Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 38)

Maan Yaram by Maha Gull Rana

بہرام شاہ نے کمرے میں قدم رکھے تو نظریں بیڈ پر گھونگھٹ اوڑھے سر جھکائے بیٹھی امتثال خان پر گئیں تھیں

نظریں امتثال خان کے مہندی سے سجے ہاتھوں پر سجائے—مضبوط قدم لیتا وہ بیڈ کے قریب جا کر کھڑا ہوا تھا—

جبکہ اپنی جانب آتے بہرام شاہ کو محسوس کرتے امتثال خان کا دل اتنی شدت سے دھڑکا تھا کہ امتثال خان کو اپنی منتشر ہوئی دھڑکنوں کا شور کانوں میں سنائی دیا تھا

امتثال خان کو ہنوز سر جھکائے ہتھیلیاں مسلتے دیکھ بہرام شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے نظریں سرخ پھولوں سے سجے کمرے میں دوڑائی تھیں—

وہ جو سوچے ہوئے تھا کہ امتثال خان کو جب اپنی بیوی کے روپ میں دیکھے گا تو وہ ساری دنیا کو فراموش کرتے اسے اپنی بانہوں میں چھپا لے گا—اگر وہ کوئی مزاحمت بھی کرے گی تو بہرام شاہ اسے کسی خاطر میں نہیں لائیں گا مگر اب جو وہ سامنے بیوی بنے—پورے استحاق سے اس کے کمرے میں موجود تھی تو بہرام شاہ بری طرح نروس ہو رہا تھا—

شیراونی اتارتے صوفے پر اچھالی تھی—کرتے کے بازوؤں کو کہنیوں تک فولڈ کرتے نظریں کبھی امتثال خان کے وجود کا طواف کرتی اور کبھی کمرے کے اطراف میں گھومتی

پھر سر جھٹکتے وہ امتثال خان کے قریب بیڈ پر جگہ بنا کر بیٹھا تھا—کیوںکہ بہرام شاہ کو اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ ساری رات بیڈ کے کنارے کھڑا رہتا تو اس کی دلہن بنی بیوی بھی ساری رات یونہی سر جھکائے ہتھیلیاں مسلتی رہتی—مگر شوہر کو بیٹھنے کا نا کہتی اور نا ہی شاید کھڑے رہنے کی وجہ پوچھتی—

“بہرام شاہ کی زندگی میں خوش آمدید مسسز بہرام شاہ”— امتثال خان کے کپکپاتے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامتے—نرم لہجے میں کہا تو بہرام شاہ کی گھمبیر آواز کے ساتھ کمرے کی خاموش فضا میں امتثال خان کی چوڑیوں کی دلکش مدھم شور بھی گونجا تھا—جس پر بہرام شاہ کے عنابی ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی

“آپ کو بھی”—مدھم—میٹھی سرگوشی نما آواز بہرام شاہ کو اپنی روح میں اترتی محسوس ہوئی تھی—

تبھی امتثال خان کا ہاتھ نرمی سے چھوڑتے—چہرے سے گھونگھٹ ہٹایا تھا—جس پر امتثال خان نے سختی سے اپنی آنکھیں میچی تھیں

سرخ جوڑے میں دودھیا رنگت چاند کی مانند چمک رہی تھی—دلہن بنی—زیورات سے سجی—گھنی خمدار پلکوں کو سرخ اناری رخساروں پر گرائے—باریک نتھ کے کے نیچے کپکپاتے سرخ لب— حسن کے تمام ہتھیاروں سے لیس وہ بہرام شاہ کے دل میں حشر برپا کر چکی تھی—

امتثال خان کے بجلیاں گراتے حسن کو دیکھتے بہرام شاہ کے دل نے بے ساختہ بیٹ مس کی تھی

سیاہ چمکتی آنکھوں کو امتثال خان کے چہرے پر ٹکائے—بے خودی کے عالم میں وہ امتثال خان کے چہرے پر جھکتا کہ چوڑیوں کی چھن سے پیدا ہوتے ارتعاش اور اپنے سینے پر مومی ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے بہرام شاہ ہوش میں آیا تھا—

نظریں خون چھلکاتے چہرے سے ہوتی اپنے سینے پر دھرے ہاتھوں پر آئی تو بہرام شاہ نے نرمی سے ان پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے تھے—

جبکہ امتثال خان کے ہاتھ بہرام شاہ کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے بری طرح کپکپائے تھے

“م-میری منہ دکھائی شاہ”— نظریں جھکائے گھبراہٹ اور شکوے کی ملی جلی کیفیت میں استفسار کیا تو بہرام شاہ جیسے مکمل ہوش میں آیا تھا—

“او ہاں—میں بھول گیا— تھوڑا سا نروس ہوں—آئی میں میری پہلی ویڈنگ نائٹ ہے نا شاید اسی لیے”—امتثال خان کے خفا چہرے پر نظریں ٹکائے—جواب دیا تھا

مگر وہ بات بناتے بری طرح بات بگاڑ چکا تھا—بہرام شاہ کے جواب پر امتثال کا موڈ پل میں بگڑا تھا

منہ دکھائی کی بات تو اس نے بہرام شاہ کی پیش قدمی کو دیکھتے گھبرا کر بنائی تھی—اور ویسے بھی وہ ایک رسم تھی—

مگر بہرام شاہ کے جواب نے اسے بری طرح تلملانے پر مجبور کر دیا تھا

تبھی وہ جو کچھ دیر پہلے شرم و حیا سے سمٹ کر بیٹھی تھی اب آتش فشاں بنے اپنی جگہ سے کھسکی تھی—

بیڈ پر پھیلے لہنگے پر بہرام شاہ کو بیٹھے دیکھ امتثال نے جھٹکے سے اپنا لہنگا کھینچا تھا کہ بہرام شاہ ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھا تھا—

اگر اس کا سارا دیہان امتثال خان کی جانب نا ہوتا تو اسے پورا یقین تھا کہ امتثال خان کے ایسے لہنگا کھینچنے پر وہ ضرور زمین بوس ہوتا

ابھی وہ امتثال خان کے پل میں بدلتے روپ کو سمجھ بھی نا پایا تھا کہ وہ دبے دبے غصے میں غرائی تھی

“پہلی ویڈنگ نائٹ ہیں—نہیں مطلب کیا شاہ صاحب—آپ مجھ سے پہلے بھی ویڈنگ نائٹ کا پلین رکھتے تھے یا میرے بعد آپ کے اور بھی ویڈنگ نائٹ کے پلینز ہیں جو آپ اس طرح نروس ہو رہے ہیں—اور رہی بات منہ دکھائی کی تو میری بالا سے کسی کو بھی دے دیں— میں سمجھو گی میں نے اپنا صدقہ دے دیا”— وہ کیا کہہ رہی تھی نہیں جانتی تھی—غصے میں جو منہ میں آیا وہ کہتی ایک نظر بہرام شاہ کے چہرے پر ڈالتی—دونوں ہاتھوں میں اپنا لہنگا سنبھالتی ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھی

جبکہ بہرام شاہ ناسمجھی سے امتثال خان کی پشت کو دیکھتے اس کے لفظوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا–

“اہمم—میرا وہ مطلب نہیں تھا مسسز”—وہ جو آئینے کے سامنے کھڑی اپنا زیور اتارتی ٹیبل پر پٹخ رہی تھی—اپنی پشت سے آتی بہرام شاہ کی گھمبیر آواز کو سنتے—نظریں اٹھا کر آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کے ساتھ بہرام شاہ کو دیکھا تھا—

جو اپنے دونوں ہاتھ پشت پر باندھے کھڑا تھا— لو دیتی نظریں امتثال خان کے سراپے پر مرکوز تھیں

جن کی تپش کو محسوس کرتے امتثال خان کے گال دھک اٹھے تھے—

“آپ میری منہ دکھائی بھول گئے”—بہرام شاہ کے بازو سے تھام کر اپنی جانب رخ کرنے پر نظریں جھکائے مدھم لہجے میں شکوہ کیا—سارا غصہ جھاگ کی مانند ختم ہو چکا تھا–

“آپ منہ دکھائی کی بات کر رہی ہیں—مسسز جب سے آپ ملی ہیں تب سے یہ بندہ نا چیز تو خود کو بھی بھولا بیٹھا ہے”— شوخ لہجے میں کہتے نرمی سے امتثال خان کے ماتھے کو چھوتے اسے گلے سے لگایا تھا—

ایک سکون کی لہر تھی جو امتثال خان کو اپنے رگ و پے میں سرایت کرتی محسوس ہوئی تھی

“شاہ کیا ہماری سچ میں شادی ہو چکی ہے—مجھے یقین نہیں آرہا ہے—ایسا لگ رہا ہے جیسے میں بہت خوبصورت خواب دیکھ رہی ہوں—لیکن اگر یہ خواب نہیں حقیقت ہے تو میرے لیے اس حقیقت سے خوبصورت اس دنیا میں کچھ بھی نہیں—اور اگر یہ خواب ہی ہے تو میں کبھی بھی آنکھیں نہیں کھولنا چاہو گی—میں تا عمر اسی خواب میں جینا چاہتی ہوں—جہاں آپ ہیں—ہماری محبت”— چہرہ بہرام شاہ کی گردن میں چھائے سرگوشیوں میں استفسار کرتی اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی—امتثال خان کی باتوں پر بہرام شاہ کے عنابی ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے—

“خواب ہو تو ٹوٹ جانے کا خدشہ ہوتا ہے—کیونکہ خواب جتنے بھی خوبصورت کیوں نا ہو آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں—یہ حقیقت ہے—بہت خوبصورت—اور حقیقت کبھی نہیں بدلا کرتی”—مسکرا کر جواب دیتے—امتثال خان کو کمر سے تھاما تھا – بائیں ہاتھ سے ٹیبل پر بکھرے زیورات کو سائیڈ پر کرتے امتثال خان کو بیٹھاتے—قدم کبرڈ کی جانب بڑھائے تھے—

کبرڈ سے مطلوبہ چیز نکالتے—وہ پلٹ کر امتثال خان کی جانب آیا تھا—

اور پھر امتثال خان کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ گھٹنوں کے بل زمین پر اس کے سامنے بیٹھا تھا—

اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی کہ بہرام شاہ نرمی سے امتثال خان کا دایاں پاؤں اپنے گھٹنے پر رکھتا—ہاتھ میں تھامی سونے کی بھاری پائل جس پر ننھے ننھے ہیرے گھونگھرو کی مانند لگے ہوئے تھے—

دونوں پاؤں میں پائل پہناتے—نرمی سے ہونٹ پائل کے قریب پاؤں پر رکھتے اٹھ کھڑا ہوا جبکہ امتثال خان ہیزل ہنی آنکھوں میں نمی لیے بہرام شاہ کے وجیہہ چہرے کو دیکھ رہی تھی—جس پر نرم سی مسکراہٹ احاطہ کیے ہوئے تھی—

وہ اسے اب تک کی تمام ہوئی ملاقاتوں سے یکسر بدلا ہوا لگ رہا تھا—وہ جنون جو امتثال خان کو بہرام شاہ کے لہجے میں محسوس ہوتا تھا وہ کہی بھی نہیں تھا

اب بہرام شاہ کے لہجے—لمس میں صرف و صرف نرمی و محبت تھی

“ایسے مت دیکھیں مسسز—بندہِ بشر ہوں بہک سکتا ہوں”—کمر میں ہاتھ لپیٹ کر جھٹکے سے اپنے روبرو کھڑے کرتے مسکرا کر کہا تو امتثال خان نے جھینپ کر سر جھکایا تھا

“آپ بدلے بدلے لگ رہے ہیں”— کچھ توقف کے بعد کہا تو بہرام شاہ نے گہری سانس بھرتے ماتھا امتثال خان کے ماتھے سے ٹکرایا تھا

“پہلے ڈر تھا—آپ کو کھو دینے کا ڈر—وہی ڈر مجھے آپ کے سامنے آنے پر شدت پسند اور جنونی بنا دیتا تھا—لیکن اب جب آپ میری ہو چکی ہیں تو ایک سکون ہے جو مجھے اپنی رگ رگ میں اترتا محسوس ہو رہا ہے—لیکن اب اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میرا جنون اور شدت ختم ہو گئی—لیکن اب ان کا سامنا آپ کو صرف میری قربت میں کرنا پڑے گا مسسز—جیسے کہ ابھی”— گھمبیر لہجے میں کہتے امتثال خان کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھاما تھا— نظریں امتثال خان کی آنکھوں میں گاڑیں شدت سے امتثال خان کے ہونٹوں پر جھکا تھا—جس پر امتثال خان نے تڑپ کر بہرام شاہ کا کرتا مٹھیوں میں بھنچا تھا

امتثال خان کی سانسوں کی مہک کو اپنی روح میں اتارتے بہرام شاہ پیچھے ہوا تھا—

بانہوں میں بھرتے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے تھے—نرمی سے بیڈ پر لٹا کر بہرام شاہ نے سب روشنیوں کو بھجایا تھا—

وہ جو آنکھیں بند کیے گہرے سانس لیتے اپنی اتھل پتھل ہوئی سانسوں کو ہموار کر رہی تھی—خود پر سایہ محسوس کرتے آنکھیں واہ کی تھیں

ہیزل ہنی آنکھیں—سیاہ چمکتی آنکھوں سے ٹکرائی تھی—

ہیزل ہنی آنکھوں میں شرم و جھجھک تھی جبکہ سیاہ چمکتی خمار آلود آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا

بہرام شاہ نے انگلیوں کے پوروں سے امتثال خان کے چہرے کے نقوش کو چھوتے اپنے ہونٹ گردن پر رکھے تھے

اپنے کندھوں پر امتثال خان کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کرتے بہرام شاہ نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پر جلتے واحد لیمپ کو بھی بھجا دیا تھا

امتثال خان کے نرم و نازک وجود کو بہرام شاہ نے شدت سے خود میں بھینچا تھا–

اپنے وجود پر رینگتے بہرام شاہ کے ہاتھوں کے لمس اور کانوں میں ہوتی بہرام شاہ کی محبت بھری سرگوشیاں سنتے امتثال خان کا دھڑکنیں بری طرح منشر ہوئی تھیں

خود کو بہرام شاہ کے سپرد کرتی— سر بہرام شاہ کے کندھے سے ٹکا کر سکون سے آنکھیں موندے تھیں

________

شادی کا ہنگامہ ختم ہو چکا تھا—سب مہمان واپس جا چکے تھے—

شاہ اور خان حویلی کے لوگ بھی اپنی روٹین پر واپس آ چکے تھے

جبکہ حوریہ کے لیے وقت تو ابھی تک وہی ٹھہرا ہوا تھا—جہاں عائث خان اسے چھوڑ کر گیا تھا

“وہ ہمیشہ ایسے ہی اسے چھوڑ جاتا تھا”

اور حوریہ کو لگتا تھا کہ وہ صرف اسے چھوڑ کر ہی نہیں جاتا—وہ جا کر اسے بھول بھی جاتا ہے—اس حد تک بھول جاتا ہے کہ حال احوال پوچھنا تو دور کی بات بتانا بھی گوارا نہیں کرتا

وہ بیڈ کے کنارے سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھی— دونوں بازوؤں کو گھٹنوں کے گرد لپیٹے چہرہ چھپائے ہوئی تھی—

کمرے میں پھیلتی سورج کی روشنی کو محسوس کرتے حوریہ شاہ نے اپنی سرخ متورم آنکھوں کو بامشکل واہ کیا تھا—

ساری رات روتے—بے چینی سے کمرے میں چکر کاٹتے وہ اسی جگہ بیٹھ کر سو چکی تھی جہاں عائث خان کے جانے پر وہ بلک بلک کر روتے ہوئے بیٹھی تھی

گھٹنوں سے ہاتھ ہٹائے تو جسم میں پیدا ہوتی حرکت کے ساتھ درد کی لہریں بھی جسم میں سرائیت کی جس پر حوریہ شاہ نے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے—

نظریں اپنے قدموں سے سرکتی بائیں جانب موجود دروازے کی جانب اٹھی تھی

تو اس رات کے سبھی مناظر حوریہ شاہ کی آنکھوں کے پردے کے سامنے لہرائے تھے—

عائث خان اسے بازو سے تھامے کمرے میں داخل ہوا تھا—جھٹکے سے حوریہ شاہ کو کمرے کے بیچوں بیچ دھکا دیتے—دھاڑ سے دروازا بند کیا تھا

جبکہ عائث خان کی خون چھلکاتی آنکھیں اور اپنی جانب بڑھتے قدم دیکھ حوریہ شاہ کا دل پتے کی مانند لرزا تھا

“تو وہ سب سچ تھا حوریہ—وہ سب سچ تھا—وہ جو مجھے ہمیشہ تمہاری آنکھوں میں نظر آیا وہ سب سچ تھا”— حوریہ کو بازوؤں سے دبوچے وہ حلق کے بل چلایا تھا

اور وہ عائث خان کی اپنی گرفت اور اس قدر شدید ردعمل پر تھر تھر کانپتی کچھ کہنے کے لیے لب واہ کرتی تو الفاظ گلے میں ہی دم توڑ جاتے

“اور میں کاٹھ کا الَو سب نظر انداز کرتا رہا—خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتا رہا کہ شاید وہ خوف میرے لیے ہو—وہ ڈر مجھے کھو دینے کا ہو—یا شاید اس دشمنی کی وجہ سے وسوسے ہو جو تمہیں چین نہیں لینے دیتے—لیکن نہیں میں غلط ثابت ہوا—عائث شیر خان غلط تھا – اس کی سوچ اس کی محبت سب غلط”— دبے دبے لہجے میں غرا کر کہتے وہ حوریہ کی روح لرزا گیا تھا

تبھی عائث خان کے آخری الفاظوں پر حوریہ نے تڑپ کر اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر جمایا تھا

“نن-نہیں عائث خدارا ایسے مت کہے—اا-یس-ا کک—کچھ نہیں – میں غلط نہیں ہوں ہماری محبت غلط نہیں ہے”—تڑپ کر کہتی وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی—

جبکہ وہ سامنے بے حسی بنا کھڑا رہا—ہونٹ بھنچے سخت نظروں سے حوریہ شاہ کے لرزتے وجود کو دیکھتے—جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا—

حوریہ شاہ نے تڑپ کر عائث خان کو دیکھا تھا جس کی چاکلیٹ براؤن آنکھیں خون چھلکا رہی تھیں

ماتھے اور بازوؤں کی رگیں تن کر واضح ہو رہی تھی—سیاہ گھنے بال بے ترتیبی سے ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے—پٹھانی نقوش والا سفید چہرہ اس حد تک سرخ ہو رہا تھا کہ حوریہ کو گماں ہوا کہ اس سے جیسے خون چھلک پڑے گا—

اور جو چیز اسے آج زندگی میں پہلی بار عائث خان کی موجودگی میں محسوس ہوئی تھی وہ تھا “خوف”—عائث خان کا یہ روپ دیکھتے دھڑکنیں رکتی محسوس ہوئی تھی—

“لیکن ہمارا رشتہ غلط ہے—جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہوئی ہو—وہ صحیح کیسے ہو سکتا ہے”— سپاٹ لہجے میں کہتے وہ جھٹکے سے مڑا تھا کہ عائث خان کو دروازے کی جانب بڑھتے دیکھ وہ تڑپ کر اس کے سامنے آئی تھی—

نفی میں سر ہلاتے— اسے روکنا چاہا تھا—

“ایک بار سن لیں عائث—بالاج”— آنسوؤں سے بھیگا چہرہ—اواز میں گھلی نمی اور تڑپ لیے ابھی وہ کچھ کہتی کہ بالاج شاہ کے نام پر عائث خان کا غصہ پھر سے عود آیا تھا

تبھی حوریہ شاہ کو کمر سے دبوچتے—دیوار سے لگایا تھا—

“نام بھی مت لینا اس گھٹیا شخص کا حوریہ شاہ—ورنہ تمہاری زبان گدی سے کھینچ لوں گا—اور جس دشمنی کو جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے ختم ہوئے—وہ قیامت تک کے لیے پھر سے شروع ہو جائے گی—اس گھٹیا شخص کے تو ٹکرے ٹکرے کر کہ کتوں کے آگے ڈالوں گا—مگر میری پیٹھ پر وار کرنے— مجھے دھوکے میں رکھنے کی وجہ سے تمہیں بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا”— زخمی شیر کی مانند دھاڑتے وہ حوریہ کو جھٹکے سے سائیڈ پر دھکا دے چکا تھا—

غصہ تھا کہ کسی صورت کم نہیں ہو پا رہا تھا—دل کر رہا تھا کہ ساری دنیا کو تہس نہس کر دے— دیوار پر اتنی شدت سے مکے مارے کہ ہاتھ لمحے میں لہولہان ہوا تھا—

عائث خان کو اس طرح دیکھ حوریہ شاہ نے ہونٹوں پر ہاتھ جمائے بامشکل اپنی چیخوں کا گلا گھونٹا تھا

کہ تبھی وہ جھٹکے سے پلٹ کر بیڈ کے کنارے بیٹھی حوریہ شاہ کے قریب آیا تھا—

اپنا پاؤں بیڈ پر رکھتے—دائیں کندھے سے حوریہ کو دبوچتے چہرہ اپنے چہرے کے قریب کیا تھا—جبکہ عائث خان کے اس روپ کو دیکھتے وہ اپنی سانسیں تک روک چکی تھی—

“میں بہت نامکمل سا انسان تھا حوریہ شاہ— زندگی کے بہت کم عرصے تک ماں اور باپ کی محبت دیکھنا نصیب ہوئی تھی—اور تب تو شاید اس محبت کی نا سمجھ تھی نا قدر—اور جب تک سمجھ آنا شروع ہوئی—پھر باپ چھن گیا—اور ماں—اور ماں رشتوں سے لڑتے لڑتے مجھ سے لاپروا ہوگئی—مکمل محبتیں مجھے کبھی نہیں ملی—بہت ترسا ہوں میں— تم دور تھی—لیکن میرے نام سے منسوب تھی—یہی چیز کافی تھی میرے لیے کہ کوئی ہے—ایک وجود ہے جو میرا ہے—صرف و صرف میرا——جس کی محبت صرف میرے لیے ہوگی– جس کے ہر احساس پر صرف عائث خان کا حق ہوگا—اسی لیے تمہاری نفرت اور غصے کو بھی اپنا حق سمجھ کر وصولا تھا—تمہارے لیے پھر بھی میں اپنے اصولوں کے خلاف گیا—تمہاری آنکھیں جو چیخ چیخ کر کہتی تھی تو میں نے خود کو سمجھا لیا تھا—کہ اگر”— کہتے کہتے وہ خاموش ہوا تھا—جبکہ حوریہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا تھا—

ایک نظر حوریہ شاہ کے چہرے پر ڈالتے مٹھیاں بھنچتے پیچھے ہوا تھا—

“میں اس دن—وہاں سڑک پر بالاج شاہ کو دیکھ کر بھی نظر انداز کر گیا—نا تم پر شک کیا نا اس پر—لیکن تم سے ہر بار کہا کہ جو بھی بتانا چاہتی ہو بتا دو— تم بتا دیتی تو میں سمجھا لیتا خود کو—لیکن جب یہ سب اس طرح سامنے آیا ہے تو میرے لیے بہت مشکل ہے خود کو سمجھانا—تمہیں چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ میری غیرت کو یہ بات ہرگز گوارا نہیں—لیکن اب میں مزید نامکمل محبتوں—ادھورا یک طرفہ نبھایا جانے والا ساتھ نہیں نبھا سکتا”— ایک ایک لفظ چبا کر کہتے حوریہ شاہ کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھا تھا—

“میرا دامن پاک ہے—میں نے کوئی گناہ نہیں کیا—نا ہی آپ کو دھوکا دیا ہے—وہ میرے ماضی کا ایک حصہ ہے—لیکن میرا ماضی نہیں—نا مجھ میں کوئی کھوٹ ہے نا میری محبت میں— لیکن پھر بھی آپ فیصلہ کرنے کا پورا اختیار رکھتے ہیں—آپ وہی کریں کو آپ کو مناسب لگے”— سپاٹ لہجے میں کہتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی

“میں نے اب بھی تمہارے کردار پر سوال نہیں اٹھایا—اس کردار کا اور پاکدامنی کا میں خود گواہ ہوں—لیکن تم وہ سمجھو گی ہی نہیں حوریہ شاہ جو میں کہنا چاہتا ہوں— کچھ گھنٹے پہلے یہ دل تمہارے لیے بے قرار تھا—تمہیں دیکھ کر شور کر رہا تھا—مگر اب دیکھو یہاں—اس سینے میں سکوت چھا گیا ہے—مجھے جو کچھ دیر پہلے تمہاری چاہ تھی اب نہیں ہے”— حوریہ شاہ کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے—ہونٹوں ہر زخمی مسکراہٹ سجائے کہا تو حوریہ شاہ نے سپاٹ نظروں سے عائث خان کے سینے پر دھرے اپنے ہاتھ کو دیکھا تھا—

اور پھر وہ ہاتھ ہٹاتا—قدم پیچھے کی جانب لیتا جھٹکے سے پلٹ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا

اپنے ہاتھ پر لگے عائث خان کے خون کو دیکھتی چند قدم آگے بڑھی تھی—

زمین پر گرے اپنے دوپٹے کو دیکھتے وہ وہی بیڈ کے کنارے سے ٹیک لگا کر بیٹھتی چلی گئی

سپاٹ چہرے آنسوؤں سے متواتر بھگیتا جا رہا تھا—کمرے کی خاموش فضا میں دبی دبی سسکیوں کی آواز گونجنے لگی تھی—

دروازے پر ہوتی دستک پر حوریہ شاہ ہوش میں آئی تھی—دستک تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھی—

جس پر وہ تیزی سے دروازے کی جانب بڑھی تھی—

“چھوٹی بیگم—وہ سردارنی بی بی کی طبعیت بہت زیادہ خراب ہے— آپ جلدی چلئے”— دروازے کھلتے ہی ملازمہ نے ایک ہی سانس میں بتایا تو عقیدت کی طبعیت کا سنتے حوریہ جلدی سے کمرے سے نکلتی عقیدت کے کمرے کی جانب بڑھی تھی—

________

وہ سب اس وقت عقیدت کے کمرے میں موجود تھیں—جو خبر انہیں ڈاکٹر نے بتائی تھی اس کے بعد کسی کے بھی پاؤں خوشی کے مارے زمین پر نہیں ٹک رہے تھے—

کشف بیگم تو نجانے کتنی بار عقیدت کا صدقہ دے چکی تھی— حوریہ اور سلوی تھوڑی سی دیر میں نجانے کتنی بار عقیدت کی نظر اتار چکی تھیں

“مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ میں خالا بننے والی ہوں”—عقیدت کو زور سے گلے لگاتے حوریہ شاہ نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا تو عقیدت کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

بیڈ کے درمیان میں عقیدت کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی تھی—جبکہ اس کے دائیں بائیں سلوی اور حوریہ—اور سامنے صوفہ پر کشف بیگم بیٹھی ہوئی تھیں—

“صرف خالا نہیں—چچی بھی—مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ بےبی مجھے خالا کہے گا یا چچی”— سلویٰ شاہ نے پرسوچ لہجے میں استفسار کیا تو کشف بیگم نے مسکرا کر اپنی بہوں کو دیکھا تھا—

جس کے اس گھر میں آجانے سے انہوں نے ارمغان خان کے چہرے پر جو خوشی و اطمینان دیکھا تھا شاید وہ زندگی بھر نہیں دیکھ سکی تھیں

جب وہ یہ بات سوچتی ہیں کہ اگر مقدس بیگم کی باتوں میں آکر وہ اپنے بیٹے کو اس رشتے سے انکار کرنے پر منا لیتی تو کیا اس کے بعد کبھی وہ اس قدر خوش ہو پاتا—یا کبھی اپنی ماں کو معاف کر پاتا—اور جب وہ جواب نا کی صورت میں ملتا تو وہ تڑپ جاتی

جب سے سلوی اس کی زندگی میں آئی تھی—نجانے وہ کتنی بار کشف بیگم سے کہہ چکا تھا کہ اگر وہ نا مانتی تو آج سلوی اس کی زندگی میں نا ہوتی—کتنی بار وہ شکریہ کہہ چکا تھا—

“اپنے شوہروں سے پوچھ لو — اگر وہ چچا بنے گے تو تم لوگوں کو بھی چچی ہی بننا پڑے گا”—کشف بیگم کے کہنے پر عقیدت نے بھی سر اثبات میں ہلایا تھا

عقیدت—ضرغام نے بتایا کہ وہ کب تک آئے گا”—

“نہیں ممانی—اس سلسلے میں میری کوئی بات نہیں ہوئی—رات میں ضرغام کا مسیج آیا تھا کہ وہ کام ختم کر کہ جلد اجائے گا—لیکن کتنی جلدی آئے گا یہ نہیں بتایا”— کشف بیگم کے پوچھنے پر بتایا تو انہوں نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تھا

ضرغام زمینوں کے کسی کام کے سلسلے سے گاؤں سے باہر گیا ہوا تھا—صرف وہی نہیں شاہ حویلی اور خان حویلی کے سارے مرد ہی کام کے سلسلے میں گاؤں سے باہر تھے—سوائے ارمغان خان اور بالاج شاہ کے

لالا کو بتایا آپ نے”—حوریہ کے پوچھنے پر عقیدت کے گالوں پر سرخی پھوٹی تھی

ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے سر نفی میں ہلایا تھا

جبکہ صوفے پر بیٹھی کشف بیگم بھی حوریہ کی بات سن چکی تھیں—

ہم چلتے ہیں بیٹا—تم تھوڑا آرام کرو—اور ضرغام کو بھی فون کر کہ یہ بات بتا دو—میں ذرا چھوٹے خان کو فون کر کہ بتاؤں کہ اب سے وہ چھوٹا خان نہیں رہا—کیونکہ اک ننھا سا چھوٹا خان آنے والا ہے—اور داجی کو بھی بتانا ہے—وہ صبح سے ڈیرے پر ہیں—اگر یہ خبر کسی اور سے پتہ چلی تو خفا ہوگے—کوئی اور بتائے اس سے پہلے میں خود ہی بتا دوں کہ داجی اب دادا سے پردادا بننے والے ہیں”—

“بتا دیں ممانی—لیکن ارمغان— ضرغام کے لیے اس کا چھوٹا خان ہے اور ہمیشہ رہے گا—اس کی جگہ ضرغام خان کا خان بھی نہیں لے سکے گا”—کشف بیگم کی بات پر نرم لہجے میں جواب دیا تو وہ عقیدت کی بات سنتے خوشی سے اس کا ماتھا چومتی سر اثبات میں ہلاتی

فون کرنے کی غرض سے کمرے سے باہر چلی گئی

عقیدت ضرغام سے بات کر لے اسی لیے سلوی اور حوریہ بھی اسے آرام کا کہتی کمرے سے باہر چلی گئی تھیں—

موبائل ہاتھ میں تھامے ابھی وہ ضرغام خان کو فون ملاتی اس سے پہلے ہی کمرے کا دروازا کھلا تھا

جس پر عقیدت نے کمرے میں داخل ہونے والے کو دیکھا تھا

“مم—میں نے خبر سنی کیا سچ تھی”—مقدس بیگم کے نرم لہجے پر عقیدت نے بغور انہیں دیکھا تھا—

سرخ متورم آنکھیں—ہاتھوں کو آپس میں مسلتی— وہ عقیدت کو کافی بے چین لگی تھیں

“آپ کو خوشی ہو نا ہو—لیکن یہ بات سچ ہے—جس بیٹے کو آپ ختم کرنا چاہتی ہے نا وہ ختم ہو گا نا اس کی ہونے والی اولاد”—مقدس بیگم کا تو پتہ نہیں لیکن عقیدت اس چھپن چھپائی کے کھیل سے تھک چکی تھی—اسی لیے دو ٹوک لہجے میں جواب دیتی وہ مقدس بیگم کو لمحے کے لیے ساکت کر چکی تھی—

اپنی بات پر مقدس بیگم کا رنگ بدلتا چہرہ دیکھ عقیدت نے سر جھٹکا تھا

“مبارک ہو—اللہ لمبی عمر دیں—تمہاری اولاد کو بھی اور سہاگ کو بھی”— مقدس بیگم کی بات پر عقیدت کو جھٹکا ہی لگا تھا—کیونکہ ان کے لہجہ طنزیہ نہیں تھا نرم تھا محبت بھرا

عقیدت نے نظریں اٹھائے بغور مقدس بیگم کے چہرے کو دیکھا تھا—اور وہ پچھتاوا دکھ تکلیف دیکھ عقیدت کو دوسرا بڑا جھٹکا لگا تھا

اگر وہ ڈرامہ کر رہی تھی تو عقیدت نے دل میں ہی ان کہ اداکاری کو سراہا تھا—اور اگر وہ سچ تھا—تو عقیدت سوچنے پر مجبور تھی کہ ایسا بھی کیا ہوا کہ مقدس بیگم کی کایا ہی پلٹ گئ—جس بیٹے کو خود مارنا چاہتی تھی اس کے لیے اور اس کی ہونے والی اولاد کے لیے وہ دعائیں دے رہی ہیں

عقیدت کی بات پر بھی انہوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا

ابھی عقیدت انہیں کوئی جواب دیتی اس سے پہلے ہی وہ تیزی سے کمرے سے نکلتی چلی گئی تھیں—

ضرغام خان نے جلد آنے کا کہا تھا—اس لیے وہ اسے فون پر بتانے کا ارادہ ترک کرتی— نے گہری سانس لیتے سر کراؤں سے ٹکاتے آنکھیں موندی چکی تھی—

_______

عقیدت کے ماں بننے کی خبر شاہ حویلی پہنچی تو امتثال اور پلوشہ عقیدت کے لیے گفٹس لینے کی غرض سے شہر چلی گئیں

انہوں نے صبغہ کو بھی ساتھ چلنے کا کہا لیکن اس نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ وہ دونوں اس کی طرف سے بھی عقیدت کے لیے گفٹ لے آئیں کیوںکہ شادی کی وجہ سے آفس کے بہت سے کام پینڈنگ پر تھے جو کہ جلد از جلد نمٹانا بہت ضروری ہے—

صبغہ کی وجہ سے انہوں نے بھی اپنا پلین کینسل کرنا چاہا مگر صبغہ کے سمجھانے پر کہ وہ پھر کبھی ان کے ساتھ چلی جائے گی اور ابھی تو گفٹ لانا بھی ضروری ہے کیونکہ کل وہ سب خان حویلی جانے والے تھے—تو مجبوراً وہ دونوں ثمرین بیگم کے ہمراہ شہر روانہ ہو گئیں

اپنے لیے چائے بنا کر صبغہ نے فریج سے چاکلیٹ کیک نکالا تھا—

ترے میں چائے کے ساتھ کیک رکھتے—قدم اپنے روم کی جانب بڑھائے تھے—

وہ آفس کا کام کر رہی تھی کہ کام کے دوران اسے چائے اور کیک کی کریونگ ہوئی تھی—ملازمہ سے کہنے کی بجائے وہ خود ہی چائے بنانے کی غرض سے کچن کی جانب آئی تھی–

کچن میں آنے سے پہلے وہ حلیمہ بیگم کے پاس چائے پوچھنے کا گئی —مگر وہ ظہر کی نماز پڑھ کر کچھ دیر آرام کرنے کی نیت سے لیٹ چکی تھی—صبغہ کے چائے پوچھنے پر انہوں نے مسکرا کر اسے بعد میں پینے کا کہہ کر انکار کر دیا تھا جس پر وہ سر اثبات میں ہلاتی کچن میں آگئی تھی—

کچن سے باہر نکلتے اس نے ٹرے میں موجود کیک اور چائے کو دیکھا تھا—

آنکھیں چھوٹی کیے اس نے ٹرے کو اور لوازمات سے بڑھنے کا سوچتے قدم لیے تھے

کباب اور نگٹس گرم کر کہ ٹرے میں رکھتے— آنکھوں میں چمک لیے ٹرے کو دیکھا تھا—

“ہیپی آلون ٹائم”— کمرے میں داخل ہوتے—سٹڈی ٹیبل پر ٹرے کو رکھتے پرجوش لہجے میں کہا تھا

ہاتھوں سے تالی بجاتے—ایڑھیوں کے بل وہ پلٹی تھی—آگے بڑھ کر کرٹینز گرائے تھے—کمرے کی لائیٹس اف کرتے—وائٹ اور پرپل کلر کہ فیری لائیٹس ان کی تھی—

سرخ رنگ کی موم بتی ٹیبل پر لیپ ٹاپ کے قریب رکھتے جلائی تھی—جس کے جلنے پر بھینی بھینی سے خوشبو ہوا میں بکھری تھی

آنکھیں موندے گہری سانس بھرتے صبغہ نے اس خوشبو کو محسوس کیا تھا—

پھر چئیر پر بیٹھتے—ٹیبل کے قریب چئیر کو کھسکا تھا—

چائے کے کپ کو ہونٹوں سے لگاتے آپنے سامنے پڑی فائنل پر تائیدی نگاہ ڈالی تھی—

پھر اسے بند کرتے لیپ ٹاپ ان کیا تھا—

چھوٹے سے سلور سپون سے کیک کا ٹکرا اٹھاتے منہ میں ڈالا تھا—پھر اسی چمچ کو انگلیوں میں دباتے—ٹائپنگ کرنا شروع کی تھی—

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی

محبت کی راہوں میں آکر تو دیکھو

تڑپنے پر میرے نا پھر تم ہنسو گے

کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو

وہ کمرے میں داخل ہوا تو لمحے کے لیے ٹھٹھکا تھا

کمرے میں گونجتی نصرت فتح علی خان کی اواز–

کمرے کا فسوں خیز منظر—اور سانسوں کو مہکا دینے والی بھینی بھینی خوشبو—نظریں اطراف کا جائزہ لیتی بائیں جانب سٹدی ٹیبل کی جانب اٹھی تھی—

وہ سامنے ہی بیٹھی تھی—دونوں پاؤں کرسی کے اوپر سمیٹے—شہد رنگ بالوں کا میسی سا جوڑا بنائے—لیمن کرتا کے ساتھ وائٹ کیپری پہنے— وہ کیک کھاتے بہت انہماک کے ساتھ اپنے کام میں اس قدر مصروف تھی کہ بالاج شاہ کی موجودگی کا بھی احساس نہیں ہو پایا تھا—

نظریں گردن اور چہرے کے گرد جھولتی آوارہ لٹو سے ہوتی—تیزی سے چلتی مخروطی انگلیوں پر آکر رکی تھی—

جنہیں دیکھتے بالاج شاہ کو اپنے گلے میں گلٹی سے ابھرتی محسوس ہوئی تھی—

جو کام صبغہ شاہ کی شور مچاتی محبت نہیں کر سکی تھی—وہ اس کی لاپرواہی اس کی خاموشی کر گئیں تھی

ایک لمحے کا کھیل تھا—اور بالاج شاہ دل ہار گیا تھا

بے خودی کے عالم میں وہ دروازہ پاؤں کی مدد سے بند کرتا صبغہ شاہ کی جانب بڑھا تھا-

ہونٹوں کے پاس آئے ہنسی کیا مجال ہے

دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی

“ڈِڈ یو مس میں سویٹی”— بایاں ہاتھ کرسی کی پشت پر جماتے—جبکہ دائیں ہاتھ کو صبغہ شاہ کے بازو سے گزارتے صبغہ شاہ کے چمچ والے ہاتھ کو اپنی جانب کرتے—چمچ پر لگے کیک کو کھاتے گھمبیر لہجے میں سرگوشی کی تھی—

جبکہ بالاج شاہ کے اتنی جلدی واپس آنے جانے—اور اس طرح کے لہجے پر صبغہ شاہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا

یہ دھڑکنوں کا تیز ہونا محبوب کے قرب کی وجہ سے نہیں تھا—یہ دھڑکنوں کی بے ترتیبی بالاج شاہ کے زہر اگلتے لفظوں کے لیے ذہنی طور پر تیار ہونے کی وجہ سے تھی—

اس نے کہا تھا کہ وہ آفس معاف نہیں کرے گا— اس کے ساتھ ناپسندیدہ لوگوں والا رویہ رکھے گا—اور وہ اپنی بات پر قائم رہا تھا—کوئی دن ایسا نہیں تھا جب بالاج شاہ نے اس کی تذلیل نا کی ہو—کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا کہ وہ اس کے پاس تھا اور صبغہ شاہ کو اپنے زہریلے لفظوں کی مار نہیں مارا تھا—

اس نے کوئی جسمانی تشدد نہیں کیا تھا—مگر لفظوں سے ایسے وار کیے تھے کہ صبغہ شاہ کو اپنا پور پور لہولہان ہوتا محسوس ہوا تھا—

صبغہ نے اس دن کے بعد سے کوئی صفائی نا دی تھی— وہ چپ چاپ بس اس شخص کے سارے رنگ دیکھ رہی تھی جسے اس نے سب سے زیادہ چاہا تھا—

اور وہ جو بالاج شاہ کے حویلی سے جانے پر کچھ دیر سکون کے گزارنا چاہتی تھی کسی ذہنی اذیت کے اب اس کے لوٹ آنے پر لب بھنچ گئی تھی—

ابھی وہ اپنی ہی سوچو میں غرق تھی کہ بالاج شاہ نے بازو سے تھام کر جھٹکے سے صبغہ شاہ کو زمین پر کھڑا کیا تھا—

“میں کچھ پوچھ رہا ہوں”— نظریں صبغہ شاہ کے سپاٹ چہرے پر گاڑھے سخت لہجے میں استفسار کیا تھا—

“اور میں جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی”— نظریں جھکائے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تھا—

اپنی سوچوں میں گم وہ اس بات پر بھی غور نہیں کر پائی کہ بالاج شاہ نے اسے کیا کہہ کر مخاطب کیا تھا—اور نا ہی اب وہ بالاج شاہ کی آنکھوں کی چمک کو دیکھ پائی تھی—جو پہلے سے یکسر مختلف تھی

اور وہ جو ہمیشہ کا آنا پرست—کبھی انکار نا سننے والا صبغہ شاہ کے جواب پر بری طرح تلملا یا تھا

تبھی کندھوں پر رکھے ہاتھوں میں شدت آئی تھی—جسے محسوس کرتے صبغہ شاہ نے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے—

“میں اس وقت بہت مصروف ہوں—جو چاہتے ہو جلدی بتاؤ”—بالاج شاہ کے ہاتھ جھٹکتے سرد لہجے میں کہا تھا جبکہ صبغہ شاہ کے ردعمل پر بالاج شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھنچی تھیں

مگر پھر صبغہ شاہ کے لفظوں پر غور کرتے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ رینگی تھی—

“چاہتا تو میں بہت کچھ ہوں—مگر فلحال اس وقت مجھے تمہاری طلب ہے—اور میری طلب کے تقاضوں سے تم باخوبی واقف تو ہوگی نا”— چہرے کے گرد جھولتی لٹ کو انگلی پہ لپیٹتے سرگوشی نما لہجے میں کہا تھا

جبکہ بالاج شاہ کے الفاظوں پر صبغہ کو اپنے رگ و پے میں غصے کی لہر دوڑتی محسوس ہوئی تھی—جس پر اس نے بامشکل قابو پایا تھا—

“میں تمہارے کسی بھی طرح کے گھٹیاں تقاضوں کو نہیں سمجھتی—جن لوگوں کو تم اپنی پسندیدہ فہرست میں رکھتے ہو—یہ تقاضے بھی ان سے جا کر پورے کرواؤں”—ایک ایک لفظ چبا کر کہتی—کرسی کو پیچھے کی جانب دھکیلتے وہ وہاں سے نکلتی کے بالاج شاہ نے غصے سے صبغہ شاہ کو بازوؤں سے کھنچتے کرسی پر پٹکا تھا

“بکواس سننے کے موڈ میں نہیں ہوں میں— اور اتنی تم کاکی نہیں کہ ایک شوہر کے تقاضوں کو نا سمجھ سکو—اور ویسے بھی جتنی بار تم اپنی محبت کا ڈھول میرے آگے پیٹ چکی ہو تمہیں تو چاہئے میری ایسی آفر پر میرے آگے بچھ”— دبے دبے لہجے میں غرا کر کہتے آخر میں لہجہ معنی خیز ہوا تھا—اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتا کہ صبغہ شاہ کا ہاتھ اٹھا تھا اور بالاج شاہ نے سختی سے جبڑے بھنچے تھے—

زخم پہ زخم کھا کر جی

اپنے لہو کے گھونٹ پی

آہ نا کر لبوں کو سی

عشق ہے دل لگی نہیں

دل لگا کر پتہ چلے گا تمہیں

عاشقی دل لگی نہیں ہوتی

“تم نہایت ہی گھٹیا شخص ہو بالاج شاہ”—بالاج شاہ کا گریبان تھامے—آنسوؤں سے تر چہرہ لیے وہ دبی دبی آواز میں چلائی تھی—

اپنے لفظوں کی سنگینی کا اندازہ ہوتے وہ بھی شرمندگی سے خاموشی اختیار کر گیا تھا

“تم محبت کیا نفرت کے بھی قابل نہیں ہو—تم جیسے شخص کو محبتوں کا مان رکھنا ہی نہیں آیا “—نم لہجے میں کہتی وہ جھٹکے سے بالاج شاہ کا گریبان چھوڑتی چند قدم پیچھے ہوئی تھی—

“تمہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ بس تمہیں چاہا جائے—اور تمہیں جان جانے کے بعد جی چاہتا کہ اس دل کو نوچ دوں جو تمہیں چاہنا چاہتا ہے—تم—تم بالاج شاہ—تم وہ ہو جس نے اپنے ہاتھوں اپنی آنا و غصے کے ہاتھوں اپنی محبت اجاڑ دی—اور تم وہ ہو بالاج شاہ جس نے اسے بھی جیتے جی اپنے لفظوں سے مار دیا جس نے تم سے محبت کی—تمہیں نا محبت کرنی آئی+- اور نا کسی کی محبت اپنا کر مان رکھنا–“— تھکے ہارے لہجے میں کہتے صبغہ شاہ نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے تھے—

جبکہ وہ صبغہ شاہ کے الفاظوں پر پتھر ہوا تھا—ساکت آنکھوں سے صبغہ شاہ کے سسکتے وجود کو دیکھا تھا—

وہ آنا پرست تھا—صبغہ شاہ کے انکار پر اس کی آنا بری طرح مجروح ہوئی تھی—مگر وہ سب اس نے آنا میں نہیں کہا تھا—وہ بس آزما رہا تھا—وہ نہیں جانتا تھا کیوں—مگر وہ صبغہ شاہ کی محبت اس کے صبر کی حد دیکھنا چاہتا تھا—

مگر بالاج شاہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جس پر دل ہار دیا جائے—اسے پھر آزمایا نہیں جاتا”

محب کہاں محبوب کو آزماتا ہے—وہ تو محبوب کے ہر رنگ ہر روپ کو آنکھیں بند کیے دل میں اتار لیتا ہے

کچھ کھیل نہیں ہے یہ عشق کی لاگ

پانی نا سمجھ یہ آگ ہے آگ

خون رلائے گی یہ لگی دل کی

کھیل سمجھو نا دل لگی دل کی

یہ عشق نہیں آساں

بس اتنا سمجھ لیجے

اک آگ کا دریا ہے

اور ڈوب کے جانا ہے—

وہ اپنی جگہ ساکت کھڑا تھا کہ جب وہ بالاج شاہ کو سرخ آنسوؤں بھری آنکھوں سے دیکھتی—کمرے سے نکلتی چلی گئی تھی—

بالاج شاہ گھٹنوں کے بل زمین پر گرا تھا

وہ جانتا تھا کہ جو لفظوں کے تیر چلائے ہیں—اب ان کا کوئی کفارا نہیں

پیچھے جانے کا منانے کا کوئی فایدہ نہیں

وہ جا کر اظہار محبت بھی کرتا تو جواباً اب شاید اظہار نفرت ہی ملتا—شاید نہیں یقیناً

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *