Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 02,03)

Maan Yaram by Maha Gull Rana 

یہ تو خدا کا شکر ہے کہ حوریہ پہلے ہی عقیدت کو لینے چلی گئی—ورنہ وہ سمجھتی کہ ہم نے اسے خان حویلی سے آئے پیغام کی وجہ سے بلایا ہے—ثمرین بیگم نے بہرام شاہ کے کپڑوں کو ہینگ کرتے حلیمہ بیگم سے کہا تو انہوں نے گہری سانس بھر کر سر اثبات میں ہلایا

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کروں—حدائق پلوشہ کو نہیں چھوڑے گا— عقیدت اور حوریہ کبھی شادی کے لیے نہیں مانے گی—میری تو سمجھ سے بالاتر ہے یہ سب کچھ—

اور بہرام اور بالاج وہ تو قیامت ڈھا دیں گے—اگر خان اس حویلی میں آئیں بھی—یہ تو شکر تھا کہ وہ دونوں یہاں تھے نہیں—

اب وہ تینوں آئیں گے تو مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے بات کروں گی ان سے—

اور ڈر تو مجھے یہ بھی ہے کہ بہرام تک یہ بات پہنچ نا گئی ہو—

ایک تو یہ لڑکا چاہے سات سمندر پار بیٹھا ہو—ہم سے پہلے ہر بات اس کے پاس پہنچ جاتی ہے”—حلیمہ بیگم نے پریشان لہجے میں کہا تو ثمرین بیگم کبرڈ بند کر کہ ان کے قریب آکر بیٹھ گئی

سمجھ تو مجھے بھی کچھ نہیں آرہا—زرغام خان کس طرح اس رشتے کے لیے راضی ہوگیا—کیونکہ جہاں تک میں اسے جان سکی ہوں—اس کی کچھ تو رضامندی تھی تو یہ پیغام اس حویلی تک آیا ہے—اگر اس کی مرضی کے خلاف کچھ ہوتا—تو وہ پیغام کے ساتھ پیغام لانے والے کو زندہ زمین میں گاڑھ دیتا—

اب تو ہم انکار بھی نہیں کرسکتے—گاؤں کا سردار ہے وہ اور ہمارا دشمن—انکار کو آنا کا مسئلہ بنا کر حشر برپا کر دے گا—

جتنی وہ ہم سب سے نفرت کرتا تھا مجھے تو یہی تھا کہ وہ عقیدت کو طلاق دے دے گا—

اور پھر ہم عقیدت اور بہرام کی— کیونکہ ان دونوں کی ایک ساتھ بہت بنتی ہے—ایک دوسرے کو اچھے سے سمجھتے ہیں—

مگر خیر جو اللہ کو منظور—

آجائیں تو تم وقت ضائع کیے بغیر عقیدت سے بات کر لینا—میں بہرام کو سمجھا دوں گی—

پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا”—ثمرین بیگم کے کہنے پر حلیمہ بیگم نے ایک نم نگاہ بہرام شاہ کے

شاندار کمرے میں دوڑائی

جس میں پڑی ہر چیز اس کے مالک کے ذوق کا پتہ دیتی تھی—باہر ممالک سے لائیں گے بیش قیمتی ڈیکوریشن پیس—

پورے کمرے میں بچھا دبیز مخمل سا قالین جو کہ ترکی سے منگوایا گیا تھا—جس پر پاؤں رکھے تو ایسا محسوس ہوتا کہ پاؤں اندر دھنستے جا رہے ہیں—کنگ سائز بلیک کلر کا بیڈ—جس کے سامنے ڈریسنگ ٹیبل پڑا تھا—

بیڈ اور ڈریسنگ ٹیبل کے درمیان کی جگہ پر دائیں جانب گرے کلر کا صوفہ اور ٹیبل پڑے تھے— کمرے کی چھت کے درمیان میں لگا سلور کلر کا خوبصورت فانوس—جو اس کمرے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا

داجی کا پیغام ہے کہ شادی اسی مہینے کرنی ہے—لیکن حدائق اور اس کی ٹیم کسی دوسرے ملک جا رہی ہے—کورونا کی وجہ سے ڈاکٹروں کی ضرورت تھی—تو حدائق اپنی ٹیم کے ساتھ وہی جا رہا ہے—

اس کا آنا تو ابھی مشکل ہے—اور پھر پتہ نہیں لڑکیاں مانتی بھی ہیں کہ نہیں”—

اوہو فکر مت کرو—عقیدت اور حوریہ مان جائیں تو ان کی شادی کر دیتے ہیں—حدائق آئیں گا دو دھوم دھام سے اس کی بیوی کو لے آئیں گے—ویسے بھی سالوں گزر گئے اس حویلی میں کوئی خوشی نہیں ائی—اسی بہانے دو دو بار ہمیں بھی خوش ہونے کا موقع مل جائے گا”—حلیمہ بیگم کی بات پر ثمرین بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا

جس پر ایک پرسکون مسکراہٹ حلیمہ بیگم کے چہرے پر بھی ٹھہر گئی

—————

کچے راستوں سے ہوتی گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی—

گاڑی میں بیٹھے تین نفوس کے ہونے کے باجود خاموشی چھائی ہوئی تھی—

گاڑی کے پیچھے آرہی جیپ میں گارڈز ہتھیار لیے چونکنا بیٹھے ہوئے تھے

اردگرد شیر سی نگاہ دوڑاتے بہرام شاہ نے مرر سے پیچھے بیٹھی حوریہ شاہ کو سرد نظروں سے دیکھ نظریں پھر سامنے ٹکا دی

وہ رات کے نو بجے گاؤں کی حدود میں داخل ہو چکے تھے—

گاؤں میں داخل ہو تو گاؤں کے دائیں جانب شاہ حویلی تھی—جبکہ شہر کے رستے کے ختم ہونے پر جہاں سے گاؤں کی حدود شروع ہوتی تھی—وہاں بائیں جانب تھوڑا آگے آنے پر خان حویلی شروع ہو جاتی تھی—

اور شاہ حویلی تک جانے کے لیے خان حویلی کے آگے سے ہی گزرنا پڑتا تھا—

دوسرا راستہ گاؤں کی حدود میں داخل ہوتے بائیں جانب جنگل کی طرف سے تھا

جہاں سے گھوم کر شاہ حویلی کی طرف آیا جا سکتا تھا—مگر وہ راستہ تقریبا تین گھنٹے کا تھا—وہ بھی تب جب آپ کو بالکل ٹھیک راستہ پتہ ہو—

مگر بہرام شاہ نے کبھی بھی راستہ نہیں بدلا تھا—وہ ان پٹھانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی گاڑی سے دھول اڑاتا ان کے سامنے سے کسی طوفان کی طرح گزر کر جاتا تھا—

مگر آج وہ جس قدر غصے میں تھا تو اس کی یہی دعا تھی کہ آج کوئی خان اس کے راستے میں نا ائیں—

کیونکہ بہرام شاہ کو یہ بات معلوم ہو چکی تھی کہ حوریہ شاہ کو عائث خان چھوڑ کر گیا تھا—

اور اب اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ حوریہ اور عائث دونوں کو زندہ زمین میں گاڑھ دے—

“سب ٹھیک ہے نا بہرام—اس قدر خاموش کیوں ہیں آپ—کوئی مسئلہ ہوا ہے کیا”—بہرام شاہ کی خاموشی سے تنگ آکر آخر کار عقیدت نے اپنا رخ بہرام شاہ کی جانب کرتے فکر سے استفسار کیا

کیونکہ حوریہ کا تو وہ جانتی تھی کہ حدائق ہو یا بہرام یا پھر بالاج شاہ اس کی آواز ان تینوں کے سامنے کم ہی نکلتی تھی—

بالاج کے سامنے تو عقیدت بھی بولنے سے احتیاط ہی کرتی تھی کیونکہ وہ کھر دماغ بندہ تھا—

ایک سیکنڈ میں انسان کی کتوں والی کر کہ رکھ دیتا تھا—اسی لیے عقیدت بھی اس سے کم ہی مخاطب ہوتی تھی—

مگر بہرام شاہ سے اس کی اچھی خاصی دوستی تھی—اسی دوستی کی وجہ سے کبھی اس نے لالا کہنے کا بھی تکلف نہیں کیا تھا—

اور نا ہی کبھی بہرام شاہ نے اسے فورس کیا کہ وہ اسے لالا کہے

“ولی خان نے شادی کی تاریخ مانگی ہے—اس مہینے وہ ضرغام اور عائث خان کی شادی کرنا چاہتا ہے—

اور جہاں تک مجھے اندازہ ہے ہماری مائیں—سپیچ تیار کر کہ بیٹھی ہوگی ہمیں راضی کرنے کے لیے—

کیونکہ خان تو اب انکار نہیں کریں گے—اور ہماری مائیں خون خرابے سے بچنے کی خاطر تم دونوں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوگی—

اور میرا خدا گواہ ہے عقیدت شاہ میں نے کبھی نہیں چاہا کہ ہمارے یا خان خاندان کی بچیاں ہم مردوں کی دشمنی کا حصہ بنے—

میں اگر خاموش تھا تو صرف اور صرف حدائق کی وجہ سے—وہ خر کا بچہ دشمن کی بیٹی سے محبت کرتا ہے—

صرف اور صرف حدائق شاہ کی محبت کی وجہ سے—میں بہت کچھ نظر انداز کرتا رہا ہوں—

کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے خانوں کو کوئی بہانہ ملے اور وہ میرے بھائی سے اس کی محبت چھیننے کی کوئی سازش کریں—

پلوشہ کے بارے میں بے فکر تھا میں—جانتا ہوں کہ حدائق اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھے گا—

مگر آج زندگی میں پہلی بار میں خود کو بے بس محسوس کر رہا ہوں—اور وہ بھی صرف تم دونوں کی وجہ سے—

کیسے بھیج دوں تم دونوں کو ان ظالموں کے ساتھ—ہاتھ اٹھانا تو دور بہرام شاہ کو یہ بھی منظور نہیں کہ کوئی اس کے گھر کی بچیوں کو لفظوں کی مار بھی مارے—

اگر ایسا کچھ ہوا تو یاد رکھنا عقیدت شاہ میں سب کچھ تباہ کر دوں گا—اور تب شاید مجھے حدائق شاہ کی محبت بھی نظر نا آئیں”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہ کر سختی سے اپنے جبڑے بھنچے

جبکہ حوریہ اور عقیدت نے شاکی نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھا—

“بہرام مم—میں یہ شادی نہیں کر سکتی—اپ جانتے ہو نا مجھے نفرت ہے ضرغام خان سے میں کیسے کر سکتی ہوں اس شخص سے شادی جو میرے باپ کو قاتل کہتا ہے—جو میرے بھائی کی جان کا دشمن ہے”—عقیدت شاہ نے نفی میں سر ہلاتے تڑپ کر کہا تو بہرام شاہ نے ایک سپاٹ نگاہ عقیدت شاہ کے چہرے پر ڈال کر سرد نظروں سے پیچھے بیٹھی حوریہ کو گھورا

بہرام شاہ کی اندھیری رات سی گہری سیاہ سرد آنکھوں کو خود پر محسوس کر کہ حوریہ کو اپنے گلے میں گلٹی سی ابھرتی محسوس ہوئی

خشک پڑتے حلق کو تر کرنے کے لیے بیگ سے نکال کر پانی کی بوتل کو منہ لگایا

حوریہ جانتی تھی کہ اسے کیوں ہر دو منٹ بعد سرد نظروں سے نوازا جا رہا ہے—

وہ جتنی بھی توپ چیز بن جائیں مگر بہرام شاہ ہو یا حدائق شاہ اپنے گھر کے مردوں کے سامنے تو اس کی زبان تالو سے چپک جاتی تھی

صرف عقیدت شاہ ہی تھی جو ان جلادوں کو سنبھال لیتی تھی—اور اس کی ان کے ساتھ بن بھی جاتی تھی—اسی لیے حوریہ کئی بار عقیدت سے کہہ چکی تھی جہاں اتنے جلادوں کو بھائی کے روپ میں سنبھالا ہوا ہے وہاں ایک جلاد کو شوہر کے روپ میں بھی سنبھال لے—

کیوں کسی معصوم کو ضرغام خان جیسے جلاد کے ہاتھوں شہید کروانا—

جس پر عقیدت صرف اسے گھور کر رہ جاتی تھی

“چاہتا تو میں بھی یہی تھا—اسی لیے تمہیں پاکستان آنے سے منع کیا تھا – تمہارے پاس یو کے کی نیشنلٹی تھی—وہاں سے ڈائیورس کے لیے کیس فائل کرتی تو پہلی ہیرنگ میں تمہارے حق میں فیصلہ ہو جانا تھا – مگر تم میری بات مان جاؤں تو پھر نا—

ابھی تو گھر جا کر پتہ چلے گا کہ ہماری ماؤں نے کونسی سکرپٹ ریڈی کی ہے—

اسے سن کر ہی کسی نتیجے پر پہنچے گے—

مگر اس سے پہلے اپنی چہیتی بہن سے پوچھ لو کہ یہ کیا چاہتی ہے—

جس طرح یہ بنا کسی خوف کے دشمن کے ساتھ لانگ ڈرائیو کرتی پھر رہی ہے—

اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ اسے شادی سے کوئی اعتراض نہیں”— بہرام شاہ کے طنزیہ لہجے پر عقیدت شاہ نے حیرانگی سے پلٹ کر حوریہ کو دیکھا

جبکہ حوریہ نے شرمندہ سی ہنسی ہنس کر عقیدت کو بعد میں بتانے کا اشارہ کیا

ایم سوری لالا میں اس سے کسی پلینگ کے تحت نہیں ملی تھی—وہ سب اتفاق تھا—اور مجھے گھر چھوڑنا عائث خان کی مرضی اور ضد تھی—میں اسے روک نہیں سکتی تھی—ورنہ وہ—ابھی حوریہ اپنی بات مکمل کرتی کہ بہرام شاہ نے ایک جھٹکے میں گاڑی روکی

جس کے باعث حوریہ کا سر عقیدت کی سیٹ کی پشت سے زور سے ٹکرایا

جبکہ بہرام شاہ خونخوار نظروں سے سامنے جیپ میں بیٹھے ضرغام خان اس کے ساتھ بیٹھے عائث خان اور جیپ میں پیچھے رائفل تھامے کھڑے ارمغان خان کو دیکھ رہا تھا

وہ شاید شکار کے لیے نکل رہے تھے—

جبکہ آگے کے بارے میں سوچ کر حوریہ شاہ نے بے ساختہ جھرجھری لی

————

گاڑی کی ہیڈ لائٹس پوری طرح سے روشن تھی—جبکہ وہ پچھلے بیس منٹ سے ایک دوسرے کے سامنے گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے تھے

نا ہی بہرام شاہ کی غیرت کو گوارا تھا کہ وہ گاڑی کو سائیڈ سے گزار لے

اور نا ہی ضرغام خان کی آنا کو یہ بات منظور تھی کہ وہ دشمن کے لیے اپنے قدم پیچھے لے

جبکہ اس دوران حوریہ شاہ کا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا

جبکہ عقیدت شاہ بہرام کی سرد نظروں کو دیکھ سر جھکا چکی تھی

اس نے ایک بار بھی سامنے دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا عقیدت کا سامنے دیکھنا بہرام کے غصے کو اور ہوا دے گا

جبکہ ضرغام خان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جا کر عقیدت شاہ کی جان نکال دے

گاڑی کے ایک دم سے رکنے پر عقیدت شاہ نے اپنا دایاں ہاتھ بہرام شاہ کے کندھے پر رکھا تھا

یہ صرف ایک سینکڈ کے لیے تھا—مگر یہ ایک سینکڈ ہی ضرغام خان کے تن بدن میں آگ لگا چکا تھا

اپنی نیلی آگ برساتی آنکھوں سے وہ سامنے سر جھکائے بیٹھی عقیدت شاہ کو اور اس کے ساتھ اسٹیرنگ کو تھامے سرد نظروں سے ان کی جانب دیکھتے بہرام شاہ کو دیکھا

لالا چھوڑیں لڑکیاں ہے ساتھ—سائیڈ سے نکال لے جیپ—اس شاہ سے بعد میں نپٹ لے گے”—ارمغان خان کے آگے کو جھک کر کہنے پر ضرغام اور عائث نے بیک وقت گھور کر ارمغان خان کو دیکھا

تو وہ بچارا کھسیانہ سا ہنس کر پیچھے ہو گیا

اور نا محسوس انداز میں اپنی رائفل اور عائث اور ضرغام کے ہتھیاروں کو بھی پاؤں کی مدد سے سیٹ کے نیچے کیا

یہ صرف عقیدت اور حوریہ کی وجہ سے تھا—ورنہ ارمغان خان تو وہ تھا جو بہانہ ڈھونڈتا تھا کہ کوئی غلطی کرے اور وہ اپنی رائفل نکال لے—

رائفل نا سہی ہاتھوں سے ہی ایسی حالت کر دے کہ اگلا بندہ مہینے سے پہلے ہاسپٹل کا بستر نا چھوڑ سکے

پہلے وہ مارتا تھا—اور پھر انہیں مجبور کرتا تھا کہ حویلی داجی کے پاس اس کی شکایت آنی چاہیے—اور جب اس کی شکایت آتی تھی پھر وہ اس کا بدلہ لینے کے لیے ڈبل بینڈ بجاتا تھا—

وہ صرف شکل سے ہی معصوم پٹھان تھا—اندر سے وہ ایسی بلا تھا جو دن میں تارے دکھانے کا ہنر رکھتا تھا—اپنی باتوں سے وہ کسی بھی انسان کے دماغ کو لٹو کی طرح گھما کر اپنے مقصد کی بات پر لا کر روک دیتا تھا—

جیپ کی ہیڈ لائٹس بند کر کہ ضرغام خان چھلانگ لگانے کے انداز میں جیپ سے اترا جسے دیکھ عائث خان بھی ایک جھٹکے میں جیپ سے اترا

اور ان دونوں کو دیکھ ارمغان خان نے تاسف سے سر ہلایا

جیسے اس سے معصوم کوئی ہے ہی نہیں

ضرغام اور عائث خان کو نیچے اترتے دیکھ بہرام شاہ نے اپنی گاڑی کی لائٹس بند کی تو

ارگرد درختوں سے گھرے کچے راستے پر چودھویں کے چاند کی روشنی پھیل گئی

سنسان سڑک پر جنگل میں بولتے جانوروں کی آوازیں آرہی تھی

حوریہ شاہ نے جانوروں کی خطرناک آوازوں سے گھبرا کر اپنی گاڑی کے سامنے تن کر کھڑے ضرغام اور عائث خان کو دیکھا

جو ایک جیسی ڈریسنگ کیے کھڑے تھے—بلکیک کلر کی پینٹ شرٹ کے ساتھ بلکیک ہی لیدر کی جیکٹ پہنے—سرخ و سپید رنگت جس میں غصے کے باعث سرخیاں گھل رہی تھیں—حوریہ کو وہ انسان تو نہیں مگر جن اور ویمپائر ہی لگے

عقیدت شاہ کی غیر ارادی نظر اٹھی تو پل کے لیے ساکت ہی رہ گئی

اپنے باکل سامنے سرد نظروں سے خود کو گھورتے ضرغام خان کو دیکھ عقیدت شاہ کا دل اچھل کر جیسے حلق کو آگیا ہو—

نیلی آنکھیں اس وقت ایسی تھی جیسے کسی نے سمندر میں آگ لگا دی ہو—

خون چھلکاتی آنکھیں عقیدت شاہ کو اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھی—جبکہ ضرغام خان کے چہرے پر چٹانوں سی سختی دیکھ عقیدت شاہ نے اپنا ہونٹ بری طرح کچلتے نظروں کا زاویہ بدل کر بہرام شاہ کو دیکھا

جو اپنی اجرک اتار کر عقیدت شاہ کے ہاتھوں میں تھماتا ضرغام خان کے غصے کو ہوا دے گیا تھا

گاڑی کا دروازا جھٹکے سے کھول کر تیز مگر مضبوط قدم لیتا بہرام شاہ ان تینوں کے مقابل آکر کھڑا ہوا

عقیدت باہر جاؤ—لالا کو منع کرو—انہیں کہوں ہمارا تو خیال کریں—یہ ایک دوسرے سے لڑ پڑے تو ہم سے تو اٹھا کر ہاسپٹل بھی نہیں لے جائے جائیں گے–

کہنا یہ شوق صبح پورا کر لیں پہلے ہمیں حویلی چھوڑ آئیں”—حوریہ نے آگے کو جھکتے عقیدت کے کان میں سرگوشی کی تو عقیدت نے گھور کر اسے دیکھا

بہت اچھے—تم چاہتی ہو یہ تو جائیں نا جائیں مجھے ہاسپٹل کی بجائے سیدھا قبرستان بھیج دیں”—عقیدت کے چبا کر کہنے پر حوریہ نے ایک نظر سامنے کھڑے بھپڑے شیروں کو دیکھا

جو اگلے کے اشارے کے منتظر تھے کہ کوئی بات شروع کرے اور پھر وہ اس پر حملہ کرے

یار عقیدت بہن نہیں—مجھ سے نہیں دیکھے جاتے یہ لڑائی جھگڑے— بحث کرنا الگ بات—مگر انہوں نے بحث ہی تو نہیں کرنی—اور جیسے یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے مجھے لگ رہا بندوق کی بھی ضرورت نہیں پڑنی ان کو—ویسے ہی ایک دوسرے کو کاٹ کھائیں گے—آٹھ جا میری بہن جا کر لالا کو نرمی سے منا کر لے آ—تُو جائے گی تو شاید تیرا خیال کر کہ ضرغام لالا بھی پیچھے ہٹ جائیں”—حوریہ کے التجائیں لہجے میں کہنے پر عقیدت نے گہری سانس بھری اور گاڑی کا دروازا کھولا

“یار شاہ آج تھوڑی نا میں بارات لے آیا ہوں—جو تم یوں راستہ روک کر کھڑے ہو گئے ہو—چلو اچھے بچوں کی طرح راستہ چھوڑو—جب بارات لاؤں گا تب یہ رسم کرنا—وعدہ ہے ضرغام خان کا تمہیں اس دن پیسوں میں تول دوں گا—اب تم اپنی اتنی خوبصورت بہن”– ضرغام خان کے قہقہہ لگا کر کہنے پر بہرام شاہ نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی

اور پھر ایک ہی جست میں چار قدم کے فاصلے کو طہ کر کہ ضرغام خان پر بھپڑے شیر کی طرح جھپٹ پڑا

ضرغام اور بہرام شاہ کو ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوتے دیکھ عائث خان کے قہقہے عروج پر تھے

جبکہ عقیدت شاہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان دونوں کو لہو لہان ہوتا دیکھ رہی تھی

تبھی حوریہ جھٹکے سے دروازا کھول کر باہر آئی

“پیچھے ہٹو جنگلی انسان—چھوڑو ضرغام اسے”—عائث خان کو قہقہے لگاتا اور ارمغان خان کو بت بنا کھڑا دیکھ عقیدت نے آگے بڑھتے ضرغام خان کا بازو تھام کر اسے پیچھے کرنا چاہا

“تم ہٹو پیچھے عقیدت آج اس خان کو زندہ نہیں چھوڑوں گا—کمینہ ذلیل انسان ہے یہ ایک نمبر کا”—عقیدت کو بازو سے تھام کر پیچھے کرتے ہوئے کہا جسے دیکھ ضرغام خان نے پوری قوت سے بہرام شاہ کے گال پر مکہ مارا

جس پر عقیدت شاہ اور حوریہ شاہ کی چیخ بے ساختہ تھی

ابھی حوریہ بھاگ کر ان کی جانب جاتی اس سے پہلے ہی عائث خان حوریہ کے راستے میں حائل ہوتا اپنا بازو اس کی کمر کے گرد لپیٹ کر اسے خود میں قید کر گیا

جسے دیکھ ارمغان خان نے اپنی مسکراہٹ چھپا کر نظریں جھکا دی

جبکہ آہنی کمر پر سخت گرفت محسوس کر کہ حوریہ شاہ ایک پل کے لیے ساکت رہ گئی

“ہشش—مائے انوسنٹ گرل عادت ڈال لو—اب یہ سب تو دیکھنے کو ملتا رہے گا—اگر تمہارا بھائی بلاوجہ کی چوں چراں کیے بغیر تمہیں میرے حوالے کر دے گا—تو میرا وعدہ ہے میں پوری کوشش کروں گا کہ تمہیں ایسے مناظر دیکھنے کو نا ملے—مگر اگر اس نے کچھ بھی غلط کرنے کی کوشش کی تو دیکھ لو پھر ضرغام کی جگہ میں ہوگا—اور میں اتنا وقت بھی ضائع نہیں کروں گا—بلکہ سینکڈز میں تمہارے بھائیوں کو ضائع کر دوں گا”—حوریہ کے بال گردن سے ہٹا کر اپنا چہرہ حوریہ کی گردن میں چھپا کر حوریہ کے وجود سے اٹھتی محسور کن خوشبو کو محسوس کرتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا

جسے سن کر حوریہ کو اپنے رگ و پے میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئی

حوریہ کے پیٹ پر بندھے اپنے دونوں ہاتھوں پر دباؤ ڈال کر اسے ایک جھٹکے میں خود سے الگ کیا—اور قدم ضرغام خان کی جانب بڑھائے جس کی حالت بہرام شاہ نے پل میں بگاڑ دی تھی

اس سے پہلے عائث آگے بڑھتا بہرام شاہ کے گال اور ہونٹوں سے نکلتے خون کو دیکھ عقیدت شاہ نم آنکھوں سے ان دونوں بھپڑے شیروں کو دیکھتی اس بار ان دونوں کے درمیان کھڑی ہوئی

جسے دیکھ ضرغام خان کا اٹھا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا—اس سچویشن کو دیکھ ارمغان خان بھی آگے بڑھا

ضرغام خان کو ہنوز عقیدت شاہ پر ہاتھ اٹھائے دیکھ وہ ایک ہی جست میں آگے بڑھا

جبکہ دوسری جانب حوریہ نے تیزی سے آگے بڑھ کر بہرام شاہ کے دونوں ہاتھوں کو زبردستی قابو کیا

“ہاتھ ہٹائیں لالا پاگل ہے عورت پر ہاتھ اٹھائیں گے”—ارمغان خان نے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا

جبکہ عائث خان نے سرد نظروں سے حوریہ شاہ کو بہرام شاہ کے ہاتھ تھامیں اس کے حصار میں کھڑے دیکھ اپنے جبڑے بھنچے

“تم بکواس بند رکھو—یہ عورت بھی میری ہے—تو میری مرضی میں اس پر ہاتھ اٹھاؤں یا اس کے ہاتھ کاٹ کر رکھ دوں—تم کون ہوتے ہو ہمارے درمیان بولنے والے”—ضرغام خان کے دھاڑ کر کہنے پر عقیدت شاہ نے افسوس بھری نم نگاہوں سے ضرغام خان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا

سبز نگینوں جیسی نم آنکھیں—سمندر سی نیلی آگ لیے آنکھوں سے ایک پل کے ٹکرائی تو ضرغام خان کو لگا وقت جیسے رک سا گیا ہو

جنگل سے آتی جانوروں کی آوازیں جیسے کہی گم ہوگئی ہو—ٹھنڈی چلتی ہوائیں جیسے ساکت ہوگئی تھی—چودھویں کے چاند کی روشنی میں نظر آتا عقیدت شاہ کا خوبصورت چہرہ دیکھ ایسا لگا—دنیا کا سارا حسن یہی سمٹ آیا ہے—

اردگرد کو بھلائیں ضرغام خان ٹکٹکی باندھیں اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا—

جو سادگی میں بھی ضرغام خان کے دل میں اپنی نم سبز نگینوں سی آنکھوں سے تہلکہ مچا چکی تھی—

“عقیدت کو طلاق دو ضرغام – ورنہ میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشو گی – جس لڑکی کے باپ نے تمہاری ماں کا سہاگ اجاڑ دیا—تم کیسے اسے سہاگن بنا سکتے ہو—

اگر تم نے عقیدت کو طلاق نا دی تو مجھے کبھی ماں مت کہنا”—مقدس بیگم کے رو کر چلانے کی آوازیں کانوں میں گونجی تو ضرغام خان کے گرد پھیلا ان طلسمی لمحات کا فسوں چھناکے سے ٹوٹا

آنکھوں میں در آئی نرمی پل میں غائب ہوئی جبکہ اس کی جگہ پھر سے وہی وحشت اور نفرت عود آئی تھی

یہ سب کچھ سینکڈز میں ہی ہوا تھا

عقیدت شاہ ابھی پلٹتی کی ضرغام خان کا ہاتھ پوری قوت سے اٹھا تھا – اس سے پہلے ضرغام خان کا ہاتھ عقیدت شاہ کے گال پر نشان چھوڑتا ارمغان خان اور عائث خان نے آگے بڑھ کر ضرغام خان کو قابو کیا

یہ دُکھ نہیں کہ تیرا شہر میرا دشمن ہے

یہ رنج ہے کہ میں تیری امان میں بھی نہیں

اور اسے زبردستی گھسیٹ کر جیپ میں بٹھا کر زن سے جیپ بھگا کر وہاں سے غائب ہوئے

جبکہ عقیدت شاہ بے یقینی کی کیفیت میں ابھی بھی وہی ساکت سی کھڑی تھی

اسے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ضرغام خان اس پر ہاتھ بھی اٹھا سکتا ہے وہ تو شکر تھا کہ بہرام شاہ کا رخ اس کی جانب نہیں تھا

ورنہ پھر سے وہ دونوں ایک بار شروع ہوجاتے

اس لڑائی کو ختم ہوتا دیکھ بہرام شاہ کی جیپ میں بیٹھے گارڈز نے بھی سکھ کا سانس لیا

کیونکہ انہیں اجازت نہیں تھی ان کی لڑائی کے درمیان آنے کی

ورنہ یہ سر پھرے خان اور شاہ ایک دوسرے کو چھوڑ کر ان بچاروں کو دھنک کر رکھ دیتے تھے

_________

آپ پاگل ہوگئے تھے لالا—آپ کیسے عقیدت پر ہاتھ اٹھا سکتے تھے—وہ بھی سب کے سامنے—آپ کی بیوی آپ کی عزت ہے وہ—اسے بیچ چوراہے پر بے عزت کرنے لگے تھے آپ—ارمغان خان نے دبے دبے لہجے میں غصے سے کہا تو

اپنا زخم صاف کرتے ضرغام خان نے خونخوار نظروں سے اس ڈرامے باز کو دیکھا

جبکہ عائث کاٹن پر پایوڈین لگا کر ضرغام کے دائیں جانب بیٹھا اس کی گردن پر آئیں زخموں کو صاف کر رہا تھا

وہ تینوں حویلی اور جنگل جانے کی بجائے ڈیرے پر آگئے تھے

اور اب وہ تینوں ضرغام خان کے کمرے میں موجود تھے

جہاں بیڈ پر دونوں ٹانگیں نیچے لٹکائے شرٹ لیس ضرغام خان بیٹھا

اپنے ہاتھ کی پشت پر آئیں زخموں کو صاف کر رہا تھا

جبکہ اس کے ساتھ بیٹھا عائث خان ضرغام کی گردن اور پشت پر آئیں زخموں کو صاف کر رہا تھا

ہاتھ میں شیشہ تھام کر ضرغام نے اپنا چہرہ دیکھا تو پھٹہ ہوا ہونٹ—نیلا سوجھن ذدہ گال دیکھ سختی سے اپنے جبڑے بھنچے—

چھوڑوں گا نہیں اس سالے بہرام شاہ کو—کمینے نے چہرہ ہی بگاڑ دیا میرا—اتنے سالوں بعد بیوی سامنے آئی تھی—اور کمبخت نے یہ شکل بنا کر اس کے سامنے پیش کر دیا—

بہرام شاہ کی شکل کا نقشہ بدل کر اس کی بیوی کے سامنے پیش نا کیا تو میرا نام بھی ضرغام خان نہیں”—ناک پر آئے زخم پر بینڈج لگاتے ہوئے سرد لہجے میں کہا تو عائث خان نے بامشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا

جسے دیکھ ضرغام خان نے گھور کر عائث خان کو دیکھا

“اور کیا بکواس کر رہے تھے کہ ہاتھ کیوں اٹھایا—اندھے تھے جب اس بغیرت نے میری بیوی کو اپنی اجرک تھمائی—وہ ضرغام خان کی بیوی ہے کسی کی ملازمہ نہیں—نا ہی اس پر کسی کا حق ہے جو اس طرح جتائے—

میری نظروں کے سامنے دو بار میرے دشمن کا بازو تھام چکی تھی وہ—میرا بس چلتا صرف ہاتھ ہی نا اٹھاتا—اس غلطی پر عقیدت شاہ کی چمڑی ادھیر دیتا—

میرا اور عقیدت کا رشتہ جیسا بھی ہو—جتنے بھی اختلاف اور نفرت کیوں نا ہو—مگر میں یہ بات ہرگز برداشت نہیں کروں گا کہ وہ میرے علاؤہ کسی کا ہاتھ بھی تھامے—

مجھے اس سے نفرت ہی سہی مگر اگر کبھی وہ ڈر کر یا سہارے کے لیے—یا اپنا حق استعمال کر کہ میرا ہاتھ تھامے گی میں کبھی بھی اس کا ہاتھ نہیں جھٹکوں گا—

مگر اگر کبھی اس نے میرے علاؤہ کسی کی طرف ہاتھ بڑھایا بھی تو میں اپنے ہاتھوں سے عقیدت شاہ کے ٹکڑے کر ڈالوں گا—اور قسم لے لو—مجھے رتی برابر بھی افسوس نہیں ہوگا—”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہہ کر ایک غصے بھری نگاہ دونوں پر ڈال کر

کمرے میں بنی لکڑی کی چھوٹی سی الماری سے اپنا سوٹ لے کر واشروم میں گھس گیا

“اففف یہاں تو معاملہ بڑا خراب ہے—نا محبت کی سمجھ آتی نا نفرت کی خیر سانوں کی—ہمیں تو بس آپ سے مطلب ہے جانِ من”—ارمغان خان نے صوفے سے اٹھ کر قدم عائث خان کی جانب بڑھاتے شوخ لہجے میں کہا تو عائث خان نے ارمغان کے طرز مخاطب پر آبرو آچکا کر اسے دیکھا

جو اب عائث خان کے ساتھ بیٹھ کر اپنے دونوں بازو پیچھے کو کر کہ ہاتھ بیڈ پر ٹکا کر شوخ نظروں سے عائث خان کو دیکھ رہا تھا

“آپ کی تو ملاقات لالا کی نسبت کافی رومنٹک تھی نا—افف کیا سین تھا—ایک طرف میدان جنگ تھا تو دوسری جانب—عاشقوں کا ملاپ—میری آنکھوں میں تو آنسو آگئے—

ویسے کیا کہاں میری ہونے والی بھابھی نے—وہ آپ کی سائیڈ ہے یا اپنے بھائی کی—

ویسے جس طرح تڑپ کر وہ بہرام شاہ کی جانب بڑھی تھی—اس سے تو یہی لگتا آپ کی دال جلدی نہیں گلنے والی”—دونوں ٹانگیں نیچے لٹکائے اپنے بائیں بازو کی کہنی بیڈ پر ٹکا کر ہتھیلی پر چہرہ ٹکائے سنجیدہ لہجے میں کہا تو عائث خان نے کینہ توز نظروں سے ارمغان خان کو دیکھا

“دال گلنا تو دور کی بات ہے پہلے تمہاری ہونے والی بھابھی کا دماغ ٹھکانے لگانا ہے— تا کہ آئندہ وہ جرات نا کر سکے کسی اور کے حصار میں کھڑی ہونے کی—

تمہاری بھابھی کے ہوش ٹھکانے کے لیے چاہے بہرام شاہ کی لاش مثال کے طور پر اس کے سامنے رکھنی پڑے تب بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا”—ارمغان خان کی ہیزل ہنی موٹی موٹی آنکھوں میں اپنی چاکلیٹ براؤن گہری آنکھیں گاڑھتے سرد لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے تاسف سے سر جھٹکا

“جلاد بھائی کم تھے ان کے آگے سے شوہر بھی ان جلادو سے چار ہاتھ آگے کے مل رہے انہیں—اللّٰہ ہی رحم کرے ان بچاریوں پر”—واشروم سے فریش ہو کر نکلتے ضرغام خان کو دیکھ کر ہاتھ اٹھا کر دہائی دیتے ہوئے کہا تو

ضرغام خان اور عائث خان نے خونخوار نظروں سے ارمغان خان کو دیکھا

اب اگر تمہاری زبان پر ایک بار بھی ان شاہو کا ذکر آیا تو یقین مانو ارمغان خان—اپنی رائفل کی ساری گولیاں تمہارے سینے میں اتار دوں گا—اور تمہیں اندازہ تو ہوگا—یہاں سردار ضرغام خان سے سوال کرنے یا اس پر انگلی اٹھانے والا ابھی تک پیدا نہیں ہوا”—ضرغام خان کے سرد و سپاٹ لہجے پر ارمغان خان نے اپنی آنکھیں گھمائی

“آنکھیں گھمانا بند کرو—میرا دماغ پہلے ہی گھما ہوا ہے—یہ نا ہو ضرغام سے پہلے میں ہی تمہیں اوپر کی سیر کروادوں—اسی لیے چپ کر جاؤں—اور جا کر دیکھو کچن میں خانسامہ آیا—فون تو کیا تھا میں نے اب تک آجانا چاہیے تھا—

اگر آگیا ہو تو—دنبہ مرچ مصالحہ لگا کر بھون لو—ساتھ چپلی کباب اور پلاؤ کر لو—دس بارہ روٹیاں بھی کہہ دینا—سلاد اچھے سے بنوانا—میٹھے میں رس ملائی کر لینا—اور کھانے کے بعد قہوہ کا بھی کہہ دینا”— ارمغان خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے عائث خان نے سرد لہجے میں کہہ کر آخر میں اتنا لمبا آڈر دیا تو ارمغان خان ایک جھٹکے میں اپنی جگہ سے اٹھا

“خر کا بچہ سمجھا ہوا مجھے—جس نے جو کھانا ہے خود جا کر آڈر کرے—ورنہ ملازم کو آواز لگا کر کہہ دے—رات کے دو بجے دنبہ کرنے کا کہو—لعنتیں ہی دے گے دل میں مجھے وہ—میں سو رہا ہوں – جب آپ دونوں کا شاہی اڈر اجائے تو مجھ غریب کو اٹھا دیجئے گا”—اپنا جوتا اتار کر دور اچھالا

جیکٹ اتار کر عائث خان پر اچھالی شرٹ کے بٹن کھول کر اوندھے منہ بیڈ پر گرتے ہوئے کہا تو عائث اور ضرغام نے خاموش نظروں سے کچھ دیر ارمغان خان کو دیکھا

اور پھر کمرہ ارمغان خان کی چیخوں سے گونج اٹھا

ضرغام اور عائث نے آگے بڑھ کر ارمغان خان کو ٹانگوں اور بازوؤں سے پکڑ کر نیچے پھینکا

پھر عائث خان نے جھک کر ارمغان خان کو اپنے کندھے پر ڈالا اور اس کی چیخوں پکار کو نظر انداز کر کہ اسے کچن میں لا کر پٹکا

پیچھے سے آتے ضرغام خان نے مسکراتی نظروں سے دہائیاں دیتے ارمغان خان اور قہقے لگاتے عائث خان کو دیکھا

یہ آج پہلی بار ہوا تھا کہ عائث خان اس طرح خوشی سے ان کے ساتھ وقت گزار رہا تھا

جسے دیکھ ضرغام خان کو اپنے رگ و پے میں سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا

Episode 3

کیا ضرورت تھی اس فضول لڑائی کی—اگر آپ کو کچھ ہو جاتا بھائی—میرا آپ کے اور بالاج لالا کے علاؤہ ہے ہی کون— آپ کو میرا ذرا بھی احساس نہیں اسی لیے ان لڑائیوں سے باز نہیں اتے—ایک دفعہ مل جائے وہ ارمغان خان اس کی ناک توڑ کر آپ کا بدلہ لوں گی”—

وہ تینوں حویلی آئیں تو حلیمہ اور ثمرین بیگم سو رہی تھیں – جس وجہ سے بہرام نے انہیں اٹھانے سے منع کر دیا—

مگر سلویٰ شاہ جانتی تھی کہ وہ تینوں رات تک پہنچنے والے ہیں تو وہ ان کے انتظار میں بیٹھی تھی—

مگر جب نظریں لاونج میں داخل ہوتے زخمی بہرام شاہ ہر گئیں تو سلویٰ شاہ کو لگا کسی نے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لی ہو—اور اب وہ بہرام شاہ کے کندھے سے سر ٹکائے رونے میں مصروف تھی—سلویٰ شاہ کے منہ بسور کر کہنے پر سامنے صوفے پر بیٹھی عقیدت اور حوریہ نے مسکرا کر سلویٰ شاہ کو دیکھا

جو اپنے دونوں بازوں بہرام شاہ کے کندھوں کے گرد پھیلائے سر بہرام شاہ کے کندھے پر رکھے بیٹھی تھی—

ثمرین شاہ اور سمیر شاہ کے تین بچے تھے

سب سے بڑا بہرام شاہ جو کہ بتیس سال کا تھا اور اپنے چچا ذاد حدائق شاہ سے ڈیڑھ ماہ بڑا تھا

جبکہ بہرام شاہ سے چھوٹا بالاج شاہ جو انتیس سال کا تھا اور بزنس کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کے نام سے مشہور تھا—

جبکہ بالاج سے چھوٹی سلویٰ شاہ تھی جو کہ تئیس سال کی تھی

خان اور شاہ خاندان کے سب بچوں سے عمر میں چھوٹی سلویٰ خان تھی—

سمیر شاہ کے چھوٹے بھائی حدایت شاہ کی شادی ولی خان کی بیٹی حلیمہ خان سے ہوئی تھی

حدایت اور حلیمہ بیگم کے بھی تین ہی بچے تھے

سب سے بڑا حدائق شاہ بتیس سال کا تھا اور بہرام شاہ سے ڈیڑھ ماہ چھوٹا تھا—

حدائق شاہ سے چھوٹی عقیدت شاہ—جو کہ چھبیس سال کی تھی اور بہرام اور حدائق سے چھ سال چھوٹی تھی

اور عقیدت شاہ سے چھوٹی حوریہ شاہ تھی جو کہ پچس سال کی تھی

“چلو چھوٹی یار معاف کر دو اپنے لالا کو نیکسٹ ٹائم سے پکا کبھی لڑائی شروع نہیں کروں گا—بس جو شروع ہوئی ہو گی اسے ختم کر دیا کروں گا”—بہرام شاہ نے مسکراہٹ چھپا کر سنجیدہ لہجے میں کہا تو

سلویٰ شاہ نے اپنی گرے آنکھوں کو گھما کر گھور کر بہرام شاہ کو دیکھا

“آپ اور بالاج لالا مجھ سے پیار ہی نہیں کرتے—مجھ سے صرف حدائق لالا پیار کرتے ہیں—جو روز مجھے فون بھی کرتے ہیں—میرے لیے گفٹ بھی بھیجتے رہتے ہیں—اور ٹائم پر برتھ ڈے بھی وش کرتے ہیں—لیکن آپ کو اور بالاج لالا کو میری برتھ ڈے یاد تک نہیں ہوتی—

برتھ ڈے چھوڑیں مجھ سے بات۔ کرنے کا وقت بھی نہیں ہوتا—اب دیکھے ذرا بالاج لالا کو—میٹنگ کے لیے گئے تھے— اور ابھی تک واپس نہیں ائیں—بس ماں جی کو وائس میسج کر دیا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ٹور پر جارہے ہیں—ایک دو ماہ تک واپس آجائیں گے”—سلویٰ شاہ نے بیڈ کے بیچوں بیچ بیٹھ کر منہ کے ٹیڑھے میڑھے ڈیزائن بناتے ہوئے کہا

تو عقیدت نے کافی کا کپ ٹیبل پر رکھ کر قدم سلویٰ کی جانب بڑھائے

“تو یہ سب برتھ ڈے کی وجہ سے ہو رہا ہے—لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے اس میں تو ابھی پانچ ماہ رہتے ہیں نا سلویٰ”—سلویٰ کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے عقیدت نے پر سوچ لہجے میں کہا تو سلویٰ نے ناک چڑھا کر ان تینوں کو دیکھا

ہاں تو آپ لوگ بھی تو پانچ ہو—اس مہینے بہرام لالا کو روز یاد کرواؤ گی—نیکسٹ بالاج لالا کو—پھر حوریہ اپیا کو—پھر آپ کو اور آخر میں حدائق لالا کو—اس طرح آپ لوگوں کو میری برتھ ڈے کبھی نہیں بھولے گی”—اپنے براؤن سلکی بالوں کو انگلی پر لپیٹے آنکھیں گھما کر کہا تو بہرام شاہ کا دلکش قہقہہ روم کی فضا میں گونجا

“حال تو میرا یہ ضرغام خان نے کیا ہے—بدلہ تم ارمغان خان سے کیوں لو گی”— سلویٰ کی پہلی بات یاد آنے پر بہرام شاہ نے حیرت سے استفسار کیا تو سلویٰ کھسک کر بہرام شاہ کے قریب ہوئی

“دیکھے لالا ضرغام لالا چاہے دشمن ہے—مگر ہے تو عقیدت اپیا کے شوہر نا—اور عائث خان بھی حوریہ اپیا کے منگیتر—تو اچھا تھوڑی لگے گا کہ میں ان کی ناک توڑ دوں—پھر سب عقیدت اور حوریہ اپیا کو ہی کہے گے کہ ان کے شوہر کتنے کوجے ہیں—اسی لیے میں نے یہ پلین بنایا ہے—اس سے بدلہ بھی پورا ہو جائے گا—

اور ہمارے لڑکوں—میرا مطلب ان کے شوہروں کی خوبصورتی میں بھی کوئی فرق نہیں آئے گا”—اپنی بات پر خود ہی قہقہہ لگاتے– تالی مار کر زور سے ہاتھ بہرام شاہ کے کندھے پر مارا تو بہرام شاہ نے گھور کر سلویٰ کو دیکھا

اچھا نا لالا اب ایسے نا دیکھے—میں کونسا ابھی بدلہ لینے جا رہی—میں تو بس بتا رہی تھی—گرے آنکھوں کو معصومیت سے پٹپٹاتے ہوئے مدھم لہجے میں کہا تو بہرام شاہ نے مسکرا کر سر جھٹکتے سلویٰ شاہ کو اپنے حصار میں لیا

نظریں سامنے صوفے پر خاموش بیٹھی حوریہ پر گئیں تو بہرام شاہ نے اپنے دائیں بازو کو واہ کر کہ حوریہ کو قریب آنے کا اشارہ کیا تو وہ مسکرا کر چھوٹے چھوٹے قدم لیتی بہرام شاہ کے قریب بیٹھ گئی

اب دائیں جانب حوریہ شاہ تھی—اور بائیں جانب سلویٰ شاہ تھی جبکہ سامنے عقیدت شاہ گاؤ تکیے پر کہنی ٹکائے

ان بہن بھائیوں کے محبت کے مظاہرے دیکھ رہی تھی—

“تم دونوں تو مان ہو بہرام شاہ کا—بہرام شاہ کی جان بستی ہے تم دونوں میں—میں نے کبھی تم دونوں کو چھوٹی بہنیں نہیں ہمیشہ اپنی بیٹیاں ہی سمجھا ہے—

تم لوگوں کو کسی بات سے روکنے کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے یقین نہیں تم دونوں پر—بہرام شاہ کو اپنی بہنوں پر خود سے زیادہ یقین ہے—اپنی ماؤں کی پرورش اور اپنے خون پر مان ہے—

ہم چاہے جتنے بھی دعوے کر لے مگر ہم ہیں تو ایک عام سے انسان نا—ہم کسی انسان کے کردار کو جان سکتے ہیں—اس کے ماضی حال کو جان سکتے ہیں—

اس کی فطرت کو جان سکتے ہیں مگر کسی کے دل کے حال کو نہیں جان سکتے—کیونکہ دلوں کے حال صرف رب جانتا ہے—

اگر ہم دلوں کے حال جاننے لگ جائے تو پھر جہاں محبتوں کے جہاں آباد ہے شاید وہاں محبتیں نا رہے—اور جہاں نفرتیں اور رنجشیں ہیں وہاں کوئی شکوہ شکایت نا رہے—

خان جیسے بھی ہیں—مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا—مگر میں نہیں چاہتا کہ تم لوگ ان کی نظروں میں۔ آؤ—یا وہ تم لوگوں کو اس دشمنی میں ہمیں نیچا دکھانے کے لیے استعمال کریں—

میری جگہ کوئی بھی غیرت مند بھائی باپ ہو تو وہ بھی اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو دنیا کی نظروں سے بچا کر ہی رکھنا چاہے گا—

اور خان تو پھر ہمارے دشمن ہے—وہ چاہے کردار کے لاکھ اچھے ہو—لیکن میں تم لوگوں کی عزت اور جان پر رسک نہیں لے سکتا—

یہ بات شاید تم لوگوں کو بری لگے—شاید میرا حق بھی نہیں بنتا یہ سب کہنا—

مگر میں ان ماں باپ کی طرح ڈھکے چھپے لفظوں میں بات نہیں کرنا چاہتا جو اپنی اولاد کو کسی کام سے تو روکتے ہیں مگر وجہ اور انجام نہیں بتاتے—

انہیں یہ مان اور یقین نہیں دلاتے کہ اگر کوئی غلطی ہو جائے گی تو وہ ان کے ساتھ ہیں —اور پھر وہ بچے ان ڈھکے چھپے الفاظوں کو اپنی سوچ کے مطابق تلاشتے گمراہ ہوجاتے ہیں—

میں چاہتا ہوں میری بہنوں کے پاس یہ مان ہو—انہیں یقین ہو کہ حالات جو بھی ہوگے ان کا بھائی ان کے ساتھ ہے—وہ اپنے دل کی بات کریں گی تو میں دشمنی کے یا غیرت کے لیکچر دے کر ان سے زندگی—اور وہ حق چھین لوں گا جو اللہ نے انہیں دیا ہے —

محبت کرنا انسان کی فطرت ہے—محبت کرنے یا نا کرنے پر انسان کا دل پر زور نہیں چلتا—

خان ہو یا کوئی بھی اگر تم دونوں کو اپنے ہمسفر کے نظریے سے پسند آئے تو بل جھجک اپنے بھائی سے آکر کہنا—

عورت کے پاس سب سے قیمتی زیور اس کی عزت کی ہوتی ہے— محرم چاہے دشمن بھی ہو نا تو لوگ اس سے محبت کرنے پر آپ کے کردار پر انگلی نہیں اٹھا سکتے—مگر وہی محبت آپ کو کسی غیر شحص سے ہوجائے پھر چاہے وہ آپ کا منگ ہی کیوں نا ہو لوگ مرد کو تو نہیں مگر عورت کو جینے نہیں دیتے—سنجدہ مگر نرم لہجے میں کہتے آخر میں عقیدت شاہ کو دیکھا تو اس بات پر عقیدت شاہ نے بری طرح پہلو بدلا

جبکہ سلویٰ اور حوریہ محویت سے بہرام شاہ کی باتوں کو سن رہی تھیں

محبت گناہ نہیں—اپنی پسند کا اظہار کرنا بھی گناہ نہیں—مگر محبت اور اظہار وہاں کرو جہاں عزت جانے کا خطرہ نا ہو—جہاں کوئی آپ کی ذات اور کردار کی دھجیاں نا اڑا دے—

اگر کبھی ایسا کچھ ہوا تو تم دونوں سب سے پہلے اپنے بھائی کے پاس آؤ گی—اور میری پوری کوشش ہوگی کہ اپنی بہنوں کی خواہش کو عزت سے پورا کروں”—بہرام شاہ کے مان بھرے لفظوں کو سن حوریہ شاہ نے آسودگی سے آنکھیں موند کر سر بہرام شاہ کے سینے پر ٹکا دیا

جبکہ سلویٰ دونوں بازو بہرام شاہ کی گردن کے گرد حائل کر کہ اپنے لب بہرام شاہ کے ماتھے پر چوٹ کے نشان پر رکھے

“آئی لو یو سو مچ لالا—ہمارا وعدہ ہے ہم کبھی آپ کا مان ٹوٹتے نہیں دیں گی—کبھی آپ کے بھروسے کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گی—میری کسی بھی بات سے اپ ہرٹ ہوئیں ہیں تو ایم رئیلی سوری—نیکسٹ ٹائم ایسا کچھ نہیں ہوگا—

آپ کے مان اور عزت سے بھر کر میرے لیے کچھ نہیں لالا—حوریہ شاہ نے مسکر کر کہا تو سلویٰ نے جھٹ سر اثبات میں ہلایا

“اور نہیں تو کیا لالا—حوریہ اپیا تو اب یہ نہیں کہہ سکتی مگر میری سن لیں—میری خواہش – میری پسند وہی ہوگی جو میرے لالا کی ہوگی—

میری زندگی کے بارے میں آپ – بالاج لالا یا حدائق لالا جو بھی فیصلہ لیں گے مجھے ہمیشہ کی طرح منظور ہوگا—بالکل ویسے ہی جیسے آپ لوگوں نے ایم ایس آئی ٹی والا خواب میرے بارے میں دیکھ اسے پورا کرنے کا فریضہ میرے نازک کندھوں پر ڈال دیا تھا—

اور دیکھ لیں میں نے آپ لوگوں کا خواب پورا بھی کر دکھایا”—سنجیدہ لہجے میں کہتے آخر میں شوخ لہجے میں کہہ کر آنکھ دبائی تو کمرے میں بہرام شاہ حوریہ اور عقیدت کے قہقہے گونجے

چلو رات بہت ہوگئ ہے تم دونوں جا کر سو جاؤ—ورنہ صبح ماں اور چاچی سے ڈانٹ پڑے گی”—حوریہ اور سلویٰ کو جانے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تو دونوں نے جھٹ سے سر اثبات میں ہلایا

اور سیکنڈز میں وہاں سے نو دو گیارہ ہوئیں

پریشان ہیں کسی بات پر—جو اس طرح ان سے بات کر رہے تھے—عقیدت نے اٹھتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے گہری سانس بھر کر سر اثبات میں ہلایا

بیڈ سے اتر کر قدم کھڑکی کی جانب بڑھائے

ضرغام خان کی آنکھوں میں جنون دیکھا ہے میں نے تمہارے لیے عقیدت—نا نفرت نا محبت—فقط جنون–

وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا عقیدت—مگر میرا وعدہ ہے اگر تمہاری رضامندی نا ہوئی تو وہ کبھی تمہیں حاصل نہیں کر پائے گا—تمہارے سائے تک بھی ضرغام خان کو پہنچنے نہیں دوں گا—

اب تم جاؤ میں آرام کرنا چاہتا ہوں—سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو عقیدت نے دونوں ہاتھ کھڑکی کی سیل پر رکھے—نظریں ستاروں سے چمکتے آسمان پر ٹکائے اپنی جانب پشت کیے کھڑے بہرام شاہ کو دیکھا

اور پھر بنا کچھ کہے کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی

اس دن عائث خان کا حوریہ کو گھر چھوڑنا اور پھر آج ضرغام خان کی جنون لیے نیلی سرد آنکھوں کو دیکھ بہرام شاہ نے بامشکل خود پر ضبط کیا تھا

عقیدت کا تو نکاح ہوا تھا—مگر وہ حوریہ اور سلویٰ کو سمجھانا چاہتا تھا—انہیں بھائی ہونے کا مان سونپنا چاہتا تھا—

اگر کبھی خان ان کو اپنی دشمنی میں استعمال کرنے کی کوشش بھی کریں تو ان کے پاس یہ مان ہو کہ ان کا بھائی ان کے ساتھ ہے—

وہ نہیں چاہتا تھا کہ حوریہ یا سلویٰ اس سے کبھی کچھ بھی چھپائے—بے شک کوئی بھی بات اس سے چھپی نہیں رہ سکتی تھی—

مگر وہ چاہتا تھا کہ اس کی بہنیں خود بہرام شاہ پر یقین کر کہ اسے سب کچھ بتائے نا کہ اس دن کی طرح چھپائے جیسے حوریہ نے اس سے عائث خان کی بات کو چھپایا

__________

داجی سے اچھی خاصی کلاس لگی تھی ضرغام خان کی—وہ جانتے تھے کہ اس نے ہی پہلے کوئی بات کی ہوگی جو بہرام شاہ لڑکیوں کی موجودگی کو بھی فراموش کر کہ لڑنے پر مجبور ہو گیا—

جبکہ مقدس بیگم اور کشف بیگم نے دل کھول کر بہرام شاہ کو بد دعائیں دے ڈالی

ضرغام خان جب سے حویلی آیا تھا—مقدس اس کے پاس بیٹھی بہرام شاہ کو کوسنے میں مصروف تھی

ابھی وہ ضرغام خان کے لیے کھانا بنوانے کچن میں گئی تھی تبھی ارمغان خان اپنی چھوٹی بہن امتثال خان کے ساتھ ضرغام خان کے روم میں داخل ہوا

جس کے بعد نک سک سا تیار ہوا عائث خان خوشبوئیں بکھیرتا روم میں داخل ہوا

نظریں ضرغام خان کے ساتھ چپک پر بیٹھی روتی ہوئی پلوشہ خان پر گئی تو عائث خان ایک ہی جست میں پلوشہ کے قریب پہنچا

ولی خان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی

سب سے بڑا شیر خان اور پھر بہادر خان

بہادر خان سے چھوٹی حلیمہ خان تھی—

بیٹی کی پیدائش کے کچھ ماہ بعد ولی خان کی بیوی خالق حقیقی سے جا ملی

بیوی کی وفات کے بعد ولی خان نے دنیا سے جیسے کنارہ ہی کر لیا ہو

ان کے جینے کی وجہ بس ان کے بچے ہی تھے

گاؤں کی زمہ داریوں کے ساتھ انہوں نے اپنے بچوں کی زمہ داری بھی خود ہی نبھائی

خاندان والوں کے لاکھ کہنے کے باوجود دوسری شادی نا کی

بچے جوان ہوئے تو ولی خان نے ان کی شادیاں کر دی

مگر حویلی پر قیامت تو تب آئی جب شیر خان اپنے یار حدایت شاہ کی کزن کو اپنی بیوی اور دو سال کے بیٹے عائث خان کی ماں کی حیثیت سے حویلی لایا

ضرغام خان شیر خان کی پہلی بیوی مقدس بیگم سے تھا—جس کی عمر بتیس سال تھی—

ضرغام اور حدائق شاہ ہم عمر تھے— دونوں نے ایک ہی دن اس دنیا میں آنکھیں کھولی تھیں—

جبکہ ضرغام خان سے چھوٹا عائث خان شیر خان کی دوسری بیوی مبین شاہ سے تھا—

جو ضرغام خان سے دوسال چھوٹا اب تیس سال کا تھا—

عائث خان سے پانچ سال چھوٹی پلوشہ خان – شیر خان کی پہلی بیوی مقدس شاہ سے تھی

جبکہ بہادر خان کے دو بچے تھے—

اٹھائیس سالہ ارمغان خان اور اس سے چھوٹی چوبیس سالہ امتثال خان

“کیا ہوا لالا کی جان—کیوں اس طرح رو کر اپنی اتنی پیاری آنکھوں پر ظلم کر رہی ہو”—پلوشہ خان کو اپنے حصار میں لیتے نرم لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے سسکتے ہوئے اپنا چہرہ عائث خان کے سینے میں چھپایا

دل تھا کہ دوہری اذیت میں مبتلا تھا—وہ جتنی دعائیں اس دشمنی کے ختم ہونے کی کرتی تھی—یہ دشمنی دن بدن بڑھتی جا رہی تھی—

دل بھائی کے زخم دیکھ کر ترپ رہا تھا تو حدائق شاہ کے کھوجانے پر بری طرح سسک بھی رہا تھا—

وہ اپنا حال دل کسی سے بیان بھی نہیں کر سکتی تھی کہ اس کا پور پور کس آگ میں جل رہا ہے—

حدائق شاہ کا عشق خون کی مانند پلوشہ خان کی رگوں میں گردش کرنے لگا تھا—

پلوشہ خان کی ہر دھڑکن حدائق شاہ کے نام پر دھڑکتی ہے—

وہ نہیں جانتی کہ اس نے کب حدائق شاہ کے نام کو اپنے نام کے ساتھ سنا تھا—

اگر جانتی تھی تو صرف اتنا کہ تب سے پلوشہ خان نے بنا دیکھے اس شخص کو دل و جان سے چاہا ہے—

وہ کیسا دکھتا ہے—وہ کردار کا کیسا ہے—اسے پلوشہ خان یاد ہوگی بھی یا نہیں—

وہ پلوشہ خان کو دھتکارے گا یا اپنی دشمنی کے لیے اس کی ذات کو روند دے گا—

یا پھر وہ پلوشہ خان کو اپنی محبت کی بارش میں پور پور بھگو کر معتبر کرے گا–

کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی وہ—نا ہی اسے کچھ جاننے سے غرض تھی—

وہ حدائق شاہ کے نام سے منسوب تھی— پلوشہ خان کے لیے یہی بہت تھا—

حدائق شاہ کی محبت اس کا ساتھ پلوشہ خان کی خوبصورت نیلی آنکھوں کا خواب اور معصوم محبت بھرے دل کی خواہش تھی—

“ان ظالموں اور نفرت کے ماروں میں ایک وہی تو تھی—معصوم نیلی آنکھوں والی کانچ سی نازک لڑکی—

جس کے دل میں نفرت کی جگہ محبت کی کلی کھلی تھی—وہی تو تھی حدائق شاہ کی بے پناہ چاہتوں کی حقدار—جس سے وہ بے خبر تھی—

پلوشہ خان کی معصوم محبت حدائق شاہ کے عشق – اس کی دیوانگی اور وارفتگیوں سے انجان تھی—وہ تو بس خود کو ان راہوں کی تنہا مسافر سمجھتی تھی—جن رستوں پر حدائق شاہ تو کب سے چل نکلا تھا—

اب دیکھنا یہ تھا کہ پہلے پلوشہ خان حدائق شاہ تک پہنچتی ہے یا حدائق شاہ پلوشہ خان کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی دنیا میں لا کر اپنی جنون خیزیوں سے روشناس کرواتا ہے

“آپ کو تو پتہ ہے لالا کہ ہماری پلوشہ کے اندر آنسوؤں کی ٹینکی فٹ ہے— بس اب ضرغام لالا کو اس حالت میں دیکھ اس ٹینکی کو کام میں لایا جا رہا ہے—امتثال نے ڈرامائی انداز میں کہا تو عائث خان نے گھور کر اسے دیکھا

جبکہ ارمغان خان نے گھور کر اپنی نمونہ بہن کو دیکھا

ہیزل ہنی ارمغان خان سے ملتی جلتی آنکھیں – ڈارک براؤن بال جنہیں چٹیاں میں قید کیا گیا تھا— گلابی بھرے بھرے گال اور گلاب سی نازک پنکھڑیوں جیسے گلابی ہونٹ—پٹھانی نقوش لیے—چہرے پر معصوم مسکراہٹ سجائے شریر نظروں سے دوپٹے کے ہالے سے جھانکتے پلوشہ خان کے سرخ چہرے کو دیکھا

“میرے کمرے کو تم لوگ کس خوشی میں چڑیا گھر بنائے بیٹھے ہو—ایک سیکنڈ میں سب کے سب یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاؤ—

اس سے پہلے میرا میٹر گھوم جائے—دفع ہو جاؤ اپنی شکلیں لے کر—صبح سے سر درد لگایا ہوا ہے تم لوگوں نے—

ایک تو اس خبیث میرے سالے نے میرے چہرے کا بیڑا غرق کر دیا ہے—اچھا بھلا اپنی بیوی سے ملنے جانا تھا میں نے—

اور دوسرا صبح سے میری بیوی کے سسرال والوں نے سر درد لگایا ہوا ہے—ضرغام خان کے جھنجھلا کر کہنے پر ارمغان خان اور امتثال کا دلکش قہقہہ روم کی فضا میں گونجا

عائث خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ روکی

جبکہ پلوشہ اپنی موٹی نیلی آنکھوں کو پھیلائے ان بیوقوفوں کو ہونکوں کی طرح دیکھ رہی تھی

اپنے لالا سے اس قدر اتاولے پن کی اسے ہر گز امید نا تھی

کچھ دن پہلے وہ داجی سے شادی نا کرنے کے لیے بحث کر کہ گیا تھا

اور اب وہ اپنی بیوی کو ملنے کے لیے تڑپ رہا تھا—جسے بیوی کی حیثیت سے دیکھنے پر اپنے ہاتھوں سے مارنے کا کہہ رہا تھا

“لالا آپ عقیدت بھابھی سے ملنے جائیں گے—مطلب آپ ان سے شادی کے لیے راضی ہیں”—چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت سجائے خوشی سے لبریز لہجے میں استفسار کیا تو ضرغام خان نے سنجیدہ نظروں سے پلوشہ کو دیکھ سر اثبات میں ہلایا

عائث خان نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر خود کی جانب شریر نظروں سے دیکھتے ارمغان خان کو دل ہی دل میں دو سو سلواتوں سے نوازا

“صرف ضرغام لالا ہی نہیں – تمہارے یہ میسنے عائث لالا بھی شادی کے لیے راضی ہیں—اور دیکھ لو ابھی بیوی گھر آئی بھی نہیں اور تمہارے لالا تمہیں کمرے سے نکال رہے ہیں—بعد میں سوچو یہ کیا کیا کریں گے—

زن مریدی کے سارے ریکارڈ توڑنے والے ہیں یہ دونوں “—ارمغان خان نے قہقہہ لگا کر کہا تو عائث اور ضرغام خان نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا

“تم کیوں چاہتے ہو ارمغان خان کے میں تمہارا قیمہ کر کہ تمہارے پالتو کتوں کے آگے ڈال دوں—اپنی گز بھر لمبی زبان کے جوہر دکھانا بند کرو—اور شکل گم کرو یہاں سے—ورنہ اٹھا کر کھڑکی سے نیچے پھینک دوں—ضرغام خان نے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو ارمغان خان نے منہ بسور کر اسے دیکھا

“میں یہ بتانے آیا تھا کہ میں شہر واپس جا رہا ہوں— پرڈیوسر کی کال آئی تھی— کانٹیکرٹ سائن کرنا چاہتے ہیں میرے ساتھ ان کی نیو مووی کے لیے—اور پھر میرا دبئی میں کنسرٹ بھی ہے—تو آج رات نکلنا ہے مجھے—

داجی سے مل آیا ہوں—تم لوگوں سے ملنے آیا تھا—کنسرٹ کے بعد ایک دو سونگ ریکارڈ کروا کر واپس آجاؤ گا—

عائث خان کے سنجیدہ لہجے میں کہنے پر ضرغام خان نے سر اثبات میں ہلایا

“تمہارے گارڈز پر یقین نہیں مجھے—رات میں تمہیں خود چھوڑ کر آؤ گا—اور میرے گارڈز تمہارے ساتھ رہے گے—اور تم اس بار انہیں ڈرا دھمکا کر بھیجو گے بھی نہیں—ورنہ پھر ان کی موت کے ذمہ دار تم ہوگے—اپنا خیال رکھنا—اور یاد رکھنا شاہ حویلی سے پیغام سجائے تو داجی ایک ماہ بعد شادی کی تاریخ رکھ دیں گے—

اور تاریخ سے دس دن پہلے حویلی موجود ہونے چاہیئے –سمجھ آئی میری بات”—عائث خان کو بازو سے تھام کر اپنے روبرو کھڑے کر کہ گلے لگاتے ہوئے کہا تو عائث خان نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا

“میں جلد واپس آنے کی کوشش کروں گا—تم دونوں بھی اپنا خیال رکھنا—اور خبر دار امتثال اگر تم نے یا تمہارے بھائی نے میری بہن کو تنگ کیا—ورنہ دونوں کی آکر ٹانگیں توڑ دوں گا”—پلوشہ خان کے سر پر ہاتھ رکھتے امتثال اور ارمغان خان کو گھورتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو ان دونوں نے منہ بسور کر عائث خان کو دیکھا

“میں تو آپ لوگوں کی سوتیلی بہن ہوں نا—امتثال کے منہ بنا کر کہنے پر عائث خان نے اپنی مسکراہٹ چھپائی

“صرف سوتیلی تمہیں تو چچی یتیم خانے سے اٹھا کر لائی تھی—یہ نہیں بتایا چچی نے تمہیں”—امتثال کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار دیتے چھیرتے ہوئے کہا تو وہ پیر پٹختی پلوشہ کا ہاتھ تھام کر گھسیٹنے کے انداز میں اسے روم سے باہر لے گئی

“مجھے آج رات زمینوں پر جانا ہے—تو میری طرف سے معذرت میں آپ سے جاتے وقت مل نہیں سکوں گا—

الله مو په امان او سالم وساتی—(اللّٰہ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے)—عائث خان کے گلے لگتے نرم لہجے میں کہا تو عائث خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

عائث خان سے مل کر ارمغان خان ڈیرے پر چلا گیا—عائث اپنی پیکنگ مکمل کرنے چلا گیا—اور ضرغام خان ولی خان کو منانے کے لیے چلا گیا

___________

حلیمہ بیگم کو جب پتہ چلا کہ بہرام اور ضرغام کے درمیان پھر سے لڑائی ہوئی ہے تو انہوں نے ولی خان کے پیغام کے بارے میں بعد میں بات کرنے کا سوچا

جبکہ عقیدت انتظار میں تھی کہ وہ بات کریں تو وہ انہیں اپنا جواب بتائے

انہیں یہاں آئے پانچ دن ہو چلے تھے مگر ابھی تک ان سب کا سامنا دوبارا نہیں ہوا تھا

یہاں آکر عقیدت کی طبیعت کافی خراب تھی— وجہ آب و ہوا کی تبدیلی تھی—

وہ جب یو کے سے آئی تھی تب بھی کافی دن طبیعیت خراب رہی تھی—اور اب شہر سے گاؤں آنے پر بھی اس کی طبیعت کافی خراب تھی—

اتنے دنوں سے وہ اپنے روم سے باہر نہیں نکلی تھی— آج جمعہ تھا تو یہاں گاؤں کی سب عورتیں جمعہ کی نماز مسجد میں پڑھتی تھی—

مردوں کی مسجد کے پچھلی جانب عورتوں کے لیے مسجد تھی—جہاں بچیوں کو مولوی صاحب کی بیوی سپارہ پڑھاتی تھی—اور ہر جمعہ یہاں گاؤں کی عورتیں جمعہ کی نماز اور عید پر عید کی نماز پڑھنے کے لیے آتی تھی

جمعہ کی نماز پڑھ کر عقیدت اکیلی باہر نکل آئی تھی

گاؤں کی خوبصورت گلیوں سے گزرتی وہ باغ کی جانب نکل آئی

وہ کئی سالوں بعد گاؤں آئی تھی—اب تو ٹھیک سے یاد بھی نہیں تھا کہ ان کا باغ کس طرف ہے—

ندی کے قریب سے گزرتی وہ دائیں جانب امرود کے باغ میں داخل ہو گئ

سر درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا—اب اکیلی آ تو گئی تھی مگر اب پچھتا رہی تھی—

گھومتے سر کو سنبھالتی وہ با مشکل چل پا رہی تھی—

بخار کی حدت سے سرخ پڑتا چہرہ لیے وہ اردگرد کسی کی تلاش میں نگاہ دوڑانے لگی

مگر اردگرد کسی کو نا پاکر اپنا چکراتا سر تھام کر نیچے بیٹھتی چلی گئی

اہنی بند ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھولنے کی کوشش کی مگر حواس آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑنے لگے تو وہی منہ کے بل زمین پر گر گئی

—————

ضرغام خان سفید کاٹن کا سوٹ پہنے—کندھوں پر سیاہ رنگ کی اجرک پھیلائے جمعہ کی نماز کے بعد باغ کی طرف چلا آیا تھا

باغ کی رکھوالی کرنے والوں کو بھی اجازت تھی کہ نماز کے وقت وہ سب بنا وقت ضائع کیے مسجد نماز کے لیے چلے جایا کریں

کیونکہ نماز سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا—

اسی لیے ملازم بھی ضرغام خان کے ساتھ نماز پڑھ کر اب اس کے پیچھے پیچھے آرہے تھے

“سردار وہاں کوئی عورت ہے شاید”—ضرغام خان جو ملازموں سے بات کرنے میں مصروف تھا

اپنے ملازم کی آواز پر چونک کر پلٹا تو نظریں کچھ فاصلے پر گرے وجود پر گئی

جو کہ سیاہ چادر میں چھپا ہوا تھا—

جسے دیکھ ضرغام خان نے اپنے ملازموں کو وہی ٹھہرنے کا حکم دیا

اور تیز تیز قدم لیتا اس وجود کی جانب بڑھا

گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اب وہ شش و پنج میں مبتلا تھا—کہ کیسے اسے سیدھا کرے—پہلے سوچا اپنے ملازم کو آواز لگا لے—مگر ناجانے کیوں دل نے فوراً سے انکار کیا—

الفاظ زبان پر آتے آتے رک گئے—ساری جھجھک کو ایک طرف رکھ کر کندھوں سے تھام کر اس نرم و نازک وجود کو سیدھا کیا

تو ضرغام خان کا دھڑکتا دل لمحے کے لیے ساکت سا ہوگیا—

گلابی دوپٹے کے ہالے میں دمکتا چاند سے چہرہ جس میں زردیاں گھلی ہوئی تھی—گلابی بھرے بھرے ہونٹ خشک ہوئے سختی سے بھنچے ہوئے تھے— سبز نگینوں جیسی خاموش گفتگو کرتی آنکھیں جن میں ضرغام خان کو اپنا آپ گم ہوتا محسوس ہوا تھا—اس وقت بند تھی—سنہری پلکیں رخساروں پر سایہ فگن تھی

“عقیدت ضرغام خان اٹھو—عقیدت”—سرد و سپاٹ لہجے میں عقیدت شاہ کو کندھوں سے جھنجھوڑتے ہوش میں لانے کی کوشش کرتے دھار کر کہا مگر وہ بے حس و حرکت ضرغام خان کے بازؤں کے مضبوط حصار میں پڑی رہی

سردار ہماری کسی مدد کی ضرورت ہے تو ہم آگے آئیں”—ملازم کی آواز پر ضرغام خان نے پلٹ کر اسے دیکھا

کہ تاسو کی څوک یو ګام مخکې لاړ شي –

یا دې ته هم وګوری په خدای قسم زه به تاسو ټول ٹوٹے ٹوٹےکړم او عقاب به د کاهنانو مخې ته کېږدم

)(اگر تم میں سے کسی نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا

یا اس کی طرف دیکھا بھی خدا کی قسم تم سب کی بوٹی بوٹی کر کہ چیل کوؤں کے آگے ڈال دوں گا)—زخمی شیر سی دھاڑ لیے غرا کر کہا تو ملازموں نے بے ساختہ اپنے قدم واپس لیے

عقیدت شاہ کی کمر کے گرد بازو لپیٹ کر اسے اپنی مضبوط بانہوں میں اٹھا کر تیز تیز قدم لیتا دوسری جانب سے نکل کر اپنی گاڑی کے قریب آیا

جسے دیکھ ملازم نے سر جھکائے بیک سیٹ کا دروازا کھولا اور نظریں جھکائے واپس چلا گیا

عقیدت شاہ کو بیک سیٹ پر لٹا کر ضرغام خان نے جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی

موبائل نکال کر اپنے ملازموں کو ڈیرہ خالی کرنا کا کہا

نظریں پلٹ پلٹ کر عقیدت شاہ کے نازک وجود پر جا کر ٹھہر رہی تھیں—

جھٹکے سے گاڑی روک کر باہر آیا

عقیدت شاہ کو پورے استحاق سے اپنی بانہوں میں بھر کر قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھائے

————–

عقیدت کو نرمی سے بیڈ پر لٹا کر عقیدت کے کندھوں کے گرد لپٹی سیاہ چادر کو اتار کر سائیڈ پر رکھا

سپاٹ چہرہ لیے عقیدت شاہ کے آگ سے دہکتے ماتھے کو چھو کر ضرغام خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچ لیے

نظریں بے اختیار ہوتی عقیدت شاہ کے نرم و نازک وجود پر پھسلنے لگی—سفید رنگ کی کلیوں والی فراک پہنے—سر پر گلابی رنگ کا دوپٹہ اوڑھے—وہ اس قدر سادگی میں بھی کسی کو بھی چاروں خانے چت کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی

مگر مقابل کوئی بھی نہیں تھا—وہ ضرغام خان تھا—اس نازک وجود کا حقدار—اور اسی وجود سے بیک وقت جنون اور نفرت کا دعویدار—

گہری سانس فضا کے سپرد کر کہ عقیدت شاہ کے نازک وجود سے نظریں ہٹا کر روم سے باہر نکل گیا

باؤل میں ٹھنڈا پانی لیے کمرے میں داخل ہوا

باؤل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر الماری سے منی ٹاول نکالا

عقیدت شاہ کے قریب بیٹھ کر گہری نظروں سے عقیدت کے ہوش ربا سراپے کو دیکھتے عقیدت کے سر پر ٹاول بھگو کر رکھا

پندرہ منٹ مسلسل ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کی تو بخار کی شدت میں کمی آئی

ٹاول کو باول میں رکھ کر کھسک کر عقیدت کے قریب ہوا

“تم بہت خوبصورت ہو— اتنی خوبصورت کہ تمہیں دیکھنے کے بعد انسان خود پر کوئی اختیار نا رہے—مگر تمہیں دیکھنے اور چھونے کا حق صرف اور صرف ضرغام خان کا ہے—

تمہیں دیکھنے کے بعد میرا دل شاید میرا نا رہے—مگر میرا تم سے وعدہ ہے—عقیدت ضرغام خان تمہیں چھونے کے بعد تمہارے وجود پر اپنی چھاپ چھوڑنے کے بعد—تمہاری آنکھوں میں اپنا عکس اور دل پر اپنی چھاپ چھوڑنے کے بعد تمہیں بھی تمہارے بس میں نہیں رہنے دوں گا—تمہارا دل بھی تمہارے اختیار میں نہیں رہے گا”—ایک بازو عقیدت کی کمر کے گرد مضبوطی سے لپیٹا—جبکہ دوسرا بازو عقیدت کی گردن کے گرد حائل کر کہ اسے اپنی سخت گرفت میں لیا

عقیدت کے چہرے پر جھک کر اپنی ناک عقیدت شاہ کی ناک سے مس کرتے گھمبیر بوجھل لہجے میں سرگوشی کی

عقیدت کی مدھم چلتی گرم سانسوں میں گہری سانس بھر کر عقیدت کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارا

“ساری غلطی تمہاری ہے— تمہیں اتنا خوبصورت نہیں ہونا چاہیے تھا— اب یہ خان بچارا بھی کیا کرسکتا ہے—یہ معصوم چہرہ—ہوش ربا سراپہ خان کی ملکیت ہے تو وہ کیسے دور رہ سکتا ہے—عقیدت کے چہرے پر جا بجا اپنے سلگتے ہونٹ رکھتے گھمبیر لہجے میں سرگوشی کی

عقیدت کے ہونٹوں کے قریب شدت بھرا لمس چھوڑ کر خمار آلود نظروں سے عقیدت کی بند آنکھوں کو دیکھا

نظریں آنکھوں سے سرکتی گلابی خشک ہونٹوں پر آئی تو گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی

کمرے کی معنی خیز خاموشی میں ضرغام خان کی تیز دھڑکنوں کا شور برپا ہوا

اپنی تیز دھڑکنوں کا شور کانوں میں سنائی دیا تو ضرغام خان آنکھیں بند کیے پوری شدت سے ان گلاب سی نازک پنکھڑیوں پر جھک آیا

عقیدت کی کمرے کے گرد حصار تنگ کرتے اسے خود میں بھینچ لیا

قطرہ قطرہ عقیدت کی سانسوں کو خود میں انڈیلتے ضرغام خان ان فسوں خیز لمحوں میں پل میں بہکا

عقیدت کے نچلے ہونٹ کو اپنے دانتوں تلے دبا کر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑ کر نرمی سے اپنے دیے زخم پر ہونٹ رکھ کر ایک با رپھر شدت سے عقیدت کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی سخت گرفت میں لیا

“آپ چاہتی ہیں عقیدت سہاگن نا ہو—میں اس سے اپنا رشتہ نا بناؤ—تو نہیں بناؤں گا—مگر میں اسے طلاق نہیں دوں گا ماں جی—وہ میری بیوی ہے اور مرتے دم تک وہ ضرغام خان کے نام سے ہی منسوب رہے گی—مگر میں زبان دیتا ہوں کبھی بھی عقیدت شاہ کو شوہر ہونے کا مان نہیں دوں گا—کانوں میں اپنا سرد و سپاٹ لہجہ گونجا تو ضرغام خان ایک جھٹکے میں عقیدت سے دور ہوا

نظریں عقیدت شاہ کے نم ہونٹوں پر گئی جو ضرغام خان کی شدتوں سے ایسے تھے جیسے ابھی خون چھلک پڑے گا

اپنی بے اختیاری پر دل کیا خود کو شوٹ کر لے

دوسری بار وہ عقیدت شاہ کے سامنے بے اختیار ہوا تھا—پہلے تو وہ صرف آنکھوں میں کھویا تھا—اور آج وہ عقیدت کی قربت میں سب کچھ فراموش کر بیٹھا تھا—

اپنی بے بسی اور بے اختیاری دونوں پر دل کیا ساری دنیا کو آگے لگا دے

“آہہہ–“— ٹیبل کو زور سے ٹانگ مار کر نیچے گرایا—سائیڈ ٹیبل پر پڑے باؤل کو اٹھا کر ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں مارا

اپنے ارگرد چلانے اور شور کی آواز سن کی عقیدت نے اپنے بھاری ہوتے سر کو تھام کر بامشکل اپنی آنکھیں کھولی

مگر اپنے سامنے کمرے کا نقشہ بگاڑتے ضرغام خان کو دیکھ

لمحے میں سارے حواس بحال ہوئے

جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کر بیٹھی اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے ضرغام خان کو دیکھا

جو پھولی سانسیں—سرخ خون چھلکاتے چہرہ لیے کمرے کی چیزوں کو اٹھا اٹھا کر پھینک رہا تھا

“ایک سیکنڈ میں یہاں سے دفع ہو جاؤں عقیدت شاہ—ورنہ یہ نا ہو ان چیزوں کی طرح میں تمہیں بھی توڑ دوں—میرے سینے میں اس وقت جو آگ لگی ہوئی ہے اگر تم نہیں چاہتی کہ میں تمہیں اس میں جلا کر راکھ کر دوں—تو میری نظروں سے دور ہو جاؤ—ورنہ مجھے بھی نہیں اندازہ کہ میں اپنی بے اختیاری اور بے بسی میں تمہیں کس قدر نقصان پہنچا دوں گا”—ایک ہی جست میں عقیدت کے قریب پہنچ کر اسے بازو سے تھام کر جھٹکے سے اپنے سامنے کھڑا کرتے دھاڑ کر کہا

اور بنا عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے گھیٹستے ہوئے اسے کمرے کے دروازے سے باہر دھکا دے کر دھاڑ سے دروازا بند کیا

دروازا بند کر کہ پیٹھ دروازے سے ٹکا کر اپنی خون چھلکاتی آنکھوں کو لمحے کے لیے بند کر کہ کھولا تو نظریں بیڈ پر پڑی عقیدت کی چادر اور دوپٹے پر گئیں تو غصہ پھر سے عود آیا

جبکہ دوسری جانب نیچے زمین پر گری عقیدت ابھی بھی بے یقینی سے بند دروازے کو دیکھ رہی تھی

وہ تو ابھی تک سمجھ ہی نہیں سکی تھی کہ یہ سب جو ہوا وہ حقیقت تھی یا خواب—

اور اب جو وہ فیصلہ کر چکی تھی—اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں لینے والی تھی—ضرغام خان کی اس حرکت نے عقیدت کے اس فیصلے پر مہر کا کام کیا تھا—

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *