Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 13)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 13)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
کچھ دن پہلے:-
حدائق شاہ کے علاؤہ کسی اور شخص کا تصور ہی سوہان روح تھا—وہ حدائق شاہ کی جان بچانے کی خاطر اتنا بڑا قدم اٹھا تو چکی تھی—مگر وہ کیسے کسی اور کی ہو سکتی تھی
وہ جو مکمل طور پر حدائق شاہ کی بن کر—اس کے نام سے منسوب ہو کر اس کے سامنے جانا چاہتی تھی—وہ کیسے کسی اور کا ہاتھ تھام کر حدائق شاہ کا سامنہ کر سکتی تھی
وہ نہیں جانتی تھی کہ اس شخص کہ لیے پلوشہ خان کا اس کا ہونا یا نا ہونا اہمیت رکھتا ہے یا نہیں—مگر پلوشہ خان کے لیے تو اس کا سب کچھ حدائق شاہ ہی تھا—
بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی—ہچکیوں سے روتی وہ قسمت کی اس ستم ظریفی پر ماتم کناں تھی—
سانس جیسے سینے میں اٹک رہا تھا—دھڑکنیں سست پڑ رہی تھی—
اور پلوشہ خان کی یہی دعا تھی کہ حدائق شاہ کے علاؤہ کسی اور کا ہونے سے بہتر ہے کہ ان بے معنی سانسوں کی ڈور ٹوٹ جائیں
تبھی کمرے کی خاموش فضا میں موبائل کی چنگاڑتی ہوئی آواز گونجی
جسے سن پلوشہ نے اپنے کانوں پر سختی سے ہاتھ رکھ لیے
فلحال وہ کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی تھی—
دل بری طرح سے گھبرا رہا تھا—
وہ اپنی ماں کو بتانا چاہتی تھی کہ اس کا دل کس قدر تکلیف میں ہیں—وہ دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتی ہے مگر وہ رو نہیں پا رہی—ایسا لگ رہا ہے کہ تکلیف کی شدت سے دل پھٹ جائے گا— وہ منت کرنا چاہتی تھی اپنی ماں کی کہ وہ حدائق شاہ سے رشتہ توڑ سکتی ہے مگر کسی اور کی نہیں ہو سکتی—
مگر وہ یہ کہہ بھی نہیں پا رہی تھی—دل میں ڈر تھا کہ اگر مقدس بیگم نے کہہ دیا کہ اس کے بھائیوں نے حدائق کو کچھ کر دیا ہے تو وہ کیسے برداشت کریں گی—
ابھی وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ ایک بار پھر سے موبائل کی چنگاڑتی آواز گونجی
کال کرنے والا کوئی مستقل مزاج ہی تھا—تکیے سے چہرہ اٹھاتے نم بھیگی نیلی آنکھوں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے—گردن ترچھی کر کہ سائیڈ ٹیبل پر پڑے موبائل کو دیکھا
گلے میں آنسوؤں کا گولہ اٹکتا سا محسوس ہوا
خشک پڑتے ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے اپنے وجود کو گھیسٹنے کے انداز میں آگے کرتے—ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل کو اٹھایا
موبائل پر چمکتے “جان لالا”—کے الفاظ کو دیکھ کئی آنسوں پلکوں کی بار توڑ کر رخسار پر بہہ نکلیں
ضرغام اور عائث خان ارمغان خان کو چھوٹے خان کہہ کر بلاتے تھے— جبکہ امتثال اور پلوشہ کی تو اپنے لاڈلے اور چہیتے لالا میں جان تھی
امتثال کو کوئی کام ہوتا ارمغان خان سے تو وہ اسے جان لالا کہتی تھی—جس پر ارمغان کافی چڑتا بھی تھا—
اسی لیے امتثال نے اپنے اور پلوشہ کہ موبائل میں ارمغان خان کے نمبر کو جان لالا کے نام سے سیو کیا ہوا تھا
اپنے نازک گلاب سی پنکھڑیوں جیسے پھرپھراتے ہونٹوں کو بری طرح کچلتے—۔ دھندلی آنکھوں سے سکرین پر نظر آتی ارمغان خان کی مسکراتی تصویر کو دیکھا
وہ خود کی نظروں میں تو گری تھی—مگر وہ ساری عمر کیسے اس شخص کے سامنے نظر اٹھا سکے گی
جس نے چھوٹی بہنوں جیسے لاڈ اٹھائے تھے–
“اس—اسلام و عع-علیکم”—اپنے آنسوؤں پر بندھ باندھ کر بامشکل ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں سلام کیا
تو دوسری جانب ارمغان خان جو غصے میں بھرا بیٹھا تھا اور پلوشہ کی اچھی خاصی کلاس لینے کا سوچے ہوئے تھے
پلوشہ کی نم بھیگی آواز سن کر گہری سانس بھر کر رہ گیا
“میری بات کان کھول کر سن لو پلوشے—میں نے ہمیشہ تمہیں چھوٹی بہن سمجھا ہے—تم نے جو بھی بکواس کی ہے اس کے بعد میرا دل تو تمہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کو چاہ رہا ہے—مگر”— لاکھ روکنے کے باوجود بھی لہجے میں سختی در آئی تو ارمغان خان نے بامشکل خود پر ضبط کیا
“نکاح تو تم سے میں کسی صورت نہیں کروں گا—پھر اس کے لیے چاہے مجھے خود مرنا مرے یا تمہیں مارنا پڑے—تو اس غلط فہمی کو دماغ سے نکال ہی دو—اور جس نے تمہارے دماغ میں یہ فطور بھرا ہے اس سے دور رہو—اور اگر تمہیں یہ لگ رہا ہے کہ حدائق شاہ کوئی بہت ہی رحمدل اور مسیحا ٹائپ بندہ ہے تو تب بھی اپنی یہ غلط فہمی جلد دور کر لو—
وہ مسیحا اور رحمدل بے سہاروں—غریب اور یتیم لوگوں کے لیے ہے–
لوگوں کے آپریشن تو وہ جان بچانے کے لیے کرتا ہے نا— ہمارا اس نے جان سے مارنے کے لیے کر دینا ہے—
تم نہیں بتانا چاہتا ابھی مت بناؤ کہ تم نے ایسا کیوں کیا–مگر میری بات کان کھول کر سن لو—اور اس کے بعد اپنی چونچ بند رکھنا – یہ نکاح نکلی ہوگا—صرف اور صرف دوسروں کو دکھانے کے لیے—جب تک حدائق لالا نہیں آجاتے – اس کے بعد اگر تم ان کے سامنے یہ بات کہہ دو گی کہ تمہیں ان سے شادی نہیں کرنی تو میں مان لوں گا کہ تم سچ میں ان سے شادی نہیں کرنا چاہتی – آئی بات سمجھ”— سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو پلوشہ خان نے بے ساختہ سر اثبات میں ہلایا
ابھی وہ آگے سے کوئی جواب دیتی ارمغان خان فون رکھ چکا تھا—
جبکہ پلوشہ خان کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھی تھی—حدائق سامنے ہوگا تو وہ کیسے اسے کہہ سکتی تھی کہ وہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی – وہ تو حدائق شاہ کا ہاتھ تھام کر یہاں سے دور چلی جائے گی جہاں کوئی دشمنی—کسی نفرت کا نام و نشان تک نہیں ہوگا
______________
نکاح خواں نہیں آئے گا نکاح پڑھوانے”—عائث خان کو ہاتھ میں نکاح نامی تھامے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ مقدس بیگم نے حیرت سے پوچھا تو عائث خان نے آبرو آچکا کر سپاٹ نظروں سے انہیں دیکھا
“آپ کو نکاح سے مطلب ہے یا نکاح خواں سے”—سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو مقدس بیگم نے گڑبڑا کر عائث خان کے سپاٹ چہرے کو دیکھا
“نن—نہیں مجھے کیوں کسی سے مطلب ہوگا—میں تو بس اسی لیے کے نکاح کون پڑ”—ابھی مقدس بیگم اپنی بات مکمل کرتی کہ عائث خان سر جھٹکتا سائیڈ سے ہوتا صوفے پر سر جھکائے دوپٹے کا گھونگھٹ اوڑھے بیٹھی پلوشہ کی جانب بڑھا
“ارمغان کافی غصے میں ہے—اور اپنا غصہ وہ نکاح خواں پر بھی نکال چکا ہے— پلوشے بیٹا یہاں سائن کردو”—مقدس بیگم کو جواب دیتے پلوشہ کے سر پر ہاتھ رکھتے نرم لہجے میں کہا تو پلوشہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے پین تھام کر جہاں جہاں عائث خان کہتا گیا وہ سائن کر دیے
“مبارک ہو اللہ تمہیں خوش رکھے”—پلوشہ کے سر پر پیار دیتے—ایک قہر بھری نظر وہاں کھڑی تینوں عورتوں پر ڈالتا سر جھٹکتے روم سے نکلتا چلا گیا
جبکہ مقدس بیگم نے نکاح ہوجانے کی خوشی میں یہ تک بھی نا دیکھا کہ عائث خان کے ہاتھ میں موجود نکاح نامی اصلی بھی ہے یا نکلی
_______
ارمغان خان کی بات مکمل ہونے پر بہرام شاہ نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا
“جب تم جانتے تھے کہ گولی سے تمہیں ایک کھروچ جتنا نقصان ہوا ہے تو پھر اتنی نوٹنکی کرنے کی کیا ضرورت تھی”—ہاسپٹل کے پرائیویٹ روم میں بیڈ کے دائیں جانب پڑے صوفے پر بیٹھے عائث خان نے سرد لہجے میں استفسار کیا تو بہرام شاہ کے موبائل پر پب جی کھیلتے ارمغان خان نے اپنی شہد رنگ آنکھوں کو چھوٹا کر کہ معصوم شکل بنا کر عائث خان کو دیکھا
جبکہ بہرام شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر بامشکل اپنے امڈتے قہقہے کو روکا
“وہ تو میں نے ماں جی کی وجہ سے کیا— موقع اچھا تھا تو اسی سے فائدہ اٹھایا میں نے—جب ضرغام لالا نے اپنی شرٹ زخم پر باندھی انہیں تب ہی اندازہ ہوگیا تھا—اور ماں جی کو احساس دلانا تھا کہ دشمنی اور نفرت کا یہی انجام ہوتا ہے—آج میں خون میں لت پت تھا—کل کو کفن میں”—دونوں ہاتھوں میں موبائل تھامے—محویت سے گیم کھیلتے لاپروا لہجے میں کہتے ابھی ارمغان خان بات مکمل کرتا کہ عائث خان نے ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں سے ارمغان خان کے جھکے سر کو دیکھا
“بکواس بند کرو چھوٹے خان— جان سے مار دوں گا آئندہ یہ گھٹیا بات دوبارہ کی— جب جانتے ہو ہماری جان بستی ہے تم میں پھر یہ گھٹیا بات سوچی بھی کیسے تم نے—اگر حدائق شاہ تمہارے کمرے تک پہنچ گیا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ کوئی بھی منہ اٹھا کر حویلی میں داخل ہو جائے گا—یا تمہیں نقصان پہنچا سکے گا—ارمغان خان تک تو موت کو بھی پہنچنے سے پہلے اس کے بھائیوں کا سامنہ کرنا ہوگا—تم پر تو ضرغام خان خود کو وار دے اور تم اپنے بھائیوں کی جان لینے والی باتیں کر رہے ہو”—کمرےکا دروازا دھاڑ سے کھولتے اندر داخل ہوتے ضرغام خان نے—ارمغان کے قریب پہنچتے—دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو ارمغان خان نے سٹپٹا کر مدد طلب نظروں سے عائث خان کو دیکھا جو خود خون چھلکاتی نظروں سے ارمغان خان کو ہی دیکھ رہا تھا
“چھوڑو یار بچہ ہے—نکل گئی بات منہ سے—اب جانے بھی دو”—بہرام شاہ نے قدم ضرغام خان کی جانب بڑھاتے نرم لہجے میں مسکرا کر کہا تو ضرغام خان نے غصے کی زیادتی سے سرخ پڑتے چہرے پر ہاتھ پھیرتے خود پر ضبط کرنے کی کوشش کرتے اردگرد نگاہ دوڑائی
“حدائق کہاں ہے—پھر تو نہیں جھگڑے تم لوگ”—ضرغام خان کے روبرو کھڑے ہوتے سنجیدہ لہجے میں استفسار کیا تو ضرغام خان نے اپنی نیلی خون چھلکاتی نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھتے مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر قابو پایا
“سالے کا نکاح کروا کر آرہا ہوں—دل تو میرا اسے جان سے مارنے کا تھا—مگر اپنی بہن کے آگے بے بس ہوا ہے یہ خان— اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ حویلی داخل ہوجانا—یا ارمغان خان کے کمرے تک پہنچ جانا اس کی بہادری تھی—تو کان کھول کر سن لو اور اسے بتا دینا—یہ ضرغام خان کی اجازت تھی کہ وہ حویلی کہ اندر تک اجائے—ہم جانتے تھے کہ وہ آئیں گا—یہ بھی جانتے تھے کہ وہ پاکستان میں ہی ہے—اور اسے زخمی حالت میں ہاسپٹل سے کسی اور جگہ شفٹ کرنے والے بھی تم ہو—ہم جو بھی کرلیتے وہ اپنی مرضی کے بغیر سامنے نا آتا—اسی لیے یہ نکاح کا ڈرامہ کیا حدائق شاہ کو سامنے لانے کے لیے–
کیونکہ میرے پاس گاؤں کے اور اپنے بہت سے مسائل ہیں—میں سٹار پلس کی ستی ساوتری بیوی بن کر اس کا انتظار نہیں کر سکتا تھا کہ وہ کب آئیں گا—
زیادہ مسئلہ پلوشہ کا تھا—مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ماں کیوں اس قدر ان کے خلاف ہے—میں لاکھ بار سمجھا بھی چکا ہوں—مگر وہ نہیں مان رہی—اسی لیے یہ ضروری تھا کہ کسی بھی طرح پلوشہ کا نکاح حدائق سے ہوجاتا”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے گہری نیلی آنکھوں سے پھر سے گیم میں غرق ارمغان خان کو گھورا
“صحیح وقت آنے دو—سب سامنے اجائے گا—میں ذرا ڈرائیو کو دیکھ لوں—کپڑے لانے کا بولا تھا—اسے سے پہلے فجر کا وقت گزر جائے”—اپنی خون لگی شرٹ پر ہاتھ پھیرتے—ضرغام کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا تو پیچھے بیٹھے عائث خان نے تاسف سے سر ہلاتے ان تینوں کو دیکھا
“میں بھی نماز کے لیے ہی جا رہا تھا—ساتھ ہی چلتے ہیں—اور چچی کو بھی گھر بھیجنا ہے—اتنا ڈوز کافی تھا—مجھے تو لگتا یہ عورتوں کو سدھارنے کا یہی ٹھیک طریقہ ہے زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ جاؤ”—ارمغان خان کے ہاتھوں سے موبائل چھین کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا تو عائث خان کی بات پر بہرام شاہ کا دلکش قہقہہ گونجا
جبکہ ضرغام نے تاسف سے سر ہلاتے آگے بڑھ کر ارمغان خان کو اپنے سینے سے لگاتے—ارمغان خان کی پیٹھ تھپتھپائی
“آئندہ چاہے ماں ہو یا بیوی انہیں اپنے طریقے سے ڈیل کرنا—ایسی بیوقوفوں والی حرکت کرنے کی ضرورت نہیں—تمہارے سامنے بندوق تان کر چاہے حدائق شاہ کھڑا ہو یا کوئی بھی— مجھے تم صحیح سلامت چاہیے—پھر چاہے خود کو بچانے کے لیے سامنے والے کو موت کے گھاٹ اتار دو”—سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے—ارمغان خان کو دیکھتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے سر ہلانے پر اکتفا کیا
جبکہ عائث خان نے گہری سانس بھرتے بہرام شاہ کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا تو وہ سر ہلاتا عائث خان کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا
“لالا آپ بھی جانتے ہیں کہ حدائق لالا بیسٹ شوٹر ہیں—اگر ان کی نیت مجھے نقصان پہنچانے کی ہوتی تو میرے سینے کا نشانہ لیتے—اب انہوں نے ایسا کیوں کیا وہی بہتر جانتے ہیں—اور پلوشہ اور حدائق لالا کے نکاح کا فیصلہ بہت اچھا کیا آپ نے”—اپنے ڈارک براؤن بالوں کو ہاتھ کی مدد سے سیٹ کرتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے پرسوچ نظروں سے ارمغان خان کے چہرے کو دیکھتے سر اثبات میں ہلایا
“اس بارے میں بعد میں بات کرتے ہیں—پہلے اٹھ کر نماز پڑھ لو—میں بھی مسجد میں نماز ادا کر کہ آتا ہوں—میرے سے پہلے نماز پڑھ چکے ہو تم”—نیلی آنکھوں کو چھوٹا کرتے گھور کر ارمغان خان کو کہا تو روم کی فضا میں ارمغان خان کا دلکش قہقہہ گونجا تو ضرغام خان نے مسکراتے ہوئے ارمغان کے سیٹ کیے بالوں کو ہاتھ سے بگاڑتے قدم باہر کی جانب بڑھائے
__________
“کیا مطلب صبغہ کہا گیا بالاج—تم فارم ہاؤس میں نہیں تھی کیا”—کبرڈ سے عائث خان کا ڈریس نکالتے فون کان سے لگائے حوریہ نے حیرت سے استفسار کیا تو
دوسری جانب فارم ہاؤس کے باہر کھڑی صبغہ شاہ نے پریشانی سے ماتھا مسلتے جنگل کی جانب نگاہ دوڑاتے بری طرح اپنے لب کچلے
“بہرام لالا نے کہا تھا کہ میں اب یہاں سے چلی جاؤں ان کے گارڈز آجائیں گے—اور وہ کمینہ شاہ مجھے کہہ رہا تھا کہ لالا کی وجہ سے یہاں بندھا ہوا ہے—جب تک نہیں آئیں گے کہی نہیں جاؤں گا—
اور اب آدھی رات کو گارڈز کی درگت بنا کر پتہ نہیں کہا نکل گیا ہے—وہ تو میں نے ویسے ہی گارڈ کو کال کی تو اس بچارے کی چیخوں پکار سن کر مجھے اس کمینے شاہ کی فرمانبرداری کی وجہ سمجھ آئی—ویسے چاہے مجھے نظر اٹھا کر نا دیکھے—مگر غیرت مند اتنا تھا کہ جانتا تھا کہ میں فارم ہاؤس میں اکیلی ہوں اسی لیے وہی بھائی کا فرمانبردار بن کر بیٹھا رہا—اور ابھی مجھے گئے کچھ گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ اپنی شرافت دکھا دی”— دانت پیستے قدم جنگل کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو فون سے حوریہ شاہ کی کھلکھاتی ہوئی ہنسی کی آواز گونجی
“مطلب کچھ کچھ تو ہے تمہارے کمینے شاہ کے دل میں”— ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے بالوں میں برش کرتے مسکرا کر کہا تو صبغہ شاہ نے تلخی سے مسکراتے سر جھٹکا
“دل میں تو تم ہو—میں تو وہ ان چاہا وجود ہوں جسے وہ دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا—جس کی محبت کو وہ رتی کے بھاؤ نا خریدے—میں کہی بھی نہیں ہوں—نا بالآج شاہ کہ دل میں نا ہی اس کی سوچوں میں—وہاں تو صرف تمہارا بسیرا ہے— مجھ سے تو بس غیرت کا رشتہ ہے—میں اس کے خاندان کی عزت ہوں—میری عزت کی حفاظت کے لیے وہ اپنی جان دے سکتا ہے—مگر میری محبت کی وجہ سے میری جان لے بھی سکتا ہے”—تلخ لہجے میں کہتے بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے آنکھ کے کناروں سے آنسو صاف کرتے بری طرح اپنے لب کچل ڈالے
” میں بالآج شاہ کے دل میں ہوں یا نہیں یہ معنی نہیں رکھتا—میں عائث خان کا نصیب اس کے نام سے منسوب ہوں یہ اہمیت رکھتا ہے—بالآج اور عقیدت کی بہت سی عادتیں ملتی ہیں—وہ دونوں ضدی اور ہٹ دھرم ہیں—اپنی کرنے والے—مگر وہ دونوں اپنے نام سے منسوب رشتوں پر جان دینے والے ہیں—بیوفائی نہیں کر سکتے— ضرغام لالا عقیدت کو چھوڑنے کا فیصلہ بھی کرتے تو عقیدت کبھی انہیں نہیں چھوڑتی—یہ بالآج اور عقیدت کی فطرت ہے—اپنی دسترس میں آنے والی چیزیں کسی دوسرے کے لیے نہیں چھوڑتے—تم بس ایک بار بالآج شاہ کے نام سے منسوب ہو جاؤ—پھر دیکھنا بالآج شاہ کے دل و دماغ اور دنیا پر صرف تمہارا ہی راج ہوگا—بالآج شاہ کے لیے اس دنیا میں صرف ایک ہی لڑکی اہمیت رکھے گی—اور وہ ہوگی صبغہ بالآج شاہ”— حوریہ شاہ نے محبت بھرے لہجے میں کہا تو حوریہ کی باتوں سے صبغہ کے ہونٹوں پر بھی خوبصورت مسکراہٹ رینگ گئی
“اچھا بس اتنے خواب کافی ہیں—تم جاؤ اپنے خان کے پاس—میں ذرا اپنے شاہ کو ڈھونڈ لوں”—مدھم قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تو حوریہ شاہ نے مسکرا کر نفی میں سر ہلاتے کال بند کر کہ فون ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا
جبکہ درختوں کے قریب کسی انسان کے سائے کو محسوس کرتے صبغہ تیز قدم لیتی آگے بڑھی
صبح کے ساڑھے چار بجے جنگل کی تاریکی میں چودھویں کے چاند کی روشنی پھیلی ہوئی تھی—
گہری خاموشی میں جنگلی جانوروں کی آوازیں گونج رہی تھیں—
صبغہ شاہ ڈرپوک ہرگز نا تھی— رب کی ذات کے علاؤہ دل میں کسی چیز کا خوف نہیں تھا—بس ایک ڈر تھا بالآج شاہ کے کھو جانے کا—اور اب تو وہ اپنے اس ڈر پر بھی قابو پا چکی تھی—
گھنے جنگل میں آگے بڑھتے ہوئے وہ یہ بھی جانتی تھی کہ بالآج شاہ یہی کہی ہے وہ چاہے خود جتنی بھی تکلیف دے—مگر اس کے ہوتے کسی میں اتنی جرات نہیں کہ صبغہ شاہ کو کھروچ بھی پہنچا سکے—وہ چاہے صبغہ کی نظروں سے اوجھل تھا—مگر اس کی ہر نظر صبغہ شاہ پر ہی تھی—
“آہہہ”— صبغہ تیزی سے آگے بڑھتی درخت کے قریب سے گزری تو اپنے پیچھے درخت سے کچھ گرنے کی آواز پر دہل کر رہ گئیں
اس اچانک افتاد پر دل ایک لمحے کو بند ہوتا محسوس ہوا—بند ہوئی سانس بحال ہوئی تو جیکٹ کی جیب سے پسٹل نکال کر ابھی وہ پلٹتی کہ پیچھے موجود وجود نے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ سجائے آگے بڑھتے ہاتھ میں تھامے تیز دھار چاقو کو صبغہ شاہ کی شہہ رگ پر رکھ کر دباؤ ڈالا
__________
“اللّٰہ تمہیں غارت کرے بالآج شاہ—کمینے انسان جان نکال دی میری”— اپنے اردگرد پھیلی بالآج شاہ کی مخصوص خوشبو کو محسوس کرتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو صبغہ کے چلانے پر بالآج شاہ نے صبغہ کی گردن پر موجود چاقو پر دباؤ ڈالا
“تمہاری یہ دونمبر محبت بھری ٹھرکی نظروں میں آگیا ہوں—ابھی بھی غارت ہونے میں کوئی کسر باقی ہے—اور ابھی کہاں نکالی ہے تمہاری جان میں نے—تمہیں تو سسک سسک کر مرنے پر مجبور نا کیا تو میرا نام بھی بے رحم شاہ نے”— سفاک لہجے میں کہتے چاقو کی نوک پر دباؤ ڈالا تو اپنی گردن پر نمی محسوس کر کہ صبغہ کی آنکھیں بے ساختہ نم ہوئی
نا محسوس انداز میں پسٹل کو جیکٹ کی جیب میں واپس ڈالتے—اپنی گردن کے گرد لپٹی بالآج شاہ کے بازو کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر جھٹکا دیا
اور رخ بدل کر اپنی ٹانگ فولڈ کر کہ بالآج شاہ کے پیٹ میں گھٹنہ مارا تو صبغہ شاہ کی اس جرات پر بالآج شاہ کا دلکش قہقہہ جنگل کی فضا میں گونج کر ارتعاش پیدا کر گیا
“تم سے محبت اپنی جگہ—مگر تمہارا ایسا کوئی ظلم برداشت نہیں کروں گی—بڑے آئے بے رحم شاہ”—اپنی گردن سے خون کے قطروں کو صاف کرتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو بالآج شاہ نے آبرو آچکا کر صبغہ شاہ کو دیکھتے پیچھے درخت سے ٹیک لگائی
“واؤ گریٹ مطلب صبغہ شاہ کی محبت میں شرائط ہیں کہ وہ محبوب کہ ان ظلموں کو برداشت کرے گی اور ان کو نہیں—امپریسوں—تو بتاؤ میرے کون کون سے ظلم برداشت کر سکتی ہو—تا کہ میں وہ نا دوں—اور ان ظلموں اور زخموں سے تمہاری روح تک زخمی کر دوں جو تمہاری برداشت میں نہیں”— گہری رات سی سیاہ آنکھوں میں چمک لیے—بلیک ہڈی پہنے—درخت سے ٹیک لگائے—سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہتا وہ صبغہ شاہ کو اس اندھیری رات—تاریک جنگل کا ہی ایک حصہ لگا
“یہ شرائط نہیں ہے بالآج شاہ—عورت ہو کر ظلم سہہ کر میں مردوں کو شہہ نہیں دے سکتی—اگر صبغہ شاہ کمزور پڑ سکتی ہے تو پھر کوئی اور کیوں نہیں—مجھے کمزور نہیں بننا—اور رہی بات روح کو زخمی کرنے کی—وہ تو تم کر چکے ہو—اس دل میں کسی اور کو بسا کر”—چھوٹے چھوٹے قدم لیتی بالآج شاہ کے روبرو کھڑے ہوتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو بالآج شاہ نے
چاند کی روشنی میں نظر آتے صبغہ شاہ کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے تاسف سے سر ہلایا
جینز کی پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے—بلیک لونگ کے کوٹ کے ساتھ بلیک ہی شوز پہنے— شہد رنگ بالوں کو کیچر میں قید کیے—بھوری شہد رنگ آنکھوں میں محبت کے دیپ جلائے—گلابی بھرے بھرے ہونٹوں کو بری طرح کچلتے وہ بالآج شاہ کے سامنے سراپہ سوال بنی کھڑی تھی
“مجھ سے کوئی امید مت رکھو صبغہ شاہ—میں تو تمہیں اذیت دوں گا—مگر میرا ساتھ تمہارے لیے ناسور بن جائے گا”— ایک دم سے ٹیک ہٹاتے—صبغہ کی گردن اپنے دائیں ہاتھ میں دبوچتے زخمی شیر سی دھاڑ لیے غراتے ہوئے کہا تو صبغہ شاہ نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کرتے گہری سانس لیتے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی
“امید ہی تو سب کچھ ہے”—بھوری شہد رنگ آنکھیں—بالآج شاہ کی گہری سیاہ آنکھوں میں گاڑھتے ہونٹوں پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ لیے جواب دیا تو بالآج شاہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی
“مگر ٹوٹ جائیں تو انسان کہ پاس کچھ نہیں بچتا”—سفاکیت سے کہتے ایک ہی جھٹکے میں صبغہ کو پیچھے کی جانب دھکیلا تو صبغہ نے بامشکل خود کو گرنے سے بچایا
“میری امیدیں تو انشاء اللہ نہیں ٹوٹے گی – مگر کمینے انسان تمہاری ہڈی پسلی آج ضرور میرے ہاتھوں ٹوٹے گی”— بالآج شاہ کے مسکراتے چہرے کو دیکھتے چلا کر کہتے آگے بڑھ کر کلابازی لگاتے—ٹانگ گھما کر بالآج شاہ کے چہرے پر مارنی چاہی مگر بالآج شاہ نے بروقت پیچھے کی جانب جھکتے صبغہ کے وار کو ضائع کیا
صبغہ کے سیدھا ہونے سے پہلے ہی ہاتھ بڑھا کر صبغہ کی کمر کے گرد اپنا بازو لپیٹتے ایک ہی جھٹکے میں صبغہ کو اپنے شکنجے میں لیتے زمین پر پٹکا تو جنگل کی خاموش فضا میں صبغہ شاہ کی دبی دبی چیخ گونجی
“اپنی زبان کو قابو میں رکھو صبغہ شاہ— تم میری ہڈی پسلی توڑو نا توڑو میں تمہاری چمڑی ادھیڑ دوں گا اب اگر مجھے میرے اردگرد دکھائی بھی دی—اب تک تمہارا جو لحاظ کیا ہے وہ صرف کزن اور عورت ہونے کی حیثیت سے—اپنی آئی پر آؤ تو لحاظ تو میں اپنے اصولوں کا بھی نہیں رکھتا”— گھٹنوں کے بل زمین پر صبغہ کے قریب بیٹھتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو صبغہ شاہ نے مسکراتی نظروں سے بالآج شاہ کو دیکھا
جس پر بالآج شاہ نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی
ابھی وہ وہاں سے اٹھتا کہ صبغہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں مٹی بھرتے بالآج شاہ کے چہرے پر اچھالی
اور اپنی بائیں ٹانگ سے بالآج شاہ کے سینے پر وار کرتے اسے پیچھے زمین پر دھکا دیا
“ایسی کی تیسی تمہارے اصولوں کی بتمیز شاہ—عورت کزن گئی بھاڑ میں—بیوی بننا ہے مجھے—بیوی والی عزت اور محبت چاہیے – ورنہ اپنے یہ لحاظ اپنے پاس سنبھال کر رکھو— شادی تو میری تم سے ہوگی—وہ بھی تمہاری مرضی سے—اور ہمارے چھ بچے بھی دنیا میں آئیں گے وہ بھی تمہاری مرضی سے—اب اگر کوئی ڈرامہ کیا تو جان لے لوں گی تمہاری”—اپنی آنکھیں مسلتے زمین پر گرے بالآج شاہ کے بالوں کو مٹھیوں میں دبوچے—بالآج شاہ کے سر کو بری طرح گھماتے چلاتے ہوئے کہا تو بالآج شاہ نے دانت پیستے آنکھیں بند کیے ہی صبغہ کو خود سے دور کرنے کی کوشش کی
“جاہل پاگل عورت—اگر میرا ایک بھی بال ٹوٹا—تو تمہیں تمہاری ان گھنی زلفوں سے محروم کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا—بال چھوڑو میرے”—صبغہ شاہ کے ہاتھوں سے اپنے بال چھڑوانے کی کوشش کرتے دانت پیستے ہوئے چلا کر کہا تو صبغہ شاہ نے ایک دم سے ہاتھوں کی حرکت کو روکتے پرسوچ نظروں سے بالاج شاہ کو دیکھا
“اوپسس سوری—ابھی تھوڑی تمہیں گنجا کرنا ہے—شادی کی پکس اچھی نہیں آئیں گی—اس کے لیے تو ساری عمر پڑی ہے”—کندھے اچکاتے سائیڈ پر کھڑے ہوتے معصومیت بھرے لہجے میں کہا تو بالآج شاہ نے اپنی سرخ پڑتی آنکھوں کو بامشکل کھول کر صبغہ شاہ کو گھورا
“تمہاری تو— رکو ذرا اب”— صبغہ شاہ کو بھاگنے کے لیے پر تولتے دیکھ ایک ہی جھٹکے میں آٹھ کر دھاڑتے ہوئے کہا اور آگے کی جانب بھاگتی صبغہ کے پیچھے دوڑ لگائی
_________
بہرام شاہ کے موبائل پر ہوتی مسلسل رنگ پر ارمغان خان نے آنکھیں کھول کر دائیں جانب ٹیبل کو دیکھا
ضرغام کے جانے کے بعد وہ نماز پڑھ کر لیٹ گیا تھا—مگر وہ تینوں ابھی تک واپس نہیں آئیں تھے—بہرام جاتے وقت اپنا موبائل لے جانا بھی بھوک گیا تھا
اور اب مسلسل آتی کال پر ارمغان خان نے گہری سانس لیتے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل ہاتھ میں تھام کر سامنے کیا تو نظریں سکرین پر پڑتے ہی ارمغان خان کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی
ایک نظر روم کے بند دروازے کو دیکھ—دوبارا سے موبائل کی سکرین کو دیکھا
جہاں سلویٰ شاہ کا نام جگمگا رہا تھا
“السلام و علیکم”—کال اٹینڈ کرتے موبائل کان سے لگاتے—گھمبیر لہجے میں سلام کیا تو دوسری جانب سلویٰ شاہ ایک لمحے کے لیے ساکت سی رہ گئی
“لالا سے بات کرنی ہے مجھے—لالا کو فون دیں”— سلویٰ شاہ کے سپاٹ لہجے پر ارمغان خان نے جبڑے بھنچتے گھور کر موبائل کی سکرین کو دیکھا
“مجھ سے بات کرتے تمہاری زبان کو کیا تکلیف ہو رہی ہے— کوئی لالا والا نہیں ہے تمہارا یہاں—بات کرنی ہے تو مجھ سے کرو—اور جو بھی پیغام دینا ہے مجھے دو میں بتا دوں گا”—سخت لہجے میں جواب دیا تو ارمغان خان کے جواب پر سلویٰ شاہ نے تلملا کر موبائل فون کو گھورا
مگر پھر کچھ سوچ کر ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی
“ہاں پیغام تو دینا ہے—اور بہت ضروری پیغام ہے—لالا سے کہیں گا جو رشتہ انہوں نے میرے لیے دیکھا تھا نا— مجھے پسند ہے—اور رات ارمان جی کی کال بھی آرہی تھی—وہ سنڈے کو مجھے لنچ پر لے کر جانا چاہتے ہیں—میں اتنی ایکسائیٹڈ تھی لالا کو بتانے کے لیے—رات سے ویٹ کر رہی ہوں—مگر وہ ابھی تک آئیں نہیں گھر”—گرے آنکھوں کو معصومیت سے پٹپٹاتے—بالوں کی آوارہ لٹ کو انگلی پر لپیٹتے—نرم لہجے میں کہتی وہ پل میں ارمغان خان کو انگاروں پر گھسیٹ چکی تھی
موبائل پر گرفت مضبوط ہوتی جا رہی تھی—شہد رنگ آنکھوں میں پل میں خون اترا تھا—گردن اور ماتھے کی رگیں تن کر واضح ہونے لگی تھی
“ایسے ہی پیغام دو سلویٰ شاہ کہ جن کے جواب پر تمہیں اپنی جان سے ہاتھ نا دھونے پڑے—اس ارمان کے تو ایسے ارمان نکالوں گا میں کی اپنی بیوی کے بارے میں بھی نہیں سوچ سکے گا—اور سنڈے کو لنچ میں تمہیں ارمان کے جنازے کی بریانی اپنے ہاتھوں سے نا کھلائی تو میرا نام بھی ارمغان خان نہیں—مگر شرط یہ ہے کہ سرخ رنگ پہن کر تیار ہونا—چلو چھوڑو محبوب سے کیسی شرطیں—تم بس میرے ہاتھوں سے بریانی کھانے کے لیے تیار رہنا—باقی اپنے رنگ میں تمہیں میں خود ہی رنگ لوں گا”—دبے دبے لہجے میں غرا کہتے بنا سلویٰ کا جواب سنے کھٹاک سے فون بند کیا
وہ جانتا تھا کہ غلطی اس کی ہے—ناراض ہونا سلویٰ کا حق تھا—مگر وہ اس طرح بدلا لے گی اس بات کا اندازہ نہیں تھا ارمغان خان کو— جو سلویٰ شاہ نے کہا اگر وہ غصے میں بھی تھا—تب بھی ارمغان خان کو سلویٰ شاہ کی باتوں میں اپنے علاوہ کسی اور کا ذکر تک گوارا نا تھا—وہ چھوٹا خان تھا—اپنے شیر جیسے بھائیوں کا چہیتا—جسے ہر چیز مکمل ملی تھی—جس چیز کو وہ پسند کی نگاہ سے دیکھتا تھا وہ اس کی دسترس میں آجاتی تھی—اور پھر صرف اور صرف ارمغان خان کی ملکیت ہوتی تھی—تو پھر وہ کیسے اپنی محبت میں سمجھوتا کر لیتا—وہ کیسے شراکت برداشت کر سکتا تھا—جو محبت کہ کامل ہونے پر یقین رکھتا تھا—وہ تو محبوب کی لاپرواہی برداشت نا کرے کجا کہ اس کے ہونٹوں سے کسی اور کا ذکر—
وہ ارمان نامی شخص سچ تھا یا سلویٰ شاہ کا جھوٹ—وہ دونوں صورتوں میں اسے ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا—
“پتہ کرو کہ بہرام شاہ نے اپنی بہن کے لیے کس لڑکے کو پسند کیا ہے—اور اس کے لیے تمہارے پاس دوپہر بارہ بجے تک کا وقت ہے— اگر نا کر سکے تو اس کے بعد خود کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر لینا—ورنہ میں جو موت دوں گا وہ برداشت نہیں ہوگی تم سے”— تکیے کے نیچے سے موبائل نکاتے سر و سپاٹ لہجے میں کہا تو دوسری جانب سے جواب سن کر ہنہہ—کہتے کال بند کرتے موبائل کو پھر سے تکیے کے نیچے رکھ دیا
“سنڈے”—سرد و سپاٹ لہجے میں سرگوشی کرتے آنکھیں موندتے کروٹ بدل لی
_________
“تم سمجھ کیوں نہیں رہے—جو بھی کرنا ہے—انہی دنوں میں کرںا ہوگا—حدائق واپس آگیا ہے—اور اس کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ کچھ جان چکا ہے—اور ضرغام بھی کچھ دنوں سے پراپرٹی کے کاغذات مانگ رہا—اس سے پہلے حدائق اسے کچھ بتائے—یا کاغذات دیکھ اسے کچھ پتہ چلے—کچھ کرو—یا تو حدائق کو رستے سے ہٹاؤ یا ضرغام کو—مگر مجھے اس مصیبت سے بچاؤ”—کمرے سے آتی مقدس بیگم کی جھنجھلاتی ہوئی آواز پر عقیدت شاہ کے قدم بے ساختہ رکے
مقدس بیگم کے اتنے زہریلے لفظوں سے پل کے لیے عقیدت کے قدم ڈگمگائے
کس طرح کی ماں تھی وہ—اس قدر محبت اور عزت کرنے والی اولاد تھی—اور وہ اپنی ہی اولاد کی دشمن تھی—اگر یہی بات پلوشہ یا ضرغام کو پتہ چلتی کہ ان کی ماں کے دل و دماغ میں کس قدر زہر بھرا ہوا ہے ان کے لیے تو کیا وہ اس بات کو برداشت کر پاتے
“کیا کر سکتا ہوں میں—ایک تو اتنے سالوں چھپ کر دوسرے ملک بیٹھا ہوں— یہاں اپنے ہی گاؤں میں نہیں آسکتا کہ کہی ضرغام اور عائث ماضی کے اس دن کے بارے میں کوئی سوال نا پوچھ لے—کہی میرے منہ سے کوئی غلط بات نکل گئی تو وہ بال کی کھال ادھیڑ لے گے—مارنے کی کوشش کی تھی نا حدائق کو—مگر وہ ڈھیٹ انسان کچھ دن بیہوش رہ کر پھر سے اٹھ گیا—ہاسپٹل میں مارنے کا ارادہ تھا میرا مگر وہ بہرام اسے وہاں سے غائب کر گیا—ضرغام یا حدائق کو نہیں عقیدت کو راستے سے ہٹا کر ضرغام پر الزام لگا دیتے ہیں—پھر حدائق شاہ خود ہی اپنی بہن کا بدلہ لے گا—اور ایک دفعہ پھر خون بہے گا خان اور شاہو کا—اور پھر یہ دشمنی تا قیامت چلتی رہے گی”—- کمرے سے آتی کسی دوسرے وجود اور خاص کر مرد کی آواز سن کر عقیدت نے حیرت سے کمرے کہ آدھ کھلے دروازے کو دیکھا—
کون تھا وہ جو ماضی کے بارے میں جانتا تھا—جو اس دشمنی کو کسی صورت ختم نہیں ہونے دینا چاہتا تھا—
آہستہ سے قدم پیچھے لیتے عقیدت جس خاموشی سے آئی تھی اسی خاموشی سے پلٹ گئی
“سلام دعا چھوڑو—ضرغام کی جتنی پراپرٹی ہے—صرف ضرغام کی نہیں ولی خان کی جتنی بھی پراپرٹی ہے اس کی ساری ڈیٹیلز چاہیے مجھے—ضرغام کے ڈیرے ارمغان کے بزنس ہر ایک چیز کے بارے میں چھوٹی سی چھوٹی انفارمیشن چاہئے مجھے—بزنس یا ڈیرے کے معاملات کے جتنے بھی کاغذات ہے بنا ضرغام کو شک ہوئے مجھے ان سب کی کاپی چاہئے—کل تک کا وقت ہے تمہارے پاس”—اپنے کمرے میں میں آکر کسی کو فون ملاتے—سخت لہجے میں کہا تو دوسری جانب سے جی میڈم کہہ کر فون رکھ دیا گیا
جبکہ عقیدت نے آگے بڑھ کر اپنے بیگ سے پسٹل نکالی
مسٹرڈ کلر کے کرتے جس پر بلیک کلر کے پھول بنے ہوئے تھے— ساتھ جینز کی پینٹ پہنے—گلے میں مسٹرڈ کلر کا ہی دوپٹہ لپیٹے—گولڈن گھنے بالوں کو کلپ میں قید کیے—گلے میں ضرغام خان کے منہ دکھائی میں دیے گئے پینڈٹ کو پہنے نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی
عقیدت اور حوریہ ہاسپٹل میں ان چاروں کے لیے کھانا اور کپڑے لے کر جا رہی تھی
کیونکہ وہ چاروں ہی انتہا کہ صفائی و نفاست پسند تھے—اب تک تو ہاسپٹل میں رہ کر ان کی جانوں پر بنی ہونی تھی- تھوڑی دیر پہلے کشف بیگم گھر لوٹ آئی تھی انہوں نے تو نہیں مگر ڈرائیور نے بتایا تھا کہ عائث خان نے زبردستی انہیں واپس بھیجا ہے
رو رو کر ان کی طبعیت بھی کافی خراب تھی اسی لیے امتثال نے انہیں زبردستی دودھ پلا کر میڈیسن کھلا دی تھی
اور اب وہ عقیدت کے کہنے پر پلوشہ کے ساتھ تھی—کیونکہ عقیدت کو اپنے بھائی پر پورا یقین تھا کہ اگر وہ ملنے کا کہہ کر گیا تھا تو وہ ضرور آئے گا—
مگر عقیدت کا فلحال پھر سے کوئی تماشہ دیکھنے کا ارادہ نہیں تھا
ضرغام فلحال تو خاموش تھا مگر عقیدت جانتی تھی اس کے غصے کا لاوا بہت جلد پھٹنے والا ہے
اور ابھی وہ ہاسپٹل جانے کے لیے ہی وہاں سے گزری تھی کہ مقدس بیگم کی باتیں سن ساکت سی رہ گئی
مگر اس بات کی تسلی تھی کہ ضرغام اور حدائق ان کے نشانے پر نہیں ہیں—
___________
وہ دونوں روم کا دروازا کھول کر اندر داخل ہوئی تو نظریں بیڈ پر آنکھیں موندیں لیٹے ارمغان خان سے ہوتی سامنے صوفے پر سنجیدہ تاثرات چہرے پر سجائے بیٹھے – عائث –اور بہرام شاہ سے ٹکرائی
جبکہ ضرغام خان صوفے کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے ہوئے تھا—
نیلے رنگ کی شارٹ فراک—جس پر گلابی رنگ کے پھول بنے تھے— سر پر ہم رنگ دوپٹہ اور کندھوں پر میرون رنگ کی چادر پھیلائے—میک آپ کے نام پر ہونٹوں پر لائٹ پنک گلوز لگائے—وہ سیدھا عائث خان کے دل میں اتر رہی تھی
حوریہ شاہ کو اپنے سامنے دیکھ عائث خان کو اپنی تھکاوٹ پل میں ذائل ہوتی محسوس ہوئی—رگ و پے میں سکون کی لہریں سرائیت کرتی موڈ کو خوشگوار کر گئی تھی—
“اسلام و علیکم لالا—کیسی طبیعت ہے اب ارمغان کی”— نظریں ضرغام خان کے وجیہہ تھکن ذدہ چہرے پر ٹکائے بہرام شاہ سے سوال کیا تو بہرام شاہ نے ایک نظر بیڈ پر سوئے ارمغان خان کو دیکھا
“الحمدللہ بالکل ٹھیک ہے—پریشانی کی کوئی بات نہیں—یہ تو چھوٹے خان کا رات تک ہاسپٹل میں رہنے کا ارادہ ہے ورنہ ڈاکٹرز نے تو کہا ہے کہ گھر جا سکتے ہیں”—صوفے سے اٹھتے نرم لہجے جواب دیا
“آپ تو کپڑے چینج بھی کر چکے ہیں—ورنہ میں گھر سے لائی تھی آپ کے لیے بھی ڈریس اور کھاںے کو بھی”— بہرام شاہ کو سرمئی رنگ کے کرتا شلوار میں دیکھتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا
“ہاں ڈرائیور کو بھیجا تھا تو سلویٰ نے بھیج دیے تھے کپڑے—میں گھر جا رہا ہوں—گھر جا کر ہی ناشتہ کروں گا—کیونکہ آج سکول بھی جانا ہے—اور حدائق کے ہاسپٹل کا بھی کچھ کام رہتا تھا وہ بھی دیکھنا ہے”—موبائل پر میسج ٹائپ کرتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو عقیدت نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“مجھے آپ سے ضروری بات بھی کرنی ہے—شام میں آپ سے ملنے آو گی میں”— سرگوشی نما آواز میں کہا تو بہرام شاہ نے چونک کر عقیدت کے چہرے کو دیکھا اور پھر سمجھنے کے انداز میں سر ہلاتے پلٹ کر عائث خان سے ہاتھ ملاتے حوریہ کے سر پر پیار دیتے وہاں سے نکلتا چلا گیا
جبکہ اس سب دوران عائث خان کی محبت چھلکاتی نظروں کے حصار میں خود کو محسوس کرتے حوریہ کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی—
ضرغام خان کو بے حس و حرکت آنکھیں موندے دیکھ عقیدت نے بری طرح اپنے لب کچلے اور مسکرا کر ایک نظر عائث خان کو دیکھا
“تم کیا لائی ہو میرے لیے”— نظریں حوریہ کے خوبصورت چہرے پر ٹکائے گھمبیر لہجے میں سوال کیا تو حوریہ نے گڑبڑا کر عقیدت کو دیکھا جس پر عقیدت نے مسکراہٹ چھپاتے نظریں کمرے کے اطراف میں دوڑائی
“وہ مم—میں یہ آپ کا سوٹ اور سینڈوچ اور کافی لائی ہوں”— ایک نظر عقیدت اور ضرغام خان کو دیکھتے مدھم لہجے میں کہا تو عائث خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“چلو پھر چل کر کھاتے ہیں—ساتھ والا روم میرے دوست کا ہی ہے وہاں چلتے ہیں”—اپنی جگہ سے اٹھتے حوریہ کا ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے جھک کر کہا تو حوریہ نے سٹپٹا کر عقیدت کو دیکھا ابھی وہ کوئی جواب دیتی کہ عائث خان حوریہ کا ہاتھ تھامے دروازے کی جانب بڑھا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا
_________
“ضرغام”—ضرغام خان کے بائیں جانب بیٹھتے—ضرغام خان کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو اپنی ہاتھ سے پیچھے کرتے محبت بھرے لہجے میں سرگوشی کی تو ضرغام خان نے اپنی خون چھلکاتی آنکھوں کو واہ کر کہ عقیدت شاہ کو دیکھا
“طبیعت ٹھیک ہے نا”—ضرغام خان کے گال پر اپنا ہاتھ رکھتے پھر سرگوشی نما آواز میں سوال کیا تو ضرغام خان نے سر اثبات میں ہلاتے اپنے گال پر رکھے عقیدت کے ہاتھ کو تھامتے اپنے ہونٹوں سے چھوا
“چھوٹا خان ٹھیک ہے تو گھر چلتے ہیں – یہاں رکنے کی کیا ضرورت ہے”—ارمغان خان کو گہری نیند میں کروٹ کے بل لیٹے سوتے ہوئے دیکھ کر کہا تو ضرغام خان نے گہری سانس بھرتے عقیدت کا ہاتھ چھوڑتے بنا عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیا
اپنا بایاں بازو عقیدت کی کمر کے گرد لپیٹتے اسے خود میں بھنچا
“سکون بھی دیکھو رب نے میرا کہا لکھا ہے—دشمن کی بیٹی کے ساتھ اس کی قربت میں– ضرغام خان کے بے چین دل کا قرار اور بے سکونی کا سکون لکھ دیا ہے—تمہارے بنا چین نہیں آتا مجھے—میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور روح کا سکون بن چکی ہو تم عقیدت—تمہیں نہیں کھو سکتا میں—اور تمہارے سوا کسی اور کا نہیں ہو سکتا—خود کا بھی نہیں”—چہرہ عقیدت کی گردن میں چھپاتے—اپنا بھیگا شدت بھرا لمس چھوڑتے شدت بھرے لہجے میں سرگوشی کی تو ضرغام خان کے شدت بھرے لمس اور ارمغان خان کی کمرے میں موجودگی پر عقیدت کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی
چہرہ حیا کی لالی سے تپ اٹھا—بامشکل ضرغام خان کا حصار توڑتے جھٹکے سے کھڑے ہوتے دو قدم کے فاصلے کر کھڑی ہوئی
ضرغام خان کی قربت پر اپنی بے ترتیب ہوئی سانسوں کو بامشکل سنبھالتے—گھور کر ضرغام خان کی خمار آلود نظروں میں دیکھا
“کپڑے چینج کر لو—اس میں بلیک کرتا شلوار تمہارے لیے—اور سفید ارمغان کے لیے ہے— اور پھر یہ کھانا بھی ہے—میں ارمغان کو اٹھاتی ہوں کہ وہ بھی کچھ کھا لے”—ٹیبل پر رکھے چھوٹے سے سکائے بلیو بیگ کو ضرغام کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے گھور کر عقیدت کو دیکھا
اور خاموشی سے بلیک کلر کا کرتا شلوار نکالتا اٹھ کر واشروم میں بند ہو گیا—
جبکہ عقیدت نے مسکرا کر سر جھٹکتے قدم ارمغان خان کی جانب بڑھائے
“چھوٹے خان”—ارمغان خان کو کندھے سے ہلاتے اٹھانے کی کوشش کی مگر ارمغان خان کو گہری نیند میں سوتے دیکھ عقیدت نے گہری سانس بھری
وہ شاید دوایوں کے زیر اثر تھا ورنہ جہاں تک وہ جانتی تھی وہ بھائی گہری نیند تو نہیں سوتے تھے—
“عقیدت ٹاول نہیں لائی کیا”— واشروم سے ضرغام خان کی جھنجھلاتی آواز سن کر عقیدت نے گھور کر واشروم کے بند دروازے کو دیکھا
اور بیگ سے منی ٹاول نکال کر دروازے کی جانب بڑھی
“آنکھیں سلامت ہے نا—جب کپڑے نکال رہے تھے تب نظر نہیں آیا تھا”—دروازے کے قریب کھڑے ہوتے دانت پیستے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو ضرغام خان نے جھٹکے سے دروازا کھولتے بنا عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے کلائی سے تھام کر واشروم میں کھینچ لیا
جب کہ اس اچانک افتاد پر عقیدت کی چیخ بے ساختہ تھی جس کا گلہ ضرغام خان نے عقیدت کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے گھونٹ دیا تھا
دروازے سے عقیدت کی پشت کو لگائے اپنے دونوں ہاتھ عقیدت کی کمر کے گرد سختی سے لپیٹے—شدت بھرا لمس عقیدت کے ہونٹوں پر چھوڑتے—وہ پل میں اسے بے بس کر چکا تھا
اپنے ہونٹوں پر ضرغام خان کے ہونٹوں کا دہکتا اور شدت بھرا لمس محسوس کر کہ عقیدت کو اپنے رگ و پے میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئی
ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی محسوس ہوئی تو عقیدت نے بے ساختہ ضرغام خان کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے کرتے کو اپنی مٹھیوں میں دبوچا
قطرہ قطرہ عقیدت کی سانسوں میں اپنی دہکتی سانسیں شامل کرتے ضرغام خان نے—اپنا ایک بازو عقیدت کی گردن کے گرد لپیٹتے خود میں بھینچ لیا
عقیدت کی بے ترتیب ہوئی دھڑکنوں کا رقص اپنے سینے پر محسوس کرتے—اور بکھرتی سانسوں کا خیال کرتے نرمی سے اپنے لب عقیدت کے ہونٹوں سے جدا کیا—
ابھی وہ سانس بھی نا لے پائی تھی—کہ اپنی شدتوں سے سرخ ہوئے عقیدت کے ہونٹوں کو دیکھتے ضرغام خان بے خود ہوتا عقیدت کے بھیگے نم نچلے ہونٹ کو اپنے دانتوں میں دبا گیا
ہونٹوں کی نمی کو اپنے انگھوٹے کے پوروں سے صاف کرتے گہرے سانس لیتی عقیدت کو خود میں بھینچ گیا
ضرغام خان کے چوڑے مضبوط سینے میں اپنا خون چھلکاتا چہرہ چھپائے عقیدت نے سختی سے ضرغام خان کے گرد اپنے بازو لپیٹتے—ہاتھ کی مٹھیوں میں پشت سے ضرغام کے کرتے کو دبوچتے خود کو گرنے سے بچایا
“ضرغام—پاگل جنگلی خان— جان لینے کا ارادہ ہے کیا میری—باہر تمہارا بھائی ہے اور تمہیں اپنا ٹھرک جھاڑنے سے فرصت نہیں”— سانس بحال ہونے پر ضرغام خان کے بال مٹھیوں میں دبوچتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو ضرغام خان نے مسکراتی نظروں سے عقیدت کو دیکھتے جھک کر شدت بھرا لمس عقیدت کے گال پر چھوڑا
“بھائی کی فکر نا کرو—اس کی زبان کو بریک نہیں لگ رہی تھی—ڈاکٹر سے کہہ کر اس کی ڈرپ میں نیند کا انجکشن ایڈ کروایا تھا—پانچ چھ گھنٹوں تک نہیں اٹھنے والا—اور یہ ٹھرک پن نہیں میری محبت ہے—اور مت بھولوں اسی چیز کا لالچ دے رہی تھی تم رات میں مجھے—اگر اپنی بات سے مکرنے کی کوشش بھی کی تو جان لے لوں گا تمہاری—یا زبردستی اٹھا کر کہی دور لے جاؤں گا—اور پھر صرف تمہیں نہیں اپنی بہن کو بھی کہی چھپا دوں گا—پھر ڈھونڈتا رہے تمہارا بھائی”—عقیدت کے بالوں میں لگے کچر کو اتار کر دور اچھالتے—اپنی مٹھی میں عقیدت کے بال دبوچتے چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے— سنجیدہ لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تو عقیدت نے بامشکل سر اثبات میں ہلایا
جبکہ ضرغام خان کی گرم سانسوں سے آپنے چہرے کی جلد جھلستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
“نہیں مکر رہی میں—تمہارے ساتھ ہی ہوں—ہمیشہ تمہاری بن کر ہی رہوں گی”—ضرغام خان کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے محبت بھرے لہجے میں جواب دیا تو ضرغام خان نے اپنی سرخ انگارا ہوتی آنکھوں سے عقیدت کو گھورتے عقیدت کا جبڑہ اپنے دائیں ہاتھ میں دبوچا
“تمہارے لیے یہی بہتر ہے مسسز ضرغام خان— مجھے وعدہ خلافی کرنے والوں سے شدید نفرت ہے—اور خان جس سے نفرت کرتا ہے—اس پر زمین تنگ کر دیتا ہے—چھپنے کو دنیا کم پر جاتی ہے اس شخص کو پھر—مگر تمہارے معاملے میں تھوڑی چینجنگ ہوگی”— ناک عقیدت کے پھولے گلابی گال پر ٹریس کرتے—شدت سے اپنے دانت عقیدت کے گال پر گاڑھتے پراسرار لہجے میں کہا تو عقیدت نے ضرغام خان ص شدت پر سختی سے اپنی آنکھیں میچیں
“اب اگر تمہارا دھمکی اور محبت کا سیشن ختم ہوگیا ہو تو ہم کچھ کھا لیں—کل سے بھوکی ہوں میں—مگر تمہیں کہا فکر میری”— ضرغام خان کے سینے پر دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈالتے فاصلہ بناتے منہ بسور کر کہا تو ضرغام خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ روکی
“میری بھوک تو تمہیں کھا کرہی ختم ہوگئی—وہ سنا نہیں تم نے ہلکی پھلکی بھوک میں ہلکا پھلکا ٹک—ویسے ہی ضرغام خان کی ہلکی پھلکی بھوک میں عقیدت شاہ کے پھولے گلابی گالوں کا ہلکا پھلکا محبت بھرا چک “—آنکھوں میں شرارت لیے مسکرا کر کہتے عقیدت کے گال پر نظر آتے اپنے دانتوں کے نشان پر نرمی سے ہونٹ رکھتے بوجھل لہجے میں کہا تو عقیدت نے خفا نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا جس پر ضرغام خان نے مسکرا کر سر جھٹکتے عقیدت کو بازو سے تھام کر اپنے سینے میں بھینچ لیا
“اول قسم کے بے شرم ہو تم خان”—ضرغام خان کے سینے پر مکے برساتے خفا لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے بامشکل اپنے امڈتے قہقہے کا گلا گھونٹا
“جو خان کی جان کہے – مگر اس سے پہلے تمہاری بھوک کا علاج کرتے ہیں— پھر یہی سے کنٹینیوں کریں گے”—عقیدت کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر ہونٹوں سے لگاتے مسکرا کر کہا اور واشروم کا دروازا کھولتے قدم کمرے میں رکھے
جہاں ارمغان خان اوندھے منہ لیٹا نیند کی گہری وادیوں میں گم تھا
جس کر ضرغام خان نے مسکراتے عقیدت کا ہاتھ چھوڑتے آگے بڑھ کر ارمغان خان کو کندھوں سے تھام کر سیدھا لٹایا—
اور پلٹ کر پلیٹ میں سینڈوچ رکھتی عقیدت شاہ کو محبت بھری نظروں سے دیکھا
