Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 05,06)

Maan Yaram by Maha Gull Rana 

ایک ہی گاؤں میں اتنے قریب ہوتے ہوئے بھی وہ میلوں کے فاصلے پر تھے

اتنے سالوں بعد باپ کے شفقت بھرے ہاتھ کا لمس سر پر محسوس کر کہ حلیمہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں

جنہیں بامشکل چپ کروایا گیا تھا

شاہ حویلی کے لاونج میں دائرے کی صورت میں سیٹ کیے گئے صوفہ پر ایک جانب حلیمہ اور ثمرین بیگم بیٹھی تھیں

جن کے دائیں جانب سنگل صوفے پر بہرام شاہ نیلے رنگ کے شلوار کرتا میں سیاہ اجرک کندھوں پر پھیلائے

ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا ہوا تھا

جبکہ دوسری جانب ولی خان کے ساتھ ارمغان خان سفید شلوار کرتا پہنے—براؤن رنگ کی اجرک کندھوں پر پھیلائے

دائیں ہاتھ میں موبائل تھامے اور بائیں ہاتھ کی مٹھی بنا کر ہونٹوں پر رکھے بیٹھا تھا

خان حویلی سے ولی خان کہ ساتھ کوئی عورت نہیں آئی تھی

ان میں رواج تھا کہ رشتے کی بات پکی کرنے یا شادی کی تاریخ رکھنے گھر کے بڑے مرد حضرات جاتے تھے

یہ رسم کئی سالوں سے چلی آرہی تھی—اور ولی خان کی موجودگی میں ابھی تک اس میں ردوبدل نہیں کیا گیا تھا مگر رشتے طہ ہونے سے پہلے لڑکی کو دیکھنے کے لیے ایک خاتون ساتھ آتی تھی

اس کے علاؤہ باقی مرد حضرات ہی جاتے—

خاتون کا کام لڑکی پسند کرنا ہوتا تھا باقی کے معاملات مرد ہی آپس میں دیکھتے تھے—

“ماضی کی یادیں جہاں خوشی کا باعث بنتی ہیں وہی بہت سے زخموں کو بھی ہرا کر دیتی ہیں—

جو بھی ہوا اس پر افسوس یا دکھ کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے—اس کے علاؤہ نا ہم ماضی کو بدل سکتے ہیں اور نا ہی جانے والوں کو واپس لا سکتے ہیں—

آج تک یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ شیر خان اور حدایت شاہ کے درمیان ایسا بھی کیا ہوا—کہ ایک دوسرے پر جان دینے والے اس موڑ پر آ گئے کہ بھائیوں جیسے یار کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے پر مجبور ہوگئے—

خیر جو اللّٰہ کو منظور—مرنے والے یہ راز بھی ساتھ ہی لے گئے—اب ہم کیا کر سکتے ہیں—

اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے—بہت ہوگئی یہ دشمنی اب یہ خون خرابہ بند کیا جائے—

جتنا ضرغام خان مجھے عزیز ہے اس قدر ہی حدائق شاہ میرے لیے اہمیت رکھتا ہے—

میں نہیں چاہتا ہے کہ میرا پوتا اور نواسا ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے—

اسی لیے میں نے ان کے پاؤں سے نفرت اور دشمنی کی زنجیروں کو توڑ کر انہیں شادی جیسے پاک رشتے میں باندھنے کا فیصلہ کیا ہے—

رشتے مضبوط ہوگے—ایک دوسرے کے قریب رہ کر ایک دوسرے کو جانے گے سمجھے گے—تو یہ رنجشیں بھی ختم ہو جائیں گی—

اب وقت ضائع کیے بغیر اس مہینے کی کوئی تاریخ ہمیں دو—تا کہ ہم جلد از جلد اپنی بیٹیوں کو اپنے گھر لے جائیں”— ولی خان کے با رعب ٹھہرے لہجے میں کی گئی بات پر ثمرین بیگم اور حلیمہ بیگم کو چپ ہی لگ گئی

وہ جو دونوں سوچیں بیٹھی تھی کہ وہ گلے شکوے کرے گی—تھوڑا وقت مانگے گی مگر ولی خان کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ دونوں کی زبان تالو سے چپک چکی تھی

“آپ کی بات بجا ہے داجی—مگر کیا گارنٹی ہے کہ میری بہنوں کو اس گھر میں وہی عزت اور مان دیا جائے گا جو خان خاندان کی دوسری بہوؤں کو دیا جاتا ہے—

کیا گارنٹی ہے کہ وہ دونوں وہاں خوش رہیں گی—ضرغام یا عائث کا سلوک ان کے ساتھ ٹھیک ہوگا—

وہ دونوں مجھ سے یا حدائق سے کسی بھی لڑائی کی بنا پر عقیدت اور حوریہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گے—

ہمارے سروں پر باپ نہیں ہے داجی—ورنہ میں یہ بات آپ سے کبھی نا کرتا—

بہن بیٹیوں کی زندگی کا سوال ہو تو ایسے وسوسے دل میں ڈیرہ جما لیتے ہیں—

میری بہنیں کمزور یا بے بس نہیں ہے کہ اپنے حق کے لیے آواز نا اٹھا سکے—مگر میں پھر بھی آپ کے منہ سے سن کر اطمینان کرنا چاہتا ہوں—

آپ بڑے ہیں—اتنی دشمنی کے باوجود بھی شادی کی بات کر رہے ہیں—تو آپ نے کچھ سوچا ہی ہوگا نا—بزرگوں کی تو دور اندیشی بھی مستقبل کا پتہ دے دیتی ہے—

آپ نے بھی تو کچھ دیکھ کر ہی یہ فیصلہ کیا ہوگا—

اور ویسے بھی میں نہیں چاہتا کہ اس دشمنی کو ختم کرنے کے لیے میں اپنی بہنوں کو ڈھال بناؤ—میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں ہو کہ اس کا انجام پر ہمیں پچھتانا پڑے”— اپنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ کر آگے کو جھکتے سنجیدہ چہرے مگر مسکراتی آنکھوں سے استفسار کیا تو داجی کا قہقہہ بے ساختہ تھا

“ٹھیک سمجھے ہو برخوردار میری دور اندیشی مستقبل دیکھ چکی ہے – مگر میں مستقبل کے علاؤہ تمہیں حال کا چھپا ہوا راز بتاتا ہوں—

میرے دونوں پوتے بہت محبت کرتے ہیں تمہاری بہنوں سے—میں یہ فیصلہ نا لیتا تو وہ شاید ساری زندگی خود سے نا کہتے—

مگر نا وہ خود کبھی اور کے ہوتے اور نا ان بچیوں کو کسی اور کے ہونے دیتے—ہم نے دینا دیکھی ہے— اور یہ

ہمارے ہی ہاتھوں میں پل کر بڑھے ہونے والے—سمجھتے ہیں کہ ہم سے چھپا لیں گے—

رہی بات پچھتانے کی تو تم بے فکر کو جاؤ بہرام شاہ— میرے ہوتے دنیا کی ساری خوشیاں تمہاری بہنوں کے قدموں میں لا کر ڈھیر کر دے گے— اگر میں نا بھی رہوں تم جب بھی اپنی بہنوں کو خوش دیکھ کر مجھے ضرور یاد کرو گے”—ولی خان نے مدھم قہقہہ لگا کر کہا تو بہرام شاہ کے مونچھوں تلے عنابی ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا

جبکہ حلیمہ بیگم نے اپنی نم ہوتی آنکھوں کو دوپٹے کے پلو سے صاف کر کہ ملازمہ کو کھانا کھانے کا اشارہ کیا

“اللّٰہ آپ کو سلامت رکھے— اور میری دعا ہے کہ آپ خود انہیں ایک ساتھ خوش دیکھ کر مجھ سے کہے کہ دیکھو بہرام شاہ میں نے کہا تھا نا—اور اج دیکھ لو میرا فیصلہ کس قدر سچ ثابت ہوا ہے”—بہرام شاہ نے صوفے کی پشت سے سر ٹکاتے مسرور لہجے میں کہہ کر ایک نظر لاونج میں نظر گھماتے ارمغان خان کو دیکھا

جو جب سے آیا تھا بے چین نظر آرہا تھا— اپنی دائیں ٹانگ کو مسلسل ہلاتا اردگرد متلاشی نگاہوں کو گھما رہا تھا

“آپ لوگ باتیں کریں—میں ذرا ارمغان خان کو حویلی دکھا کر لاتا ہوں”—بہرام شاہ کے سنجیدہ لہجے پر ارمغان خان نے گڑبڑا کر اسے دیکھا

__________

ابھی وہ کوئی بہانہ بنا پاتا اس سے پہلے ہی بہرام اسے بازو سے تھام کر ڈرائنگ روم سے نکلتا لاونج سے گزر کر حویلی کی راہداریوں سے ہوتا

حویلی کے اندرونی حصے سے نکل کر بیک سائیڈ پر بنے گرین ہاؤس میں داخل ہوا

جہاں افوائٹ کلر کے تین سنگل صوفہ جن پر لائٹ پیرٹ اور اورنج کامبینیشن کے کشنز پڑے تھے—صوفہ کے درمیان آف وائٹ ہی ٹیبل موجود تھا—

ٹیبل پر رکھے واس میں گرین ہاوس میں لگے خوبصورت پھولوں کو توڑ کر سجایا گیا تھا—

جبکہ دائیں جانب بیلوں سے چھپی دیوار کے آگے رنگے برنگے پنجروں میں خوبصورت طوطے قید تھے

جبکہ درمیان میں دائرے کی شکل کا بنا فاؤنٹین اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہا تھا

نظریں فاؤنٹین سے ہوتی سامنے بنے بڑے پنجرے پر گئی جہاں شیر اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھا گھور کر ارمغان خان کو دیکھ رہا تھا

“ایسا کیا کھو گیا تھا ارمغان خان جسے تم اتنی بے چینی سے تلاش رہے تھے”—بہرام شاہ کے ہاتھ کو اپنے کندھے پر محسوس کر کہ ارمغان خان نے سنجیدہ نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھا

“ابھی ایسا وقت نہیں آیا کہ ارمغان خان سے اس کا کچھ کھو جائے—اگر کبھی ایسا ہوا بھی بہرام لالا تو تب میں ہاتھ پہ ہاتھ دھڑے بیٹھو گا نہیں— بلکہ پوری دنیا الٹ کر رکھ دوں گا—ویسے تو ایسی نوبت کبھی نہیں آئے گی کہ ارمغان خان سے کچھ کھو جائے—کیونکہ ارمغان خان اپنی چیزوں اور لوگوں کی حفاظت کرنا بہت اچھے سے جانتا ہے”—سنجیدہ لہجے میں کہہ کر بہرام کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹا کر صوفے پر جا کر بیٹھ گیا

“امپریسو—مجھے تو لگا تھا صرف ضرغام خان میں ہی اتنا حوصلہ ہے کہ دشمن کے علاقے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکار سکے—مگر چھوٹے لڑکے تم بھی کم نہیں”—ارمغان خان کے سامنے بیٹھتے مسکرا کر کہا تو ارمغان خان کے ہونٹوں پر بھی تبسم بکھر گیا

“بندے کا جگرہ مضبوط ہونا چاہیے پھر کیا دشمن کا علاقہ کیا سرحد”—ارمغان خان نے سر جھٹک کر کندھے آچکا کر کہا تو بہرام شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا

“ویسے بھی آپ کونسا اب سے دشمن رہے گے—میرے بھائی کے ہونے والا سالا جی ہیں—میری بھابھیوں کے بھائی اور ویسے بھی عمر میں بڑھے—آپ کی عزت تو مجھ پر فرض ہے—

مگر عزت تب تک جب تک آپ میری بھابیوں کے بھائی اور میرے بھائیوں کے سالا بن کر رہے گے—مگر کبھی جو آپ نے سالا گیری کرکہ کوئی چال چلنے کی کوشش کی—تو یاد رکھیئے گا میں تو فارغ بندہ ہوں—

اور اپنے فارغ وقت میں لوگوں کے دماغ سیٹ اور حالت خراب کرنا میرا شوق ہے—اور پھر شوق کا تو کوئی مول نہیں—اور ویسے بھی مول ڈالنا خان کی شان کے خلاف ہے”— کُرتے کی جیب سے ببل نکال کر ایک بہرام کی طرف اچھالتے اور ایک اپنے منہ میں ڈالتے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ لیے آنکھ دبا کر کہا تو ارمغان خان کی اس حرکت پر بہرام شاہ کا دلکش قہقہہ ٹھنڈی پرسکون فضا میں گونجا

“تم بھی جب تک میری بہنوں کے اچھے دیور بن کر رہو گے—اور تمہارے بھائی اچھے شوہر—تب تک تم بھی میرے چھوٹے بھائیوں جیسے ہو—ورنہ دوسری صورت میں بندہ سیٹ کرنا کیا—اس کے انچر پنجر کو توڑ مڑوڑ کر اپنی مرضی کی شکل میں ڈھالنا بھی اچھے سے جانتا ہوں —

اور رہی مول کی بات تو میری بہنیں بہت انمول ہیں—ان کا بے مول ہونا بہرام شاہ کو کسی صورت قبول نہیں—

اگر ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا برا سلوک ہوا تو ایسا مول ڈالوں گا کہ ردی کہ بھاؤ بھی کوئی نہیں خریدے گا—

سمجھ آئی چھوٹے خان”—سرو سپاٹ لہجے میں جواب دیتے اٹھ کر ارمغان خان کے قریب کھڑے ہو کر

اپنے دائیں ہاتھ سے ارمغان خان کے بال بگاڑیں تو ارمغان خان نے بہرام شاہ کے طنز کے تیر ڈبو ڈبو کر مارنے پر گہری سانس فضا کے سپرد کر کہ سر اثبات میں ہلایا

“آپ بھائی ہیں—اپنے گھر کی عزت اور آنگن کی رونق دے رہے ہیں—آپ کا حق بنتا ہے—میں کچھ کہہ نہیں سکتا—مگر وعدہ ضرور کرتا ہوں کہ میرے ہوتے آپ کہ بہنوں پر آنچ بھی نہیں آئے گی—جس عزت سے لے کر جائیں گے اسی عزت سے رکھے گے بھی— یہ خان کی زبان ہے اور خان جان سے تو جا سکتا ہے اپنی زبان سے نہیں”—سنجیدہ لہجے میں کہتے قدم پنجرے کی جانب بڑھا کر گھٹنوں کے بل پنجرے کہ آگے بیٹھ گیا

“بس یہی تسلی چاہیے تھی—تم یہی کر دینا باقی ان میاں بیوی کے اپنے جو بھی مسائل ہوئے وہ خود ہی نمٹ لیں گے—ورنہ تم لوگوں کے داجی اور ہماری مائیں بیٹھی ہیں نا کان کھینچنے کو—”—ارمغان کے ساتھ ہی زمین پر بیٹھتے پنجرے میں بنی لوہے کی سلاخوں سے ہاتھ اندر کر کہ شیر کہ سر پر ہاتھ پھیرتے جواب دیا تو ارمغان خان نے سر اثبات میں ہلایا

“کچھ سال پہلے شکار کے لیے گیا تھا تو یہ زخمی حالت میں ملا—تب واپسی کے لیے نکل رہا تھا میں تو اسے بھی ساتھ لے آیا—پھر حوریہ اور سلویٰ کے کہنے پر اسے یہی رکھ لیا—تھوڑا ٹھیک ہوا تو انہیں شیر کے بچے چاہئے تھے— پھر بچوں کے چکر میں شیر کے لیے بیوی بھی پانی پڑی اور اب بچے بھی آگئے رونق لگانے—بہرام شاہ کے بتانے پر سلوی شاہ کے ذکر پر ارمغان خان کا دل بے ساختہ دھڑکا

محظ سر ہلانے پر اکتفا کیا اور اٹھ کھڑا ہوا

“چلے پھر بعد میں ہوتی ہے ملاقات—عصر کا وقت بھی ہو گیا ہے— داجی گھر نماز نہیں پڑھتے اگر وقت گزر گیا تو میری شامت آجانی”—گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے بھی قدم اندر کی جانب بڑھائے

میں بھی مسجد کے لیے ہی نکل رہا ہوں—پانچ منٹ انتظار کرنا میں آتا ہوں—ارمغان خان کو ڈرائنگ روم کے دروازے کے باہر چھوڑتے کہا تو ارمغان سر ہلا کر اندر داخل ہو گیا—

جبکہ بہرام موبائل پر کسی کو کال ملاتا اپنے کمرے میں چلا گیا

—————

جی کہے ماں جی کیا کہنا تھا آپ نے—پلوشہ نے سر پر لیے دوپٹے کو ٹھیک کرتے نرم لہجے میں پوچھا تو مقدس بیگم نے بغور اپنی بیٹی کے معصوم چہرے کو دیکھا

موٹی نیلی آنکھیں—چھوٹی سی ناک—بھرے بھرے گلابی گال—گلاب کی پنکھڑیوں جیسے چھوٹے سے نرم ہونٹ—خوبصورت پٹھانی نقوش والے چہرے کے گرد جھولتی چاکلیٹ براؤن بالوں کی آوارہ لٹے جو چاند سے چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھیں—

چہرے کی معصومیت اور آنکھوں کی چمک دیکھ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ وہ کسی اور دنیا کی شہزادی تو نہیں جو رستہ بھٹک کر یہاں آگئ

کبھی کبھی تو مقدس بیگم کو بھی شک گزرتا تھا کہ ان کی بیٹی اس قدر معصوم اور بیوقوف کیسے ہو سکتی ہے

انہیں نا ضرغام خان سے محبت تھی نا ہی پلوشہ خان سے—

انہیں صرف اس عیش و عشرت والی زندگی سے محبت تھی—اس دولت اور شان و شوکت کا حوس تھی

اولاد ہونے کے باوجود—خوبصورت بیوی ہونے کے باوجود ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی—

اور یہی بات ان کے دل میں اپنے بچوں کے لیے نفرت پیدا کر گئی

جس کا اظہار کبھی انہوں نے لفظوں سے تو نہیں کیا

مگر ہر وہ چال چلی جس سے وہ اپنے شوہر کی بیوفائی کا بدلہ اس کی اولاد سے لے سکے

اور آخر میں یہ ساری دولت ان کے ہاتھ میں اجائے

“یہاں بیٹھو اور میری بار غور سے سنو”—پلوشہ کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر اپنے قریب بٹھاتے ہوئے کہا تو پلوشہ نے نا سمجھی کی کیفیت میں مقدس بیگم کو دیکھا

“تم جانتی تو ہو کہ تمہارے دادا آج تمہارے بھائیوں کی شادی کی تاریخ لینے گئے ہیں—”—مقدس بیگم کے تمہید باندھنے پر پلوشہ نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں میں نا سمجھی لیے انہیں دیکھا

“میں اس رشتے کے خلاف نہیں تھی—اور تم بھی تو جانتی ہو کہ یہ خان دشمنی میں کس حد تک جا سکتے ہیں—یہ شادی دشمنیاں ختم کرنے کے لیے نہیں—بلکہ حدائق شاہ کی بہنوں سے بدلہ لینے کے لیے ہے—انہیں یہاں لا کر ان پر ظلم کرنے کے لیے—شاہو کی عزتوں کو روندنے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں—ورنہ تم بتاؤ جتنا تمہارا لالا نفرت کرتا تھا عقیدت سے وہ کیوں اتنی آسانی سے مان گیا—میرے انکار کہ وجہ بھی یہی تھی—

میں نہیں چاہتی تھی کہ ان معصوم بچیوں کے ساتھ کوئی ظلم ہو مگر یہاں مجھے سمجھتا ہی کون ہے”—مگر مچھ کے آنسو بہاتے پلوشہ خان کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں تمسخر سے دیکھتے کہا تو پلوشہ خان کا سر بے ساختہ نفی میں ہلا

“نن—نہیں ماں جی آپ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی—لالا خود نے رضامندی دی– مم—میرے سامنے بھی ہاں کہا—وہ خوش ہے”—پلوشہ کو سمجھ ث آرہا تھا کہ وہ کیسے اپنی بات کہے—

اس نے اپنے بھائی کی آنکھوں میں محبت و خوشی کے ملے جلے تاثرات کو دیکھا تھا

ہاں وہ عقیدت سے نفرت کا اظہار کرتا تھا—مگر نا اس کے لفظوں میں حقارت ہوتی تھی نا آنکھوں میں—اور نا ہی وہ کسی اور کے منہ سے عقیدت کے خلاف ایک لفظ سنتا تھا

وہ تو عقیدت کا نام کسی اور کے منہ سے سن کر مرنے مارنے پر آجاتا تھا وہ ایسا کیسے کر سکتا تھا—

“تم بہت بھولی ہو یہ سب چال ہے—ورنہ تم بھی تو حدائق شاہ کی منگ ہو—تمہاری شادی کی بات کیوں نہیں کی—ان سب نے جال بنا ہے—عقیدتاعر حوریہ کو بیاہ کر لانے کے بعد حدائق شاہ کو مروانے کا—اگر اس نے تمہارا نام بھی لیا تو تمہارے بھائی اسے چیر کر رکھ دے گے—اسی لیے تو حدائق کے آنے سے پہلے شادی کر رہے ہیں— نا اس سے رابطہ ہو رہا ہے—اور ان لوگوں کو بہانا مل گیا—اس کی لاعلمی میں بہنوں کی شادی اور تمہارا نام لینے پر حدائق شاہ کا قتل”—مقدس بیگم کے ایک ایک لفظ پر پلوشہ کو اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی

آنسو لڑیوں کی مانند رخسار پر بہہ رہے تھے—نیلی آنکھوں میں سرخی مائل ہونے لگی—

ہونٹ بری سے کچھ کہنے کی چاہ میں پھرپھرانے لگے

“نن—نہیں ماں پل—پلیز روک لیں—لالا کو کہے نن—نا مارے مم—میرے حدائق کو—وہ تو مم—مجھے بھول بھی گئے ہوگے—مم—میں تو یاد بھی نن—نہیں ہوگی—وہ نن—نہیں لے گے میرا نام—بس لالا کو روک دیں”—بیڈ سے نیچے اتر کر مقدس بیگم کے قدموں میں بیٹھتے ہچکیوں سے روتے ہوئے التجائیہ لہجے میں کہا تھا مقدس بیگم کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی

“ہاں میری بچی میں جانتی ہوں—ماں ہو کر کیسے بیٹی کے دل کے حال سے ناواقف ہو سکتی ہوں—مگر یہ سب بہت ظالم ہیں—حدائق شاہ باہر رہنا والا مرد ہے—اور باہر والے مرد جتنے عیاش باہر ہوتے ہیں اتنے ہی غیرت مند اپنے گھر کی چار دیواری میں بنتے ہیں—اپنی منگ یا اپنے نام سے جڑی عورت کو مار تو سکتے مگر چھوڑ نہیں سکتے وہ تمہارا مطالبہ ضرور کرے گا—۔

اگر تم سچ میں حدائق شاہ کو چاہتی ہو—اس کی زندگی بچانا چاہتی ہو—تو تمہیں وہ کرنا ہوگا جو میں کہوں گی – اپنی زبان پر قائم رہنا ہوگا – پھر نا حدائق شاہ تمہیں مانگ سکے گا—اور نا تمہارے لالا لوگ اسے کچھ کہہ سکے گے—بولو مانو گی نا میری بات اپنے حدائق شاہ کو بچانے کے لیے”—لہجے میں ہمدردی سموئے پلوشہ خان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تو وہ بچاری پھرپھرا بھی نا سکی

سسکیوں سے روتے سر اثبات میں ہلایا تو مقدس بیگم کے ہونٹوں پر زہر خند مسکراہٹ رینگ گئی

پلوشہ خان کو اپنے گلے سے لگائے اس کے کانوں میں اپنے الفاظ کا صور پھونکنا شروع کیا تو پلوشہ کا دل کیا

کہ اس سے پہلے اس کی سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جائے

“جس شخص کو نا دیکھا تھا نا جانا تھا—بس بے پناہ بغیر کسی غرض کے چاہا تھا—جس کے ساتھ کے خواب دن رات دیکھے—

ہاں یہ سچ تھا کہ پلوشہ خان کی معصوم محبت اس کے خوابوں کی دنیا میں ہی دم توڑنے والی تھی—

اسے حدائق شاہ کا ساتھ حقیقت کا روپ نہیں دینے والا تھا—

پلوشہ خان کی معصوم محبت خوابوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتی حقیقت کا رستہ تلاش کرتی وہی تھک ہار کر دم توڑنے والی تھی”

————-

نائٹ کلب میں تیز میوزک کی آواز گونج رہی تھی—

رنگ برنگی لائٹس—اور ماحول میں پھیلی دلفریب خوشبو فضا کو فسوں خیز بنا رہی تھی

وہاں موجود جوان لڑکے اور لڑکیاں نشے میں چور بہکے قدموں سے درمیان میں بنے سٹیج پر ڈانس کرنے میں مصروف تھے

وہاں موجود امیر ماں باپ کے پیسوں پر پلنے والے نوجوان اپنے ماں باپ کی دولت اور عزت لٹانے میں مصروف تھے اور کچھ امیر زادے بزنس اور شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والے اپنی عیاشی میں مصروف تھے

کاوئنٹر کے دائیں جانب اوپر جاتی سیڑھیوں کے قریب دائیں جانب کونے میں موجود صوفے پر ایک شخص سپاٹ چہرہ لیے ان جگمگاتی روشنیوں میں نظر آتے چہروں کو دیکھ رہا تھا

“ہم یہاں انجوائے کرنے آئیں تھے شاہ—اور تم ہمیشہ کی طرح یوں اکیلے بیٹھے ہو—ڈیٹس نوٹ فئیر یار—تم ہر بار آ تو جاتے ہو—مگر ہم سب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی رہتے تنہا ہی ہو”—شہباز لاشاری نے سر جھٹکتے شراب کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہوئے کہا تو صوفے کی پشت پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکائے—مسٹرڈ کلر کی شرٹ پر براؤن پینٹ اور براؤن ہی لانگ کوٹ پہنے—اپنی گہری رات سی پرسرار سیاہ آنکھوں میں وحشت لیے سامنے موجود شخص کو ناگوار نظروں سے دیکھا

“تمہیں پتہ ہے انسان سب سے زیادہ آزاد کہاں ہوتا ہے—بالاج شاہ کے سرد و سپاٹ لہجے پر شہباز لاشاری نے پر سوچ لہجے میں اسے دیکھا

“اپنے ملک میں—یا اپنے گھر میں”—کندھے آچکا کر جواب دیا تو بالاج شاہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی

“نہیں—انسان سب سے زیادہ آزاد اپنی تنہائی میں ہوتا ہے—تنہائی سے زیادہ آزادی انسان کو کہی نہیں مل سکتی—تنہائی اپ کو اپنے اصل سے ملوا دیتی ہے—کوئی نیک اعمال والا بندہ ہو تو اسے رب سے ملوا دیتی ہے—ہم تو ٹھہرے گنہگار آج تک صرف خود سے ہی مل سکے ہیں—

تنہائی آپ پر آگاہی کے در کھول دیتی ہے—آپ وہ بھی جاننے لگتے ہیں جو کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا—

تنہائی کو آپ اپنی پسند میں ڈھال سکتے ہیں—تنہائی آپ کے اندر موجود سب ڈر اور وسوسوں کو نکال پھینکتی ہیں—تنہائی میں کسی کے کھوجانے کا ڈر نہیں ہوتا—آپ ہوتے ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کی تنہائی جو آپ کی پابند ہوتی ہیں—آپ کی مرضی کے بغیر آپ کو چھوڑ نہیں سکتی”—ٹھٹھرے لہجے میں کہتے لائٹر کا شعلہ جلا کر ہونٹوں میں سگار رکھ کر سلگایا تو شہباز لاشاری کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

“تم باتیں بہت گہری کرتے ہو—اور اسی گہرائی سے دلوں میں اتر جاتے—اسی لیے یہ دل کمینہ کتوں والی کرواکر بھی تمہارے ساتھ رہنے ہر مجبور کرتا ہے”—بالاج شاہ کے پیچھے تیز تیز قدم لیتے پارکنگ میں داخل ہوتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ نے تاسف سے اپنا سر ہلایا

“ایکسکیوزمی—از اٹ بہرام شاہ— او مائے گڈنس—میں کب سے آپ سے ملنا چاہتی تھی”—شراب سے دھت لڑکھڑاتے قدموں سے اپنی جانب آتی لڑکی کو دیکھ بالاج شاہ نے ناگواری سے نظروں کا رخ پھیرا

وہ دونوں بھائی جڑواں نا ہونے کے باوجود بھی اس قدر مشابہت رکھتے تھے کہ کوئی اگر پہلی بار دیکھتا تو انہیں جڑواں ہی سمجھتا—

اسی لیے کبھی جو بالاج شاہ کی میٹینگ ہوتی تو بہرام شاہ اس کی جگہ چلا جاتا تو پہلی دوسری بار ملنے والے اسے پہچان نا پاتے

“تم اسے یہاں سے ہٹانے والے ہو یا میں اٹھا کر کسی گاڑی کے نیچے پھینکا”—لڑکی کی نازیبا ڈریسنگ دیکھ بالاج شاہ کا میٹر پل میں گھوما تھا

پھنکارتے ہوئے اپنے پیچھے کھڑے شہباز لاشاری کو کہا تو وہ بچارا ہڑبڑا کر آگے بڑھا

مگر اس سے پہلے ہی وہ لڑکی ڈگمگاتے ہوئے بالاج شاہ کے قریب آتے اس کا کوٹ مٹھی میں دبوچ چکی تھی

“کتنا ڈھونڈا میں نے—مگر کہی نہیں ملے—ایک جھلک دیکھی اور تب”—ابھی وہ لڑکی بات مکمل کرتی کہ بالاج شاہ نے اس کی گردن دبوچ کر اسے خود سے فاصلے پر کیا

“بہرام شاہ نہیں—بے رحم شاہ ہوں میں—اب اگر میرے قریب آنے کی غلطی کی تو ٹکڑے ٹکڑے کر کہ کتوں کے آگے ڈال دوں گا—حد میں رہو— اگر میرا میٹر گھوم گیا نا—تمہارے ملک کی سرحد پر قبر خود کر زندہ دفن کر دوں گا”—ایک ہی جھٹکے میں خود سے دور دھکیلتے غرا کر کہا

ایک خونخوار نظر شہاز لاشاری کے ڈرے چہرے پر ڈال کر ایک غلط نگاہ بھی اس لڑکی کی طرف دیکھے بغیر وہاں سے نکلتا چلا گیا

——————

استنبول کے مشہور علاقے میں اپنے لیکثری اپارٹمنٹ کے ٹیرس پر کھڑا—نظریں ستاروں سے بھرے آسمان پر ٹکائے بالاج شاہ اپنی سوچوں میں گم تھا

یخ بستہ چلتی ٹھنڈی ہواؤں میں وہ شرٹ لیس بے حس و حرکت کھڑا تھا

آنکھوں کی سرخی میں پل پل اصافہ ہو رہا تھا

“ضمیر بھی بڑی کتی چیز ہے—جب سویا رہے تو پرواہ تک نہیں کرتا کہ جس وجود کا وہ حصہ ہے وہ انسان سے حیوان اور پھر شیطان بنتا جا رہا ہے—اور جب جاگ جائے تو چھوٹی چھوٹی غطیوں پر بھی ناگ کی طرح ڈسنا شروع کر دیتا ہے—نا رات کو سونے دیتا ہے نا دن چین کو لیننے دیتا ہے–

انجانے میں ہوئی غلطیاں بھی گلے کا طوق بن جاتی ہیں—

آئینے میں عکس کی جگہ آپ کو آپ کے گناہوں اور غلطیوں کی جھلک دکھانا شروع کر دیتا ہے”—تلخی سے مسکراتے آسمان سے نظریں ہٹا کر سر جھٹکتے قدم پیچھے لیتے روم میں داخل ہو گیا

“بب—بالاج چائے آپ کی”— حوریہ شاہ نے ککپپاتے ہاتھوں سے چائے کا کپ سٹڈی ٹیبل پر بیٹھے بالاج شاہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

تو حوریہ کی آواز پر بالاج شاہ نے اپنے ہاتھ میں تھامے پین پر گرفت سخت کی—

گردن موڑ کر خونخوار نظروں سے سر جھکائے کھڑی پندرہ سالہ حوریہ شاہ کو دیکھا

جو کپکپاتے ہاتھوں میں چائے کا کپ پکڑے—نظریں جھکائے کھڑی تھی

سکائے بلیو فراک پہنے—گلے میں ہم رنگ دوپٹہ لیے—براؤن بالوں کو رف جوڑے میں لپیٹے جس کی آوارہ لٹیں چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھیں—کرسٹل گرے جھکی آنکھوں میں خوف لیے مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی

“میری ایک بات تمہیں سمجھ نہیں—کتنی بار بکواس کر چکا ہوں اپنی یہ شکل مجھے مت دکھایا کرو—اور کس کی اجازت سے تم میرے روم میں داخل ہوئی ہو—ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری یہاں قدم رکھنے کی”—ایک ہی جھٹکے میں اپنی نشست سے اٹھتے کرسی کو پیچھے کی جانب گراتے سرد لہجے میں کہا

تو بالاج شاہ کی دھاڑ پر حوریہ شاہ کی بے ساختہ چیخ گونجی ہاتھ میں تھاما چائے کا کپ زمین بوس ہوا تو بالاج شاہ کی ماتھے کی تیوریوں میں اضافہ ہوا

“مم—میں مطلب—دروازا کھ—کھلا ہوا تھا—تت—تائی سائیں نے چچ—چائے”—حوریہ ابھی ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی بات مکمل کرتی اس سے پہلے بالاج شاہ نے ٹوٹے ہوئے کپ کے ٹکروں پر پاؤں رکھتے دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتا—حوریہ کے بازؤں کو اپنی سخت گرفت میں لے کر جھٹکا دیا

“تمہیں اپنی زندگی پیاری نہیں ہے کیا حوریہ شاہ – مجھے تو ویسے بھی تمہارا وجود کھٹکھتا ہے—بہت ناگوار گزرتی ہے تمہاری موجودگی یہ نا ہو میں تمہاری اس بے معنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر دوں – خود پر ترس کھاؤ اور مجھ سے دور رہو—اور کس خوشی میں پہنا ہے تم نے یہ رنگ—جب تم جانتی ہو کہ یہ رنگ میرا پسندیدہ ہے—مگر تمہارے وجود پر اس رنگ کو دیکھ مجھے اس سے نفرت ہو رہی ہے— آج کے بعد اگر تم مجھے اس رنگ میں نظر آئی تو چمڑی ادھیڑ دوں گا— اب نکلو یہاں سے”— شیر سی دھاڑ لیے غرا کر کہا اور بنا حوریہ کو سمجھنے کا موقع دیے بازو سے گھسیٹ کر دروازے کے قریب لا کر جھٹکا دیا تو حوریہ بامشکل گرتے ہوئے بچی

نم شکوہ کناں نظروں سے اس ستمگر کو دیکھا جو سرخ چہرہ—اور پھولی سانسوں جو کہ غصہ ضبط کرنے کی گواہی دے رہی تھی—ساتھ حوریہ شاہ کو دیکھ رہا تھا—

“آئی ہیٹ ہو بالاج—ائی—ہی—ٹ یو”— لڑیوں کی مانند رخسار پر بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے چلا کر کہا تو بالاج شاہ نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی

“آہہہ—نہیں تم صرف میری ہو حور—صرف اور صرف بالاج—شاہ کی—پہلے تمہیں عائث خان کی منگ کی وجہ سے دھتکارا—اور پھر تمہیں مجرم سمجھ کر سزا دینی چاہی—غلطی ہوگئی یار—مگر اب میں نہیں رہ سکتا تم سے دوری—تمہیں بالاج—شاہکی ہونا ہی پڑے گا—اس کے لیے بے شک مجھے عائث خان کو مارنا ہی کیوں نا پڑے—تم بالاج شاہ کی الفت ہو—میری اس بے رنگ زندگی میں اپنے وجود سے دھنک رنگ بھرنے والی—بالاج شاہ کی بے پناہ چاہتوں کی اکلوتی وارث—

بہت جلد میں لوٹ آؤ گا اور تمہیں اپنا بنا لوں گا”— شیشے کی میز کو ٹھوکر مار کر نیچے گراتے چلا کر کہتے اپنے بالوں کو مٹھی میں دبوچ کر بیڈ پر کمر کے بل گرتے خود سے عہد کرتے گھمبیر لہجے میں سرگوشی کی تو آنکھوں کے سامنے حوریہ شاہ کا خوبصورت چہرہ لہرا گیا

جسے مسکرا کر دیکھتے نجانے کب نیند کی دیوی بالاج—شاہ پر حاوی ہوئی اور اسے اپنی آغوش میں لے گئی

Episode 6

اسلام و علیکم ناظرین—جیسے کہ آپ لوگ دیکھ رہے ہیں سچ کی آواز—

میں نے آج تک بہت سے کرائم شو کیے—بہت سے سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں کا انٹرویو کیا—بہت سی اہم خبریں آپ لوگوں تک پہنچائی—

جہاں دنیا کی اتنی تلخ حقیقت آپ تک پہنچائی تو آج میں چاہتی تھی کہ آپ کو ہمارے ملک کے ان چپھے ہوئے ہیروز سے ملواؤں جو پردے کے پیچھے ان سب تکلیفوں کا ہمت سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں—

ٹاپک میرا وہی ہے جرم—حادثات—قتل مقتول مگر اس بار آپ کے سامنے کسی مجرم کو نہیں بلکہ ان مجرموں اور قاتلوں سے ہوئے معصوم لوگوں کے قتل—ان معصوم لوگوں کے بے جان وجود یا زخمی وجود جب ہاسپٹل پہنچتے ہیں تو ہمارے ہیروز کس طرح انہیں ہینڈل کرتے ہیں—

آج میں کسی پولیس کو لے کر ریڈ نہیں مار رہی—لیکن قانون کا اس سے کس حد تک تعلق ہے یہ آپ کو ضرور بتاؤں گی—

آج جناح ہاسپٹل،کراچی سے ڈاکٹر ثمیہ ہمارے ساتھ ہیں”—ہونٹوں کے قریب لگے چھوٹے سے مائک کو دو انگلیوں سے سیٹ کیے سنجیدہ لہجے میں کہتے آخر میں مسکرا کر ٹیبل پر پڑا مائیک اٹھا کر ڈاکٹر ثمیہ کی جانب کیا

یہ منظر کراچی کے گورنمنٹ ہاسپٹل جناح کا تھا—

جہاں ڈاکٹر ثمیہ کے آفس میں کیمراز کو سیٹ کیا گیا تھا—

دروازے کے دائیں جانب ٹیبل پڑا ہوا تھا—ٹیبل کے دائیں جانب ایک رولنگ چئیر جس پر ڈاکٹر ثمیہ جبکہ ڈاکٹر ثمیہ کے عین سامنے عقیدت شاہ گرے شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ شرٹ پہنے بالوں کی ٹیل پونی کیے چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے بیٹھی تھی

جبکہ ٹیبل کے بائیں جانب شو کو ریکارڈ کرتے کیمرہ مین کا سارا سیٹ اپ تھا—

کیمرہ مین کے اشارہ کرنے پر سپورٹ میں نے لائٹس کو ٹیبل کے درمیان عقیدت اور ڈاکٹر ثمیہ پر سیٹ کیا

“آپ نے کب یہ سروس جوائن کی اور کتنا عرصہ ہوگیا ہے آپ کو اس شعبہ میں کام کرتے”—عقیدت کے سوال پر ڈاکٹر ثمیہ نے گہری سانس بھری

جسے دیکھ ایسا محسوس ہوا کہ اس بات پر اس شعبے سے جڑی بہت سی دردناک یادیں تازہ ہوئی ہو

“میں ایک پولیس سرجن ہوں—میں نے 1996 میں ایم بی بی ایس کیا—1999 میں کمیشن کے بعد گورنمنٹ سروس جوائن کی”—

آپ کو اس فیلڈ میں بہت سی چیزوں کا سامنہ کرنا پڑتا ہے—اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے واقعات دل دہلا دینے والے بھی ہوتے ہیں—کبھی ایسا ہوا کہ اتنا عرصہ ہونے کے باوجود ابھی تک آپ کسی چیز سے گھبراتی ہو”—ڈاکٹر ثمیہ کے جواب دینے پر عقیدت نے اگلا سوال داغا تو ان کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ رینگ گئی

“ایک چیز جس سے میں ابھی تک گھبراتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ—بچوں کی ڈیڈ باڈیز سے اور پریگننٹ عورت کی ڈیڈ باڈیز سے”—

“اس گھبرانے کے پیچھے کوئی تلخ یاد—کوئی ایسا واقع جس کی وجہ سے یہ ڈر ابھی تک بیٹھا ہوا ہے—کیونکہ موت چاہے انسان کو نچرل طریقے سے آئے یا قتل سے انسان ڈرتا ہے—کسی کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا ہوا دیکھنا آسان نہیں ہوتا—

اور پھر یہ دن رات ہو تے دیکھنا کس قدر اذیت ناک اور کٹھن وقت ہوتا ہے —اور پھر اس لاش کو چیر پھاڑ کر پوسٹ مارٹم کرنا—رپورٹ تیار کرنا”—عقیدت کے اگلے پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر ثمیہ ہاتھ میں تھامے بال پوائنٹ کو ٹیبل پر رکھا

“میں نے مارچ 1999 کو جوائن کیا تھا—میرا پہلا سال تھا وہ—میرے پاس ایک پریگننٹ عورت کی ڈیڈ باڈی آئی تھی—اس کے پیٹ میں چاقوؤں سے وار کیا گیا تھا—اینڈ شی واز نائن منتھ پریگننٹ—اور وار اس قدر گہرے تھے کہ اس کا پیٹ پھٹ چکا تھا—اور بچے کی ٹانگ باہر نکلی ہوئی تھی—وہ دیکھ تو بس—مطلب جس ٹیبل پر اسے لٹایا گیا تھا اسے میں نے چکراتے سر کے ساتھ تھاما تھا—اینڈ شی واز ٹو ینگ فرسٹ ٹائم پریگننسی تھی اس کی اور گھر والوں نے—میرے پاس الفاظ نہیں کہ اس دن کی اذیت اور تکلیف کو بیان کر سکوں—آئی جسٹ کانٹ”—ڈاکٹر ثمیہ نے جھرجھری لیتے کربناک لہجے میں کہا تو ان کی بات پر عقیدت کا دل بھی ڈوب سا گیا—اس مزلوم ماں کی اذیت اپنی روح تک محسوس ہوئی

“آپ کو پہلی پوسٹنگ کب ائی—اور اس کے بعد کا سفر”—اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کر کہ پھر سے وہی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے سوال کیا

“میری جو پہلی پوسٹنگ آئی وہ ایز آ وومن میڈیکل آفیسر کی—

“میڈیکل لیگل کیسسز کون سے کیس ہوتے ہیں—اور ان میں آپ کو کس طرح کے کیسسز سے ڈیل کرنا ہوتا ہے—

“میڈیکل لیگل کیسسز ایسے کیسسز ہوتے ہیں جن میں پولیس انولو ہوتی ہے—

اور اس میں ہم چودہ سے پندرہ قسم کے کیسسز کو ڈیل کر رہے ہوتے ہیں—

ان میں جو سب سے کم سڑک لڑائی جھگڑے کا ہوتا ہے—اور سب سے آخر میں شدت والا ڈیڈ باڈی ہوجائے گی—

بیچ میں ریپ اور سوڈمی بھی آتی ہے”—

“پوسٹ مارٹم کا جو مرحلہ ہوتا ہے وہ صرف ڈاکٹر کے لیے ہی نہیں میرے خیال سے اس ڈیڈ باڈی اس بے جان وجود کے لیے بھی اتنی ہی تکلیف کا باعث ہوتا ہے—کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف کیسسز میں مختلف طریقوں سے پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے—اس کے کتنے مرحلے ہوتے ہیں—اور آپ لوگوں کی کیا کوشش ہوتی ہے اس دوران کے ایک انسان کی لاش کو—ایک انسان کو کس حد تک مرنے کے بعد اس اذیت سے بچایا جائے—اس کے وجود کی بے حرمتی نا ہو”— سبز نگینوں سی خوبصورت موٹی موٹی آنکھوں میں سنجیدگی لیے اگلا سوال داغا تو ڈاکٹر ثمیہ نے پانی کا گلاس ہونٹوں کو لگا کر ایک ہی گھونٹ میں خالی کرتے ٹیبل پر رکھا

“پوسٹ مارٹم کے تین سے چار حصے ہیں—بیرونی معائنے میں کپڑے بھی آجاتے ہیں—حالت اور انجیرئیز وغیرہ آجاتی ہیں—

اور سچویشن کو دیکھ کر ہم ایکسرے بھی کرواسکتے ہیں—اس کے بعد ہم کرتے ہیں اندرونی معائنہ—

اندرونی معائنے کے لیے ہمیں کاٹنے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے—

کچھ سیمپل ایسے ہوتے ہیں جنہیں ڈائیریکٹ لیا جا سکتا ہے—جیسے منہ کا—ناک کا—جہاں جتنی ضرورت ہو اتنی باڈی کھولنی پڑتی ہے—

اور جہاں ضرورت نا ہو جیسے کہ روڈ ایکسیڈینٹ ہو گیا—

ہمیں پتہ ہے کہ ایکسیڈینٹ کہاں ہوا–

انہیں لانے والے کون ہیں—تب باڈی کھولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی –

مگر دوسری صورت میں لاش گھر سے برآمد ہو—یا کسی اور جگہ سے جہاں سے لاش کو پولیس یا لوگ لائیں ہو—تب ہمیں اس کی ضرورت پڑتی ہے—

“مطلب کس حد تک ضرورت پڑ سکتی ہے—باڈی کا کتنا حصہ کھولنا پڑتا ہے—

” اس سچویشن میں ہمیں زیادہ تر ریپ کیسسز ہو—یا جسم پر تشدد ہو—تو ہمیں اس کے لیے پوری باڈی کو بھی کھولنا پڑتا ہے—عقیدت کے سوال پر گہری سانس بھرتے جواب دیا تو عقیدت نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا

“باڈی ہینڈ اوور کرتے وقت کیا کوشش ہوتی ہے؟”—

“باڈی ہینڈ اوور کرتے وقت ہماری کوشش ہوتی ہے کہ باڈی کو کم سے کم ڈس دیگر کیا گیا ہو—

اگر تھوڑی کے نیچے سے پیٹ تک کٹ لگایا ہے تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اچھے سے سٹیچ ہو—

ابڈومن کے سمپل لینے سے پیٹ کو کٹ لگانے سے پیٹ اندر چلا جاتا ہے ساتھ—تب ہم کپڑا رول کر کہ رکھتے ہیں—اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم باڈی پارٹس نکال لیتے ہیں—بہت سے لوگ یہی سوچتے ہیں—کہ جسم میں روئی جا کپڑا رکھا ہے تو پارٹس نکال لیے—

اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب ہم باڈی ہینڈ اوور کریں تو گھر والے کو اسے دیکھ کر برا نا لگے—

“آپ کی سروسز کے عرصے میں کافی بلاسٹ بھی ہوئے تو اس دوران کیسے سچویشنز کو فیس کرنا پڑتا تھا—اپنے کان میں لگی بلیو ٹوتھ پر کہے گئے سوال کو دہرایا

“اس وقت میں باڈیز ادھڑی ہوئی حالت میں ملتی تھی—تب ہم باڈی کہ ایک ایک حصے کو پراپرلی سٹیچ کر کہ فیملیز کے حوالے کرتے تھے”—

“ڈومیسٹک وائلنس میں آپ کے پاس کس طرح کے کیسسز آتے ہیں—

“اس میں ہمارے پاس زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں—جن میں چھوٹی عمر کی بچیاں بھی شامل ہوتی ہیں—کافی ایجڈ بھی آتی ہیں”—

“لوگ جب ظلم کرنے پر آتے ہیں تو—حیوان کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں—انسانیت تو اس طرح کی حیوانیت ایک انسان میں دیکھ کہی منہ چھپا کہ چھپ جاتی ہے— تشدد کئی طرح سے ہوتا ہے—فزیکل بھی اور مینٹلی بھی—آپ کہ پاس جو عورتیں یا بچیاں آتی ہیں وہ کس طرح کے تشدد کا شکار ہوئی ہوتی ہیں”—

“تشدد میں سب سے چھوٹا نیل—دن کٹس اس کے بعد فریکچر—بال نوچنا تھپڑ گھونسے—ہم تو ڈومیسٹک وائلنس میں مری ہوئی عورتوں کو بھی دیکھتے ہیں—

آج سے تقریباً چار سال پرانی بات ہے کہ—میرے پاس ایک لیڈی آئی تھی—اس کا شوہر تشدد کرتا تھا—

فرسٹ ویک جب وہ میرے پاس آئی تو اس کے جسم پر نیلوں کے نشان تھے—

اس سے اگلے ہفتے وہ دوسری ڈاکٹر پر آئی ایک میجر اینجری کے ساتھ ملطب فریکچر اینڈ دن تھرڈ ویک میں نے اس کی ڈیڈ باڈی دیکھی—

کوئی ایسا کیس جسے آپ ابھی تک نا بھولی ہو—

“ایک کیس ایسا تھا جسے میں آج تک نہیں بھول سکی—کچرہ منڈی دیکھتی ہوں تو مجھے یاد آجاتا ہے—

اس بچی کی یادیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ مجھے حونٹ کرنے واپس آتی ہے—

ایک بچی تھی سترہ سے پندرہ سال کی—اس کا ریپ ہوا تھا—اس کے دونوں ہاتھوں کی نسوں کو کاٹا گیا تھا—گلا بھی بہت بری طرح سے کٹا ہوا تھا—ہم نے اس ایگزائم کیا تھا—

اور وہ بچی زندہ تھی—اس قدر بربریت کا نشانہ بننے کے باوجود بھی وہ زندہ تھی—اس بچی کو کچرہ کنڈی پر پھینکا گیا تھا—

جن لوگوں نے یہ ظلم کیا تھا ان کی نظر میں بچی مر چکی تھی—ہم نے بچی کو انتھیسزیا میں رکھا تھا—

ہمارے کیس میں ہم اے ٹو زیڈ تک کام کرنا ہوتا ہے—نا کہ کٹ لگا دیا اور بس— اور پھر جو ہم رپورٹ تیار کرتے ہیں—اپنے لکھے ہوئے کیس کو کورٹ میں پیش کرتے ہیں—

میڈیکل لیگل آفیسر—انویسٹیگیٹر آفیسر—پروسیکیوشن ہے اور بیچ میں جج ہوتا ہے

ہم اکیلے یہ سب نہیں کر سکتے—جب تک یہ تین چیزیں نہیں ملے گی—انصاف کی فراہمی نہیں ہوگی—

ان تینوں کا ہونا بہت ضروری—

بہت بہت شکریہ آپ کا ڈاکٹر صاحبہ کے آپ نے ہمیں یہ معلومات دی—تو ناظرین یہ تھے وہ ہمارے ہیروز جو پردے کے پیچھے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہوتے ہیں—

میری طرح بہت سے لوگ یہ کہتے تھے—کہ روڈ ایکسیڈینٹ یا کسی بھی حادثے کے بعد جب کوئی ڈیڈ باڈی ہاسپٹل سے آتی ہے تو ڈاکٹر انسان کے آرگنز نکال کر روئی یا کپڑا بھر دیتے ہیں—تو مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کو اس کے پیچھے کا مقصد پتہ چل گیا ہوگا—

اور جیسے کہ ڈاکٹر ثمیہ نے کہا کہ میڈیکل لیگل آفیسر—انویسٹیگیٹر یا جج ان تینوں کے بغیر انصاف ممکن نہیں اگر یہ لوگ ایمانداری سے کام کرے—تو 90 ٪ تک چاننسز ہیں کہ انصاف کی فراہمی ہو جائے—

کیونکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک بندہ ٹھیک رپورٹ بنا کر دیتا ہے تو دوسرا بندہ اپنی پاور کا استعمال کر کہ رشوت لے کر یا کسی بھی طرح سے اس میں ہیر پھیر کر کہ یا اسے غلط ثابت کر کہ مجرموں کو بچا لیتا ہے—

اس شو کا مقصد یہی تھا کہ آپ لوگوں تک معلومات پہنچے کہ ڈاکٹرز صرف بیمار لوگوں کا علاج نہیں کرتے وہ بھی سرحد پر کھڑے فوجیوں کی طرح ہاسپٹلز میں ایک جنگ ہی لڑ رہے ہوتے ہیں—

شعبہ کوئی بھی ہو ہر فرد اگر اپنا فرض ایمانداری سے نبھانا اپنے ضمیر کے ساتھ ایک جنگ ہی ہوتی ہے—اور اس جنگ میں بہت کم لوگ ہی کامیاب ہو پاتے ہیں—

ہنہہ—بڑی آئی سچ بولنے والی—آج تک باپ کو تو قاتل مان نا سکی—

—————

مقدس بیگم نے نیوز چینل پر چلتے عقیدت کے شو کو دیکھ کر نخوت سے بلند آواز میں کہا تو لاونج سے گزرتے ضرغام خان نے موبائل سے نظریں اٹھا کر سامنے سکرین پر عقیدت شاہ کے با اعتماد چہرے کو دیکھا—

“قاتل نا سہی اپنے باپ کو شہید تو مانتی ہے—جو کہ وہ ہے—وہ اس کا باپ ہے ماں—جن سے محبت کی جاتی ہے ان کی صرف اچھائیاں نظر آتی ہیں—ہم صرف ان اچھائیوں کو دیکھتے اور مانتے ہیں—

اسے بھی اپنے باپ سے محبت تھی اور ہے—اگر وہ نہیں مانتی تو آپ کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے—

اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں”—ضرغام خان کے سرد لہجے پر مقدس بیگم نے ریمورٹ پٹکنے کے انداز میں ٹیبل پر رکھا

اور ایک ہی جھٹکے میں اپنی جگہ سے اٹھی

“تم اس بدکردار آوارہ لڑکی کے لیے اپنی ماں سے بحث کرو گے—یہ تک بھول گئے کہ یہ تمہارے باپ کے قاتل کی بیٹی ہے—ہنہہ تمہیں بھی ضرغام خان باقی مردوں کی طرح اس لڑکی کا حسن متاثر کر گیا کہ تم اب اس کے لیے ہمارے سامنے زبان درازی کرو گے”—مقدس بیگم کے چلا کر کہنے پر ضرغام خان نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی—

نیلی آنکھیں پل میں سرخ انگارا ہوئی—مضبوط قدم لیتا مقدس بیگم کے سامنے آکر کھڑا ہوا

“وہ اپنے باپ کو کیا مانتی ہے—یا اس کے باپ نے کیا کیا ہے— میرے لیے معنی نہیں رکھتا—وہ میرے نکاح میں ہے—اور بہت جلد میری بیوی بن کر اس گھر میں آنے والی ہے—اس کی پہچان ضرغام خان سے ہوگی نا کہ اس کے باپ سے—

وہ میری بیوی میری عزت ہے—اگر آئندہ آپ نے اس کے لیے اس طرح کا لفظ استعمال کیا تو میں کسی کا بھی لحاظ نہیں کروں گا—

اس کے باپ کا معاملہ اس کے مرنے کے ساتھ ہی ختم ہوگیا تھا–

عقیدت شاہ کو کوئی سرخاب کے پر نہیں لگے یا حسن کی ندیاں نہیں بہہ رہی—جو اسے دیکھ میں سب کچھ بھول گیا–اس کی جانب میں جس وجہ متوجہ ہوا وہ ہمارا نکاح ہے ہمارا مضبوط اور پاک رشتہ–

یہی رشتہ مجھے اس کے علاؤہ کسی اور کو دیکھنے نہیں دیتا— میری نظروں میں دنیا کی حسین ترین عورت میری بیوی ہی ہے عقیدت شاہ نہیں—ضرغام خان کی بیوی—

آج میں پھر سے ماں ہونے کی وجہ سے آپ کے الفاظوں کو نظر انداز کر گیا ہوں—مگر آئندہ آپ کے لیے یہی بہتر ہوگا ماں جی کہ آپ احتیاط کریں”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے ایک نظر سکرین پر ڈال کر وہاں سے نکلتا چلا گیا

—————-

“کیسے ہوا یہ ایکسیڈینٹ آپ نے ہمیں بتایا کیوں نہیں”—ارمغان خان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک دفع وہ شخص ہاتھ اجائے جس نے اس کے بھائی کا یہ حال کیا ہے

تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں

ضرغام اور ارمغان کو کل ہی خبر ملی تھی کہ عائث خان پاکستان آگیا ہے اور اس کا واپسی پر ایکسیڈینٹ ہوا ہے—خبر کو سنتے ہی وہ دونوں آسلام آباد پہنچ گئے تھے—

اور اس وقت وہ دونوں عائث خان کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھا

کمرے کی دیواروں پر آف وائٹ پینٹ ہوا تھا—وائٹ ہی کنگ سائز بیڈ پر لائٹ ٹی پنک اور آف وائٹ کلر کی بیڈ شیٹ بچھی ہوئی تھی—

بیڈ کے سامنے ڈریسنگ ٹیبل—جبکہ بیڈ کے بائیں جانب صوفہ پر ضرغام خان بیٹھا سامنے ٹیبل پر لائٹر رکھ کر اپنی انگلی سے گھما رہا تھا—

صوفے کے پیچھے چند قدم کے فاصلے پر ٹیرس کا گلاس ڈور تھا—

“اتنی بڑی بات نہیں تھی—میں نے تو گارڈز کو منع بھی کیا تھا—مگر میری کوئی سنے تو تب نا”—عائث خان کے جھنجھلا کر کہنے پر ضرغام خان نے اپنی خون چھلکاتی نیلی آنکھوں سے گھور کر اسے دیکھا

جس کے ماتھے پر بینڈج کی گئی تھی—چہرے اور گردن کی خراشوں پر ٹیوب لگائی ہوئی تھی—بائیں بازو کو کہنی سے لے کر ہاتھ تک پٹی سے لپیٹا ہوا تھا—

“تمہارے لیے یہ معمولی بات ہے—اگر تمہیں کچھ ہو جاتا—تمہیں اندازہ بھی ہے کہ ہمیں کتنی تکلیف ہوتی—داجی کا کیا حال ہوتا”— ضرغام خان کے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہنے پر ارمغان خان نے گہری سانس بھر کر سر عائث خان کے کندھے پر ٹکا کر

“کچھ نہیں ہونا تھا مجھے—ایک معمولی سا ایکسیڈنٹ تھا—آپ اب اس وجہ سے کسی پر شک کرنے مت بیٹھ جائیں گا—آپ کے گارڈز پہلے ہی پتہ لگوا چکے ہیں کہ کس کی گاڑی تھی وہ—روڈ ایکسیڈنٹ ہوجاتے ہیں—اب چھوڑیں اس بات کو—آرام کر لیں رات سے آئیں ہوئے ہیں—چھوٹا خان بھی تھک گیا ہے بچارا – نا اسے کچھ کھانے دے رہے ہیں اور نا خود کچھ کھایا ہے ابھی تک—

اگر حویلی آکر یہی کام میں کرتا تو تب میرے لیے سردار صاحب کا لیکچر تیار ہونا تھا— عائث خان کے مسکرا کر کہنے پر ضرغام خان کی نظر عائث خان کے کندھے سے سر ٹکا کر آنکھیں موندیں ارمغان خان پر گئی

جسے دیکھ ضرغام اپنی جگہ سے اٹھتا ارمغان کی جانب بڑھا

تکیہ سیٹ کر کہ ارمغان خان کو کندھوں سے تھام کر دوسرے تکیے پر سر رکھ کر لٹایا—کمفرٹر کھول کر اچھی طرح سے ارمغان پر پھیلایا

“پندرہ دن رہ گئے ہیں شادی میں—اپنی ماں سے بات کر لی تم نے—مجھے نہیں لگتا کہ ابھی تک انہیں اس بارے میں کچھ پتہ چلا ہے—ورنہ وہ تو قیامت لے آتیں”— عائث خان کی کبرڈ سے عائث کے ہینگ ہوئے کپڑوں سے اپنے لیے ڈریس نکالتے ہوئے کہا تو عائث خان نے اپنی چاکلیٹ براؤن آنکھوں کو ضرغام خان کی پشت سے ہٹا کر سامنے ڈریسنگ مرر میں نظر آتے اپنے عکس پر ٹکا دیا

“نہیں میں نے نہیں بتایا—اور میں نے ہی اس بات کو یہاں تک آنے سے روکا ہوا ہے—اگر یہ بات ماں کو پتہ لگ گئی تو وہ کسی بھی حد تک جائیں گی اس شادی کو رکوانے کے لیے—شاید خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کر لیں—

پہلے ہی دو لوگ آلریڈی اس کے خلاف ہے—ایک اور کا مزید اضافہ ہو جائے گا—شادی ہو جائے پھر ایک ساتھ دیکھ لیں گے”— عائث خان نے مدھم قہقہہ لگا کر کہا تو ضرغام خان نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا

“یہ نا ہو شادی کے بعد بیوی کے سامنے عزت ہو جائے آپ کی —میڈیا عائث خان کے بنگلے کے باہر کھڑی اس کا انتظار کر رہی ہو کہ بیوی کے ساتھ گھر آرہا ہے—گھر پہنچے تو ماں لات مار کر باہر پھینک دیں—پھر کیا عزت رہے گی بیوی اور میڈیا کے سامنے”—سوئے ہوئے ارمغان خان نے نیند سے سرخی مائل ہوتی آنکھوں کو واہ کر کہ قہقہہ لگا کر کہا تو عائث خان نے دانت پیس کر اس بلا کو دیکھا

“تم سوئے نہیں تھے”—عائث خان نے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا

تو ضرغام خان نفی میں سر ہلاتا واشروم میں گھس گیا

“سویا ہوا تھا—مگر میں نے اپنگ ب فرشتوں سے کہا ہوا تھا کہ اگر آپ لوگ کوئی پرسنل بات کریں تو مجھے سگنل دے دیں”—ارمغان خان نے اپنے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا تو عائث خان کے دائیں ہاتھ کا مکہ بے ساختہ تھا

جس سے ارمغان خان کی نیند بھک سے اڑی

اپنے سرخ پڑتے ناک کو تھامیں شکوہ کناں نظروں سے عائث خان کو دیکھتا تن فن کرتا دروازے کی جانب بڑھا

اپنے پیچھے عائث خان کے بلند قہقہے کی آواز سن ارمغان خان کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ رینگ گئی

————

یہ منظر حدائق شاہ کے اسلام آباد میں بنے فارم ہاؤس کا تھا

جس کے بیک سائیڈ پر سرسبز میدان پر عقیدت شاہ اپنے گھوڑے پر گھڑ سواری کر رہی تھی

جبکہ بہرام – حوریہ اور سلویٰ شادی کی شاپنگ کے لیے گئے ہوئے تھے

اپنے سفید گھوڑے کی بانگ پکڑے تیز ہوائوں سے باتیں کرتی وہ آگے بڑھ رہی تھی—

اچانک اپنے پیچھے عجیب سے شور سے عقیدت نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا تو دھک سے رہ گئی

جبکہ عقیدت کے دیکھنے پر اپنی جیپ میں بیٹھے ضرغام خان نے آنکھ ونک کی جس پر عقیدت نے سٹپٹا کر چہرے کا رخ پھیر لیا

بانگ کو کھینچتے گھوڑے کی رفتار کو تیز کیا

ضرغام خان جانتا تھا کہ وہ اسلام آباد میں ہی ہوگی—کیونکہ دو دن پہلے ہی تو اس کا شو ہوا تھا—

بہرام شاہ کا نیوز چینل بھی تو اسلام آباد میں تھا—اور عقیدت جو بہرام شاہ کے چینل کے علاؤہ اور کہی بھی کام کرنے کی اجازت نا تھی—

عقیدت کے اس شوق کا اندازہ بہرام اور حدائق کو بہت پہلے ہو گیا تھا—جسےدیکھ بہرام شاہ بھی اسی فیلڈ کا حصہ بن گیا—

یہ اس کا شوق نہیں تھا مگر عقیدت کے لیے اس نے کیا—کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ویسے اسے کوئی بھی اجازت نہیں دے گا—اسی لیے اس نے اپنا چینل بنایا—دن رات کی انتھک محنت سے اب اس کا چینل ملک کے مشہور نیوز چینل کی لسٹ میں آتا ہے—

اور اس میں برابر کی حصہ دار عقیدت شاہ بھی تھی—جو کہ پہلے یو کے میں اس کے بعد پاکستان کی ٹاپ جرنلسٹ تھی—

نیوز ہوسٹ کرنے کے علاؤہ عقیدت نے اپنے کرائم شو سچ کی آواز کا آغاز کیا—

ضرغام خان عقیدت کی ہر ایک چیز سے واقف تھا–

وہ سطحی سوچ کا مالک نہیں تھا— جس طرح اس کی بیوی لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کا مقابلہ کرتی تھی—جس طرح ان ظالموں کو بے نقاب کرتی تھی—ضرغام خان کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا تھا—

مگر کچھ معاملوں میں وہ کمپرومائز نہیں کر سکتا تھا—اس فیلڈ میں غیر مردوں کا عقیدت کے اردگرد ہونا—ضرغام خان کو انگاروں پر گھسیٹ دیتا تھا—عقیدت شاہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کس طرح خود پر جبر کیے بیٹھا ہے—

اپنے سے آگے بڑھتی عقیدت شاہ کو دیکھ ضرغام خان کی سمندر سی گہری نیلی آنکھوں میں چمک اتری—ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ آئی

عقیدت کی پشت پر ایک گہری نگاہ ڈال کر اپنی جیپ کی سپیڈ تیز کی

اپنے دائیں جانب اپنے بالکل قریب ضرغام خان کی جیپ کو محسوس کرکہ عقیدت نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے

اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اسے چڑانے کے لیے یہ مقابلہ کیا جا رہا ہے

وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ یہاں کیوں آیا— مگر جانتی تھی تو اتنا کہ اب عقیدت کا خون خشک کیے بغیر وہی نہیں جائے گا

ایک دوسرے سے جیتنے کی کوشش میں پچھلے بیس منٹ سے وہ ایک خاموش جنگ لڑی رہے تھے—

عقیدت شاہ کو ضد سے ہٹتا نا دیکھ ضرغام خان نے نفی میں سر ہلاتے جیپ کو روکا تو ٹھنڈی چلتی تازہ ہوا میں عقیدت شاہ کا دلکش قہقہہ گونجا

جسے سن ضرغام خان کو اپنی دھڑکنیں منتشر ہوتی محسوس ہوئی

“اتنی جلدی ہار گئے خان”—جیپ کے باہر کھڑے ضرغام خان کے قریب اپنا گھوڑا روکتے طنزیہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

“رشتوں میں یا محبت کے آگے ہار جانے والے—ہار کر بھی جیت جاتے ہیں—میری ہار اگر میری ہونے والی بیوی کو جیت کی خوشی دیتی ہے تو میں ہزار بار ہارنے کو تیار ہوں”—نظریں عقیدت شاہ کے سرخ پڑتے چہرے پر ٹکائے گھمبیر لہجے میں کہا تو عقیدت کا دل بے ساختہ دھڑکا

ہوا کے دوش پر چہرے پر آتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے نظروں کا زاویہ بدلا

عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر دو قدم میں فاصلہ سمٹتے اپنے دونوں ہاتھوں عقیدت کی کمر کے گرد لپیٹ کر اسے گھوڑے سے اتار کر اپنے حصار میں لیا

اس اچانک افتاد پر عقیدت بھونچکا سی رہ گئی—پھٹی پھٹی آنکھوں سے ضرغام خان کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا جو ناک کی سیدھ میں چلتا فارم ہاؤس کی جانب بڑھ رہا تھا

“ضرغام نیچے اتارو مجھے—میں خود چل سکتی ہوں—عقیدت نے دانت کچکچا کر چلاتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے سخت نظروں سے عقیدت کو گھورا

“فلحال تو تم اپنی قینچی جیسی چلتی زبان کو بند رکھو—ورنہ جس طرح میں بند کروں گا تمہیں پسند نہیں آئے گا—خود جو ڈنکے کی چوٹ پر حق لینے کی باتیں کرتی ہو—اگر میں نے اپنا حق استعمال کیا تو پھر کہو گی کہ رشتے کی آڑ میں دشمنی نبھا رہا ہوں”— ضرغام خان کے چبھتے لہجے کو محسوس کر کہ عقیدت نے اپنے ہونٹ بھنچ کر ضرغام خان کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ

نظریں ضرغام خان کی شرٹ کے بٹنوں پر ٹکا دیں

—————-

“اب ہٹو بھی ہیچھے—اور جاؤ یہاں سے”—عقیدت کو صوفے پر بٹھا کر خود دائیں جانب بیٹھ کر اپنا بایاں بازو صوفے کی پشت پر پھیلا کر عقیدت کو اپنے حصار میں لیا

جسے دیکھ عقیدت نے جھنجھلا کر کہا تو ضرغام خان نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی

“بھائی کب آرہا ہے تمہارا—کوئی رابطہ ہوا کہ نہیں”— عقیدت کے بالوں میں اپنی انگلیاں الجھائے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت نے چونک کر ضرغام خان کو دیکھا

“کیوں پوچھ رہے ہو لالا کا—جہاں مرضی ہو وہ—تمہارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں—اور جب مرضی وہ آئے تم کون ہوتے ہو روکنے والے”—ضرغام خان کا سوال عقیدت کو بری طرح سہما گیا تھا

وہ جتنی مرضی بہادر بن جائے مگر اپنے بھائی کی بات ہونے پر ہمیشہ وہ حساس ہوجاتی تھی

حدائق شاہ تو عقیدت کے لیے جینے کی وجہ تھا—اپنے بھائی پر وہ جان چھڑکتی تھی

“فضول مت سوچو—ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا فلحال—بس ویسے ہی پوچھ رہا تھا”— عقیدت کی سوچ کو پڑھتے ضرغام خان نے ڈپٹنے کے انداز میں کہا

اسے مقدس بیگم کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے—جس قدر وہ پرسکون نظر آرہی تھی—ضرغام کو شک تھا کہ کوئی بہت بڑی سازش ہو رہی ہے—

ورنہ وہ کبھی اتنی پرسکون نا ہوتی—وہ تو کبھی مبین بیگم کو حویلی میں برادشت نہیں کرتی تھی—اسی لیے شیر خان کے مرنے کے بعد جب سے مبین بیگم عائث خان کو لے کر گئی تھی—تب سے ایک دو بار بامشکل حویلی آئی ہوگی

“کیوں راتوں رات دشمن سے محبوبہ بن گیا ہے میرا بھائی جو اس کی خیر خیریت پوچھ رہے ہو”—ضرغام خان کے کالر کو جھٹکا دیتے اپنے چہرے کے قریب ضرغام خان کے چہرے کو کرتے چبھتے لہجے میں غرا کر کہا تو ضرغام خان نے سخت نظروں سے عقیدت کو گھورا

“ہاہاہا محبوبہ تو نہیں محبوب بیوی کا بھائی ہے—میرا اکلوتا سالا—اس کی خیر خیریت کا پوچھنا میرا فرض ہے—گردن کی پشت پر دائیں ہاتھ کو پھیرتے کندھے آچکا کر جواب دیتے ٹانگ پر ٹانگ جماتے سر صوفے کی پشت پر گراکر سنجیدہ نظروں سے عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا

“میں تمہاری محبوب بیوی ہوں”— سبز نگینوں جیسی آنکھوں میں بے یقینی لیے ضرغام خان نیلی آنکھوں میں دیکھتے سرگوشی نما آواز میں پوچھا تو ضرغام خان کی مونچھوں تلے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

“صرف محبوب—من جانم—یارِ من ہو تم—اس دل—ان دھڑکنوں کی من یارم ہو تم”—عقیدت شاہ کے بھرے بھرے گلابی گالوں پر اپنی ناک ٹریس کرتے خمار آلود لہجے میں کہا تو عقیدت کو اپنے پورے وجود میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئیں

“یی—یہاں کیوں آئے ہو”—اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کر ہونٹ بھینچ کر پوچھتے فاصلہ قائم کیا

“تمہیں دیکھنے آیا ہوں — دشمن نہیں شوہر بن کر”— صوفے پر رکھے عقیدت کے ہاتھ کی پشت پر شہادت کی انگلی پھیرتے محبت بھرے لہجے میں کہا تو عقیدت نے آبرو اچکاتے طنزیہ نظروں سے صرغام خان کو دیکھا تو صرغام خان کے ہونٹوں پر جاندار مسکراہٹ نمودار ہوئی

ہاہاہا بس یہی– یہی دیکھنا تھا کہ شوہر کی نظر سے تم کیسی لگتی ہو — لیکن یقین مانو جتنی زہر دشمن کے روپ میں لگتی ہو — اتنی ہی بیوی کے روپ میں— بات کرتے کچھ توقف کے لیے خاموشی سے عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا پھر ٹیک ہٹاتے سر عقیدت کی جانب جھکاتے سرگوشی نما لہجے میں کہا — تو نہیں لگتی– تھوڑی اچھی– تھوڑی پیاری لگ رہی ہو — اپنی اپنی سی–

تیزی سے بات مکمل کرتے اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے — دوبارا بات شروع کی

“شادی کی شاپنگ مت کرنا—کیونکہ تمہیں میں اپنی پسند کے رنگوں میں رنگا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں—تمہارے شاہ حویلی جاتے ہی سارا سامان پہنچ جائے گا—برات پر تم وہی لہنگا پہنو گی جو میں بھیجو گا—ورنہ دوسری صورت میں کسی کا بھی لحاظ کیے بغیر کمرے میں لے جا کر خود چینج کرواؤں گا—مرضی تمہاری ہے—اور اپنے بھائی سے رابطہ کرو—کیونکہ شادی کے بعد پانچ چھ ماہ تک باہر گھومنے کا ارادہ ہے میرا—یہ نا ہو پیچھے سے آکر شادی کا اعلان کر دے—اور میری بہن میری موجودگی کے بغیر شادی نہیں کرے گی—اسے کہو شادی کرنی ہے تو ابھی پہنچ جائے—بعد میں مجھے قصور وار نا ٹھہرائے “— سنجیدہ لہجے میں کہا تو عقیدت نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا

دل تھا کہ مجبور کر رہا تھا کہ ایک لڑکی کو نو کہ بیوی ہے اسے دشمنی کی بھینٹ نا چڑھاؤ لیکن دماغ تھا کہ مسلسل دل کے خلاف بغاوت پر اترا ہوا تھا اور پھر

ماں کی قسم زنجیر کی طرح پاؤں سے لپٹی ہوئی تھی

گہری نگاہ عقیدت کے جھکے سر پر ڈالتے پلٹ کر لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا

جبکہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اگے ایک اور آزمائش ضرغام خان کی منتظر تھی

جو اسے پھر سے عقیدت شاہ کی نظروں میں گرا دے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *