Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 36)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 36)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
“تم بہت پیاری لگ رہی ہو صبغہ”— دلہن بنی بیٹھی صبغہ شاہ کی پشت پر کھڑے ہوتے—آئینے میں نظر آتے صبغہ کے عکس کو دیکھتے محبت بھرے لہجے میں کہا تو صبغہ شاہ نے نظریں اٹھا کر حوریہ شاہ کو دیکھتے—نظریں اپنے عکس پر جمائی تھیں—
سیاہ رنگ پہنے پور پور سجی—شاید وہ پہلی ہی دلہن تھی—
“ہمم—مگر میرا نصیب—آئینے میں نظر آتے میرے عکس کی طرح خوبصورت نہیں—اس پہنے ہوئے سیاہ لباس کی طرح تاریک ہے”— سرخ ہونٹوں کے قریب جھولتی نتھ پر انگلی پھیرتے سادہ سے لہجے میں کہتے—گردن ترچھی کر کہ حوریہ شاہ کے چہرے کو دیکھا تھا
“اب تم زیادہ سوچ رہی ہو— فضول کی سوچیں چھوڑ دو—
“اب سے چھوڑ دی—اب تو اپنے سر کے سائیں کے پیچھے پڑنا ہے اور زندگی بھر اس کا پیچھا نہیں چھوڑنا”— صبغہ کے جواب پر حوریہ نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا تھا
“تم عائث کو سچ بتا دو حوریہ—کب تک اس ڈر کے ساتھ اپنے رشتے کو لے کر چلو گی—جبکہ ایسا کچھ تھا بھی نہیں”—سامنے ٹیبل سے سامان اٹھانے کے لیے بڑھتے حوریہ کے بازو پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو حوریہ نے خاموش نظروں سے صبغہ شاہ کو دیکھا تھا—
“سچ بولنے کی ہمت ہے مجھ میں— لیکن سچ بول کر اگر میں اسے کھو دوں یہ حوصلہ نہیں ہے مجھ میں— سچ بتانا آسان ہے لیکن اس سچ بتانے کے نتائج نہیں دیکھ سکتی—انسان بھی محبت میں کتنا بے بس ہوتا ہے نا—کبھی رشتہ بچانے کے لیے سچ و جھوٹ بولتا ہے اور کبھی رشتہ بچانے کے لیے سچ بھی نہیں بول پاتا”— انگلیوں کو آپس میں الجھاتے تھکے تھکے لہجے میں جواب دیا تو صبغہ شاہ نے نرمی سے حوریہ کے دونوں ہاتھ تھامے تھے
“سچ سے بڑی کوئی حقیقت نہیں ہوتی حوریہ—سچ بہت سی حقیقتوں کو واضح کر دیتا ہے—سچ ان سب کو بھی سامنے لے آتا ہے جو آپ کے ہیں اور ان کو بھی جو نہیں ہے—اسے بتاؤ اگر وہ تمہارا ہوا تو اس سچ کے ساتھ اس کی محبت بھی واضح ہو جائے گی—اگر نہیں—تو حوریہ عائث خان نہیں—حوریہ شاہ بن جاؤ”— حوریہ کے سامنے کھڑے ہوتے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تو حوریہ نے سر اثبات میں ہلایا تھا
لیکن فلحال تو یہ سچ ہے کہ سب ہال کے لیے نکل چکی ہیں—بس تم ہی رہ گئی ہو—ابھی تو وہاں جا کر پھوپھو نے غصے ہونا ہے کہ جب ریڈ لہنگا تھا تو یہ کیوں پہنا— تم بھی سمجھ سے باہر ہو صبغہ”—صبغہ شاہ کے لہنگے کو سنبھالتے تاسف سے کہا تو صبغہ نے مسکرا کر کندھے آچکائے تھے—
_________
لوگوں کی شادی ہوتی ہے تو ان کی دلہنیں تیار ہوئیں—اپنی بارات کا انتظار کرتی ہیں—یہاں مہمان—بارات دلہیں سب انتظار کر رہے ہیں کہ کب وہ شہزادیاں تیار ہو کر آئیں اور قاضی صاحب نکاح جیسا اہم فریضہ جلد از جلد انجام دے کر گھر کو جا سکے”— غصے سے سرخ پڑتے چہرے پر سخت تاثرات سجائے—منہ میں بڑبڑاتے ہونٹ سختی سے بھنچے تھے—
ایک نظر موبائل میں نظر آتی گاڑیوں کی لوکیشن پر ڈالتے ارمغان خان نے اپنی جانب آتے ولی خان کو دیکھا تھا—
جن کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا— مضبوط قدم جماتے اپنی بارعب شخصیت لیے وہ مہمانوں سے ملتے ارمغان خان کی جانب آرہے تھے—
اس دشمنی نے ان کی کمر توڑ دی تھی اور ابھی اسی ختم ہوتی دشمنی کو دیکھتے وہ جیسے ایک بار پھر سے جی اٹھے تھے—وہ جو ڈر اپنے پوتوں کو کھونے کا ان کے چہرے پر واضح رہتا تھا اب کہی بھی نہیں تھا—سرخ و سفید پٹھانی نقوش والے چہرے پر سکون بھری مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی
جسے دیکھتے ارمغان خان کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ رینگ تھی
“اوو میرے پیارے داجی—آپ بیٹھ جائیں—آجائیں گی آپ کی شہزادیاں”— ولی خان کے کندھے پر بازو پھیلاتے مسکراتے ہوئے کہا تو ولی خان نے سر اثبات میں ہلایا تھا
“آج ہم بہت خوش ہیں چھوٹے خان—بہت خوش—آج ولی خان کا دل کر رہا ہے کہ ان سب خوشیوں کے بدلے کوئی جان بھی مانگے تو ولی خان اپنے بچوں کی خاطر خوشی خوشی قرباں کر دے”— خوشی سے بھرپور لہجے میں کہتے ارمغان خان کی پیٹھ تھپتھپائی تو ارمغان خان نے شکوہ کناں نظروں سے ولی خان کو دیکھا تھا—
“آئندہ ایسی بات مت کیجئے گا داجی—اور ابھی تو آپ نے چھوٹے خان کے مِنی چھوٹے خانوں کو بھی دیکھنا ہیں—میری چھوٹی چھوٹی شہزادیوں نے اپنے پردادا کے کندھوں پر جھولے لینے ہیں—ابھی تو آپ کے دور دور تک جانے کے کوئی چانسسز نہیں”— چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا تو ولی خان نے گھور کر ارمغان خان کو دیکھا تھا—
“کتنے منی خان اور چھوٹی شہزادیوں کا پلین ہے تمہارا”—
“یہی کوئی دس بارہ—باقی بعد میں داجی کی بہو سے بات چیت کر کہ ڈیل فائنل”— اپنے عقب سے آتی آواز پر غور کیے بنا—داجی کو آنکھ مارتے روانی میں کہتے—زبان کو یک دم بریک لگی تھی—
جبکہ ارمغان خان کی بے شرمی پر داجی اسے غصے سے گھورتے—وہاں سے پلٹ چکے تھے—
ارمغان خان نے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے— زبردستی مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے پلٹ کر اپنے سامنے سرخ چہرہ لیے کھڑے بالاج شاہ کو دیکھا تھا—
جو سیاہ رنگ کی شیروانی پہنے—دونوں ہاتھ پشت پر باندھے—وجیہہ چہرے پر سخت تاثرات سجائے—گھور کر ارمغان خان کو دیکھ رہا تھا—
“ہیلو بالاج لالا—کتنے ہینڈسم لگ رہی—ہم مم-میرا مطلب کتنے ہنڈسم لگ رہے ہیں نا—میں آتا ہوں—ضرغام لالا بلا رہے مجھے شاید”— پوری دنیا میں شاید بالاج شاہ ہی تھا جس کے سامنے ارمغان خان کی فراٹے بھرتی زبان لڑکھڑا سکتی تھی—
بالاج شاہ کو جواب دیتے جھٹکے سے پلٹتے وہ وہاں سے نو دو گیارہ ہوا تھا—
کتنے ہینڈسم لگ رہی”—جبکہ بالاج شاہ نے ارمغان خان کے لفظ دہراتے بے ساختہ سر نفی میں ہلایا تھا
استغفرُللہ—بہنوئی نا بننے والا ہوتا تو گردن توڑ دیتا”— شیروانی کے بٹنوں ہر ہاتھ پھیرتے منہ میں ہی بڑبڑاتے قدم آگے بڑھائے تھے—
“اوو بالاج لالا— اردو خراب ہوئی بھی تو کہا—ایسے سالے کے سامنے”—- دور جاتے بالاج شاہ کی پشت دیکھتے گہری سانس بھر کر کہتے ارمغان خان نے سر جھٹکا تھا
______
ان چاروں کو برائیڈل روم میں بیٹھا دیا گیا تھا
قاضی صاحب کے ساتھ عائث اور ضرغام برائیڈل روم میں آئے تھے—نکاح کی کروائی انجام پائی تو مرد و خواتین دونوں جانب مبارک باد کا شور گونج اٹھا تھا—
جبکہ چھوٹے خان کے دوست یاروں نے فائرنگ کر کہ آسمان سر پر اٹھا لیا تھا
ڈھول کی آواز ہال میں دور دور تک گونج رہی تھی—
“کیا تھا اگر تم ان فضول کے دوستوں کو ڈیرے پر رکھتے اور ہال میں صرف دونوں حویلی کے لوگ آتے تو ہم بھی سکون سے انجوائے کر سکتے”— برائیڈل روم سے باہر نکلتے ضرغام خان کا بازو تھامتے روم کے پچھلے حصے کی جانب لاتے جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے بغور عقیدت شاہ کے تپے تپے چہرے کو دیکھا تھا—
گرین رنگ کی بھاری گولڈن کام دار ساڑھی پہنے— نفاست سے کیے گئے میک اور سرخ کہ اسٹک نے حسن میں مزید اضافہ کیا تھا—گولڈن بالوں کا جوڑا بنائے—چند آوارہ لٹیں چہرے کے گرد ہالہ بنائے ہوئے تھیں—
اور ان سب کو مات دیتی سبز نگینوں سی آنکھیں اس کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھی—
“کیسے انجوائے کرنا تھا تم نے”— پہلو میں گرے ہاتھوں کو اپنی پر تپش گرفت میں لیتے خمار آلود لہجے میں استفسار کیا تو عقیدت شاہ نے شکوہ کناں نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا تھا—
“پہلے اتنے دنوں بعد گھر ائیں—رات بھی ڈیرے پر رکے—اور اب یہاں آکر بھی تم میرے سامنے نہیں ہو—تم یہاں میرے سامنے نہیں ہو تو کچھ اچھا نہیں لگ رہا مجھے—تمہیں اب میرا کوئی خیال ہی نہیں ضرغام— شوہر ہوتے ہی ایسے ہیں—بیویاں جتنی بھی محبت کر لیں—قدر ہی نہیں کرتے”—خفا لہجے میں کہتے ہاتھ چھڑوا کر ضرغام خان کے کالر کو دنوں ہاتھوں میں دبوچا تھا—جبکہ ضرغام خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے شوخ نظروں سے عقیدت شاہ کو دیکھتے دایاں بازو عقیدت کی کمر میں لپیٹتے جھٹکے سے رخ بدلتے عقیدت کو دیوار سے پن کیا تھا—
“وہ تو ٹھیک ہے کہ میں تمہاری نظروں کے سامنے رہو—مگر خان کی جان—تم ایسے سجی سنوری میری آنکھوں کے سامنے رہو گی تو خان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہو جائے گا—تمہارا خیال کرتے کرتے خود بے حال ہو جاؤ گا”— ایک بازو گردن کے گرد لپیٹے جبکہ بائیں بازو کو پیچھے دیوار پر ٹکائے— چہرہ عقیدت شاہ کے چہرے پر جھکائے ناک کو گال پر ٹریس کرتے—عقیدت شاہ کی تیز چلتی سانسوں میں گہری سانس لیتے سلگتے ہونٹ شدت سے گال پر رکھے تھے—
“صص-صاف کہو کہ دوبارا جانے لگے ہو اس طرف – اس طرح بہانے مت بناؤ – اور یہ بھی بتا دو—کہ خان جناب دوبارا اپنے رخ روشن کا دیدار کب کروائیں گے”— تپے تپے لہجے میں کہتے—دوںوں ہاتھ ضرغام خان کے کوٹ کے بٹںوں پر جمائے ہاتھ
منہ پھلائے –ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے کبھی انہیں کھولتی کبھی بند کرتی—خفا خفا سی وہ ضرغام خان کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی—
“تم بھی صاف کہو نا جانِ ضرغام کہ اپنی ان اداؤں سے تم خان کی جان لینا چاہتی ہو—تم ایک بار کہو—میں تم پر قربان نا ہو جاؤ پھر کہنا”— جھٹکے سے ایک بازو کمر کے گرد لپیٹتے عقیدت کو خود میں بھینچا تھا—
اس سے پہلے عقیدت شاہ کچھ کہتی کہ وہ پوری شدت سے ان سرخ گلاب سی پنکھڑیوں پر جھکتا چلا تھا تھا
ضرغام خان کے سلگتے ہونٹوں کا جان لیوا لمس محسوس کرتے عقیدت نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر جمائے تھے
ہونٹوں پر بڑھتی شدت اور رکتی سانسوں کو محسوس کرتے—ضرغام خان کے کالر کو کھینچا تھا
مگر وہ انجان بنا اسی شدت سے جھکا رہا تھا—
اپنی گردن پر عقیدت کے ناخنوں کے بڑھتے دباؤ کو محسوس کرتے ضرغام خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی تھی—تبھی لمحے میں پیچھے ہوتے بنا عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے وہ اس کا رخ بدلتا دیوار کی جانب کر چکا تھا—
عقیدت کے بازوؤں کو پشت پر باندھتے—چہرہ اس کی گردن میں چھپایا تھا—
جبکہ پھولی ہوئی تیز سانسوں کو بامشکل قابو پاتے عقیدت شاہ نے گردن ترچھی کرتے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا تھا—
“ہٹو ضرغام— چھچھورے انسان— میک اپ تو میرا خراب کر چکے ہو—اب میرا دماغ خراب مت کرو—ورنہ سر پھاڑ دوں گی تمہارا”—دبے دبے لہجے میں چلا کر کہتے خود کو چھڑوانا چاہا تو ضرغام خان نے بایاں بازو کمر سے گزارتے پہلو میں رکھا تھآ
جسے محسوس کرتے عقیدت نے سختی سے آنکھیں میچتے—ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبایا تھا
“اور تم ہمیشہ کی طرح میری نیت خراب کر چکی ہو خانم”– خمار آلود لہجے میں کہتے ہونٹ گردن پر رکھتے—جوڑے میں قید بالوں کو جھٹکے سے پشت پر کھلا چھوڑا تھا
“جہاں اتنا انتظار کیا ہے وہاں تھوڑا سا اور انتظار کر لو خانم”—کندھوں سے تھام کر سامنے کرتے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت شاہ نے ناک سکوڑ کر ضرغام خان کو دیکھتے سر ضرغام خان کے سینے پر ٹکایا تھا
“کروالو جتنا انتظار کروانا ہے—جب میں کرواؤں گی نا تب پتہ چلے گا خان کہ انتظار کرنا کتںا اذیت ناک ہوتا ہے”— عقیدت شاہ کے الفاظ ضرغام خان کو اپنے سینے میں تیر کی طرح چبھتے محسوس ہوئے تھے—
ابھی وہ کچھ کہتا کہ موبائل پر آتی کال کی آواز سنتے—گہری سانس لیتے بازو عقیدت کے گرد لپیٹتے اسے خود میں بھینچا تھا—چند لمحے آنکھیں بند کیے—عقیدت شاہ کو محسوس کرتے نرمی سے پیچھے ہٹا تھا
دونوں ہاتھوں کے پیالے میں عقیدت کا چہرہ بھرتے—انگھوٹے سے ہونٹ کے قریب بکھری لپ اسٹک کو صاف کیا تھا—
نرمی سے ہونٹ ماتھے پر رکھتے—جھٹکے سے پلٹتے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا
جبکہ عقیدت شاہ نے پیرپٹکتے قدم برائیڈل روم کی جانب بڑھائے تھے
________
وہ چاروں سٹیج پر کھڑے اپنی دلہنوں کا انتظار کر رہے تھے کہ تبھی ہال کہ سبھی لائیٹس اف ہوئی تھی—
سپاٹ لائٹ سامنے انٹرنس کی طرف روشن ہوئی تو— وہ چاروں عقیدت اور حوریہ کے ہمراہ سٹیج کی جانب آرہی تھیں
انہیں سٹیج کے قریب آتا دیکھ بہرام شاہ ان کی جانب بڑھا تھا
“بہرام لالا آپ اپنے والی کا ہاتھ پکڑیں— اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے کوئی اور ہے”—بہرام شاہ نے جب اپنا ایک ہاتھ امتثال اور دوسرا سلوی کے سامنے کیا تو حوریہ شاہ نے شوخ لہجے میں کہا تو وہاں موجود سب کے چہروں پر مسکراہٹ رینگ گئیں
جبکہ سامنے دائیں جانب سے آتے عائث خان نے—چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں اشتیاق لیے حوریہ شاہ کے سجے سنورے روپ کو دیکھا تھا—
“اب کیا منہ کھولے دیکھتے ہی رہو گے—سٹیج پر لے کر آؤ—اس سے پہلے تمہارا دوسرا سالا لے آئے”— سلوی شاہ کو ٹکٹکی باندھے دیکھتے ارمغان خان کے کان میں ضرغام خان نے سرگوشی کی تو وہ سٹپٹا کر سیدھا ہوتا سلوی شاہ کی جانب بڑھا تھا
سلوی کے سامنے کھڑے ہوتے اپنی چوڑی ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی تو سلوی شاہ نے پلکوں کی جھالر کو مزید گراتے اپنا کپکپاتا ہاتھ ارمغان خان کی ہتھیلی پر رکھا تھا
جس پر ارمغان خان نے اپنا ہاتھ مضبوطی سے بند کیا تو سلوی شاہ کا نازک ہاتھ بری طرح لرزا تھا
ارمغان خان کے بعد حدائق شاہ پلوشہ کی جانب بڑھا تھا
کریم کلر کی شیروانی پہنے—چہرے پر سنجیدہ تاثرات سجائے جبکہ آنکھوں میں چمک لیے وہ پلوشہ خان سے دو قدم کے فاصلے پر رکا تھا
گھونگھٹ سے نظر آتے پلوشہ خان کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے حدائق شاہ کا دل بے ساختہ دھڑکا تھا
پلوشہ خان کے جسم میں کپکپاہٹ محسوس کرتے عقیدت نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر حدائق شاہ کے ہاتھ پر رکھا تھا جس پر اس نے مسکرا کر سر کو خم کیا تھا
“بالاج صبغہ کو لے کر آؤ”—ثمرین بیگم نے موبائل میں گم بالاج شاہ کے قریب کھڑے ہوتے سخت لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے موبائل کی سکرین سے نظریں ہٹا کر سامنے گھونٹ لیے کھڑی صبغہ شاہ کو دیکھا تھا
“یہاں تک آگئی ہے تو کیا سٹیج پر نہیں آسکتی – اور مجھے تو یہاں کوئی ایسا پہاڑ نظر نہیں آرہا جو وہاں تک نہیں تھا اور یہاں ہے جسے وہ پار نہیں کر سکتی”— لاپرواہ لہجے میں کہتے نظریں دوبارا سکرین پر جمائی تھی
جبکہ ثمرین بیگم نے دانت کچکچا کر اپنی ڈھیٹ اولاد کو دیکھا تھا—
“اور تم بھی نا بھولو بالاج میں تمہاری ماں ہوں –اگر تم سیکنڈز میں نا ہلے تو بالاج—جوتا اتارتے ہوئے میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گی”— ثمرین شاہ کے دھمکی بڑھے لہجے پر بالاج شاہ نے حیرت سے انہیں دیکھا تھا—
جو خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
ایک لمحے کے لیے تو اسے یقین کرنا ہی مشکل ہو گیا تھا کہ اس کی ماں اس عمر میں سب لوگوں کے سامنے ایسی دھمکی بھی دے سکتی تھی—
خیر یہ دھمکی تھی تو وہ چاہتا تھا کہ بس دھمکی تک ہی رہے کیونکہ وہ اس قدر عزت کروانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اسی لیے موبائل ان کی جانب بڑھاتا لمبے لمبے ڈنگ بڑھتا وہ لمحے میں صبغہ شاہ کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا—
صبغہ شاہ کی جانب ہاتھ بڑھایا تو ابھی وہ جھجھکتے ہوئے ہاتھ بڑھاتی بالاج شاہ لمحے کی دیر کیے بغیر اس کے بازو کو اپنی نرم گرفت میں لیتا—پلٹا تھا
جس پر صبغہ شاہ نے سٹپٹا کر بالاج شاہ کی جانب دیکھا تھا
صوفے کے قریب لا کر نرمی سے صبغہ شاہ کو دونوں کندھوں سے تھام کر صوفے پر بٹھاتے—گردن ترچھی کر کہ سائیڈ پر کھڑی اپنی ماں کو دیکھا تھا—
اور جیسے کہا تھا اور کچھ”
جبکہ بالاج شاہ کے آنے سے پہلے ہی حوریہ نا محسوس طریقے سے وہاں سے ہٹ چکی تھی—
_________
ماں مجھے برائیڈل روم میں چھوڑ آئیں”— رسموں کے بعد سب کو کھانے میں مصروف دیکھ کر صبغہ نے کہا تو ندا بیگم نے سر اثبات میں ہلایا تھا
اور ثمرین بیگم کو بتا کر وہ صبغہ کو لیے برائیڈل روم کی جانب بڑھی تھی—
جس پر بالاج شاہ نے ایک نظر اٹھا کر برائیڈل روم کی جانب جاتی صبغہ شاہ کی پشت کو دیکھا تھا—
اور پھر سر جھٹکتے موبائل میں مصروف ہو گیا تھا
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بچہ آکر بالاج شاہ کے صوفے کے قریب رکا تھا
“آپ باج ہے”—بچے کے کیے گئے سوال اور اپنے نام بگاڑنے پر بالاج شاہ نے آنکھیں چھوٹی کرتے اسے گھورا تھآ
“وہ آپ کی وائہپ بلا لی—بائل گارڈن میں”— چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو گھماتے چہرے کے معصوم ڈیزائن بناتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ نے بامشکل اپنی مسکراہٹ روکی تھی—
بچے کے بالوں کو بگاڑتے سر اثبات میں ہلایا تھا
اپنی نشست سے کھڑے ہوتے ایک طائرانہ نگاہ اردگرد دوڑائی تھی— ضرغام—عائث—ارمغان—حدائق اور بہرام دودھ پلائی کی رسم کے بعد واپس مردوں والی سائیڈ پر چلے گئے تھے—
جبکہ بالاج شاہ وہی ڈھیٹوں کی طرح بیٹھا رہا تھا—
یہاں ڈھیٹ بن کر بیٹھنا اس کے لیے بہتر آپشن تھا بجائے اس کے کہ وہاں جا کر وہ فضول لوگوں سے مبارکباد وصول کرتا اور پھر بلاوجہ کی ڈسکشن کا حصہ بنتا
وہ لمبے لمبے ڈنگ بھرتا—صبغہ شاہ کا دماغ سیٹ کرنے کی نیت سے گارڈن کی جانب آیا تھا—
“اگر تمیہاں گارڈن میں نا ہوئی– میرے ساتھ کوئی مزاق کیا تو آئی سوئیر صبغہ— جان لے لوں گا تمہاری”— چہرے پر سخت تاثرات سجائے— میسج ٹائپ کر کہ سینڈ کیا ہی تھا کہ کوئی اس سے بری طرح سے ٹکرایا تھا
________
بالاج شاہ صحیح ہے یا غلط—حوریہ کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا—بس اب وہ اس شخص کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی—یا یوں تھا کہ اس بھیانک دن کے بعد سے وہ خود میں کبھی اتنی ہمت نہیں رکھتی تھی کہ وہ بالاج شاہ کا سامنا کر سکے
بالاج شاہ اس کے لیے مسٹر پرفیکٹ تھا – جس میں کوئی خامی نہیں تھی—جو مکمل تھا—حوریہ شاہ کا آئیڈیل—لیکن وہ مسٹر پرفیکٹ کا بنایا ہوا بت بالاج شاہ نے اپنے ہاتھوں سے بری طرح توڑا تھا—نا صرف وہ بت بلکہ حوریہ شاہ کا مان—بھروسہ یقین اور شاید دل بھی
ضروری تو نہیں دل محبت میں ہی ٹوٹے—یہ تو اکثر بہت اپنے پر کیے گئے مان ٹوٹ جانے پر بھی ٹوٹ جاتا ہے—
اپنی سوچو کو جھٹکتے حوریہ شاہ نے گہری سانس لیتے سامنے گارڈن میں لگی لائٹس کو دیکھا تھا
وہاں سے نکلتی وہ ہال کے بیک سائیڈ پر موجود گارڈن میں اچکی تھی
ابھی وہ پلٹتی کے پیچھے سے آتے وجود کے ساتھ بری طرح ٹکرائی تھی
کہ تبھی پیچھے موجود شخص نے بروقت حوریہ شاہ کا بازو تھامتے اسے گرنے سے بچایا تھا
جبکہ حوریہ شاہ نے سختی سے آنکھیں میچتے—اپنے کپکاتے ہاتھ سامنے موجود شخص کے بازوؤں پر رکھے تھے
“مم—میں نہی—یں کرتی محبت—نن—نفرت ہے مجھے تم سے شاہ—شدید نفرت—”—کانوں میں حوریہ شاہ کے سسکتے ہوئے الفاظ گونجے تو بالاج شاہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تھی
نرمی سے حوریہ شاہ کے ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتا ابھی وہ پلٹتا کہ حوریہ شاہ نے اپنی آنکھیں کھولیں تھیں
اپنے سامنے بالاج شاہ کو دیکھتے دل دھک سے اچھل کر حلق میں آیا تھا—
کرسٹل گرے آنکھیں پل میں آنسوؤں سے لبریز ہوئیں تھیں
جسے دیکھتے بالاج شاہ نے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے—
_________
“بب-بالاج”—قدم پیچھے لیتے—سر نفی میں ہلاتے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا تو بالاج شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھنچی تھی—
“دیکھو حوریہ— ڈرو مت—میں کچھ نہیں کہہ رہا—میں تمہارے پیچھے یہاں ایا بھی نہیں—میں بس جا ہی رہا ہوں”—حوریہ شاہ کے آنسوؤں سے تر ہوتے چہرے کو دیکھتے دونوں ہاتھ اٹھاتے قدم پیچھے لیتے نرم لہجے میں کہا تو حوریہ شاہ نے متلاشی نگاہوں کو اطراف میں گھمایا تھا
“ممجھے ڈر لگتا ہے آپ سے بالاج—خوف آتا ہے خدا کے واسطے میرے سامنے مت آیا کریں—عائث کو مجھ سے بدگمان کرنا چاہتے ہیں نا آپ—اسی لیے پیچھا کر رہے ہیں نا میرا—نا کریں پلیز—میں مر جاؤں گی—یہ ظلم مت کیجئے گا مجھ پر—میں کبھی ماضی کی بات نہیں کروں گی—میں اس کے لیے آپ کو معاف بھی کر چکی ہوں—اب آپ بھی مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں”— ابھی وہ جانے کے لیے قدم اٹھاتا ہی کہ حوریہ شاہ کے الفاظوں پر وہ پتھر ہوا تھا—
ہر لفظ پر بالاج شاہ نے خود کو شرمندگی سے زمین میں دھنستے محسوس کیا تھا
غصہ—جزباتی پن میں اٹھایا گیا ایک قدم بالاج شاہ کو ساری عمر کے لیے نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا تھا—
شرمندگی اس قدر تھی کہ زبان سے کوئی لفظ اپنے حق میں ادا نہیں ہو پا رہا تھا—
ہونٹ کاٹتے—نظریں جھکائے—آنکھوں میں نمی لیے بالاج شاہ کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا—
تبھی خود میں ہمت مجتمع کرتے—گہری سانس لیتے نظریں جھکائے وہ حوریہ شاہ کی جانب بڑھا تھا—
اپنی جانب آتے بالاج شاہ کو دیکھتے حوریہ پیچھے ہٹتی کہ بالاج شاہ نے نرمی سے حوریہ شاہ کی کلائی تھامتے—دوقدم کے فاصلے پر رکتے اس روکا تھا
جبکہ حوریہ سانس روکے—پھٹی آنکھوں سے بالاج شاہ کے ہاتھ میں اپنی کلائی دیکھ رہی تھی—
“بہت شرمندہ ہوں—اس قدر کہ لوگوں کہ بولتی بند کروانے والے بالاج شاہ کے پاس معافی کے لیے الفاظ ہی نہیں ہے—مجھ سے ڈرو مت حوریہ—یہ مت کہو کہ مجھ سے خوف آتا ہے—تمہارے لے یہ صرف الفاظ ہوگے مگر میرے لیے یہ ایسے تیر ہیں جو میری روح تک چھلنی کر چکے ہیں—تمہارا پیچھا کیا—لیکن تمہیں ڈرانے کے لیے—بلکہ تمہارے سامنے جھک کہ معافی مانگنے کے لیے—عائث کو بدگمان نہیں کرنا چاہتا—بس تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں—یہ بھی چاہتا تھا کہ تمہاری شادی اس سے نا ہو—مگر اس لیے نہیں کہ میں— کہتے کہتے وہ رکا تھا—ہاتھ میں تھامی حوریہ شاہ کی کلائی کو آزاد کیا تھا—
میں تمہیں حاصل کرنا چاہتا تھا—صرف اس لیے کہ میں تمہاری ذات پر کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا—میں تمہیں کسی دشمنی کو ختم کرنے کا مہرہ بنتے نہیں دیکھ سکتا تھا—پہلے ہی تمہارا قصوروار تھا—عائث خان سے شادی کے بعد تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی تو میں خود کو کبھی معاف نا کرپاتا—تم خوش ہو تو میں بھی خوش—میرے سینے پر موجود شرمندگی کا بوجھ شاید ساری زندگی ختم نا ہو—لیکن تم معاف کر دو گی تو میں تمہارے احسان مند رہوں گا”— نظریں جھکائے—ٹھہرے لہجے میں ایک ایک لفظ ادا کرتے نظریں اٹھا کر حوریہ شاہ کے آنسوؤں سے بھیگے چہرے کو دیکھا تھا—
حوریہ شاہ کے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھا بالاج شاہ کو تشویش ہوئی تھی—
“حوریہ تم ٹھیک ہو”—جھجھکتے ہوئے حوریہ شاہ کا بازو تھامتے استفسار کیا تھا
کہ تبھی پیچھے سے کسی نے بالاج شاہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دبوچتے—حوریہ کے بازو سے ہٹاتے جھٹکے سے دور کیا تھا
“آئندہ اگر تم مجھے میری بیوی کے قریب دکھے بھی—تو بالاج شاہ یاد رکھنا وہ دن تمہارا اس دنیا میں آخری دن ہوگا”— بالاج شاہ سنبھلتا اس سے پہلے ہی عائث خان نے دونوں ہاتھوں میں بالاج شاہ کا گریبان پکڑتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو بالاج شاہ نے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے
“تم غلط”—اس سے پہلے بالاج شاہ اپنی بات مکمل کرتا کہ عائث خان کا ہاتھ اٹھا تھا اور بالاج شاہ کے چہرے پر نشان چھوڑتا گیا تھا
شیروانی کا بٹن کھولتے—گردن کی پشت سے ہاتھ پھیر کر خود پر قابو کرتے بالاج شاہ نے سخت نظروں سے اپنے سامنے کھڑے عائث خان کو دیکھا تھا—
نظریں عائث خان سے ہوتی پیچھے کھڑی صبغہ شاہ پر گئی تو بالاج شاہ کی آنکھوں میں خون اترا تھا
جبکہ صبغہ جو بالاج شاہ کے میسج کو حیرت سے پڑھتے—بیک ڈور سے یہاں آئی تھی حیرت سے بالاج اور عائث کو آمنے سامنے کھڑا دیکھ رہی تھی
نظریں ان دونوں سے ہوتی ہونٹوں پر ہاتھ رکھے کانپتی حوریہ ہر گئیں – اس سے پہلے صبغہ حوریہ کی جانب بڑھتی کہ عائث خان حوریہ کا بازو اپنی سخت گرفت میں لیتا—وہاں نکلتا چلا گیا تھا
“یہ سب تم نے کیا ہے نا”—- بالاج شاہ کے سپاٹ لہجے پر صبغہ نے جاتے ہوئے عائث اور حوریہ سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا تھا—
بالاج شاہ کی سرخ وحشت زدہ آنکھوں کو دیکھتے صبغہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی تک سنسناہٹ محسوس ہوئی تھی
کچھ برا ہونے کا احساس رگ و پے میں سرایت کیا تھا—
“کک-کیا بالاج میں نے کچھ نہیں کیا—میں تمہارے میسج “— ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتی کہ بالاج شاہ سرعت سے اس کے قریب آیا تھا
جھپٹنے کے انداز میں صبغہ کا بازو تھامتے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے—
جبکہ وہ گرتی پڑتی—کبھی لہنگا سنبھالتی اور کبھی بالاج شاہ کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتی
مگر سب کوششیں تب ناکام ہوئی جب بالاج شاہ نے گاڑی کا دروازہ کھولتے صبغہ شاہ کو پٹکنے کے انداز میں گاڑی میں دھکا دیتے دھار سے دروازا بند کیا تھا
__________
“یہ کک-کیا کر رہے ہو بالاج”— بالاج شاہ اسے لیے اپنے فارم ہاؤس میں آیا تھا—
صبغہ شاہ کی کسی بھی آواز پر کان دھرے بغیر وہ اسے کیے سیدھا آہنگ بیڈروم میں آیا تھا—
کمرے میں داخل ہوتے وہ اسے کسی اچھوت کی طرح زمین پر دھکا دیتا کمرے کا دروازا بند کرنے لگا تھا—
فرش ہر گرںے سے کئی چوڑیاں ٹوٹ کر بکھری تھیں— جسم میں اٹھتی تکلیف کو نظر انداز کرتے وہ جھٹکے سے اٹھی تھی مگر بالاج شاہ کی سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں اور خونخوار تاثرات کو دیکھتے صبغہ کے قدم بری طرح لڑکھڑائے تھے—
بالاج شاہ کو شیروانی اتارتے دیکھ لفظ حلق سے بامشکل نکلے تھے—
“جب تم جانتی تھی کہ وہاں حوریہ ہے تو مجھے وہاں کیوں بلایا”— زخمی شیر کی طرح دھاڑتے ایک ہی جست میں صبغہ شاہ کے قریب پہنچتے وہ اس کی گردن کو اپنے دائیں ہاتھ میں دبوچتے—پیچھے دیوار سے لگا چکا تھا—
جبکہ بالاج شاہ کے اس قدر زور سے دیوار سے لگانے پر صبغہ کو اپنا سر پھٹتا محسوس ہوا تھا—
گردن پر بڑھتے دباؤ سے اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی تو صبغہ شاہ کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی مانند چہرے پر بکھرے تھے—
“تم اس حد تک گر جاؤ گی صبغہ شاہ مجھے اندازہ بھی نہیں تھا – تم اس قدر گھٹیا ذہنیت مالک ہو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا”— گلے میں پہنے بھاری ہار کو بے دردی سے کھینچ کر اتارتے غرا کر کہتے—صبغہ شاہ کو جھٹکے سے چھوڑا تھا—
“آہہ تم نے سب برباد کر دیا صبغہ—سب—میں پھر سے اس کی نظروں سے گر گیا”— بالوں کو مٹھیوں میں دبوچتے—کمرے کے بیچوں بیچ کھڑے ہوتے—غرا کر کہتے وہ صبغہ شاہ کی سانسیں روک چکا تھا—
جبکہ دونوں ہاتھ ہونٹوں پر رکھ کر اپنی سسکیوں کا گلہ گھونٹتے وہ دیوار کے ساتھ بیٹھتی چلی گئی تھی
گردن سے نکلتا خون سرخ مادہ سیاہ رنگ میں جذب ہوئے جا رہا تھا—
کپکپاتے ہاتھوں کو زمین پر رکھتے—دیوار کا سہارا لیتے وہ اٹھی تھی
لڑکھڑاتے ہوئے وہ بالاج شاہ کے پیچھے جا کر کھڑی ہوئی تھی
“ایسے مت کک-کہو بالاج مم—میں مر جاؤں گی”— صفائی نہیں دی گئی تھی—سسکیوں میں التجا کی گئی تھی—
“بہت بہتر ہوگا کہ تم مر جاؤ صبغہ شاہ—تم نہیں مرو گی تو یقین جانو میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے زندہ درگور کر دوں گا—اور مجھے رتی برابر بھی افسوس نہیں ہوگا”—التجا کی گئی تھی—اور التجا کا گلہ بہت بری طرح گھونٹا گیا تھا
لفظ تھے کہ خنجر خون بھی نہیں بہا تھا اور پور پور لہو لہان کر گئے تھے—
“اور مم-میری محبت”— شہد رنگ آنکھوں میں آنسو لیے کپکپاتے لہجے میں استفسار کیا تو بالاج شاہ نے بے دردی سے صبغہ شاہ کے بازوؤں کو اپنی گرفت میں لیا تھا
“میں لعنت بھی نہیں بھیجتا اس محبت پر”— زہر خند لہجے میں کہتے وہ اسے پیچھے کی جانب دھکا دے چکا تھا—
سر فرش سے ٹکرایا تھا – ماتھے پر لگی بندیا بری طرح ماتھے میں پیوست ہوئی تھی—خون کی لڑی ماتھے سے بہتی آنکھوں تک ائی تھی—
“میں نے تمہیں کہا تھا کہ مجھ سے مت الجھو— مجھے مت مجبور کرو کہ میں ساری مروت لحاظ چھوڑ کر تمہیں بالاج شاہ بن کر جواب دوں—اس غلطی کے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا”— گھٹنا زمین پر ٹکاتے صبغہ شاہ کے بال اپنی مٹھی میں دبوچتے—غرا کر کہا تو صبغہ شاہ نے آنسوؤں سے لبریز شکوہ کناں نظروں سے بالاج شاہ کو دیکھا تھا—
“میں بھی تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی بالاج—اس لیے نہیں کہ تم نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا—اس لیے کہ تم نے مجھے اپنی صفائی پیش کرنے کا ایک موقع بھی نہیں دیا”— ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ سجائے—بالاج شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں جواب دیا تو بالاج شاہ نے سخت نظروں سے صبغہ شاہ کو دیکھا تھا
“مجھے اور بیوقوف مت بناؤ – جو لڑکی نکاح کرنے کے لیے اپنی ماں کو ہاسپٹل بھیجنے تک کا ڈرامہ کر سکتی ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہے—میرے رویے میں تمہارے لیے کبھی کوئی نرمی تھی—بھی تو وہ اس لیے کہ میں نے کسی رشتے سے تمہیں اپنا مانا تھا—وہ نرمی تمہاری سوکالڈ محبت کی نہیں بالاج شاہ کی فطرت کی وجہ سے تھی—اب تمہیں بتاؤ گا کہ بالاج شاہ اپنے ناپسندیدہ لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک رواں رکھتا ہے”— ایک ایک لفظ کو چبا کر کہتے—ماتھے سے نکلتے خون کی لکیر پر انگوٹھا پھرتے—صبغہ شاہ کی آنکھوں میں دیکھا تھا
ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے وہ جھکٹے سے اٹھتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا
_________
عقیدت سنو—بالاج صبغہ کو لے کر چلا گیا ہے—اور عائث بھی شاید حوریہ کو لے گیا—ایک تو ان بچوں کو بھی کوئی پوچھنے والا نہیں—بھلا یہ تک بنتی تھی—اب رخصتی کا ٹائم ہے کیا کہوں جا کر میں”— ثمرین بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بالاج شاہ سامنے ہو اور وہ اسے سچ میں جوتا لگا دیں—
“او ہو تائی جان—کچھ نہیں ہوتا—کہیں گے کہ چار چار رخصتیاں تھیں اسی لیے سب اپنی اپنی بیویوں کو لے کر جا رہے تاکہ رش کم ہو—اور حوریہ ویسے بھی تھکی ہوئی تھی—شاید اس لیے عائث اسے لے گیا ہو—اب چل کر دوسروں کو رخصت کروائے اس سے پہلے آپ کے دوسرے بیٹے یا داماد بھی اپنی بیوی کو خود ہی رخصت کروا کر لے جائے’—عقیدت کے کہنے پر کشف بیگم نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا تھا
“ٹھیک کہہ رہی ہے عقیدت— ویسے بھی بہت ٹائم ہو گیا—گاؤں والے مہمانوں کو گاؤں واپس پہنچنے میں بھی دیر ہو جائے گی—کہا بھی تھا ضرغام سے کہ اگر مہندی حویلی میں ہو گئی تو بارات بھی وہی اجائے گی—مگر یہ لوگ سن لیں تو پھر نا”—
“چلیں جیسے بھی ہو گیا بہت اچھا ہو گیا—مہمان چلے جائیں گے اگر نا بھی جا سکے تو حدائق کروالے گا انتظام”— کشف بیگم کے کہنے پر حلیمہ بیگم نے جواب دیا تو ان سب نے تائیدی انداز میں سر ہلایا تھا
“باقی ڈسکشن بعد میں کر لیجیے گا یہ سامان گاڑیوں میں رکھوائیں—اور کریں رخصتی”— عقیدت نے گفٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو کشف بیگم نے ملازمہ کو اشارا کیا تھا—
