Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 41,42)

Maan Yaram by Maha Gull Rana

دروازا کھول کر وہ اپنے آفس میں داخل ہوا تھا— سفید کوٹ کو اتار کر کرسی کی پشت پر رکھا تھا—

ٹیبل اور رولنگ چئیر کے درمیان کھڑے ہوتے حدائق شاہ نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا تھا—

پاسورڈ لگاتے فون ان لاک ہوا تو—نظریں وال پیپر پر لگی پلوشہ اور اپنی شادی کی تصویر پر گئیں تو پلوشہ خان کے جھکے چہرے کو دیکھتے حدائق شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی پھر سر جھٹکتے—چئیر پر بیٹھتے وہ کسی کا نمبر ملاتے موبائل کان سے لگا چکا تھا—

دوسری ہی رنگ پر دوسری جانب سے کال اٹھا لی گئی تھی—

جسے محسوس کرتے حدائق شاہ نے چئیر کی پشت سے ٹیک ہٹائی تھی—

“کام کا کیا بنا ظفر—ضرغام پر نظر رکھ رہے ہو نا”— نظریں ٹیبل کی سطح پر جمائے سخت لہجے میں استفسار کیا تو دوسری جانب کچھ توقف کے لیے خاموشی چھا گئی

“جی شاہ صاحب—ابھی وہ ہاسپٹل میں ہیں—اور ضرغام خان کے بندے اس کے کمرے کے باہر پہرہ دے رہے ہیں—جیسے ہی وہ ہاسپٹل سے نکلے گا تو اس بار کوئی غلطی نہیں ہوگی—ایکسڈنٹ اس قدر بھیانک ہوگا کہ لاش تک کو پہچاننا مشکل ہو جائے گا”— ظفر نامی شخص نے آہستہ آواز میں ٹھہر ٹھہر کر جواب دیا تو حدائق شاہ نے ہنکارہ بھرا تھا—

“اگر کسی کو شک ہوا تو یاد رکھنا—تمہاری لاش بھی کسی کو نہیں ملے گی”— ٹھٹھرا دینے والے لہجے میں کہتے وہ دوسری جانب موجود شخص کی سانسیں خشک کر چکا تھا—جبکہ نیلی گہری آنکھیں نا محسوس انداز میں آفس کے اطراف کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں—

واس میں لگے خوبصورت تازہ گلاب کے پھولوں کو ایک نظر دیکھتے وہ کمر چئیر کی پشت سے ٹکا چکا تھا—

“نن-نہیں شاہ صاحب کسی کو شک نہیں ہوگا—آپ کا نام کبھی سامنے نہیں آئے گا—اس ایکسیڈنٹ کو وہ ایک حادثہ سمجھ رہے ہیں کسی کو اس بات پہ شک نہیں ہوا کہ وہ حادثہ نہیں سوچی سمجھی سازش تھی—کوئی نہیں جان پائے گا کہ حدائق شاہ نے ضرغام خان کو شہر سے واپسی پر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا—کوئی یہ بات سوچ بھی نہیں سکتا شاہ”- بکواس بند کرو اپنی—دوبارا یہ بات تنہائی میں بھی اپنی زبان پر نا لانا- ابھی وہ مزید بولتا کہ حدائق شاہ کی گرجدار آواز سنتے سختی سے ہونٹ بھنچ گیا تھا–

“ج-جی جی شاہ صاحب کبھی نہیں”—منمنا کر معذرت کی جسے سنتے حدائق شاہ نے غصے سے سرخ پڑتے جھٹکے سے فون بند کرتے موبائل ٹیبل پر اچھالا تھا

کہنیاں ٹیبل پر رکھتے ہاتھوں میں سر گراتے—ابھی وہ اپنے غصے پر قابو پانے کی سہی کر ہی رہا تھا کہ کوئی عجلت میں دروازا ناک کرتے اجازت ملنے کی پرواہ کیے بغیر اندار داخل ہوا تھا

اس سے پہلے حدائق شاہ غصے سے سامنے والی کی کلاس لیتا کہ نرس کی بوکھلائی آواز پر وہ چونکنا ہوا تھا—

“سر پلیز جلدی چلئے—ایمر جنسی میں تین عورتیں آئیں ہیں—ایک کو بری طرح جلایا گیا ہے—دوسری کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور ایک کو بہت بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے”—- نرس کے چہرے کی ہوائیاں اڑے دیکھ اور بات سنتے ایک لمحے کے لیے وہ سکتے میں آیا تھا—مگر پھر اگلے ہی لمحے برق رفتاری سے وہ اپنی جگہ سے اٹھتا باہر کی جانب بھاگا تھا—

“کون لایا ہے ان لڑکیوں کو”— ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھتے وہ اپنے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کرتی نرس سے مخاطب ہوا تھا—

سس—سر کوئی نہیں”—نرس نے ہاتھ آپس میں مسلتے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے جواب دیا تو حدائق شاہ نے الجھ کر اسے دیکھا تھا

سر وہ ہاسپٹل کی بیک سائیڈ پر کوئی پھینک کے چلا گیا—وہاں سے گزرتے ایک آدمی کی نظر پڑی تو وہ لایا ہے—سر ان کی حالت اس قدر بری ہے کہ”— ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ حدائق شاہ ہاتھ کے اشارے سے روکتا ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوتے وہ اسٹریچرز کی جانب بڑھا تھا جن کے قریب ڈاکٹر گھیرا بنائے ہوئے تھے—ایمرجنسی میں اس وقت قہرام مچا ہوا تھا وہاں موجود دوسری مریض عورتیں—ان تینوں لڑکیوں کی حالت دیکھتے چیخ و پکار کرتی روتی دہائیاں دیتی ان لڑکیوں کی ایسی حالت کرنے والے کو بددعائیں دے رہی تھی

حدائق شاہ کو دیکھتے ڈاکٹرز سائیڈ پر ہوئے تھے—جبکہ ڈاکٹرز کے سائیڈ پر ہونے پر حدائق شاہ کی نظریں سامنے اسٹریچرز پر لیٹی لڑکیوں کی حالت پر گئی تو حدائق شاہ کی آنکھیں غم و غصے سے لمحے میں سرخ انگارا ہوئی تھیں

“یا اللّٰہ رحم”— سرگوشی نما لہجے میں لفظ ادا ہوئے تھے—گہری سانس لیتے حدائق شاہ نے اپنا کپکپاتا ہاتھ بری طرح جھلسی لڑکی کی کلائی کی جانب بڑھایا تھا—

“سر یہ پولیس کیس ہے—قانونی کروائی ضروری ہے اس لیے ہمیں پہلے پولیس”— ساتھ کھڑا ڈاکٹر پروفیشنل لہجے میں اپنی بات مکمل کرتا کہ حدائق شاہ نے سرخ انگارا ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتے جھٹکے سے اس کا کالر دبوچا تھا

“پولیس—قانون مائے فٹ— یہ تینوں لڑکیاں حدائق شاہ کے ہاسپٹل کی چھت تلے ہیں— اگر ان میں سے کسی کی بھی جان گئی تو میں تمہیں ایسا قانون سکھاؤں گا ڈاکٹر کہ اپنی ساری ڈاکٹری بھول جاؤ گے—ہری ایپ ٹیم”—شیر سی دھاڑ لیے غرا کر کہتے جھٹکے سے کالر چھوڑتے وہ باقی ڈاکٹرز سے مخاطب ہوا تو وہ جلدی سے اسٹریچرز تھامتے آپریشن تھیٹر کی جانب بڑھے تھے

کہ تبھی زخموں سے چور لڑکی—جس کے چہرے پر اس قدر تشدد کیا گیا تھا کہ وہ ایک جانب سے مسخ ہو چکا تھا—جسم پر دیا گیا سفید کپڑا خون سے تر ہوتے اس کے جسم کے ساتھ چپک چکا تھا—سر کے بال کئی جگہ سے کاٹے اور جلائے گئے تھے—اس کے جسم میں حرکت دیکھ حدائق شاہ ڈاکٹرز کو جلدی کا اشارہ کرتا کہ سفید کپڑے سے لڑکی کا ہاتھ باہر نکلا تھا جسے دیکھ حدائق شاہ اسے دوبارا کپڑے میں کرنے کی غرض سے جھکا تھا—مگر لڑکی کے ہاتھ کی بند مٹھی میں دبے کاغذ کو دیکھ حدائق شاہ نے گردن ترچھی کرتے لڑکی کے چہرے کی جانب دیکھا تھا—

جو ساکت پانی سے بھری آنکھیں غیر مری نقطے پر ٹکائے ہوئے تھی—جسے دیکھتے حدائق شاہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا—نظریں دوبارا لڑکی کے ہاتھ میں تھامے کاغذ پر مرکوز کرتے وہ کانپتے ہاتھوں سے اس کاغذ کو نکال چکا تھا—حدائق شاہ کے کاغذ نکالنے پر جو ڈاکٹرز اسٹیرچر روک چکے تھے تیزی سے آپریشن تھیٹر کی جانب بڑھے تھے—

جبکہ حدائق شاہ نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں کو قابو پاتے جلدی سے اس طہ شدہ کاغذ کو کھولا تھا

“تین لڑکیاں—تین زندگیاں—شاہ خاندان کی تین عزتوں کا مستقبل—لیکن—اممم— بہنوں کا یا بیویوں کا”—پرنٹر سے بڑے بڑے سرخ حروف میں ٹائپ کیا گیا کچھ الفاظوں کا یہ کاغذ حدائق شاہ کی جان لبوں پر لے آیا تھا—

“سلویٰ—حوریہ لالا کی جان”—- ان دونوں میں تو حدائق شاہ کی جان تھی وہ جانتا تھا کہ عقیدت خود کی حفاظت کر سکتی ہے دل اس کے لیے بھی پریشان ہوا تھا—مگر ان دو معصوموں کا سوچتے حدائق شاہ کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی—

پلوشہ—بھابھی آوو خدا صبغہ—یا اللّٰہ ان سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا”— کاغذ کو مٹھی میں سختی سے بھنچتے قدم ڈرسنگ روم کی جانب بڑھائے تھے—

سبز لباس پہن کر آپریشن تھیٹر کی جانب بڑھتا وہ اپنے موبائل پر تیزی سے ٹیکسٹ ٹائپ کر کہ سینڈ کرنے کے بعد بہرام شاہ کو کال ملا چکا تھا—

جو پہلی رنگ پر ہی اٹھا لی گئی تھی—

________

بہرام شاہ کے آفس کے باہر رکتے بالاج شاہ نے گہری سانس لی تھی—

رسیپشنسٹ اسے بتا چکی تھی کہ بہرام شاہ سے عائث خان ملنے کے لیے آیا ہے— جس پر وہ محض سر ہلاتے بہرام شاہ کے آفس کی جانب آگیا تھا—

اب وہ اندر جائے یا نا جائے کی شش و پنج میں مبتلا تھا—پھر یہ سوچ کے کہ شاید بہرام شاہ نے ان دونوں کو بات کرنے کی غرض سے بلایا ہے گہری سانس لیتے وہ آفس کا دروازا کھولتے قدم آفس میں رکھ چکا تھا

مگر سامنے اپنی چئیر پر بیٹھے بہرام شاہ کو دیکھتے اور وہاں عائث خان کو نا پا کر بالاج شاہ نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا—

ابھی وہ یہ شکر زبانی الفاظ میں ادا کرتا کہ آفس سے ملحقہ واشروم سے پانی گرنے کی آواز سنتے بالاج شاہ کے چہرے کے زاویے پل میں بگڑے تھے جبکہ سامنے رولنگ چئیر پر بیٹھے بہرام شاہ نے بالاج شاہ کے چہرے کے بگڑتے زاویے دیکھ اپنی ہنسی کو ضبط کیا تھا

بالاج شاہ اس کا بھائی تھا اور بہرام شاہ اس کی سوچ تک رسائی رکھتا تھا

اپنی خوشی پر افسوس ہو گیا ہو تو آؤ بیٹھ جاؤ اب”—بالاج شاہ کو دروازے کے سامنے ایستادہ دیکھ نرم لہجے میں کہا تو بالاج شاہ نے تاسف سے سر جھٹکتے قدم بڑھائے تھے—

درمیان میں پڑے ٹیبل کے سامنے دو چئیرز کو دیکھتے بالاج شاہ نے ایک نظر بہرام شاہ کو دیکھا تھا—جو ٹیبل کے پار چئیر پر بیٹھا بائیں انگھوٹے کو ہونٹ کے نیچے رکھے رب کرتے بالاج شاہ کو دیکھ رہا تھا—

“آپ آفس کے باس ہیں تو آپ کی چئیر پر تو نہیں بیٹھ سکتا اور نا آپ سے کہہ سکتا ہوں کہ اپنے بھائی پر ترس کھائے اور یہاں آجائیں مجھے وہ جگہ دے دیں—اور جہاں جگہ مل رہی ہے یہاں بیٹھ گیا تو شاید وہ خان کہی اور بیٹھنے لائق نا چھوڑے”— ٹیبل پر آگے کو جھکتے چہرے پر گہری سنجیدگی اوڑھے آہستہ آواز میں کہا تو بہرام شاہ نے گھور کر بالاج شاہ کو دیکھا تھا—

“اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ تم اس کے سامنے باس کی ح بیٹھو گے تو سامنے بیٹھ کر وہ تمہاری آرتی اتارے گا نا”— بہرام شاہ کے طنزیہ لہجے پر بالاج شاہ نے سر جھٹکتے اپنے کوٹ کا بٹن کھولتے جگہ سنبھالی تھی—

کہ تبھی واشروم کا دروازا کھلنے کی آواز اور قدموں کی چاپ سنتے بالاج شاہ نے ٹیبل پر پڑے نیوز پیپر کو اپنی جانب کھسکایا تھا—

“لالا آپ فری ہو جائیں تو آجائیں گا میں پارکنگ میں آپ کا ویٹ کر رہا ہوں”— بالاج شاہ کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے بہرام شاہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ نے بری طرح پہلو بدلا تھا

“نہیں رکو ساتھ ہی چلتے ہیں— اور تم بتاؤں تمہارا یہاں کیسے آنا ہوا”—فائلز سمیٹتے ایک ساتھ دونوں سے مخاطب ہوتے کہا تو عائث خان نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا جبکہ بالاج شاہ نیوز پیپر ٹیبل پر پٹھکتا اپنی جگہ سے اٹھا تھا—

“ایک تو میں یہاں اس شخص سے بنا کسی بات بنا کسی غلطی کے پنچ کھانے کے بعد بھی اسے یہاں اس دن کی مس اینڈرسٹیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے آگیا ہوں اور دوسرا آپ مجھے یہاں بلا کر اب پوچھ رہے ہیں کہ میں کیوں آیا ہوں—اگر آپ بھول چکے ہیں تو خیر ہے—بالاج شاہ تو ہے ہی بیکار فارغ انسان نا—جس کے پاس فالتو کا اتنا وقت ہے جہاں مرضی لٹا دے— کونسا کوئی کام دھندا ہے—آپ جائیں جہاں جانا ہے—جس کے ساتھ مرضی جائے”— پہلے تو عائث خان کا اس قدر اگنور کرنا اس دن تو وہ شخص اسے بلاوجہ مار چکا تھا—اور اب شاید اس کا بھائی یہاں عائث خان کو حقیقت بتا چکا تھا تو اب وہ خان معافی مانگنے کی بجائے ایٹیٹیوڈ دکھا رہا تھا اور پھر اس کا اپنا بھائی اسے وہاں خود بلا کر پوچھ رہا تھا کہ تمہارا یہاں کیسے آنا ہوا—اس بات کے جواب کے بعد وہ اس مسینے خان کے ساتھ کہی جانے بھی والا تھا بالاج شاہ کا تو خون ہی کھول اٹھا تھا مطلب کہ وہ اتنی دور سے اپنے کام کاج روٹھی بیوی کو منائے بغیر یہاں آیا تو اس بات کی کوئی ویلیو ہی نہیں تھی

“ایک منٹ سانس تو لو بالاج— صبغہ کی روح آگئی ہے کیا—اور ہم کہی نہیں جا رہے—گھر ہی ساتھ جانے والے تھے چاہو تو تم بھی ساتھ آجاؤ – اور دوسری بات میں نے تمہیں نہیں بلایا—میں تمہیں حویلی اور ڈیرے کے سارے کام چھوڑ کر یہاں بلاوجہ کیوں بلاؤں گا”—- بہرام شاہ نے اپنی نشست سے کھڑے ہوتے تحمل سے جواب دیا تو عائث خان نے کوفت سے آنکھیں گھماتے بالاج شاہ کو دیکھا تھا—

“آپ نے مجھے بلایا تھا لالا—میں کیوں جھوٹ بولوں گا—یہ دیکھ لیں اپنا میسج”— بالاج شاہ نے جھنجھلائے لہجے میں کہتے موبائل پر بہرام شاہ کا میسج نکال کر اسے دکھایا تو عائث خان ٹھٹھک کر ان دونوں کی جانب متوجہ ہوا

“لیکن میں نے تمہیں میسج نہیں کیا بالاج”—بالاج شاہ کی جانب دیکھتے حیرت سے جواب دیا ابھی اس سے پہلے عائث خان کچھ کہتا کہ بہرام شاہ اپنے فون پر آتی کال کی جانب متوجہ ہوا حدائق شاہ کا نام دیکھ وہ کال پک کرتا کان سے لگا چکا تھا—

آگے سے جو باتیں حدائق شاہ نے اسے بتائی انہیں سنتے بہرام شاہ نے سختی سے مٹھی بھنچی تھی—

“تم کہاں ہو— اگر ہاسپٹل میں ہو تو نکلو وہاں سے حویلی پہنچو”— نہیں لالا—یہ معصوم ہماری وجہ سے اس حال میں ہے—میں آپریشن کے بعد یا صورتحال کچھ بہتر ہوتے آتا ہوں—شہر سے ڈاکٹرز کی ٹیم بھی بلالی ہے وہ پہنچ جائے تو میں حویلی جاؤں گا—ان کی جان بچانا میرا پہلا فرض ہے”— بہرام شاہ کے غرا کر کہنے پر نرمی سے جواب دیتے وہ فون بند کر چکا تھا—

جبکہ فون بند ہوتے بہرام شاہ نے باہر کی جانب دوڑ لگائی تھی—جسے دیکھتے عائث اور بالاج بھی اس کے پیچھے بھاگے تھے—

“کیا ہوا لالا سب ٹھیک تو ہے نا”— عائث خان کے پوچھنے پر وہ ایک ہی سانس میں سب بتاتا بار بار موبائل سے حویلی کا نمبر ڈائل کر رہا تھا—جو کہ مسلسل بند جا رہا تھا—جس پر بہرام شاہ نے موبائل پٹھکھنے کے انداز میں ڈیش بورڈ پر مارا تھا—

“عائث تم چھوٹے خان کو فون کرو— میں ابھی تھانے فون کر کہ پولیس کو بھیجتا ہوں حویلیوں کی سیکیورٹی کے لیے—چھوٹے خان سے کہو حوریہ لوگوں کے لے کر شاہ حویلی چلا جائے—صبغہ وہاں بیسمنٹ کے بارے میں جانتی ہے وہاں کوئی نہیں جا سکتا—وہاں وہ سب محفوظ رہے گے”—- اپنے موبائل پر جلدی سے انگلیاں چلاتے بالاج شاہ نے عائث خان سے کہا تو عائث خان نے سر اثبات میں ہلاتے چھوٹے خان کا نمبر ملایا تھا—

“نہیں لگ رہا کسی کا نمبر—یا تو ان کے نمبر بزی جا رہیں—یا کسی سے رابطہ ممکن نہیں – یہ سب ٹریپ ہے—ہمارے فونز تک ان کے کنٹرول میں ہیں”— بالاج شاہ کی سرد ٹھہری آواز پر وہ دونوں پل کے لیے ساکت ہوئے تھے—پھر اگلے ہی لمحے بہرام شاہ نے خطرناک حد تک گاڑی کی سپیڈ بڑھائی تھی—

_________

بھاری ہوتے سر کو تھامتے اس نے بامشکل اپنی آنکھیں کھولیں تھی—کمرے میں چھائے اندھیرے میں لیمپ کی مدھم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی—

جاگی سوئی کیفیت میں وہ ارگرد نظریں گھماتی پشت بیڈ کراؤن سے ٹکا چکی تھی—ہوش کچھ بحال ہوئے تو یاد آیا کہ وہ اپنے کمرے میں نہیں ہے—آنکھوں کے پردے پر جنگل کے آخری لمحات سرکے تو وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی—

جھٹکے سے کمفرٹر اتارتی وہ نیچے اتری تھی—زمین پر پاؤں رکھتے احساس ہوا جیسے کسی نرم روئی میں پاؤں دھنس گئے ہو مگر وہ مکمل طور پر نظر انداز کرتی آگے بڑھتی دیواروں کو ٹٹولتی کمرے کی لائٹس ان کر چکی تھی—

لائیٹس ان کرتے وہ جیسے ہی پلٹی تھی روشنی میں نہائے کمرے کے درو دیوار کو دیکھتے عقیدت شاہ اپنی جگہ منجمد ہوئی تھی—کمرہ چاروں اطراف سے عقیدت شاہ کی تصویروں سے سجا ہوا تھا—

سب تصویریں تب کی تھی جب وہ پاکستان نہیں تھی—اور کچھ تصویریں پاکستان واپس آنے کے بعد کی تھی—کچھ تصویروں پر وہ ہارس رائڈنگ کر رہی تھی—کچھ میں وہ اپنے شو کے لیے ریڈی ہو رہی تھی گو کہ عقیدت شاہ کے ہر لمحے کو ان تصویروں میں قید کر کہ دیواروں سے چسپاں کیا گیا تھا

آگے بڑھتے قدم ٹیبل پر پڑی ایک تصویر کو دیکھتے ساکت ہوئی تھے—عقیدت شاہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس تصویر کو دیکھا تھا—

وہ تصویر جنگل میں لی گئی تھی—جہاں وہ ضرغام خان کے ہمراہ تھی—تصویر میں ضرغام اس کے چہرے کے قریب جھکا تھا—اور وہ سرخ پڑتے چہرے کو جھکائے کھڑی تھی—

گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتے عقیدت نے اس تصویر کو اٹھایا تو نظریں اس کے نیچے پڑی دوسری تصویر پر گئی تھی جہاں ضرغام خان اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا—اور وہ آنکھیں بند کیا اس کے کندھوں کو تھامے ہوئے تھی—

کپکپاتے ہاتھوں سے وہ تصویر کو واپس رکھتے جھٹکے سے اٹھی تھی—

نظریں کمرے کے بند دروازے پر گئی تو عقیدت جلدی سے اس جانب بڑھی تھی—

عقیدت کا خیال تھا کہ دروازا بند ہوگا مگر جیسے ہی اس نے کھولنے کی کوشش کی تو دروازا آسانی سے کھل گیا تھا جس پر عقیدت کو خوشی کی بجائے حیرت ہوئی تھی—

دروازا کھولتے جیسے ہی قدم باہر رکھے عقیدت کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا—کمرہ جس قدر شاندار تھا جسے دیکھتے کسی محل کے کمرے کا گماں ہوا تھا مگر کمرے کی باہر کی دنیا اس سے یکسر مختلف تھی—عقیدت کو لگا تھا جیسے وہ کسی جیل کی راہداری میں آگئ ہو

چوڑائی میں تنگ سے نیم اندھیرے میں ڈوبی راہداری—جو کہ دائیں بائیں دور تک پھیلی ہوئی تھی—

خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتی وہ شش و پنج میں مبتلا تھی کہ تبھی دور سے آتی آوزیں جو کہ اس تنگ سی راہداری کی دیواروں سے ٹکرا کر پھیل رہی تھی—ان کے تعاقب میں بائیں جانب بڑھی جیسے جیسے وہ ان آوازوں کی جانب بڑھ رہی تھی—عقیدت کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا—

“عقیدت یہاں آگئی ہے—تھوڑی دیر میں پلوشہ امتثال کو لے کر بھی یہاں پہنچ جائے گی—تمہارا جو دل کرے ان کے ساتھ کرو مگر ہمیں جلد از جلد اس ملک سے جانے دو”— مقدس بیگم کی جھنجھلائی آواز پر عقیدت نے تکلیف سے آنکھیں میچی تھی

“ہاں اب میرا اور میری بہن کا کام ختم ہوا ہمیں جلد از جلد یہاں سے جانا ہے”— بادام گل کے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہنے پر دوسری جانب سے ہنکارہ بھرا گیا تھا

جبکہ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی راہداری سے مڑتی سیڑھیوں کی طرف اچکی تھی—ریلنگ پر ہاتھ جمائے نیچے دیکھنے کی کوشش کی تو نظریں مقدس بیگم اور بادام گل سے ہوتی سامنے صوفے پر بیٹھے شخص کی پشت سے ٹکرائی تھی

سیاہ پینٹ کوٹ پہنے ٹانگ پر ٹانگ جمائے—بیٹھا وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھتا بادام گل کے کندھے پر ہاتھ رکھتے—اس کے کان کی جانب جھکتا کچھ کہہ رہا تھا جسے سنتے بادام گل نے سر اثبات میں ہلایا تھا—

اور اپنی بات مکمل کرتے وہ شخص پلتا تھا اور اس کے پلٹنے پر عقیدت کو لگا کسی نے یخ ٹھنڈا پانی اس کے وجود پر انڈیل دیا ہو

“ضرغام”— ہونٹوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی تھی—پورا وجود سکتے میں تھا—ریلنگ پر جمے ہاتھ بری طرح لڑکھڑا کر پہلو میں ان گرے تھے

سبز آنکھیں پل میں لبالب پانیوں سے بھری تھیں

گہری سانس لیتے آنسوؤں پر بامشکل قابو پاتے دوبارا سے سامنے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا

اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنتے عقیدت سانس روکے پلٹی تھی—سبز نگینوں سی آنکھیں حیرت غم بے بسی سے نیلی آنکھوں سے جا ٹکرائی تھی—مگر دل میں پہلے کی طرح کوئی ہلچل نہیں ہوئی تھی—دھڑکنیں ساکت تھی—

پورا وجود عجیب سی بے چینی کے حصار میں تھآ

“تم ضرغام خان یہ سب کیا کر رہے ہو—پلوشہ امتثال کو یہاں کیوں لانے والی ہے کیا کرنے کا سوچ رہے ہو تم—کزن ہے نا وہ تمہاری—تمہارے ہی خاندان کی”— غم و غصے بے بسی سے وہ دبہ دبہ چلائی تھی—مگر دوسری جانب وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ اڑسے ٹکٹی باندھیں عقیدت شاہ کے وجود کو دیکھ رہا تھا—نظریں سر سے پاؤں تک سرکتی عقیدت شاہ کو عجیب کوفت میں مبتلا کر رہی تھی—

“کچھ غلط تھا اور بہت زیادہ غلط تھا—جو نظر آرہا تھا وہ دل نہیں مان رہا تھا—آنکھیں خود نظر آتے منظر کی سچائی سے انکاری ہو رہی تھی—

“کچھ دیر اور پھر سب جان جاؤ گی—کل کا دن شروع ہونے سے پہلے ہم ایک نئی زندگی کا آغاز کرے گے جہاں صرف ہم دونوں ہوگے”— عقیدت شاہ ان لفظوں سے زیادہ ضرغام خان کے بدلے لب و لہجے پر حیرت زدہ سی ضرغام خان کو دیکھ رہی تھی—ابھی وہ کچھ کہتی کہ ضرغام خان کوٹ کی اندرونی پاکٹ سے موبائل نکالتے کان سے لگاتے راہدری میں گم ہوتا چلا گیا تھا جبکہ عقیدت شاہ اپنی جگہ بت بنی وہی بیٹھتی چلی گئی تھی—

________

امتثال وہ مجھے ماں سے ملنے جانا ہے تو میرے ساتھ چلو”— پلوشہ خان کے کہنے پر امتثال نے گردن ترچھی کر کہ اسے دیکھا تھا جو کچن کے دروازے کے قریب ہتھیلیاں مسلتی پریشان سی کھڑی تھی—

“کیوں سب خیریت اس طرح سے اچانک”— فریج بند کرتے وہ اس کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی

“ہمارا دل کر رہا ہے—عجیب سی بے چینی ہو رہی ہے— میں پھوپھو اور آنٹی سے پوچھ آئی ہوں—ہم صرف تھوڑی دیر کے لیے جائیں گے—بہرام لالا کے آنے سے پہلے واپس بھی آجائیں گے”— پلوشہ خان کی اتنی آگے تک کی پلیننگ کہ کہی امتثال انکار نا کردے کو دیکھ امتثال خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی

“حد ہے پلوشے میں تمہیں انکار تھوڑی کرنے والی تھی—بس مجھے یہ تھا کہی کوئی مسئلہ نا ہو—تم پوچھ آئی ہو تو ہم چلتے ہیں—میں اپنی چادر لے آؤ”—

“چادر باہر صوفہ پر رکھی ہے میں نے میں سب انتظام کر کہ آئی ہوں”— مسکرا کر کہتی وہ امتثال خان کا ہاتھ تھامتی لاونج کی جانب بڑھی تھی—جبکہ پلوشہ خان کی تیزی دیکھ امتثال خان نے بامشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی—

“اور سنو ہم کسی ڈرائیور کے ساتھ نہیں جائیں گی—گاڑی تم ڈرائیو کرو گی—اماں اپنی دوست کی طرف ہیں وہی جانا ہے ہم نے”— پورچ میں آتے وہ تیز تیز چلتی امتثال خان کو بتا رہی تھی جو پلوشہ کی بات پر تھوڑی فکر مند ہوئی تھی اگر بہرام کو پتہ چلتا کہ وہ خود ڈرائیو کر کہ حویلی کی بجائے کہی اور گئی ہے تو شاید وہ ضرور ناراض ہوتا مگر دل میں اسے منالینے کا سوچتے وہ پلوشہ خان کی بات مانتی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکی تھی—

دل بری طرح دھڑک رہا تھا—مگر وہ کچھ غلط تو نہیں کر رہی تھی—مقدس بیگم نے اس سے کہا تھا کہ وہ جانتی ہے کہ ماضی میں ہوئے قتل کس نے کروائے تھے—وہ قاتل کا بتا کہ ان دونوں خاندانوں کے رشتے کو اور مضبوط کر دے گی تاکہ ان کے دلوں میں کوئی بدگمانی نا رہے—انہوں نے کہا تھا کہ وہ حدائق سے ابھی رشتہ نا بنائے—بلکہ جب وہ پورا سچ جان لے گا تب وہ اس کے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کرے—زندگی میں پہلی بار مقدس بیگم ان سب کے بارے میں سوچ رہی تھی— اور ان کی نظر میں پلوشہ خان کی اتنی اہمیت تھی کہ انہوں نے اتنی بڑی بات اس سے شئیر کی تھی—یہ بات پلوشے خان کے لیے قارون کا خزانہ ہاتھ لگنے کے برابر تھی—وہ بس اب امتثال کو لے کر جلد از جلد مقدس بیگم کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچنا چاہتی تھی جہاں وہ سب کے سامنے اس قاتل کو لانے والی تھی—وہ کیسے کرنے والی تھی اس سب سے پلوشہ کو فرق نہیں پڑتا تھا—اس کی نظر میں اس کی ماں سب کچھ کر سکتی تھی—سوائے پلوشہ خان کے – نا وہ بہادر تھی نا کچھ ایسا کرنے کی ہمت رکھتی تھی کہ کسی قاتل کو ڈھونڈ نکالے—مگر وہ اتنا تو کر سکتی تھی نا جتنا اس کی ماں نے اس کو کام سونپا تھا—

ابھی وہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھی کہ گاڑی کے ایک دم اچانک سے رکنے پر چونکی تھی—

“پلوشے فون ملاؤ لالا کو”—امتثال کے چلانے پر پلوشہ نے اس کی نظروں کے تعاقب میں سامنے دیکھا تھا—جہاں پانچ آدمی ہاتھ میں گنز تھامے کار کی جانب آرہے تھے—

یہ سسٹارٹ نن-نہیں ہو رہی”—کپکپاتے ہاتھوں سے کار سٹارٹ کرنے کی کوشش کرتے روتے ہوئے چلا کر کہا تو پلوشہ کے ہاتھ پاؤں صحیح معنوں میں پھولے تھے

کک—ال نن-نہیں ہورہی ایمی”— پلوشے کے زارو قطار روتے ہوئے کہنے—اور ان آدمیوں کو کار کا دروازا کھولنے کی کوشش کرتے دیکھ امتثال نے بازو آگے بڑھاتے پلوشہ خان کو اپنے سینے میں چھپایا تھا—

سس—سوری ایمی مم-یری وجہ سے”— امتثال خان کے سینے میں منہ چھپائے ہچکیوں سے روتی وہ خود کو کوس رہی تھی— وہ تو سب ٹھیک کرنے جا رہی تھی پھر یہ کیوں ہو رہا تھا—

باہر نکلو—ورنہ ہم زبردستی کریں گے—گرجدار غصے بھری آواز پر امتثال نے سختی سے پلوشہ کے گرد بازو کا حصار مضبوط کیا تھا

تمم-ہیں کیا چاہیے – یہ بیگ لے لو— اس میں کیش ہے—یہ زز-ییور بب—ھی ررکھ لل-و لل—لیکن ہمیں جانے دو’—ادمی کے دروازا کھول لینے پر- اپنا بیگ—اور ہاتھوں سے کنگن اتار کر پکڑانے چاہے تو اس آدمی نے بازو سے کھینچ کر امتثال خان کو گاڑی سے باہر نکالتے زمین پر دھکا دیا تھا امتثال کے ساتھ پلوشہ خان کی بھی دلخراش چیخیں فضا میں گونجی تھی—

پلوشہ تڑپ کر گاڑی سے نکلتی امتثال کی جانب بڑھتی کہ پیچھے کھڑے آدمی سے بالوں سے دبوچتے—بازوؤں میں جکڑا تھا کہ پلوشہ خان بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ گئی تھی—

جیب سے رومال نکالتے وہ پلوشہ خان کے ناک پر رکھ چکا تھا—

چچھ-ڑوں میری بہن کو”—زمین سے اٹھتی وہ پلوشہ کو تھانے آدمی کے بازوؤں پر ناخن مارتی—چیختی چلاتی اسے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی—جبکہ اس کی بے بسی پر قہقہے لگاتے ایک ادمی اس کی جانب بڑھا تھا- اپنے ہاتھ میں تھامی پسٹل پوری قوت سے امتثال خان کے سر پر ماری تو وہ لڑکھڑا کر زمین بوس ہوئی تھی—

اس گاڑی کو ٹھکانے لگاؤ”— امتثال اور پلوشہ کو اپنی گاڑی میں ڈالتے ان میں سے ایک نے کہا تو نقاب پوش سر ہلاتا ان کی گاڑی کی جانب متوجہ ہوا تھا—

تھوڑی ہی دیر میں سنسان روڈ پر امتثال خان کے خون کے چند قطروں کے ساتھ اس کی شال زمین بوس پڑی ہوئی تھی—

________

گارڈ کے گیٹ کھولتے ہی بہرام شاہ زن سے گاڑی بھگاتا پورچ میں لایا تھا—ابھی وہ گاڑی روکتا کہ بالاج شاہ گاڑی کا دروازا کھولتا باہر نکلا تھا—پاؤں بری طرح لڑکھڑائے تھے مگر وہ لمحوں میں سنبھلتا حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھا تھا-

اس کے پیچھے ہی عائث اور بہرام بھی تھے

“امتثال”— لاونج کے بیچ و بیچ کھڑے ہوتے بہرام شاہ منہ کے بل دھاڑا تھا پھر جواب کا انتظار کیے بغیر وہ دیوانہ وار سیڑھیاں پھلانگتے اوپر کی جانب بڑھا تھا-

جبکہ عائث خان پلوشہ کو ڈھونڈنے کی غرض سے نیچے موجود کمروں کی جانب بڑھا تھا-

بالاج اوپر سے سارے کمرے دیکھ آیا تھا مگر وہ وہاں نہیں تھی—دل بری طرح دھڑک رہا تھا—جان لبوں پر آئی ہوئی تھی—

صبغہ”— چلا کر پکارتے ہوئے وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ نظریں ثمرین بیگم کے کمرے سے نکلتی صبغہ شاہ پر پڑی تھی

دیکھ تو وہ بھی اسے چکی تھی—ایک ہاتھ میں مگ اور دوسرے میں پلیٹ تھامے وہ ہونکوں کی طرح بالاج شاہ کو اپنا نام پکارتے اور اب دیوانوں کی طرح اپنے جانب بھاگتے آتے دیکھ رہی تھی—

اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی یا کہتی بالاج شاہ—آگے بڑھتا صبغہ شاہ کے بازوؤں کے نیچے سے ہاتھ گزارتا اسے خود میں بھنچ چکا تھا

چھناکے کے آواز تھی جو کہ فرش پر دور تک گونجی تھی—پلیٹ اور مگ ٹوٹتے جابجا بکھرے تھے—

جبکہ صبغہ شاہ کو صرف اپنے سینے میں دھڑکتی بالاج شاہ کی تیز دھڑکنوں کی آواز سنائی دے رہی تھی—

سانس روکے وہ اس شور کو سنتی اپنی روح میں اترتا محسوس کر رہی تھی

“تم ٹھیک ہو— میری جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تم نے— اگر ایک لمحہ اور گزرتا اور تم نظر نا آتی تو یقین مانو بالاج شاہ نا رہتا”— صبغہ شاہ کو سختی سے خود میں بھنچتے آنکھیں بند کیے شدت بھرے انداز میں کہتا وہ صبغہ شاہ کو ساکت کر چکا تھا—

“صبغہ پلوشہ اور امتثال کہاں ہے”— بہرام شاہ کی آواز پر وہ سٹپٹا کر بالاج شاہ سے دور ہوئی تھی—جس پر بالاج شاہ نے سرخ آنکھوں سے اسے گھورا تھآ

“لالا وہ پلوشہ نے آنٹی سے ملنا تھا تو وہ حلیمہ آنٹی سے اجازت لے کر امتثال بھابھی کے ساتھ ان سے ملنے گئی ہیں”—

“بہرام لالا”— عائث خان کی سپاٹ آواز پر وہ تینوں اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے جو ہاتھ میں موبائل تھامے سپاٹ نظروں سے سکرین دیکھ رہا تھا

“میں نے اس پلین میں اپنے دوست کو بھی انولو کیا تھا—اس کے کہنے پر میں نے ہم سب کی گاڑیوں میں چپ لگائیں تھی—اور اس کے علاؤہ کیمرہ بھی—تو امتثال کی گاڑی کی لوکیشن مل گئی ہے—ہمیں وہاں پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹا لگا گا—میں نے اپنے دوست کو بھی انفارم کر دیا ہے—وہ اپنی ٹیم کے ساتھ آرہا ہے—اور یہ کہ”—- سپاٹ لہجے میں کہتے عائث خان نے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے—

حوریہ کہ پینڈٹ میں ٹریکر تھا—اور اس کی لاسٹ لوکیشن پچھلے چھ گھنٹوں سے اس جگہ کی ہے—میری بیوی چھ گھنٹوں سے وہاں ہے لالا”—- سرخ انگارا ہوتی آنکھوں میں وحشت لیے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو بالاج شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھنچی تھی—

اور پھر تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا

کچھ دیر بعد وہ نیچے اترتا دکھائی دیا تو صبغہ کی جان لبوں پر آئی تھی—

“لالا—بالاج شاہ کے گھر کی عورتوں پر ہاتھ ڈالا ہے ان لوگوں نے – ایک شاہ کے گھر کی عزت پر—اور اب وہ لوگ قیامت سے پہلے قیامت دیکھے گے—جہنم سے پہلے جہنم جھیلے گے”— تیزی سے سیڑھیاں اترتے ایک ہاتھ میں تھامی گن عائث خان کی جانب اچھالی تھی جسے اس نے تیزی سے کیچ کیا تھا—اپنی گن کو لوڈ کرتے تیزی سے زینے اترتے وہ بہرام شاہ کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا—

“تم پولیس بلاؤ – لالا آپ پلین بنائے—اور بالاج شاہ – بالاج شاہ ان کے جسموں کے پرخچے کرتا ہوا میں اڑائے گا”— آگ سی تپش لیے غرا کر کہتے ایک نظر صبغہ شاہ کے زرد پڑتے چہرے پر ڈال باہر کی جانب بڑھا تھا-

اس کے پیچھے ہی عائث اور بہرام بھی باہر کی جانب تیزی سے بڑھے تھے—

Episode 42

وہ کمرے میں داخل ہوا تو نظریں صوفے پر سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھی عقیدت پر گئیں تھی—نیلی آنکھوں میں چمک لیے وہ کچھ دیر دروازے کے سامنے کھڑا اسے دیکھتا اور پھر سر جھٹکتے کبرڈ سے کپڑے لیتا واشروم میں بند ہو گیا

دروازا بند ہونے کی آواز پر عقیدت سرعت سے سر اٹھاتی اپنی جگہ سے اٹھی باہر کی جانب بھاگی تھی—

اب کی بار وہ دائیں جانب کی بڑھی تھی کیونکہ دوسری جانب وہ پہلے ہی دیکھ چکی تھی کہی سے بھی باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا عجیب سی بھول بھلیاں تھی—وہ جہاں سے جاتی گھوم پھر کر وہی واپس ان ٹھہرتی تھی—

وہ دائیں جانب آئی تو وہاں بھی ویسے ہی سیڑھیاں تھی مگر وہ بالکل دوسری سائیڈ جیسی ہی تھی—اور وہ جانتی تھی کہ یہاں بھی نیچے کوئی راستہ یا کچھ بھی نہیں ہو گآ

اسی لیے کچھ سوچتے وہ راہدری میں بنے کمروں کی جانب بڑھی تھی—سیڑھیوں سے ملحقہ پہلے کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں نیچے جاتی سیڑھیوں کا رستہ تھا—جو کہ شاید دوسری جانب بھی تھا جہاں سے ضرغام اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا گا

ساری سوچوں کو پس پشت ڈالتی وہ تیزی سے سیڑھیاں اتری تھی—سیڑھیاں اترتے ہی اسے چار راہدریاں دکھائی دی تھی—سب سگ پہلے پہلی کی جانب بڑھی تھی—اندھیرے میں ڈوبی راہداریوں سے گزرتی وہ ہر کمرہ دیکھ رہی تھی

وہ باہر جانے کا راستہ نہیں پلوشہ اور امتثال کو تلاش کر رہی تھی مقدس بیگم کی باتوں کے مطابق پلوشہ اور امتثال آنے والی تھی اور وہ کسی بھی صورت ان دونوں کو یہاں نہیں چھوڑ سکتی تھی—

ابھی وہ مزید آگے بڑھتی کے کسی کی چیخ و پکار پر جھٹکے سے پلٹی تھی—

الٹے پاؤں واپس کو بھاگتے عقیدت نے آواز کو پہچاننے کی کوشش کی تھی–

_______

چہرے پر یخ ٹھنڈے پانی کے گرنے سے وہ ہوش میں آئی تھی—بری طرح کھانستے پلوشہ خان اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تو نظریں سامنے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھی مقدس بیگم پر پڑی تھی جو ہاتھ میں تھامے جگ کو زمین پر اچھالتی کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے پلوشہ خان کو دیکھ رہی تھی—

“ہم سب نے آپ سے محبت کی ماں—مگر آپ اپنی ہی اولاد کے ساتھ یہ سب”— آنکھوں میں آنسوں لیے شکوہ کناں لہجے میں کہا تو مقدس بیگم نے ہنکارہ بھرا تھا—

“میری برسوں کی محنت تھی جسے یہ سب ملیا میٹ کرنے پر تلے ہوئے تھے—صرف اس جائیداد پر اکلوتا حق چاہئے تھا نا لیکن نہیں سب کے سب قاتل ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے—سوچو اگر قاتل مل جاتا تو کیا ہوتا—جس حویلی پر جس گاؤں پر میں حکومت کرنا چاہتی تھی—وہاں سے نکال کر کسی جیل کی کوٹھری میں پھینک دیتے یہ لوگ—کئی بار سوچا بھی کہ جیسے چل رہا چلنے دوں—اب کسی کو کوئی نقصان نا پہنچاؤ—لیکن تم لوگوں نے مجبور کیا مجھے—اور اب اپنے اس انجام کے زمہ دار بھی تم لوگ ہو”— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتی وہ اپنی جگہ سے اٹھتی دروازے کی جانب بڑھی تھی—

“آپ شاید کچھ بھول گئی ہیں—یا آپ کی نظریں اور عقل اس بات کو فراموش کر چکی ہیں کہ آپ شاید مجھے قاتل کا بتانے آئی تھی اور میں یہاں کیسے آئی یہ لیکن میں تو آپ کے بتائے بغیر سب کیسے جانتی ہوں “— پلوشہ خان کی طنز میں ڈوبی آواز پر وہ جھٹکے سے پلٹی تھی—جبکہ پلوشہ خان ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ سجائے دیوار سے ٹیک لگائے دونوں ہاتھ پہلو میں گرائے کھڑی طنزیہ نظروں سے مقدس بیگم کے فق ہوتے چہرے کو دیکھ رہی تھی—

“آپ نے ہمارے ساتھ بہت سے کھیل کھیلے ماں—لیکن ہم نے ایک ہی کھیل کھیلا—اپنا پیادہ چھپائے رکھا تھا اور اب کو آپ کے ہی کھیل میں شے مات مبارک ہو—لیکن جانتی ہیں وہ پیادہ کون تھا—وہ میں تھی—پلوشہ حدائق شاہ—آپ کو یہ شکست میری وجہ سے ہوئی ہے”—- سپاٹ لہجے میں کہتی وہ مقدس بیگم کے اوسان خطا کر چکی تھی—جبکہ نیلی آنکھوں کے کناروں سے نکلتے آنسوؤں گالوں کو تر کرتے گردن میں جذب ہو رہے تھے—

تبھی مقدس بیگم چیل کی طرح پلوشہ خان پر جھپٹی تھی—چہرے پر تھپڑوں کی بارش کرتی وہ پلوشہ خان کی گردن ہاتھ میں دبوچ چکی تھی—

“کیا کیا ہے کمبخت—بتا مجھے—ورنہ ابھی جان لے لوں گی”— منہ کے بل دھاڑتی وہ نجانے کتنے تھپڑ پلوشہ خان کے گلابی پھولے گالوں پر رسید کر چکی تھی—

“ہہ-ہم بھی یہ سب نا کرتے ماں— ہم سب کو اپ نے مجبور کیا ہے—کاش آپ حوریہ کے کمرے میں اس مرد کو بھیجنے کے پلین میں ہامی نا بھرتی—کاش آپ حدائق پر حملہ نا کرواتی—کاش آپ ہم سب کو مارنے کی سازش کا کرتی اور کاش آپ دوسروں کی بیٹیوں کا سودا نا کرتی—اب اپنے انجام کی زمہ دار آپ خود ہیں”— ایک ایک لفظ چبا کر کہتی وہ مقدس بیگم کو تیش دلا گئی تھی—

جبکہ اس قدر زور دار تھپڑوں سے ہونٹ پھٹ چکے تھے—مقدس بیگم کے ہاتھ میں پہنی انگھوٹھیاں چہرے کو زخمی کر چکی تھی مگر اب یہاں پرواہ ہی کسے تھی نا مارنے والی کو نا مار کھانے والی کو

“مجھے سچ سچ بتاؤ کب سے کھیل کھیل رہی ہو”—- گلے پر دباؤ بڑھاتے سر پوری شدت سے دیوار میں مارا تھا کہ کچھ لمحوں کے لیے پلوشہ خان کو سب منظر اندھیرے میں ڈوبا نظر آیا تھا—

مہندی والے دن:-

کیا بات کرنی تھی ماں”—وہ مہندی کے لیے تیار ہونے والی تھی کہ مقدس بیگم نے ضروری بات کرنے کی وجہ سے بیوٹیشن کو باہر بھیجا تھا—بیوٹیشن کے باہر جاتے وہ دروازا بند کرتی پلوشہ کی جانب آئی تھی—

“میں جو کہو گی خاموشی سے سنو—دیکھو پلوشہ یہ ایک راز ہے—اور میں اس میں صرف تمہیں راز دار بنا رہی ہوں—اپنی بیٹی کے علاؤہ میں کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتی—وعدہ کرو کے اس راز کو راز رکھو گی اور جو میں کہوں وہ کرو گی”+– پلوشہ خان کو کندھوں سے تھام کر بیڈ پر بیٹھاتے نرم لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے نا سمجھی سے مقدس بیگم کو دیکھتے سر اثبات میں ہلایا تھا

“بیٹا میں جان گئی ہوں کہ تمہارے بابا اور اس خاندان کی خوشیوں کا قاتل کون ہے—مجھے بس کچھ ثبوت چاہئے کہ میں سب کے سامنے اس بات کو ثابت کر سکوں— تو میری مدد کرو گی نا کہ میں تمہارے باپ کے قاتلوں کو سامنے لا سکوں”—

“مم—ماں آپ کو کیسے پتہ چلا—لالا کو کیوں نہیں بتایا—ہمیں انہیں بتانا چاہئے نا تا کہ وہ اس شخص کو پکڑ کر سزا دے”— مقدس بیگم کی بات ختم ہوتے وہ تڑپ کر گویا ہوئی تھی اتنے سالوں بعد باپ کے قاتلوں کا پتہ چلا تھا کہ وہ چاہتی تھی کہ جلد از جلد وہ انسان جیل میں ہو اسے سزا ملے

“نہیں ابھی نہیں بتا سکتے—ورنہ وہ تمہارے لالا اور پھر ہمارے خاندان کے کسی شخص کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا—تم بس وہ کرو جو میں کہہ رہی ہوں—حدائق کے ساتھ ابھی اپنے رشتے کو آگے نا بڑھانا—کیونکہ وہ کہی نا کہی ابھی بھی تمہارے چچا کو قاتل سمجھتا ہے—جب اصل قاتل سامنے اجائے گا تو اس کے دل سے ساری بدگمانیاں ختم ہو جائے گی پھر تم اپنے رشتے کا آغاز کرنا—اور بس اگر مجھے کسی دن اپنی بیٹی کی ضرورت ہو تو اس دن اپنی ماں کی مدد کے لیے آجانا”— کھڑے ہوتے نرم لہجے میں کہتی وہ پلوشہ کے سر اثبات میں ہلانے پر اس کے سر پر پیار کرتی باہر نکل گئی تھی—

جبکہ دوپٹے کے پلو سے موبائل نکالتے پلوشہ خان نے کپکپاتے ہاتھوں سے کان سے لگایا تھا

“لالا”—نم لہجے میں کہتی وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی جبکہ دوسری جانب ضرغام اور عائث یہ باتیں سنتے اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے—

وہ جانتی تھی کہ مقدس بیگم کچھ دنوں سے اس سے کوئی ضروری بات کرنا چاہ رہی ہے—اور نجانے کیوں پلوشہ خان کا دل انجانے سے خوف میں مبتلا تھا—ایک دفعہ پہلے بھی انہوں نے بات کی تھی اور سب خراب ہو گیا تھا اور آج جب وہ بات کرنے آئی تو نجانے کیا سوچ کر پلوشہ خان نے ان کے دروازا بند کرتے عائث اور ضرغام کو کال ملائی تھی—

اور پھر عائث خان کے اپنی جانب سے کال بند کرنے پر ضرغام خان پلوشہ خان کو سب بتاتا چلا گیا تھا اور اسے ہدایت کی تھی کہ فلحال ویسا ہی کرے جیسا مقدس بیگم نے کہا ہے

حال

مقدس بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پلوشہ خان کا حشر نشر کر دے تبھی انہوں نے بالوں سے دبوچتے پلوشہ خان کا چہرہ اپنی جانب کیا تھا

“پہلے سوچا تھا کہ تم بہت معصوم ہو—تمہیں بچا لوں— یہاں سے اپنے ساتھ لے جاؤں – اور باہر جا کر کسی امیر گورے سے شادی کر کہ زندگی بنا دوں—مگر نہیں تم اس لائق نہیں ہو—اب مرو گی یہی—جس طرح اس وقت میرا دل جل رہا ہے ویسے ہی اب حدائق شاہ کی بیوی کا وجود جلے گا”— طیش بھرے لہجے میں کہتی وہ پلوشہ خان کی سانسیں روک چکی تھی

آنسوؤں سے تر چہرہ لیے وہ تڑپ کر مقدس بیگم کا ہاتھ تھامتی سر نفی میں ہلاتی بولنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی—آواز جیسے گلے میں ہی دم توڑتی جا رہی تھی اتنی مار کے بعد جسم بےجان ہو چکا تھا

اور ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ مقدس بیگم کچھ لوگوں کو چلا کر آواز دیتی تیل اور ماچس لانے کا کہتی پلوشہ خان کی رہی سہی ہمت بھی ختم کر چکی تھی—

زمین پر پٹک کر کسی چیز کی مانند پھینکتی نجانے کتنی ٹھوکریں وہ پلوشہ خان کی پیٹھ پر مار چکی تھی—

اس معصوم چہرے کی معصومیت نے دھوکا دیا نا مجھے—پلوشہ خان کے قریب کھڑی ہوتی اس کے وجود کو تیل سے بھگوتی پیچھے ہوئی تھی—

دروازے کی جانب بڑھتی وہ زمین پر تیل انڈیلتی دہلیز پر تیل انڈیلتی دروازے پر چھڑکاؤ کرتی دروازا بند کر چکی تھی–

جبکہ منہ کے بل گری پلوشہ خان کی بند سوجھی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت میں زمین پر گرے تھے— بامشکل آنکھوں کو واہ کرنے کی کوشش کی تھی ادھ کھلی آنکھوں سے مقدس بیگم کو کمرے کا دروازا بند کرتے دیکھ اپنے ہاتھوں پر زور ڈالا تھا—

گلے میں کانٹے سے چبھتے محسوس ہوئے تھا جبکہ چہرہ مسلسل آنسوؤں سے بھیگتا جا رہا تھا—

ہاتھ بڑھا کر نیچے گرے جگ کو کھسکا کر اپنی جانب کیا تھا جگ میں پانی کی کچھ بوندوں کو گلا میں اتارتے نظریں آگ میں لپٹتے دروازے پر گئیں تھی—

اور تبھی ہر تکلیف درد کو بھلائے ہمت مجتمع کرتے پلوشہ خان لڑکھڑاتے ہوئے اٹھی تھی—

دروازے کی بجائے کھڑکی کی جانب بڑھتی اسے کھولنے کی کوشش کرتی کبھی وہ پلٹ کر آگ کو دیکھتی اور پھر اتنے زور سے وہ کھڑکی کو کھولنے کی کوشش کرتی جب ناممکن لگا تو آنسوؤں کو حلق میں اتارتی وہ منہ کے بل چلائی تھی—گلے میں خراشیں سی پڑتی محسوس ہوئی تھی

کمرے میں دھواں سے بھرنا لگا تو پلوشہ خان چکراتے سر کو تھامتے بے جان ہوتے ہاتھوں سے کھڑکی کے پٹ پر مکے برساتی اس سے سر ٹکا چکی تھی

“کک-کوئی ہے—بب-چاؤں لالا حح-دائق”—ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں تکلیف سے پکارتی وہ بے بس ہونے لگی تھی—خود کو موت کے منہ میں جاتا دیکھتے وہ ساری کوشش ترک کر چکی تھی—

“یا اللّٰہ رحم”— ہونٹوں نے ہلکی سی جنبش کی تھی—وہ آواز پلوشہ خان کو بھی شاید سنائی نا دی تھی مگر شہ رگ سے قریب تر جو ذات تھی جو دلوں کے حال جان لیتی تھی—وہ ذات وہ رب اس پکار کو سن چکا تھا اور پھر اسے پلوشہ خان کے حال پر رحم آگیا تھا—اس کی آزمائش ختم ہوئی تھی وہ جو سمجھتی تھی کہ وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی آج ان حالات کا مقابلہ کر چکی تھی—وہ جو خود کو بہادر نہیں سمجھتی تھی آج بہادری سے سب جھیل چکی تھی—بے شک وہ ذات انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا”—

“پلوشہ—ڈرو نہیں میں آگئی ہوں—تم کھڑکی کے سامنے ہو تو سائیڈ پر ہو—تمہیں لگ نا جائے”—یہ صرف آواز نہیں تھی—یہ زندگی کی نوید تھی روح تھی جو پلوشہ خان کے بے جان ہوتے وجود میں پھر سے پھونک دی گئی تھی— نم آنکھوں کو بامشکل واہ کرتی وہ سرعت سے سائیڈ پر ہوئی تھی کہ اگلے ہی لمحے کھڑکی کے پٹ دونوں جانب کو گرے تھے اور ان کے ساتھ عقیدت شاہ کمرے میں کودی تھی—

بنا وقت ضائع کیے وہ پلوشہ خان کو اپنی بانہوں میں بھرتی کھڑکی سے دوسری جانب پھینکتے خود بھی چھلانگ لگاتی اس جانب اچکی تھی—

پلوشہ خان کی نم نظریں عقیدت سے ہوتی کھڑکی کے کھلے پٹ پر لٹکتے تالے پر گئی تھیں جسے دیکھتے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ رینگی تھی

جبکہ پلوشہ خان کی یہ حالت دیکھتے عقیدت شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مقدس بیگم کا حشر نشر کر دے

“پلوشہ میری جان—اٹھو ہمیں یہاں سے نکلنا ہے—ہمت کرو—سب ٹھیک ہو جائے گا تمہارے لالا انے والے ہوگے”— پلوشہ خان کا چہرہ اپنی گود میں رکھ کر بکھرے بالوں کو سمیٹتے ہوئے کہا تو پلوشہ خان کے ہونٹوں سے درد بھری سسکی نکلی تھی

ہونٹوں کو بھنچے سر اثبات میں ہلایا تو عقیدت نے تڑپ کو پلوشہ خان کو بانہوں میں بھرا تھا—جبکہ پلوشہ خان کا زخمی چہرہ دیکھتے دل ایسا تھا جیسے کسی نے پاؤں تلے کچل دیا ہو

“ای-می امتث—ال”—پلوشہ کے کہنے پر عقیدت نے ہونٹ سختی سے بھنچے تھے–

______

خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتے امتثال خان نے آنکھیں کھولیں تھیں—

چت لیٹے نظریں تیزی سے چلتے پنکھے پر اٹکی تھی—حواس بیدار ہوئے تو نظریں پنکھے سے سرکتی اپنے ہاتھوں کے نیچے کی سطح پر آئیں تھی—بیڈ کی جگہ زمین کو دیکھتے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات ابھرے تھے—

“اب آٹھ بھی جا حسینہ—کب سے انتظار کر رہے ہیں”— سماعت میں کسی انجان مرد کے الفاظ گونجے تو امتثال خان جھٹکے سے اٹھی تھی—

سامنے دیوار سے ٹیک لگائے دو وحشی نما مردوں کو دیکھ امتثال خان کے رونگھٹے کھڑے ہوئے تھے—

“شکر کہ اس حسینہ نے آنکھیں کھولیں—ورنہ مجھے تھا کہ ہوش ٹھکانے لگا کر ہوش میں لانا پڑے گا”— دوسرے آدمی نے خباثت سے قہقہہ لگاتے آنکھ مارتے ہوئے کہا تو امتثال خان نے اپنی جگہ سمٹتی پیچھے کو ہوئی تھی—

“کک-کیوں لائے ہو یی-یہاں میں نے کہا تھا نا کہ پیسے لے لو اگر کم ہے تو میرا شوہر اور دے دے گا— جتنے تم لوگوں کو چاہئے وہ دے گا—مگر مجھے جانے دو—مم—میری بہن کہاں ہے— کیا کِیا ہے اس کے ساتھ”— منت بھرے لہجے میں کہتی کمرے کے اطراف میں نظریں گھمائی تو دماغ میں جھماکہ سا ہوا وہ تو پلوشہ کے ساتھ آئی تھی—پلوشہ کا یاد آتے وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتی ہذیانی انداز میں چلائی تھی—

“اے شانی چپ کر—وہ وہی ہے جہاں اسے ہونا چاہیے—اور تو وہاں ہے جہاں تجھے ہونا چاہیے”— امتثال خان کی جانب بڑھتے وہ اس کے احتجاج کو لمحے میں ختم کرتا دونوں بازوؤں سے تھامے امتثال خان کے چہرے پر بے دریغ تھپڑ برساتے زمین بوس کر چکا تھا—

امتثال خان کے گرتے ہی دوسرا شخص اس کے سر کے قریب بیٹھتا اس کے دونوں بازو اپنی سخت گرفت میں جکڑتا زمین سے لگا چکا تھا—

“نن—نہیں خدا کے لیے نہیں مجھے جانے دو خدارا—مجھے جانے دو—چھوڑوں مجھے”—- آدمی کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ وہ حلق کے بل چلائی تھی

“ابے چپ”— امتثال پر جھکتا وہ اس کے چہرے کو دوچے منہ کے بل غرایا تھا کہ تبھی دروازے پر زور اور دستک ہوئی تھی کہ وہ دونوں دروازے کی جانب متوجہ ہوئے تھے—

“کون ہے بے آب”—امتثال سے دور ہوتے جھنجھلائے لہجے میں کہتے وہ دروازے کی جانب بڑھا کہ ابھی وہ دروازے کے قریب پہنچتا کہ لکڑی کا دروازا گولیوں کی بوچھاڑ سے چھلنی چھلنی ہوتے زمین بوس ہوا تھا—

“چھوٹا خان— تم لوگوں کی موت کتوں”—امتثال خان کے ساکت ہوئے وجود پر نظر ڈالے بغیر اپنے کندھوں سے شال اتار کر اس کی جانب اچھالی تھی—اور بنا ان دونوں کو سمجھنے کا موقع دیے

ان کی ٹانگوں اور بازووں پر فائر کرتا وہ انہیں زمین بوس کر چکا تھا—

اپنے بے جان ہوتے وجود کو گھسیٹتے وہ دیوار کے ساتھ چپکی آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے ارمغان خان کو ان دونوں مردوں کو کمرے کے بیچوں بیچ گھسیٹ کر پھینکتے دیکھ رہی تھی—

تبھی وہاں پولیس کے کچھ آدمی ہتھیار تھامے داخل ہوئے تھے—

“اگر کسی کی نظریں میری بہن کی جانب اٹھی تو یاد رکھنا اگلے ہی لمحے نوچ نکالوں گا”— اپنی جیب سے چاقو نکال کر درد سے چیختے آدمی کے ہاتھ کو قابو میں کرتے بنا اسے سنبھلنے کا موقع دیے اس کی دونوں آنکھوں میں گاڑھا تھا

چیخیں اس قدر دلخراش تھی کہ دوسری جانب چہرہ کیے کھڑے پولیس والوں کے دل بھی کانپ اٹھے تھے

“خان صاحب بس کریں—باقی کا معاملہ پولیس پر چھوڑ دے”—

“اتنے سال پولیس پر ہی چھوڑنے کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اس جگہ کھڑے ہیں”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے وہ دونوں آدمیوں کی آنکھوں کو ضائع کرتے ان کی شہ رگ کاٹتے اپنی جگہ سے اٹھتے امتثال خان کی جانب بڑھا تھا

“لالا”—ارمغان خان کے گھٹنوں کے بل اپنے سامنے بیٹھنے پر امتثال خان تڑپ کر ارمغان خان کے سینے سے لگی تھی—

“ہشش—لالا آگیا ہے نا—اور دیکھو تمہیں تکلیف دینے والوں کو سزا بھی دے چکا ہے تو اب لالا کی جان چپ کرے”—نرمی سے سر پر ہاتھ پھیرتے محبت بھرے لہجے میں کہا تو امتثال خان نے اپنی آنسوؤں کو بامشکل روکتے سر اثبات میں ہلایا تھا

یہ ان کے پلین کا حصہ تھا—کہ اگر ایسی کوئی سچویشن ہوئی تو ارمغان خان پولیس کے ساتھ عائث کی ٹریک کی گئی لوکیشن پر پہنچے گا

وہ زخمی ہوا تھا—لیکن کونسا پہلی بار ہوا تھا وہ چھوٹا خان تھا اور وہ کچھ بھی کرسکتا تھا—ان لوگوں کے وہاں سے نکلنے کی تھوڑی دیر بعد ہی وہ وہاں سے اٹھا تھا—اور لفٹ لیتے وہ تھانے پہنچ کر عائث کے دوست کی ٹیم کے ساتھ نکلا تھا—

______

دیکھیں شاہ صاحب—عجیب سی ہی عمارت ہے—نا گھر ہے نا بلڈنگ چاروں طرف سے بند ہے نا کھڑکی ہے نا روشن دان ایک دروازا ہی ہے تو سوچ سمجھ کر جانا ہوگا نا—اور پھر ماشاءاللہ سے ویرانے میں ہے(اطراف میں نظریں گھماتے تاسف سے کہا تھا)—ہمارے پاس اندر کا نقشہ نہیں ہے—اب ساری ٹیم کو ایک ہی رستے میں اندر نہیں نا بھیج سکتے—کچھ سوچ بچار کے بعد ہی نا—پہلے ہی چھوٹا خان اپنی مرضی سے بنا سوچے سمجھے چلا گیا—مجبوراً ہمیں بھی ان کی مانتے ہوئے کچھ پولیس والے بھیجنے پڑے اب وہ اندر جا کر حالات اور رستوں کا بتاتے تو ہم کرتے ہیں کارؤائی”— ایس ایچ او نے حتی الامکان اپنے لہجے کو نرم رکھنے کی کوشش کرتے بالاج شاہ کو روکنے کی کوشش کی تھی—

“دیکھو پولیس آفیسر—تم نے جب تک اس عمارت کے نقشے کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہے نا تب تک بالاج شاہ اس کے پرخچے اڑا چکا ہوگا—اور اب اگر زیادہ چوں چے کی تو یاد رکھنا—اسی ویرانے میں قبرستان بنا دوں گا— اور تمہارا مزار بنا کر تمہارے ہی آدمیوں کو دھمال ڈالنے پر لگا دوں گا تا کہ یہ ویرانی کم ہو”— ایک ایک لفظ چبا کر کہتے وہ آگے بڑھا تھا مگر خود سے پہلے عائث اور بہرام کو لوہے کے بڑے سے گیٹ کی جانب بڑھتے دیکھ پلٹ کر خونخوار نظروں سے ایس ایچ او کو گھورا تھآ جو جبرا مسکرانے کی کوشش کرتا لمحے میں سنجیدہ ہوتے اپنے ساتھیوں کو آگے بڑھنے کا اشارہ کر چکا تھا

______

بالاج شاہ جیسے ہی اندر داخل ہوا تو قہرام مچا ہوا تھا— گولیوں کی چیخوں پکار میں وہاں موجود سیکیورٹی پر قائم آدمیوں کی آوازیں بھی شور برپا کیے ہوئے تھیں—

عائث اور بہرام شاہ آگے بڑھتے سامنے سے آنے والوں پر اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے

پیچھے سے آتی پولیس بھی اطراف میں پھیلتی جگہ سنبھال چکی تھی—

کہ تبھی بائیں جانب کی راہداری سے آتے ارمغان خان نے امتثال کو بازو سے تھامتے—اپنی پشت پر کیا تھا—

“لالا”— ارمغان خان کی آواز پر بالاج اور عائث اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے جو کہ اپنے پیچھے کانوں پر ہاتھ رکھے کھڑی امتثال کی جانب اشارہ کر رہا تھا—

کہ تبھی بہرام شاہ کی نظر اس کی جانب اٹھی تھی—امتثال خان کی بند آنکھوں اور لرزتے وجود کو دیکھتے بہرام شاہ کے بے قرار دل کو جیسے قرار آیا تھا—

تبھی پلر کی اوٹ میں ہوتا وہ سرعت سے امتثال کی جانب بڑھا تھا

“لالا—اس کمرے میں موجود سیڑھیوں سے اوپر اور دوسری جانب جانے کا راستہ ہے—مجھے یہاں صرف امتثال ملی ہے میں صرف کچھ کمروں کی تلاشی لے سکا ہوں—باقی پولیس والے چیک کر رہے ہیں”— بہرام شاہ کو آتے دیکھ ایک سانس میں ہی کہتے وہ امتثال کا ہاتھ اس کی جانب بڑھاتے ان دونوں کو راہداری کی جانب کرتے عائث لوگوں کی جانب بڑھا تھا

وہ آگے بڑھتا کہ پلر سے پیچھے سے نکلتے شخص نے اپنی بندوق سے ارمغان خان کے کندھوں پر وار کیا تھا کہ وہ لڑکھڑا کر گھٹنوں کے بل نیچے گرا تھا

ابھی وہ رخ سیدھا کرتے سنبھلتا کہ وہ شخص دوبارا سے بندوق سے اس پر وار کرتا کہ ایک دم سے ارمغان خان کو اپنے وجود پر سایہ سا محسوس ہوا تھا—

خود پر جھک کر سایہ کیے کھڑے بالاج شاہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے ارمغان خان کی آنکھیں حیرت سے واہ ہوئی تھیں—

“تم ٹھیک ہو چھوٹے خان—اس سے پہلے وہ شخص دوبارا سے ہاتھ اٹھاتا بالاج شاہ اسے کے دونوں بازو دبوچتے جھٹکے سے پیچھے کو موڑتے توڑ چکا تھا—فضا میں گولی کی آواز کے ساتھ اس آدمی کو زمین بوس ہوتے دیکھ بالاج شاہ نے گردن ترچھی کر کہ عائث خان کو دیکھا تھا—جو اب پسٹل والا ہاتھ پہلو میں گرائے ایک نظر دونوں کے وجود پر ڈالتے بہرام شاہ کے پیچھے بڑھا تھا

“میں ٹھیک ہوں لالا—چلیں”—اطراف میں گری لاشوں کو دیکھتے—اور پولیس والوں کے پیچھے آگے بڑھتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ نے سر اثبات میں ہلاتے قدم آگے بڑھائے تھے—

کہ تبھی اپنے پیچھے ہلچل اور گولی چلنے کی آواز کے ساتھ دلخراش چیخ سنتے وہ پلٹا تھا

خود سے کچھ قدم کے فاصلے پر صبغہ شاہ کو دیکھتے بالاج شاہ کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں نظریں صبغہ شاہ کے وجود سے ہوتی پیچھے پسٹل تانے کھڑے شخص کو دیکھ بالاج شاہ پتھر کا ہوا تھا—

جبکہ ارمغان خان کے پسٹل سے خالی ہو جانے تک اس آدمی کے سینے کو چھلنی کرتا رہا تھا–

وہ وہاں کیسے آئی، کب آئی وہ نہیں جانتا تھا—

جانتا تھا تو صرف اتنا کہ وہ اس کی جان بچانے کی کوشش میں اس کے وجود سے روح کھینچ چکی تھی—

حلق کے بل دھاڑتا— کرب زدہ لہجے میں چلا کر صبغہ شاہ کا نام پکارتے وہ اندھا دھند خون سے لت پت وجود کی جانب بھاگا تھا—

تڑپ کر زمین بوس ہوتے صبغہ شاہ کے وجود کو وہ اپنی بانہوں میں بھرتے سینے میں بھینچ چکا تھا—

تکلیف—اذیت—کرب—کھو دینے کا ڈر—موت سے بدتر تکلیف کون کون سے احساسات نہیں تھے جو اس نے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں محسوس کیے تھے—

آنکھیں یکایک سرخ انگارا ہوتی پانیوں سے بھری تھیں—

اس نازک وجود کو سینے میں بھنچتے وہ سانس تک روک چکا تھا—اس وقت بالاج شاہ صرف اپنے سینے پر محسوس ہوتی سست پڑتی دھڑکن اور گردن پر محسوس ہوتی مدھم ٹھنڈی سانسوں کی تپش کو اپنے رگ و پے میں اترتا محسوس کرنا چاہتا تھا—

مدھم چلتی سانسوں کے شور اور ہلکی سسکیوں کے علاؤہ ہر طرف موت سا سناٹا چھا گیا تھا—وقت جیسے ہمیشہ کے لیے اس ایک لمحے میں تھم گیا تھا—کائنات کی ہر چیز جیسے ساکت پڑ گئی تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *