Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 01)Part 2
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 01)Part 2
Maan Yaram by Maha Gull Rana
“بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ پرانے دنوں کو یاد نہیں کرتے—
پرانے دنوں کو یاد کرنے سے نئے دنوں کو گھن لگ جاتا ہے”
ماضی کو بھول جاؤ عقیدت—ماضی کو کریدنے سے صرف اپنے زخم تازہ ہوگے—صبر کر لو—سب کچھ رب پر چھوڑ دو وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے—
جن پر الزام لگا وہ بھی مر گئے اور لگانے والے بھی مر گئے—تو اب کس سے دشمنی کرنی ہے—ہم سب نے پہلے ہی بہت کچھ جھیل لیا ہے—بہت کچھ کھو چکے ہیں—
اب یہ نفرت اور دشمنی کی جنگ کو ختم ہونے دو—
سب ٹھیک ہو جائے گا—رب پر چھوڑ دو گی تو سکون بھی آ جائے گا”—حدائق شاہ کے نرم لہجے میں کہنے پر عقیدت کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ رینگ گئی
“بات جب باپ کی ہو نا—پھر صبر نہیں آتا بیٹیوں کو—پھر کوئی قول معنی نہیں رکھتا— اور کیا چھوڑ دوں میں رب پر لالا—اس رب نے مجھے اشرف المخلوقات میں پیدا کیا ہے –
مجھے حق اور سچ کے لیے بولنے کے قابل بنایا ہے—تو پھر میں سب کچھ اس پر کیسے چھوڑ دوں—
رب بھی ان کا ساتھ دیتا ہے جو خود کے لیے کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہو—سب کچھ اس پر چھوڑ کر بیٹھ جاؤں تو قیامت کے دن کیا جواب دوں گی—جب وہ پوچھے گا میں نے طاقت دی—دماغ دیا—پیسہ دیا—سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی—حق کے لیے آواز اٹھانے کا جذبہ دیا تو پھر کیوں ہمت نہیں کی—آپ نہیں سمجھے گے لالا—
آپ دشمن کی بیٹی کے عشق میں مبتلا ہے تو اس میں میرا قصور نہیں—
پلوشہ خان آپ کی منگ ہے—آپ کے نام سے منسوب—اسے ڈنکے کی چوٹ پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مانگے—نا کہ میرے باپ کی قبر پر صلح کی مٹی ڈال کر—
آپ کو کیا لگتا ہے میں اپنے بھائی سے بے خبر ہوں—
میں بہت اچھے سے جانتی ہوں لالا کہ آپ پلوشہ خان سے محبت کرتے ہیں—اسی لیے نہیں نا آرہے پاکستان—کیونکہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ دشمنی ختم ہو جائے اور آپ پلوشہ کو مانگے اور بنا کسی اعتراض اور بدمزگی کے آپ کو پلوشہ کا ہاتھ تھما دیا جائے—
ایسا نہیں ہوگا لالا—وہ کبھی بھی پلوشہ آپ کو اس طرح نہیں دے گے—
آپ کو یہاں آنا ہوگا—آپ اس دشمنی کو جیسے بھی ختم کرے—جیسے بھی پلوشہ کو اپنائے—
مگر ایک بات یاد رکھئے گا—میں بابا کو بےقصور ثابت کیے بغیر نہیں رہوں گی”— عقیدت شاہ کے ایک ایک لفظ چبا کر کہنے پر حدائق شاہ نے اپنی آنکھوں سے چشمہ اتار کر سائیڈ پر رکھا
لیپ ٹاپ بند کر کہ اپنی جلتی آنکھوں کو بائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے مسلا
جبکہ سمندر سی گہری نیلی آنکھوں ضبط سے سرخی مائل ہو رہی تھی
ایسا لگ رہا تھا جیسے سمندر میں آگ سی لگی ہو
اپنے سیاہ گھنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا
“اتنا بغیرت نہیں ہوا میں عقیدت شاہ—کہ اپنے چار دن پرانے عشق کے پیچھے باپ کو بھول جاؤں—یا خون سے لت پت اپنے تایا کی لاش کو بھول جاؤں—اپنی ماں کی دل چیر دینے والی چیخیں آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں—
میرا بس چلے تو ایک ہی پل میں خان خاندان کو صفہ ہستی سے مٹا دوں—مگر میں یہ بھی جانتا ہوں میرا یہ عمل میری ماں کو جیتے جی مار دے گا—
میں ماضی بھولنے کو کہہ رہا ہوں—دشمنی نہیں—
اس دن کے بعد خان ابھی تک ہمارے مقابل نہیں ائیں—اسی لیے میں بھی خاموش ہوں—کیونکہ بلاوجہ کی بدمزگی میں نہیں چاہتا—
مگر غلطی سے بھی اگر ان لوگوں نے حویلی کی جانب غلط نگاہ سے دیکھا—تو وہ دن ان کا آخری دن ہوگا—
پھر نا میں ضرغام خان کا لحاظ کروں گا کہ وہ میرے بہن کا ناکح ہے اور نا اس بات کا کہ وہ میری ماں کا چہیتا بھتیجا ہے—
اور رہی بات پلوشہ کی وہ صرف اور صرف حدائق شاہ کی ہے—اور اسے حدائق شاہ کے پاس ہی آنا ہے—سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہتے فون کھٹاک سے بند کردیا
جبکہ عقیدت شاہ کی آنکھیں بے ساختہ نم ہوئیں
“میں نے کبھی نہیں چاہا کہ پلوشہ آپ سے دور ہو لالا—مگر میں کیا کروں—میرے کندھوں پر میرے شہید باپ کو بے گناہ ثابت کرنے کا بوجھ ہے—اس کے ماتھے سے قاتل کے الزام کو مٹانے کا بوجھ ہے—
اور ہر گزرتے دن کے ساتھ میں اس بوجھ تلے خود کو دھنستا ہوا محسوس کر رہی ہوں—
میں نہیں بھلا پارہی لالا ان الزاموں کو ان تہمتوں کو جو میرے ماں باپ پر لگی—لیکن میرا آپ سے وعدہ ہے—میں کسی کو بھی آپ سے پلوشہ کو چھیننے نہیں دوں گی”— موبائل کی سکرین پر حدائق شاہ کی تصویر کو دیکھتے نم لہجے میں سرگوشی کی
موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھنے کے انداز میں ہی پیچھے کو سر گرا کر آنکھیں موند لیں
—————–
افف حور کیوں ڈر رہی ہو یار – محبت کرتی ہو نا مجھ سے تو محبت اسی طرح ثابت کی جاتی ہے—یہ گریز اور شرم و حیا کا محبت میں کوئی کام نہیں—کم آن یار اٹس نارمل ناؤ آڈیز—شاہ نے جھنجھلاتے ہوئے سر جھٹکا اور قدم کمرے کے کونے میں دیوار سے لگی تھر تھر کانپتی حوریہ شاہ کی جانب بڑھائے
جو پسینے سے تر جسم لیے—بری طرح کپکپا رہی تھی
ڈارک براؤن بالوں کی آوارہ لٹے ماتھے اور گردن پر پسینے کے باعث چپکی ہوئی تھیں—کرسٹل گرے آنکھیں رونے کے باعث سرخی مائل ہو رہی تھی—آنکھوں کے پپوٹے رونے کی وجہ سوجھے ہوئے تھے
باریک گلابی لب خشک نظر آرہے تھے— گالوں پر مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان تھے
جبکہ شاہ کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ وہ خود کو دیوار میں گم کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی
جو کہ نا ممکن تھا
“مم—میں نہی—یں کرتی محبت—نن—نفرت ہے مجھے تم سے شاہ—شدید نفرت—”—شاہ کے قریب آنے پر حوریہ شاہ نے چلا کر کہا تو شاہ نے اپنی سرخ انگارا ہوتی آنکھوں سے حوریہ کو گھور کر دیکھا
ایک ہی جست میں دو قدم کے فاصلے کو ختم کر کہ اپنے بائیں ہاتھ کی مٹھی میں حوریہ شاہ کے بالوں کو دبوچا—دائیں ہاتھ کو حوریہ شاہ کے ہونٹوں پر سختی سے رکھ کر اسے زور سے دیوار سے لگایا
جس کے باعث درد کی شدید لہر حوریہ کو اپنے رگ و پے میں سرایت کرتی محسوس ہوئی
“آواز نیچی حوریہ شاہ—ورنہ زبان گدی سے کھینچ لوں گا—تم لوگوں کی وجہ سے سب کچھ کھو دیا ہم نے—اپنا چاچو کھو دیا ہم نے—اپنے باپ کو کھو دیا—اور یہ سب کچھ تمہارے اس گھٹیا نیچ ماموں نے کیا—
دل تو میرا کر رہا ہے—ایک بھی سینکڈ ضائع کیے بغیر تمہارے اس نازک وجود کو اپنے پاؤں تلے روند دوں—اور پھر تمہارے ادھڑے جسم کو تمہارے ننھیال والوں کی حویلی کے آگے پھینک آو—پھر ولی خان کو اپنی چہیتی نواسی کے ناپاک ہوئے وجود پر دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے دیکھو—جو قیامت ہمارے دلوں پر گزری تھی ایک بار پھر وہ ولی خان کی حویلی پر گزرے تو مزہ اجائے”—شاہ کے ذہر میں ڈوبے ایک ایک لفظ پر حوریہ شاہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس سفاک شخص کو دیکھا
جس کی آنکھوں میں اس وقت حوریہ شاہ کے لیے صرف نفرت ہی نفرت تھی
تو کیا پھر وہ جو اتنے دنوں سے حوریہ شاہ ان آنکھوں میں محبت دیکھ رہی تھی—وہ شدت اور وہ جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیے گہری رات سی سیاہ آنکھیں جھوٹ بول رہی تھی—وہ سب فریب تھا حوریہ شاہ کو منہ کے بل گرانے کے لیے
ناجانے کتنے ہی آنسو پلکوں کی بار توڑ کر شاہ کے ہاتھ کی پشت پر گرے—
ہونٹوں سے نکلنے والی بے ساختہ سسکی شاہ کے ہاتھوں تلے دبی رہ گئی
حوریہ شاہ کی کرسٹل گرے کانچ سی آنکھوں میں اپنی کالی گہری آنکھیں گاڑھے شاہ نے ایک ہی جھٹکے میں حوریہ کے گلے سے دوپٹہ کھینچ کر دور اچھالا تو
حوریہ کا اچھل کر جیسے حلق میں آگیا ہو
سر بے ساختہ نفی میں ہلا مگر وہ بے رحم بنتا حوریہ کو دونوں بازوؤں سے دبوچے زمین پر دھکا دے چکا تھا
ابھی وہ ستمگر حوریہ شاہ کو اس کی ہی نظروں میں گراتا—حوریہ شاہ کے معصوم جذباتوں کو روند دیتا—اس سے پہلے ہی کمرے کا دروازا دھاڑ کی آواز سے کھلا
آہہہ—” کھڑکی پر ایک دم سے ہوتی تیز دستک پر حوریہ شاہ ماضی کی دردناک یادوں سے نکلی
غصے سے اپنے دائیں جانب کار کی سیاہ شیشوں سے باہر دیکھا
جہاں تین لڑکے کھڑے تھے
ان میں سے ایک کھڑکی پر جھکا بار بار دستک دے رہا تھا—جبکہ دوسرا مسلسل کسی چیز سے دروازا کھولنے کی کوشش کر رہا تھا—
جسے دیکھے حوریہ شاہ کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے
ایک ہی جھٹکے میں دروازا کھولا تو وہ سامنے والے دونوں لڑکوں کے سر پر لگا
وہ شہر عقیدت شاہ کو منانے کے لیے آئی تھی—وہ چاہتی تھی کہ عقیدت اس کے ساتھ گاؤں چلے—
عقیدت سے بات کر کہ وہ اسے کافی حد تک منا چکی تھی—
عقیدت کام میں مصروف تھی تو وہ اکیلی اسلام آباد کی خوبصورت سڑکوں پر نکل آئی
اسلام آباد کی خوبصورتی کو دیکھتی اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ کتنی دور نکل آئی ہے—
سڑک کے دائیں جانب پہاڑ تھے تو بائیں جانب کھائی تھی—رات کے بارے بجے سڑک کے بیچوں بیچ حوریہ شاہ کی کار کھڑی تھی—
حوریہ شاہ کے دروازہ کھولنے اور کھٹاک سے بند کرنے پر سنسان سڑک پر ارتعاش پیدا ہوا
جبکہ وہ تینوں آنکھوں میں حوس لیے سر تا پیر حوریہ شاہ کے وجود کو دیکھنے لگے
ابھی حوریہ انہیں کچھ کہتی کہ سڑک پر ایک دم سے جیسے بھونچال سا آگیا ہو
دو جیپ کے درمیان بلیک لینڈ کروزر تیز رفتار میں ان کے قریب سے گزری
لینڈ کروزر کی کھلی کھڑکیوں سے آتی تیز میوزک کی آواز پر حوریہ شاہ نے ناگواری سے سر جھٹکا
مگر اگلے ہی لمحے کچھ فاصلے پر ان تینوں گاڑیوں کو رکتے دیکھ ان لڑکوں نے چونک کر دیکھا
جہاں دونوں جیپ پر بیٹھے سیکیورٹی گارڈز اتر کر تیز قدموں سے ان لڑکوں کی جانب بڑھ رہے تھے
جنہیں دیکھ ان لڑکوں نے ہڑبڑا کر ایک دوسرے کو دیکھا
ابھی وہ لڑکے وہاں سے بھاگتے اس سے پہلے ان گارڈز نے انہیں جا لیا
اور گھیٹستے ہوئے جیپ میں بٹھا کر وہاں سے نکلتے چلے گئے
یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ حوریہ شاہ کو کچھ سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا
لینڈ کروزر کے پیچھے کھڑی جیپ بھی آگے کو ہوتی وہاں سے نکل گئی تو سنسان روڈ پر صرف حوریہ شاہ اور بلیک لینڈ کروزر ہی رہ گئی تھی
میوزک کو اب بند کر دیا گیا تھا—حوریہ شاہ نے ایک نظر لینڈ کروزر پر ڈال کر اپنی کار کا دروازا کھول کر ڈیش بورڈ سے اپنا پسٹل اٹھایا
جیسے ہی حوریہ شاہ پلٹی تو ایسا لگا کسی چٹان سے اس کا سر ٹکرا گیا ہو
اپنے گرد پھیلی مخصوص ڈارک کلون کی خوشبو کو محسوس کر کہ حوریہ شاہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا
———–
عائث خان جو اپنے کنسرٹ سے فارغ ہو کر گھر کی جانب جا رہا تھا—
راستے سے گزرتے اسے تین لڑکوں کے بیچ کھڑی لڑکی پر حوریہ شاہ کا گمان ہوا
حوریہ شاہ کو تو وہ لاکھوں کی بھیڑ میں بھی پہنچان سکتا تھا—دشمن جو تھی—دشمن کے خون کی بو تو عائث خان میلوں سے محسوس کر سکتا تھا—اور دشمن بھی وہ جو عائث خان کے نام سے منسوب تھی–
تبھی ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا اشارہ کیا
اسے اندازہ تو ہوگیا تھا کہ وہ لڑکے کون ہو سکتے تھے— اب اتنا تو عائث خان جانتا تھا کہ دشمنی اپنی جگہ مگر شاہ خاندان کے مرد اور عورتیں باکردار ہیں—
پہلے تو دل کیا پسٹل نکال کر یہی حوریہ شاہ کا کام تمام کر دے—راتوں کو سڑکوں پر گھومنے کا شوق بھی پورا ہو جائے گا—
اور خود کا دامن بھی صاف رہ جائے گا—مگر دشمنی کی جگہ خان کی غیرت نے لے لی—جسے پیٹھ پر اور خاص کر عورت پر وار کرنا قبول نہیں تھا
اپنے گارڈز کو اشارہ کر کہ ان لڑکوں کو فارم ہاؤس لے جانے کا کہا
جس پر عمل کرتے ہی وہ پل میں ان تینوں لڑکوں کو لے کر وہاں سے غائب ہوگئے
تبھی دروازا کھول کر مضبوط قدم لیتا وہ حوریہ شاہ کی پشت پر آکر کھڑا ہوا
حوریہ شاہ کے ٹکرانے سے عائث خان کا دل بے ساختہ دھڑکا—حوریہ شاہ کے نرم و نازک وجود سے اٹھتی محسور کن خوشبو حواسوں پر چھاتی محسوس ہوئی تو عائث خان نے بری طرح اپنا سر جھٹکا
حوریہ کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کی گردن کو اپنی آہنی گرفت میں لے کر کار سے حوریہ شاہ کی پشت کو ٹکایا تو حوریہ شاہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے خود پر جھکے خطرناک تیور چہرے پر سجائے کھڑے عائث خان کو دیکھا
“دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے کیا حوریہ شاہ—جو آدھی رات کو بھٹکی آتما کی طرح سڑکوں پر مٹرگشت کرتی پھر رہی ہو”—حوریہ کے چہرے پر جھک کر دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو حوریہ نے گھور کر خود پر جھکے عائث خان کو دیکھا
عائث خان کی غصے کی زیادتی سے تیز چلتی سانسوں کی تپش سے حوریہ کو اپنا چہرہ جھلستا ہوا محسوس ہورہا تھا—
پٹھانی نقوش میں اس وقت غصے کے باعث سرخی گھلی ہوئی تھی—چاکلیٹ براؤن آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھیں—
سفید شرٹ کے کھلے بٹنوں سے جھلکتا کشادہ مضبوط سینہ—وہ مردانہ وجاہت کا شاہکار لگ رہا تھا– جیل سے سیٹ کیے سیاہ گھنے بال دیکھ حوریہ شاہ کی نظریں بائیں جانب سر پر چوٹ کے نشان پر گئی
جہاں چوٹ کی وجہ سے بال نہیں تھے
حوریہ شاہ کی نظروں کے ارتکاز کو محسوس کر کہ عائث خان نے حوریہ کے بال چھوڑ کر
اپنی سخت گرفت میں حوریہ کے کندھوں کو دبوچا
“ہم جہاں بھی جائیں ہماری مرضی—آپ کو ہماری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے عائث خان—اپنے راستے جائیں—میرے منہ مت لگے”—عائث خان کی مضبوط گرفت سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتے سرد لہجے میں کہا تو عائث خان کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی
“یہ تو خوش فہمی—اوو سوری غلطی فہمی ہے تمہاری حوریہ شاہ کہ تمہاری مرضی چل رہی ہے—یہ عائث خان کی ہی مرضی ہے کہ اس کے نام سے منسوب ہو کر بھی تم آزاد ہو—
جس دن میں نے تم سے تمہاری مرضی کا حق چھین لیا نا—کھلا آسمان دیکھنے کو بھی ترس جاؤ گی—
پھر تم پر—تمہارے وجود—تمہاری سانسوں سے لے کر تمہارے ہر لمحے پر عائث خان حکومت کرے گا—تب میں مرضی بھی اپنی چلاؤں اور منمانیاں بھی میری چلے گی—
تو تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی گز بھر لمبی زبان کو قابو میں کر لو—ورنہ کاٹ کر ہاتھ میں رکھ دوں گا”—حوریہ شاہ کے جبڑے کو اپنے بائیں ہاتھ سے دبوچتے دھاڑتے ہوئے کہا
تو حوریہ کو اپنے وجود میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئی
حوریہ شاہ نے اپنی تکلیف سے سرخ ہوتی آنکھوں سے عائث خان کو دیکھا—اور پھر بنا عائث خان کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر ہاتھ میں تھاما پسٹل پوری قوت سے عائث خان کی کنپٹی پر مارا تو پل میں عائث خان کا چہرہ خون سے تر ہوا
درد کی شدت سے عائث خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچ کر اپنی آنکھیں پل کے لیے میچ لیں
جبکہ حوریہ شاہ نے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ خود پر ہنوز جھکے عائث خان کو دیکھا
جس کا چہرہ دائیں جانب خون سے تر ہو رہا تھا
“دل تو میرے چاہ رہا ہے—تمہاری اس حرکت پر تمہاری چمڑی ادھیڑ کر رکھ دوں—یا اس گاڑی سمیت تمہیں بھی اٹھا کر اس کھائی سے نیچے پھینک دوں—
مگر نہیں حوریہ شاہ تم سے پہلے کے بھی بہت سے حساب بے باک کرنے ہیں—
تم سے نا نفرت ہے نا محبت—ضد ہو تم اس خان کی—بات منگ کی نہیں میری انا کی ہے—تم سے اپنی سیج سجا کر حدائق شاہ اور بہرام شاہ کے غرور کو چور چور کرنا ہے—
اس تکلیف کا بدلہ ہر رات تمہارے وجود پر اپنی شدتیں نچھاور کر کہ تمہیں تڑپنے اور موت کی بھیک مانگنے کے لیے مجبور کر کہ نا لیا تو میرا نام بھی عائث خان نہیں”—اپنی کنپٹی سے نکلتے خون کی طرف اشارہ کرتے زخمی شیر سی دھاڑ لیے غرا کر کہا تو حوریہ شاہ کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے
“ہنہہ—مجھے نہیں معلوم تھا کہ اب خان بدلہ اور دشمنی نبھانے کے لیے عورتوں کا سہارہ لینے لگے ہیں—میرے وجود میری عزت نفس کو کچلنا چاہتے ہو خان— تو بیوی بنا کر کیوں—ابھی کرو نا—بیوی بناؤ گے تو کوئی کچھ کہنے والا بھی نہیں ہوگا نا تمہیں نا مجھے—
اب کرو—تاکہ لوگ میرے کردار کی دھجیاں اڑائیں—میرے بھائی کے سر پر خاک ڈالیں کے وہ میری حفاظت نہیں کر سکا—
جو کرنا ہے ابھی کرو خان— بیوی بنا کر کرو گے تو شرم سے ڈوب نا مرو گے—کہ اپنی ہی عزت کو داغدار کر رہے ہو— بولو نا عائث خان”—اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں میں عائث خان کی شرٹ کو دبوچتے روتے ہوئے چلا کر کہا تو عائث خان کا دل ایک لمحے کے لیے ساکت سا رہ گیا
حوریہ شاہ کی آنکھوں میں ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں کو محسوس کر کہ عائث خان کو اپنے دماغ کی شریانیں پھٹتی ہوئیں محسوس ہوئی
وہ اندھا تو نہیں تھا—وہ انڈسٹری کی دنیا میں رہنے والا مرد تھا— وہ دن میں ہزاروں قسم کے لوگوں سے ملتا تھا— وہ لوگوں کے انداز و اطوار سے ان کے کردار کو جانچ لیتا تھا—
اور یہاں تو حوریہ شاہ کی کانچ سی شفاف آنکھیں تھیں—جن میں موٹے موٹے آنسو جھلملا رہے تھے—عائث خان تو حوریہ شاہ کی آنکھوں سے روح تک اتر جانے کا ہنر رکھتا تھا—
وہ صرف اس کے نام سے ہی منسوب نہیں تھی—وہ تو عائث خان کے دل سے بھی منسوب تھی—چاہے وہ منسوب ہونا محبت کی وجہ سے تھا یا نفرت کی وجہ سے—مگر عائث خان کے دل کے قریب ہونے کا حق آج تک صرف اور صرف حوریہ شاہ کو ہی حاصل ہوا تھا
“کون ہے وہ حوریہ شاہ—کون ہے وہ جس کے لیے ماتم کرنے کے لیے تم میرے الفاظوں کا سہارہ لے رہی ہو—
اس سے پہلے میرا ضبط جواب دے جائے مجھے بتا دو حوریہ—کہ کس گھٹیا شخص کو تم میرا حق بانٹ آئی ہو—اس دل میں میرے علاؤہ کسے بسایا تھا تم نے—اس سے پہلے میں تمہیں یہی زمین میں گاڑھ دوں مجھے اس ** شخص کا نام بتاؤ”—حوریہ شاہ کی کمر کے گرد اپنا مضبوط بازو لپیٹ کر ایک ہاتھ سے حوریہ کے بالوں کو اپنی سخت گرفت میں لے کر دھاڑتے ہوئے کہا تو حوریہ شاہ کو اپنے پاؤں سے جان نکلتی محسوس ہوئی
خشک پڑتے حلق کو تر کر کہ نم نگاہوں سے خود کو خونخوار نظروں سے گھورتے عائث خان کو دیکھا
“کیا وہ واقع میری آنکھوں سے میرے اندر کا حال جان گیا تھا—کیا وہ سچ میں جان گیا تھا کہ اس وقت حوریہ شاہ دھاڑیں مار مار کر اپنی ناقدری پر رونا چاہتی تھی—اگر وہ سچ میں جان گیا تھا تو کیا وہ کبھی مجھے اس کے لیے معاف کر سکے گا—یقیناً نہیں—خان اور بے وفائی معاف کر دے—یہ تو قیامت تک ناممکن ہے—اور ویسے بھی کہاں کی بے وفائی—نفرتوں کے رشتوں میں وفا کوئی معنی نہیں رکھتی”—نظریں عائث خان کی کنپٹی پر جمے خون پر مرکوز کیے اپنے خیالوں میں گم وہ عائث خان کی ذات کو فراموش کر چکی تھی—
“مجھ پر تمہارا کوئی حق نہیں تھا—جب حق نہیں تھا تو کہاں کی بے وفائی اور کہا کی حق تلفی—مجھے تم سے نفرت ہے عائٹ خان— اور اس نفرت کی جنگ میں مجھے کبھی بے وفا نا پاؤ گے –
میں صرف تمہارے باپ کے قاتل کی بیٹی ہوں—مجھ سے صرف قاتل کی بیٹی والا رشتہ رکھو—کیونکہ میری نظر میں بھی تم میرے تایا کے قاتل کے بھتیجے ہو—
اس سے زیادہ کچھ نہیں”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے عائث خان کے زخم پر انگلی سے دباؤ ڈالا تو عائث خان نے سختی سے جبڑے بھنچ کر ایک جھٹکے میں حوریہ شاہ کو خود سے الگ کیا
حوریہ کا بازو اپنی سخت گرفت میں لے کر دوسری جانب آکر حوریہ کو پٹکنے کے انداز میں کار میں بٹھایا
اور واپس آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا
جبکہ اس دوران عائث خان کے چہرے پر چٹانوں سی سختی تھی—
“آج تمہاری غلطیوں میں ایک گناہ بھی شامل ہو گیا ہے حوریہ شاہ—عائث خان کا حق کسی اور کو دینے کا—میں کبھی معاف نہیں کروں گا تمہیں حوریہ شاہ—کبھی بھی معاف نہیں کروں گا—عائث خان تو اپنی ملکیت پر کسی کی نظر برداشت نا کرے—کجا کہ اس کے دل میں کسی اور کے لیے جذبات کا ہونا—میرا دل چاہ رہا ہے—اس وقت ساری دنیا کو تہس نہس کردوں—یا تمہیں ہی گولی سے اڑادوں—
سوچو حوریہ شاہ یہ تو صرف میرے نفرت کی انتہا ہے—محبت اور عشق تو بہت بعد کی باتیں ہیں—یہ نا ہو میں نفرت میں ہی وہ سب کر گزروں جو لوگ محبت میں بھی نہیں کرتے—
میں ساری حدوں کو توڑوں اس سے بہتر ہے تم میرے حصار کی حدود میں آجاؤ تا کہ یہ دونوں خاندان اور تم تباہ ہونے سے بچ جاؤ”—ایک ہی جھٹکے میں گاڑی حوریہ شاہ کے محل نما بنگلے کے آگے روکتے پراسرار لہجے میں کہا تو حوریہ شاہ نے ایک سپاٹ نگاہ کار سے اترتے عائث خان کی چوڑی پشت پر ڈالی
عائث خان اترنے سے پہلے ہارن بجا چکا تھا اسی لیے دوسرے ہی لمحے چوکیدار نے گیٹ کھولا تو حوریہ نے گہری سانس بھر کار سے باہر نکلی
جبکہ حوریہ شاہ کو اندر داخل ہوتے دیکھ عائث خان نے سرخ نظروں سے حوریہ شاہ کی پشت کو دیکھا
عائث خان جب حوریہ کی کار میں بیٹھا تبھی اس کا ڈرائیور عائث خان کی لینڈ کروزر کو ان کے پیچھے ہی لے آیا تھا
ڈرائیور کو والٹ سے نکال کر پیسے دیے اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر ایک آخری نگاہ بند سیاہ گیٹ پر ڈال کر زن سے گاڑی وہاں سے بھگا لے گیا
