Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 31) 

Maan Yaram by Maha Gull Rana 

حدائق شاہ کو اپنی جانب آتے دیکھ امتثال نا محسوس انداز سے پلوشہ کو اکیلی چھوڑتی دوسری جانب چلی گئی تھی

“ایمی یہ ڈریس کتنی پیاری ہے نا—یہ جب ہم شادی کے بعد حویلی واپس آئیں گے میں تب پہنوں گی—تم بتاؤ پیاری ہے نا”— اتشی گلابی رنگ کی فراک جس پر گولڈن کلر کا کام ہوا تھا—گلے سے لے کر دامن تک اور سبز رنگ کے دوپٹے پر شیشوں سے ہوا کام اس کی دلکشی میں مزید اضافہ کا باعث بن رہا تھا—

“تمہیں نہیں لگتا کہ یہ غلط بات ہے کہ جس کے لیے سجنا ہے اس کی بجائے تم دوسروں کی رائے پوچھ رہی ہو—حق تو میرا ہے کہ تم مجھ سے پوچھو”—پلوشہ خان کے دائیں جانب۔ کھڑے ہوتے—پلوشہ کے پہلو میں گرے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتے— جھک کر کان میں سرگوشی کی تو پلوشہ خان نے سٹپٹا کر اپنے دائیں جانب کھڑے حدائق شاہ کو دیکھا تھا—

“اور ابھی تو تم میرے پاس آئی بھی نہیں اور واپس جانے کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں—لیکن تمہیں ایسا کیوں لگا کہ تم میرے پاس آکر واپس جا بھی سکتی ہو—تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں جانے دوں گا”— گردن ترچھی کر کہ پلوشہ خان کی حیرت زدہ آنکھوں میں دیکھتے سپاٹ لہجے میں کہا تو پلوشہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی

ہونکوں کی طرح منہ کھولے وہ بے یقینی سے حدائق شاہ کے چہرے کے سپاٹ تاثرات دیکھ رہی تھی—

“وہ رس- رسم ہوتی ہے نا”—حدائق شاہ کے ہاتھ کی سخت گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرتے مدھم لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے سپاٹ نظروں سے پلوشہ کے مزاحمت کرتے ہاتھ کو دیکھا تھا—

“اگر اگلے ایک سیکنڈ میں تمہارا مزاحمت کرتا ہاتھ نا رکا تو یقین مانو ابھی صرف تمہارا ہاتھ میری گرفت میں ہے مگر اگلے سیکنڈ تم پوری کی پوری میری بانہوں میں ہوگی— اب سوچ لو صرف ہاتھ تھاموں یا تمہیں بانہوں میں بھر لوں—مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا—بس تم شاید اپنے ہوش و حواس گنوا دو”— حدائق شاہ کے طنز میں ڈوبے سخت لہجے پر پلوشہ کا مزاحمت کرتا ہاتھ پل میں رکا تھا—جبکہ حدائق شاہ کے سخت لہجے پر پلوشہ نے پلکوں کی باڑ اٹھا کر حدائق شاہ کو دیکھا تھا—

جس کے چہرے کے تاثرات ہنوز سپاٹ تھے—وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر وہ کیوں اس طرح بات کر رہا ہے—

وہ جتنی بار بھی اس سے ملا تھا تب اس کے لمس میں شدت ہوتی تھی مگر آنکھیں اور لہجہ ہمیشہ نرمی اور محبت لیے ہی ہوتا تھا—اس لہجے میں تو تب حدائق شاہ نے بات نا کی تھی جب وہ اسے تھپڑ مار چکی تھی—مگر پھر اج کیوں

“نن-ناراض ہیں”— حدائق شاہ کو ہینگ کیے کپڑوں کو دائیں ہاتھ سے آگے پیچھے کرتے دیکھ مدھم لہجے میں کہا تو حدائق شاہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی

“میں جس بیوی کے لیے دن رات پاگل ہو رہا ہوں—جس کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں کہ وہ کچھ دنوں تک میری زندگی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنے والی ہے—جس کے بعد اس پر صرف و صرف حدائق شاہ کا حق ہوگا—وہ صرف و صرف میری بن کر رہے گی وہی بیوی میرے پاس آنے سے زیادہ آ کر واپس جانے کے لیے بے چین ہے—اسے شوہر کے جزبات اس کی محبت اس کی تڑپ سے زیادہ رسمیں یاد ہیں تو اس بات پر مجھے صرف غصہ یا ناراض نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنا جائز حق استعمال کر کہ ایک اچھا شوہر بننے کی بجائے اس دن کی طرح سفاک—اپنی کرنے والا ضدی اور گھمنڈی حدائق شاہ بنتے ہوئے تمہیں یہاں سے لے جا کر قید کر دینا چاہیے— جہاں صرف حدائق شاہ ہو اور اس کا حکم ہو—پلوشہ حدائق شاہ ہو اور اس حکم کی تکمیل ہو”— سرد ٹھٹھرا دینے والے لہجے میں کہتے نکاح والے دن کا حوالہ دیا تو اس دن کو سوچتے پلوشہ خان نے بے ساختہ جھرجھری لی تھی—وہ نازک جان کہا وہ روپ دوبارا دیکھ سکتی تھی

اس دن کے حدائق شاہ کو یاد کرتے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے—وہ کبھی دوبارا جو اس روپ میں سامنے اتا تو پلوشہ کو یقین تھا کہ وہ زندہ نا بچتی

“آپ مجھ پر صرف اپنا حکم چلانے کے لیے قید کرنا چاہتے ہیں”— لہجے میں حیرت سموئے نیلی آنکھوں کو پٹپٹاتے حدائق شاہ کے سرد پڑتے چہرے کو دیکھتے استفسار کیا تو حدائق شاہ نے چونک کر نا سمجھی سے پلوشہ خان کو دیکھا

اور پلوشہ خان کی بات سمجھتے دل کیا کہ اپنا سر پیٹ لے— وہ جو غصے میں اتنا کچھ بول رہا تھا میڈم کو اس بات کی پرواہ نہیں تھی—دکھ تھا تو صرف و صرف اس بات کا کہ وہ حکم چلانا چاہتا ہے

پلوشہ کے معصوم چہرے کو سخت نظروں سے گھورتے یکلخت خود بہ خود آنکھوں میں نرمی اتر آئی چہرے کے تنے تاثرات ڈھیلے پڑتے مسکراہٹ میں ڈھل گئے

تبھی پلوشہ کے تھامے ہاتھ کو جھٹکے سے اس کی کمر پر باندھتے خود کے قریب تر کیا

“ہاں تو—کیا تم میرا حکم نہیں مانو گی—تمہارے سر کا سائیں ہوں— سہاگ ہوں تمہارا— میرا حکم ماننا تو فرض بھی ہے”— والہانہ نظروں سے پلوشہ کے چہرے کو دیکھتے گھمبیر لہجے میں استفسار کیا تو پلوشہ نے اپنے کپکپاتے بائیں ہاتھ سے حدائق شاہ کے بازو کو تھامتے خود کو گرنے سے بچایا

شرم سے سرخ پڑتی—چور نگاہوں سے اردگرد نگاہ دوڑائی مگر خود کو ایک کونے میں حدائق شاہ کے چٹان جیسے وجود کے پیچھے چھپا ہوا محسوس کرتے سکون کا سانس لیا

“میں آپ کے کہنے سے پہلے ہی سب کام کر دوں گی”—پلکوں میں جھالر کو اٹھاتے مدھم لہجے میں کہتے سرعت سے نظریں جھکائی تو ان پلکوں کی جھالر کے اٹھتے گرتے رقص کو دیکھتے حدائق شاہ کو اپنا دل ان میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا—

“جو تم سمجھ رہی ہو وہ کام نہیں—میرے حکم کی نوعیت کچھ اور ہے”— گھنی خمدار پلکوں پر پھونک مارتے خمار الود لہجے میں کہا تو حدائق شاہ کی دہکتی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے پلوشہ نے سختی سے آنکھیں میچیں—جبکہ حدائق شاہ کی سانسوں کی محسور کن خوشبو کو گہری سانس بھرتے اپنی روح میں اتارا

پلوشہ کی اس انجانے میں کی گئی حرکت پر حدائق شاہ کی آنکھوں میں پل میں خمار اترا تھا—گہری سانس بھرنے سے گلے میں پڑنے والے کھڈے کو دیکھتے حدائق شاہ کو اپنے گلے میں کانٹے سے چبھتے محسوس ہوئے

اپنے بے لگام ہوتے جذبات سے گھبرا کر حدائق شاہ نے نرمی سے پلوشہ کی کمر سے ہاتھ ہٹایا—جبکہ پلوشہ کا ہاتھ ہنوز سختی سے تھاما ہوا تھا—

“جیسے کہ”— حدائق شاہ کے آگے بڑھنے پر نظریں حدائق شاہ کی چوڑی پشت پر ٹکائے جواب دیا تو حدائق شاہ نے گہری سانس بھرتے اردگرد دیکھا تھا—

دل میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر طلاطم برپا کیے ہوئے تھے—پلوشہ خان کے قریب ہونے اس کے معصوم سوالات کو سنتے حدائق شاہ کے لیے اپنے جذبات پر بند باندھنا مشکل ہونے لگا

تبھی سب کی نظروں سے بچتے— چیجنگ روم کا دروازا کھولتے پلوشہ کا ہاتھ تھامے اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اندر داخل ہوتے دروازا بند کر چکا تھا—

پلوشہ کو دیوار سے لگاتے—دونوں ہاتھ اس کے اطراف میں رکھے—

“حح—حدائق باہر چچ—چلیں”—حدائق شاہ کی جذبے لٹاتی سرخ آنکھوں سے گھبراتے سائیڈ سے ہو کر باہر جانا چاہا تو حدائق شاہ نے پلوشہ کا بازو تھامتے اسے دوبارا سے اپنے سامنے کیا

“لوک ان ٹو مائے آئیز”— حدائق شاہ کے سنجیدہ لہجے پر پلوشہ نے چونک کر نیلی گہری آنکھوں میں دیکھا تھا—مگر حدائق شاہ کی لو دیتی جذبے لٹاتی نظروں میں دیکھنا محال ہوا تو سرعت سے نظریں پھیریں

“نن—ہیں”—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے نظریں جھکائے منمنا کر جواب دیا تو حدائق شاہ کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

“شائننگ سٹار—تمہارے سر کے سائیں کے حکم کچھ اسی نوعیت کے ہیں—سو بی پریپئیر— کیونکہ اس کے بعد والا حکم تمہارا لیے جان لیوا ثابت ہوگا”— پلوشہ خان کے تھر تھر کانپتے وجود کو اپنی بانہوں میں بھرتے شوخ لہجے میں کہا تو پلوشہ نے گھبرا کر حدائق شاہ کو دیکھا تھا—

“آپ ای—سے تو نن—ہیں لگ—تے”—کپکپاتے ہاتھوں کو اپنے گرد حصار باندھے حدائق شاہ کی مضبوط بازوؤں پر رکھتے اٹکتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے آبرو آچکائی

“ایسے کیسے”— سوالیہ لہجے میں استفسار کیا تو پلوشہ خان نے بری طرح لب کچلتے— نظریں حدائق شاہ کے کرتے کے بٹنوں پر ٹکائی

“چھچھورے—ٹھرکی لوفر ٹائپ”—ایک ہی سانس میں کہتی سختی سے آنکھیں میچتی وہ حدائق شاہ کے چودہ طبق روشن کر چکی تھی—

وہ جو سمجھ رہا تھا وہ اسے رومینٹک کہے گی مگر وہ تو حدائق شاہ کے ارمانوں پر بڑی معصومیت سے پانی پھیرتی کبوتر کی طرح آنکھیں میچ چکی تھی

“واٹ دا”—صدمے سے چلاتے حدائق شاہ نے بامشکل خود کو کچھ غلط کہنے سے روکا تھا—

جبکہ حدائق شاہ کے چلانے پر پلوشہ خان جائے پناہ ڈھونڈتی اسی کے سینے میں سر چھپا چکی تھی

“پلوشہ میرا میٹر بہت بری طرح تم گھما چکی ہو—اب شرافت سے باہر چلی جاؤ – اس سے پہلے میں تمہیں اپنا ٹھرک اور چھچھورہ پن دکھاؤ”—گھنے بھورے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اپنے سینے میں چھپی تھر تھر کانپتی پلوشہ خان کو دیکھتے دانت پیستے ہوئے کہا تو پلوشہ خان نے بے ساختہ سر نفی میں ہلایا تھا—

“پپ—ہلے آپ جائیں” پلوشہ کے کہنے پر حدائق شاہ نے گھور کر اسے دیکھ تھا پھر گہری سانس بھرتے پلوشہ کو دونوں کندھوں تھام کر اپنے سامنے کیا

وائٹ کلر کے پرنٹڈ سوٹ کے ساتھ نارنجی رنگ کا دوپٹہ اور سر پر چادر اوڑھے—حیا کی لالی سے سرخ پڑتے گلابی گال—نیلی آنکھوں پر پلکوں کی جھالر گرائے—گلابی بھرے بھرے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبائے سر جھکائے کھڑی وہ حدائق شاہ کے دل میں حشر برپا کر چکی تھی—

تبھی حدائق شاہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں جھکتا پلوشہ کے گلابی پھولے پھولے گالوں پر شدت سے اپنے ہونٹ رکھتا اپنے لمس چھوڑنے لگا

“پہلے ڈریس تو لے لیں—پھر چلا بھی جاؤں گا—دلہن میری بننا ہے تو مرضی بھی میری ہونی چاہیے نا کہ تم کیا پہنو گی”—پلوشہ کا ہاتھ تھامتے پلٹ کر دروازہ کھولتے قدم باہر رکھتے ہوئے کہا تو پلوشہ نے منہ بسور کر حدائق شاہ کی پشت کو دیکھا تھا—

کیونکہ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ڈریس اسے کتنی مہنگی پڑنے والی ہے—جبکہ اپنے گالوں پر ابھی بھی حدائق شاہ کے ہونٹوں کے دہکتے لمس اور ہلکی بئیرڈ کی چھبن محسوس ہو رہی تھی

___________

یہ کیا بیہودگی ہے —شادی ہے میری جنازہ نہیں جو یہ سیاہ رنگ لے رہی ہو— اپنے فیصلے کے نتائج سے تم پہلے ہی واقف تھی—اب یہ سیاہ رنگ پہن کر کونسا ماتم کرنا چاہتی ہو”— صبغہ شاہ کے ہاتھ سے بلیک کلر کے کامدار لہنگے کو جھپٹنے کے انداز میں پکڑتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو صبغہ نے طنزیہ نظروں سے بالاج شاہ کو دیکھا تھا—

“یہ رنگ تو مجھے اپنے شوہر کی وجہ سے پسند ہے—اسی سے متاثر ہو کر تو لے رہی ہوں”— صبغہ شاہ کے سپاٹ انداز پر بالآج شاہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا جس پر صبغہ چار قدم کے فاصلے کو سمیٹتے بالاج شاہ کے قریب آکر کھڑی ہوئی

“یہ سیاہ گھنے بال— یہ گہری رات سی سیاہ آنکھیں—یہ سینے میں پتھر ہوا سیاہ دل— یہ دماغ پر حاوی ہوئی سیاہ سوچ—سب سیاہ ہی تو ہے—جب میرا شوہر اس رنگ میں رنگا ہوا ہے تو مجھے بھی تو یہی پہننا چاہیے—کیونکہ نکاح کے سفید کاغذوں پر دستخط کر کہ یہ سیاہی میں نے بھی تو اپنا نصیب بنا لی ہے”— بالاج شاہ کے بالوں—آنکھوں اور سینے کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتے طنزیہ لہجے میں کہا تو بالآج شاہ نے مٹھیاں بھنچتے صبغہ شاہ کی شہد رنگ آنکھوں میں دیکھا تھا—

“آج کچھ زیادہ ہی زبان نہیں چل رہی—اووو یہ زبان کے جوہر ان سب کی موجودگی کی وجہ سے ہیں نا—— تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے صبغہ شاہ کے تمہیں میں ان سب کے سامنے کچھ نہیں کہہ سکتا”— چہرے کے گرد جھولتی آوارہ لٹ کو اپنی شہادت کی انگلی پر لپیٹتے—صبغہ کی جانب جھکتے تمسخر اڑاتے لہجے میں کہا تو صبغہ شاہ کا مدھم دلکش قہقہہ گونجا تو بالآج شاہ نے مسمرائز ہوتے صبغہ شاہ کی دلکش ہنسی کو دیکھا تھا—

“کیونکہ مائے بے رحم شاہ—میں بہت اچھے سے جانتی ہوں کہ آپ کو اپنی سو کالڈ آنا اور عزت بہت عزیز ہے— اور میرے جیسی لڑکی جس کی کوئی اوقات نہیں آپ کی نظر میں اس کے لیے آپ خود کو اپنے گھر والوں کی نظروں میں تو کبھی نہیں گرائیں گے—خاص کر اپنی پہلی محبت کے سامنے”— صبغہ شاہ کے طنزیہ لہجے میں گھلی نمی کو محسوس کرتے بالآج شاہ نے سختی سے جبڑے بھنچے تھے— صبغہ شاہ کے پلٹنے پر سرعت سے کلائی تھامتے جھٹکے سے خود کے قریب کیا تھا—

“بہت زبان چل رہی ہیں نا—بہت جانتی ہو نا تم مجھے—تو اب یہ بات بھی جان لو—یہ سیاہ رنگ تم تو صرف پہنو گی—مگر میں اس سیاہی کو تمہاری رگ رگ میں اتار دوں گا— میرا دل سیاہ پتھر ہے تو موم میں تمہارے دل کو بھی نہیں رہنے دوں گا—تمہیں سہاگن کے سرخ رنگ کی بجائے اس سیاہ رنگ میں نا رنگا جس میں بقول تمہارے میں رنگا ہوا ہوں تو مجھے بھی بے رحم شاہ نا کہنا”— صبغہ کی کلائیاں اپنی سخت گرفت میں لیتے کمر پر موڑتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو صبغہ نے نم شکوہ کناہ نظروں سے بالآج شاہ کی خون چھلکاتی آنکھوں میں دیکھا تھا—

“آپ کو اتنی محنت کرنے کی ضرورت نہیں بالآج شاہ— میرا دل موم رہا ہی نہیں اگر موم ہوتا تو آپ کے اس قدر ہتک آمیز رویے پر کب کا دھڑکنا چھوڑ دیتا—اپ سے بھی زیادہ پتھر دل ہے میرا—اور رہی بات سیاہی کی—وہ صرف رگ رگ میں نہیں میرے پورے چہرے پر مل دی جائیں گی”— سپاٹ لہجے کہتے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ لیے بالآج شاہ کی شدت جذبات سے سرخ پڑتی آنکھوں میں اپنی شہد رنگ آنکھیں گاڑھی

“جو بیوی اپنے شوہر کے لیے دل بہلانے کا ساماں ہو—صرف اس کی ضرورت ہو— شوہر اپنی پہلی محبت کو بہلانے کے لیے بیوی کے وجود کی رنگینیوں میں صرف کچھ لمحات کے لیے کھوئے—بیوی کی عزت اس کا وقار شوہر کے لیے کوئی اہمیت نا رکھتا ہو تو اس بیوی اور کسی رکھیل میں کوئی فرق”—- سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہتی ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتی کہ بالآج شاہ نے بائیں جانب ہاتھ مارتے ہنیگ کیے کپڑوں کو زمین بوس کیا تھا— صبغہ شاہ کا جبڑہ دبوچتے وہ اسے پیچھے دیوار سے لگا چکا تھا

“جسٹ شیٹ اپ— شیٹ یور ماؤتھ لیڈی—ادروائز آئی ول کل یو”—- دبے دبے لہجے میں غرا کر کہتے— ہاتھ کا مکا بناتے پیچھے دیوار پر مارا تو صبغہ نے سختی سے آنکھیں میچتے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے اپنی چیخ کا گلا گھونٹا

سیاہ گہری رات سی آنکھیں اس وقت خون چھلکا رہی تھی—ماتھے پر بے ترتیبی سے بکھرے بال—گردن اور ماتھے کی رگیں تن کر واضح ہونے لگی تھیں—غصے کی زیادتی سے پھولی تیز سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے صبغہ کو اپنی سانسیں خشک پڑتی محسوس ہونے لگی

بالآج شاہ کے خون چھلکاتے چہرے سے ٹپکتی وحشت دیکھ دل بری طرح دھڑکا تھا—

“ہاؤ ڈئیر ہو—میری بیوی ہو کر—میری عزت کو ایسے گھٹیا لفظ سے کمپئیر کرنے کی ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری”— وہ آتش فشاں بنا صبغہ کی سچ میں جان لینے کے در پر تھا—

خود اپنی آنا کو تسکین دینے اور صبغہ کو تکلیف دینے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتا تھا—اسے ہر اس بات سے تکلیف دیتا تھا جس سے جانتا تھا کہ صبغہ شاہ کی روح تک زخمی ہوگی— مگر آج جب اس نے خود کے لیے کوئی غلط لفظ استعمال کر لیا تو بالآج شاہ کو اپنے خون میں شرارے پھوٹتے محسوس ہو رہے تھے— بس نہیں چل رہا تھا کہ صبغہ شاہ کی زبان گدی سے کھینچ لے جس سے اس نے خود کے لیے اتنا گھٹیا لفظ استعمال کیا تھا

“آپ کی ڈکشنری میں دل بہلانے کا ساماں پتہ نہیں کسے کہتے ہیں—لیکن ہمارے معاشرے میں دل بہلانے کے لیے مرد رکھیل لفظ ہی استعمال کرتے ہیں—کیونکہ بیویاں لباس ہوتی ہیں عزت ہوتی ہیں – دل لگانے کے لیے ہوتی ہیں—عمر بھر ساتھ نبھانے کے لیے ہوتی ہیں نا کہ دل بہلانے کے لیے “— بنا ڈرے بالآج شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا تو بالآج شاہ نے اپنا بایاں بازو صبغہ کی گردن کے گرد لپٹتے چہرہ اپنے چہرے کے قریب تر کیا

جبکہ گرنے کی آواز سنتی وہاں آئی فی میل ورکر سٹپٹا کر وہاں سے نو دو گیارہ ہوئی تھی—

“بالآج شاہ کی ڈکشنری میں دل بہلانے کا ساماں بھی بیوی اور لگانے کا بھی—میری بیوی میری مرضی—میں اس سے دل لگاؤں یا بہلاؤں—اپنی عزت کو کیسے ٹریٹ کرنا ہے مجھے اس کے لیے دوسروں سے مشورے لینے کی ضرورت نہیں—اور جس معاشرے کی تم بات کر رہی ہو—وہاں بیویاں ہزار جتن کرتی ہیں شوہر کو مائل کرنے کے لیے اپنے قابو میں کرنے کے لیے تو تم نہیں کر سکتی کیا—تم نا بھی کر سکتی ہوئی تو کرنا تو پڑیں گا—کیونکہ بالآج شاہ کا دل بھی تو بہلانہ ہے نا”— صبغہ شاہ کے نچلے ہونٹ پر انگھوٹھے کا ناخن پھیرتے سپاٹ لہجے میں کہتے جھک کر اپنے لب رکھنے چاہے تو صبغہ نے غصے سے چہرے کا رخ بدلا تو بالآج شاہ کے ہونٹ گال کے قریب آکر رکے

نظریں اٹھائیں صبغہ کے غصے کے باعث سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے ضبط سے جبڑے بھنچتے—جھٹکے سے پیچھے ہوا

“آئی ہیٹ یو بالآج”— نم لہجے میں سرگوشی کی تو بالآج شاہ نے چونک کر صبغہ شاہ کی نم آنکھوں میں دیکھا تھا—

” –نفرت کا اظہار تو ایسے کیا ہے جیسے میں یہاں تمہارے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبا ہوا ہوں نا—آئی ہیٹ یو مور—ویسے زندگی میں پہلی بار تم نے میرے دل کی بات کی ہے—اس پر دل تو چاہ رہا ہے تمہارے یہ رس بھرے ہونٹ چوم لوں— لیکن خیر—جتنی کڑوی باتیں تم کر چکی ہو میں اپنے منہ کا ٹیسٹ نہیں خراب کرنا چاہتا”—اپنے کوٹ کو ٹھیک کرتے طنزیہ لہجے میں کہا تو صبغہ شاہ نے گھور کر بالآج شاہ کو دیکھا تھا

“جب نا مل سکے تو انگور کھٹے ہیں”—کچھ دیر پہلے اپنا چہرے پھیرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو بالآج شاہ نے کینہ توز نظروں سے صبغہ شاہ کو دیکھا تھا—

اور پھر لمحے کے ہزاروں حصے وہ صبغہ شاہ کے قریب ہوتا اس کے ہونٹوں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے شدت بھرا لمس چھوڑتے پیچھے ہٹا تھا—

“ایسا کچھ نہیں جو بالآج شاہ چاہے اور اسے نا مل سکے”— اپنے نم ہونٹ پر انگھوٹھا پھیرتے آنکھ دبا کر کہتے وہاں سے لمبے لمبے ڈنگ بھرتا غائب ہوا تو صبغہ نے بے بسی سے مٹھیاں بھنچتے وہاں ہینگ ہوئے سیاہ رنگ کے سبھی لباسوں کو نکالا تھا—

____________

“اپ یہ ڈریس ہماری شادی والے دن پہنو گی تو مجھے اچھا لگے گا”—اپنی پشت سے بہرام شاہ کی گھمبیر آواز سنتے امتثال جھٹکے سے پلٹی تھی—

بہرام شاہ کی جذبے لٹاتی آنکھوں سے ہوتی نظریں بہرام شاہ کے ہاتھ میں تھامے شاپنگ بیگ پر گئی تو امتثال نے سوالیہ نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھا تھا—

“میری چوائس اتنی بھی بری نہیں – اگر پسند نا بھی آئیں تو پہن لیجئے گا— کیونکہ میں آپ اسی ڈریس میں دیکھنا چاہتا ہو—سائز کی ٹینشن نا لیں—بالکل پرفیکٹ فٹ ہوگا—کیونکہ اتنی ملاقاتوں میں سائز کا آئیڈیا تو ہوگیا ہے مجھے”—ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے شوخ لہجے میں کہا تو اپنی بات پر امتثال خان کے چہرے پر کھلتے قوس و قزح کے رنگ دیکھتے بہرام شاہ کے دل نے بیٹ مس کی تھی—

“ایسے ہی تو میں آپ کو مسٹر فلرٹ نہیں کہتی– بہت بے شرم ہیں آپ”—بہرام شاہ کے ہاتھوں سے شاپنگ بیگ لینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے گرفت مضبوط کرتے شوخ نظروں سے امتثال خان کو دیکھا تھا

جو بیگ کو اپنی جانب کھینچ رہی تھی— مگر بہرام شاہ کے گرفت مضبوط کر لینے پر اسے سخت نظروں سے گھور رہی تھی جس کا اثر لیے بغیر بہرام شاہ نے شاپنگ بیگ کو جھٹکا دیا تو امتثال خان جو اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی لڑکھڑا کر بہرام شاہ کے قریب ہوئی

“ابھی تو صرف فلرٹ کیا ہے—- بے شرمی دکھانے کے لیے شادی کا انتظار کر رہا ہوں—اور یہ کمبخت انتظار ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا”—شوخ لہجے میں کہتے ٹھنڈی آہ بھری تو امتثال خان نے بہرام شاہ کو گھورتے جھٹکے سے شاپنگ بیگ لیا تھا—

“یہ بے شرمی دکھانے کے ارمان آپ کے ارمان ہی رہ جائیں گے”—ناک سکیڑ کے کہتے پلٹ کر ڈریس دیکھنے لگی تو بہرام شاہ نے گھور کر امتثال خان کو دیکھا تھا—

پھر دو قدم نزدیک آتے امتثال خان کی پشت پر کھڑے ہوتے اطراف میں نگاہ دوڑائی

عقیدت کو ضرغام سے لڑتا دیکھ—عائث کو حوریہ کے پیچھے ڈریس لے کر گھومتے دیکھ—بالاج اور صبغہ کو ایک دوسرے کو خونخوار نظروں سے گھورنے میں مصروف دیکھ بہرام شاہ نے نظروں کا رخ سیدھا کرتے امتثال خان کو دیکھا تھا—

“میرے جیتے جی تو یہ ارمان روز پورے ہوگے—البتہ میرے مرنے کے بعد کا تم کہہ”—بائیں جانب کان کے قریب جھکتے بہرام شاہ ابھی اپنی بات مکمل کرتا کہ امتثال خان نے تڑپ کر پلٹتے اپنی ہتھیلی بہرام شاہ کے ہونٹوں پر رکھی تھی

“اللہ نا کریں—آپ کو میری عمر لگ جائیں”—آنکھوں اور لہجے میں تڑپ لیے کہا تو بہرام شاہ جان لٹاتی نظروں سے امتثال خان کو دیکھا تھا—

“ہائے صدقے—میں مرجاواں اپنی پٹھانی تے”—ہونٹوں پر رکھی امتثال کی ہتھیلی کو نرمی سے چھوتے—دل پر ہاتھ رکھتے سر پیچھے کو گراتے جان لٹاتے انداز میں پنجابی میں کہا تو امتثال خان نے شرم سے سرخ پڑتے سٹپٹا کر بہرام شاہ کے سینے پر رکھے ہاتھ کو تھامتے اسے سیدھا کیا تھا—

“کیا کر رہے ہیں بہرام—لالا دیکھ لیں گے”— بہرام شاہ کے خوشی سے تمتماتے چہرے کو دیکھتے دل ہی دل میں نظر اتارتے ٹوکتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ کے ہونٹوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ رینگ گئی

“بہت جلد یہ جملہ تم پھر سے کہنے والی ہو—بس تب تمہارا لالا نہیں ہوگا اس جملے میں— تب تم کہو گی—کیا کر رہے ہیں بہرام—بچے جاگ رہے ہیں”— ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے – شوخ لہجے میں پھر سے امتثال کو چھیڑا—جبکہ چہرہ ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں سرخ انار ہو رہا تھا—

جبکہ بہرام شاہ کی دن بدن بڑھتی بے باکی کو دیکھتے امتثال کو واقع میں یقین ہو چکا تھا کہ اس کا ہونے والا شوہر صرف شکل سے ہی سوبر اور میچور ہے اور وہ بھی صرف دوسروں کے سامنے جبکہ اس کے سامنے تو وہ لوفر پن اور فلرٹ کے سبھی ریکارڈ توڑ رہا تھا

“اگر آپ اب چپ نا ہوئے تو میں آپ سے بالکل بات نہیں کروں گی”— انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں کہا تو بہرام شاہ نے سرعت سے سر اثبات میں ہلایا تھا جبکہ گہری رات سی سیاہ آنکھیں چمک لیے ہوئی تھیں—

“ویسے ہماری نیکسٹ ملاقات—ویڈنگ نائٹ پر ہونے والی ہے—تو اس دن تم جتنا خاموش رہو گی میرے لیا اتنا ہی بہتر ہوگا—تو تمہارے بات نا کرنے سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں—ایک دن خاموش بھی رہ لو گی تو میں اپنی منمانیاں دل کھول کر کرسکتا ہوں—پھر ساری عمر تمہاری ہی سننی ہیں—اور ویسے بھی لڑکی بیوی بننے کے بعد خاموش ہو جائیں—یہ تو ناممکن ہے—اس لیے یہ دھمکی میں کسی خاطر میں نہیں لے رہا”—کندھے آچکا کر کہتے وہ امتثال خان کو پل میں تپا چکا تھا

“اب تو میں بولو گی—اتنا بولو گی کہ آپ کے کانوں سے دھواں نکلنے لگے گا—اور شادی کی رات تو بالکل چپ نہیں کروں گی”— دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے خالص لڑاکا عورتوں کی طرح کہا تو بہرام شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا

“اوکے—ایز یو وش—مگر تم جانتی ہو نا کہ میں شاہ ہوں— اور ہم شاہ اپنے دشمن کا منہ کیسے بند کرواتے ہیں—لیکن تم تو میری بیوی ہوگی— جان سے پیاری بیوی—اور جب میری جان سے زیادہ پیاری بیوی زیادہ بولے گی تو اس کا منہ تو میں بس ایک طریقے سے بند کرواؤ گا—دشمن اور بیوی میں فرق بھی تو ہوتا ہے—مگر دونوں فرق ہی جان لیوا ہیں—اگر میری بیوی کو اس طریقے سے منہ بند کروانے پر کوئی مسئلہ نہیں تو میری دلی خواہش ہے کہ وہ میرے سامنے بولتی رہے اور میں اسے چپ کرواتا رہوں”— خمار الود نظروں سے امتثال خان کے گلابی ہونٹوں کو دیکھتے بوجھل لہجے میں سرگوشی کی تو امتثال کو لگا جسم کا سارا خون نچڑ کر چہرے پر سمٹ آیا ہو

“آپ – آپ انتہا کے”—بے بسی و شرم کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے مٹھیاں بھنچ کر کچھ کہنے کو لب واہ کرتی پیر پٹخ کر وہاں سے واک آؤٹ کر گئی تو بہرام شاہ نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے امتثال خان کے پلٹنے پر اس کے خفا خفا چہرے کو دیکھا تھا—

جس پر امتثال نے ناک سکیڑتے جھٹکے سے رخ بدلا تھا—

___________

شاپنگ سے فری ہو کر اب وہ سب لنچ کرنے ایک ساتھ ریسٹورنٹ آئیں تھے

ایک بڑے سے ٹیبل جس کے اردگرد بارہ کرسیاں رکھی تھی وہاں وہ سب اس انداز میں بیٹھے تھے کہ سبھی مرد سربراہی اور کنارے کی کرسیوں پر جبکہ وہ سب لڑکیاں درمیان میں بیٹھی تھیں—

دائیں جانب سربراہی کرسی پر بہرام شاہ جب کے اس کے بائیں جانب ضرغام— عقیدت—پلوشہ اور حوریہ کے ساتھ عائث خان بیٹھا تھا—جبکہ دائیں جانب حدائق شاہ کے ساتھ سلوی— صبغہ اور امتثال کے ساتھ ارمغان خان اور بہرام شاہ کے سامنے موجود سربراہی کرسی پر بالآج شاہ بیٹھا تھا—

اس وقت وہ اپنی آنا اور نوک جھوک کو پیچھے چھوڑتے صرف محافظ بنے تھے—وہ اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ باہر آئیں تھے—ان کی حفاظت ان کی عزت ان سب کو اپنی آنا کیا جان سے بھی زیادہ عزیز تھی—لڑکیوں نے تو شاید غور بھی نہیں کیا تھا مگر وہ سب نا محسوس انداز میں ان کے گرد اپنا حصار باندھتے انہیں دوسروں کی نظروں سے محفوظ کر چکے تھے—

“شکر مجھے لگا تم آج بھی دنبہ آڈر کروگے”— حدائق شاہ کے طنزیہ لہجے پر ضرغام خان نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا تھا

“اور مجھے لگا شاید تم لال مرچوں سے پیٹ بھرنے کا ارادہ رکھتے ہو تو وہی آڈر کرو گے”— دوبدو جواب دیتے مسکرا کر ان دونوں کو گھورتی عقیدت کو دیکھا— جو ضرغام خان کے دیکھنے پر تاسف سے سر ہلاتی کھانے کی جانب متوجہ ہو چکی تھی—

جبکہ باقی سب مردوں نے خاموشی سے کھانا کھانے میں پہ عافیت جانی تھی—اور اپنی ہو چکی اور ہونے والی بیویوں کے سامنے ان میں سے کوئی بھی بدمزگی نہیں چاہتا تھا—

“عقیدت لالی آپ نے کیسا ڈریس لیا ہے”—

” جو تمہارے لالا نے لینے دیا”— پلوشہ کے پوچھنے پر منہ بسورتے ہوئے کہا تو سب لڑکیوں نے بامشکل اپنی مسکراہٹ کا گلہ گھونٹا تھا

“پھر بھی بتائیں تو سہی—کلر ہی بتا دیں”— سلویٰ کے پوچھنے پر عقیدت نے گہری سانس بھری

“شر—شرارہ لیا ہے—کچھ فراکس ہیں اور کچھ میکسی ٹائپ—اور کلر سب کے ڈارک ہیں بس ایک دو لائٹ ہیں—باقی گھر جا کر تم لوگ خود دیکھ لینا”— ابھی وہ شرٹس کہہ کر ضرغام خان کی عزت کا کچرہ کرتی اس سے پہلے ہی ضرغام خان نے اپنا ہاتھ عقیدت کے تھائی پر رکھتے دباؤ ڈالا جس پر عقیدت نے ضبط کرتے مسکرا کر بات پلٹی تھی—جبکہ ہاتھ نیچے لے جا کر ضرغام خان کے ہاتھ کی پشت پر ناخن مارنا نا بھولی تھی—

“حوریہ بھابھی آپ نے کیا لیا ہے—- اور پلوشہ تم نے”— امتثال کے پوچھنے پر حوریہ نے بری طرح گڑبڑاتے عائث خان کو دیکھا تھا جو کھانا کھانے میں اس قدر مصروف تھا—کہ اسے اس پاس کیا ہو رہا شاید خبر تک نا تھی

جبکہ امتثال کے سوال پر پلوشہ خان کے چہرے پر لالیاں بکھریں تھی—

“وہ—مم—یں نے – میں کیوں بتاؤں جب پہنوں گی تب دیکھ لینا—میں ابھی نہیں بتاؤں گی”—

“ہاں—مم—یں بھی”— حوریہ کے گڑبڑا کر جواب دینے پر پلوشہ نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے گہری نظروں سے پلوشہ خان کے گھبرائے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبایا تھا—

ضرغام خان کی غیر ارادی نظر حدائق شاہ پر پڑی اور اسے پلوشہ کو گھورتے دیکھ ٹیبل کے نیچے سے پاؤں حدائق شاہ کی ٹانگ پر مارا تو حدائق شاہ نے جبڑے بھنچتے ضرغام خان کو گھورا تھا

“کل کا میچ کس نے دیکھا تھا”—ابھی امتثال ان سے سوال کرتی اسی لیے صبغہ نے بات بدلنے کی لیے سرعت سے بولی تو وہ سب ایک دم سے ایکسائیٹڈ ہوتی اس کی جانب متوجہ ہوئی

“جو نیو کرکٹ ٹیم ہیں اس کے ہوتے کوئی بھلا میچ بھی مس کر سکتا ہے”— سلوی کے مسکرا کر کہنے پر ان سب نے اثبات میں سر ہلایا تھا—

“ہاں نا—— میرا تو میچ کے دوران سارا دیہان شاداب پر ہی تھا—ہائے اللہ کتنا ہینڈسم ہے نا وہ—اورکتنی کیوٹ حرکتیں کرتا ہے”— کھانے کی پلیٹ سائیڈ پر کرتے دونوں ہاتھ تھوڑی تلے ٹکائے—عقیدت کے مسکراتے ہوئے کہا تو ان سب نے سر اثبات میں ہلایا

“ہاں نا—کیوٹ تو ہے—مگر زیادہ کیوٹ نسیم شاہ ہے—یار وہ اتنا معصوم ہے اتنا معصوم ہے کیا بتاؤں—میرا تو پکا والا کرش آگیا ہے اس پہ”— دونوں ہاتھ گالوں پر ٹکائے ہونٹ باہر نکالتے سلوی شاہ نے کہا تو صبغہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے تھپکی دی

جبکہ سلوی اور عقیدت کے رشک بھرے تبصرے پر ضرغام اور ارمغان خان کے کھانا کھاتے ہاتھ رک چکے تھے—پٹھانی نقوش والے چہرے میں پل میں سرخیاں گھلی تھیں

جبکہ وہ سب اپنے سر کے سائیوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی—ان کی موجودگی کو بھلائے کریکٹرز کی شان میں قصیدے پڑھنے میں مصروف تھی

جبکہ ضرغام خان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے حدائق شاہ نے طنزیہ نظروں سے دیکھتے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی—مگر ٹیبل پر گونجتی پلوشہ کی آواز سنتے حدائق شاہ کی مسکراہٹ پل میں سمٹی تھی—

“مم—مجھے وہ فاسٹ بالر بہت پسند ہے—جو پٹھان بھی ہے—ہممم—ہاں شاہین آفریدی—وہ مجھے کیوٹ بھی لگتا اور ہنڈسم بھی”— ہاتھ کی ہتھیلیوں کو آپس میں مسلتے شرمائے لہجے میں کہتی وہ حدائق شاہ کے تن بدن میں آگ لگا چکی تھی—

“ہنڈسم اور کیوٹ ہوگے وہ—مگر جو پرسنیلٹی محمد حسنین کی ہے نا—یار کیا بندہ ہے وہ— انسٹا پہ اس کی پوسٹ دیکھو—اتنا ہوٹ لگتا ہے نا—میں نے تو اس کی سٹوری پر کئی بھی ریپلائے بھی کیا—لیکن پھر این سینڈ کر دیا— اب تو میرا دل چاہتا اسے فیس ٹو فیس مل کر سیلفی بھی لوں اور آٹو گراف بھی—اور اسے بتاؤں کی یہ لڑکی جسے میچ کے نام سے نفرت تھی—تماہری خاطر میچ کی محبت میں پڑ گئی ہے”— صبغہ شاہ کے ماتھے پر کلائی کی پشت رکھ کر دہائی دینے پر ان سب کے قہقہے گونجے تھے—

“ہاں نا—میں نے بھی یہی کیا ہے—- لیکن حسنین کو نہیں—حارث رؤوف کو—یار اس بندے کی بھی اپنی کلاس ہے—جتنی بار دیکھ لو اتنی بار دل اجاتا ہے”— امتثال خان کے شوخ لہجے پر بہرام شاہ کے چہرے کی مسکراہٹ پل میں سمٹی تھی— چہرے پر چٹانوں سی سختی لیے سر اٹھاتے—ہاتھ میں تھامے فارک پر گرفت سخت کرتے—سپاٹ نظروں سے امتثال خان کو دیکھا تھا

جبکہ حوریہ کے ساتھ بیٹھے عائث خان کو پورا یقین تھا کہ اس کی بیوی کا کوئ کرش نہیں ہو سکتا—وہ اس کے علاؤہ کسی کو پسند نہیں کر سکتی—لیکن عائث خان کے ارمانوں پر حوریہ کی خوبصورت آواز میں کی گئی تعریف نے ٹھنڈا یخ پانی پھینکا تھا—

“مم—مجھے رضوان پسند ہے—آئی لو ہم—وہ بہت کیوٹ—انوسنٹ ہے بالکل میرے جیسا—وہ کتنا نیک بھی ہے نا—نماز بھی پڑھتا ہے اور میچ کے دوران مسلسل دعا کر رہا ہوتا ہے”— نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے کچلتے— مدھم لہجے میں کہا تو ان سب نے اثبات میں سر ہلایا

“کرکٹ تو مجھے بھی اتنی پسند نہیں تھی—مگر اس بار بابر اور اس کی ٹیم پر اس طرح دل آیا کہ کرکٹ سے محبت ہوگئی ہے”—جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے عقیدت نے کہا تو ان سب نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا

“اور پتہ ہے کیا”—صبغہ آگے کو جھکتی ابھی بات مکمل کرتی کے ان سب کے صبر کا پیمانہ پل میں لبریز ہوا تھا

“اووو جسٹ شیٹ اپ— منہ بند کرو تم سب اپنا”— ہاتھ میں تھامے چمچ کو پلیٹوں میں پٹکتے وہ سب ایک ساتھ دھارے تو وہ سب دہل کر دل پر ہاتھ رکھتی آنکھیں پھاڑے ان سب کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگی

مگر اپنی باتیں یاد آئیں کے کیسے وہ ان سرپھرے شاہوں اور خانوں کی موجودگی کو نظر انداز کیے غیر مردوں کی شان میں قصیدے پڑھنے میں مصروف تھی

جانتی بھی تھی کہ کس قدر شدت پسند ہیں وہ لوگ—ان سب کے چہرے کے خونخوار تاثرات دیکھتے ان سب لڑکیوں نے اپنے خشک پڑتے ہونٹوں کو زبان سے تر کیا تھا—

غصے کی زیادتی سے پھولی تیز سانسیں—ماتھے اور گردن کی تنی رگیں اور نیکی آنکھوں میں اترے خون کو دیکھ عقیدت نے بری طرح اپنا لب کچلتے ضرغام خان جانب دیکھا تھا—جس پر وہ عقیدت کو گھورتا جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتا کرسی کو پیچھے دھکیلتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا—

حدائق شاہ کو خود کی جانب کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے دیکھ پلوشہ نے عقیدت کے پیچھے چھپنا چاہا تھا—

جس پر عقیدت نے پلوشہ کا ہاتھ تھامتے—حدائق شاہ کو گھور کر دیکھا تھا—جو عقیدت کے گھور کر دیکھنے پر جبڑے بھنچتا جھٹکے سے اٹھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا—

حدائق شاہ کے نکلتے ہی بہرام شاہ نے ایک شکوہ کناہ غصے بھری نگاہ امتثال کے جھکے سر پر ڈالتے کار کی چابیاں اٹھاتے باہر کی جانب قدم بڑھائے تھے

بالآج شاہ کو اپنی جانب خونخوار نظروں سے گھورتے دیکھ صبغہ نے سلوی کا ہاتھ تھامتے جھٹکے سے اٹھ کر بہرام شاہ کے پیچھے دوڑ لگائی تھی—جس پر بالآج شاہ نے مٹھیاں بھنچتے اپنے اشتعال پر قابو پایا تھا—

سلوی کو جاتے دیکھ ارمغان خان جھٹکے سے اٹھا تو پلوشہ اور امتثال بھی اٹھتی اس کے پیچھے ہوئیں تھیں

عقیدت نے گہری سانس بھرتے ایک نظر عائث اور حوریہ کو دیکھتے ہمت مجتمع کرتے اٹھ کر قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے—

سر جھکائے بیٹھی حوریہ کو سخت نظروں سے گھورتے— عائث خان نے اس کا ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتے جھٹکے سے کرسی سے اٹھاتے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے—

جبکہ صبغہ شاہ کی باتیں سوچتے بالآج شاہ نے جھٹکے سے اٹھاتے—پیچھے پڑی کرسی کو اٹھا کر پوری شدت سے ٹیبل پر مارا تھا—

____________

پورے خاندان میں میری معصومیت اور کیوٹنس کے چرچے ہیں——اپنے منگیتر کے ہوتے وہ کسی اور کو پسند بھی کیسے کر سکتی ہے”— ارمغان خان کے چلا کر کہنے پر امتثال اور پلوشہ نے رونی شکلیں بنا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا—

“بہرام مجھے چھوڑیں گے نہیں”—

“اور حدائق مجھے سیدھا گولی ماریں گے”—امتثال کے کہنے پر پلوشہ نے نم لہجے میں کہا تو امتثال نے بری طرح لب کچلتے اپنے موبائل سے بہرام شاہ کو میسج ٹائپ کرنا شروع کیا جبکہ ارمغان خان کے غصے میں چلانے پر ان دونوں نے سلوی شاہ کی معصوم جان کے لیے دعا کی تھی

_________

“لالا پلیز آہستہ گاڑی چلائیں”— بہرام شاہ کو جہاز کی سپیڈ سے گاڑی چلاتے دیکھ پیچھے بیٹھی سلوی اور صبغہ نے چیخ کر کہا تو بہرام شاہ نے سخت نظروں سے انہیں گھورا تھا

“وہاں یہ قینچی کی طرح چلتی زبان بھی آہستہ چلانی تھی نا—— اگر تم لوگوں کو کرکٹرز پسند تھے تو پلوشہ اور امتثال کے سامنے ان کے گن گانے کی کیا ضرورت تھی”— بہرام شاہ کے جلے بھنے لہجے پر ان دونوں نے بامشکل اپنی ہنسی ضبط کی تھی—

مگر بالاج اور ارمغان خان کے غصے کو سوچتے بے ساختہ جھرجھری لیتی وہ سر سیٹ کی پشت سے ٹکا گئی تھی

“کیا ہم ڈاکٹر نیک نہیں ہوتے—ہم تو جانیں بچاتے ہیں—نمازیں قرآن تو میں بھی پڑھتا ہوں— مگر وہ اس سب کے باجود—مگر ان سب کو ہماری خوبیاں نظر نہیں اتی—شوہر کی بجائے کسی اور کی تعریف کر رہی تھی—ہاؤ ڈئیر شی”— دبے دبے لہجے میں چلا کر کہتے اپنا موبائل سامنے ڈیش بورڈ پر پھینکا تو سلوی نے دہل کر اپنے کبھی غصہ نا کرنے والا بھائی کو دیکھا تھا

اگر حدائق شاہ کا یہ حال تھا تو ارمغان خان کا غصہ کس حد تک ہوگا

ارمغان خان کا سرخ پڑتا چہرہ آنکھوں کے پردے پر لہرایا تو سلوی نے بری طرح لب کچلے تھے—

_________

ضرغام خان کو اندھا دھند گاڑی چلاتے دیکھ عقیدت نے چور نظروں سے اسے دیکھا تھا

ضرغام خان کے ماتھے اور گردن کی تنی رگیں دیکھ خشک پڑتے حلق کو تر کرتے—بری طرح ہتھیلیاں مسلی تھی—

آنکھیں میچتے—اپنے دائیں کپکپاتے ہاتھ کو ضرغام خان کی جانب بڑھاتے ضرغام خان کے تھائے پر رکھا— مگر ضرغام خان کو کوئی ردعمل ظاہر نا کرتے دیکھ عقیدت نے گہری سانس بھری تھی

“ضض-ضرغام”—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے—مدھم لہجے میں پکارا—مگر ضرغام خان کی جانب سے ہنوز خاموشی اور سرد تاثرات دیکھ اپنا ہاتھ ہٹانا چاہا تو ضرغام خان نے اپنے تھائی پر رکھے عقیدت کے ہاتھ کو اپنی سخت گرفت میں لیا تھا

“چپ—ایک لفظ نہیں عقیدت—ورنہ میں سارے لحاظ بلائے طاق رکھ کر—یہاں اور اسی وقت تمہارے ہوش ٹھکانے لگا دوں گا—اس وقت جو میرے اندر آگ لگی ہوئی ہے—میں نہیں چاہتا کہ اس کی لپیٹ میں تمہارا نازک وجود آئے—تو بہتر ہے تم خاموش ہی رہو”— سرد نظروں سے دیکھتے سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت نے گھبرا کر سرعت سے سر اثبات میں ہلایا تھا—

عقیدت کے ہاتھ کو اپنی سخت گرفت میں تھامے تھائے سے ہٹا کر سینے پر دل کے مقام پر رکھتے رب کیا تو عقیدت کو اپنے وجود میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئی تھیں

عقیدت کے ہاتھ کو تھامے ٹھنڈی یخ پڑتی ہتھیلی کو اپنے ماتھے اور گردن پر پھیرتے وہ عقیدت کی جان لبوں پر لے آیا تھا—

ضرغام خان کے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں عقیدت کا ہاتھ بری طرح لرزا تھا—جسے مکمل طور پر ضرغام خان نظر انداز کرتا اپنے ماتھے اور گردن کی تنی رگوں پر پھیرنے میں مصروف تھا—

جبکہ ضرغام خان کے اس عمل پر عقیدت کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا—

تبھی عقیدت کے ہاتھ کو چھوڑتے اپنا بایاں بازو عقیدت کی کمر کے گرد لپٹتے ضرغام خان اسے جھٹکے سے اپنے تھائے پر بٹھاتا خود میں بھنچ چکا تھا—

ضرغام خان کی سخت گرفت اور چہرے کے سپاٹ تاثرات دیکھتے عقیدت نے مزاحمت نا کرتے اپنے دونوں ہاتھ ضرغام خان کی گردن کے گرد حائل کرتے چہرہ ضرغام خان کی گردن میں چھپا لیا تھا—

__________

“ع-عائث میرا مطلب وہ نہیں تھا—وہ تو بس ایز آ کرش”— عائث خان کو ریش ڈرائیونگ کرتے دیکھ مدھم لہجے میں کہا تو عائث خان نے کھا جانے والی نظروں سے حوریہ کو گھورا تھا

“شادی گئی بھاڑ میں—آج رات تم مجھے میری بیوی کے روپ میں چاہئے ہو حوریہ عائث خان— آج تمہیں میں ایک نیک شوہر بن کے دکھاؤں گا—نیک لوگ بہت پسند ہے نا—تو نیک تو انسان حقوق و فرائض کی ادائیگی کر کہ ہی بنتا ہے—تو آج ان حقوق و فرائض کی ادائیگی کے لیے تیار رہنا—اگر آج تمہاری یہ چونچ چوں چراں کرنے کے لیے کھلی تو ہمیشہ کے لیے بند کردوں گا”— دبے ڈبے لہجے میں غرا کر کہتے وہ حوریہ کی جان ہوا کر چکا تھا—

عائث خان کی باتوں کے پس منظر کو سمجھتے حوریہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا

____________

“پرسنیلٹی—کلاس مائے فٹ—ہمت بھی کیسے ہوئی صبغہ شاہ تمہاری کے اپنے شوہر کے سامنے—مطلب بالآج شاہ کے سامنے تم کسی غیر مرد کی شان میں قصیدے پڑھو”— اسٹیرنگ پر مکے برساتے غرا کر کہتے جبڑے بھنچے

“ویٹ—واٹ—میرے سامنے کیا میری پیٹھ پیچھے بھی— تمہیں اس بات کی اجازت نہیں کہ تم میرے علاوہ کسی اور کو سوچو بھی دیکھنا تو بہت دور کی بات”— دانت پیس کر بڑبڑاتے موبائل نکال کر صبغہ شاہ کا نمبر ڈائل کیا تھا

مگر آگے سے صبغہ کے فون کے بند جانے پر پوری شدت سے موبائل ڈیش بورڈ پر پھینکا تھا—

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *