خیر جیسے بھی پتہ چلا آپ کو—لیکن یہاں آنے کا کوئی فائدہ نہیں—کیونکہ میں یا تو یہاں رہوں گی یا پھر اپنے گھر—اگر آپ نے میرے ساتھ کسی طرح کی زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں نا وہاں جاؤں گی اور یہاں سے بھی کہی چلی جاؤں گی “— رخ بدلتے دوٹوک لہجے میں کہتی وہ قدم نیچے رکھتی کہ عائث خان کہنی کے بل ہوتے دائیں ہاتھ سے حوریہ شاہ کا بازو تھام کر جھٹکا دیتے سے پیچھے کھسکا چکا تھا—

“ٹھیک ہے نا یہاں رہو نا اپنے گھر—کہی اور چلی جاؤ لیکن مجھے ساتھ لے کر—کیونکہ اس سے زیادہ میں اور دوری برداشت نہیں کرسکتا—ناراض رہنا ہے غصہ دکھانا ہے تو ساتھ رہ کر یہ کام کر لینا”— حوریہ شاہ کے احتجاج کرتے ہاتھوں کو نرمی سے اپنی گرفت میں لے کر بیڈ پر ٹکاتے ہوئے کہا تو حوریہ نے شکوہ کناں نظروں سے عائث خان کو دیکھا تھا—

“آپ کو کوئی ضرورت نہیں ایک ایسے رشتے میں بندھنے کی جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر تھی—میری طرف سے آپ کو اجازت ہے آپ کسی اور کے ساتھ سچ کی بنیاد پر رشتہ قائم کر سکتے ہیں—مجھے آپ کے کسی نئے رشتے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا—اور اگر چاہے تو مجھے اپنے نام پر بٹھائے رکھے یا چھوڑ بھی دے تو بھی آپ کی مرضی”— کرسٹل گرے آنکھوں کو بےخوفی سے عائث خان کی آنکھوں میں گاڑھے سپاٹ لہجے میں کہتی وہ عائث خان کے دل کو اپنے لفظوں سے چھلنی کرتی نظریں چہرے سے ہٹاتی دیوار پر مرکوز کر چکی تھی—

“یہ کیا بکواس کی ہے ابھی—دوبارا کہنا—ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری حوریہ—ادھر دیکھو میری طرف—کیسے اتنی آسانی سے تم یہ بکواس کر سکتی ہو—تم یہ سب سوچ کر یہاں آئی تھی—یہ سب چل رہا تھا تمہارے ذہن میں”— ہاں یہی سب سوچ کر آئی تھی”—عائث خان کے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہنے پر بےخوفی سے جواب دیا تو عائث خان نے جبڑے بھنچتے—خونخوار نظروں سے حوریہ شاہ کے سپاٹ چہرے کو دیکھا تھا—

“وہی جو آپ نے سنی ہے”— حوریہ شاہ کے دوبدو جواب دینے پر وہ دل ہی دل میں عش عش کر اٹھا تھا—

“اور تمہیں لگتا ہے کہ اس بات پر تمہیں گولڈ میڈل پہناؤں گا”— حوریہ شاہ کی تھوڑی کو اپنی نرم گرفت میں لیتے چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے طنزیہ لہجے میں کہا تو حوریہ نے نظریں جھکاتے ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست کیے تھے—

“ایسی گھٹیاں سوچ پر میں جان نا لے لوں تمہاری”—ہونٹ حوریہ کے کان کے قریب لاتے سلگتے لہجے میں چٹانوں سی سختی لیے غرا کر کہا تو حوریہ کو اپنا سارا ایٹیٹیوڈ اور بہادری ہوا ہوتی محسوس ہوئی تھی

“کیوں نا سوچوں میں ایسا—ہاں کیوں نا سوچوں—جب آپ کو مجھ پر یقین نہیں—آپ کی نظروں میں یہ رشتہ جھوٹ کی بنیاد پر اور میں بدکردار ہوں تو پھر کیوں نا سوچوں میں—آپ کا جب دل چاہے مجھے چھوڑ کر چلے جائیں جب دل چاہے لوٹ آئیں تو پھر بھی میں ایسا نا سوچوں بس آپ کے لوٹ آنے پر سب کچھ بھلائے خود کو آپ کے حوالے کر دوں آپ پر خود کو نچھاور کر دوں اور پھر ہر لمحہ اس ڈر میں رہوں کہ اب کس بات پر آپ مجھے بنا بتائے چھوڑ کر جانے والے ہیں”—عائث خان سینے پر ہاتھ رکھتی اسے پیچھے کی جانب دھکیل کر اٹھتی دونوں ہاتھوں میں عائث خان کا کرتا دبوچے ہذیانی انداز میں چلا کر کہتی وہ اپنے اندر پلتا سارا غصہ ڈر اس پر واضح کر گئی تھی جبکہ حوریہ شاہ کے بدکردار کہنے پر عائث خان نے مٹھیاں بھنچتے اپنے اشتعال پر قابو پاتے حوریہ کے چپ ہونے پر اس کے دونوں بازوؤں کو اپنی اپنی گرفت میں لیا تھا

“جھوٹ مت بولو حوریہ—میں نے کبھی تمہیں بدکردار نہیں کہا ہے—اور نا ہی میں تمہیں یہ گھٹیاں لفظ آیندہ تمہاری زبان سے سنو—اور نا ہی میں نے کبھی یہ کہا کہ مجھے تم پر یقین نہیں—یقین تھا تو چاہتا تھا کہ جو بھی بات ہے تم خود مجھے بتاؤ—کیونکہ تم جو بھی بتاتی آنکھیں بند کر کہ مان لیتا—اور جو ابھی ابھی تم نے اتنی گری ہوئی باتیں کی ہیں ایسا گھٹیا سمجھا ہوا ہے تمہیں—یا خود کو کوئی استعمال کی چیز سمجھا ہوا ہے کہ میں آؤ گا استعمال کروں گا اور چلا جاؤں گا”—چہرے پر سختی لیے سرد لہجے میں پوچھتا وہ حوریہ شاہ کی بولتی بند کر چکا تھا

“میں مر بھی جاتی تو آپ نا آتے – آپ کو اس بات سے بھی فرق نا پڑتا کہ میں کہاں ہوں کس حال میں ہوں—زندہ بھی ہوں یا مرگئی ہوں—آپ کی نظر میں آپ کا غصہ آپ کہ ناراضگی مجھ سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی”— شکوہ کناں نظروں سے عائث خان کو دیکھتے نم لہجے میں کہتی نرمی سے عائث خان کا حصار توڑتی پیچھے ہوئی تھی

“تمہارے ساتھ زندگی کے خوبصورت سفر کی دعائیں مانگیں ہیں تمہیں لگتا ہے کہ وہ ایسے ہی رائیگاں جاتی—اتنی آسانی سے تھوڑی تمہیں جانے دینے والا تھا میں”—محبت بھرے لہجے میں کہتے گھٹنوں کے بل بیڈ پر بیٹھتے ہاتھ بڑھا کر حوریہ شاہ کو اپنے حصار میں لیتے سختی سے سینے میں بھنچا تھا

“تم تو میری روح کا سکوں ہے—اور اپنے سکوں کو میں ایسے ہی تھوڑی خود سے دور جانے دینے والا تھا”— انگلیوں کے پوروں سے سر کے پچھلے حصے پر لگی چوٹ کو محسوس کرتے نرم لہجے میں کہتے حوریہ شاہ کا چہرہ اپنے سامنے کیا تھا کرسٹل گرے آنکھوں کو دیکھتے عائث خان نے نرمی سے انہیں ہونٹوں سے چھوا تھا—

“آپ کو مجھ سے زرا محبت نہیں ہے عائث—اگر ہوتی تو یوں چھوڑ کر نا جاتے”— اور میں نے کب کہاں تھا کہ مجھے محبت ہے”—حوریہ کے شکوہ کناں لہجے پر آبرو آچکا کر جواب دیا تو حوریہ نے ہونقوں کی طرح منہ کھولے خفا نظروں سے عائث خان کو دیکھا تھا—

“میں بتانا بھول گیا مائے انوسنٹ وائفی—کہ بندے کو آپ سے محبت نہیں عشق ہے”— شوخ لہجے میں کہتے آنکھوں میں چمک لیے حوریہ شاہ کی آنکھوں میں دیکھتے—کچھ انچ کے فاصلے کو سمیٹا تو حوریہ نے اپنی سانسیں تک روک لی عائث خان کی سانسوں کی تپش سے گال دہک کر سرخ انار ہوئے تھے— لانبی پلکوں کا رقص دیکھتے عائث خان مسمرائز ہوتے حوریہ شاہ کے ہونٹوں پر جھکا تھا—ایک ہاتھ حوریہ شاہ کے گال پر ٹکائے دوسرا کمر پر لپیٹ کر حوریہ کو پیچھے بیڈ پر لٹاتے اس پر سایہ فگن ہوا تھا—

جبکہ عائث خان کے شدت بھرے لمس کو اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتی وہ عائث خان کے کرتے کو سختی سے مٹھیوں میں دبوچ چکی تھی—جبکہ عائث خان قطرہ قطرہ حوریہ شاہ کی سانسوں کو خود میں اتارتے نرمی سے پیچھے ہوا تو وہ گہرے سانس لیتی رخ بدل گئی تھی جسے دیکھتے عائث خان ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے پیچھے ہوتا بیڈ سے اتر کر روم کی لائٹ بند کرتا بیڈ پر آیا تھا—

“باقی اپنے روم میں جا کر کینٹینیوں کریں گے”— حوریہ شاہ کے نازک وجود کو اپنی بانہوں میں بھرتے کان میں بھاری سرگوشی کرتے آنکھیں موندی تو حوریہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے نیم اندھیرے میں خاموش نظروں سے عائث خان کے چہرے کو دیکھا تھا—

ہونٹوں پر آسودہ سی مسکراہٹ سجائے—سکون سے آنکھیں موندتے سر عائث خان کے سینے پر ٹکایا تو عائث خان نے شدت سے حوریہ شاہ کے وجود کو خود میں چھپایا تھا

_______

“شاہ صاحب اس طرح کے مجرموں کے لیے پھانسی کی سزا ہی بنتی تھی—نجانے کیوں آپ نے عمر قید پر ڈال دیا یہ معاملہ”—ایس ایچ او کے تاسف بھرے لہجے میں کہنے پر بہرام شاہ نے گہری سانس بھری تھی—

“جرم جس نے کیا ہو سزا بھی صرف اسے ملںی چاہیے آفیسر— اسے پھانسی ہوتی تو کوئی اور زندگی تو گزار لیتا لیکن اس غم کو کبھی دل سے نا نکال پاتا—یہ عورت اگر صرف مجرم ہوتی تو الگ بات تھی—یہ ضرغام خان کی ماں بھی ہے—ماں خونی بھی ہو تو کوئی اولاد اسے پھانسی کے تختے پر چڑھتے نہیں دیکھ سکتی—اور شاید پھانسی سے بدتر عمر بھر کی سزا ہے—جس عورت نے ساری زندگی محل جیسے گھر میں گزاری ہو—عیش و عشرت میں زندگی کو جیا ہو اور لوگوں پر حکمرانی کرنے کے خواب دیکھے ہو اس کے لیے اس سے بھر کر کیا سزا سکتی ہے—باقی ضرغام اور حدائق لوگ واپس آتے ہیں تو مل کر بات کر لیتے ہیں کہ کیا کرنا ہے—فلحال اسے تھانے سے جیل پہنچاؤ تم”— سنجیدہ لہجے میں کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھا تھا نیلے کوٹ کے بٹن بند کرتے آنکھوں پر کالہ چشمہ لگایا تو ایس ایچ او نے کرسی سے اٹھتا اپنا ہاتھ بڑھایا تھا جسے تھامتے وہاں سے نکلتے باہر اپنی کار کے پاس آیا تھا—

گاڑی کا دروازا کھولتے بازو گاڑی کی چھت پر ٹکاتے پرسوچ نظروں سے تھانے کی دیواروں کو دیکھتے سر جھٹک کر گاڑی میں بیٹھا تھا—

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *