Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 11,12)

Maan Yaram by Maha Gull Rana 

کچھ دن پہلے:-

عائث خان کی طبیعت کچھ سنبھلی تو وہ مبین بیگم کو حویلی آنے کے لیے منا چکا تھا—

ضرغام اور ارمغان وہی اس کے ساتھ تھے—کیونکہ ضرغام کو ابھی بھی شک تھا کہ وہ ایکسیڈنٹ کسی کہ سازش تھی—اور اب وہ عائث کو اکیلے آنے جانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا—جس پر عائث خان نے اسے کافی سمجھانے کی کوشش کی مگر ضرغام خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھائی کہ جان پر کوئی رسک نہیں لے سکتا—

عقیدت سے ملنے کے بعد ضرغام عائث اور مبین بیگم کو اپنے ساتھ ہی گاؤں لے آیا تھا—

وہ حویلی داخل ہوئے تو ضرغام خان کو حویلی کے ماحول میں عجیب سا تناؤ محسوس ہوا

وہ لوگ لاونج میں داخل ہوئے تو معمول سے ہٹ کر خاموشی چھائی ہوئی تھی—

سبھی ملازمہ سر جھکائے خاموشی سے اپنے کاموں میں مصروف تھی—لاونج میں حویلی کا کوئی بھی فرد موجود نہیں تھا— داجی صبح اٹھنے کے بعد یا تو لاونج میں ہوتے یا مردان خانے میں—مگر اس وقت وہ نا یہاں تھے اور نا ہی مردان خانے میں

ارمغان نے ایک نظر اردگرد ڈالتا بیگ صوفے کے قریب زمین پر رکھتے– گرنے کے انداز میں صوفے پر لیٹ کر آنکھیں موند گیا

جبکہ مبین بیگم عائث خان سے ناراضگی کا اظہار کرتی حویلی میں موجود اپنے کمرے کی جانب بڑھی

تبھی پلوشہ کے کمرے کا دروازا کھلنے پر موبائل پر ٹائپنگ کرتے عائث اور ضرغام خان نے بے ساختہ نظریں اٹھا کر کمرے کے دروازے کی جانب دیکھا

مگر دروازے کے سامنے کھڑی امتثال خان کی نم سرخ آنکھیں دیکھ دونوں کو حیرت ہوئی

“کیا ہوا ہے ثالے رو کیوں رہی ہو—پلوشہ تو ٹھیک ہے نا”—ضرغام خان اپنا موبائل صوفے پر پھینکتا لمبے لمبے ڈنگ بھرتا امتثال خان کے روبرو آکر کھڑا ہوا تو امتثال نے نم نظروں سے ضرغام خان کو دیکھتے نفی میں سر ہلایا

ویلوٹ کی میرون قمیض کے ساتھ سکائے بلیو کلر کی کیپری پہنے—ساتھ سکائے بلیو رنگ کا ہی دوپٹہ جس کے کناروں پر میرون رنگ کا کام ہوا تھا—سلیقے سے سر پر لیے— کوئی نازک سی کانچ کی گڑیا ہی لگ رہی تھی

ضرغام خان کے پوچھنے کی دیر تھی کہ امتثال روتے ہوئے ترپ کر ضرغام خان کے کندھے سے لگ گئی

“لالا پتہ نہیں اسے کیا ہوا ہے—وہ بہت عجیب باتیں کر رہی ہے—میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے لالا—وہ کچھ کھا پی بھی نہیں رہی”— ضرغام خان کے کندھے سے لگے ایک ہی سانس میں روتے ہوئے جواب دیا تو امتثال کی بات سنتے ہی ارمغان خان جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا

جبکہ عائث ضرغام اور امتثال کو سائیڈ پر کرتا جھٹکے سے دروازا کھولتا اندر داخل ہوا

————

عائث کے دروازا کھولتے ہی مقدس بیگم اور کشف بیگم کے قریب بیٹھی پلوشہ آٹھ کر بھاگنے کے انداز میں عائث خان کی جانب آئی

“لالا—مم—مجھے نن—نہیں کر—نی حح—حدائق سے شش—شادی مم—مجھے بب—چا لل—لیں لالا”—عائث خان کے گلے لگے ہچکیوں سے روتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا تو عائث خان نے متائے جان کی طرح پلوشہ خان کو خود میں بھنچ لیا

“شش لالا کی جان— تمہاری مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا—تمہیں پتہ ہے نا لالا کتنی محبت کرتا ہے تم سے—تمہارے ساتھ کچھ غلط ہونے دے سکتا ہے بھلا”—پلوشہ کی کمر سہلاتے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا

جبکہ ارمغان خاموش نظروں سے سسکتی ہوئی پلوشہ کو دیکھ رہا تھا اور ضرغام خان پرسوچ نظروں سے مقدس بیگم کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ رہا تھا

ضرغام خان کے دیکھنے پر مقدس بیگم نے ہڑبڑا کر ارگرد نظروں کو گھمایا

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو—اپنی بہن سے پوچھو کیا سوچے بیٹھی ہے—ماں نے تو صرف رخصتی کرنے سے منع کیا تھا—مگر دیکھو اپنی بہن کو کیسے اس دشمنی کی آگ میں تیل ڈالنے کا سوچے بیٹھی ہے—اب بتاؤ بہن عزیز ہے یا اس دشمنی کو ختم کرنا”— مقدس بیگم نے نخوت سے سر جھٹکتے ہوئے کہا تو کمرے میں داخل ہوتی مبین بیگم بھی آکر نا کے قریب کھڑی ہوگئیں

اور سوالیہ نظروں سے ضرغام خان کے خطرناک حد تک سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگیں

“آپ عورتوں کو کوئی اور کام نہیں بلاؤجہ کا واویلا مچانے کے—ایک تو وہ بچی پہلے سے رو رہی ہے—اور دوسرا آپ لوگ اس طرح کی باتیں کر رہی ہیں—ماں آپ ہی کچھ خیال کر لیں— لے کر جائیں تائی جان کو یہاں سے”—ارمغان خان نے دود سے پٹھتے سر کو دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے دباتے سرد لہجے میں کہا تو کشف بیگم اپنے بیٹے کے سرد لہجے—سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھیں

“بتاؤ پلوشہ کیا سوچے بیٹھی ہو تم جو ماں اس طرح سے بات کر رہی ہیں—بے فکر ہو کر بتاؤ تمہارے بات تمہاری مرضی کا احترام کیا جائے گا—جو حق اللہ نے دیا ہے وہ تمہارا لالا تم سے کبھی نہیں چھینے گا”—عائث خان کے کندھے سے لگی پلوشہ کو بازو سے تھام کر اپنے سامنے کرتے دو ٹوک لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے شکوہ کناں نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا—

پلوشہ کی آنکھوں میں لکھی شکوے کی تحریر پڑھ کر ضرغام خان نے ناسمجھی سے پلوشہ کو دیکھا جو اب چہرہ جھکا چکی تھی—

“مم—مجھے آج اور ابب—ابھی ارمم—غان لا—مم—مطلب ارمغان سے نکاح کرنا ہے—مم—میں انہیں پپ—پسند کک-کرتی ہوں”—پلوشہ خان کی بات سنتے ان تینوں پر سکتہ سا طاری ہو گیا

جبکہ دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑی امتثال نے بے یقینی سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا—

وہ کیسے یقین کر لیتی اس بات کا وہ بے شک پلوشہ سے چھوٹی تھی مگر وہ سائے کی طرح اس کے ساتھ رہی تھی

اتنا تو پلوشہ خان خود کو نہیں جانتی تھی جتنا امتثال خان اسے جانتی تھی—

وہ اس کی سگی بہن نہیں تھی—مگر خون تو تھی نا—امتثال خان پلوشہ کی رگ رگ اور ہر اس دھڑکن سے واقف تھی جو دھڑکتے ہوئے حدائق شاہ کا نام لیتی تھی—

ہر اس سانس کو جانتی تو جو حدائق شاہ کے نام کی مالا جپتی تھی—

وہ کیسے اس بات پر یقین کر لیتی کہ وہ حدائق شاہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی

“یہ کیا بکواس ہے—تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی اتنی گھٹیا بات سوچنے کی—میں نے تمہیں ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن سمجھا—تمہارے ناز نخرے چھوٹی بہنوں سے بڑھ کر اٹھائیں—ضرغام اور عائث لالا سے زیادہ محبت دینے کی کوشش کی—اور تم یہ بکواس کر کہ مجھے میری ہی نظروں میں گرانا چاہتی ہو—میرا بس چلتا تو پلوشے اس بات پر تمہاری چمڑی ادھیڑ دیتا—یہ گھٹیا بکواس کرنے سے پہلے تمہاری زبان کاٹ کر ہاتھ میں رکھ دیتا”— کمرے کے سکوت میں ارمغان خان کی چنگھاڑتی ہوئی آواز گونجی تو ضرغام خان نے خون چھلکاتی آنکھوں سے زخمی شیر کی طرح بھپڑے ہوئے ارمغان خان کو دیکھا

جس کے دونوں بازو عائث خان کی گرفت میں تھے

عائث جانتا تھا کہ وہ پلوشہ پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھائے گا—مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ اپنوں کا کبھی تکلیف نا دینے والا خود کو ضرور اذیت دے گا—اسی لیے وہ اس کے بازو تھامے—اپنے شکنجے میں قابو کیے کھڑا تھا

جبکہ ارمغان خان کی دھاڑ پر پلوشہ کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی – ارمغان خان کی خون چھلکاتی آنکھوں کو دیکھ پلوشہ نامحسوس انداز میں ضرغام خان کے سینے میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی جسے دیکھ ضرغام خان نے اپنا بازو پلوشہ کے کندھے کے گرد پھیلایا

“دشمنی بڑھتی ہے یا ختم ہوتی ہے—میرے لیے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی—میرے لیے میری بہن کی خوشی اس کی مرضی اہمیت رکھتی ہے—اگر وہ ارمغان سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو نکاح ہوگا اور آج ہی ہوگا—شاہ خاندان کو کیا جواب دینا ہے انہیں کیسے ہینڈل کرنا ہے وہ میرا سر درد ہے—مگر شادی تک اگر یہ بار حویلی سے باہر نکلی تو میں سب حویلی والوں کو حویلی سمیت آگ لگا دوں گا—بات سمجھ میں آئی یا نہیں”— سرخ نظریں عائث خان اور بھپڑے ہوئے ارمغان خان پر گاڑھے سرد لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا اور آخر میں بے تاثر نگاہوں سے اپنی ماں کی آنکھوں کو چمک کو دیکھتے ضرغام خان نے تاسف سے سر ہلاتے پلوشہ کو صوفے پر بٹھایا

“تیاری کریں آپ تھوڑی دیر تک نکاح ہے”—ارمغان خان کو بازو سے پکڑے گھیسٹنے کے انداز میں کمرے سے باہر لے جاتے ہوئے کہا تو مقدس بیگم نے مسکرا کر بت بنی بیٹھی پلوشہ کو دیکھا

________

“ماں اب تو لالا حدائق کو کچھ نہیں کریں گے نا—وہ ٹھیک تو ہو جائیں گے نا”— امتثال کے کمرے سے جاتے ہی پلوشہ نے روتے ہوئے مقدس بیگم کے ہاتھ تھامتے استفسار کیا تو مبین بیگم نے نا سمجھی سے کشف بیگم کو دیکھا

تو انہوں نے اپنے موبائل کی سکرین ان کی جانب کی جس پر ایک شخص خون سے لت پت سڑک پر اوندھے منہ پڑا تھا– جبکہ آگے والی تصویروں میں ہاسپٹل کے روم کا منظر تھا جہاں ایک شخص آکسیجن ماسک لگائے ہوش و خرد سے بیگانہ پڑا تھا

مبین بیگم نے غور سے دیکھا تو ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں کیونکہ وہ کوئی اور نہیں حدائق شاہ تھا—

مبین بیگم نے بے یقینی سے کشف بیگم کی طرف دیکھا تو انہوں نے مکروہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا

“ہاں کچھ نہیں ہوگا حدائق کو—اور دیکھا یقین آگیا نا ماں پر—تمہارے لالا یہ دشمنی ختم ہی نہیں کرنا چاہتے اسی لیے تو تمہارے نکاح کے لیے رضا مند ہو گئے ہیں— وہ کبھی بھی شاہ خاندان میں اپنی عزت نا دیتے—وہ صرف عقیدت اور حوریہ کو اس حویلی میں بدلے کے لیے لانا چاہتے ہیں—اسی لیے تو شادی تک نکاح خوفیہ رکھنے کا بول کر گیا ہے تمہارا لالا”—پلوشہ کے ہاتھ تھامے نظریں جھکائے مایوس کن لہجے میں کہتی وہ پلوشہ کی جان لبوں پر لے آئیں تھیں

وہ کیسے حدائق یا اس کی بہنوں پر کوئی آنچ آنا بھی برداشت کر سکتی تھی—عشق حدائق شاہ سے تھا تو اپنی جان سے بڑھ کر ہر وہ چیز عزیز تھی جو حدائق شاہ کی ذات سے جڑی تھی—عقیدت اور حوریہ تو حدائق شاہ کی

بہنیں تھیں جن میں اس کی جان بستی تھی

تو پلوشہ خان کیوں نا خود کو ان پر قربان کرتی

“نن—نہیں ماں جی لالا ایسے کک—کیسے کر سکتے وہ بب—بیوی ہوگی ان کی مم—میں لالا کو عقیدت یا حوریہ کے ساتھ کک—کچھ غلط نہیں کرنے دوں گگ—گی مم—میں چھوڑ رہی ہہ-ہوں نا حدائق کو”—روتے ہوئے تڑپ کر نفی میں سر ہلاتے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا تو مقدس بیگم نے سختی سے مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی

ایک وہ تھی کہ بس چلتا تو شاہ خاندان کے ایک ایک فرد کو اپنے ہاتھوں جان سے مار دیتی اور ایک ان کی اولاد تھی جو ان کے لیے جینے مرنے کو تیار تھی

“حدائق کی زندگی بچانی ہے تو تمہیں یہ نکاح اب کرنا ہی ہوگا پلوشے—فلحال حدائق کی زندگی بچانے کو وہ کرتی جاؤ جو تمہارا لالا کہتا ہے—پھر عقیدت اور حوریہ کے بارے میں بعد میں سوچ لیں گے”— کشف بیگم نے آگے بڑھتے پلوشہ کو بازوؤں سے تھام کر اپنے سامنے کرتے ہوئے کہا تو پلوشہ خان نے اپنی نیلی آنکھوں کرب ذدہ آنکھوں کو اٹھا کر ایک آخری امید کے طور پر کشف بیگم کو دیکھا

کہ شاید وہ کوئی اور راستہ نکال لیں—کچھ اور مگر حدائق کے علاؤہ کسی اور کا ہونے سے بچالیں—پھر چاہے وہ رستہ موت کا ہی کیوں نا ہو

سرخ قمیض کے ساتھ وائٹ کیپری پہنے—اور سرخ رنگ کا ہی دوپٹہ گلے میں لیے—گلابی بھرے بھرے ہونٹ جو بری طرح سے کپکپا رہے تھے— نیلی جھیل سی آنکھیں جو اس وقت سرخی لیے ہوئے تھیں—چھوٹی سی ناک جو رونے کے باعث سرخ ہوئی تھی اور ناک پر چمکتی ڈائمنڈ کی نوز پن پہنے—وہ پل کے لیے کشف بیگم کو بھی مبہوت کر گئی تھی—

لوگ کہتے تھے کہ پٹھان لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہیں—مگر پلوشہ خان کو دیکھ کر لگتا تھا کہ پٹھانوں کو سارا حسن اس میں اسمایا ہو—وہ اس قدر خوبصورت تھی کہ اسے دیکھ کسی معصوم شہزادی کا ہی گمان گزرتا تھا—اگر وہ انسانوں کی دنیا میں نا ہوتی تو ضرور کسی پریستان کی ملکہ ہوتی—

کشف بیگم کو پلوشہ خان پر بیک وقت ٹوٹ کر پیار بھی آیا اور اس پر افسوس بھی ہوا

وہ کیوں تھی ضرورت سے زیادہ معصوم—یہ دنیا اب معصوموں کے لیے رہی ہی کہا تھی—یا یہ کہہ لینا بہتر تھا اس دنیا میں اب معصوم رہا ہی کون تھا—

یہ کوئی انیسویں صدی تھوڑی تھی جس میں لڑکی کو غلط صحیح—جھوٹ سچ کا پتہ نا چل سکے—یا وہ لوگوں کی چالوں کو نا سمجھ سکیں—یا وہ منہ اٹھا کر کسی پر بھی یقین کر لیں—یا جو انہیں باہر کی دنیا کے بارے میں بتا دیا جاتا اور وہ اسے سچ مان لیتی

یہ اکیسویں صدی تھی یہاں لڑکیاں کالج بعد میں جاتی تھی شعور کی دنیا میں قدم پہلے رکھتی تھی—دلائل کے بغیر کسی بات کو نہیں مانتی—ہر بات پر یقین نہیں کر لیتیں—حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا جانتی ہیں—نا کہ کسی شہزادے کی آس میں بیٹھی خواب بنتی رہتی اور اذیتیں سہتی ہیں—ٹھوکر لگنے پر گر جائیں تو اٹھ کھڑی ہونے کا حوصلہ بھی رکھتیں ہیں—جو عزت عورت کو اسلام نے دی تھی ہر رشتے میں وہ جو اب کہی مردوں کی آنا میں کھونے لگی تھی اس کے لیے آواز اٹھانے کا حوصلہ رکھتی ہیں—

وہ صرف ہمسفر نہیں بنتی اب کندھے سے کندھا ملا کر چلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں—

تو پھر وہ کیوں عقیدت جیسی نہیں تھی—جو نڈر تھی—حق نا ملنے پر بغاوت پر بھی اتر آتی تھی—جو اپنے باپ کے ماتھے سے قاتل کا الزام ہٹانے کے لیے اپنی محبت سے مکر جانے کا حوصلہ رکھتی تھی—وہ کیوں نہیں تھی حوریہ جیسی جو بچپن کی نادانی کا احساس ہونے کے بعد—ٹھوکر کھانے کے بعد کمزور نہیں پڑی تھی—

اس شخص کے آگے جھکی نہیں تھی—جس نے محبت سے زیادہ عزت کو ترجیح دی تھی—وہ کیوں نہیں تھی امتثال جیسی جو ڈٹ کر کھڑی ہونے والوں میں سے تھی—

جو کانچ سی نازک تھی مگر ضرورت پڑنے پر چٹان بننے کا حوصلہ بھی رکھتی تھی—

وہ کیوں نہیں تھی سلویٰ شاہ جیسی جو محبت کے لیے مر مٹنے والوں میں سے تھی—جو ڈنکے کی چوٹ پر محبت کا اعتراف کرنے والوں میں سے تھی—

جو رحم دل تو تھی مگر بے رحمی میں وہ اپنی مثال آپ تھی—

تو پلوشہ خان کیوں نہیں تھی ان جیسی—شاید وہ بالکل ویسی تھی جیسی حدائق شاہ نے دعاؤں میں مانگی تھی—

وہ دنیا کے رنگوں سے انجان تھی—کیونکہ حدائق شاہ اسے اپنی محبت کے رنگوں سے روشناس کروانا چاہتا تھا—

اس دنیا اور دنیا والوں سے انجان تھی—کیونکہ حدائق شاہ اسے اپنی محبت بھری دنیا میں قید کر کہ رکھنے والا تھا—جہاں کوئی غرض لالچ دکھ تکلیف نہیں تھی—جہاں پلوشہ خان کے لیے محبتیں وارفتگیاں اور شدتیں ہی تھی—جہاں پلوشہ خان حدائق شاہ کا جنون تھی—

حدائق شاہ کی تو دنیا ہی پلوشہ خان تھی—اور وہ سوچ رہی تھی کہ وہ اسے چھوڑ دے گی تو وہ آسانی سے اس سے دستبردار ہو جائے گا—

وہ حدائق شاہ کی جان بچانا چاہتی تھی مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ حدائق شاہ کی جان تو اس میں ہی بستی تھی

“مم—میں نکاح کک—کیا شش—شادی کو بھی تیار ہوں بب-بس حح-دائق اور اس کی بب-بہنوں کو کچھ مم-مت کیجئے گا”— کشف بیگم کے گلے لگے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا تو مقدس بیگم نے نخوت سے پلوشہ خان کے ہچکولے بھرتے وجود کو دیکھا

اور اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئیں

————-

“حدائق کو پسند نا پسند کرنا الگ بات ہے—مگر میں یہ بات مان ہی نہیں سکتا کہ پلوشہ ارمغان کے بارے میں کبھی ایسا سوچ سکتی ہے— اور یہ ارمغان کدھر گیا ہے—ایک تو پہلے ہی اس لڑکے کو لڑنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے—اور داجی کو کیا جواب دو گے—وہ تو پھوپھو کو زبان دے چکے ہیں کہ حدائق کہ آتے ہی پلوشہ اور اس کی شادی کر دیں گے”— عائث خان نے مردان خانے میں خاموشی سے سر جھکائے بیٹھے ضرغام خان سے ایک ساتھ کئی سوال پوچھے تو ضرغام نے گہری سانس بھر کر سر اٹھا کر عائث خان کو دیکھا

“رابطہ ہوا تمہارا—نہیں ہوا تو میسج چھوڑ دینا تھا”—عائث خان کے کسی بھی سوال کا جواب دیے بغیر سوال کیا تو عائث خان نے سر اثبات میں ہلاتے ضرغام کے قریب جگہ سنبھالی

“میسج چھوڑ دیا ہے—جہاں تک مجھے معلومات ملیں ہیں اس کے مطابق وہ پاکستان میں ہی ہے—یہاں آتے اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا—ہاسپٹل سے وہ کہاں گیا کسی کو نہیں پتہ—جہاں تک مجھے لگتا ہے اس کے پیچھے بہرام شاہ ہوگا—وہی حدائق کو ہاسپٹل سے کسی محفوظ جگہ لے کر گیا ہو گا—کیونکہ میں نے پتہ کروایا ہے وہ کافی دنوں سے شہر میں ہے—شادی کی اتنی ذمہ داریاں ہونے کے باجود بھی وہ حویلی نہیں آیا”— عائث خان نے نظریں موبائل کہ سکرین پر جمائے پرسوچ لہجے میں جواب دیا تو ضرغام خان نے ہنکارہ بھر کر اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کو ٹکا کر سر پیچھے کو گرایا

“نکاح خواں آنے والا ہے—تم اسے حویلی میں لے کر جاؤ میں ارمغان کو لاتا ہوں— داجی کی فکر مت کرو—ساتھ والے گاؤں گئے ہیں—ان کے آنے سے پہلے یہ سب ہوجانا چاہیے—بعد میں جو ہوگا میں سنبھال لوں گا”— ضرغام خان نے آٹھ کر اپنی اجرک کو کندھوں پر پھیلاتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو عائث خان نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا

___________

کھیتوں سے گزرتی نہر سے ہوتے آگے سر سبز کھلے میدان کی طرف ضرغام آیا تو نظریں ضرغام خان کے گھوڑے کے قریب موبائل پر بات کرتے ارمغان خان کی پشت سے ٹکرائی

ضرغام گہری سانس بھرتا ایک نظر اردگرد کے خوبصورت مناظر پر دوڑاتا لمبے لمبے ڈنگ بھرتا ارمغان خان کی جانب بڑھا

“تمہیں کتنی بار کہا ہے ارمغان اس طرف اکیلے مت آیا کرو”—ضرغام خان کے سرد لہجے پر ارمغان نے کال بند کر کہ پلٹ کر شکوہ کناں نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا

یہ جگہ وہی تھی جہاں شیر خان اور بہادر خان کا قتل ہوا تھا—

یہ جگہ لاکھ خوبصورت ہونے کے باوجود بھی شاہ اور خان خاندان کے لیے اذیتوں کا سبب تھی—

“کچھ نہیں ہوتا لالا—کسی میں اتنا دم نہیں کہ وہ ارمغان خان پر وار کر سکے—نا ہی سینے پر نا ہی پیٹھ پر—آپ میرے لیے پریشان مت ہوا کریں”—ارمغان خان نے سپاٹ لہجے پر ضرغام نے آگے بڑھ کر اپنے دونوں ہاتھ ارمغان خان کے کندھوں پر رکھے

“پلوشہ کبھی بھی ایسا نہیں سوچ سکتی ارمغان—یہ بات تم بہت اچھے سے جانتے ہو—وہ ڈری ہوئی ہے—اور میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ وہ کس چیز سے ڈر رہی ہے”– آپ کہنا کیا چاہتے ہیں لالا صرف وہ بات کہے پلوشہ نے یہ سب کیوں کیا مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا—ضرغام میں کی بات کاٹتے سرد لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے پرسوچ نظروں سے ارمغان خان کے سرخ پڑتے چہرے کودیکھا

“پلوشہ سے آج نکاح کر لو ارمغان—اپنے لالا پر یقین رکھو—کچھ غلط نہیں ہونے دوں گا نا تمہارے ساتھ نا ہی پلوشہ کے ساتھ تم بس آج یہ نکاح کر لو—اور مجھے شادی تک کا وقت دو میں سب سنبھال لوں گا—کیونکہ حدائق کا بھی ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور عائث کا بھی—اور مجھے لگتا ہے کہی نا کہی یہ دونوں ایکسیڈنٹ کسی ایک کی ہی سازش ہے—اور میں جلد ہی اس شخص تک پہنچ جاؤں گا جو اس سب کے پیچھے ہے اسی لیے ماں یا پلوشہ کو کسی اور بیوقوفی سے روکنے کے لیے یہ نکاح آج ہونا ضروری ہے– عائث نکاح خواں کو لینے گیا ہے—اپنے لالا پر یقین ہے تو نکاح کے لیے آجانا “– ضرغام خان کے سرد و سپاٹ لہجے پر ارمغان خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

ارمغان کو دونوں کندھوں سے تھام کر اپنے سینے سے بھنچ لیا

“تم میرے چھوٹے بیٹے کی طرح ہو چھوٹے خان— تم ضرغام خان کی طاقت بھی ہو اور کمزوری بھی—تم سے بڑھ کر میرے لیے کچھ نہیں—ایک باپ بھی شاید اتنا اپنے بیٹے کو نہیں سمجھتا ہوگا– جتنا میں تمہیں جانتا ہوں—تمہارے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے بہت اچھے سے واقف ہوں میں—نا تمہارے جسم پر کوئی آنچ آنے دوں گا اور نا ہی تمہارے دل کو کسی کو تکلیف پہنچانے دوں گا— بس اس فیصلے کے لیے اپنے لالا کو معاف کر دینا—میں بہت جلد سب ٹھیک کر دوں گا”— ارمغان خان کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے نرم و پر یقین لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے نفی میں سر ہلاتے ضرغام خان کو اپنے سامنے کرتے ہوئے دیکھا

“نا لالا یہ بات دوبارا مت کیجئے گا—آپ پر تو ارمغان خان خود کو وار دے یہ تو ایک فیصلہ ہی کیا ہے آپ نے—معافی مانگ کر۔مجھے میری نظروں میں مت گرائیں—آپ چلے میں بس آرہا ہوں—اور یہ بات ہمیشہ یاد رکھیئے گا کہ ارمغان خان کو خود سے زیادہ اپنے بڑے بھائیوں پر یقین ہے—اور یہ یقین دنیا کی کوئی طاقت نہیں توڑ سکتی”— ارمغان خان کے مضبوط لہجے میں دیے گئے مان پر ضرغام خان کو اپنا سیروں خون بڑھتا محسوس ہوا

اگر ضرغام خان نے ارمغان خان کو بیٹوں کی طرح پالا اور اسے اولاد کی طرح چاہا تھا تو ارمغان خان نے بھی ضرغام خان کو باپ کی طرح عزت و مان دیا تھا—

ایک جان مانتا تھا تو دوسرا اس پر کام وارنے کو بھی ہر پل تیار رہتا تھا

اور پھر شام میں عائث نکاح خواں کو حویلی لایا تو ضرغام اور عائث کی موجودگی میں ارمغان اور پلوشہ کا نکاح پڑھوا دیا گیا

___________

حال:-

کمرے کا دروازا دھاڑ سے کھلا تو ضرغام خان نے گردن موڑ کر بائیں جانب عقیدت شاہ کی جانب دیکھا

ڈارک بلیو کوٹ کو اتار کر صوفے پر پھینکا ہوا تھا—وائٹ شرٹ کی آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے—شرٹ کے پہلے دو بٹنوں کو کھلا چھوڑے—ڈریسنگ ٹیبل کی سطح پر دونوں ہاتھ جمائے آگے کو جھکے—سفید پیشانی پر بے ترتیبی سے بکھرے چاکلیٹ براؤن بال—سرخ وحشت لیے نیلی گہری آنکھیں— مونچھوں تلے سختی میں آپس میں پیوست عنابی ہونٹ— ستواں مغرور ناک—

وہ اس قدر پرکشش تھا کہ عقیدت کو کبھی کبھی لگتا کہ وہ صرف اپنی نظروں سے ہی اسے زیر کر کہ خود میں ہمیشہ کے لیے قید کر لے گا—

وہ حسن پرست تو نا تھی—مگر ضرغام خان کو دیکھ وہ ہمیشہ اپنی دھڑکنوں پر سے اختیار کھو بیٹھتی تھی—

اپنے پیچھے دروازا دھاڑ سے بند کرتی وہ ایک لمحے میں ضرغام خان کے قریب پہنچی

“یہ تم نے نہیں نا کیا ضرغام—یہ سب—اس سب کے پیچھے تمہاری ماں ہے نا—مم—مجھے پتہ ہے تم میرے ساتھ دھوکہ نہیں کرسکتے—تم اپنی عقیدت اپنی بیوی کو کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے—کہوں کہ باہر جو بھی تھا وہ سب جھوٹ تھا—کہوں نا ڈیم اٹ کہ وہ سب جھوٹ تھا ویسا کچھ نہیں—پلوشہ صرف اور صرف میرے بھائی کی ہے—کہو نا ضرغام کے تم نے مجھے دھوکہ نہیں دیا”— ضرغام خان کے دونوں ہاتھ ڈریسنگ ٹیبل کی سطح سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں تھامتے ضرغام خان کے سامنے کھڑے ہوتے ہذیانی انداز میں چلاتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے خون چھلکاتی نظروں سے عقیدت کو دیکھتے اپنے ہاتھ عقیدت کے ہاتھوں سے چھڑوا ئے

“ہشش—تمہاری آنکھوں سے ایک بھی آنسو بہا تو میں حشر برپا کر دوں گا یہاں—پلوشہ نہیں پسند کرتی تھی حدائق کو اس کی مرضی ارمغان تھا—یہ میری یا ماں کی نہیں پلوشہ کی مرضی تھی—اب تم بھی اس حقیقت کو قبول کر لو—جو جیسا ہو رہا ہے اسے ہونے دو—تم صرف مجھ پر اور ہمارے رشتے پر دیہان دو”—عقیدت کی بے یقینی سے پھیلی نم آنکھوں میں دیکھتے سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت

بے یقینی سے ضرغام خان کو دیکھتے اپنے دونوں ہاتھ ضرغام خان کے سینے پر رکھتے—نفی میں سر ہلاتے ضرغام خان کو خود سے دور کیا

“جھوٹ—میں مان ہی نہیں سکتی ضرغام کہ تم میرے ساتھ ایسا کر سکتے ہو—اگر یہ سچ میں پلوشہ کی مرضی ہوتی تو تم مجھے بتاتے—مجھ سے شئیر کرتے نا کہ یوں چھپ چھپا کر نکاح کر دیتے—یہ سارا ڈرامہ تمہاری نفسیاتی ماں کا کیا کرایا ہے—اسے ہی دوسروں کی خوشیاں”— ابھی عقیدت سرد لہجے میں اپنی بات مکمل کرتی کہ ضرغام خان نے دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے عقیدت کے بازؤں کو اپنی آہنی گرفت میں لیا

“جسٹ شیٹ اپ عقیدت—ایک لفظ اور نہیں—ماں ہے وہ میری— بتمیزی برداشت نہیں کروں گا”—ضرغام خان نے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو عقیدت کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ رینگ گئی

جسے دیکھ ضرغام خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے

نفی میں سر ہلاتے—ہونٹوں پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ سجائے – اگ اگلتی آنکھوں سے ضرغام خان کو دیکھا

“وہ ماں ہے تو میں بیوی ہوں ضرغام خان—مجھے بتمیزی پر ٹوک رہے ہو تو جا کر اپنی ماں کو گناہوں سے روکوں—تم نے پہلے بھی مجھے دھتکارا تھا—اور وہ دھتکار آج بھی میرے لیے ایک ناسور کی طرح ہے—

میں نے تم سے کھیل بھی کھیلا تو تمہیں دھوکہ نہیں دیا ضرغام—شوہر ہو میرے اپنی ناراضگی کا جیسے مرضی اظہار کرو– مگر میں نے اس کھیل میں کسی دوسرے کو نہیں گھسیٹا—مگر تم نے تو میرے بھائی سے اس کی محبت ہی چھین لی—

میں جانتی ہوں—کہ یہ تمہارا نہیں تمہاری ماں کا فیصلہ ہے مگر یہ بات جو تم نے کی ہے نا تم بھی میرے مجرم ہو—

جو شخص سچ یا حق کے لیے آواز نا اٹھا سکے وہ شخص عقیدت شاہ کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا—تم دنیاداری اور رشتے نبھاؤ—سچ جانتے ہوئے بھی آنکھوں پر پٹی باندھ کر بیٹھے رہو—مگر مجھ سے کوئی رشتہ رکھنے کی ضرورت نہیں”— سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے ضرغام خان کے اپنی جانب بڑھتے ہاتھوں کو جھٹکتے تلخی سے مسکراتے پلٹ کر جانا چاہا تو ضرغام خان نے جبڑے بھنچ کر سرخ انگارا ہوتی آنکھوں سے عقیدت شاہ کی پشت کو دیکھا

اس سے پہلے عقیدت باہر جاتی کہ ضرغام نے آگے بڑھ کر عقیدت کا بازو تھامتے جھٹکے سے رخ اپنی جانب کیا

“حالات جو بھی ہو عقیدت—کوئی مرے یا جیے—مجھے پرواہ نہیں—تم بیوی ہو میری—اور تمہیں تاحیات میری ہی رہنا ہے—یہ بھول ہے تمہاری کہ حدائق اور پلوشہ کا رشتے ٹوٹنے کی وجہ سے میں اپنا رشتہ توڑوں گا—اپنی محبت اپنی بیوی کو کسی کے ملنے یا بچھڑنے کی نظر نہیں کر سکتا میں—بھاڑ میں جائیں سب—تم کان کھول کر سن لو آگر ایک قدم بھی کمرے سے باہر رکھا تو ٹانگیں توڑ کر یہی بستر پر ڈال دوں گا—غصہ ہے یا ناراضگی یہی میرے سامنے رہ کر اس کا اظہار کرو—مگر میں تمہیں بالکل اجازت نہیں دیتا کہ تم ہمارے رشتے کو کسی اور کی وجہ سے خراب کرو”— عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے پر جھک کر ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو عقیدت نے نفی میں سر ہلا کر ضرغام خان کو دیکھا

“کون سا رشتہ ضرغام—کونسی بیوی اور کہاں کی محبت—جب تم میرے بھائی سے اس کی محبت چھین سکتے ہو تو کیا میں تم سے تمہاری محبت نہیں چھین سکتی—تم سے تمہاری محبت کو چھیننے کے لیے اب اگر مجھے اپنے وجود کو آگ لگا کر راکھ بھی کرنا پڑا تو مجھے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑے گا—بلکہ میری کوشش ہوگی کہ ضرغام خان تمہارے نصیب میں میری راکھ بھی نا آئے – میں نے کبھی تمہیں غلط نہیں سمجھا—میں تمہیں غلط سمجھ سکتی ہی نہیں تھی—

مجھے تم پر یقین تھا کہ تم کبھی مجھے دھوکہ نہیں دو گے—مگر تم نے میرا بھروسہ توڑ دیا –

اور جب محبت میرے بھائی کا نصیب نہیں تو پھر کیسے محبت پلوشہ خان کے بھائی کا نصیب ہو سکتی ہے – اگر اس کی پسند میرا بھائی نہیں تو عقیدت شاہ سوچ بھی کیسے سکتی ہے ضرغام خان کو—

اگر وہ ساری عمر میرے بھائی سے منسوب رہ کر کسی اور کے بارے میں خواب سجا سکتی ہے—تو پھر کس کی مجال ہے کہ وہ عقیدت شاہ کے خوابوں میں رکاوٹ بنے – اب ایسا ہے تو ایسا ہی سہی—تمہارے بہن کو اس کی پسند مبارک—اور میں بہت جلد اپنی پسند”—- ضرغام خان کی نیلی سمندر سی گہری آنکھوں میں اپنی سبز نگینوں جیسی غصے کی زیادتی سے سرخ پڑتی آنکھوں کو گاڑھے—سرد و سپاٹ لہجے میں بات مکمل کرتی کہ اس سے پہلے ہی ضرغام خان نے پلٹ کر گلاس ٹیبل کو اٹھا کر سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر مارا کہ دھماکے دار تیز آواز پر عقیدت کو اپنے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے

اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے نیچے کو جھکتے عقیدت نے سختی سے اپنی آنکھیں میچیں

“بہت شوق ہو رہا ہے مجھ سے جدا ہونے کا—بھائی کے لیے اپنی محبت سے مکرنے کا—اس وجود کو آگ لگا کر راکھ کرنے کا—تو مت بھولو عقیدت بی بی سر سے لے کر پاؤں تک تم میری ملکیت ہو—تمہاری راکھ کیا پور پور پر میرا حق ہے— کیا کہہ رہی تھی کہاں کہ بیوی—بیوی نا مانو اب اس کمرے سے تم تب ہی باہر نکلو گی جب میرا وارث تمہاری کوکھ میں ہوگا—پھر کہہ کر بتانا کہاں کا باپ اور کون باپ—چمڑی نا ادھیڑ دی تو نام بدل دینا میرا—

میں بھی دیکھتا ہوں کس میں ہے اتنی جرات کہ وہ ضرغام خان سے اس کی محبت چھین لیں— تم تو اپنے نام سے میرے نام کو جدا نہیں کر سکتی عقیدت ضرغام خان — تو یہ رشتہ ختم کرنے والی باتیں تمہیں زیب نہیں دیتی”— بازو سے تھامتے– بیڈ پر بٹھاتے عقیدت کی تھوڑی تھامے چہرہ اوپر کی جانب اٹھاتے غصے سے پھولے تنفس کے ساتھ کہا تو عقیدت نے غصے سے چہرے کا رخ بدلا تھا

“تم نے کیا سوچ کر یہ بکواس کی ہے—دل تو کر رہا ہے سچ میں تمہاری اس بکواس کے بعد اس وجود کو آگ لگا دوں— کسی کو پسند تو دور کی بات میرے علاؤہ کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھ کر تو دکھاؤ—یہ تمہاری جو خوبصورت نگینوں جیسی آنکھیں ہیں نا انہیں بینائی سے محروم کرنے میں مجھے سیکنڈ نہیں لگے گا”— عقیدت کے رخ بدلنے کر غصے سے پیچھے ہوتے سائیڈ ٹیبل دل پڑی چیزوں کو ہاتھ سے گراتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو عقیدت نے سرخ پڑتی آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں سے ایک نظر اسے دیکھتے نظریں گود میں دھرے اپنے ہاتھوں پر ٹکائیں تھیں

مجھے دیکھو عقیدت — میں پاگل ہو جو بکواس کیے جا رہا ہوں اور تمہیں اپنے ہاتھ دیکھنے سے فرصت نہیں “– دونوں بازوؤں سے تھامتے اپنے روبرو کھڑا کرتے ہارے ہوئے لہجے میں چلا کر کہتے بازوؤں پر گرفت تنگ کی تھی

“پیچھے ہٹو موٹے خان— میرا سانس بند ہو جائے گا—پیچھے ہٹو ورنہ میں ناک توڑ دوں گی تمہارا”—ضرغام خان کے ہاتھوں سے اپنے بازو آزاد کروا کر—ضرغام کے کندھوں کو اپنے ناخنوں سے نوچتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو ضرغام خان نے کندھوں پر ہوتی جلن اور تکلیف پر لب بھنچے تھے

“ہٹو ہیچھے—مجھے جانا ہے ضرغام”—ضرغام خان کی خاموش نظریں اپنے چہرے پر محسوس کر کہ نظروں کا رخ بدلتے مدھم لہجے میں کہا تو بازوؤں پر گرفت نرم ہوئی تھی

“عقیدت ضرغام خان میں اتنا حوصلہ ہے کہ وہ مجھے تکلیف پہنچا سکے—اور کہاں جانا ہے ضرغام کی جان نے”—

کمرے کی فضا میں عقیدت کی سسکی گونجی تو ضرغام خان نے تڑپ کر عقیدت کو دیکھا

“ہے عقیدت—کیوں رو رہی ہو یار—میں بس ڈرا رہا تھا تمہیں—بٹ آئی سوئیر میرے ڈرانے کا بھی ہر گز یہ مطلب نہیں تھا کہ تم رونے لگ جاؤ—میں بس یہ چاہتا تھا کہ تم دور جانے کی بات مت کرو”—عقیدت کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا–

“تم نے بب-ہت غلط کیا ضرغام—مم—میرا– بھائی—مم—میں نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ پلوشہ میرے بھائی کی رہے گی—مم—میں خود سے کک—کیسے نظریں مم—ملاؤ مم—میں تمہیں معاف نہیں کروں گی سمجھے—جج—جان لے لوں گی تمہاری”— سسکیوں سے روتے وہ ماتھا اس کے کندھے پر ٹکا گئی تھی

رونا تھما تو

اہانت کے احساس سے چہرے خون چھلکانے جیسے ہوگیا—جس سے لڑ رہی تھی—جس سے شکوے تھے— جسے گنہگار کہہ رہی تھی اب اسی کے کندھے پر ماتھا ٹکائے اپنے بھائی کی تکلیف پر رو رہی تھی—

“ہے عقیدت—میری طرف دیکھو—میں کچھ بھی نہیں ہوں نا دشمن نا کوئی غیر – میں بس تمہارا شوہر ہوں—دیوانہ شوہر—جانتا ہوں غلط ہوگیا—مگر آئی پرامس سب ٹھیک بھی کر دوں گا—بس تم آج کے بعد کبھی رو گی نہیں سمجھی—تمہارے رونے سے اس خان کو یہاں تکلیف محسوس ہوتی ہے”— اسے جھٹکے سے پیچھے ہوتے دیکھ صرغام نے عقیدت کے آنسوؤں کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے صاف کرتے آخر میں عقیدت کا ہاتھ تھام کر اپنے دل کے مقام پر رکھتے ہوئے کہا تو عقیدت نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلا یا

“میرا بھائی ضرغام—وہ بہت محبت کرتا ہے پلوشہ سے—مم—میں کیا کہوں گی اسے – کیسے بتاؤں گی”—

“کچھ نہیں ہوگا—میرے ہوتے کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ضرغام خان کی بیوی سے سوال کر سکے—عقیدت ضرغام خان کسی کو جواب دہ نہیں ہے—پھر سامنے والا کوئی بھی ہو”— اپنی جیب سے رومال نکالتے آنکھوں کے قریب پھیلی سیاہی کو صاف کرتے نرم لہجے میں جواب دیا تھا–

“آج پلوشہ کو ارمغان کے نام کر دیا – اچھی تو تمہاری ماں کو میں بھی نہیں لگتی کل کو تمہیں کہے گی کہ کسی اور لڑکی سے نکاح کر لو تو کیا تب بھی سر جھکائے خاموشی سے نکاح کر لو گے”— ایک جھٹکے سے پیچھے ہوتے چبھتے لہجے میں کہا تو عقیدت کے لہجے میں جلن اور کھو دینے کا احساس محسوس کر کہ ضرغام خان کے ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا

“ماں ہے پھروہ میری—اور ماں کا حکم تو سر آنکھوں پر—لیکن یہاں پہلی بیوی تو مجھے شوہر مان لے— پہلی کچھ عزت و احترام کرے– شوہر کی خدمت کرے تو پھر دوسری کے بارے میں بھی سوچتے ہیں”—

“میں تمہارا قتل کر دوں گی ضرغام— چھچھورے انسان— ہعقیدت نے اپنی بائیں کہنی ضرغام خان کے پیٹ میں ماری تو ضرغام خان جو اس کے گرد چکر کاٹتے پشت پر رکا تھا کراہ کر پیچھے ہوا تھا–

” اب بندہ بیوی سے مزاق بھی نا کرے”

ہاں کریں– لیکن اپنی بننے والی درگت کو سوچ کر کریں “– صرغام کی بات پر دوبدہ جواب دیتے گھور کر دیکھا تھا اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا کہ باہر سے آتی فائرنگ کی آواز سن ضرغام خان نے جھٹکے سے سر اٹھایا

جبکہ عقیدت کی آنکھیں بھی حیرت سے کھلی رہ گئیں تھیں

“ضرغام—حح-حدائق لالا”— ضرغام خان کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے خوشی و حیرت کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ کہا تو ضرغام خان نے دروازے کی جانب دوڑ لگائی

جبکہ ضرغام خان کے پیچھے ہی عقیدت زمین پر بکھرے کانچ کے ٹکروں سے بچتی دروازے کے کی جانب بڑھی

___________

پلوشہ کہاں ہے—اپنے کمرے میں تو نہیں ہے—کشف بیگم نے مقدس بیگم کے کمرے میں داخل ہوتے حیرت سے استفسار کیا تو مقدس بیگم کے ہونٹوں پر مکروہ مسکراہٹ رینگ گئی

“ارمغان کے کمرے میں چھوڑ کر آئی ہوں—جتنا جلدی ہو سکے ان کا رشتہ آگے بڑھ جانا چاہیے—نکاح ہوگیا یا دھوم دھام سے شادی ایک ہی بات ہے—اب دیکھنا کیسے آگ لگے گی شاہ خاندان والوں کو—بہرام شاہ آج تو چلا گیا—مگر یقین ہے بہت جلد وہ اپنی بہنوں کو ہمیشہ کے لیے یہاں سے لے جائے گا”—مقدس بیگم کے کہنے پر کشف بیگم نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا

“یہ ارمغان گیا کدھر ہے—ضرغام تو اس کے پیچھے گیا تھا—مگر اب وہ اپنے کمرے میں اپنی بیوی کے ساتھ ہے—اور ان کے کمرے سے چیزیں ٹوٹنے کی بھی اتنی آوازیں آرہی تھیں”—کشف بیگم نے بیڈ پر بیٹھتے حیرت انگیز لہجے میں کہا تو مقدس بیگم کا قہقہہ گونجا

“اوقات یاد دلا رہا ہو گا اس عقیدت کو—بہت ہواؤں میں ہیں نا—ابھی تو اسے اپنے مجھ پر اٹھے ہاتھ کا بھی جواب دینا ہوگا عقیدت کو—ایسی جگہ مارو گی کہ پانی بھی نصیب نہیں ہوگا—اور ضرغام گیا تھا ارمغان کے پیچھے—مردان خانے میں تھا ارمغان کہہ رہا تھا تھوڑی دیر میں خود ہی اجائے گا—اسی لیے ضرغام واپس آگیا—ابھی مقدس بیگم آگے کچھ اور کہتی کہ باہر سے آتی گولیوں کی آواز سن دونوں بھونچکا رہ گئیں

“اللّٰہ خیر کرے—یہ کون ہے کمبخت جو اس وقت حویلی میں گولیاں چلا رہا”—کشف بیگم نے دہل کر کہا تو مقدس بیگم نے کوفت سے انہیں دیکھا

“یہ کمبخت حدائق شاہ ہی ہو سکتا ہے—گولیاں چلا نہیں رہا ہمیں موت کے گھاٹ اتارنے آگیا ہے”— مقدس بیگم کے دانت پیس کر کہنے پر کشف بیگم نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے بند دروازے کو دیکھا

حدائق شاہ کا سوچتے ہی انہیں اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی

Episode 12

عائث خان کمرے کا دروازا کھول کر اندر داخل ہوا تو نظریں بیڈ پر پڑے بیگ پر گئی— چہرے پر نارمل تاثرات سجائے قدم ڈریسنگ روم کی جانب بڑھائے جہاں سے کھٹ پٹ کی آوازیں آرہی تھی

ابھی عائث خان ڈریسنگ روم میں داخل ہوتا کہ حوریہ کپڑوں کا انبار اٹھائے اپنی میکسی کو بامشکل سنبھالتی باہر آئی

جسے دیکھ عائث خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے اپنی مسکراہٹ چھپائی

اپنے سامنے کھڑے عائث خان کو نظر انداز کرتے حوریہ نے قدم بیڈ پر پڑے بیگ کی جانب بڑھائے اور پٹکنے کے انداز میں کپڑوں کو بیگ میں رکھا

اپنا بلیک کوٹ اتار کر ایک گہری استحاق بھری نگاہ حوریہ شاہ کی پشت پر ڈالتے ہاتھ میں تھامے کوٹ کو لپیٹ کر حوریہ کی کمر کا نشانہ لیا

حوریہ جو چہرے پر سخت تاثرات سجائے—تیزی سے ہاتھ چلاتی کپڑوں کے انبار کو بیگ میں ٹھونسنے میں مصروف تھی—

اپنی کمر پر ہوئے اس اچانک حملے پر بھونچکا رہ گئی—آنکھیں اور منہ حیرت کی زیادتی سے کھلے رہ گئے— گردن ترچھی کر کہ عائث خان کو دیکھا جو اب مسکراتی نظروں سے حوریہ کو دیکھتا اپنی شرٹ کی آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کر رہا تھا—حوریہ کے دیکھنے پر آنکھ دبائی تو حوریہ نے ہڑبڑا کر نظروں کا رخ بدلا

چہرہ عائث خان کی حرکت پر تپ اٹھا تھا—

“گھنا میسنا خان”—دانت کچکچا کر بڑبڑا کر کہتے بیگ کی زپ بند نا ہونے پر جھنجھلا کر کچھ جوڑے نکال کر زمین پر پھینکیں

“مجھے کمرے میں پھیلایا پسند نہیں — اور پھوہڑ عورتیں تو بالکل بھی نہیں”— زمین پر بکھرے کپڑوں کو اٹھا کر بیگ کی زپ کھولتے رکھتے ہوئے کہا تو حوریہ نے بائیں بازو پر ایک جوڑا رکھتے دونوں ہاتھوں سے بیگ کو تھاما تھا–

“مجھے اپنی چیزیں سمیٹنی ہیں ہٹیں پیچھے”—

“کچھ دیر پہلے آپ محترمہ جو کر رہی تھی اسے سمیٹنا تو ہرگز نہیں کہتے– اگر وہی پھر سے کرنے کا ارادہ ہے تو بیگ اٹھائیں اور باہر ٹیرس پر جائیں”— حوریہ کے ہاتھ بیگ سے ہٹاتے باقی کے کپڑے بھی بیگ میں ٹھونستے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا تھا جبکہ وہ دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے گھور کر اس میسنے انسان کو دیکھ رہی تھی

کس قدر عجیب شخص اس کے پلے پڑا تھا—باہر اتنا تماشہ ہو گیا—یہاں بیوی گھر واپس جانے کے لیے پیکنگ کر رہی ہے—مگر وہ ہر بات کو اپنے مطلب کا رنگ دے رہا تھا—

“مم—مجھے میرے گھر جانا ہے عائث—جب تک لالا آکر کوئی فیصلہ نہیں کرتے میں تب تک وہی رہوں گی—اور اگر لالا نے ہمیں یہاں واپس آنے سے منع کیا تو شاید ہمیشہ کے لیے”—ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنی بات بتاتے نظریں اٹھا کر عائث خان کی سنجیدہ نظروں میں دیکھا– وہ جو سمجھا تھا کہ شاید وہ بیگ سے اپنے کپڑے وغیرہ نکال رہی ہے اب سمجھا تھا کہ وہ بیگ ان پیک نہیں بلکہ پیک ہو رہا تھا حویلی سے جانے کے لیے

“تم مجھے چھوڑنے کی بات کر رہی ہو”— سپاٹ لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر استفسار کیا تو عائث خان کے سرد رویے پر حوریہ کا دل دھک سے رہ گیا—

“میرے ہی سامنے تم مجھے اپنا اور اپنے بھائی کا فیصلہ سنارہی ہو کہ تم مجھے چھوڑ رہی ہو یا شاید چھوڑ دو گی—یعنی کہ تمہیں اپنی سانسیں عزیز نہیں ہے—یا بہت جلد ہی تم زندگی سے اکتا گئی ہو—جو یوں مرنے کی باتیں کر رہی ہو”— دو قدم پیچھے ہوتے دونوں بازو سینے پر باندھتے جیسے خود پر قابو پانے کی کوشش کی تھی

“نن-نہیں میرا مطلب وہ عائث—رسم ہوتی ناشادی کے نیکسٹ ڈے دلہن جاتی نا واپس– اور ویسے بھی جو آج ہوا ہے میں ابھی یہاں رہنا نہیں چاہتی– اور پلیز یہ ٹین ایجرز لڑکوں کی طرح ڈائیلاگز نا ماریں– بیوی ہوں– کزن بھی– ایک دوسرے کو جانتے ہیں– گرل فرینڈ تو نہیں ہوں جس کے سامنے اپنا رعب اور دبدبہ دکھائیں گے کہ تم نا مل تو تمہیں بھی مار دوں گا جو رستے میں آیا اسے بھی– عجیب سو کالڈ”— نرم لہجے میں کہتے ایک بازو کمر پر جبکہ دوسرا ہاتھ عائث خان کے کندھے پر رکھتے ہستے ہوئے ماحول کو خوشگوار بنانے کے چکر میں بول تو گئی تھی لیکن اس کے چہرے کے ہنوز سنجیدہ تاثرات دیکھ کھسیانی سی ہنسی ہنستے پیچھے ہوئی تھی

کیونکہ وہ جتنی مرضی بہادر بنتی یا بلنٹ تھی—نا اس کی اپنے بھائیوں کے سامنے زبان کھلتی تھی—

اور عائث خان کے سامنے وہ جو دل میں آتا کہہ تو جاتی تھی—مگر اب اس گھنے میسنے خان کے خطرناک تیور دیکھ حوریہ کو اپنے گرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہو رہی تھیں

اسے تو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کونسی عورتیں ہوتی ہیں—جو شوہر غصے میں ہوتا تو آگے سے پورا مقابلہ کرلیتی تھیں—یہاں تو صرف سرد لہجہ اور سرخ آنکھیں دیکھ ہی وہ پل میں اپنی بات سے بدلی تھی

کیونکہ اس کا کمرے سے زندہ سلامت نکلنے کا ارادہ تھا—ورنہ اس خان کا کیا بھروسہ تھا—دو بار تو وہ مرنے کا کہہ چکا تھا کیا پتہ تیسری بار کہنے کی بجائے سیدھا اوپر ہی بھیجتا

دل میں عقیدت کو دو سو سلواتوں سے نوازا—کیونکہ وہی اسے بہادر بننے—حق کے لیے بولنے—دوسروں کا منہ بند کروانے کے مشورے دیتی رہتی تھی—اس کا ہی کہنا تھا کہ جب سچ بولوں—سچ کے لیے لڑو تو یہ مت دیکھو کہ سامنے کون ہے—

اور اب جو وہ بولتی تھی تو سچ میں بھول جاتی تھی کہ سامنے والا کون ہے—اور اب وہ سامنے والا خونخوار تاثرات چہرے پر سجائے حوریہ کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا—

اور حوریہ کا دل کر رہا تھا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے

“تمہارا بھائی یا ماں واپس لے کر گئی تھی جو تم اکیلے واپس جانے کی بات کر رہی ہو”—سخت لہجے میں سوال پوچھا تو حوریہ نے بے ساختہ نفی میں گردن ہلائی

“تو اب تم اکیلے واپس جانا چاہتی ہو—بھیجو تمہیں واپس”— بیگ کو بید سے اٹھا کر کبرڈ کا دروازا کھولتے اندر پٹکتے ہوئے کہا تو وہ جو نیچے کھڑی تھی تیر کی تیزی سے بیڈ پر چڑھتی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکی تھی

حوریہ کی نظر میں اگر وہ خاموش رہتا تھا تو بہت اچھا تھا—کیونکہ اس شخص کے پاس صرف الفاظ نہیں—الفاظ کے جال تھے— وہ لفظوں کے جال میں انسان کو الجھا کر اپنی من مانی کرنے والا شخص تھا—

وہ سنگر تھا—اور حوریہ کو اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ اتنا مقبول کیوں تھا—وہ لفظوں کے ساتھ ہیر پھیر کر کہ – لفظوں کے ساتھ کھیلتے لوگوں کے دلوں میں۔ اتر جاتا تھا–

اور اپنے لفظوں کی سرگوشیوں سے وہ حوریہ کے معصوم سے دل کو دہلا کر رکھ دیتا تھا—

“عائث میں چینج کر لوں ایکچولی میں بہت انکمفرٹیبل فیل کر رہی ہوں”—

“تو اب مجھ سے اجازت نامی سائن کروا کر کرو گی چینج— وہ رہا چینجنگ روم– میری طرف سے اجازت ہے محترمہ کر آئیں چینج”– بیڈ پر بیٹھے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر لپیٹی حوریہ کو دیکھتے عائث خان نے تاسف سے سر ہلاتے اپنے سوال پر خود ہی ملامت کرتے اسے ہاتھ کے اشارے سے چینجنگ روم– کی طرف اشارہ کیا تو وہ جھٹ سر ہلاتی جتنی تیزی پر بیڈ پر چڑھی تھی اتنی تیزی سے اترتی چھپانے سے واشروم میں بند ہو چکی تھی

———

مجھے شرم آرہی ہے لیکن میں اپنی بات کہنا چاہتی ہوں آپ ذرا اس طرف دیکھ لیں تا کہ میں اپنی بات پوری کر سکوں”– بیڈ پر بیٹھتے چینجنگ روم– سے باہر آتے عائث خان کو دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے آنکھیں ترچھی کرتے گھور کر اسے دیکھا تھا– جو اس کے گھورنے پر مسکین شکل بناتی اشارے سے اسے چہرے کا رخ بدلنے کا کہنے لگی جس پر عائث خان گہری سانس بھرتے چئیر اٹھا کر اس کے سامنے ان بیٹھا تھا جس پر وہ پل میں جزبز ہوئی تھی

بولو کر رہا ہوں چہرہ دوسری طرف”— رخ دائیں جانب کرتے تیز لہجے میں کہا تو حوریہ نے جھٹ سر اثبات میں ہلایا تھا

“میں آپ سے دور نہیں جاسکتی عائث—یہ میرے بس میں نہیں ہے—مجھے آپ سے کوئی طوفانی محبت نہیں ہے—مگر اس رشتے کو نبھانے کے لیے میں کسی بھی طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہوں—یہ رشتہ میرے باپ نے جوڑا تھا—میں اس سے انجان تھی—بھٹک گئی تھی—مگر جس دن سے اس رشتے کو جانا ہے—یہ رشتہ میرے لیے دنیا کے ہر رشتے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے—لیکن کل سے سب بدل گیا میرے لیے یہ رشتہ نہیں اس رشتے میں جڑا شخص جو میری روح کا حصہ ہے—وہ بھی مجھے جان سے عزیز ہوگیا ہے—

کبھی کبھی طوفانی محبت ہونا ضروری نہیں ہوتا—وہ رشتہ جو آپ کو جوڑتا ہے—دو جسموں کو ایک جان بناتا ہے—اس کا احساس ہونا اس کا آپ کے لیے اہم ہونا ضروری ہوتا ہے—میرے لیے آپ سے بڑھ کر کچھ نہیں عائث—میرے لیے سانسوں سے زیادہ ضروری ہوگئے ہیں آپ”—

نجانے کتنی دیر وہ خود میں ہمت مجتمع کرتی رہی کتنے لمحے خاموشی میں سرکے تھے– جبکہ وہ تحمل سے اس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا تھا اور پھر بالآخر وہ بولی تھی اور اس کا کر بول عائث خان کو دل میں اترتا محسوس ہوا تھا–

کمرے میں پھر سے خاموشی چھائی تو عائث نے رخ اس کی جانب کیا تھا جو چہرہ جھکائے انگلیاں چٹخا رہی تھی ابھی اس نے بولنے کے لیے لب واہ کیے ہی تھے کہ باہر سے آتی فائرنگ کی آواز پر عائث خان نے جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا–

“سالے تیری تو”—حدائق شاہ کو سوچتے عائث خان نے دانت پیستے گالی دینی چاہی مگر حوریہ کو ہونکوں کی طرح اپنی جانب منہ کھولے تکتے دیکھ سر جھٹکا تھا

“باہر آؤ تو اچھے سے دوپٹہ اوڑھ کر آنا—ورنہ یہ نا ہو تمہارے بھائی کو چھوڑ کر میں تمہاری ٹانگیں توڑ دوں– حوریہ کے شرٹ ٹراؤزر کو دیکھتے—سخت لہجے میں کہتا جلدی سے کبرڈ کے ڈرا سے اپنی پسٹل لیتا باہر کی جانب بڑھا

جبکہ حوریہ حق دق سی ناسمجھی سے کمرے کا دروازا کھول کر باہر جاتے عائث خان کو دیکھ رہی تھی—

پھر سمجھ آنے پر جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی—ڈریس چینج کرنے کا وقت تو تھا نہیں—اسی لیے کبرڈ سے بڑی سے چادر اٹھا کر جلدی سے خود کے گرد لپیٹتی باہر کی جانب بڑھی

__________

ارمغان خان نے دکھتے سرکو دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے دباتے ایک نظر لاونج میں لگی گھڑی پر وقت دیکھا تو رات کے بارہ دیکھ گہری سانس بھرتے قدموں کا رخ اپنے کمرے کی جانب کیا

دروازے کا ہینڈل گھماتے—درواہ کھول کر اندر داخل ہوا

ارادہ کمرے میں داخل ہوتے بستر پر گرتے نیند کی وادیوں میں کھو جانے کا تھا—کیونکہ اتنے دنوں سے وہ ذہنی اذیت میں مبتلا تھا

سلویٰ شاہ کو کھونے کا احساس سانپ کی طرح ڈس رہا تھا—اور آج سلویٰ شاہ کی آنکھوں میں نمی دیکھ ارمغان خان کو اپنی سانسیں رکتی محسوس ہو رہی تھی—

وہ تو لوگوں پر جان دینے والا شخص تھا— رشتوں پر مرمٹنے والا تھا— اور یہاں تو بات سلویٰ شاہ کی تھی جو ارمغان خان کو پہلی بار میں ہی اپنی سانسوں سے قریب ترین محسوس ہوئی تھی—جو عائث خان کے خاموش دل میں ہلچل مچا گئی تھی—وہ جو کسی کا پابند نہیں تھا وہ پہلی جھلک میں ہی سلویٰ شاہ کی محبت کا پابند ہوگیا تھا—وہ جو اپنی سحر انگیز شخصیت سے لوگوں کو اسیر کر دیتا تھا—وہ سلویٰ شاہ کی گرے آنکھوں کا اسیر ہو کر اپنا سب کچھ اس کے آگے ہار چکا تھا—

کمرے میں داخل ہوتے ہی کسی اور وجود کی خوشبو کو کمرے میں محسوس کر کہ ارمغان خان نے جھٹکے سے گردن موڑ کر بائیں جانب بیڈ کی پائنتی کے قریب سر جھکائے سادہ سے کاٹن کا لائٹ پنک سوٹ پہنے بیٹھی پلوشہ خان کو دیکھا

پلوشہ خان کو اپنے کمرے میں دیکھ ارمغان خان کا دل کیا یا تو خود کو شوٹ کر لے یا تو اس بیوقوف لڑکی کو

اگر جو حدائق شاہ کو خبر ہوجاتی کہ پلوشہ خان بیوی کی حیثیت سے ارمغان خان کے کمرے میں ہے تو وہ پاگل انکی شخص وجہ بعد میں پوچھتا پہلے ارمغان خان کے وجود کو گولیوں سے چھلنی کرتا—

اور دوسری ارمغان خان کی روٹھی محبت اگر اسے بھنک بھی پڑ جاتی کہ پلوشہ اس کے کمرے میں کس حیثیت سے آئی تھی—وہ تو ارمغان خان کو گنجا کر دیتا—

اپنی سوچ پر بے ساختہ جھرجھری لیتے ارمغان خان نے چہرے پر خطرناک تیور سجائے قدم پلوشہ خان کی جانب بڑھائے

“دماغ سے پیدل لڑکی یہاں کیا کر رہی ہو فوراً نکلو یہاں سے—کیوں مجھے مروانے پر تُلی ہوئی ہو پلوشے”— پلوشہ کی جانب بڑھتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو پلوشہ ارمغان خان کی سخت آواز سن کر ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھی

“لالا—وہ ماں جی زبردستی چھوڑ گئی ہیں”—نیلی موٹی موٹی رونے کے باعث نم ہوئی آنکھوں میں سرخ ڈورے لیے—لمبی خمدار نم پلکوں کو جھپکتے—معصومیت سے سر جھکائے جواب دیا تو ارمغان خان نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی

پلوشہ کق وہ نکاح ہونے سے پہلے ہی میسج کر کہ بتا چکا تھا کہ یہ نکاح صرف ایک دکھاوا ہے—نکاح پڑھوانے والا عائث خان کے ڈرائیور کا بیٹا ہے— ارمغان خان نے صاف لفظوں میں پلوشہ سے کہا تھا کہ وہ تینوں بھائی جانتے ہیں کہ یہ ڈرامہ وہ کسی کے کہنے پر کر رہی ہے—

جب تک ضرغام اور عائث کی شادی نہیں ہو جاتی انہیں وہی کرنا ہے جو مقدس بیگم اور کشف بیگم چاہتی ہیں

کیونکہ وہ شادی میں کوئی بدمزگی نہیں چاہتے— اور ارمغان جانتا تھا کہ وہ حدائق شاہ سے محبت کرتی ہے—وہ اتنا بڑا قدم اٹھا تو چکی ہے مگر نکاح وہ کبھی نہیں کر پائے گی—وہ خود کو کوئی تکلیف نا پہنچا لے اسی لیے لاکھ غصے کے باوجود بھی وہ ضرغام اور عائث کو بتائے بغیر پلوشہ کو نکاح کی حقیقت بتا چکا تھا کہ یہ نکاح نکلی ہوگا

عائث تو اتنے دنوں سے مسلسل حدائق سے رابطہ کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا تھا—نجانے بہرام شاہ نے اسے کہاں چھپایا تھا کہ وہ اردگرد کے گاؤں—جس جس شہر بہرام شاہ جاتا تھا وہاں کا چپا چپا چھان چکے تھے— مگر حدائق شاہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا تھا

جبکہ اس سب کے دوران ارمغان خان کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے—جتنا وہ سب کو گھماتا تھا اب قسمت نے ساری کسریں ایک ساتھ ہی پوری کر دی تھی—ایک طرف ہونے والا سالا تھا—اور دوسری جانب اس سالے کی تایا زاد بہن جو شاید ارمغان خان کو کچا ہی چبا جائے گی

سلویٰ شاہ کی ناراضگی—اس کی بے رخی اور سب سے زیادہ سلویٰ شاہ کی آنکھوں میں خود کو بیووفا دیکھ کر ارمغان خان کو اپنا آپ انگاروں پر لوٹتا محسوس ہو رہا تھا—

“تم کیوں اپنی اور میری جان کی دشمن بن رہی ہو پلوشے—تمہیں تو وہ دونوں بہن بھائی کچھ کہے نا کہے—مجھ معصوم کو بخشے گے نہیں—اب چلو اپنے روم میں—تائی جان سے میں خود بات کر لوں گا صبح—اب چلو”— سر جھکائے تھر تھر کانپتی پلوشہ کو دیکھ اپنے سخت صپر حتی الامکان ضبط کرتے—دانت پیستے ہوئے کہا مگر پلوشہ کو مسلاصسر جھکائے کھڑے دیکھ ارمغان خان نے جھنجھلاتے ہوئے آگے بڑھ کر پلوشہ کی کلائی کو اپنی سخت گرفت میں لیتے قدم باہر کی جانب بڑھانے چاہے

مگر اس سے پہلے ہی کمرے کا دروازا دھاڑ کی آواز سے کھلا

جس پر ارمغان خان نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ کر آنے والے طوفان کے لیے خود کو تیار کیا

________

اپنے سامنے سیاہ شلوار کرتا پہنے—چھ فٹ سے نکلتا قد—ماتھے پر بے ترتیبی سے بکھرے سیاہ سلکی بال—چہرے پر چٹانوں سے سختی اور نیلی سمندر سی آنکھوں میں جنون کی آگ لیے—مونچھوتلے سختی عنابی ہونٹوں کو سختی سے بھنچے—دائیں ہاتھ میں پسٹل تھامے— لہوں چھلکاتی آنکھیں پلوشہ خان کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں گاڑھے مضبوط قدم لیتا پلوشہ کی جانب بڑھا

نظریں پلوشہ خان کے سراپے سے ہوتی پلوشہ کی دائیں کلائی پر آئی تو حدائق شاہ کے ضبط کی طنابیں پل میں ٹوٹی

بائیں ہاتھ کی مٹھی سختی سے بھنچتے قہر بھری نگاہ ارمغان خان کے ہاتھ پر ڈالتے جس سے وہ پلوشہ کی کلائی تھامے کھڑا تھا— بنا دونوں کو سمجھنے کا موقع دیا حدائق شاہ ارمغان خان کے بائیں بازو پر گولی ماری تو کمرے میں چھائے موت سے سناٹے میں گولی کی آواز کے ساتھ پلوشہ خان کی دلخراش چیخ گونجی

جبکہ ارمغان خان نے تکلیف کی زیادتی سے سختی سے ہونٹ بھنچتے—پلوشہ کی کلائی چھوڑتے اپنے زخم پر مضبوطی سے ہاتھ رکھا

“لالا—تم غلط”— حدائق شاہ کے خطرناک تیور دیکھتے ارمغان خان نے جبڑے بھنچ کر کہنا چاہا مگر حدائق شاہ کی سخت نظروں کی گھوری پر چپ خاموش ہوگیا

“دوبارا یہ حرکت انجانے میں بھی نا کرنا چھوٹے خان”—حدائق شاہ کے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہنے پر پلوشہ نے اپنے ہونٹوں پر دونوں ہتھیلیاں جما کر اپنی چیخ کا گلا گھونٹا

جس پر حدائق شاہ نے ناگواری سے پلوشہ کی جانب دیکھا

تبھی حدائق شاہ نے دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے پلوشہ کی کلائی کو اپنی سخت گرفت میں لیتے قدم باہر کی جانب بڑھائے

“نن—نہیں مم—مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ”— حدائق شاہ کی جھلسا دینے والی سخت گرفت—اور حدائق شاہ کے خطرناک تیور دیکھ کر پلوشہ کو اپنی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاتا محسوس ہوا تھا

اس نے کبھی حدائق شاہ کو دیکھا نہیں تھا—مگر وہ اس کا کزن تھا—ذہن کی بھولی بھٹکی یادوں میں اس کے چہرے کے نقوش یاد تھے—

پلوشہ کو اتنا یاد تھا تب وہ بہت رحم دل ہوا کرتا تھا—سب کہتے تھے بہرام اور حدائق کی عادتیں ملتی ہیں—اور پلوشہ نے جب جب بہرام شاہ کو دیکھاتھا اس کے چہرے پر پرسکون نرم مسکراہٹ ہوتی تھی—جس سے اسے یہی لگتا تھا کہ حدائق شاہ بھی اس کے خوابوں کے شہزادے کی طرح رحم دل ہوگا—جس کی آنکھوں اور باتوں سے صرف بہت جھلکتی ہوگی—

مگر آج اپنے سامنے دیو قامت جسامت—چہرے پر چٹانوں سی سختی لیے—قہر بھری آگ برساتی نظروں سے خود کو دیکھتے—حدائق شاہ کو دیکھ پلوشہ کو اپنے ننھے سے دل کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا—

وہ مزاحمت کر رہی تھی—مگر حدائق شاہ کام لپیٹے ناک کی سیدھ میں چلتا پلوشہ کو اپنے ساتھ گھیسیٹے جا رہا تھا—

___________

“ہاتھ چھوڑو میری بہن کا حدائق”— وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے لاونج میں آئے تو پیچھے سے سیڑھیاں اترتے ضرغام خان نے چلا کر کہا تو حدائق شاہ پلوشہ کی کلائی پر گرفت سخت کرتا– جھٹکے سے ایڑھیوں کے بل گھوم کر رخ ضرغام خان کی جانب کیا

“لالا پلوشہ کا ہاتھ چھوڑیں—بیٹھ کر بات کرتے ہیں”—ضرغام خان کے خطرناک حد تک سرخ پڑتے چہرے اور پلوشہ خان کے تھر تھر کانپتے وجود کو دیکھ ضرغام خان کے بائیں جانب کھڑی ہوتی عقیدت نے نرم لہجے میں کہا

تب تک مقدس اور کشف بیگم بھی بائیں وہی آگئی تھیں—عائث خان تیزی سے سیڑھیاں اترتا ضرغام کی سائیڈ سے گزرتا حدائق شاہ کے سامنے جا کر کھڑا ہوا

حوریہ بھی تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تو آگے کا منظر دیکھ اس کا دل چاہا اپنا ماتھا پیٹ لے

مجال تھی جو ان لوگوں کی بے چین روح کو ذرا سکون ہو

“شاہ ہاتھ چھوڑ میری بہن کا”—عائث خان کی گرجدار آواز لاونج میں گونجی تو حدائق شاہ نے استہزائیہ نظروں سے عائث خان کو دیکھا جس پر عائث خان نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے اشتعال پر بامشکل قابو پانے کی کوشش کی

“میں تمہاری بہن کا ہاتھ چھوڑو گا تو کیا تم میری بہن کو چھوڑ دو گے”—عائث خان سے بھی زیادہ گرجدار آواز میں دھاڑتے ہوئے کہا تو مقدس اور کشف بیگم نے دہل کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا

“اگر ہاتھ تھامنے کا اتنا شوق تھا تو کہا غائب تھے— کتںی کوشش کی تم سے رابطہ کرنے کی—اگر اتنی محبت تھی تب آتے حدائق شاہ”—ضرغام خان نے قدم آگے بڑھاتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو حدائق شاہ نے بائیں ہاتھ میں تھامی پسٹل کو اپنی کنپٹی پر رکھتے پر سوچ نظروں سے ضرغام خان کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھا

اور پھر طنزیہ مکسراتے قہر آلود نظروں سے مقدس بیگم کو

“اگر میری ساسوں ماں مجھے ہاسپٹل بھیجنے کا انتظام نا کرتی تو یقین مانو—میں اس دن یہاں آ بھی جاتا اور تمہاری بہن کو ہمیشہ کے لیے اپنا بنا کر یہاں سے کہی دور لے جاتا—مگر تمہاری ماتا شیری نے میرے ارمانوں کا قتل کر دیا یار”—چہرہ جھکائے تاسف سے گردن ہلاتے دکھ بھرے لہجے میں کہا تو اپنے بھائی کی بات پر اپنے شوہر کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ عقیدت کا دل چاہا وہ خود یہاں سے کہی فرار ہو جائے مگر وہ ایسا کر بھی نہیں سکتی تھی

“جج-جھوٹ بول رہا ہے—مم—میں نے کچھ بھی نہیں کیا”— حدائق شاہ کی سرد نظریں خود پر محسوس کر کہ مقدس بیگم نے منمناتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے افسوس بھری نظروں سے اپنی ماں کو دیکھ گہری سانس بھرتے حدائق شاہ کو دیکھا

“لالا مم—میرا—ہاتھ چچ-چھڑوائیں”—سب کو ایک دوسرے کی جانب دیکھتا پا کر پلوشہ خان نے روتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے جبڑے بھنچ کر خون چھلکاتی نظروں سے پلوشہ کو دیکھا کہ بچاری حدائق شاہ کی نظروں کو دیکھ ہی چپ سادھ گئی

اس سے پہلے عائث یا ضرغام آگے بڑھتے عقیدت جلدی سے حدائق کی جانب بڑھی

“لالا ہاتھ چھوڑیں وہ بہت معصوم ہے ڈر جائے گی آپ سے”—حدائق شاہ کے ہاتھ سے زبردستی پلوشہ کی کلائی چھڑواتے عقیدت نے منت بھرے لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے جھٹکے سے پلوشہ کو خود سے دور کیا کہ وہ بچاری بامشکل گرتے گرتے بچی

“لالا”—درد سے کراہتی آواز پر ضرغام اور عائث نے جھٹکے سے چہرہ موڑ کر پیچھے دیکھا تو ارمغان خان کے لہو لہان بازو کو دیکھا ان دونوں کو ایسا لگا جیسے حویلی کی چھت سر پر آن گری ہو

“چھوٹے خان”— ضرغام خان کی دل دہلا دینے والی دھاڑ لاونج میں گونجی تو حدائق شاہ نے کوفت سے ان سب کو دیکھتے صوفے پر جا کر جگہ سنبھالی

“یو سالے—کمینے انسان تیری ہمت کیسے ہوئی میرے بھائی پر گولی چلانے کی”— ضرغام کو ارمغان کی جانب بڑھتا دیکھ—عائث خان لمبے لمبے ڈنگ بھرتا صوفے کی پشت پر دونوں ہاتھ پھیلائے کروفر سے بیٹھے حدائق شاہ کی جانب بڑھا

ابھی وہ جھک کر حدائق شاہ کے کالر کو اپنی مٹھیوں میں دبوچ کر اپنے روبرو کھڑا کرتا اس سے پہلے ہی حدائق شاہ نے اپنی دائیں ٹانگ کو سیدھے کرتے عائث خان کے پیٹ پر وار کیا کہ وہ لڑکھڑاتے ہوئے چند قدم پیچھے ہوا

“گالی نہیں خان— گالی تو میں نے اپنے باپ سے لاڈ میں نہیں سنی تھی—اور ہمت کی تو بات ہی مت کرو— پلوشہ خان صرف اور صرف میری ہے—پھر چاہے کوئی اس سے ڈارمہ رچائے شادی کا یا سچ میں ایسا سوچے—میرے لیے وہ دونوں ہی واجب القتل ہیں—اگر یہاں ارمغان خان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو یقین مانو—وہ کب کا آہنی سانیس پوری کر چکا ہوتا—اب اپنی یہ سڑی ہوئی شکل گم کرو—کیونکہ میں تمہیں نہیں کسی اور کو فرصت سے نہارنے آیا ہوں”— عائث خان کے پٹھانی نقوش والے چہرے میں سرخیاں گھلتے دیکھ آخر میں آنکھ دبا کر کہا تو عائث خان نے جھک کر حدائق شاہ کی دونوں ٹانگوں کو پکڑ کر صوفے سمیت پیچھے کو الٹا تو

لاونج عورتوں کی دلخراش چیخوں سے گونج اٹھا

جبکہ ان چیخوں کے درمیان حدائق شاہ کے دل جلا دینے والے قہقہے عروج پر تھے

“لالا میں ٹھیک ہوں—گولی چھو کر گزری ہے”—ضرغام خان کو شرٹ اتار کر اپنے زخم پر باندھتے دیکھ ارمغان خان نے جبڑے بھنچ کر نرم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے خون چھلکاتی نیلی آنکھوں سے ارمغان خان کو دیکھتے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے—ارمغان خان کا کندھا تھپتھپایا

“عائث پیچھے ہٹیں کیا کر رہے ہیں—آپ کو لگ جائے گی”—عائث کے آگے کھڑے ہوتے اپنے دونوں ہاتھ عائث خان کے سینے پر رکھتے اسے حدائق شاہ سے پیچھے کرنے کی کوشش کرتے حوریہ شاہ نے التجائیہ لہجے میں۔ کہا تو عائث خان نے غصے سے سرخ انگارا ہوتی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑی اپنی متائے جان کو دیکھا

جو آنکھوں میں التجا لیے عائث خان کو دیکھ رہی تھی

غصے کی زیادتی سے تیز چلتی سانسیں—بازوؤںکی پھولی ہوئی رگیں—چہرے کے تنے ہوئے نقوش—چاکلیٹ براؤن خون چھلکاتی آنکھیں—حوریہ کو وہ کوئی زخمی بھپرا ہوا شیر ہی لگا—

“لالا بس کریں یہ تماشہ—پاگل ہو گئے ہیں آپ—پلیز یہاں سے جائیں—ہم صبح بات کریں گے اس بارے میں”—حدائق شاہ کے سامنے کھڑے ہوتے عقیدت نے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو حدائق شاہ نے سخت نظروں سے عقیدت کو گھورا

“تمہارا کمینہ شوہر میری امانت عزت سے لوٹا دے میں اسے لے کر چلا جاؤں گا—مگر اس کے بغیر تو یہ ناممکن ہے عقیدت”—اپنے ہونٹ سے نکلتے خون کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت نے اپنے بھائی کی ہٹ دھرمی پر سختی سے مٹھیاں بھینچی

“لالا شوہر ہے وہ میرا—اس کے خلاف میں کوئی بات نا سنو—گالی تو بہت دور کی بات—آئندہ ضرغام کو گالی مت دیجیے گا—ورنہ میں سارے لحاظ بھول جاؤں گی”—دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے حدائق شاہ کے قریب ہوتے دانت پیستے سرگوشی نما آواز میں کہا تو حدائق شاہ نے آبرو آچکا کر عقیدت شاہ کو داد دینے والے انداز میں دیکھا

“مطلب تم اس کل کے بنے شوہر کی وجہ سے اپنے جان سے عزیز بھائی کے خلاف جاؤ گی”—عقیدت کے لہجے میں جھک کر سرگوشی کی تو عقیدت نے گھور کر حدائق شاہ کو دیکھا

“شوہر—شوہر ہی ہوتا ہے لالا—دو دن پہلے کا ہو یا دو منٹ پہلے کا—وہ میری عزت پر میرے کردار پر کسی کی بات گوارا نہیں کرتا تو میں کیسے اپنی شوہر کے خلاف کچھ سن لوں—آپ بھائی ہیں میرے—مجھے اب بھی جان سے عزیز ہیں—مگر آپ دونوں میں سے کسی کا ساتھ دینا پڑے تو میں حق اور سچ پہ ہونے والے کا دوں گی”— حدائق شاہ کی نیلی آنکھوں میں اپنی سبز نگینوں جیسی آنکھیں گاڑھے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو حدائق شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا

_____________

ابھی عقیدت کچھ سمجھتی کہ پیچھے سے آتے ضرغام خان نے کندھوں سے تھام کر عقیدت کو پیچھے کیا اور پوری شدت سے پنچ حدائق شاہ کے ناک پر رسید کیا

“سالے تیری تو— یہ جو سر پر چوٹ لگ کر دماغ ٹھکانے سے سٹک گیا ہے نا— یہ کوئی ڈاکٹر نہیں ضرغام خان ہی ٹھکانے پر لائے گا”—حدائق شاہ کے ماتھے پر لگی بینڈج کو دیکھ دانت پیس کر کہا

ابھی عقیدت ان دونوں کو روکتی کہ وہ پل میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو چکے تھے— جبکہ عائث خان حوریہ کا بازو تھامے سرد نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا

ارمغان خان نے سیڑھیوں پر بیٹھتے اپنا سر دائیں جانب دیوار سے ٹکاتے تاسف سے سر ہلایا

کہ تبھی بہرام شاہ بھاگنے کے انداز میں وہاں آیا تھا

ارمغان نے نیچے آنے سے پہلے بہرام کو یہاں کی صورت حال کے بارے میں بتا دیا تھا

“پاگل ہوگئے ہو تم لوگ—چھوڑوں ایک دوسرے کو—اگر ایک سیکنڈ میں تم دونوں پیچھے نا ہوئے تو میں حشر بگاڑ دوں گا تم دونوں کا”— ضرغام اور حدائق کو ایک دوسرے سے پیچھے کرنے کی کوشش کرتے دھاڑتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے ایک جھٹکے میں ضرغام خان کو خود سے پیچھے دھکیلا

“ہائے میرا بیٹا—اللہ غارت کرے منحوس شاہ”—کشف بیگم نے آگے بڑھتے ارمغان خان کو اپنے سینے سے لگاتے دھاڑیں مار کر روتے ہوئے کہا تو حوریہ نے ناگوار نظروں سے اپنے بھائی کو بددعائیں دیتی کشف بیگم کو دیکھا

“عائث اپنی چچی سے کہے میرے بھائی کو کچھ مت بولو”—عائث خان کی گرفت سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتے دانت پیس کر کہا تو عائث خان نے نرم نظروں سے حوریہ شاہ کی جانب دیکھا

“ریلیکس خان کی جان—ان کے بولنے سے تمہاری ڈھیٹ بھائی کو کچھ نہیں ہونے والا—اس کا ثبوت تمہارے بھائی کا زندہ سلامت تمہارے سامنے ہونا ہے—جو ایکسیڈنٹ سے نہیں مرا ان کے رونے چلانے سے تھوڑی کچھ ہو گا اسے”—حوریہ کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرتے سرگوشی نما آواز میں کہا تو حوریہ نے اپنے بھائی کے لیے ایسے الفاظ سنتے گھوری سے نوازا تھا

جبکہ وہ ساری سچویشن کو سرے سے نظر انداز کرتا اپنی بیوی کے گھورنے پر مسکرانے میں مصروف تھا–

“پلیز ضر میری خاطر—پلیز مت کرو یہ لڑائی”—ضرغام خان کے دونوں ہاتھ نرمی سے تھامتے ضرغام اور حدائق شاہ کے درمیان کھڑے ہوتے محبت بھرے لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے ایک جتاتی نظر حدائق شاہ پر ڈالتے عقیدت شاہ کو اپنے حصار میں لیا

“خان کی جان قربان اپنی شیرنی پر— اب تو تمہارا بھائی جان سے بھی مار دیں تو افف نہیں کرے گا تمہارا خان تمہارے لیے”—

بہرام شاہ تاسف سے ان دونوں پر نظر ڈالتا ارمغان خان کی جانب بڑھا—جو بند ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھولنے کی تدودو میں سامنے دیکھ رہا تھا

___________

“میرے بھائی کو ہاتھ بھی مت لگانا میں سر پھاڑ دوں گی تمہارا”—ارمغان خان کی جانب بہرام شاہ کو بڑھتے دیکھ امتثال خان نم چہرہ لیے بہرام شاہ کے راستے میں حائل ہوئی

اپنے دونوں بازو دائیں بائیں پھیلائے سخت لہجے میں بہرام شاہ کو روکا تو بہرام شاہ نے حیرت سے امتثال خان کی نم شہد رنگ کانچ سی آنکھوں میں دیکھا

نظریں امتثال کی نظروں کے ارتکاز میں اپنے ہاتھ میں تھامی پسٹل ہر آئیں تو بہرام شاہ نے گہری سانس فضا کے سپرد کی

حدائق اور ضرغام کو چھڑواتے وہ حدائق کے ہاتھوں سے پسٹل تھام چکا تھا

اور اب امتثال کو لگ رہا تھا کہ وہ ارمغان کو نقصان پہنچانے آرہا ہے

“ہششش چندہ سیکنڈز سے پہلے اپنے آنسو صاف کرو—کچھ نہیں کر رہا تمہارے بھائی کو—ہاسپٹل لے کر جانا ہے اسے—اور سیکنڈ سے پہلے سائیڈ پر ہٹو— سرزنش کرتے لہجے میں کہا تو امتثال خان نے ہڑبڑا کر اپنے ہاتھ نیچے کیے—

اور ارمغان خان کو کشف بیگم سے الگ کرتے—جھک کر اپنے کندھے پر اٹھاتے تیزی سے وہاں سے نکلا

بہرام کو جاتے دیکھ عائث خان بھی ایک نظر ضرغام اور حدائق کو دیکھتا جلدی سے بہرام شاہ کے پیچھے نکلا

___________

بہرام اور حدائق کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد حدائق شاہ کے آدمی نکاح خواں کے ساتھ حویلی اچکے تھے

جنہیں دیکھ ضرغام خان نے بامشکل خود پر قابو پایا

اب لاونج میں پن ڈراپ خاموشی چھائی ہوئی تھی—جو لاونج کچھ دیر پہلے اپنی شان و شوکت کا منہ بولتا ثبوت پیش کر رہا تھا اب اس کی حالت بکھری ہوئی تھی

سیڑھیوں سے لے کر دروازے تک ارمغان خان کے خون کے قطروں کے نشان تھے—

جبکہ پھٹے ہونٹ—سوجھی گال اور آنکھ سمیت ضرغام خان سامنے صوفے پر بیٹھا خون چھلکاتی نظروں سے سامنے کروفر سے بیٹھے حدائق شاہ کو دیکھ رہا تھا

جبکہ ضرغام خان کے ساتھ بیٹھی عقیدت نظروں سے ہی اپنے بھائی کو باز رہنے کا کہہ رہی تھی

حدائق شاہ کے قریب بیٹھی حوریہ کبھی ایک بے بس نگاہ بھائی ہر ڈالتی اور کبھی ایک نگاہ ضرغام خان کے سرخ پڑتے چہرے پر

جبکہ صوفے کے دائیں جانب کھڑی امتثال زرد پڑتی کانپتی پلوشہ کو اپنے سینے میں چھپائے کھڑی تھی

کشف بیگم تو بہرام اور عائث کے نکلتے ہی چادر لیتی اپنے بیٹے کے پیچھے ہاسپٹل نکل چکی تھی

جبکہ مقدس بیگم سیڑھیوں کے قریب کھڑی نفرت بھری نظروں سے ان سب کو دیکھ رہی تھی

“یہاں سے شرافت سے چلے جاؤ شاہ—داجی کی طبیعت پہلے ٹھیک نہیں—نیند کی گولی دے کر انہیں سلایا ہے—تمہاری بے جا ضد کی وجہ سے میں انہیں تنگ نہیں کروں گا”—ضرغام خان نے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو حدائق شاہ نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے

پاؤں کو جھلاتے—دائیں جانب گردن موڑ کر پلوشہ خان کو دیکھا

“شرافت سے میرا کوئی لینا دینا نہیں خان— یہ فضول کی باتوں میں میرا وقت ضائع نا کرو—میں نے کونسا تمہارے داجی سے نکاح کرنا ہے—جس سے نکاح کرنا ہے وہ یہ کھڑی ہے زندہ سلامت—جس نے گواہ بننا ہے—وہ ڈھیٹ انسان میرے سامنے برجمان ہے—نکاح خواں باہر کھڑا ہے—تو تم اپنی بے جا آنا کو چھوڑ کر نکاح کے لیے اجازت دو”— اپنے دائیں پاؤں کو مسلسل جھلاتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو حدائق شاہ کی بات پر ضرغام خان کو مٹھیاں بھینچتے دیکھ عقیدت نے نامحسوس انداز میں اپنا ہاتھ بڑھا کر ضرغام خان کے ہاتھ کو تھاما

“ضرغام پلیز لالا کی بات مان لو—کل بھی تو کرنا ہے نا تو آج ہی”—ضرغام خان کی نیلی وحشت لیے آنکھوں میں اپنی سبز نگینوں جیسی آنکھیں ڈالتے نرم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے سپاٹ نظروں سے عقیدت کے چہرے کو دیکھتے نظروں کا رخ بدلتے پلوشہ خان کو دیکھا

ایک نظر دور کھڑی اپنی ماں کو دیکھ ضرغام خان نے گہری سانس فضا کے سپرد کی

“پہلے جب تم سے ملنا تھا تب تمہارے دوسرے بھائی نے شکل بگاڑ دی—اب جب میری یہ شکل تمہیں تھوڑی تھوڑی پسند آنا شروع ہوئی تھی—تب اس سالے نے شکل بگاڑ دی—میری شکل کا ستیاناس کر دیا اور تم کہہ رہی ہو میں اس خر کے بچے کا نکاح کروادوں آہنی بہن سے”—عقیدت کی جانب جھکتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو عقیدت نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر ضرغام خان کے وجیہہ چہرے پر نیلے نشانوں کو دیکھا

“مجھے ہر حال میں یہ شکل قبول ہے—کروادو نا نکاح—ان کے مسئلوں سے جان چھڑوا کر سکون سے تمہاری اس پیاری شکل کو دیکھ لوں گی “–محبت بھرے لہجے میں سرگوشی کرتے چور نظروں سے حدائق شاہ کو دیکھا جو نظریں جھکائے زمین کو دیکھنے میں مصروف تھا

“لالچ دے رہی ہو مجھے خان کی جان”— چہرہ اس کی جانب جھکاتے سرگوشی کی تو عقیدت نے سر اثبات میں ہلایا تھا– چہرے پر اپنے بھائی کے نکاح کے لیے خوشی کے بکھرے رنگ دیکھ ضرغام خان کو اپنے رگ و پے میں سکون سرائیت کرتا محسوس ہوا

“بیویاں شوہروں کو ایسے ہی مناتی ہیں”— سرگوشی کا جواب سرگوشی میں آیا تھا–

“اب بدلنا نہیں مسسز ضرغام—اور اب پہلے اس جن سے جان چھڑوا لیں پھر اپنے مسئلے پر بات کرتے ہیں— عقیدت کے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے—سیدھا ہو کر بیٹھا

“نکاح تمہاری مرضی سے ہو رہا ہے حدائق شاہ—مگر رخصتی میری بہن کی مرضی سے ہوگی”—ضرغام خان کے سخت لہجے پر حدائق شاہ نے نظریں اٹھا کر ضرغام خان کو دیکھا

“تم نکاح کروانے والے بنو—جب نکاح کے بعد تمہاری بہن میری بیوی بن جائے گی—تب اس کی مرضی بھی میری مرضی کے مطابق بدل جائے گی—اسی لیے زیادہ دور کی نا سوچو”—حدائق شاہ کے کندھے آچکا کر کہنے پر ضرغام خان نے گھور کر عقیدت کو دیکھا

جیسے کہہ رہا ہو اپنے بھائی کی حرکتوں کو دیکھو جس پر عقیدت نے منہ بسور کر ضرغام خان کو دیکھتے—التجائیہ نظروں سے حدائق شاہ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا

جبکہ اس پورے معاملے میں مقدس بیگم خاموش تھی—کیونکہ وہ جانتی تھی ان کے بولنے پر ساری گیم ان پر ہی الٹ جائے گی

اسی لیے وہ خاموشی سے دور کھڑی آگے کا لائحہ عمل تیار کر رہی تھی—

جبکہ ضرغام خان کے اجازت دیتے ہی حدائق شاہ کے آدمی نے نکاح خواں کو اندر بھیجا

اور اگلے پندرہ منٹوں میں پلوشہ کی حالت کو یکسر نظر انداز کرتے حدائق شاہ اسے اپنے نام کر چکا تھا—

____________

“اگر آج یہ نکاح نا ہوتا تو یقین مانو ضرغام خان— میں خالی ہاتھ واپس جانے والوں میں سے نہیں تھا—اس حویلی سے پھر جنازے ہی اٹھنے تھے—پہلا تمہاری ماں کا جس نے مجھے میری محبت سے دور کیا—دوسرا تمہاری بہن کا جس نے اپنے ڈر کی نظر حدائق شاہ کی محبت کو کیا—اور تیسرا جنازہ حدائق شاہ کا اٹھنا تھا—اہنی محبت ہار جانے کے غم میں”— ضرغام خان کے سامنے کھڑے ہوتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے بنا کوئی جواب دیے

عقیدت کی جانب رخ کیا

“ارمغان کے پاس جا رہا ہوں میں—پلوشہ کے پاس رک جانا آج کی رات تم”— ضرغام خان کے سپاٹ لہجے پر عقیدت نے جھٹ سر اثبات میں ہلایا تو ضرغام خان ایک تیز نظر حدائق شاہ پر ڈالتا

پلوشہ کے جھکے سے ہر ہاتھ رکھ کر پیار دیتا لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھآ

“لالا یہ بہت غلط حرکت تھی—جو بھی تھا آپ کو یہ نہیں کرنا چاہیے تھا”—عقیدت نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا اور ایک نظر صوفے پر سر جھکائے بیٹھی پلوشہ کو دیکھا آگے بڑھ کر پلوشہ کا ہاتھ نرمی سے تھامتے وہاں سے نکلتی چلی گئی

جبکہ حدائق شاہ کی مسکراتی نظروں نے دور تک پلوشہ خان کا پیچھا کیا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نا ہو گئی

“عقیدت کو کہنا شرافت سے اپنے شوہر کے کمرے میں جائے – میں فریش ہو کر اپنی بیوی سے ملنے آنا والا ہوں”—حوریہ کی جانب رخ کرتے سخت لہجے میں کہا تو حوریہ شاہ نے آنکھیں گھما کر حدائق شاہ کو دیکھا

اور بنا کوئی جواب دیے – منہ بسورتی سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی

جبکہ امتثال بامشکل مسکرانے کی کوشش کرتی حدائق شاہ کو دیکھتی بھاگنے کے انداز میں وہاں سے نو دو گیارہ ہوئی

اب لاونج میں صرف مقدس بیگم اور حدائق شاہ رہ گئے تھے—

لاونج میں لگی گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز پر حدائق شاہ کے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ رینگ گئی

“میری بیوی سے دور رہنا – برا وقت تو تمہارا شروع ہوگیا ہے—مقدس بیگم—تمہارا گھناؤنا روپ جاننے کے بعد بھی میں نہیں چاہتا کوئی اور اس سے واقف ہو—مگر اگر غلطی سے بھی میری بیوی کو اپنی کسی سازش کا شکار بنایا تو اپنے انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی—میرے بہنوں اور ان کی خوشیوں سے سو فٹ دور رہو”— مقدس بیگم کے رو برو کھڑے ہوتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو مقدس بیگم نے کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی

“کک—کیا کہنا چاہتے ہو—کک—کیا جان گئے ہو”&- آپنے خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے—گھبرا کر پوچھا تو لاونج کی خاموش میں حدائق شاہ کا دلکش قہقہہ گونجا

مقدس بیگم کو بنا جواب دیے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا

جبکہ مقدس بیگم نے پریشانی سے اپنا سر تھام لیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *