Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 28)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 28)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
مٹی کے بنے کچے چھوٹے سے گھر کے لکڑی کے دروازے کو کھولتے وہ دونوں اندر داخل ہوئے تو نظریں مٹی کے چھوٹے سے صحن سے ہوتی—صحن میں ہی دائیں جانب بنے کھلے باورچی خانے سے ہوتی سامنے دو کمروں پر گئی تو عقیدت نے گردن ترچھی کر کہ بالاج شاہ کو دیکھا جو شان بے نیازی سے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں اڑسے—کھلے آسمان کو دیکھنے میں مصروف تھا جیسے اس سے ضروری تو کوئی کام نہیں
آج وہ دونوں سب سے دائی کے گھر آئے تھے— کیونکہ آج مقدس بیگم شہر شادی کی شاپنگ کے لیے گئیں تھی—اگر وہ ان کے ہوتے دائی سے ملنے آتے تو انہیں ضرور شک ہو جانا تھا—
“تم نہیں چلو گے اندر”—عقیدت کے پوچھنے پر بالاج شاہ نے اپنی گہری سیاہ آنکھوں کو کوفت سے گھماتے عقیدت کو دیکھا—
جینز کے ساتھ لائٹ گرین کلر کی شرٹ پہنے— سیاہ گھنے بالوں کو رفلی ماتھے پر بکیھرے— عنابی ہونٹوں کو سختی سے آپس میں پیوست کیے— چہرے پر بلا کی سنجیدگی طاری کیے—وہ سچ میں کسی ریاست کا مغرور شہزادہ ہی معلوم ہو رہا تھا—جس کی تیکھی مغرور ناک پر غصہ ہمہ وقت سجا رہتا تھا
“سوری میں اندر نہیں جا رہا—کیونکہ اندر موجود ہستی صررف بزرگ نہیں—اپنے زمانے میں ناگن ڈرامے کی سومترا کا رول ادا کر چکی ہیں—وہ اپنے عظیم و الشان کارنامے بتائیں گی تو مجھے غصہ آئیں گا—اور جب مجھے غصہ آتا ہے تب میرا دماغ آؤٹ ہوجاتا ہے—اور جب میرا دماغ آؤٹ ہوتا ہے تو تب میری پسٹل چلتی ہے— اور جب میری پسٹل چلتی ہے تب بندہ دنیا سے گیٹ آؤٹ ہو جاتا ہے—اور اگر اندر میں اپنی پسٹل پر قابو پا بھی لوں تو اپنی زبان کی گارنٹی نہیں دیتا—میں کچھ بولو گا تو وہ بتمیزی کے زمرے میں آئیں گا پھر تم مجھے باشن دو گی—لالا کو میری شکایت لگاؤ گی— اور فالتو کی چک چک سننے کے لیے وقت نہیں ہے میرے پاس—اسی لیے یہ زحمت آپ میڈم خود ہی کر لیں”— ایک ہی سانس میں روانی میں کہتا وہ عقیدت کا دماغ گھما چکا تھا—
“مجھے پتہ نہیں تھا کہ تم انڈین ڈرامے بھی دیکھتے ہو”—خود پر ضبط کرتے دانت کچکچا کر کہا تو بالآج شاہ نے شانِ بے نیازی سے کندھے اچکائے
“ڈرامے نہیں دیکھتا—بس ناگنوں کے بارے میں انفو رکھتا ہوں—کیا پتہ کبھی کسی سے واسطہ پر جائے تو بندے کو ڈیل کرنا آنا چاہیے”— آبرو آچکا کر کہتا وہ اردگرد نگاہ دوڑاتا صحن میں پڑی چارپائی پر جا بیٹھا تو عقیدت نے گھور کر بالآج شاہ کو دیکھا—
“میری دعا ہے بہت جلد تمہارا کسی ناگن سا واسطہ پڑے”— بالاج شاہ کے چہرے پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ دیکھتے کہا تو بالآج شاہ نے گھور کر عقیدت شاہ کو دیکھا—
“صرف واسطہ— وہ ناگن تو زبردستی گلے کا ہار اور زندگی بھر کا عذاب بن گئی ہے”— عقیدت شاہ کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ بڑبڑا کر کہتے سر جھٹکتے جوتے سمیت چارپائی پر لیٹتے آنکھیں موندیں تو تصور کے پردے پر صبغہ شاہ کی روتی ہوئی شہد رنگ آنکھیں دیکھ بالآج شاہ جھٹکے سے اٹھا تھا—
دونوں ہاتھ چارپائی کی پائنتی پر رکھتے سر دائیں بائیں نفی میں ہلاتے جیب میں ہاتھ ڈالتے اپنا موبائل نکالا
____________
“جب مقدس بیگم نے آپ کو یہ سب کرنے کو کہا تھا تو آپ کو ماما جی کو یہ بات بتانی چاہیے تھی—یہ بات کیوں ان سے کیوں چھپائی بتایا کیوں نہیں”— اپنے سامنے بستر پر لیٹی دائی کو دیکھتے سخت لہجے میں کہا تو انہوں نے اپنے جھریوں زدہ ہاتھوں کو جوڑتے لاغر سے وجود کو حرکت دیتے اٹھنا چاہا
“ہہ-ہم مجبور تت—تھے—مقدس بیگم کے بب—بھائی نے دھمکی دی تھی کہ وہ میری بہو کو شہر بیچ آئیں گا— میرا بیٹا ان کی قید میں تھا—میں اپنے بیٹے اور بہو کو نہیں کھونا چاہتی تھی”— نم کپکپاتے لہجے میں کہتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو عقیدت شاہ نے گہری سانس بھرتے آگے ہوتے اپنا ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا
“بادام گل کے بارے میں آپ کو کیسے پتہ چلا—وہ جھوٹ بھی تو بول سکتا تھا نا”— عقیدت کے سوال پر انہوں نے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا
“شیر خان کے حویلی سے جانے کے بعد بادام گل حویلی آتا تھا—اور تب ہم حویلی میں ہی رہتے تھے—تو کئی بار اپنے کانوں سے ہم نے مقدس بیگم اور بادام گل کی باتیں سنی تھی—جس میں وہ شہر کوٹھے پر لڑکیاں پہنچانے کی بات کرتا تھا”— دائی کے کہنے پر عقیدت نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“لیکن وہ سب تو ٹھیک ہے—باقی سب سے نفرت کرنے کی وجہ سمجھ آتی ہے—لیکن وہ اپنے ہی بیٹے سے کیوں نفرت کرتی ہیں—ضرغام تو ان کا خون ہے اکلوتا بیٹا پھر کیوں”— ایک بات جو وہ آج تک سمجھ نہیں پائی تھی—یہ سوال ہمیشہ بے چین رکھتا تھا کہ وہ عورت اس کے شوہر سے کیوں نفرت کرتی ہے حالانکہ ضرغام خان جان چھڑکتا ہے اپنی ماں پر
“نفرت- ہہہ—مقدس بیگم شیر خان کو پسند نہیں کرتی تھی—اپنے بھائی کے کہنے پر شادی کی— بادام گل نے انہیں کیسے راضی کیا ہم نہیں جانتے—لیکن یہ ضرور جانتے ہیں کہ یہ شادی صرف دولت کے لیے کی تھی مقدس بیگم نے—شادی کے بعد شیر خان نے ایک چاہنے والے شوہر کی طرح مقدس بیگم کے ناز نکھرے اٹھائے— مگر وہ ہمیشہ ان سے التائی رہتی—وہ کئی بار لڑائی جھگڑوں میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کر چکی تھی— عورت جس انسان سے نفرت کرتی ہے پھر اس سے جڑی ہر شے اس کے لیے قابل نفرت ہو جاتی ہے پھر چاہے وہ اپنا وجود ہو یا آپنے وجود کا حصہ—ضرغام خان تو تھا ہی شیر خان کی پرچھائی”—- کانوں میں دائی کے الفاظ گونجے تو عقیدت نے تھک کر سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا—
کتنی سفاک تھی وہ عورت—وہ عورت یا ماں کے درجے سے ہی نہیں گری تھی وہ انسانیت کے درجے سے بھی گر چکی تھی
دائی سے ملنے کے بعد وہ بالآج شاہ کے ساتھ خان حویلی کی جانب نکلی تھی—
کیونکہ آج عقیدت شاہ کا پاگل خان اسے اپنے لیے پور پور سجنے کا حکم صادر کر کہ گیا تھا— ضرغام خان کی لو دیتی بے باک نظریں یاد کرتے دل بے ساختہ دھڑکا تھا—ضرغام خان کی معنی خیز سرگوشیاں کانوں میں گونجی تو پل میں چہرے پر گلال بکھرا تھا—
___________
“تمہیں نہیں پتہ کتنا مشکل ہے میرے لیے حویلی سے نکلنا—اس عائث کمبخت نے حویلی کی سیکیورٹی بڑھا دی ہے—اس کا کہنا ہے کہ ضرغام کے بہت سے مخالف ہے وہ نہیں چاہتا شادی میں کوئی مسئلہ کھڑا ہو—حویلی کے ساتھ ساتھ اس نے حویلی والوں کے گارڈز بھی بدل دیے ہیں”— مقدس بیگم نے مال میں اردگرد نگاہ دوڑاتے ہوئے کہا تو بادام گل نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی
“کتنے سال—کتنے سالوں سے تڑپ رہا ہوں اپنے گاؤں میں کھل کر جینے کے لیے—ہر طرح کی فکر و پریشانی سے آزاد ہو کر اس حویلی پر راج کرنے کے لیے—مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے”— بادام گل کے زہر خند لہجے پر مقدس بیگم نے ہنکارہ بھرا
“آج ضرغام عقیدت کو کہی لے جانے والا ہے—اپنے آدمیوں سے کہہ کر آج ہی دونوں کا کام تمام کروا دو—اگر آج یہ نا ہو سکا— تو شادی کے دن کو ماتم کے دن میں بدل دینا—میں اب مزید انہیں اپنی آنکھوں کے سامنے انہیں برداشت نہیں کر سکتی”—-
“آج نہیں—شادی کا دن خان اور شاہ کی بربادی کا دن ہو گا—ضرغام خان کا ایک ایسا دشمن ملا ہے جو ضرغام خان کے خاندان کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عزت کو بھی تار تار کر دے گا—سب مریں گے مگر ضرغام خان بچے گا اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی عزت کا تماشہ دیکھنے—ایک تیر سے دو نشانے لینے والا ہے بادام گل—جیسے ماضی میں لیے تھے”— مکروہ لہجے میں کہتے قہقہہ لگایا تو دشمن کے نام پر مقدس بیگم نے چونک کر بادام گل کو دیکھا—
“ہشتم سردار کی بات کر رہے ہو”— مقدس بیگم نے ناسمجھی سے پوچھا تو بادام گل نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
“نام کا ضرغام ہو اوپر سے خان ہو اور سردار بھی اسے دشمنوں کو کمی تھوڑی ہوگی— بس دیکھتی جاؤ ہوتا ہے کیا کیا—ماضی میں بھی ہم جیتے تھے—اب بھی ہم ہی جیتے گے”—- بادام گل کے پراسرار لہجے پر مقدس بیگم نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا اور اٹھے کر چہرے پر چادر کرتی اردگرد نگاہ دوڑاتی تیزی سے وہاں سے نکلی تھی—
جبکہ مقدس بیگم کو جاتا دیکھ بادام گل بھی خاموشی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا
__________
وہ جیپ لے کر ابھی حویلی سے نکلا ہی تھا کہ سامنے سے آتے شاہ حویلی کے ملازم کو دیکھ جیپ روک گیا
سن گلاسسز اتارتے چھلانگ لگانے والے انداز میں نیچے اترتا ملازم کو شہادت کی انگلی سے اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا
جس پر اس بچارے نے گردن ترچھی کر کہ خود سے بیس فٹ کے فاصلے پر حویلی کے گیٹ اور خود سے پانچ فٹ کے فاصلے پر کھڑے حویلی کے جن کو دیکھا— جو کسی بھی وقت کسی کو بھی چمٹنے کو تیار رہتا تھا
بامشکل مسکراتے مردہ قدموں سے وہ ارمغان خان کی جانب بڑھا
“اسلام و علیکم چھوٹے خان”— ماتھے کے قریب ہاتھ لے جاتے سلام کیا تو ارمغان خان نے جواب دیتے ہاتھ میں تھامے تھال جو کہ سرخ کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا
“یہ شادی کے کارڈ کے ڈیجیئین ہے جی—بڑی بی بی نے بھیجا ہے کہ امتثال بی بی سے ان کی پسند پوچھ لیں”— ملازم نے بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے ڈیزائن لفظ کو اپنی زبان میں ادا کرتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“اچھا—صحیح صحیح—اور کوئی حویلی سے کوئی خاص خبر—میرا مطلب شادی کی تیاریاں کیسی جا رہی”— تھال سے کپڑا ہٹاتے کارڈ دیکھتے تفسیشی لہجے میں استفسار کیا تو ملازم تو ارمغان خان کے اتنے نرم اور سادہ لہجے پر حیرت زدہ ہوتا آنکھیں پھاڑے ارمغان خان کو دیکھنے لگا
“جی خان جی بہت بڑھیا تیاریاں ہو رہیں—تین تین شادیاں نا تو بہت کام کرنے والے—کارڈ تو بڑی بی بی جی ایک پسند کر چکی تھی—لیکن وہ دوسرا کارڈ چھوٹی بی بی جی کی پسند کا چاہتی تھی”—-
“ایک منٹ ایک منٹ—تین تین شادیاں—کیا مطلب اس بات سے—شادیاں تو دو ہے نا بہرام لالا اور حدائق لالا کی— پھر تیسری شادی کس کی”—- ملازم کی بات پر چونکتے—ارمغان خان نے حیرت زدہ لہجے میں استفسار کیا تو ملازم نے ناسمجھی سے ارمغان خان کو دیکھا
“چھوٹے خان کیا آپ نہیں جانتے—بہرام لالا کی بہن کی بھی شادی ہے نا اسی دن—ان کے کارڈ کی بات کر رہا”— بتیسی کی نمائش کرتے ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتا کہ ارمغان خان نے بائیں ہاتھ سے تھال نیچے گراتے اسے قمیض کے کالر سے پکڑتے زمین سے اٹھایا تھا
“کیا بکواس کر رہے ہو—ایسے کیسے ہو سکتا ہے—تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئے مجھ سے ایسا گھٹیا مزاق کرنے کی”— زخمی شیر سا دھاڑتے وہ ملازم کی روح تک لرزا گیا تھا
“نن—ہیں چچ—چھوٹے خان یہ سس—سچ ہے—سلویٰ بی بی”—- ارمغان خان کے تیور دیکھتے کپکپاتے لہجہ میں کہنا چاہا تو ارمغان خان نے جھٹکے سے کالر چھوڑتے اس کی گردن دبوچی تھی
“بکواس بند کرو— اب اگر اس کا نام اپنی زبان پر لائے تو زبان کاٹ دوں گا—اور اگر یہ خبر جھوٹی ہوئی تو آج اپنا آخری دن سمجھنا—اور اگر غلطی سے بھی سچ ہوئی تو ارمغان خان تمہاری نسل صفہ ہستی سے مٹا دے گا”— غرا کر کہتے ملازم کو پیچھے کی جانب دھکا دیتے—وہ اپنی جیپ میں بیٹھتا اسے شاہ حویلی کی جانب موڑ چکا تھا—
___________
سلوی خان جلے پیر کی بلی کی مانند اپنے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی
ثمرین بیگم نے رشتے کے لیے ہاں بولنے کا بتایا تھا— جس پر سلوی کا ارادہ تھا کہ وہ بہرام کو اس رشتے کے لیے انکار کر دے گی—وہ بہرام شاہ کو ارمغان خان کے بارے میں بتانے کا ارادہ رکھتی تھی—مگر آج صبح اٹھتےہی شادی کی خبر کسی پہاڑ کی طرح ٹوٹی تھی اس پر—ثمرین بیگم سے وہ اتنی جلدی شادی اور اس سے پوچھے بنا تاریخ رکھ دینے پر وہ بات کرنے گئی تو اسے معلوم ہوا کہ یہ فیصلہ بہرام شاہ کا ہے جس پر وہ بنا کوئی بات کیے اپنے کمرے میں آگئی تھی
اور اب وہ بہرام شاہ کے حویلی آنے کا انتظار کر رہی تھی— دل ارمغان خان کا ردعمل سوچ سوچ کر سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا
خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتی بیڈ سے اپنا دوپٹہ اٹھاتی وہ اپنے کمرے سے باہر نکلتی نیچے لاونج کی جانب بڑھی۔
_______
وہ شاہ حویلی کے پاس پہنچا تو ایک کار کو حویلی سے باہر جاتے دیکھ جیپ وہی روک دی
ابھی گارڈز گیٹ بند کرتے کنڈی لگاتے—کہ ارمغان خان نے آگے بڑھتے پاؤں کی ٹھوکر سے گیٹ کو کھولا تو گارڈ لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے گرا
اپنے سامنے ارمغان خان کو دیکھتے—وہ بے ساختہ آٹھ کر چند قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوا تھا
ارمغان خان کی خون چھلکاتی آنکھیں دیکھ گارڈ نے اسے نا چھیڑنے میں ہی اپنی افیت جانی
جبکہ ارمغان خان ایک قہر بھری نظر اس پر ڈالتا لمبے لمبے ڈنگ بھرتا آگے بڑھا تو ملازم نے سینے پر ہاتھ رکھتے گہری سانس لی
پہلے کی بات ہوتی تو وہ ارمغان خان کی اس حرکت پر ضرور کوئی ردعمل ظاہر کرتے—چاہے اس کے نیتجے میں ان کی ہڈیوں کا سرمہ بن جاتا
مگر اب سب ملازم کیا گاؤں والے جانتے تھے کہ شاہ اور خان ایک بار پھر سے ساتھ ہو گئے ہیں—اسی وجہ سے وہ ارمغان خان کے اندر جانے پر خاموشی سے گیٹ بند کرتا اپنی جیب سے فون نکالتا بہرام شاہ کو ارمغان خان کی آمد کے بارے میں بتانے لگا—
_______
وہ آندھی طوفان بنا لاونج میں داخل ہوا تھا—تبھی نظریں سامنے سے سیڑھیاں اترتی سلوی شاہ پر گئیں تو ارمغان خان کی آنکھوں میں پل میں خون اترا تھا—
وہ جو ثمرین بیگم کی تلاش میں اردگرد نگاہ دوڑاتی نیچے اتر رہی تھی خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتے سامنے دیکھا تو دھک سے رہ گئی
جس کے بارے میں سوچتے جان ہلکان ہو رہی تھی— وہ شخص تو شاید جان لینے کے لیے پہنچ بھی گیا تھا
ارمغان خان کے چہرے پر چٹانوں سی سختی—ماتھے اور گردن کی پھولی ہوئی رگیں اور خون چھلکاتی آنکھیں دیکھ سلوی کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی
ارمغان خان کے غصے سے بچنے کی خاطر وہ جھٹکے سے پلٹتی اپنے کمرے میں جانے کی نیت سے اوپر بڑھنے لگی—مگر ابھی وہ دو قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ ارمغان خان چیل کی مانند سلوی شاہ کے سر پر پہنچا تھا—
سلوی کا بازو دبوچتے جھٹکے سے رخ اپنی جانب کرتے— بائیں ہاتھ سے گردن دبوچی تو سلوی کی جان لبوں پر آئی
“مجھے دھوکہ دینے کی تمہاری ہمت کیسے ہوئی— میری چھوٹی سی غلطی کا بدلہ لینے کے لیے اس حد تک گر جاؤ گی—اس طرح دھوکہ دے کر بدلہ لو گی”— سلوی شاہ کی شفاف گرے آنکھوں میں اپنی خون چھلکاتی ہیزل ہنی آنکھیں گاڑھتے غرا کر کہا تو سلوی شاہ نے بے ساختہ سر نفی میں ہلایا
“نن—ہیں ارمغان مم—یں نے دھوکہ نن—ہیں دیا یقین کرو— مم—یں خود ان—جان”—ارمغان خان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے لڑکھڑاتے لہجے میں کہنا چاہا تو ارمغان خان نے جھٹکے سے سلوی شاہ کے دونوں بازو اپنی سخت گرفت میں لیتے سلوی کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب تر کیا
“یہ دھوکہ نہیں تو کیا ہے—- کیسے مان لوں کہ تم سے پوچھے بنا تمہارے شادی کے دن رکھ دیے گئے— کیسے مان لوں”—- سلوی شاہ کے چہرے پر دھاڑتے ہوئے کہتے ہاتھ کا مکہ بناتے پیچھے ریلنگ پر مارا تو سلوی شاہ اپنی جگہ اچھل کر رہ گئی
“مم—یں سچ میں نن—ہیں جانتی یہ بب-بہرام لالا کا فیصلہ”— سہمی نظروں سے ارمغان خان کے سرخ پڑتے ہاتھ کو دیکھتے حلق تر کرتے منمنا کر کہنا چاہا تو ارمغان خان نے سختی سے جبڑے بھنچے—جس کے باعث کنٹپی کی رگیں تن کر واضح ہونے لگی— پٹھانی نقوش والا چہرہ غصے کی زیادتی سے اس قدر سرخ ہو رہا تھا کہ جیسے ابھی خون چھلک پڑیں گآ
“بہرام شاہ کا فیصلہ—بہرام شاہ جیسا اصول پرست بندہ—لوگوں کو ان کے حقوق دلانے والا اپنی بہن سے پوچھے بنا کیسے اس کی شادی رکھ سکتا ہے—جھوٹ وہ بولو سلوی شاہ جس پر میں یقین بھی کر لوں— لیکن جھوٹ ہے تو جھوٹ ہی صحیح—مگر ایک بات میں بھی تمہیں بتا دوں—اگر تم ارمغان خان کی نہیں تو پھر کسی کی بھی نہیں—دھوکہ دیا ہے نا سود سمیت بدلہ لوں گا—شادی نا روک سکا تو اس پسٹل کی آدھی گولیاں تمہارے دماغ میں اتاروں گا اور باقی کی اپنے اس کمبخت دل میں جو تمہیں دیکھ کر دھڑکنا شروع ہوا اور پھر ہر دھڑکن تمہارے نام کرتا چلا گیا— تمہیں تمہاری بے وفائی کے لیے ماروں گا اور اپنے اس دل کو تمہاری جیسی دھوکے باز کے لیے مجھ سے دغا کرنے کے لیے—اور اگر شادی روک کر تمہیں اپنے نام کر لیا تو موت سے بھی بد تر انجام ہوگا—کیونکہ خان محبوب کو اپنا خون تو معاف کرسکتا ہے بے وفائی نہیں”— اپنی کمر پر بندھے بیلٹ سے پسٹل نکالتے سلوی شاہ کے ماتھے پر رکھتے سرد ٹھٹھرا دینے لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہتے—وہ سلوی شاہ کی گرے ساکت آنکھوں میں غصے سے دیکھتا– سلوی کو جھٹکے سے چھوڑتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا—
جبکہ سلوی شاہ پتھرائی آنکھوں کو سامنے دیوار پر ٹکائے وہی بیٹھتی چلی گئی
“جب میں اندر جا رہا تھا تو بتایا کیوں نہیں کہ بہرام لالا گھر نہیں –پتہ ہے کتنا وقت ضائع ہو گیا ہے تمہاری وجہ سے”— باہر آتے گارڈ کو دیکھتے سخت لہجے میں کہا تو وہ بچارا ہڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھا تھا—
“چھوٹے خان جی—وہ آپ غصے میں تھے تو بس اسی لیے”— کندھے پر لٹکتی بندوق کو ٹھیک کرتے منمنا کر کہا تو ارمغان خان نے سخت نظروں سے اسے گھورا
“بکواس بند کرو— سب کے سب کام چور ہو—بہرام لالا آئیں تو بتانا کہ ارمغان خان کام سے سلسلے میں آیا تھا”+– ملازم کو سرد لہجے میں کہتا وہ حویلی سے نکلا تھا
وہ جانتا تھا کہ اپنے غصے میں وہ اس طرح حویلی میں داخل تو ہوگیا تھا—مگر اب بہرام کے ملازم اسے ضرور بتائیں گے—اور ان کے بتانے پر بہرام اس سے سوال بھی کریں گا—تو اس سے اچھا تھا کہ وہ خود اپنے آنے کی اطلاع دیتا جائے
تاکہ بہرام کو کسی طرح کا شک نا ہو
__________
جیپ کو ڈیرے کے صحن میں کھڑی کرتا وہ چھلانگ لگا کر نیچے اترا تھا—
ضرغام خان کی گاڑی وہاں کھڑے دیکھ—آنکھوں سے سن گلاسز اتارتے بازو کی آستین سے اپنے آنسو صاف کرتا ہونٹوں پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائے وہ اندرونی حصے کی جانب بڑھا تھا
ضرغام خان ڈیرے کا کام جلدی سے سمیٹ کر جلد اذ جلد حویلی پہنچنے کی نیت سے باہر نکل رہا تھا کہ سامنے سے آتے ارمغان خان کو دیکھتا مسکرا کر اس کی جانب بڑھا
“ارے واہ ماشاءاللہ— آج یہ چاند کہاں سے نکل آیا”—- ارمغان خان کی جانب قدم بڑھاتے بشاش لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے مسکرا کر ضرغام خان کو دیکھا
ارمغان خان ڈیرے بہت کم ہی آتا تھا—کیونکہ وہ جب بھی آتا داجی نے اس کے لیے کوئی نا کوئی کام تیار کر رکھا ہوتا تھا—اسی لیے اس کی کوشش ہوتی تھی وہ تب ہی آئے جب ضرغام یا عائث ڈیڑے پر موجود ہو کیونکہ ان کے ہوتے چھوٹے خان کو کام کہنے کی کسی میں مجال نا تھی
“بس ایسے ہی—آپ سے ملنے کا دل کر رہا تھا تو سوچا مل آؤ”—نظریں اطراف میں گھماتے نرم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے چونک کر ارمغان خان کے چہرے کو دیکھا جہاں مسکراہٹ تو تھی مگر ہمیشہ والی شوخی نہیں تھی—
آگے بڑھتے ارمغان خان کی آنکھوں سے گلاسسز اتارے جو وہ اندر آتا ہوا دوبارا سے لگا چکا تھا—
ضرغام خان کے گلاسسز اتارنے پر ارمغان خان نے ہڑبڑا کر ضرغام خان کو دیکھا تھا جو اب سخت نظروں سے ارمغان خان کو دیکھ رہا تھا
“تم روئے ہو چھوٹے خان—ادھر کرو چہرہ اپنا—اور بتاؤ مجھے کیوں رو کر آئیں ہو—تمہاری آنکھوں میں آنسو تو مجھے اپنی میت پر قبول نہیں تو پھر”—- ارمغان خان کا چہرہ اپنے دائیں ہاتھ میں تھامتے اپنی طرف کرتے سخت لہجے میں کہا جبکہ ارمغان خان کی ہیزل ہنی آنکھوں کے سوجھے ہوئے پپوٹے اور نم پلکیں دیکھ ضرغام خان کو ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے دل کو پاؤں تلے کچل دیا ہو
“اللہ نا کریں—کیسی باتیں کر رہے ہیں لالا—وہ تو بس ایسے ہی”— ضرغام خان کی بات پر تڑپ کر کہتے— انگلیوں کے پوروں سے آنکھیں صاف کی تو ضرغام خان نے سختی سے مٹھیاں بھنچتے ارمغان خان کے چہرے کی زخمی مسکراہٹ دیکھی
“اس سے پہلے میں قیامت برپا نا کر دوں یہ جاننے کے لیے کہ میرا چھوٹا خان کس وجہ سے رویا ہے—تم مجھے خود”— جبڑے بھنچتے سرد و سپاٹ لہجے میں ضرغام خان ابھی اپنی بات مکمل کرتا کہ ارمغان خان کسی چھوٹے بچے کی مانند ضرغام خان کے سینے سے لپٹتا اپنے دونوں بازو ضرغام خان کے کندھوں کے گرد پشت پر باندھ گیا
سسک کر روتا وہ ضرغام خان کی جان لبوں پر لے آیا تھا—
“لالا— مم—یں مر جج-اؤ گا میں سارے رس-تے سوچ-تا آیا کہ وہ مم-ری نا ہوئی تو اس-ے کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گا—مگر سچ تو یہ ہے کہ اسے جان سے مارنے کا سوچتا ہوں تو اپنی جج—ان نن-کلتی محسوس ہوئی مجھے—وہ میری محبت ہے لالا—صرف میری—مجھے سلوی شاہ چاہئے ہر قیمت پر—چاہے وہ قیمت میری جان ہی کیوں نا ہو—اسے مم—میرے نام کر دیں لالا—میں نہیں جی سکتا اس کے بغیر”— ضرغام خان کے کندھے پر سر ٹکائے ہچکیوں سے روتا وہ ضرغام خان کی جان پر بنا گیا تھا
“ہششش—چپ—ایک دم چپ—بتا دیا نا اپنے لالا کو—اب وہی ہوگا جو تم چاہو گے—سلوی شاہ تمہاری ہی بنے گی—اس پر چھوٹے خان کے علاؤہ کسی کا حق نہیں ہو سکتا— سن رہے ہو نا کیا کہہ رہا ہوں میں— سلوی تمہاری ہی ہے—اب ایک آنسو اگر تم نے اس کی وجہ سے بہایا تو یاد رکھنا میں اس کی جان لے لوں گا جس کی وجہ سے میرے چھوٹے خان کی آنکھوں سے مزید ایک اور آنسو بہا بھی تو”—-ارمغان خان کی پیٹھ سہلاتے بالوں میں ہاتھ پھیرتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے ہنوز چہرہ ویسے ہی چھپائے سر اثبات میں ہلایا تو ضرغام خان نے سختی سے ارمغان خان کو خود میں بھنچ لیا تھا
ارمغان خان کو پلنگ پر بٹھاتے ملازم کو کھانا لانے کا حکم دیتے وہ واپس کمرے میں ایا تھا جہاں ارمغان خان نظریں زمین پر ٹکائے کسی گہری سوچ میں غرق تھا
جسے دیکھ ضرغام خان نے گہری سانس بھرتے جلد اذ جلد بہرام سے بات کرنے کا سوچا تھا—
“سو جاؤ ارمغان—تمہاری حالت دیکھ میں پہلے ہی بہت مشکل سے خود پر ضبط کیے بیٹھا ہوں— اب اگر تم نے آنکھیں بند نا کی تو میں ابھی اور اسی وقت شاہ حویلی سے سلوی شاہ کو غائب کروا کر تم سے نکاح پڑھوا دوں گا”—- شام میں ارمغان خان کو زبردستی اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلانے کے بعد وہی عشا کی نماز پڑھتے وہ ارمغان خان کے ساتھ ڈیڑے پر ہی بیٹھ گیا تھا—
وہ ارمغان کو اکیلے چھوڑ کر جانے کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا—ضرغام خان اچھے سے ارمغان کی جذباتی طبیعت سے واقف تھے—جذباتی پن میں تو سب ایک سے بڑھ کر ایک تھے اسی لیے ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جانتے تھے—اور ضرغام نہیں چاہتا تھا کہ وہ خود کو کوئی نقصان پہنچائے اسی لیے وہی دوسرے پلنگ پر وہ ارمغان خان کے قریب ہی لیٹ گیا تھا
اور اب رات کے بارہ بج رہے تھے—اور ارمغان خان کو چھت پر نظریں ٹکائے دیکھ ضرغام خان نے سخت لہجے میں کہا تو ارمغان خان کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ رینگ گئی
“پتہ لالا میں چھوٹے ہوتا سوچتا تھا کہ میرے بابا مجھے کیوں چھوڑ کر چلے گئے—ابھی تو میں نے ان سے بہت سی باتیں کرنی تھی—اپنے حصے کا پیار لینا تھا—اور بھی بہت کچھ—لیکن جب میں آپ کی اپنے لیے محبت اور اپنے دل میں آپ کے لیے محبت دیکھتا ہوں تو مجھے—لگتا ہے وہ اس لیے مجھے چھوڑ کر چلے گئے کہ اگر وہ ہوتے تو اپنے بیٹے کا خود سے زیادہ آپ سے پیار دیکھ ضرور جیلس ہوتے— وہ جیلس نا ہو اسی لیے اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا — مگر اب ہر گزرتا دن مجھے اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ باپ تو باپ ہوتا ہے اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا”—- ارمغان خان کے نم لہجے میں کی گئی بات پر ضرغام خان کی آنکھوں میں تکلیف دہ تاثرات ابھرے تھے—
کیا وہ اسے باپ کا پیار دینے میں ناکام ہوگیا تھا—کیا اس کی بے لوث محبت رائیگاں گئی تھی
“مگر جو شخص باپ سے بھر کر پیار دیں—آپ کے لیے بیک وقت ماں باپ—دوست ہمدرد رازدار بن جائے وہ شاید باپ کی جگہ تو نہیں مگر باپ سے بڑھ کر عزیز ضرور ہو جاتا ہے—اس کا مقام نظروں کے ساتھ ساتھ دل میں بھی اونچا ہو جاتا ہے—مجھے اپنے باپ سے بہت محبت ہے لالا—مگر مجھے آپ سے عشق ہے—باپ کے بغیر تو میں جی چکا ہوں— مگر آپ کے بغیر میں مر جاؤں گا لالا—آپ کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر سلامت رہنا چاہیے—میں اس دنیا کی گرم و سرد ہوا کو نہیں جھیل سکتا لالا—آپ کے بغیر آپ کا چھوٹا خان بہت کمزور ہے”— ضرغام خان کی گود میں سر چھپا کر سسکتے ہوئے کہتا وہ ضرغام خان کی آنکھیں بھی نم کر گیا تھا
جب کہ ارمغان خان کے ہونٹوں سے ادا ہوا ہر ایک لفظ ضرغام خان کو سرشار کر گیا تھا
ایک نظر اپنی گود میں سر رکھے سوئے ارمغان خان کو دیکھتے جیب سے فون نکال کر وقت دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے—
عقیدت کے بارے میں سوچتے دل بے ساختہ دھڑکا تھا
وہ ناراض ہو گی یا انتظار کر رہی ہوگی”— کئی سوچیں بیک وقت دماغ میں گردش کرنے لگی
لمحے کی تاخیر کیے بنا عقیدت کا نمبر ڈائل کیا جو سوئچ آف جا رہا تھا— نمبر بند جانے پر ضرغام خان کو ناراضگی کا اندازہ ہوگیا تھا—پریشانی سے پیشانی کو مسلتے—ہاتھ بڑھا کر سائیڈ پر پڑی اپنی اجرک ارمغان خان کے وجود پر اوڑھائی
جبکہ سر دیوار کی پشت سے ٹکاتے— ایک بار پھر عقیدت کا نمبر ڈائل کیا
“ایم سوری لکھ کر میسج سینڈ کرتے—گیلری میں موجود عقیدت کی تصویر نکالتے محبت سے اسے چھوا تھا—اب نیند آنا تو مشکل تھا تو ساری رات عقیدت شاہ کے خوبصورت چہرے کو آنکھوں کے رستے دل میں اتارتے گزری تھی—
___________
صبح دس بجے کہ قریب وہ ارمغان کو لیتا حویلی پہنچا تھا—ارمغان کو اس کے کمرے میں چھوڑتا تیز تیز قدم بڑھتا وہ اپنے کمرے میں پہنچا تھا—
جھٹکے سے دروازا کھولتے ضرغام خان جیسے ہی اندر داخل ہوا تو کمرے کی خاموشی نے اس کا استقبال کیا تھا
کمرے کے دروازے سے لے کر کمرے کے چاروں کونوں تک گلاب کی پتیاں قالین کی مانند بچھی ہوئی تھی— بیڈ پر ٹی پنک سلک کی شیٹ پر گلاب کی پتیوں سے لکھے “پاگل خان”—کے الفاظ دیکھتے ضرغام خان نے بری طرح ہونٹ کچلے تھے—کمرے کے اطراف میں رکھی رنگ برنگی کینڈلز جو کہ ساری رات جلنے کے باعث ختم ہونے کو تھی—انہیں دیکھ ضرغام خان نے آگے بڑھتے اپنی ہتھیلی ان پر جماتے بجھایا تھا—
اتنے عرصے میں وہ عقیدت کو اس کی روح تک جان گیا تھا—جب وہ غصہ ہوتی یا کسی بات کا برا مناتی تو وہ چیختی چلاتی تھی—چیزیں توڑتی اپنے غصے کا اظہار کرتی تھی—غصہ شدید ہوتا تو لمحے میں کمرے کی حالت بگاڑ دیتی تھی—مگر جب اسے کوئی بات تکلیف دیتی تھی—جب است ضرغام خان کی کسی بات سے دکھ پہنچتا تھا تب وہ خاموشی اختیار کر لیتی تھی—ہر چیز ویسی ہی رہتی تھی—کوئی چیز عقیدت کے ہاتھوں سے نہیں ٹوٹتی تھی—مگر اس کے اندر توڑ پھوڑ جاری رہتی تھی
واش روم کا دروازا بغیر کسی جھجھک کے کھولتے وہ اندر داخل ہوا مگر عقیدت کو وہاں بھی نا پاکر مایوسی سے پلٹتے وہ بیڈ پر آکر بیٹھا— تھا
ساری رات جاگنے کے باعث آنکھیں سرخ انگارا ہو رہی تھی—
نیچے جاتا تو داجی سو سوال کرتے—گھڑی پر وقت دیکھا تو گیارہ بجنے والے تھے—اس وقت عقیدت اوپر کمرے میں سونے جا فریش ہونے کے لیے ضرور آتی تھی—
گہری سانس بھرتے بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹتے نظریں بند دروازے پر ٹکائیں تھیں
انتظار کرتے نجانے کس پہر آنکھ لگی تھی کہ دروازے پر ہوتی دستک کو سنتے ضرغام خان جھٹکے سے اٹھا تھا—
آنکھوں کو مسلتے گھڑی پر نگاہ دوڑائی تو شام کے چار بجتے دیکھ جلدی سے آگے بڑھتے دروازا کھولا تھا—
“بی بی جی کدھر ہے تمہاری”— سامنے کھڑی ملازمہ کی سنے بغیر تیز لہجے میں استفسار کیا
“بی بی جی تو صبح سے باہر گئیں ہوئیں ہیں جی—اور کہہ کر گئیں تھی کہ آپ آئیں تو کہہ دوں کہ بھول جائیں کہ آپ کی کوئی بیوی بھی ہے—دوبارا ان کے سامنے مت آئیں گا سمجھ لے کہ وہ مر گئی آپ”— ملازمہ کسی رٹے ہوئے طوطے کی طرح بولنا شروع ہوئی تو بولتی چلی گئی یہ جان بغیر کے وہ سامنے کھڑے وجود کو عقیدت شاہ کی باتیں بتاتی انگاروں پر گھسیٹ چکی تھی—ملازمہ کی پوری بات سنے بغیر پیچھے ہوتے دھاڑ سے دروازا بند کرتے قدم کبرڈ کی جانب بڑھائے
“بہت مرنے کا شوق ہے نا—آج یہ شوق بہت اچھے سے پورا کریں گا یہ خان”— واش روم کا دروازا دھاڑ سے بند کرتے بڑبڑاتے ہوئے کہا— اور جلدی سے فریش ہو کر چینج کرتے وہ آدھی طوفان بنا حویلی سے نکلا تھا—
___________
صبح سویرے عقیدت کو ان نون نمبر سے میسج موصول ہوا تھا—جس پر جنگل کے قریب پہاڑی کے پاس ملنے کے لیے بلایا تھا—
اور نیچے مرجان خان لکھا تھا—میسج ملتے ہی عقیدت نے بہرام شاہ کو انفارم کیا تھا
جس پر بہرام نے بیس منٹ میں انفارمیشن نکلوا کہ اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ وہ نمبر مرجان خان کا ہی ہے—
اور ذرائع کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ وہ آج کل جنگل کے اردگرد دیکھا گیا ہے
اپنے وہاں پہنچنے کا کہتے بہرام نے عقیدت اور حدائق کو بھی جلد اذ جلد اس جگہ پہنچنے کا کہا تھا
کل رات وہ پور پور سجی ضرغام خان کا انتظار کرتی رہی تھی— مگر ہر گزرتا لمحہ اس کے انتظار کو مشکل ترین کرتا جا رہا تھا—
وہ کئی بار ضرغام خان کا نمبر بھی ڈائل کر چکی تھی—مگر اس کا فون مسلسل بند جا رہا تھا—وہ مصروف تھا نہیں آسکتا تھا تو کوئی بات نہیں تھی— وہ اس کی زمہ داریوں کو سمجھتی تھی—مگر وجہ بتانے کی زحمت کیے بغیر فون بند کر کہ سوالوں سے بچ جانے کی کوشش کرنا یہ بات اسے تکلیف دے رہی تھی— ہزار طرح کے وسوسے سر اٹھا رہے تھے—
پھر تنگ آکر اس نے حدائق کو کال کر کہ ضرغام خان کے بارے میں پتہ لگوانے کو کہا جس پر حدائق شاہ نے عقیدت کی آواز میں پریشانی محسوس کرتے بنا کوئی مزاق یا طنز کیے فورا سے ضرغام خان کا پتہ لگوایا تھا—
اپنے آدمیوں کو کہنے کے باوجود وہ خود اس کی تلاش میں نکلا تو ڈریرے کے قریب سے گزرتے ملازم سے پوچھا تو اس نے ضرغام اور ارمغان کے اندر ہونے کا بتایا جس پر حدائق سر اثبات میں ہلاتا وہاں سے حویلی واپس آتا راستے میں عقیدت کو ضرغام خان کے ڈیرے پر ہونے کا بتا چکا تھا
جس کے بعد وہ خاموشی سے چینج کرتی آکر صوفے پر بیٹھ گئی تھی—نجانے کیوں آنکھیں بار بار ضرغام خان کی لاپرواہی پر بھگتی جا رہی تھی— وہ جانتا تھا کہ وہ انتظار کر رہی ہے— مگر اس نے آنے کی بجائے اپنی مصروفیت کا بتانا تک گوارا نہیں کیا تھا—
ضرغام خان کے خیال کو جھٹکتے— اردگرد نگاہ دوڑاتی وہ آگے بڑھ رہی تھی کہ پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کر کہ جھٹکے سے پلٹی تھی
مگر درختوں کے سوا دور دور تک کوئی ذی روح نہیں تھا—مگر پھر بھی خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرتے عقیدت نے جیکٹ سے اپنا پسٹل نکالا تھا—
اردگرد نگاہ دوڑاتے وہ بائیں جانب پلٹی تو اپنے پیچھے دھڑام کی آواز پر لمحے کے لیے گڑبڑا گئی اس سے پہلے عقیدت پلٹتی کہ پیچھے موجود شخص نے اپنے ہاتھ میں تھامے تیز دھار آلے کو پیچھے سے ہاتھ لے جاتے عقیدت کی شہ رگ پر رکھا تھا
“کون”— اپنے ڈر کر قابو پاتے سخت لہجے میں استفسار کیا تو پیچھے کھڑے شخص نے الے پر دباؤ بڑھاتے دوسرے ہاتھ سے عقیدت کے ہاتھ میں تھامی پسٹل جھپٹنے کے انداز میں چھنی تھی—
اپنی گردن سے نکلتی خون کی لکیر کو سینے تک محسوس کر کہ عقیدت نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھی
“تمہاری موت”— سرد ٹھٹھرا دینے والا لہجہ سنتے عقیدت کو اپنے وجود میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئی تھیں—سبز نگینوں سی آنکھوں میں پل میں نمی اتری تھی—گردن پر دباؤ محسوس کرتے عقیدت نے سختی سے اپنی آنکھیں میچی تھیں—
