Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 19)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 19)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
“عقیدت پتر—اگر کام سے چھٹیاں لیں تھی تو کہی گھوم ہی آتے تم دونوں”— ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کرتے دا جی نے عقیدت کی طرف دیکھتے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت کی نظریں بے اختیار اپنے سامنے خاموشی سے ناشتہ کرتے ضرغام خان پر گئی
وہ ناشتہ کرنے میں اس قدر مگن تھا کہ جیسے اس سے ضروری کوئی کام ہو ہی نا——
کل صبح میں سونے کے بعد وہ عصر کے وقت اٹھے تھے—ضرغام فریش ہوتا نماز کے لیے گیا تو وہی سے ڈیرے کی طرف ہو گیا— زمینوں کے معاملات دیکھتے—اور جنگل میں ہوئے خون کی چھان بین کرتے اسے کافی وقت لگ گیا جس باعث وہ رات لیٹ حویلی آیا
مگر عقیدت کو اپنے انتظار میں جاگنے کی بجائے سوتے ہوئے دیکھ وہ صبح سے اس سے ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا—جو عقیدت کی سمجھ سے باہر ہی تھا—
“داجی وہ ضرغام کو گاؤں کے کچھ ضروری کام تھے—ہم انشا اللہ نیکسٹ ٹائم پلین کر لیں گے”— ایک نظر ضرغام خان کے جھکے سر کو دیکھتے—نظروں کا رخ داجی کی جانب کرتے ہوئے کہا تو عقیدت کو کینہ توز نظروں سے دیکھتی مقدس بیگم نے منہ بسورتے ہنکارہ بھرا
“ہنہہ—جیسے تم لوگوں کو بہتر لگے—اور تمہاری تو نوکری تھی نا وہ کیا موئے کہتے جو ٹی وی پر آتی—اس کے بارے میں کیا ارادہ ہے”— داجی کے سوال پر ضرغام خان نے بے اختیار سر اٹھاتے—خاموش نظروں سے عقیدت کی جانب دیکھا
“نیکسٹ ویک سے انشاء اللہ دوبارا سے شروع کر دوں گی—میری ٹیم بھی کئی بار رابطہ کر چکی ہے—اور اب مجھے لگتا ہے کہ اتنا بریک کافی ہے”—ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے نرم لہجے میں کہا تو داجی نے سمجھنے کے انداز میں سر اثاںت میں ہلایا
خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتے عقیدت نے نظروں کا رخ سامنے کیا تو ضرغام خان کو خاموش نظروں سے خود کو تکتا پایا
عقیدت نے آبرو آچکا کر وجہ پوچھی تو ضرغام خان ہاتھ سے پلیٹ پیچھے کھسکاتا وہاں سے اٹھتا—لمبے لمبے ڈنگ بھرتا اوپر اپنے کمرے کی—جانب بڑھ گیا
“جب سے یہ لڑکی میرے بیٹے کی زندگی میں آئی ہے—بچارے نے کھانا پینا کم کر دیا ہے—نا سونے کا ہوش نا جاگنے کا—اب بھی دیکھو کچھ ڈھنگ سے کھایا بھی نہیں اور اٹھ کر چلا گیا”— مقدس بیگم کے طنزیہ لہجے پر عقیدت نے چونک کر ان کی جانب دیکھا جبکہ داجی نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا
“جہاں محبت ہو وہاں چھوٹی موٹی ناراضگیاں چلتی رہتی ہیں—اور ناراض ہو کر کھانا نا کھا کر ہی شوہر بیوی کو ایموشنل بلیک میل کرتے ہیں—تا کہ وہ ان کی بات مان جائے—اور آپ کا بیٹا بھی اپنی بات منوانے کے لیے یہ حربے استعمال کر رہا ہے—محبت دیکھ لیں گاؤں کے سردار سے بھی کیا کچھ کروا جاتی ہے”— مقدس بیگم کی جانب جھکتے آگ لگاتے لہجے میں کہتے—مسکرا کر اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تو مقدس بیگم نے کھا جانے والی نظروں سے عقیدت کو دیکھتے نخوت سے سر جھٹکا
جبکہ داجی خاموشی سے سر جھکائے کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے
تاسف بھری نگاہ مقدس بیگم پر ڈالتے عقیدت نے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھائے
__________
وہ ابھی کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ ضرغام خان نے بازو سے پکڑتے—کمرے کا دروازہ بند کرتے عقیدت کو دروازے کے ساتھ لاک کرتے اپنے دونوں ہاتھ اطراف میں رکھے
“کیا کہہ رہی تھی تم داجی سے”— نظریں عقیدت کے کھلے کھلے چہرے پر جمائے سخت لہجے میں استفسار کیا تو عقیدت نے نا سمجھی سے ضرغام خان کی جانب دیکھا— جو نیوی بلو کرتا شلوار پہنے—چاکلیٹ براؤن ہلکے گیلے بالوں کو ماتھے پر بے ترتیبی سے بکھیرے— چہرے پر سخت تاثرات سجائے— عنابی ہونٹوں کو سختی سے بھنچے عقیدت کے قریب طرح جھکا اس کے جواب کا منتظر تھا–
“تو اور کیا وجہ بتاتی—ہمارے نا”— ہششش وہ نہیں جو تم نے اس کے بعد کہا— کس سے پوچھ کر تم اپنی جاب پھر سے شروع کرنے والی ہو”— عقیدت کی بات کاٹتے سرد لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تو عقیدت نے نا سمجھی سے ضرغام خان کے سرخ پڑتے چہرے کی جانب دیکھا—
“کیا مطلب کس سے—وہ میرا پروفیشن ہے—میرا شو چل رہا ہے—جس سے میں نے شادی کے لیے بریک لیا— اب اسے دوبارا سے کرنے کے لیے کس کی اجازت چاہئے مجھے—میں وہ پہلے بھی کر رہی تھی اور آگے بھی کرتی رہوں گی خان”— نظریں ضرغام خان کی نیلی سرخ پڑتی آنکھوں میں گاڑھے جواب دیا تو دروازے پر رکھے ضرغام خان نے اپنے ہاتھوں کو سختی سے بھنچا
“آج تو کہہ دیا تم نے—مگر آئندہ میں اس بارے میں تمہارے ہونٹوں سے ایک لفظ نا سنو—اور رہی اجازت کی بات تو میں تمہارا شوہر ہونے کی حیثیت سے تمہیں اس جاب کی اجازت نہیں دیتا—اور مجھ لگتا ہے کہ یہ بات اب ہمیشہ کے لیے یہی پہ ختم ہو جانی چاہیے”— نرمی سے عقیدت کا گال تھپتھپاتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو عقیدت نے بے یقینی سے ضرغام خان کے چہرے کی جانب دیکھا—
“کیوں نہیں اجازت دو گے تم مجھے—کیسے تم آسانی سے اس بات کو نظر انداز کر سکتے ہو”— رخ بدلتے ضرغام خان کو بازو سے تھامتے اپنی جانب کرتے بے یقینی سے کہا تو ضرغام خان نے خاموش نظروں سے عقیدت شاہ کی آنکھوں میں دیکھا—جہاں صرف بے یقینی اور حیرت تھی—
“کیونکہ تمہیں سکرین پر دیکھ کر لوگ باتیں ڈسکس”— ڈسکس—ایسا کیا کر رہی ہوتی ہوں میں خان—مجھے فرق نہیں پڑتا کہ لوگ مجھے دیکھ کر کیا سوچتے ہیں میرے بارے میں کیا کہتے ہیں— مجھے یاک پرسنٹ بھی لوگوں کی سوچ اور باتوں سے فرق نہیں پڑتا”— ضرغام خان کی بات کاٹتے تیز لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے سختی سے مٹھیاں بھنچتے دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے عقیدت کو کندھوں سے تھامتے دیوار سے پن کیا
“لیکن مجھے فرق پڑتا ہے عقیدت ضرغام خان— مجھے تمہاری طرف اٹھتی ہر نگاہ سے فرق پڑتا ہے—میرے رگوں پہ میں شرارے پھوٹتے ہیں—میرا دل و دماغ پھٹنے والا ہو جاتا ہے جب لوگ تمہیں دیکھتے ہیں— تم میری ہو—اس خان کی بیوی—میں تم پر کسی کا سایہ برداشت نا کروں کجا اتنے لوگوں کی نظریں—مجھے تمہارے جاب کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے—یقین مانو مجھے بالکل مسئلہ نہیں ہے—لیکن تمہیں لوگوں کی نظروں کے حصار میں نہیں دیکھ سکتا میں— اور اس بات کی اجازت تو تمہیں میرے مرنے کے بعد بھی نہیں مل سکتی”—- عقیدت کے چہرے پر جھکے شدت بھرے لہجے میں کہا تو عقیدت نے ںم پلکوں کی باڑ اٹھاتے ضرغام خان کی خون چھلکاتی آنکھوں میں دیکھتے پل میں چہرے کا رخ بدلا تو ضرغام خان نے عقیدت کے چہرہ پھیرنے پر اپنی انگلیوں کی گرفت عقیدت کے کندھوں پر سخت کی تو
عقیدت کو ضرغام خان کی انگلیاں اپنے بازوؤں میں دھنستی محسوس ہوئی—اپنے چہرے پر جھلسا دینے والی سانسوں کی تپش محسوس کر کہ عقیدت نے لب بھنچے تو ضرغام خان نے جھٹکے سے عقیدت کو قریب کرتے اپنے دانت عقیدت کے گال پر گاڑھے تو عقیدت نے تڑپ کر ضرغام خان کے کرتے کو مٹھیوں میں دبوچا
“آئندہ— اگر تم نے مجھ سے نظریں پھیریں تو جان لے لوں گا تمہاری”— عقیدت کے گال پر اپنے دانتوں کے نشان پر شدت سے لب رکھتے بوجھل لہجے میں تنبیہہ کی تو عقیدت نے بسورتے ضرغام خان کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دھکیلا
“جان لینے میں کوئی کسر چھوڑی ہے تم نے—تم مجھ سے میرا خواب چھین رہے ہو— میرے اتنے سالوں کی محنت کو اپنی آنا اور ضد کی نظر کرنے کا کہہ رہے ہو—میری زندگی کے مقصد کو مجھ سے چھین رہے ہو خان”— ضرغام خان کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں دبوچے جھکتے سے رخ بدلتے دیوار سے پن کرتے نم لہجے میں چلا کر کہا تو ضرغام خان نے سخت نظروں سے عقیدت کو گھورتے— عقیدت کے ہاتھوں کو اپنے بالوں سے جدا کرتے اپنے ہاتھوں میں قید کیا
“میں تم سے تمہارا کوئی خواب نہیں چھین رہا عقیدت—تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ کچھ ایسا کرسکتا ہوں— اگر مجھے مر کر بھی تمہارے خوابوں کو تعبیر دینی پڑے تو میں ایک لمحہ نا لگاؤ—لیکن اس سب کے باجود بھی میں یہ برداشت نہیں کرتے سکوں گا—میں تمہیں یہ نہیں کہوں گا کہ تم عبایا پہن کر شو کر لو—بالکل بھی نہیں—جب لوگ تمہاری آواز سنے گے—تمہاری آنکھوں کو دیکھے گے تو وہ تمہارا چہرہ دیکھنے کے لیے بے قرار ہو گے—میں نہیں چاہتا کہ کسی کے دل و دماغ میں یہ سوچ یا خواہش بھی ائے—تم میری عزت ہو اس خان کی غیرت— تمہارے سر کے بال سے پاؤں کے ناخن تک صرف اور صرف میرا حق ہے—تم کیسی دکھ رہی ہو—تمہارے ہونٹ تمہاری آنکھیں—تمہارے ہاتھ پاؤں یا آواز ان سب کے بارے میں سوچنے تعریف کرنے انہیں چھونے کا حق میرا ہے—اور اپنے حق کی طرف اٹھنے والی نگاہ کو ضرغام خان نوچ سکتا ہے چھوڑ نہیں— تمہیں لوگوں کی مدد کرنی ہے—انہیں انصاف دلانا ہے—تو اس کے لیے صرف یہی ایک راستہ تو نہیں ہے—تم ہماری این جی او سنبھال لو—شو کے علاؤہ چینل بھی تو بہرام کا ہے نا تم اس میں کوئی اور ذمہ داری سنبھال کو—مگر یہ نہیں عقیدت—میرے مرنے کے بعد بھی تمہیں اس کی اجازت نہیں”—- سلگتے لبوں کا لمس عقیدت کے ہاتھوں کی پشت پر چھوڑتے سخت لہجے میں باور کرواتے— نیلی آنکھوں میں شدت و جنون لیے وہ عقیدت کو خاموش کرواگیا
“مطلب میں جو بھی کہہ کو—جیسی بھی ضد کر لوں—تم اپنی بات سے نہیں ہٹو گے”— نظریں ضرغام خان کے ہاتھوں پر ٹکائے سوالیہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے کندھے اچکاتے—ہاتھ عقیدت کی کمر پر رکھتے اسے قریب کیا
“تمہیں پتہ ہے نا عائث کے ساتھ بہت سے پارٹیز میں گیا ہوں میں— اور وہاں ایکٹینگ کے لیے بہت سی آفرز بھی ہوئی ہیں مجھے—لاکھ شوق ہونے کے باوجود بھی میں نے ان آفرز کو قبول نہیں کیا—وجہ پتہ کیا تھی”—- پشت دیوار سے ٹکاتے—عقیدت کو اپنے سینے سے لگاتے—دونوں ہاتھوں میں عقیدت کا چہرہ بھرتے نرم لہجے میں استفسار کیا تو عقیدت نے خاموش نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا جو آنکھوں میں جذبوں کی آنچ لیے عقیدت کے چہرے کے نقوش کو والہانہ انداز میں تک رہا تھا
ٹی پنک کلر کی شرٹ کے ساتھ کیپری اور ہم رنگ دوپٹہ اوڑھے – سبز نگینوں سی آنکھوں میں کاجل کی لکیر کھنچے—گلابی بھرے بھرے ہونٹوں پر ڈارک پنک لپ اسٹک لگائے خاموش نظروں سے ضرغام کو دیکھتی اس کے دل میں طلاطم برپا کر چکی تھی—
“وہ وجہ میں تو نہیں ہو سکتی—میری تو شکل دیکھنے کے روادار نہیں تھے تم”— طنزیہ لہجے میں کہتے نظروں کا رخ ایک بار پھر سے پھیرا تو ضرغام خان نے غصے سے عقیدت کا چہرہ ہاتھ میں دبوچتے اپنی جانب کیا اور آنکھوں میں وارننگ لیے دیکھا جیسے کہا رہا ہو یہ آخری بار تھا—
“وجہ تم ہی تھی—تمہارے علاؤہ نا زندگی کا مقصد ہے نا کوئی وجہ—میں شوبز کا حصہ بن کر اپنی بیوی کو انسکیور نہیں کرنا چاہتا تھا—میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے رات گئے گھر سے باہر ہونے پر وہ میرے انتظار کے ساتھ اس فکر میں مبتلا ہو کہ میں کسی لڑکی کے ساتھ تو نہیں—میرے کسی بھی جھوٹے اسکینڈل کی وجہ سے وہ مجھے کھونے کے احساس سے گزرے— میں تمہیں لے کر انسکیور نہیں ہوں کہ تم مردوں کے ساتھ کام کرتی ہو—میں تمہارے معاملے میں حد سے زیادہ پوزیسوو ہوں— مجھے سمجھنے کی کوشش کرو عقیدت— نہیں کر سکتا میں برداشت یار—تمہیں کوئی اور دیکھے اور میں برداشت کر لوں نہیں ہے حوصلہ اس بات کا مجھ میں”—- ضرغام خان کے شدت بھرے لہجے میں در آئی بے بسی کو محسوس کرتے عقیدت نے اپنی ہتھیلی ضرغام خان کے ہونٹوں پر رکھی
“یہ مت سمجھنا کہ تمہاری ایموشنل باتوں میں آگئی ہوں— ایسا بالکل بھی نہیں ہے—سچ تو یہ ہے کہ میں تمہیں یہاں اکیلے خوبصورت پٹھانیوں میں چھوڑ کر اتنے اتنے دنوں کے لیے شہر جا کر نہیں بیٹھ سکتی—تم تو ویسے بھی دوسری شادی کے چکر میں ہو – میں وہاں لوگوں کو انصاف دلانے جاؤں اور پیچھے میرا شوہر میرے ساتھ ہی ناانصافی کر جائے”— ضرغام خان کو گھورتے— ناک سکوڑ کر کہا تو کمرے میں ضرغام خان کا دلکش قہقہہ گونجا
آگے بڑھتے عقیدت کے احتجاج کو کسی خاطر میں لائے بغیر اپنی سخت گرفت میں لیتے—خود میں بھنچ کر زمین سے اٹھاتے—گول گول گھمایا تو عقیدت نے بامشکل اپنی چیخوں کا گلا گھونٹتے ضرغام خان کے بالوں کو مٹھیوں میں دبوچ لیا
“اآہہ—پاگل خان— کوئی شرم و حیا ہے کہ نہیں”— ضرغام خان کے رکنے پر عقیدت نے اپنا سر ضرغام خان کے سینے پر۔ ٹکاتے پھولی سانسوں سمیت کہا تو ضرغام خان نے بنا کوئی جواب دیے عقیدت کو اتنی زور سے خود میں بھنچا کہ عقیدت کو اپنی پسلیاں ٹوٹتی محسوس ہوئی
“چلو آج تمہیں جنگل گھما کر لاتا ہوں”— کبرڈ سے عقیدت کی چادر نکال کر—عقیدت کے سر پر اوڑھتے ہوئے کہا اس سے پہلے عقیدت کوئی سوال کرتی ضرغام خان اس کا ہاتھ تھامتا کمرے کا دروازا کھولتا باہر قدم رکھ چکا تھا—
اپنے ہاتھ پر ضرغام خان کی گرفت دیکھ عقیدت سمجھ چکی تھی کہ انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی
جبکہ ان دونوں کو ہاتھ تھامے ایک ساتھ باہر جاتے دیکھ مقدس بیگم کو اپنے سینے پر سانپ لوٹتے محسوس ہو رہے تھے—
_______
دا جی وہ شاہ حویلی سے بیبیاں آئیں ہیں—اور وہ کہہ رہی ہیں کہ آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں”— ملازمہ نے کمرے میں آکر پیغام دیا تو داجی نے اسے چلنے کا اشارہ کرتے کتاب بند کرتے سائیڈ ٹیبل پر رکھی
“السلام و علیکم دا جی”— داجی کے ڈرائنگ روم میں داخل ہونے پر حلیمہ بیگم اور ثمرین بیگم نے احتراماً اٹھتے ہوئے سلام کیا تو داجی نے مسکراتے ہوئے ان کے سر پر پیار دیتے بیٹھنے کا اشارہ کیا
جبکہ ڈرائنگ روم کو گفٹس کپڑوں مٹھائیوں زیورات کے باکسسز کو دیکھتے وہ کافی حد تک معاملہ سمجھ چکے تھے
“کیسے آنا ہوا—اور تم دونوں اکیلی ہی آئی ہو سلویٰ بچے کو بھی لیتی آنا تھا”— صوفے پر بیٹھتے داجی نے کہا تو حلیمہ بیگم نے ایک نظر ثمرین بیگم کو دیکھتے بات شروع کرنے کا سوچا
“داجی اپ جانتے ہیں کہ ہماری امانت آپ کی طرف ہے—پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے— ہم اور دیر نہیں کرنا چاہتے— میں اپنے حدائق کی دلہن کو اب اپنے گھر لے جانا چاہتی ہوں— مجھے امید ہے کہ آپ کو بھی اعتراض نہیں ہوگا—آپ اگر حدائق سے مل کر کوئی بات کرنا چاہتے ہیں مطلب اپنی تسلی کے لیے تو وہ آپ سے ملنے اجائے گا— لیکن داجی ہم چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ہو سکے آپ ہماری امانت ہمارے حوالے کر دیں”— حلیمہ بیگم کی بات سنتے داجی نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“ہمم—ٹھیک کہہ رہی ہو تم—وہ تمہاری ہی امانت ہے اور تم جب چاہے اسے کے جا سکتی ہو—ہمیں کوئی اعتراض نہیں—میں بس اس امانت کے رکھوالوں سے مشورہ کر لو کہ وہ کیا چاہتے ہیں—ضرغام عائث اور ارمغان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو حلیمہ بیگم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی اور رہی بات حدائق سے ملنے کی وہ میں خود وقت نکال کر مل آؤ گا
“داجی میں بھی آپ سے کچھ مانگنے آئی ہوں— میں بہت امید لے کر آئی ہوں—مجھے امید ہے کہ آپ مجھے خالی ہاتھ نہیں لٹائیں گے—میرے مانگنے کا مان رکھ لیجئے گا”— ثمرین بیگم کے التجائیہ لہجے پر داجی نے چونک کر دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے انہیں بولنے کا اشارہ کیا تو ثمرین بیگم نے ایک نظر حلیمہ بیگم کو دیکھتے بات جاری کی
“داجی میں اپنے بہرام کے لیے آپ کی امتثال کا ہاتھ مانگتی ہوں— میں نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں امتثال کے لیے پسندیدگی دیکھی ہے—اور ایسا پہلی بار ہوا ہے داجی—بہرام سے تو آپ مل چکے ہیں اور آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ وہ کس مزاج کا ہے—میرا بیٹا امتثال کا بہت خیال رکھے گا—آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس بارے میں ضرور سوچئے گا اور فیصلہ میرے بیٹے کے حق میں کیجئے گا—میرا بیٹا بہت صابر اور محبت کرنے والا ہے”—- صابر والی بات پر ثمرین بیگم نے دانت پیسے جبکہ حلیمہ بیگم نے چہرے کا رخ بدلتے اپنی مسکراہٹ چھپائی—
کیونکہ ان کے صابر بیٹے نے کچھ دن پہلے اپنی محبت کا اظہار کرتے دونوں ماوؤں کے سر پر دھمکا کیا اور جلد اذ جلد رشتہ لے جانے کی ضد میں انہیں ناکوں چنے چبوا دیئے تھے—
ثمرین بیگم کو تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ ان کا سوبر خاموش مزاج اور سلجھا ہوا بیٹا ہے جو اس قدر اتاولا ہو رہا ہے—
اور اب ثمرین بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا جوتا اتارے اور بہرام شاہ کی اچھی خاصی پٹائی کر ڈالیں—کیونکہ نواب صاحب نے دونوں ماؤں کے کانوں میں بلیو ٹوتھ لگا کر کنیکٹ کی ہوئی تھیں—کیونکہ بہرام شاہ اس معاملے میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا وہ ہر اس بات سے باخبر رہنا چاہتا تھا جو اس کی ماں وہاں جا کر کرنے والی تھی
بہرام شاہ کے بلو ٹوتھ لگانے پر ثمرین بیگم نے کافی گھوریوں سے اسے نوازا مگر وہ نظر انداز کرتا اپنا کام کرتا رہا
داجی جو کچھ اور بھی سوچے بیٹھے تھے ثمرین بیگم کے امید بھرے لہجے پر خاموش ہو گئے
جبکہ دوسری جانب یہ خاموشی بہرام شاہ کا دل بری طرح دھڑکا چکی تھی—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے اسٹیرنگ کو مضبوطی سے تھاما— جبکہ وجود کا پور پور سماعت بنا داجی کے بولنے کے انتظار میں تھا—
“ہمیں کوئی اعتراض نہیں—بہرام پتر تو ویسے بھی میرے دل کو بہت قریب ہے—مگر اس سب کے باوجود بھی میری پوتی کی رائے بہت اہمیت رکھتی ہے—اس کے انکار کے آگے بہرام کی پسندیدگی کی اہمیت نہیں ہوگی— اگر امتثال ہاں کرتی ہے تو پلوشہ کی رخصتی کے ساتھ ہی میں اسے بھی رخصت کر دوں گا”—- داجی کے ہونٹوں سے ادا ہوئے الفاظ کو سنتے بہرام شاہ نے گہری سانس لیتے کپکپاتے ہاتھ کی میٹھی بناتے ہونٹوں پر رکھا
سر اٹھائے تشکر بھری نظروں سے دیکھتے—سختی سے آنکھیں میچتے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا
اپنی محبت کے مل جانے کے احساس کو محسوس کرتے بہرام شاہ کی آنکھیں خوشی کے احساس سے نم ہوئی
جب کہ دل اتنی تیزی سے دھڑکا کہ بہرام شاہ کو اپنی کانوں میں گونجتا محسوس ہوا—
“تو داجی اس مہینے کی پچس کو رخصتی رکھتے ہیں آج پانچ ہیں—بیس دن رہتے ہیں— آپ امتثال سے پوچھ کر ہمیں بتا دیجیے گا تا کہ ہم پھر دو بیٹیوں کے استقبال کے لیے تیاریاں شروع کریں”—- حلیمہ بیگم نے مسکرا کر کہا تو داجی نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا
جبکہ مقدس اور کشف بیگم کے اب تک نا آنے پر داجی کو یقین ہوگیا کہ وہ دونوں اس وقت حویلی سے باہر گئیں ہوگی ورنہ وہ حلیمہ بیگم کے آنے پر واویلا شروع کر دیتی
______________
نارنجی رنگ کی لانگ فراک کے ساتھ وائٹ کیپری اور نارنجی رنگ کا ہی دوپٹہ گلے میں لیے—- وہ کیفے کے کونے میں بیٹھی نظریں کھڑکی سے باہر نظر آتے پہاڑوں کے خوبصورت مناظر پر ٹکائے کافی پینے میں مصروف تھی
سردیاں شروع ہونے والی تھیں اور امتثال سردیوں کی شاپنگ کے لیے شہر آئی ہوئی تھی—امتثال نے تو پلوشہ کو بھی ساتھ آنے کے لیے اصرار کیا مگر اس لڑکی نے فوراً سے انکار کر دیا اور امتثال کے لاکھ منانے پر بھی آنے پر راضی نا ہوئی تو امتثال اس سے ناراض ہوتی اکیلے ہی شاپنگ کے لیے اگئی
وہ اپنی سوچو میں ڈوبی کافی پی رہی تھی جبکہ کچھ فاصلے پر ہتھیار تھامے کھڑے اس کے گارڈز کیفے میں داخل ہوتے بہرام شاہ کو دیکھ جزبز کا شکار ہوتے ایک دوسرے کی شکلوں کی جانب دیکھنے لگے
جب قریب آتے بہرام شاہ نے ہاتھ کے اشارے اور سخت نظروں سے انہیں وہاں سے نو دو گیارہ ہونے کا اشارہ کیا تو انہوں نے پلٹ کر باہر کی دنیا میں گم اپنی مالکن کو دیکھا کہ شاید وہی کچھ کہہ دے لیکن امتثال کے نا پلٹنے پر وہ سب مجبوراً بہرام شاہ کے اشارے پر وہاں سے ہٹ گئے اور رخ دوسری جانب کیے وہی کھڑے ہو گئے
لیکن کیفے سے باہر جانے کی غلطی نا کی—اگر وہ یہاں بہرام شاہ کے ہاتھوں سے بچ بھی جاتے تو ارمغان خان کے ہاتھوں ان کی موت کنفرم تھی
“باہر کے مناظر خوبصورت ہیں—مگر اتنے بھی نہیں کہ آپ ان میں اس قدر کھو جائیں کہ میری موجودگی کو ہی محسوس نا کر سکیں”—- اپنا ایک ہاتھ ٹیبل پر اور دوسرا چئیر پر رکھتے امتثال خان کے کان کی جناب جھکتے شکوہ کناہ لہجے میں سرگوشی کی تو امتثال خان نے جھٹکے سے چہرے کا رخ بدلتے اپنے دائیں جانب دیکھا تو دھک سے رہ گئی
ہیزل ہنی آنکھوں کا گہری سیاہ رات سی آنکھوں سے تصادم اس قدر جان لیوا تھا کہ امتثال کو اپنا دل پسلیاں توڑ کر باہر آتا محسوس ہوا—
سانس روکے وہ اپنے چہرے سے کچھ انچ کے فاصلے پر بہرام شاہ کے وجیہہ چہرے کو دیکھ رہی تھی— بہرام شاہ کے چہرے پر پھیلی خوبصورت مسکراہٹ دیکھ امتثال کو اپنی دھڑکنیں منتشر ہوتی محسوس ہوئیں— جبکہ دہکتی سانسوں کی تپش سے گال تمتما اٹھے
“آپ—کیسے—مم—مطلب کب آئیں”— خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے کرسی پر بیٹھے پیچھے کی جانب کھسکتے ہوئے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں استفسار کیا تو بہرام شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے امتثال کے ماتھے پر ننھی ننھی پسینے کی بوندوں کو دیکھا—
“تب جب آپ اس خوبصورتی میں کھوئی ہوئیں تھیں”—چئیر سے ہاتھ ہٹاتے سیدھے ہوتے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہنوز شکوہ کناہ لہجے میں کہا تو بہرام شاہ کے لہجے میں جلن محسوس کرتے امتثال کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
جبکہ سامنے کرسی کھسکا کر بیٹھتے بہرام شاہ کے چہرے کی مسکراہٹ پل میں سمٹی تھی—
نارنجی رنگ پہنے— براؤن بالوں کو درمیان سے مانگ نکال کر دونوں اطراف میں کھلا چھوڑے—گلے میں سٹار شیپ کا پینڈٹ پہنے—ہیزل ہنی آنکھوں میں کاجل لگائے—لمبی گھنی سیاہ پلکوں کو مسکارا لگا کر اور دلکش بنایا گیا تھا— ہونٹوں پر چاکلیٹ براؤن لپ اسٹک لگائے وہ اس قدر خوبصورت لگ رہی تھی کہ وہ پل میں کسی کا بھی ایمان ڈگمگا سکتی تھی
نظریں امتثال خان کے ہوش ربا سراپے سے ہٹاتے بہرام شاہ نے ایک نظر اطراف میں دوڑائی تو کیفے میں اس وقت اکا دکا لوگ تھے—اوروہ بھی شاید کپل ہی تھے
نظریں اطراف سے ہوتی خود کو ناسمجھی سے دیکھتی امتثال پر آکر رکی تو بہرام شاہ نے غصہ ضبط کرتے اپنی مٹھیاں سختی سے بھنچتے کہنیاں ٹیبل کی سطح پر ٹکائیں
“میں نے کچھ کہا تھا تم سے امتثال”— سخت نظروں سے امتثال کو دیکھتے دبے ڈبے لہجے میں غرا کر کہا تو پل میں امتثال کی مسکراہٹ سمٹی
بہرام شاہ کی آنکھوں میں سرخی اترتی دیکھ امتثال کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی
کچھ دن پہلے کی وارننگ یاد آئی تو امتثال کو اپنی جان جاتی محسوس ہوئی
پلوشہ سے ناراض ہوتے وہ تیزی سے وہاں سے نکلتی گاڑی میں ان بیٹھی تھی—چادر کا خیال رستے میں آیا تو اس نے یہ سوچ کر نظر انداز کر دیا کہ بہرام شاہ وہاں تھوڑی ہوگا یا اسے تھوڑی پتہ چلے گا—
مگر اب بہرام شاہ کی آنکھوں میں خون اترتے دیکھ امتثال کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا
“وہ ہہ-ہم بہرام وہ مم—میں بھول گئی”— مجرموں کی طرح سر جھکائے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو بہرام شاہ نے ہونٹ بھنچتے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو ماتھے پر پھیرتے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی
“چادر عورت کی عزت ڈھانپنے کے لیے ہوتی ہے—اسے بری نظروں سے بچاتی ہے—تم کیسے بھول سکتی ہو جبکہ میں تمہیں چادر کے بغیر حویلی سے باہر قدم رکھنے سے منع کر چکا تھا—پھر تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی چادر کے بغیر یہاں تک آنے کی”—- دونوں ہاتھ ٹیبل پر ٹکائے آگے جھکتے غرا کر کہا تو امتثال کی آنکھیں بہرام شاہ کے اس انداز پر پل میں نم ہوئی تھیں—
آنکھوں میں تیرتی نمی کو اندر اتارتے بے یقینی سے بہرام شاہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا وہ محبت کرتا تھا مگر وہ یہ حق نہیں رکھتا تھا کہ اپنا غصہ اس طرح سے اس پر اتارے
“مسٹر بہرام شاہ آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا اس لہجے میں مجھ سے بات کرنے کا—آج تک میرے بھائیوں نے مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کی— اگر آپ یہ اپنی محبت کی دھونس جما رہے ہیں تو نہیں چاہئے مجھے ایسی محبت”— امتثال کے انگلی اٹھا کر سخت لہجے پر بہرام شاہ نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا جس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگتا جا رہا تھا—گلابی چہرہ پل میں سرخی ہوا تھا جسے دیکھتے بہرام شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے—امتثال کے کپکپاتے ہونٹوں کو دیکھا
ابھی وہ کچھ کہتا کہ امتثال جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتی تیز تیز قدم لیتی باہر نکلتی چلی گئی
جبکہ بہرام شاہ نے گھنے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے خود کو کوسا
امتثال کے معاملے میں وہ اپنی نیچر سے ہٹ کر شدت پسند ہو رہا تھا—اور جب سے داجی کا جواب سنا تھا—تو لہجے میں استحقاق عود آیا تھا—
پہلے وہ اسے محبت کی نظر سے دیکھتا تھا مگر آج بہرام شاہ نے امتثال خان کو اپنی ہونے والی بیوی کی نظروں سے دیکھا تھا
وہ ناچاہتے ہوئے بھی اپنے لہجے پر قابو نا پا سکا
خود کو کوستے ایک جھٹکے میں اٹھتا لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہ امتثال کے پیچھے بھاگنے کے انداز میں گیا
_________
“امتثال”— سڑک پر تیزی سے چلتی امتثال خان کو بھاگتے ہوئے پکارا تو امتثال کے قدموں میں تیزی در آئی
“اب تم نے مجھ سے دور بھاگنے کی کوشش کی تو قسم کھا کر کہہ رہا ہوں— ابھی اور اسی وقت کسی مسجد میں لے جا کر نکاح پڑھوا لوں گا تم سے—اور پھر بھاگ کر دکھانا مجھے”— امتثال خان کا بازو تھامتے جھکٹے سے اپنی جانب موڑتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو امتثال نے ہونکوں کی طرح منہ کھولے بہرام شاہ کو دیکھا—
“اور اپ کو کیا لگتا ہے—آپ نکاح پڑھوائے گے تو میں نکاح پڑھ لوں گی—بنا کچھ سوچے سمجھے آپ جیسے شخص کو قبول کر لوں گی—جو پل میں مجھے ذلیل کر دیتا ہے”— نم لہجے میں چلا کر کہا تو بہرام شاہ نے گہری نظروں سے امتثال خان کی بھیگی پلکوں کو دیکھا—
دل نے سر پسلیوں سے ٹکراتے ان اٹھتی گرتی پلکوں کی چلمل کو چھونے کی خواہش کی تو بہرام شاہ نے بری طرح ڈپٹتے سر جھٹکا
“مجھے صرف لگتا ہی نہیں مجھے یقین ہے”— ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے یقین بھرے لہجے میں کہا تو امتثال نے سختی سے ہونٹ بھںچے
“اور ذلیل نہیں کیا تمہیں—اپنی عزت کو بھی کوئی ذلیل کر سکتا ہے—حق جتایا تھا اپنی محبت پر—ہونے والے شوہر کا استحاق منہ زور ہوتا عود آیا تھا—محبوبہ کو بیوی کے روپ میں سوچتے ہر چیز سے رقابت محسوس ہوئی تھی”—- پہلو میں گرے امتثال کے ہاتھوں کو تھامتے— چہرہ خود کی جانب گردن اٹھائے کھڑی امتثال پر جھکائے جذبوں سے چور لہجے میں کہا تو امتثال کے دل نے بے ساختہ بیٹ مس کی—بہرام شاہ کے شوہر والی بات پر الجھ کر دیکھا
“تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مانگ لیا ہے—اب مسسز بہرام شاہ بننے کے لیے تیار ہو جاؤ خانم”— امتثال کی آنکھوں میں الجھن دیکھ شوخ لہجے میں کہا تو امتثال نے حیرت سے بہرام شاہ کے مسکراتے چہرے کو دیکھا—
“اور اگر میں اس رشتے سے انکار کر دوں”— اپنی حیرت پر جلد قابو پاتے آبرو آچکا کر کہا تو بہرام شاہ کے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ رینگ گئی
“اور تمہاری اس بکواس پر اگر میں تمہاری یہی جان لے لوں تو”— امتثال کے لہجے میں دوبدو جواب دیا تو امتثال نے بے یقینی سے بہرام شاہ کی سیاہ گہری آنکھوں میں دیکھا جہاں اس وقت امتثال کو صرف اور صرف اسے پانے کا جنون اور شدت ہی نظر آرہی تھی
“آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں”—لہجہ کو حتی الامکان نارمل رکھتے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے ہوئے استفسار کیا تو بہرام شاہ نے فورا سر نفی میں ہلایا
“میں سچ بتا رہا ہوں”— کندھے آچکا کر جواب دیا تو امتثال کی آنکھیں ایک دفعہ پھر سے نم ہوئی
“آپ میری جان لینے کی بات کر رہے ہیں بہرام— کیا آپ کے لیے میری جان اتنی ارزہ ہے کہ اپنی رائے ظاہر کرنے پر آپ مجھے جان لینے کی دھمکی دیں”—- ہاتھ چھڑوانے کی کوشش ترک کرتے بھیگے لہجے میں شکوہ کیا تو بہرام شاہ نے سنجیدہ نظروں سے امتثال خان کو دیکھا
“میں صرف بات نہیں کر رہا حقیقت بتا رہا ہوں تمہیں— تمہاری جان تمہاری سانسوں تمہارے وجود کے سوا اس دنیا کی کوئی چیز میرے لیے اہمیت نہیں رکھتی—اور جب تم ہی اس جان کو اس وجود کو مجھ سے دور کرو گی– کسی اور کے لیے ان سانسوں—اس جان اور وجود کی حفاظت کرو گی تو کیا فایدہ اس وجود اور جان کے ہونے کا کیا فائدہ— جب یہ سانسیں میری سانسوں میں شامل نہیں ہو سکے گی—جب یہ جان مجھ میں شامل ہو کر ایک جان نہیں ہو سکے گی—جب یہ وجود میری محبت کہ رنگ میں نہیں رنگ سکے گا—میری شدتوں اور میری خوشبو سے نہیں مہک سکے گا تو اس کا اس دنیا میں ہونا ہی فضول ہے—اور کسی اور کے لیے ہونا تو ناممکن ہے”—- چہرہ امتثال کے چہرے پر جھکائے— دھیمے مگر تپش زدہ لہجے میں کہتے امتثال کی مدھم چلتی سانسوں میں گہری سانس لی تو امتثال کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی ابھی وہ لڑکھڑا کر گرتی کہ بہرام شاہ نے بایاں بازو امتثال کی کمر کے گرد لپیٹتے—اسے گرنے سے بچایا
“آپ ای—سے تت—تو نہیں تھے بہرام—ات—نے شدت پسند”— بہرام شاہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے ہلکے سے ماتھا امتثال کے ماتھے سے ٹکرایا
“میں ایسا ہوں بھی نہیں— میں ایک عام سے بندہ ہوں— لڑائی جھگڑوں دشمنیوں اور نفرتوں سے دور محبتوں اور رشتوں میں زندہ رہنے والا— لیکن تمہارے معاملے میں ان سب سے ہٹ کر ہوں— تمہیں دیکھنے اور چاہنے کے بعد میرے جنون میں لمحہ بہ لمحہ اضافہ ہوا ہے— میرے دل نے تمہیں صرف خود تک محدود رکھنے کی ضد کی ہے—تمہیں دنیا سے چھپا کر اپنے سینے میں چھپا لینے کا جنون ہے مجھے— میری زندگی میں شامل ہو کر تمہیں اور کسی قسم کی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا تم ہر معاملے ہر فیصلے میں آزاد ہو گی—مگر تمہارے لیے جو میرا جنون ہے اسے تمہیں ہر حال میں برداشت کرنا ہوگا—خود کو صرف بہرام شاہ تک محدود رکھنا ہوگا— انکار کا جواز نہیں اور اقرار میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے میری خانم— پورے بیس دن بعد تمہیں اپنی بیوی کے روپ میں ملوں گا اور اب میں تمہیں آخری وارننگ دے رہا ہوں چادر کے بغیر حویلی سے قدم باہر رکھا تو اپنے قدم قبر میں رکھنے کے لیے تیار رہنا”—- امتثال کے کان کی جانب جھکتے سرگوشی نما لہجے میں کہتے پیچھے ہوتے امتثال کا گال تھپتھپایا فون نکال کر گارڈز کو گاڑی لانے کا کہا اور بت بنی کھڑی امتثال کا ہاتھ تھامتے گاڑی میں بٹھا کر دروازہ بند کرتے
اپنی گاڑی میں بیٹھتے ڈرائیور کو گاڑی سٹارٹ کرنے کا اشارہ کیا
امتثال کی گاڑی حویلی کے اندر داخل ہوئی تو بہرام شاہ نے گہری سانس لیتے—اپنی گاڑی کا رخ شاہ حویلی کی جانب کیا
