Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 27)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 27)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
سارا کچن سمیٹ کر اب وہ چینج کرنے کی غرض سے اوپر اپنے کمرے کی جانب جا رہی تھی کہ اپنے پیچھے آندھی طوفان کی طرح کسی کو سیڑھیاں چڑھتے محسوس کر کہ اس سے پہلے پلٹتی کہ ضرغام خان نے اپنا دایاں ہاتھ عقیدت کے پیٹ پر رکھتے اسے دیوار کے ساتھ لگایا—
اور بنا عقیدت کو سمجھنے کا موقع دیے اس کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے—سر کے اوپر دیوار پر پن کرتے چہرہ عقیدت کے چہرے کے قریب کیا—
وہ جو اس اچانک افتاد پر حق دق رہ گئی تھی—اپنے سامنے ضرغام خان کو سنجیدہ چہرہ اور آنکھوں میں خفگی لیے کھڑے دیکھ بری طرح تلملائئ تھی—
“تممم— دماغ خراب ہو گیا ہے کیا خان— ابھی تم یا میں گر جاتے”— ہاتھ چھڑاونے کی کوشش کرتے— دانت کچکچا کر کہا تو ضرغام خان نے دائیں ہاتھ سے عقیدت کی گردن اپنی سخت گرفت میں لی
“ہاں ہو گیا ہے دماغ خراب—کیا کہہ رہی تھی تم—تم میرے حصے کا کھانا—اپنے ہاتھوں سے بنا کھانا اس ارشد کو دو گی—ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری یہ کہنے کی بھی”— ہاتھوں اور گردن پر گرفت سخت کرتے عقیدت کے چہرے پر جھکتے غرا کر کہا تو عقیدت نے سخت نظروں سے ضرغام خان کو گھورا
“بالکل ویسے ہی جیسے تمہاری ہمت ہوئی میرے بنائے ہوئے کھانے میں نقص نکالنے کی— اور میں نے صرف کہا ہی نہیں بلکہ عمل بھی کیا ہے—تمہارے حصے کا کھانا ارشد کو پہنچا دیا ہے”— آنکھوں کو پٹپٹاتے کندھے آچکا کر کہا تو ضرغام خان کا چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا—
“تمہیں اندازا بھی ہے کہ یہ کھانا اس کی زندگی کا آخری کھانا بھی ہو سکتا ہے”— عقیدت کی شہہ رگ پر انگھوٹھا پھیرتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت نے کندھے آچکا کر آنکھیں گھمائیں
“ہاتھ چھوڑوں میرے—پہلے ہی سارا دن چمچ ہلا ہلا کر میرے بازو درد کر رہے ہیں”— ضرغام خان کے حصار میں کھڑے بری طرح جھٹپٹاتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے نا محسوس انداز میں گرفت ہلکی کی
“مجھے جب اس چمچ ہلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا—جب میں کچھ کھا ہی نہیں سکا تو پھر میں کیوں تمہارے درد کا احساس کروں”— عقیدت کی آنکھوں میں جھانکتے سرد لہجے میں کہا تو عقیدت نے بے یقینی سے ضرغام خان کو دیکھا—
“کیا مطلب—اب تم اس بات کا بھی مجھے مجرم ٹھہراؤ گے—تمہیں ہی کھانا پسند نہیں آیا تھا— مرچیں زیادہ تھی نا —تو میں کیوں تمہیں زبردستی وہ کھانا کھانے دیتی—اور میں نے کب کہا کہ میرے درد کا احساس کرو— کوئی ضرورت نہیں مجھے تمہارے احساس کی— ہاتھ چھوڑو جانا ہے مجھے”—- دانت پیستے ہوئے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو ضرغام خان نے عقیدت کے دونوں ہاتھ چھوڑتے—اپنے دونوں بازو عقیدت کی کمر کے گرد باندھے
“نہیں پسند آیا تھا تو وہ میرا مسئلہ تھا—اگر مجھے مرچیں لگ رہی تھی تو میں اپنی فیورٹ سویٹ ڈش کھا لیتا—لیکن تم نے کیا کیا—اس سالے کے سامنے مجھ سے پلیٹ ہی چھین لی—اور کیا کہا تھا کہ میں پھل کھا لوں”— تپے تپے لہجے میں چلا کر کہا تو عقیدت نے ضرغام خان کے یوں چلانے پر اردگرد نگاہ دوڑائی
“تم پاگل ہو ہم اپنے کمرے میں نہیں—میرے بھائی آئیں ہوئے ہیں— اب اس طرح سے چلاؤ مت جا کر کھا لو اپنی سویٹ ڈش”— ضرغام خان کی سرخ نیلی آنکھوں میں دیکھتے آہستہ آواز میں کہا تو پل میں ضرغام خان کی آنکھوں میں خمار اترا تھا—جس سے بے خبر عقیدت جھنجھلاتے ہوئے ضرغام خان کے بازو اپنی کمر سے ہٹانے کی کوشش کرتی اردگرد نگاہ بھی دوڑا رہی تھی
اگر بہرام یا حدائق میں سے کوئی ادھر اجاتا اگر وہ نا بھی آتے اگر داجی یا ارمغان ہی اجاتے—اس شخص نے تو ڈھٹائی اور بے شرمی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی
“سویٹ ڈش تو میں کسی صورت نہیں چھوڑنے والا”— ضرغام خان کے بوجھل لہجے پر عقیدت نے چونک کر دیکھا مگر ضرغام خان کی خمار آلود نظروں کو اپنے ہونٹوں پر دیکھ سختی سے ہونٹ بھنچے
“ضض-ضرغام پلیز مجھے جانے دو میں نے چینج کرنا ہے”— مدھم لہجے میں منمنا کر کہا تو ضرغام خان نے سنجیدہ نظروں سے عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا—
“تمہیں نہیں لگتا اب ہمارا پرموشن ہو جانا چاہیے”—- ناک عقیدت کی گال پر ٹریس کرتے خمار آلود لہجے میں سرگوشی کی تو عقیدت نے نا سمجھی سے ضرغام خان کے جھکے چہرے کو دیکھا
“کس بات کا پرموشن—جاب سے تم مجھے منع کر چکے ہو—تو اب کس چیز کا پرموشن”— ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے شکوہ کناہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے مسکراتے اپنا ماتھا عقیدت کے ماتھے سے ٹکرایا
“میاں بیوی سے ماں باپ کے رتبے کا پرموشن—اس سالے کو ماما بنانے کا پرموشن—اس سے پہلے وہ مجھے ماما بنائے—تم مجھے پاپا بنا دو”— خمار آلود لہجے میں سرگوشی کرتے حدائق شاہ کے ذکر پر دانت کچکچائے تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا
“پاپا بننے سے زیادہ تمہیں میرے بھائی کو ماما بنانے کی جلدی ہے—حد ہوگئی ضرغام—“—عقیدت کے جھنجھلا کر کہنے پر ضرغام خان نے گھور کر اسے دیکھا
“تو تمہیں اعتراض کس بات کا ہے— تمہیں اپنے شوہر کا ساتھ دینا چاہئے نا کہ بھائی کا—اور ویسے بھی تمہارے بھائی کو بہن دے رہا ہوں نا اپنی—اب وہ اپنی بیوی کو ٹائم دے اور میری بیوی کی جان چھوڑے”— عقیدت کی کمر پر گرفت سخت کرتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو عقیدت کا دل کیا اپنا سر دیوار میں مار لیں
بنا ضرغام خان کو کوئی جواب دیے خاموشی سے سر دیوار سے ٹکا کر نظریں نیچے سیڑھیوں پر ٹکائیں تو ضرغام خان نے آبرو آچکا کر عقیدت کے تھکن ذدہ چہرے کو دیکھا—
“اچھا ٹھیک ہے نہیں کہتا تمہارے بھائی کو کچھ اور تم بھی فریش ہو آؤ—لیکن اس سے پہلے میری بات ماننی ہوگی”— عقیدت کے ماتھے کو ہونٹوں سے چھوتے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت نے آنکھیں چھوٹی کرتے ضرغام خان کو مشکوک نظروں سے گھورا
“کیسی بات—مجھے یقین ہے تمہاری یہ بات میری جان ہلکان کرنے کے لیے ہی ہوگی”— ناک سکیڑتے منمنا کر کہا تو ضرغام خان نے بلا تاخیر سر اثبات میں ہلایا
“جان ہلکان کرنا نہیں—جان لینے کا ارادہ ہے—- تمہاری روح میں شامل ہو کر یک جان ہونے کا ارادہ ہے”— عقیدت کے چہرے پر جھکتے جابجا دہکتا لمس چھوڑتے—گھمبیر لہجے میں سرگوشی کی تو عقیدت کو اپنے رگ و پے میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئی—خشک پڑتے حلق کو تر کرتے—اپنے دونوں ہاتھوں سے ضرغام خان کی اجرک کو مٹھیوں میں دبوچتے خود کو بامشکل گرنے سے بچایا—-
“مم—مطلب”— ضرغام خان کی داڑھی کی چھبن اپنے گال پر محسوس کرتے—جھرجھری لیتے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے مسکراتے شدت بھرا لمس چھوڑتے اپنے دانت عقیدت کے ہونٹوں کے قریب گاڑھے
“منڈے کو ہم ڈیٹ پر جا رہے ہیں—اور مطلب میں تمہیں وہاں بہت اچھے سے سمجھاؤ گا— ڈیٹیل میں— ہمارے کبرڈ میں جو لاکر ہے اس کا پاسورڈ ہمارے بچپن کے نکاح کی ڈیٹ ہے—اس میں ایک ڈریس ہے—منڈے کو وہ پہن کر تیار ہو جانا”— عقیدت کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھرتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو عقیدت نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے سر اثبات میں ہلایا
تبھی ضرغام خان نے جھکتے اپنے تشنہ لب عقیدت شاہ کے ہونٹوں پر رکھ دیے— اپنے ہونٹوں میں عقیدت کے ہونٹوں کو شدت سے دباتے—عقیدت کی سانسوں کو شدت سے اپنی سانسوں میں الجھایا— عقیدت کے ہونٹوں کو پوری شدت سے چومتے—اپنے دونوں بازو عقیدت کی گردن کے گرد لپیٹتے—اسے خود میں بھنچا
“وہ عقیدت کے معاملے میں ہمیشہ شدت پسند ہو جاتا تھا—جب جب وہ عقیدت کے قریب آیا تھا اس کے لمس میں کھوتا وہ سب کچھ بھول جاتا تھا—عقیدت کے ہونٹوں اور چہرے پر اپنی شدتوں کے نشان دیکھنے کے بعد وہ خود میں نرمی لانے کی کوشش کرتا تھا—مگر ہر بار وہ بری طرح ناکام ہوجاتا تھا—عقیدت شاہ اس قدر عزیز تھی ضرغام خان کو کہ اس کا دل کرتا تھا وہ اپنے ہر لمس کے ساتھ عقیدت کو خود میں جذب کر لیں یا خود اس کی روح میں شامل ہو جائے—اس وقت بھی اپنے لمس میں نرمی لانے کی کوشش کرنے کے باجود بھی ضرغام خان آنکھیں بند کرتا سب کچھ بھلائیں اپنی شدتیں عقیدت کے ہونٹوں پر لٹا رہا تھا—
دور سے آتی قدموں کی چاپ سنتے عقیدت نے ضرغام خان کی اجرک کو جھٹکا دیتے پیچھے ہونا چاہا—جس پر ضرغام خان نے عقیدت کی کلائیاں اپنی ہاتھوں میں دبوچتے—اپنے دانتوں میں عقیدت کے نچلے ہونٹ کو لیتے ہلکے سے کھنچتے—نرمی سے عقیدت کے ہونٹوں کو آزاد کیا– تو عقیدت بکھرے تنفس سے بے حال ہوتی سر ضرغام خان کے کندھے سے ٹکا گئی
جبکہ ضرغام خان نے خمار آلود نظروں سے عقیدت کے سر کو دیکھتے—اپنے دونوں بازو عقیدت کے گرد پھیلائیں
“بیگم یہ تو منڈے نائٹ کا بس چھوٹا سا ٹریلر تھا—ابھی سے جان ہلکان ہونے لگی— اب ایسا کرنا پھل وغیرہ کھاؤ اور خود میں جان لاؤ تاکہ اپنے خان کو جھیل سکو—باقی کی مووی منڈے کو سٹارٹ کریں گے “—عقیدت کے کان کی لو کو دانتوں تلے دباتے شوخ لہجے میں سرگوشی کرتے اوپر سیڑھیوں پر کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے بائیں جانب دیکھا تو مقدس بیگم کو سپاٹ نظروں سے اپنی جانب دیکھتے—ضرغام خان نے مسکرا کر انہیں دیکھا
“ماں خیریت کچھ چاہئے تھا آپ کو”— ضرغام خان کی بات پر عقیدت نے جھٹکے سے پیچھے ہونا چاہا—تو ضرغام خان نے عقیدت کے کندھے کے گرد اپنا بازو پھیلاتے اس کی کوشش کو ناکام کیا
“نہیں بس ایسے ہی”— سپاٹ لہجے میں جواب دیتی وہ نیچے آنے لگی تو ضرغام خان نے مسکرا کر عقیدت کا ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے—قدم ان کی جانب بڑھائے جبکہ عقیدت نے چہرے پر سنجیدگی طاری کیے نظریں مقدس بیگم کے چہرے سے پھیرتے ضرغام خان کے ہاتھ پر ٹکا دیں
“نہیں وہ آپ اوپر سے آرہی مجھے لگا ہم میں سے کسی سے کوئی کام تھا”— ضرغام خان کی بات پر مقدس بیگم نے مٹھیاں بھنچتے ضرغام خان کے چہرے کو نفرت سے دیکھا—
“اگر میرا کمرہ نیچے ہے تو اس کا مطلب کے میں اوپر نہیں جا سکتی— یا میرے اوپر جانے پر پابندی ہے”— عقیدت کے سنجیدہ چہرے کے باجود وہ اس کے چہرے پر بکھری حیا کی لالیاں اور سرخ ہونٹوں اور گالوں پر ضرغام خان کی شدتوں کے نشان دیکھتی بری طرح بگڑی تھی—
وہ تو اس نسل کو ختم کرنے کے در پر تھی—اگر ضرغام خان کا بچہ اجاتا—وہ تو کبھی عقیدت کو کسی قیمت پر نا چھوڑتا—اس کے باپ نے تو بنا محبت کے صرف بچوں کی خاطر ان کی سب غلطیوں کو نظر انداز کرتے نہیں چھوڑا تھا—تو یہاں تو پھر معاملہ ہی الٹ تھا—وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے— وہ اگر انہیں الگ کرنے کی کوشش بھی کرتی تو ضرغام خان کبھی نا عقیدت کو چھوڑتا
وہ ضرغام خان کی آخری بات سن چکی تھی—انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ان دونوں کا رشتہ ابھی اتنا آگے نہیں بڑھا—اب ان کا دماغ بیت تیزی سے کام کر رہا تھا—کسی بھی قیمت پر منڈے والے دن انہیں ایسا کچھ کرنا تھا کہ ضرغام خان چاہ کر بھی عقیدت کے پاس نا جا سکیں
“میرا وہ مطلب نہیں تھا ماں— ایک کمرہ کیا یہ پوری حویلی آپ کی ہے—میں آپ پر کیسے پابندی لگا سکتا ہوں— میں صرف اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ آپ کو اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو مجھے بتا دیں”— عقیدت کے ہاتھوں پر گرفت سخت سے سخت تر کرتے پھر سے نرم لہجے میں کہا تو مقدس بیگم نے منہ پھیرتے ہنکارا بھرا
مقدس بیگم کے منہ پھیرنے پر ضرغام خان کی آنکھوں میں اترتے درد کو دیکھ عقیدت کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس ناگن کا سر کچلتے—
“مجھے لگتا ہے مامی تم سے ناراض ہیں”—عقیدت کی آواز پر دونوں نے چونک کر ناسمجھی سے عقیدت کی جانب دیکھا—
“کیا مطلب ماں مجھ سے کیوں ناراض ہوگی”— عقیدت کو ناسمجھی سے دیکھتے—مقدس بیگم کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا تو مقدس بیگم نے چہرے پر جبرا مسکراہٹ لاتے ضرغام خان کو دیکھ سر نفی میں ہلایا
“یہ بھی میں تمہیں بتاؤں اب”—ضرغام خان کے بازو پر ہلکے سے مکہ مارتے شرمائے لجائے لہجے میں کہا تو ضرغام خان کی حیرت میں مزید اضافہ ہوا
وہ مقدس بیگم کے رویے کو مکمل طور پر بھولتا اب نا سمجھی سے عقیدت کو دیکھ رہا تھا—جو بات بتانے کی بجائے شرمانے میں مصروف تھی
“کیا بولے جا رہی ہو—ماں آپ بتائیں آپ ناراض ہے مجھ سے کسی بات پر—کیا آپ ابھی تک عقیدت اور میرے رشتے کی وجہ سے ناراض ہے”— عقیدت کو جواب دیتے—مقدس بیگم سے سوال کیا تو مقدس بیگم نے گڑبڑا کر ضرغام خان کو دیکھا
ابھی مقدس بیگم کچھ کہتی کہ عقیدت نے اپنا چہرہ ضرغام کے بازو میں چھپایا
“مجھے شرم آرہی ہے لیکن میں پھر بھی مامی جی کی ناراضگی کی وجہ بتا رہی ہوں—کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ انہیں مجھ سے زیادہ شرم آرہی ہے—وجہ یہ ہے کہ مامی کی اب عمر ہوگئی ہے—سارا دن کمرے میں قید رہتی ہے—گھر میں ملازموں کی شکلیں دیکھ دیکھ اکتا چکی ہیں—انہیں اب دل بہلانے کے لیے ایک چھوٹا سا بے بی چاہیے—جو ان کا دل بہلائے اور حویلی میں اس کی کھلکھلاہٹیں گونجے—اور وہ بے بی ہم نے انہیں دینا ہے لیکن آپ کو گاؤں والوں سے فرصت ملے تو ہم اس بارے میں کچھ سوچیں نا”— تھوڑی ضرغام خان کے بازو پر ٹکاتے آنکھیں پٹپٹا کر کہتی وہ پل میں ضرغام خان کے چودہ طبق روشن کر چکی تھی—
اپنی ماں کے سامنے اس طرح کی بات پر وہ بری طرح گڑبڑایا تھا—
جبکہ مقدس بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عقیدت کو دھکا دے کر وہ اس کا کام آج ہی تمام کر دیں—
“وہ مم-ماں میرا مطلب ماں جی—انشاء اللہ بہت جلد یہ دن بھی اجائے گا—ابھی میں ذرا اسے روم میں چھوڑ آؤ—پھر آپ سے بات کرتا ہوں”— مقدس بیگم کو ایک ہی سانس میں جواب دیتے خود سے چپکتی عقیدت کا بازو اپنی سخت گرفت میں لیتے—قدم اوپر کی جانب بڑھائے تو مقدس بیگم نے گردن ترچھی کرتے خون آشام نظروں سے ان دونوں کو گھورا
کہ تبھی عقیدت نے چہرہ پیچھے کرتے مقدس بیگم کو دیکھ کر آنکھ ونک کی تو مقدس بیگم تلملا کر رہ گئیں
کمرے میں پہنچتے ہی عقیدت نے جھک کر اپنے دانت ضرغام خان کے بازو میں گاڑھے تو ضرغام کی گرفت ڈھیلی ہوئی جس کا فائدہ اٹھاتے وہ بھاگ کر واشروم میں گم ہو گئی
جس پر ضرغام خان نے گھور کر بند دروازے کو دیکھا—
جبکہ عقیدت کی باتیں یاد آنے پر ہونٹوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ رینگ گئی
__________
اسے میسج ملا تھا—کہ صبغہ کی والدہ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ اس وقت ہاسپٹل میں ہے—اسی لیے وہ بنا کسی کو بتائے جتنی جلدی ہو سکا ہاسپٹل پہنچا تھا— وہ اس خوشی کے موقع پر باقی سب کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا—اسی لیے کسی کو بتانا فلحال ضروری نا سمجھا
وہ ہاسپٹل پہنچا تو نظریں آئی سی یو کے باہر بیٹھی زارو قطار روتی صبغہ شاہ پر گئی جس پر وہ ہونٹ بھنچتے—لمبے کمبے ڈنگ بھرتا آئی سی یو سے باہر نکلتی ڈاکٹر کے سر پر پہنچا
“کیسی طبعیت ہے ان کی— اور یہ آپ لوگ اتنی دیر سے کیا کر رہے ہیں—ایک گھنٹہ پہلے مجھے اطلاع ملی کہ وہ دس بجے انہیں ہاسپٹل لایا گیا تب سے آپ لوگ کیا کر رہے ہیں کہ انہیں ہوش نہیں آرہا”— دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو ڈاکٹر نے بے ساختہ قدم پیچھے لیے
“جج-جی انہیں ہوش آگیا ہے اور وہ شاہ حویلی فون کرنے کا”— ابھی ڈاکٹر اپنی بات مکمل کرتی کہ وہ سائیڈ سے ہوتا دروازا کھولتے اندر داخل ہو چکا تھا
جبکہ اس اٹیٹیوڈ پر اس ڈاکٹر نے گھور کر بالاج شاہ کی پشت کو دیکھا تھا—
__________
“آپ ٹینشن نا لیں— بالکل ٹھیک ہو جائیں گی—میں نے اپنے دوست کو کال کی ہے وہ ہارٹ سپیشلسٹ ہے بس کچھ دیر میں پہنچنے والا ہے”— اندر داخل ہوتے بیڈ پر لیٹی ندا بیگم کا ہاتھ تھامتے نرم لہجے میں کہا تو انہوں نے نم نگاہوں سے بالاج شاہ کے خوبرو چہرے کو دیکھا
“مجھے نہیں پتہ میری زندگی کتنی ہے- کب سانسوں کی ڈور چھوٹ جائیں—میں اپنی بیٹی کو محفوظ ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہوں— مجھ پر آخری وقت میں احسان کر دو—میری بیٹی کو اپنا لو— تمہیں تمہاری ماں کا واسطہ”—بالاج شاہ کو نم لہجے میں کہتے ہاتھ جوڑنے چاہے وہ جو اس اچانک افتاد پر بھونچکا چکا تھا چونک کر جلدی سے ان کے ہاتھ تھامے
“کیسی باتیں کر رہی ہیں کچھ نہیں ہوگا آپ کو—اور اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں—وہ ہمارے گھر کا حصہ ہے—ہماری عزت ہے—اور اس کی حفاظت کے لیے کسی اور رشتے کی ضرورت نہیں”— نرم لہجے میں انہیں سمجھاتا انکار کر چکا تھا جس پر ندا بیگم کے آنسوؤں میں مزید روانی آئی
“تم نہیں سمجھو گے بیٹا—کہ دوسرے رشتے کا حوالہ کس قدر ضروری ہے—اگر تم نہیں کرنا چاہتے تو تمہیں مجبور نہیں کروں گی تم بہرام کو بلا دو میں اس کے آگے ہاتھ پھیلا لیتی ہوں یا پھر اپنے کسی وفادار”— ابھی وہ روتے ہوئے بات مکمل کرتی کہ بالاج شاہ نے گہری سانس بھرتے ان کے سر پر ہاتھ رکھا
“میں نکاح خواں کا انتظام کرتا ہوں—آپ فکر مت کریں— بس جلد اذ جلد ٹھیک ہوجائیں”—- سپاٹ لہجے میں کہتا وہ جھٹکے سے پلٹ کر باہر کی جانب بڑھا تھا
دروازا کھولنے پر نظریں دروازے کے سامنے کھڑی روتی ہوئی صبغہ پر گئیں تو سختی سے ہونٹ بھنچتے وہاں سے نکلتا چلا گیا
________
کچھ ہی دیر میں وہ صبغہ شاہ سے صبغہ بالاج شاہ ہو چکی تھی—
خوشی سے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے— صبغہ کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ لوگوں کو چیخ چیخ کر بتائے کہ وہ اس بے رحم شاہ کو اپنے نام کر چکی ہے
“تھینک یو ماں—تھینک یو سو مچ—اب دیکھئے گا وہ بے رحم شاہ آج شوہر بنا ہے کل آپ کی بیٹی کی محبت میں دیوانہ بھی جائے گا”— ندا بیگم کے ہاتھ تھامتے—چہرے پر دنیا جہاں کی خوشی کے رنگ بکھیرے پرجوش لہجے میں کہا تو ندا بیگم نے تاسف سے سر ہلایا
“تمہیں کیوں اس سے ڈر نہیں لگتا—وہ یہاں اتنی نرمی سے مجھ سے بات کر رہا تھا اور پھر بھی مجھے لگ رہا تھا کہ میرا سچ میں دل بند ہو جائے گا— میں نے تو سنا ہے غصہ ہو تو جان لینے سے کم تو وہ بات ہی نہیں کرتا—اگر اسے تمہارے اس ڈرامے کا پتہ چل گیا تو—مجھے سوچ سوچ کر ہی ہول اٹھ رہے ہیں—اب تو سچ میں لگ رہا کہ میرا دل بند ہو جائے گا”— صبغہ شاہ سے اپنے ہاتھ چھڑواتے دل پر رکھتے خوفزدہ لہجے میں کہا تو صبغہ نے منہ پھلا کر انہیں دیکھا
“ایسا کچھ نہیں ہوگا—وہ ظالم صرف میرے لیے ہے آپ کو کچھ نہیں کہے گا—اپ بس میری رخصتی کی تیاری کریں”— چٹکی بجاتے شوخ لہجے میں کہا تو سامنے کھڑی ڈاکٹر نے سر تاسف سے ہلایا
“مجھے خود انہیں دیکھ کر ڈر لگ رہا تھا—تمہیں بھی محبت کرنے کے لیے وہی سیڑیل ملا تھا”— ڈاکٹر اینی نے منہ بسور کر کہا تو صبغہ نے گھور کر اسے دیکھا
اینی صبغہ کہ دوست تھی—اور اس سارے ڈرامے میں اس نے ہی صبغہ کہ مجبور کرنے پر مدد کی تھی—
“تم نے مدد کی لیکن کوئی حق نہیں کہ تم میرے شوہر کو یوں سڑیل بولو”— صبغہ شاہ کے ناک سکیڑ کر کہنے پر اینی نے اسے گھور کر دیکھا
جبکہ دروازے کے باہر کھڑے یہ سب سنتے بالاج شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھنچتے اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی تھی—
یہ نہیں تھا کہ وہ ان کی باتوں سے یہ جان سکا تھا—وہ پہلے ہی اس جھوٹ سے واقف ہو چکا تھا—لیکن اس کی تربیت گوارا نہیں کر رہی تھی کہ وہ اپنی ماں کی عمر کی عورت کو جھوٹا قرار دے کر اسے شرمندہ کریں
یہ نکاح تو اس نے صبغہ شاہ کا دماغ سیٹ کرنے کے لیے کیا تھا
وہ بہت جلد اس کے سر سے محبت کا بھوت اتار کر اسے خود سے خلع لینے پر مجبور کرنے کا ارادہ کر چکا تھا—
دروازے کے ہینڈل کو چھوڑتا وہ پیچھے ہو کر سامنے موجود کرسی پر بیٹھ گیا—
__________
طبعیت کیسی ہیں آنٹی کی”— سپاٹ نظروں سے صبغہ شاہ کو دیکھتے استفسار کیا تو صبغہ نے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے بالاج شاہ کی سرخ خون چھلکاتی آنکھوں میں دیکھا
اس وقت وہ دونوں ڈاکٹر اینی کے آفس میں کھڑے تھے—
“بب-بہتر ہے—تم نے سنا نہیں جو ابھی ڈاکٹر نے کہا”— نظریں کمرے کے اطراف میں گھماتے مدھم لہجے میں کہا تو بالآج شاہ صبغہ کہ اس قدر ہٹ دھرمی پر پل میں اشتعال میں آیا تھا—
تبھی دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے صبغہ شاہ کی گردن اپنی آہنی گرفت میں لیتا—اسے ٹیبل پر جھکا چکا تھا—
“جسٹ شیٹ اپ— بالاج شاہ ہوں میں تمہاری انگلی کے اشارے پر چلنے والی کٹھ پُتلی نہیں—مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تم اس حد تک گرجاوں گی صبغہ شاہ—دل تو چاہ رہا ہے ایک بھی لمحے کی تاخیر کیے بنا تمہاری سانسیں حلق میں ہاتھ ڈال کر کھینچ لوں— مگر نہیں— بہت شوق تھا نا بیوی بننے کا—اب تمہیں تمہارا یہ بے رحم شاہ بتائیں گا کہ ان چاہی بیوی کی مرد کی نظر میں کیا اہمیت ہوتی ہے—تمہاری ان سانسوں میں اپنی نفرت کا زہر اس قدر گھول دوں گا—کہ مرنے کے لیے تڑپو گی—اتنا اپنی اولاد محبت میں نہیں تڑپی ہوگی جتنا میری نفرت کو جھیلتے وقت تڑپو گی—– پناہ مانگو گی بالآج شاہ کے قہر سے—قیامت سے پہلے تمہارا یہ وجود قیامت جھیلے گا”—- صبغہ شاہ کے گلے پر دباؤ بڑھاتے ٹھٹھرا دینے والے لہجے میں غراتے ہوئے کہا جبکہ گلے پر دباؤ بڑھنے سے صبغہ کی آنکھیں ابل کر باہر آنے کو تھی—سانس گھٹنے سے چہرہ سرخ انار ہو رہا تھا—بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتے خود کو چھڑوانا چاہا تو بالاج شاہ نے جھٹکے سے صبغہ کی گردن چھوڑتے—
اے دونوں بازوؤں سے تھامتے اپنے روبرو کھڑا کیا—
بری طرح کھانستے— آنسوؤں سے تر چہرے سے بالآج شاہ کے غضب ناک چہرے کو دیکھتے—صبغہ نے اپنا بازو چھڑوانا چاہا تو بالاج شاہ کی گرفت میں اس قدر سختی در آئی کہ صبغہ کو اپنی ہڈیاں چٹختی محسوس ہوئی
“یہ نام ماضی میں تم نے مجھے دیا تھا نا—— اب اس نام کو جھیلو گی بھی تم—پہلے تم پر کوئی حق نہیں رکھتا تھا—اسی لیے خود پر ضبط کر جاتا تھا—اب تو یہ وجود میری ملکیت ہے نا چاہے عارضی طور پر ہی صحیح اب حق رکھتا ہوں میں— جیسا چاہے سلوک کر سکتا ہوں نا— اپنی مرضی سے چاہے روند دوں چاہے توڑ دوں— کوئی بھی بالاج شاہ سے سوال نہیں کر سکے گا—کوئی بھی نہیں—یہ نکاح کر کہ احسان کیا ہے تم نے مجھ پر—تمہاری وجہ سے آج تک جو کچھ میں نے سہا ہے اس کا سود سمیت بدلہ لینے کا موقع مل گیا ہے—اب تو تم میری شکایت لے کر لالا کہ پاس بھی نہیں جا سکو گی—ہے نا”—- صبغہ شاہ کے بالوں کو مٹھی میں دبوچ کر چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے آگ اگلتے لہجے میں کہتا وہ صبغہ شاہ کو بری طرح سہما گیا تھا
وہ جو پہلے کبھی نہیں ڈری تھی آج بالآج شاہ کی آنکھوں میں نظر آتے قہر اور بدلے کی آگ کو دیکھ ساکت ہوئی تھی
جبکہ اپنے چہرے پر پڑتی بالآج شاہ کی غصے کے باعث چلتی تیز دہکتی سانسیں محسوس کر کہ اپنی سانسیں روک چکی تھی—
“آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے—مجھے یقین ہے”— بالاج شاہ کے لفظوں کے پیچھے چھپے معنی کو سمجھتے تڑپ کر کہا تو بالآج شاہ کے عنابی ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی
“یہی یقین ہی تو توڑنا ہے—بتایا تھا نا تمہیں حوریہ نے کہ بالاج شاہ اور عقیدت خود سے جڑے رشتے کسی قیمت پر نہیں چھوڑتے—صحیح کہا تھا اس نے—لیکن وہ صرف دوسروں کے معاملے تک—تمہیں چھوڑ تو دوں گا مگر تمہیں نام نہاد بیوی کا حق دے کر—تا کہ زندگی میں کبھی دوبارا بالاج شاہ سے الجھنے کی کوشش کرنے کے قابل نا رہو— میری پسند نا پسند تو پتہ ہی ہے نا— تو میری پسند کے مطابق میری سیج سجانے کے لیے تیار رہنا—اس سیج پر تمہارے ارمانوں کا جنازہ نا نکالا تو میرا نام بھی بے رحم شاہ نہیں— سمجھ تو تم گئی ہوگی— یہی سب کچھ تو چاہتی تھی تم”— صبغہ شاہ کے کپکپاتے ہونٹوں پر اپنی انگھوٹھے کے ناخن کو بری طرح رب کرتے—ٹھٹھرا دینے والے لہجے میں کہتا وہ صبغہ کی روح کہ ساتھ ہونٹ کو بھی زخمی کرتا جا رہا تھا—
“بب—بالاج میں مم-حبت کرتی ہوں تم سے—ایسا کچھ نہیں چاہا میں نے— بالآج شاہ کے حصار میں کھڑے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو بالآج شاہ نے قہر بھری نگاہوں سے صبغہ شاہ کو دیکھتے اس کا جبڑہ اپنے دائیں ہاتھ سے دبوچا
“محبت ہوتی تو محبوب کی خوش ہوتی— نا کہ اس طرح کی گھٹیا چال چل کر اسے اپنے نام کرتی—آئندہ اگر میں نے تمہارے ہونٹوں لفظ محبت سنا— تو انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی”—- غرا کر کہتے بنا صبغہ شاہ کو سمجھنے کا موقع دیے بالآج شاہ اس کے زخمی ہونٹوں پر جھکا تھا—
صبغہ شاہ کے احتجاج کرتے ہاتھوں کو پشت پر باندھتے—اپنا بایاں ہاتھ صبغہ شاہ کے بالوں میں اڑستے وہ اسے پل میں بے بس کر گیا تھا
اپنے غصے اور نفرت کا اظہار وہ اپنے بے رحم لمس میں شدتیں اختیار کرتا صبغہ شاہ پر واضح کر رہا تھا
ہونٹوں پر ہوتی جلن اور منہ میں گھلتے خون کے ذائقے کو محسوس کرتی وہ بری طرح جھٹپائی تھی مگر آج وہ سچ میں بے رحم شاہ بنتا—بڑی بے رحمی سے صبغہ شاہ کی سانسیں چھینتا خود میں انڈیل رہا تھا
جیسے جیسے جان لیوا قربت کا دورانیہ بڑھ رہا تھا—ویسے ویسے صبغہ کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہو رہی تھی—بے جان ہوتے وجود کے ساتھ اس نے مزاحمت چھوڑی تھی—پاؤں شل ہونے لگے تھے—ابھی وہ لڑکھڑا کر گرتی کہ بالاج شاہ نے اپنا بازو صبغہ کی کمر میں حائل کرتے اسے گرنے سے بچاتے خود میں اسے قدر سختی سے بھنچا کہ صبغہ کو اپنی پسلیاں ٹوٹتی محسوس ہوئی
جھٹکے سے صبغہ کو پیچھے ٹیبل پر چھوڑتے—ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ سجائے دو قدم کے فاصلے پر کھڑے ہوتے—اپنے نم ہونٹوں پر انگھوٹھا پھیرتے— آنکھ ونک کرتے صبغہ شاہ کی ابتر حالت کو دیکھتے قہقہہ لگایا تو صبغہ شاہ نے گہرے سانس بھرتے—نم نگاہوں سے بالاج شاہ کو دیکھا
جو اب آگے بڑھتا ٹیبل پر جھکتے اپنے دونوں ہاتھ صبغہ شاہ کے اطراف میں رکھ چکا تھا
“ویلکم ٹو ہیل وائفی— بے رحم شاہ کی دنیا میں سواگت ہے—امید ہے محبوب شوہر کا پہلا لمس پسند آیا ہوگا—یہ ٹریلر تھا—امید ہے مووی بھی تمہیں پسند آئے گی”— صبغہ شاہ کے ہونٹوں پر انگھوٹھا پھیرتے آنکھ دبا کر کہتے جھٹکے سے پیچھے ہوتا—ایک گہری نگاہ صبغہ شاہ کے سرخ پڑتے چہرے پر ڈالتے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
جبکہ بالاج شاہ کے نکلتے صبغہ نے اپنے چکراتے سر کو ہاتھوں میں تھاما تھا
“چھوڑوں گی نہیں تمہیں جاہل انسان— اگر تم بے رحم شاہ ہو تو میں بھی بیوی ہوں تمہاری—تمہاری ہی مٹی سے بنی ہوں”— دروازا بند ہونے پر پانے عقب سے صبغہ شاہ کے چلانے کی آواز سنتے سختی سے جبڑے بھنچتے—تنفر سے سر جھٹکا
________
اس لسٹ میں خان خاندان والوں کے تمام خاندانی ملازموں کے نام ہیں—جو شیر خان کے قتل سے بہادر خان کے قتل تک حویلی اور ڈیرے پر موجود تھے— اور یہ لسٹ گھر میں کام کرنے والی عورتوں کی ہے اس میں اس دائی کا نام بھی موجود ہے جو شیر خان کی ولادت سے لے کر ارمغان خان کی ولادت تک حویلی تھی—اس کے بعد وہ گاؤں چھوڑ کر چلی گئی تھی—
لیکن کچھ سالوں بعد اپنے بیٹے اور بہو کے مرجانے کے بعد اپنا پوتا لے کر لوٹ آئی تھی—
لیکن حویلی والوں سے اس نے کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھا تھا
ان سب کی ڈیٹیل نکوالنے کا کہہ دیا ہے میں نے—جبکہ جو خاص ملازم صرف شیر خان اور بہادر خان اور اس کے علاوہ جو تایا جی کا خاص ملازم تھا ان کی چھان بین ہم بذاتِ خود کریں گے—کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ کچھ نا کچھ جانتے ہوگے”— بیسمنٹ میں لکڑی کی میز پر دو لسٹیں رکھیں—اطراف میں لکڑی کی ہی چار کرسیوں پر بیٹھے وہ بغور حدائق شاہ کی بات سن رہے تھے—
“ہمیں یہ کام سب سے پہلے کر لینا چاہیے تھا—اور بابا کا ملازم وہ بھی تو ان کے آنے کے چھٹی آنے پر ہر وقت ساتھ ہی ہوتا تھا—اسکا نام کیوں نہیں ہے اس لسٹ میں”— عقیدت نے لسٹ پر لکھے ناموں کو پڑھتے ہوئے استفسار کیا تو حدائق شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“چچا جان کے ملازم کے تب ہی انتقال ہوگیا تھا—اور وہ یتیم آدمی تھا—آگے پیچھے اس کا کوئی نہیں تھا اسی لیے اس کا نام لسٹ میں نہیں—اور جو خاص انفارمیشن ہے وہ ہمیں خان خاندان کے ملازموں سے مل سکتی ہے—اور اس کے لیے ہم ان کی سات نسلوں کو چھان ماریں گے”— بالاج شاہ نے ہاتھ میں تھامی پسٹل پر دائیں ہاتھ کی انگلیاں پھیرتے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تو بہرام شاہ نے بغور بالاج شاہ کے سپاٹ چہرے کو دیکھا تھا—
“اور یہ شخص اگر ہمیں کوئی کام کی بات نہیں بتا سکا تو اس کے زندہ رہنے کا دائرہ”— کچھ فاصلے پر کرسی سے بندھے زخمی شخص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو ان تینوں نے عقیدت شاہ کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا
“ٹھیک ہے—جس کے زندہ رہنے کا کوئی فایدہ نہیں اس مر جانا چاہئے”— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے بالآج شاہ نے سامنے بیٹھے شخص کا نشانہ لیا تو بیسمنٹ میں ٹھاہ کی آواز کے ساتھ سناٹا چھا گیا—
کرسی پر بیٹھا شخص ماتھے کے بیچوں بیچ گولی لگنے سے پل میں بے جان ہوا تھا—سر ڈھلک پر بائیں جانب کندھے پر گرا تھا—
“اب اس کی لاش کو ٹھکانے کون لگانے جائے گا—کیوںکہ میرے پاس اتنا فالتو کا وقت نہیں ہاسپٹل جانا ہے مجھے”— چہرے کا رخ بالآج شاہ کی جانب کرتے دانت کچکچا کر کہا تو بالآج شاہ نے شان بے نیازی سے کندھے اچکاتے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے سر کے باندھتے—کرسی سے ٹیک لگائی تو حدائق شاہ نے سخت نظروں سے اسے گھورا
“مجھ سے بھی یہ امید نا رکھنا—شادی کے بہت سے انتظامات کرنے ہے—ماں جی نے پہلے ہی بہت لمبی لسٹ تھما دی ہے—اس کے لیے شہر جانا ہے میں نے—اس منہوس لاش کو ساتھ لے جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا”— حدائق شاہ کی نظروں کا رخ اپنی جانب دیکھتے بہرام شاہ نے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا تو عقیدت نے تاسف سے سر نفی میں ہلایا
“پڑی رہنے دیں یہی – کیا کہہ رہی ہے آپ لوگوں کو—جب ٹائم ملے تو لگا دیجئے گا ٹھکانے—یا پھر اپنے کسی وفادار سے کہہ کروا لیں یہ کام”—عقیدت کے کندھے آچکا کر کہا تو بہرام اور حدائق نے بیک وقت اسے گھور کر دیکھا—
“لاش ہے—پھولوں کی ڈال نہیں—اس کے پاک وجود سے جب خوشبوؤں کا ریلہ نکلنا ہے نا تو تمہارے شوہر کے ناک میں ہی سب سے پہلے جانا ہے—اور پھر اس سالے نے سونگھتے سونگھتے ہمارے سر پر آن کھڑا ہو جانا ہے—اور میں اسے صفائیاں دینے کے موڈ میں نہیں ہوں—فلحال ہم سکون سے اپنی شادی انجوائے کرنا چاہتے ہیں—کسی نئی مصیبت کو گلے کا ہار نہیں بنانا چاہتے”— حدائق شاہ کے جھنجھلا کر کہنے پر بالآج شاہ گہری سانس بھرتا اپنی جگہ سے اٹھا اور چلتے ہوئے سامنے دیوار میں بنی لکڑی کی الماری تک گیا
وہاں سے مٹی کے تیل کی بوتل نکال کر وہ اس شخص کی کرسی کے پیچھے کھڑے ہوا تو ان تینوں نے نا سمجھی سے بالآج شاہ کو دیکھا—
“جب ثبوت کسی شخص کے وجود سے جڑا ہو اور اسے مٹانا ہو تو بالاج شاہ کا ماننا ہے اس شخص کو ہی مٹا دو—اس کے بے معنی وجود کے ساتھ ثبوت کو بھی راکھ کا ڈھیر کر دو”—سپاٹ لہجے میں کہتے– تیل کی بوتل اس شخص کے وجود پر خالی کرتے اپنی جیب سے لائٹر نکال کر اس پر پھینکا تو لمحے کی تاخیر کیے بغیر آگ نے اس وجود کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا
جبکہ وہ تینوں خاموش نظروں سے اس جلتی آگ میں جھلستے وجود کو دیکھ رہے تھے—
“چلو تم جاؤ اپنے گھر اس سے پہلے وہ تمہارا شوہر یہاں پہنچے”— بالآج شاہ نے میز کے قریب آتے عقیدت کو دیکھتے ہوئے کہا تو عقیدت نے گھور کر بالآج شاہ کو دیکھا—
“عمر میں بڑا ہے آپ سے”
“لیکن رشتے میں چھوٹا ہے—اور بالآج شاہ عمروں سے زیادہ رشتوں کا لحاظ کرتا ہے”— عقیدت کے کہنے پر دو بدو جواب دیتے کندھے آچکائے تو عقیدت نے دانت پیس کر بالاج شاہ کو دیکھا
اور اٹھ کر بیسمنٹ سے نکلتی چلی گئی—کیونکہ بالآج شاہ سے بحث میں پڑنے سے اچھا تھا وہ دیوار میں سر مار لیتی—اور وہ سب ہی تو کہہ رہا تھا—یہ وقت ضرغام خان کا حویلی آنے کا تھا—اگر وہ وقت پر نا پہنچی تو وہ سچ میں اس کی تلاش میں نکل پڑتا
عقیدت کے جانے کے بعد وہ دونوں بالاج شاہ کی جانب متوجہ ہوئے تھے—
“تم نے صبغہ سے نکاح کر لیا اور ہمیں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا”— حدائق شاہ کے کہنے پر بالآج شاہ نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھی
“جی لالا— وہ آنٹی کی طبیعت خراب تھی—صبغہ کو لے کر پریشان تھی تو اس وقت ان کی پریشانی ختم کرنے کا یہی حل نظر آیا تھا مجھے”— صبغہ شاہ کی حرکت پر پردہ ڈالتے وہ سارا الزام اپنے سر لیتا سنجیدہ لہجے میں بولا تو حدائق شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“ہمیں تمہارے فیصلے سے اعتراض نہیں—ہم تو پہلے ہی چاہتے تھے کہ تم کسی طرح شادی کے لیے راضی ہو جاؤ—لیکن بڑا بھائی ہونے کے ناطے میرا مشورہ ہے—اگر یہ فیصلہ جزبات میں بھی آکر لیا ہے تو اسے اپنی جذباتی طبیعت کی وجہ سے خراب نا ہونے دینا— اب بنا لیا ہے تو پورے دل سے نبھانا بھی—اللہ یہ رشتہ تم دونوں کے حق میں بہتر کریں— اب میں چلتا ہوں—ہاسپٹل سے کئی بار کال ا چکی ہے”— بالاج شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے نرم لہجے میں کہتے آخر میں آٹھتے ہوئے اپنا بیگ اٹھایا تو بہرام شاہ نے سر ہلا کر اسے جانے کی اجازت دی
بالآج شاہ کے کندھے کو تھپتھپاتے—ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے—مسکرا کر بالاج شاہ کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے قدم باہر کی جانب بڑھائے
“تو میں سمجھو کہ تم مکمل طور پر موو اون کر چکے ہو”— بالآج شاہ کی جانب متوجہ ہوتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو بالآج شاہ نے سامنے جلتی آگ سے نظریں ہٹا کر بہرام شاہ کو دیکھا—
“ہمم—آپ سمجھ سکتے ہیں لالا—لیکن فلحال میں اس بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا— مجھے خود کو سمجھنے کے لیے وقت چاہیے—آپ کو شاید لگے کہ میں شادی کے بعد صبغہ کو ٹائم نہیں دے رہا اس رشتے کو اہمیت نہیں دے رہا تو ایسا کچھ نہیں ہوگا—مجھے بس تھوڑا وقت چاہئے—اور مجھے امید ہے کہ آپ مجھے سپیس دیں گے اس رشتے کو میں اپنی مرضی سے لے کر چلنا چاہتا ہوں—آپ سمجھ رہے ہیں نا”— بہرام شاہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو بہرام شاہ نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تو بالاج شاہ کی سیاہ گہری آنکھوں میں چمک اتری تھی—
__________
فون پر مسلسل ہوتی رنگ سے اکتا کر امتثال خان نے بلینکٹ سے ہاتھ نکالتے سائیڈ ٹیبل سے موبائل پکڑتے یس کر کہ کان سے لگایا تھا—
“انتہا کہ ڈھیٹ اور فارغ انسان ہیں اپ— پتہ ہے کہ سوتے ہوئے کسی شخص کی نیند خراب کرنے پر تو ابلیس بھی گالیاں دیتا ہے—اگر کوئی فون نہیں اٹھا رہا تو اس کی مصروفیت کا اندازہ لگا کر فون رکھ دینا چاہیے نا کہ نمبر پر ہی ہاتھ رکھ دینا چاہیئے”— آنکھیں بند کیے چہرے پر بلینکٹ اوڑھتے نام سٹاپ بولنا شروع ہوئی تو دوسری جانب بہرام شاہ جو کچھ کہنے ہی والا تھا—
امتثال خان کی نیند میں ڈوبی خمار آلود آواز سن کر خاموش ہو گیا—
آنکھوں کے پردے پر امتثال خان کو اپنے سامنے تصور کیا تو دل نے بے ساختہ بیٹ مس کی تھی—
ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے وہ امتثال خان کے چپ ہونے پر سر سیٹ کی پشت سے ٹکا گیا
“مسسز ٹو بھی دن کے تین بجے آپ کی ایسی کونسی مصروفیت ہے کہ آپ ایک فون بھی نہیں اٹھا سکتی”— بہرام شاہ کے گھمبیر لہجے پر امتثال خان کی نیند بھک سے اڑی تھی—
“بب—ہرام آپ”— ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بہرام شاہ کا نام لیا تو بہرام شاہ کے ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا—
“جی جان بہرام ہم—سوری انتہا کا ڈھیٹ اور فارغ انسان— جس نے دن کے تین بجے فون کر کہ آپ کے اہم ترین کام میں خلل پیدا کر دیا— رائٹ”— شوخ لہجے میں کہہ کر ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبایا تو امتثال کا چہرہ شرمندگی کے مارے پل میں سرخ ہوا تھا—
“وہ مم-میرا مطب وہ نہیں تھا—وہ دو بس ایسے ہی”— منمناتے ہوئے جواب دیا تو بہرام شاہ نے بامشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا
“دن کے اس وقت کون سوتا ہے”— لہجے میں مصنوعی سختی لاتے استفسار کیا تو امتثال نے گڑبڑا کر گھڑی کی جانب دیکھا—
“نن—ہیں تو میں سو کب رہی تھی—وہ تو ایسے ہی آنکھ لگ گئی”— فورا سے نفی میں سر ہلاتے بہرام شاہ کی بات کی تردید کی
“آنکھ لگنے کو ہی سونا کہتے ہیں—اس وقت تو عموماً وکی سوتے ہیں جن کی رات نیند نا پوری ہوئی ہو”— معنی خیز لہجے میں اپنی بات کہی تو امتثال نے ناسمجھی سے سر نفی میں ہلایا
“نہیں ایسا کچھ نہیں—میں روز ٹائم ہر سوتی ہوں— چاہے جس سے مرضی پوچھ لیں— وہ تو آج ویسے ہی آنکھ لگ گئی”— وہ جانتی تھی کہ بہرام شاہ وقت کا پابند ہے اسی لیے زیادہ سگھڑ اور سعادت مند بننے کی کوشش کرتی وہ بہت غلط بول گئی تھی—
“تو مطلب رات گئے جاگنے کی پریکٹس ابھی سے شروع کر دی ہے—اچھی بات ہے مجھے مشکل نہیں ہوگی—ورنہ تمہاری نیند کی خاطر شاید مجھے اپنے جذبات کو بھی سلانا پڑتا”— بہرام شاہ کے معنی خیز لہجے میں کی گئی بے باک بات پر امتثال خان کان کی لو سے گردن تک سرخ پڑی تھی—بہرام شاہ کی پہلی بات بھی اب سمجھ آئی تو دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے
دل کی دھڑکنیں بری طرح منتشر ہوئی تھی۔
“آپ غلط سمجھ رہے ہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا”— سر بیڈ کراؤن سے ٹکاتے مدھم لہجے میں کہا تو بہرام شاہ کا دلکش قہقہہ فون میں گونجا تو امتثال کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہوا—
“میرا تو صاف وہی مطلب تھا—اگر اتنی پریکٹس کے بعد بھی رات میں جاگا نا گیا تو ڈونٹ وری ہم رات والا کام دن میں بھی کرسکتے ہیں—مجھے کوئی ایشو نہیں—اگر تمہاری نیند خراب نا ہو تو میں اکیلے بھی رات”— ابھی بہرام شاہ شوخ لہجے میں اپنی بات مکمل کرتا کہ امتثال خان نے کپکپاتے ہاتھوں سے جلدی سے فون بند کرتے بیڈ پر اچھالتے دوبارا سے کمبل چہرے تک لپیٹ لیا
بہرام شاہ کی بے باک گفتگو سے چہرہ سرخ انار ہوا تھا—دھک دھک کرتے دل پر ہاتھ رکھتے سختی سے آنکھیں میچی تو آنکھوں کے پردے پر بہرام شاہ کا خوبرو چہرہ لہرا گیا
“فلرٹ شاہ”— ناک سکیڑ کر سرگوشی نما لہجے میں کہتی وہ تھوڑی ہی دیر میں پھر سے نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی—
