Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 24,25)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 24,25)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
اپنے دیہان میں صبغہ نے تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے دائیں جانب اپنے کمرے کی طرف مڑنا چاہا تو سامنے سے نیچے اترتے چٹانی وجود سے ٹکراتے وہ بری طرح لڑکھڑائی تھی—ابھی وہ پیٹھ کے بل پیچھے گرتی کہ سامنے کھڑے بالاج شاہ نے اپنے دائیں ہاتھ سے صبغہ شاہ کی کلائی تھامتے اسے نیچے گرنے سے بچایا—- سانس روکے پھٹی آنکھوں سے صبغہ نے اپنی کلائی کو کسی کی آہنی گرفت میں دیکھا— خود کے بچنے کا یقین ہوتے دھڑکتے دل کے ساتھ گردن ترچھی کر کہ سیڑھیوں کو دیکھا جن پر دبیز سرخ رنگ کا قالین بچھا ہوا تھا—ان اکیس سیڑھیوں سے گر کر شاید وہ بچ جاتی لیکن اس کی ہڈی پسلیوں کا بچنا نا ممکن ہی تھا— گہری سانس لیتے مسکرا کر رخ سیدھا کیا تو نظریں خود کو تکتی سیاہ آنکھوں سے ٹکرائی جن میں سرخی کے ساتھ ناپسندیدگی واضح نظر آرہی تھی— بالاج شاہ کی سرخ خون آشام نظروں میں دیکھتے ابھی صبغہ نے کچھ کہنے کے لیے لب واہ کیے ہی تھے
کہ بالاج شاہ نے کلائی کو جھٹکا دیتے صبغہ کو اپنی جانب کھینچا—وہ جو سمجھ رہی تھی کہ وہ بری طرح اس چٹان سے ٹکرانے والی ہے مگر جیسے ہی وہ آگے ہوئی بالاج شاہ اسے پیچھے کو دھکا دیتا سائیڈ سے ہوتا لمبے لمبے ڈنگ بھرتا سیڑھیاں اتر کر وہاں سے نکلتا چلا گیا
ریلنگ کو تھانے صبغہ شاہ نے حیرت سے دور جاتے بالاج شاہ کی پشت کو دیکھا—
نظریں دور جاتے بالاج شاہ سے ہوتی اپنی کلائی پر سرخ انگلیوں کے نشانوں پر آئیں تو صبغہ شاہ کے ہونٹوں پر شرمیگی مسکراہٹ رینگ گئی
ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے—نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں سے ابھی ابھی بالاج شاہ نکلا تھا—
___________
حوریہ—وہ مجھے کچھ پوچھنا تھا”—- صبغہ شاہ نے ہونٹوں کو تر کرتے بک پر جھکی حوریہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو حوریہ نے سر جھکائے سر اثبات میں ہلایا
تمہیں بالاج سے محبت ہے کیا”—نظریں حوریہ کے جھکے سر پر ٹکائے مدھم لہجے میں استفسار کیا تو حوریہ نے چونک کر صبغہ شاہ کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا—
بتاؤ نا”— حوریہ کے خاموشی پر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا— سیڑھیوں پر ہوئے تصادم پر وہ ملازمہ سے اس سیاہ گہری آنکھوں والے شخص کا پوچھ چکی تھی—جس پر پہلے تو اس نے حیرت سے سر سے پاؤں تک صبغہ شاہ کو دیکھا کہ وہ بالاج شاہ کو نہیں جانتی پھر اپنی حیرت پر قابو پاتی وہ اسے بالاج شاہ کا بتا چکی تھی
جس پر صبغہ کو اپنے دل پر چبھن سی محسوس ہوئی
“دیکھو صبغہ—یہ بات آج پہلی اور آخری بار ہمارے درمیان ہوگی— اس کے بعد نہیں—میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے اپنے اردگرد صرف بالاج شاہ کو ہی دیکھا ہے—نا باپ تھا نا بھائی—سکول سے لے کر حویلی کی چار دیواری تک بالاج شاہ کی حفاظت کی دیوار میرے گرد کھڑی رہی ہیں—میں نے نا کسی مرد کو جانا ہے نا مجھے جاننے کا شوق ہے—میرے لیے ایک آئیڈل شخص ییں وہ—مجھ میں حویلی سے باہر جانے کی ہمت نہیں—دنیا کا مقابلہ کرنا تو بہت دور کی بات ہے—میں بس ان کی حفاظت کے حصار میں رہنا چاہتی تھی— وہ میرے دل کے قریب ہیں کیونکہ انہوں نے ہمیں اکیلا نہیں چھوڑا—وہ ہر برے وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے رہیں—لیکن اس سب کے باوجود مجھے اس طرح کی محبت نہیں ہوئی جو تم سمجھ رہی ہو—اور نا وہ مجھے اس نظر سے دیکھتے ہیں—اور مجھے لگتا ہیں کہ انہیں میری اس بیوقوفی کا اندازہ ہوگیا ہے اسی لیے اب مجھ سے خفا ہیں اور غصہ بھی ہو جاتے ہیں—تم ہی سوچو نا کیا صلہ دے رہی ہوں میں ان کی شفقت کا ان کے مان کا—اگر کسی کو یہ بات پتہ چل گئی تو میرے کردار کے ساتھ لوگ ان کے کردار پر بھی سوال اٹھائیں گے—اور دشمنوں کو بھنک بھی لگ گئی تو وہ بالاج شاہ کو مارنے کے در پر ہو جائے گے انہیں تو ویسے بھی بہانہ چاہے ہوگا—اور اس سے اچھا کیا ہوگا کہ بالاج شاہ نے ان کے بیٹے کی منگ پر نظر رکھی یا ان کے بیٹے کی منگ بالاج شاہ سے محبت کرتی—اپنی بیوقوفی کی وجہ سے میں انہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈال سکتی—اتنی خود غرض نہیں ہوں میں— تایا کے قتل ہونے پر تائی جان نے ہم سے ایک لفظ شکوہ کا نہیں کہا—آج تک ایک بار اس بات کا طعنہ نہیں دیا کہ ان کے شوہر کا قتل میرے ماموں نے کیا – ہم اسی عزت اور مان سے اس حویلی میں رہے جس طرح اپنے باپ کے ہوتے ہوئے رہتے تھے یا شاید اس سے بھی زیادہ—ننھیال کے دروازے تو ہمارے لیے بند ہو گئے تھے سوچو اگر تائی جان بھی ہمیں یہاں نا رہنے دیتی ہم کہاں جاتے—دشمنی جن کی بھی تھی– کون مجرم تھا کون بے قصور کیا فرق پڑتا—لیکن اس سب میں تائی جان اور ان کے بچے ہماری وجہ سے گھسیٹے گئے اور ابھی تک وہ اس دشمنی کا حصہ ہے—میں مزید اپنی وجہ سے کسی کو آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتی—میں بالاج سے بھی ایکسکیوز کر لوں گی—ان کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی—اس اتنی بڑی حویلی کے شور کرتے سناٹوں میں ایک ان کی ہی تو باتیں گونجتی ہے—وہ بھی میری وجہ سے چپ ہو جائے گے تو یہ سناٹے—یہ وحشت ہمیں جیتے جی مار دے گی”— صبغہ شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا تو صبغہ شاہ نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“اور عائث خان—کیا تم نے اس کے بارے میں کچھ سوچا—آئی میں جس طرح تم نے اس کے بارے میں بتایا—صاف ظاہر ہے کہ وہ اس رشتے کو لے کر سیریس ہے”— حوریہ کے ہاتھ سے پن پکڑتے ہوئے آبرو آچکا کر کہا تو حوریہ نے گہری سانس بھرتے سر نفی میں ہلایا
“میں نے کیا سوچنا—وہ سیریس ہوگا— لیکن شاید ہمارے گھر والوں کے لیے یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی اسی لیے مجھے انجان رکھا گیا—جب وقت آئیں گا دیکھا جائے گا— اگر میرے بھائیوں کو اعتراض نا ہوا تو مجھے یہ فیصلہ قبول ہوگا—دشمنوں کے سامنے سر نہیں جھکنے دوں گی—اگر میرے بھائیوں کو اعتراض ہوا تو عائث خان سر بھی کٹا دے تب بھی مجھے حاصل نہیں کر سکے گا”— سپاٹ لہجے میں کہتے کندھے آچکا کر کتابیں بند کرتے بیگ میں رکھی جبکہ صبغہ کی نظروں نے لاونج کے پچھلے دروازے سے مردان خانے کی طرف جاتے بالاج شاہ کی پشت کو پرسوچ نظروں سے دیکھتے سر جھٹکا—
_____________
سردار—بی بی جی آج شام اپنے دوست کی پارٹی میں جانے والی ہیں—گارڈز کو میں نے سب سمجھا دیا ہے— اور بی بی جی کی نئی گاڑی پر ٹریکر لگوا کر آپ کے لیپ ٹاپ سے کنیکٹ کر دیا ہے—اور کوئی حکم خادم لائق تو بتائیں”—– فائیو سٹار ہوٹل کے روم میں چھائے گھپ اندھیرے میں— سفید پردوں سے چھن کر آتی سورج کی کرنیں اس اندھیرے کو چیرتی پھیلی ہوئیں تھیں—
سیاہ رنگ کا پینٹ سوٹ پہنے— صوفے پر بیٹھے ٹیبل پر جھکے— دائیں ہاتھ سے ٹیبل پر بکھری تصویروں کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتے—ضرغام خان نے اپنے خاص بندے کے کہنے پر سرخ انگارا ہوتی نظروں سے سر اٹھائے سامنے والے شخص کے جھکے سر کو دیکھا—
“پارٹی میں کتنے مرد انوائیٹڈ ہیں”— ضرغام خان کے سرد ٹھٹھرا دینے والے لہجے پر سامنے کھڑے شخص کو اپنی سانسیں خشک پڑتی محسوس ہوئیں
“تقریباً پچاس لوگ ہیں—جن میں بیس تک مرد ہیں”—سر جھکائے مؤدب لہجے میں جواب دیا تو ضرغام خان نے سختی سے مٹھیاں بھنچتے اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی—
“کچھ بھی ہو جائے—ان میں سے کوئی بھی مرد تب تک وہاں نہیں پہنچنا چاہئے جب تک تمہاری مالکن کو میں وہاں سے لے نا جاؤں—اگر کوئی مجھے وہاں دکھا تو ان کے ساتھ تم اپنا بھی آخری دن سمجھنا”—سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے جھکٹے سے اٹھتے قدم واشروم کی جانب بڑھائے
دھاڑ کی آواز سے دروازا بند کرتے—شاور کے نیچے کھڑے ہوتے شاور ان کیا تو— ٹھنڈے یخ پانی نے لمحے میں ضرغام خان کے آگ میں جلتے وجود کو اپنی سرد لپیٹ میں لیا
“میرا اتنا ضبط نا آزماؤ عقیدت کے میں قاتل بننے پر مجبور ہو جاؤ”—- دیوار پر بے دریغ مکے برساتے سپاٹ لہجے میں کہتے—جھٹکے سے سیاہ شرٹ کو اتارتے زمین پر پھینکا
دل میں اس قدر آگ لگی ہوئی تھی کہ یہ ٹھنڈا یخ پانی بھی اس کو مٹانے میں ناکام رہا تھا
آنکھوں کے پردے پر عقیدت شاہ کا مسکراتا چہرہ لہرایا تو ضرغام خان نے جھٹکے سے آنکھیں کھولتے دونوں ہاتھ سامنے دیوار پر ٹکاتے سر جھکا لیا
______________
پنک سکرٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے—گولڈن بالوں کو رف جوڑے میں قید کیے—لائٹ میک اپ کیے—سبز سپاٹ آنکھوں سے اردگرد کا جائزہ لیتے—عقیدت نے گاڑی کا دروازا کھولتے قدم باہر رکھے
جبکہ کچھ فاصلے پر آگے اور پیچھے کھڑی گاڑیوں میں بیٹھے ضرغام خان کے گارڈز نے عقیدت کے گاڑی سے باہر نکلتے اپنے چہروں کو ماسکس سے کور کیا اور اندر جاتی عقیدت کو دیکھتے جلدی سے باہر نکلے
“تھینک گاڈ تم آگئی— مجھے لگا تم ہمیشہ کی طرح اس بار بھی نہیں آؤ گی”— عقیدت کو فارم ہاؤس کے خوبصورتی سے سجے لان میں داخل ہوتے دیکھ ویلیم نے آگے بڑھتے پرجوش لہجے میں کہا تو عقیدت نے ایک سنجیدہ نگاہ ولیم کے خوشی سے چمکتے چہرے پر ڈال کر بنا جواب دیے قدم آگے بڑھائے
“اگر اس خان کے یہاں ہونے پر شک نا ہوتا تو—تمہارے جنازے پر بھی نا آتی”— آگے بڑھتے بڑبڑا کر کہا تو ساتھ چلتے ولیم نے چونک کر عقیدت کی جانب دیکھا
ٹیبل کے قریب جاتے عقیدت نے اردگرد نگاہ دوڑائی جہاں اسے کوئی مرد نا دیکھا— گارڈز تھے بھی تو کافی فاصلے پر—اور جو عقیدت نے بات شدت سے نوٹ کی تھی کہ وہ عقیدت کے وہاں آنے پر رخ بدل چکے تھے—ولیم کے علاؤہ وہاں کوئی اور مرد نہیں تھا—حالانکہ اس نے انویٹیشن لسٹ دیکھی تھی—اس میں ولیم کے کافی دوستوں کے نام بھی شامل تھے
اور یہ محظ اتفاق نہیں ہو سکتا تھا—
تم کچھ کھا نہیں رہی— ڈونٹس تو تمہارے فیورٹ نا—— ٹرائے تو کرو”—- عقیدت کو خاموشی سے بیٹھے دیکھ ولیم نے ڈونٹ عقیدت کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو عقیدت نے جبرا مسکراتے ہاتھ بڑھاتے ڈونٹ تھام لیا
وہ جب سے آئی تھی پرسوچ نظریں اردگرد گھماتی خاموشی سے ایک طرف بیٹھی تھی
جبکہ ولیم ہر دومنٹ بعد اپنے دوستوں کو چھوڑ کر عقیدت کے پاس آکر اس سے باتیں کرنے کی کوشش کر رہا تھا—جس پر عقیدت بس ہوں ہاں میں ہی جواب دے رہی تھی
“جیک لوگ پتہ نہیں کیوں نہیں پہنچے—کال بھی نہیں اٹھا رہے”— ولیم کی جھنجھلائی آواز پر عقیدت نے چونک کر اسے دیکھا—
دل و دماغ نے شدت سے اس سب کے پیچھے ضرغام خان کے ہونے کی گواہی دی
گہری سانس بھرتے سر جھٹکتے ڈونٹ کھاتے—جوس کا گلاس لبوں سے لگایا جسے دیکھتے ولیم کی آنکھوں میں چمک اتری
موبائل کو پاکٹ کی جیب میں ڈالتے وہ مکمل عقیدت کی جانب متوجہ ہوا
بلیک شرٹ کے ساتھ گرے پینٹ کوٹ پہنے—سیاہ گھنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے— گرے گہری آنکھوں میں چمک لیے عقیدت شاہ کو محبت پاش نظروں سے دیکھتا وہ دوسری جانب کیمرے میں یہ منظر دیکھتے ضرغام خان کو آگ لگا گیا تھا
جبکہ جوس کا گلاس لبوں سے لگائے عقیدت کی آنکھیں چمکیں تھیں—وہ اتنی بیوقوف نہیں تھی کہ کوئی اس کے کھانے میں کچھ ملائے اور اسے پتہ بھی نا چلے
وہ یہ گلاس ولیم کے سر پر مار کر اس کا سر بھی پھاڑ سکتی تھی—لیکن اس وقت سب سے ضروری ضرغام خان کا سامنے آنا تھا—اور عقیدت تو ضرغام خان کی رگ رگ سے واقف تھی وہ جانتی تھی کہ اس کی کمزوری کیا ہے—-
یہ صرف عقیدت شاہ ہی کر سکتی تھی کہ وہ ضرغام خان کو اس کی مرضی کے خلاف چلا سکے – وہ سامنے نہیں آرہا تھا اور عقیدت کو پتہ تھا کہ وہ کیسے سامنے آسکتا ہے—
گھومتے سر کو محسوس کرتے عقیدت کے گلابی ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی
گردن موڑتے دائیں جانب خود کو ٹکٹکی باندھے دیکھتے ولیم کو دیکھا
“مجھے ریسٹ روم جانا ہے”—- ولیم کی جانب جھکتے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو ولیم کی جیسے مراد بھر آئی ہو جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتے عقیدت کو آگے چلنے کا اشارہ کرتے وہ اس کے ہمراہ اندرونی حصے کی جانب بڑھے
جبکہ ولیم نے آگے بڑھتے ڈی جے کو میوزک کی آواز تیز کرنے کا اشارہ کیا جس پر ڈی جے نے مسکراتے سر اثبات میں ہلایا
____________
ولیم کمرے کے دروازے کے باہر عقیدت کو چھوڑتا خود پلٹ گیا تھا
ولیم کی چالاکی پر عقیدت نے سر جھٹکتے قدم اندر بڑھائے
وہ اسے پسند کرتا تھا اس بات کا عقیدت کو اندازہ تھا—لیکن وہ اس حد تک گر جائے گا یہ بات جان کر افسوس تو ہوا تھا—لیکن یہ افسوس ضرغام خان کی موجودگی کو جان کر ہوا میں معلق ہو گیا تھا
کمرے میں داخل ہو کر اردگرد نگاہ دوڑاتے عقیدت نے اپنے چکراتے سر کو تھامتے بامشکل قدم بیڈ کی جانب بڑھائے
بیڈ پر بچھی سلک کی سرخ شیٹ دیکھ عقیدت نے بامشکل اپنا قہقہہ ضبط کیا اور اوندھے منہ بیڈ پر گرنے کے انداز میں گر گئی
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ کمرے کا دروازا کھلنے کی آواز آئی جس پر عقیدت نے اپنی بند ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھولنے کی کوشش کی مگر نشہ اس قدر دماغ پر حاوی ہو گیا تھا کہ اب لمحے کے لیے آنکھیں کھولنا محال تھا—تبھی آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں ہوش و حواس گم ہونے سے پہلے سرگوشی نما آواز میں ضرغام خان کا نام لبوں سے جدا ہوا تو کمرے میں ولیم کی آواز گونجی
“آج میں ہمیشہ کے لیے تمہیں اپنا بنا لوں گا—پھر تمہیں مجھے قبول کرنا ہی پڑے گا – تم عقیدت سے میری ایمیلیا بنو گی—صرف و صرف میری”—عقیدت کو کندھوں سے تھام کر سیدھے کرتے—بھاری لہجے میں سرگوشی کی تو کمرے کی جانب آتے ضرغام خان نے بلو ٹوتھ سے گونجتی اس آواز پر سختی سے مٹھیاں بھنچتے— قدموں میں تیزی پیدا کی
“تمہارا نام چاہے پہلے کسی کے ساتھ جڑا ہے—لیکن تمہارا وجود اور تمہاری روح مجھ سے”— ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتا کہ دھاڑ کی آواز سے دروازا کھلا تو ولیم جھٹکے سے عقیدت سے پیچھے ہٹتا پلٹا
مگر ابھی وہ کچھ سمجھتا کہ ضرغام خان چیل کر طرح اس پر جھپٹ چکا تھا—
پہلا منظر جو ضرغام خان کی آنکھوں کے پردے سے سامنے لہرایا تھا وہ تھا ولیم کا عقیدت—کے کندھوں کو چھوڑنا—اسی کیے ولیم کے ہاتھ کی انگلیوں میں انگلیاں اڑستا وہ انہیں پیچھے کی جانب موڑتا جھٹکے سے توڑ چکا تھا—کمرے کی خاموش فضا میں انگلیاں ٹوٹنے کی آواز کے ساتھ ولیم کی دردناک چیخیں گونجیں
جبکہ ضرغام خان نے خون چھلکاتی نظروں سے ولیم کے درد بھرے چہرے کو دیکھتے اس کے چہرے پر بے دریغ مکوں کے وار کرتے گردن اور بازو سے پکڑتے—بنا ولیم کو کچھ بھی بولنے کا موقع دیے شیشے کی میز پر مارا کے کمرے میں دھماکہ کی آواز سا کانوں کو چیرتا ارتعاش پیدا ہوا
“بیوی ہے میری—بیوی—صرف نام سے ہی نہیں جڑی—میرے وجود کا حصہ اور میری روح سے وابستہ ہے”— خون سے لت پت ولیم کو بازوؤں سے تھام کر اٹھاتے دیوار کے ساتھ مارتے دھاڑتے ہوئے کہا تو کمرے میں داخل ہوتے ضرغام خان کے خاص ملازم نے آگے بڑھتے ضرغام خان کو بامشکل روکنے کی کوشش کی
“سردار رک جائیں—مر جائیں گا یہ—آپ مالکن کو لے کر جائیں میں اسے دیکھ لوں گا”—- ضرغام خان کو پیچھے پشت سے تھامے التجائیہ لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے جھٹکے سے پلٹتے اس شخص کی گردن دبوچی
“یہ شخص زندہ رہے مجھے گوارا نہیں ہے—ضرغام خان کی عزت پر بری نگاہ ڈالی تو ڈالی کیسے— آنکھیں نوچ لوں گا میں اس کی”— زخمی شیر سی دھاڑ کیے غراتے ہوئے کہا—اور نیچے جھک کر کانچ کا ٹکڑا اٹھاتے—ولیم کے بال مٹھی میں دبوچتے ابھی ضرغام شیشے کو اس کی آنکھوں میں دے مارتا کہ کمرے کی فضا میں عقیدت کی بے چین سی آواز گونجی جس پر پیچھے کھڑے شخص نے سکھ کا سانس لیا
“ضض—ضر تت—تم ہہ—ہو نا”—دوںوں ہاتھ بیڈ پر ٹکاتے بامشکل آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے لڑکھڑاتے لہجے میں کہا تو ضرغام ولیم سے جھٹکے سے پڑے ہوا—پیچھے ہوتے ہوتے بھی وہ ولیم کو بے دریغ ٹھوکریں رسید کر چکا تھا—
غصے سے سرخ پڑتے چہرے پر بایاں ہاتھ پھیرتے— پلٹ کر قہر بھری نظروں سے عقیدت شاہ کے وجود کو دیکھا— جو بہکی بہکی نظروں سے ضرغام خان کو دیکھتی مسکرا رہی تھی—
“آپ جائیں سردار—اور ہاتھ پر پٹی کر لیں—خون بہہ رہا ہے”—ولیم کے بے جان ہوتے وجود کو سیدھا کرتے—اس شخص نے کہا تو ضرغام کی نظریں اپنے دائیں زخمی ہاتھ پر گئی
سر جھٹکتے قدم عقیدت شاہ کی جانب بڑھائے
عقیدت کے وجود کو بانہوں میں بھرتے—لمبے لمبے ڈنگ بھرتے وہ لمحے میں فارم ہاؤس کی حدود سے نکلتا چلا گیا
____________
کمرے کی خاموش فضا میں گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز ارتعاش پیدا کر رہی تھی—
بیڈ کی پائنتی پر ٹانگیں لٹکائیں—سر جھکائے نظریں سفید فرش پر جمائے وہ رات نو بجے سے مسلسل ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا تھا—جبکہ اب رات کے دو بج رہے تھے—
عقیدت کو لیے وہ ہوٹل میں اپنے روم میں آیا تھا—وہ تب سے ہوش و خرد سے بیگانہ نیند کی وادیوں میں گم تھی جبکہ ضرغام خان کی سوچیں ماضی سے حال اور حال سے مسقبل میں الجھی ہوئی تھیں—
تبھی اپنے پیچھے لیٹے وجود میں حرکت محسوس کرتے ضرغام خان نے اپنی جلتی آنکھوں کو لمحے کے لیے بند کر کہ کھولا
اپنے بھاری سر کو انگلیوں کے پوروں سے دباتے عقیدت نے مندی مندی آنکھیں کھول کر کمرے کا جائزہ لینا چاہا— نظریں دائیں جانب سے ہوتی بائیں جانب اپنے قریب بیڈ پر پیٹھ کیے بیٹھے شخص کو دیکھتے دماغ میں جھماکا سا ہوا— شام کے منظر کسی فلم کی طرح آنکھوں کے پردے پر لہرائیں تو عقیدت نے سختی سے ہونٹ بھنچتے—کہنیوں کے بل اوپر ہوتے کمر بیڈ کراؤن سے ٹکائی
کمرے کے گھپ اندھیرے میں صرف نائٹ بلب کی ہلکی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی جسے دیکھتے عقیدت نے نظریں گھما کر ضرغام خان کی چوڑی پشت کو دیکھا—
ہونٹوں کو دانتوں تلے کچلتے— کھسک کر درمیان میں موجود تھوڑے فاصلے کو ختم کیا—
“تمہیں کیوں لگا کہ تم مجھ پر نظر رکھو گے اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوگا”—- سر ضرغام خان کی پشت پر بائیں جانب ٹکاتے— اپنا بایاں ہاتھ ضرغام کی گردن کے گرد لپیٹتے—بھاری لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے بنا کوئی جواب دیے سر ہنوز جھکائے رکھا
“میری فکر ہے تمہیں”—- ہونٹ ضرغام خان کی شرٹ کے کالر کے قریب گردن پر رکھتے سوالیہ لہجے میں استفسار کیا مگر اپنی ہر بات پر ضرغام خان کی خاموشی محسوس کرتے سختی سے ہونٹ بھنچتے—اپنا حصار تنگ کیا
“میرے بابا قاتل نہیں ہیں—میں یہ ثابت کردوں گی”— ناک ضرغام کی گردن پر ٹریس کرتے مدھم لہجے میں سرگوشی کی تو اس بات پر ضرغام خان کا ضبط پل میں جواب دے گیا
دایاں ہاتھ پیچھے کرتے—عقیدت کے بال اپنی مٹھی میں دبوچے چہرہ آگے کو کیا تو عقیدت کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی جیسے وہ جانتی تھی کہ وہ اس بات پر ضرور ردعمل ظاہر کرے گا—
“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی عقیدت شاہ کے نمائش کا سامان بن کر اس گھٹیا شخص کے سامنے جانے کی”—- عقیدت کی سرد سانسوں میں سانس لیتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو عقیدت نے زخمی نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا
“جن عورتیں کے شوہر ان کی حفاظت نہیں کرتے—انہیں کسی کے کہنے پر چھوڑ دیتے ہیں—وہ عورتیں دوسروں کے لیے نا صرف نمائش کا سامان ہوتی ہیں بلکہ عیاشی”— سرد و سپاٹ لہجے میں ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتی کہ ضرغام خان نے عقیدت کا جبڑہ اپنی آہنی گرفت میں لیتے—چہرہ اپنے چہرے کے قریب تر کیا
“ڈونٹ یو ڈئیر— ڈونٹ— ورنہ جو میں کروں گا نتائج کی زمہ دار تم ہوگی— تم پر اپنی حفاظت کے پہرے اتنے تنگ کردوں گا عقیدت ضرغام خان کے سانس لینا بھی مشکل ہو جائے گا— میری حفاظت سے بھی پناہ مانگو گی—– عقیدت کی سرخ ڈوروں سے مزین آنکھوں میں نیلی خون چھلکاتی آنکھیں گاڑھے سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے جھٹکے سے عقیدت کا جبڑہ چھوڑتے اٹھ کر جانا چاہا تو عقیدت نے لپک کر ضرغام خان کا بازو تھامتے جھٹکے سے اسے واپس بیڈ پر بٹھاتے—خود آگے بڑھ کر ضرغام کی گود میں بیٹھتے اپنے دونوں بازو سختی سے ضرغام خان کی گردن کے گرد حائل کیے
جس پر ایک لمحے کو ضرغام خان نے حیرت سے عقیدت کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے لمحے میں اپنی حیرت پر قابو پایا
“کیا بتمیزی ہے یہ— ہٹو پیچھے”— عقیدت کے بازو اپنی گردن سے ہٹانے کی کوشش کرتے سخت لہجے میں کہا تو عقیدت نے آبرو آچکا کر ضرغام خان کے جھنجھلائے چہرے کو دیکھتے—بنا ضرغام کو سمجھنے کا موقع دیے—ضرغام کے چہرے پر جھکتے اپنے ہونٹ ضرغام خان کے دائیں گال پر ثبت کیے
ضرغام خان کے حرکت کرتے ہاتھ پل میں ساکت ہوئے تھے— گھڑی کی چلتی سوئیاں جیسے وہیں ساکن ہو گئی تھی—لمحے جیسے وہی تھم گئے تھے—ساکت آنکھوں میں حرکت پیدا ہوئی تو ضرغام خان نے نظریں نیچے کئے عقیدت شاہ کو دیکھا—جو اپنے نازک پنکھڑیوں سے ہونٹ ضرغام خان کے گال پر رکھے آنکھیں موندے ہوئی تھیں—
دل نے شدت سے چاہا تھا کہ وقت ہمیشہ کے لیے یہی رک جائے—مگر پہلے کبھی دل کی مانی تھی جو آج مان کر عقیدت شاہ کے آگے جھک جاتا—
“آئی ریلی ریلی نیڈ یو ضرغام— پلیز ڈونٹ لیو می— آئی کانٹ لیو”— نم لہجے میں کہتے ہونٹ ضرغام خان کے ہونٹوں کے قریب ثبت کیے تو ضرغام خان نے گہری سانس بھرتے اپنے دھڑکتے دل کو قابو کرتے جھٹکے سے عقیدت کو خود سے دور کرتے بازو سے تھام کر بیڈ پر پٹکا
“دوبارا ایسی گھٹیا حرکت کی تو جان لے لوں گا—دور رہو مجھ سے”—- انگلی اٹھائے سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے—پلٹ کر رخ کبرڈ کی جانب کیا تو عقیدت جھٹکے سے اٹھتی ضرغام خان کے سامنے آکر کھڑی ہوئی
“گھٹیا حرکت—کیا گھٹیا پن تھا اس میں— شوہر ہو میرے—اہنے ہوش و حواس میں بیوی قبول کیا ہے مجھے—حق ہے میرا—تم ہوگے ضرغام خان کسی زبان یا قسم کے پابند میں نہیں ہوں— اگر میں ابھی اپنا حق مانگو تو تم پر فرض ہے میرا حق دو—ورنہ اپنا حق چھیننا بہت اچھے سے آتا ہے مجھے”— ضرغام خان کے سامنے کھڑے ہوتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو ضرغام خان نے خاموش مگر گہری نظروں سے عقیدت شاہ کے ہوش ربا سراپے کو دیکھا
جوڑے میں بندھے بال اس وقت کندھوں اور کمر پر بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے—سبز آنکھیں نیند کا خمار لیے ہوئی تھی— سفید رنگت میں گھلتی سرخیاں دیکھ ضرغام خان نے دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے عقیدت کی کمر کے گرد بازو لپیٹتے—اسے جھٹکے سے قریب کرتے کبرڈ کے بند دروازے سے لگایا
“میری نظر میں یہ حرکت گھٹیا ہی تھی—اگر تم حق سمجھ رہی ہو تو میں اس حق سے انکار کرتا ہوں— چھین سکتی ہو تو چھینو—میں بھیی دیکھو عقیدت شاہ کیسے اپنا یہ حق چھینتی ہے”—– عقیدت کی شہہ رگ پر انگھوٹھا پھیرتے تمسخر بھرے لہجے میں کہا تو عقیدت نے سنجیدہ نظروں سے ضرغام خان کو دیکھتے
پہلو میں گرے ہاتھوں کو اٹھاتے ضرغام خان کے کالر کو تھامتے—جھٹکا دے کر چہرہ اپنے قریب کیا—
جس پر ضرغام خان نے جزبات سے عاری نظروں سے عقیدت شاہ کے سپاٹ چہرے کو دیکھا
جبکہ دل میں اس وقت حشر برپا تھا—سچ تو یہ تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ عقیدت اسے سمیٹ لے—ضرغام خان کو اپنا آپ ہارتا ہوا محسوس ہو رہا تھا—اس تنہا سفر نے بہت تھکا دیا تھا—اب وہ سکون چاہتا تھا اور وہ سکون صرف عقیدت شاہ کے وجود میں تھا—وہ قسم میں بندھا تھا—اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ عقیدت یہ محبت میں نہیں—بلکہ ضرغام خان کو بہکا کر اس کی قسم توڑنے پر مجبور کرنے کے لیے کر رہی ہے—وہ جانتا تھا کہ اگر وہ قسم نا دیتا اور عقیدت کی جانب قدم بڑھاتا تو شاید وہ اسے دھتکار دیتی— اپنی سب سوچو کو پس پشت ڈالتا وہ اس وقت صرف عقیدت کو محسوس کرنا چاہتا تھا—اس لمس میں کھو کر سب تکلیفوں کو بھول جانا چاہتا تھا
کہ تبھی عقیدت نے ضرغام خان کی دہکتی سانسوں میں سانس لیتے—اپنے ہونٹ ضرغام خان کے عنابی ہونٹوں پر ثبت کیے—تو سکون کی ایک لہر ضرغام خان کو اپنے رگ و پے میں سرائیت کرتی محسوس ہوئی
دونوں ہاتھ کبرڈ کے دروازے سے ٹکائے—چہرہ عقیدت کے چہرے پر جھکاتے ضرغام خان نے سکون سے آنکھیں موند لیں
اپنے ہونٹوں پر عقیدت کی شدتوں کو برداشت کرتے ضرغام خان کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی
غصے سے سرخ پڑتی آنکھوں کو کھولتے عقیدت نے گھور کر ضرغام کی بند آنکھوں کو دیکھتے اپنے دانت ضرغام کے ہونٹوں پر گاڑھے تو ضرغام خان نے آنکھیں کھولتے تنبیہہ کرتی نظروں سے عقیدت کو دیکھا جو کندھے اچکاتی پوری شدت سے ضرغام خان کی سانسوں میں اپنی سانسیں الجھا چکی تھی—وہ اسے بے بس کرنا چاہتی تھی مگر وہ خاموشی سے سر جھکائے کبھی عقیدت کے شدت بھرے لمس کے ساتھ دانتوں کے دباؤ کو اپنے ہونٹوں پر محسوس کر رہا تھا اور کبھی اپنے گالوں اور ناک پر—
ضرغام خان پر کچھ اثر ہوتے نا دیکھ عقیدت نے اپنی بکھرتی سانسوں کے محسوس کرتے—سر پیچھے کبرڈ سے ٹکایا تو ضرغام خان نے خمار آلود نظروں سے عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا—
انگھوٹے کی پشت سے ہونٹوں سے نکلتے خون کو صاف کرتے—
عقیدت کی تیز چلتی سانسوں میں جھک کر گہری سانس لی تو عقیدت نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں ضرغام خان کو خود کی جانب طنزیہ نظروں سے دیکھنے پر عقیدت نے بے بس ہوتے اپنے نازک ہاتھ کے مکے ضرغام خان کے سینے پر مارنا شروع کردیے
“ایسے چھینو گی اپنا حق— ایسے کمزور پر کر— یہ دنیا بہت ظالم ہے عقیدت شاہ— اپنے حق کے لیے جان کی بازی تک لگانی پڑتی ہیں—ایڑیاں تک رگڑنی پڑتی ہیں— پھر جا کر شاید آپ کو حق ملنے کی صرف امید حاصل ہو—اگر یہ سب نہیں تو مظلوم بننے کی بجائے ظالم بن جاؤ—کچھ وقت کے لیے حق کو بھول کر حق تلفی کرنے والے کا مقابلہ کرنے کی خود میں ہمت پیدا کرو— جب تم اس قابل ہو جاؤ گے ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے ہو سکو—اس کے وار کا مقابلہ کر سکو—تب اپنے حق کو یاد کرنا—تب اس کا مطالبہ کرنا—اور نا ملنے پر بھی لینا”— عقیدت کے کندھوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑے سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے جھٹکے سے عقیدت کو پیچھے کرتے— قدم صوفے کی جانب بڑھائے
“اگر مضبوط ہوتے ہوتے میں پتھر ہوگئی تو”— ضرغام خان کے سامنے ٹیبل پر بیٹھتے پرسوچ لہجے میں استفسار کیا تو عقیدت شاہ کے پل میں مرجھائے چہرے کو دیکھ ضرغام خان نے جبڑے بھنچتے چہرے کا رخ بدلا
وہ اسی وجہ سے تو دور تھا—وہ چاہتا تھا کہ وہ مضبوط ہو جائے اگر وہ حویلی آئے تو اس میں اتنی ہمت ہو کہ وہ ضرغام خان کی غیر موجودگی میں بھی سب کا مقابلہ کر سکے—نا کہ ہار تسلیم کر کہ خود کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے
“پتھروں سے بھی چشمے پھوٹ پڑتے ہیں”— سپاٹ لہجے میں جواب دیتے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے—دائیں ہاتھ کی مٹھی بناتے اور کھولتے اپنی دلی کیفیت پر قابو پانے کی کوشش کی نظریں عقیدت شاہ کے چہرے کے علاوہ کمرے کی ہر بے معنی چیز کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں
“اور اگر موم سے پتھر بننے کے سفر میں—تم مجھ سے کھو گئے—یا میں تمہیں بہت پیچھے انسانوں کی دنیا میں چھوڑتی پتھروں کی دنیا میں آگے بڑھ گئی پھر— اتنا آگے کہ تم بہت پیچھے چھوٹ جاؤں یاد کرںے پر بھی یاد نا آؤ—تمہارا یہ چہرہ— یہ آنکھیں—یہ ہونٹ اگر یہ سب نقش میرے دل و دماغ سے پتھر بننے کی شرط پر مٹا دیے جائیں تو تب میں کیا کروں ضرغام— بھول جاؤں تمہیں”—- ضرغام خان کے چہرے کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتے نم لہجے میں کہا تو ضرغام خان کے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی
“تم میری ہو عقیدت شاہ— اس خان کی بیوی—تم چٹان بنو یا پتھر—میں موم کرنا جانتا ہوں—ںا کبھی یہ آنکھیں تمہیں بھولیں گی پتہ ہے کیوں— کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ نفرت تمہیں اپنے لیے انہی آنکھوں میں دیکھنے کو ملے گی—کسی کی آنکھوں میں پیار دیکھنے لگو گی تو یہ نفرت بھری آنکھیں یاد آئیں گی اور تمہیں خود سے نفرت ہو جائے گی—یہ ہونٹ بھی نہیں بھولے گے کیونکہ سب سے زہر بھرے الفاظ انہی ہونٹوں سے تمہیں سننے کو ملیں گے— ان ہونٹوں سے ادا ہوئے ہر لفظ میں تمہارے لیے نفرت ہے اور یہ چہرہ جب بھی آئینہ دیکھو گی تو یاد آئے گا کہ کس حقارت سے تم سے چہرہ پھیرا تھا تمہارے شوہر نے”— عقیدت کی بالوں کی لٹوں کو انگلیوں پر لپیٹتے—سادہ لہجے میں کہتا وہ عقیدت کا دل پاش پاش کر چکا تھا—
آنکھوں میں بے یقینی لیے عقیدت شاہ نے ساکت نظروں سے ضرغام خان کے پرسکون نظر آتے چہرے کو دیکھا—
وہ جو یہ سمجھتی تھی کہ وہ بس اپنی زبان کی وجہ سے دور ہے لیکن ضرغام خان کے لفظوں میں اپنے لیے نفرت محسوس کرتے منہ کے بل گری تھی—
ہاں ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا—پہلے وہ شاید بھول جاتی لیکن اب وہ خود کو تو بھول سکتی تھی مگر اپنی ذات کو یو بے مول کر دینے والے شخص کو چاہ کر بھی نہیں بھول سکتی تھی—
اور تمہیں تو حق لینا نہیں آیا—میں بتاتا ہوں کیسے حق چھینا جاتا ہے—اور حق دشمن سے چھیننا ہو تو کیسے چھینتے ہیں”—عقیدت کو کندھوں سے تھام کر اپنے قریب صوفے پر ہٹکتے— اپنی سفید شرٹ کے بٹن کھول کر دور اچھالتے— سرسراتے لہجے میں کہا تو عقیدت کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی
ابھی وہ کچھ سمجھتی کہ ضرغام خان عقیدت کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھا سر کہ اوپر لاک کر چکا تھا—
سپاٹ نظروں سے عقیدت کی بے یقینی لیے آنکھوں میں دیکھتے آنکھ ونک کرتے جھک کر اپنے لب عقیدت کے گال پر ثبت کرتے اپنے دانت گاڑھے تو تکلیف سے عقیدت نے سختی سے اپنی آنکھیں میچی
کندھے سے اپنی شرٹ کھسکتی محسوس کر کہ کئی آنسوں پلکوں کی باڑ توڑتے کنپٹی میں جذب ہونے لگے—
یہی عمل دوسرے گال پر دہراتے— دائیں ہاتھ سے شرٹ اوپر سرکاتے— ہاتھ کی پشت عقیدت کے پیٹ پر پھیری تو ضرغام خان کی اس حرکت پر عقیدت نے تڑپ کر خود کو چھڑوانا چاہا
“ہششش—ڈونٹ موو—ابھی تو بس حق چھیننے کا طریقہ بتا رہا ہوں—چھین تھوڑی رہا ہوں—اور جاتے جاتے تمہاری روح میں اپنے لمس کے نشان بھی تو چھوڑ کر جانے ہیں—تا کہ پتھر بنو یا جو بھی یہ نشانات تمہیں تمہاری پہچان یاد کرواتے رہے”—کان کی لو دانتوں تلے دباتے—اپنے دونوں ہاتھ کمر پر سختی سے لپیٹے تو ضرغام خان کے گرم ہاتھوں کی تپش سے عقیدت کو اپنی جلد جھلستی محسوس ہوئی
عقیدت کی آنکھوں کو ہونٹوں سے چھوتے—اپنے ہونٹ عقیدت کے ہونٹوں پر ثبت کرتے شدت سے عقیدت کی مدھم چلتی سانسوں میں اپنی سانسیں الجھائیں—عقیدت کی جان تو تب ہوا ہوئی جب ضرغام خان کے ہاتھوں کو پیٹ سے اوپر کی جانب بڑھتے محسوس کیا— ہونٹوں پر ضرغام خان کے دانتوں کو محسوس کرتے وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ وہ اپنا بدلہ پورا کر رہا ہے—
“اگر شوہر ہونے کا مان نہیں دے سکتے تو مجھ سے میرا مان بھی نا چھینو—مجھے مارنا ہی ہے تو ویسے مارو—بے ابرو کر کہ جیتے جی نہیں”—- عقیدت کی گردن پر رقص کرتے ضرغام خان کے لب عقیدت کے سرد و سپاٹ لہجے پر رکے تھے—لمحے کے لیے ہاتھوں کی حرکت تھمی تھی—ہونٹ بھنچتے—جھٹکے سے پیچھے ہوتے عقیدت کو بازو سے تھام کر اپنے روبرو کیا
“کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم اپنے ان باتوں سے—لٹیرا لگ رہا ہوں جو یہ بکواس کر رہی ہو—کوئی کچھ بھی کریں تو کوئی فرق نہیں پڑتا— ماں جی داجی یا تم— تم سب اپنے دل کی کرو اور اگر ضرغام خان کر لے تو وہ برا بدکردار نافرمان دشمن کی بیٹی سے عشق کیا تو خون سفید— تم سب کا حق ہے مجھ پر—تو میرا حق کس پر ہے—تم سب کو مجھ سے جڑے آپنے رشتے کے حقوق چاہیے— تو میرے حقوق کا کیا عقیدت”— ٹیبل کو ٹھوکر مارتے—دھاڑتے ہوئے کہا تو عقیدت بے ساختہ اپنی جگہ سے اچھل کر صوفے کی پشت سے جڑ گئی
عقیدت کی جانب پیٹھ کر کہ کھڑا ہوتے— چاکلیٹ براؤن بالوں کو مٹھیوں میں دبوچ کر گہری سانس بھرتے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی—
جذبات پر قابو پاتے آگے بڑھ کر اپنی شرٹ اٹھا کر پہنتے رخ عقیدت کی جانب کیا جو دونوں پاؤں اوپر کیے— اور ٹانگوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی تھی—چہرہ آنسوؤں سے تر تھا جسے دیکھتے ضرغام خان نے سر جھٹکتے بیڈ کی جانب بڑھائے
تکیے کے قریب پڑی اپنی اجرک کو اٹھاتے عقیدت کے قریب آتے بازو سے تھام کر اپنے روبرو کھڑا کیا
تو نظریں عقیدت کے گالوں پر موجود نشانات سے ہوتی سرخ گردن پر آئی جہاں جابجا لو بائٹس بنے ہوئے تھے—نشانوں کو انگھوٹے کے پوروں سے چھوتے جھک کر نرمی سے اپنے لب وہاں رکھیں تو عقیدت کی سسکی روم کی فضا میں گونجی
“مجھے تم سے محبت نہیں ہے عقیدت— میں تم سے محبت کر ہی نہیں سکتا—تمہارے قریب آنا تمہاری حفاظت کرنا میری مجبوری ہے—کیونکہ تمہارے نام کے ساتھ میرا نام جڑا ہے—تمہاری وجہ سے کسی بھی طرح کی ذلت برداشت نہیں کر سکتا—اور یہ جو بھی میں نے کیا اپنا حق سمجھ کے کیا ہے—-بیوی ہو میری اپنی ضرورت تم سے پوری کرنا چاہو تو تم روک نہیں سکتی مجھے— ضرورت اور دشمنی سے بڑھ کر تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھ سکتا”— اجرک عقیدت کے گرد لپیٹتے—سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ رینگ گئی
“اگر تم مجھے اپنے گاؤں کی ستی ساوتری لڑکیوں جیسا سمجھ رہے ہو جنہیں جو شوہر کہہ دیں گے اور وہ آنکھیں بند کر کہ یقین کر لیں گی—یا جو وہ دکھانا چاہے گے اسے حقیقت سمجھ لیں گی تو تمہیں بتا دوں میں عقیدت شاہ ہوں چیل سی نگاہ رکھنے والی—منظر کے پس منظر کو دیکھنے والی— اور یہ جو تم نے کیا تمہیں لگ رہا تم یہ کر کہ مجھے میری نظروں میں گراؤ گے یا اور کچھ تو ایسا کچھ نہیں ہونے والا— یہاں اس سے بڑھ کر حق تو لڑکیاں انجان مردوں کو دے دیتی ہیں تم تو پھر شوہر ہو—اور راز کی بات بتاؤں”—- اجرک اچھے سے لپیٹتے—سنجیدہ لہجے میں کہتے آخر میں ضرغام خان کی جانب جھکتے آبرو آچکائی تو ضرغام خان نے مٹھیاں بھنچتے گھور کر عقیدت کو دیکھا
“وہ کہہ نہیں رہے تھے— مگر جانتے تھے ایک دوسرے کو تکلیف و دکھ سے بچانے کے لیے لفظوں کی مار مار رہے ہیں—سب جھوٹ تھا—اگر سچ تھا تو وہ جو آنکھوں میں نظر آتی نفرت کی دیوار پیچھے کھڑا سسک رہا تھا— جو ہچکولے بھرتا آنسوؤں میں بہہ گیا تھا”–
“آئی لو اٹ— ایسی جنونی اور شدت بھری محبت ہی پسند ہے مجھے—” سرگوشی نما لہجے میں کہتے آنکھ ونک کرتے کھوکھلا سا قہقہہ لگایا تو عقیدت کی نم آنکھوں اور لہجے میں چھپے کرب کو محسوس کرتے– ضرغام خان نے سختی سے جبڑے بھنچے– خون آشام نظروں سے عقیدت کو دیکھتے آگے بڑھ کر عقیدت کو اپنے کندھے پر اٹھاتے قدم کمرے کے باہر بڑھائے
عقیدت کو حدائق شاہ کے گھر کے باہر چھوڑتے وہ پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عقیدت کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تھا
عقیدت پر ضرغام کی نگاہ ہر وقت تھی لیکن عقیدت کو دیکھنا چھوڑ دیا تھا
وہ جتنا اسے توڑ کر خود سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتا تھا وہ اتنی باغی ہوتی اسے جھٹلاتی تھی اسی لیے ضرغام خان نے عقیدت کے سامنے کبھی نا جانے کا عہد کر لیا تھا—
جبکہ عقیدت نے خود کو سچ میں پتھر کر لیا تھا—اور ضرغام خان کے کہہ مطابق وہ واقع اسے نہیں بھلا سکی—ان کی آنکھوں کی نفرت بھی ہونٹوں سے ادا ہوئے زہر بھرے الفاظ حقارت سے منہ پھیرنا سب ہی تو راتوں کو ناگ کی ڈستے رہے تھے
دل گواہی دیتا تھا کہ وہ جھوٹ کہہ کر گیا ہے لیکن دماغ نے اس اذیت سے نا نکلنے کے لیے ان سب باتوں کو سچ مان لیا تھا—
_____________
کیسے شاہ ہو تم لوگ— ایک بندے کا بھی بدلہ نہیں لے سکے— اب تو وہ ضرغام خان بھی یہاں نہیں ہے—اور اسے مارنے سے لاکھ گنا بہتر چھوٹے خان کو مارنا ہے—جیتے جی نا مر گیا وہ سردار تو کہنا”—- کانوں میں دوسرے گاؤں کے سردار کے الفاظ گونجے تو بالاج شاہ کی پسٹل پر گرفت سخت ہوئی
نشانہ سامنے گراؤنڈ میں لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ارمغان خان کے سینے کا لیتے—بالاج شاہ نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچے—
لالا— باج لالا— چیجی ڈے ڈو
باج اوتھاؤ—لالا بھوت لدی ہے—- ٹریگر پر گرفت سخت کرتے کانوں میں ارمغان خان کی قلقاریاں گونجیں تو بچپن کے خوبصورت مناظر آنکھوں کے پردے پر لہراتے بالاج شاہ کی سیاہ گہری آنکھوں کو نم کر گئے
ہاں وہ نہیں مار سکتا تھا ارمغان خان کو— وہ آج بھی دل بن کر دھڑکتا تھا ان کے دلوں میں— یہ الگ بات تھی اب انہوں نے ان دھڑکنوں کو سننا بند کر دیا تھا—لیکن بالاج شاہ اتنا تو جانتا تھا کہ وہ ارمغان خان کے لیے کسی کی جان لے تو سکتا ہے لیکن اس کی جان پر انچ بھی نہیں آنے دے سکتا”–
پسٹل نیچے کرتے سامنے نظر آتے منظر کو دیکھا—جہاں ارمغان خان کو جیتنے کی خوشی میں اس کے دوست کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے—جس پر گراونڈ کی فضا میں ارمغان خان کے بلند و بانگ قہقہے گونج رہے تھے
“دیکھا کہا تھا نا کہ نہیں مار سکتے— تم لوگوں میں اپنے مر جانے والوں پر رونے کا تو حوصلہ مگر بدلہ لینے کا جگرا نہیں— شاہ ہو کر قائر—چچچ”— اپنی پشت سے آتی آواز پر بالاج شاہ نے جھٹکے سے پلٹتے سردار ہشتم کو گردن سے پکڑتے گاڑی کے بند دروازے سے لگایا
“قائر نہیں ہوں— سمجھے تم— انصاف پسند ہوں— جس میں اس معصوم کا کوئی قصور نہیں جس نے تب اپنے باپ کو کھو دیا جب وہ اس کی شفقت کو ابھی محسوس بھی نہیں کر پایا تھا—تو کس بات کا بدلہ لوں اس سے— اور تم بھی یاد رکھنا— اگر اسے کھروچ بھی آئی تو حشر برپا کر دوں گا—وہ بالاج شاہ کے ہاتھوں میں پلا ہے—اپنے ہاتھوں سے نوالے کھلائیں ہیں—اپنے کندھوں پر بٹھا کر کھلایا ہے—اولاد کی طرح عزیز ہے— ضرغام خان سے کسی خلش کی وجہ سے ارمغان خان کو نشانہ بنایا تو یاد رکھنا ٹکڑے کر کہ کتوں کے آگے ڈال دوں گا”—- زخمی شیر سا دھاڑتے ایک ایک لفظ چبا کر کہتے جھٹکے سے سردار ہشتم کو سائیڈ پر دھکا دیتے—اپنی گاڑی میں بیٹھتے زن سے وہاں سے گاڑی بھگا لے گیا
“شٹ شٹ”— اسٹیرنگ پر زور سے ہاتھ مارتے جھنجھلائے ہوئے لہجے میں چلا کر کہا
وہ کیسے اپنے دل میں چھپی محبت کو کسی غیر کے سامنے ظاہر کر سکتا تھا—وہ کیسے کمزور پر سکتا تھا—سیاہ آنکھیں پل میں وحشت زدہ ہوئی تھیں
Episode 25
غم و غصے سے پاگل ہوتا وہ شاہ حویلی داخل ہوا تھا—سردار ہشتم کے سامنے اپنے کمزوری ظاہر کر کہ اب دل چاہ رہا تھا کہ خود کو شوٹ کر لے
وہ کیسے دشمن کے لیے دل میں نرم جذبات رکھ سکتا تھا—نا مارنا الگ بات تھی وہ سردار ہشتم کو بھی دھمکی لگا آیا تھا کہ ارمغان خان پر اس کی وجہ سے انچ بھی آئی تو حشر برپا کر دے گا—
اور خود پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا کہ اگر یہ بات ضرغام کو پتہ چلی تو وہ انہیں کمزور سمجھے گا—وہ سمجھے گا کہ شاہ آج بھی ان سے رشتہ نبھانا چاہتے ہیں—
تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتے نظریں اپنے کمرے میں داخل ہوتی حوریہ شاہ کی پشت سے ٹکرائی تو غم و غصے—بے بسی کی ایک لہر بالاج شاہ کو اپنے رگ و پے میں سرائیت کرتی محسوس ہوئی
تبھی جھٹکے سے پلٹ کر قدم حوریہ شاہ کے کمرے کی جانب بڑھائے
دھاڑ سے دروازا کھول کر اندر داخل ہوا تو
سٹڈی ٹیبل پر کتابیں سیٹ کرتی حوریہ ہڑبڑا کر پلٹی
اپنے سامنے کھڑے بالاج شاہ کی خون چھلکاتی آنکھیں دیکھ دل بری طرح دھڑکا تھا
جبکہ جان تو تب ہوا ہوئی جب بالاج شاہ نے پلٹ کر کمرے کا دروازا بند کیا
“کک—کیا ہوا ہے بالاج—دد-دروازا کک—کیوں بند کیا ہے”— خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے کپکپاتے لہجے میں استفسار کیا جبکہ اپنی جانب بڑھتے بالاج شاہ کے قدموں کو دیکھتے قدم بے ساختہ پیچھے لیے
وہ ابھی مزید قدم پیچھے لیتی کہ بالاج شاہ چیل کی طرح اس پر جھپٹا
حوریہ کی بازوؤں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے—جھٹکے سے دیوار سے لگایا
جس پر حوریہ کے ہونٹوں سے بے ساختہ چیخ نکلی
پھٹی پھٹی آنکھوں سے خود کو خونخوار نظروں سے گھورتے بالاج شاہ کو دیکھا—
بالاج شاہ کی سرخ خون چھلکاتی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ حوریہ کا دل دھک سے رہ گیا
“کیا وہ اس کی بیوقوفی کے بارے میں جان گیا تھا—مگر یہ بات تو صبغہ کے علاؤہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا—اور حوریہ جانتی تھی صبغہ مر تو سکتی تھی مگر حوریہ شاہ کو دھوکہ نہیں دے سکتی تھی—مگر چند دن سے وہ بالاج شاہ کی آنکھوں میں اپنے لیے عجیب سی چمک دیکھ رہی تھی— اس کا رویہ حوریہ سے پہلے سے بھی بہتر ہو گیا تھا—بالاج شاہ کی آنکھوں میں اسے محبت دکھی تھی—لیکن وہ اس محبت کو کوئی نام نہیں دے پائی تھی—وہ اسے بھی اپنی آنکھوں کا دھوکہ سمجھ کر جھٹلا چکی تھی”—ابھی وہ اپنی انہیں سوچوں میں گم تھی کہ بالاج شاہ کی سرد آواز کانوں سے ٹکرائی
“محبت کرتی ہو نا مجھ سے حوریہ شاہ”—- بالاج شاہ کے سرد لہجے میں کیے گئے سوال پر حوریہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے بالاج شاہ کو دیکھا جو تمسخر اڑاتی آنکھوں سے حوریہ شاہ کو دیکھ رہا تھا—
“نن—ہیں تو بالاج ای—سا کک—کچھ بھی نہیں”—آنکھیں پل میں لبالب پانیوں سے بھری تھی—نم لہجے میں کہتے نفی میں سر ہلایا
حوریہ کے انکار پر بالاج شاہ کا ہاتھ بے ساختہ اٹھا تھا اور حوریہ کے گلابی پھولے گال پر نشان چھوڑتا چلا گیا
“ایک لفظ جھوٹ نہیں سنو گا—میں نے دیکھی ہے ان آنکھوں میں محبت حوریہ شاہ— اور بالاج شاہ کی آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتی—کہو تمہیں مجھ سے محبت ہے”— حوریہ کو بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے چلا کر کہتے— پیچھے ہو کر ٹیبل پر ہاتھ مارتے سب کچھ زمین بوس کیا تو حوریہ نے اپنے ہونٹوں پر سختی سے ہاتھ رکھتے چیخوں کا گلا گھونٹا تھر تھر کانپتی وہ پیچھے دیوار سے لگتی چلی گئی
تبھی بالاج شاہ نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے جیسے اپنے خود کو نارمل کرنا چاہا— گہری سانس لیتے پلٹ کر حوریہ شاہ کو دیکھا
افف حور کیوں ڈر رہی ہو یار – محبت کرتی ہو نا مجھ سے تو محبت اسی طرح ثابت کی جاتی ہے—یہ گریز اور شرم و حیا کا محبت میں کوئی کام نہیں—کم آن یار اٹس نارمل ناؤ آڈیز—شاہ نے جھنجھلاتے ہوئے سر جھٹکا اور قدم کمرے کے کونے میں دیوار سے لگی تھر تھر کانپتی حوریہ شاہ کی جانب بڑھائے
جو پسینے سے تر جسم لیے—بری طرح کپکپا رہی تھی
ڈارک براؤن بالوں کی آوارہ لٹے ماتھے اور گردن پر پسینے کے باعث چپکی ہوئی تھیں—کرسٹل گرے آنکھیں رونے کے باعث سرخی مائل ہو رہی تھی—آنکھوں کے پپوٹے رونے کے باعث سوجھے ہوئے تھے
باریک گلابی لب خشک نظر آرہے تھے— گالوں پر مٹے مٹے آنسوؤں کے نشان تھے
جبکہ شاہ کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ وہ خود کو دیوار میں گم کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی
جو کہ نا ممکن تھا
“مم—میں نہی—یں کرتی محبت—نن—نفرت ہے مجھے تم سے شاہ—شدید نفرت—”—شاہ کے قریب آنے پر حوریہ شاہ نے چلا کر کہا تو شاہ نے اپنی سرخ انگارا ہوتی آنکھوں سے حوریہ کو گھور کر دیکھا
بالاج شاہ کا یہ روپ بھی ہوگا—اس نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا—
ایک ہی جست میں دو قدم کے فاصلے کو ختم کر کہ اپنے بائیں ہاتھ کی مٹھی میں حوریہ شاہ کے بالوں کو دبوچا—دائیں ہاتھ کو حوریہ شاہ کے ہونٹوں پر سختی سے رکھ کر اسے زور سے دیوار سے لگایا
جس کے باعث درد کی شدید لہر حوریہ کو اپنے رگ و پے میں سرایت کرتی محسوس ہوئی
“آواز نیچی حوریہ شاہ—ورنہ زبان گدی سے کھینچ لوں گا—تم لوگوں کی وجہ سے سب کچھ کھو دیا ہم نے—اپنا چاچو کھو دیا ہم نے—اپنے باپ کو کھو دیا—اور یہ سب کچھ تمہارے اس گھٹیا نیچ ماموں نے کیا—
دل تو میرا کر رہا ہے—ایک بھی سینکڈ ضائع کیے بغیر تمہارے اس نازک وجود کو اپنے پاؤں تلے روند دوں—اور پھر تمہارے ادھڑے جسم کو تمہارے ننھیال والوں کی حویلی کے آگے پھینک آو—پھر ولی خان کو اپنی چہیتی نواسی کے ناپاک ہوئے وجود پر دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے دیکھو—جو قیامت ہمارے دلوں پر گزری تھی ایک بار پھر وہ ولی خان کی حویلی پر گزرے تو مزہ اجائے”—شاہ کے ذہر میں ڈوبے ایک ایک لفظ پر حوریہ شاہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس سفاک شخص کو دیکھا
جس کی آنکھوں میں اس وقت حوریہ شاہ کے لیے صرف نفرت ہی نفرت تھی
تو کیا پھر وہ جو اتنے دنوں سے حوریہ شاہ ان آنکھوں میں محبت دیکھ رہی تھی—وہ شدت اور وہ جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیے گہری رات سی سیاہ آنکھیں جھوٹ بول رہی تھی—وہ سب فریب تھا حوریہ شاہ کو منہ کے بل گرانے کے لیے
ناجانے کتنے ہی آنسو پلکوں کی بار توڑ کر شاہ کے ہاتھ کی پشت پر گرے—
“وہ جو اتنے دعوے سے کہتی تھی کہ بالاج شاہ یا بہرام نے کبھی اس کے ننھیال کی دشمنی میں ان کو نہیں گھسیٹا تو کیا وہ جھوٹ تھا—وہ بھی اس سب میں ان کو قصوروار مانتے تھے–
ہونٹوں سے نکلنے والی بے ساختہ سسکی شاہ کے ہاتھوں تلے دبی رہ گئی
حوریہ شاہ کی کرسٹل گرے کانچ سی آنکھوں میں اپنی کالی گہری آنکھیں گاڑھے شاہ نے ایک ہی جھٹکے میں حوریہ کے گلے سے دوپٹہ کھینچ کر دور اچھالا تو
حوریہ کا اچھل کر جیسے حلق میں آگیا ہو
سر بے ساختہ نفی میں ہلا مگر وہ بے رحم بنتا حوریہ کو دونوں بازوؤں سے دبوچے زمین پر دھکا دے چکا تھا
ابھی وہ ستمگر حوریہ شاہ کو اس کی ہی نظروں میں گراتا—حوریہ شاہ کے معصوم جذباتوں کو روند دیتا—اس سے پہلے ہی کمرے کا دروازا دھاڑ کی آواز سے کھلا
________________
دروازا کھلنے کی آواز پر حوریہ نے تڑپ کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں بہرام شاہ غصب و غصے کی تصویر بنا کھڑا تھا—
بہرام شاہ کو خبر ملی تھی کہ بالاج شاہ ہشتم سردار کی باتوں میں آکر ارمغان خان کو قتل کرنے کا سوچے ہوئے ہیں
اسی لیے وہ پہلی فلائٹ سے پاکستان پہنچا تھا—مگر ارمغان خان کو صحیح سلامت ڈیرے کے قریب دیکھ وہ بالاج شاہ سے بات کرنے کی غرض سے گھر آیا تھا—
حوریہ کے دروازے کے قریب سے گزرتے بالاج شاہ کی آواز پر اس کے قدم بے ساختہ رکے تھے
اور اندر سے آتی آوازیں سن بہرام شاہ کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے
بالاج شاہ غصے کا برا تھا وہ جانتا تھا لیکن وہ غصے میں اس حد تک گر سکتا ہے اس بات کا اندازہ نا تھا بہرام شاہ کو تبھی دھاڑ سے دروازا کھولتے—
وہ لمحے میں بالاج شاہ کے سر پر پہنچا تھا—کالر سے تھامتے بالاج شاہ کا چہرہ اپنے سامنے کرتے وہ بت دریغ تھپڑ اس کے چہرے پر برسا چکا تھا—
جبکہ بالاج شاہ خاموشی سے سر جھکائے—اففف—کیے بنا بہرام شاہ سے مار کھاتا رہا
وہ جتنا بھی تیس مار خان بن جاتا لیکن اپنے بڑے بھائیوں کے سامنے وہ کبھی اونچی آواز میں بات بھی نہیں کر سکتا تھا—
“کاش— کاش بالاج تم میرے بھائی نا ہوتے—کاش— میرا دل تو چاہا رہا تمہارے ساتھ خود کو بھی شوٹ کر لوں— کیا کمی رہ گئی تھی میری محبت جا پرورش میں—بتاؤ مجھے”— بہرام شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ بالاج شاہ کا سچ میں قتل کر دیتا—تبھی غصے سے سرخ چہرہ لیے غرا کر کہتے بالاج شاہ کو کسی اچھوت کی طرح خود سے پڑے دھکیلا
“لل—لالا ایم سوری میں بس”—- ہونٹوں سے نکلتے خون کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے— بہرام شاہ کی جانب بڑھتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ کا ہاتھ ایک بار پھر اٹھا تھا کہ بالاج شاہ لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر گرا تھا—
“بس—کیا بس گھٹیا انسان— تم آج صرف اسے نہیں اپنے بھائی اور ماں کو بھی رسوا کرنے جا رہے تھے— تمہیں ایک بار بھی اس پر ترس نہیں آیا—اس ہر نہیں تو خود پر ترس کھا لیتے—کیا منہ دکھاتے حدائق شاہ کو کیا جواب دیتے چچی کو یا کیا جواب دیتے روز محشر ان کے باپ کو”— بالاج شاہ کے پیٹ پر ٹھوکر مارتے چلاتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ نے سختی سے ہونٹ بھنچتے—نم نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھا
“ایم سوری لالا – میں غصے میں کچھ سمجھ نا سکا— مجھے معاف کر دے—آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گا— لیکن خدارا مجھے چچی اور ماں کی نظروں میں شرمندہ ہونے سے بچا لیں—پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دے—مجھے لگا میں سب کچھ کھو دوں گا—مجھے اہنا آپ ان خانوں سے ہارتا محسوس ہو رہا تھا—میں بس انہیں نیچا”— پلٹ کر حوریہ کی جانب بڑھتے بہرام کی ٹانگ تھامتے اٹھ کر اس سے سر ٹکاتے روتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے خون چھلکاتی نظروں سے پلٹ کر بالاج شاہ کے سسکتے وجود کو دیکھا
“انہیں نیچا دکھانے کی ضد میں تم خود اتنا نیچے گر گئے بالاج— انسانیت سے بھی— معاف تو میں تمہیں کبھی نہیں کروں گا— اور تب تک تو بالکل نہیں جب تک حوریہ نا کر دے—لیکن میں تم سے نفرت نا کروں تو دفع ہو جاؤ یہاں سے—اور جب تک میں اسے عزت سے رخصت نا مردوں پلٹ کر حویلی مت آنا”—- بالاج شاہ کو خود سے جھٹکتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے قدم دیوار کے ساتھ سکڑی سمٹی ساکت آنکھیں زمین پر ٹکائے بیٹھی حوریہ کی جانب بڑھائے
بالاج شاہ نے کھڑے ہوتے—یاک شرمندہ نگاہ حوریہ شاہ کے وجود پر ڈالی اور وہاں سے ہمیشہ کے لیے نکلتا چلا گیا—
___________
اس بات کا ذکر حوریہ نے کسی سے نہیں کیا تھا—پہلے تو وہ پتھر ہو کر رہ گئی تھی—
بہرام شاہ ہر روز اس سے آکر معافی مانگتا تھا—حوریہ کو زندگی کی طرف لانے کی کوشش کرتا تھا—اور پھر بہرام شاہ کی اتنی محبت کا نتیجہ تھا کہ وہ زندگی کی طرف لوٹ آئی
پھر حوریہ نے خود ہی بہرام سے اسلام آباد جا کر سٹڈی کنٹنیوں کرنے کا کہا تو بہرام شاہ نے خوشی خوشی اجازت دے دی
لیکن اتنے عرصے میں بالاج شاہ نے حویلی کیا ملک میں بھی قدم نہیں رکھا تھا
اور حوریہ جانتی تھی کہ بہرام شاہ بھی اس سے بات نہیں کرتا—وہ خود موو اون کر چکی تھی—
وہ دن اسے کسی نائیٹ مئیر کی طرح ڈراتا ضرور تھا—مگر وہ اس ڈر کا مقابلہ کرنا سیکھ گئی تھی
تبھی اس نے بہرام شاہ سے کہہ دیا تھا کہ وہ بالاج کو معاف کر چکی ہے—اور وہ چاہتی ہے کہ وہ بھی اپنے بھائی کو معاف کر دے—
جس پر بہرام شاہ نے خاموشی سے سر اثبات میں ہلا دیا
اور پھر کافی دنوں بعد بالاج شاہ کے ایکسیڈینٹ کی خبر سنتے بہرام اس سے ملنے ترکی گیا تھا اور وہاں بالاج کو معاف کر آیا تھا
بہرام شاہ کی معافی کے باجود بھی وہ بہت کم پاکستان آنے لگا تھا
جبکہ اسلام آباد آنے کے بعد حوریہ کا کئی بار عائث خان سے سامنہ ہوا تھا
جس پر دونوں نے ایک دوسرے سے ہمیشہ نفرت کا ہی اظہار کیا تھا
یہ جانے بغیر کہ یہ نفرت کتنی شدید محبت میں بدلنے والی ہے
___________
اس واقعے کو کافی وقت گزر گیا تھا— ولیم سے اس دن کے بعد عقیدت کا سامنہ نہیں ہوا تھا—
اس وقت وہ فارم ہاؤس کے قریب اپنے گھوڑے کے ساتھ گھومنے نکلی ہوئی تھی کہ واپسی پر ولیم کی گاڑی فارم ہاؤس کے باہر کھڑی دیکھ وہی رک گئی
عقیدت کو گھوڑے سے اترتے دیکھ ولیم نے گاڑی سے نکل کر قدم عقیدت کی جانب بڑھائے
“ہائے کیسی ہو—اس دن تم بنا بتائے چلی گئی”— ولیم کے اس قدر جھوٹ بولنے پر عقیدت نے سختی سے مٹھیاں بھینچی
مگر فلحال وہ اس شخص کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی
گہری سانس بھرتے نگاہ اردگرد دوڑائی آج بھی خود کو ضرغام خان کے گارڈز کی نگرانی میں محسوس کرتے عقیدت نے ہونٹ بھنچے
“میرا شوہر آگیا تھا—مجھے جانا ہی تھا اس کے ساتھ— تمہیں تو پتہ ہی ہوگا—تمہارے سامنے سے ہی لے کر گیا ہوگا—میں تو ہوش میں نہیں تھی – مطلب مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب نیند آگئی—نیند بھی ایسی کہ جیسے نشہ کیا ہو”— بھگو بھگو کر طنز کہ تیر مارتی وہ ولیم کو گڑبڑا نے پر مجبور کر گئی
“آہ—ہاں دیکھا تھا میں نے—میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں عقیدت—تم ایک بار—صرف ایک بار تو مجھے چانس دو—وہ شخص ٹھیک نہیں تمہارے لیے”—اندر بڑھتی عقیدت کے پیچھے لپکتے التجائیہ لہجے میں کہا تو عقیدت نے پلٹ کر سخت نظروں سے ولیم کو دیکھا جسے سرے سے نظر انداز کرتا وہ عقیدت کے سامنے آکر کھڑا ہوا
میں تم سے دیوانوں کی طرح محبت کرتا ہوں ایمیلیا۔۔ آئی لو یو سو مچ ڈیم اٹ۔۔ مجھے ایک چانس تو دو۔۔ میں اسلام قبول کر لوں گا—میں بالکل تم لوگوں جیسا بن جاؤں گا – مجھے صرف ایک موقع دے دو – میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا—میرا یقین کرو میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر”
“اووو جسٹ شیٹ اپ— ایک لفظ اور نہیں— ورنہ زبان گدی سے کھینچ لوں گی– میں ایک شادی شدہ عورت ہوں—اور میرا شوہر مجھ سے بہت پیار کرتا یے— میرے لیے اس سے بڑھ کر کچھ بھی بہتر نہیں ہو سکتا—سمجھے تم—اب اگر تم نے کبھی یہ بات دوبارا کی تو اپنے ہاتھوں سے تمہیں شوٹ کروں گی”— ولیم کی شرٹ کا کالر دبوچتے دبے دبے لہجے میں چلا کر کہتے پیچھے دھکا دیا تو ولیم نے آنکھوں میں بے یقینی لیے عقیدت کو دیکھا وہ عقیدت سے ایسے رویے کی ہر گز امید نہیں رکھ رہا تھا
“محبت کرتا ہے تو تمہیں چھوڑ کر کیوں چلا گیا—یہاں کیوں نہیں ہے تمہارے ساتھ—میں جانتا ہوں کہ تمہارا اور اس کا تو ہسبنڈ وائف والا کوئی ریلیشن ہے ہی نہیں”—- اپنا کالر ٹھیک کرتے ایک بار پھر سے عقیدت کے سامنے کھڑے ہوتے چلاتے ہوئے کہا تو عقیدت نے خود ہر ضبط کرنے کی لاکھ کوشش کی مگر ولیم کی بکواس ہر اس کا ہاتھ اٹھتا ولیم کے گال پر نشان چھوڑتا چلا گیا
“تم ہوتے کون ہو یہ بتانے والے کہ میرا اس سے کیا ریلیشن ہے یا نہیں— تم شاید ثبوت کے بنا نہیں مانو گے—رائٹ—ولیم کی آنکھوں میں دیکھتے—اپنی گردن کے گرد لپٹے مفلر کو ہٹاتے شرٹ کا کالر سائیڈ پر کیا تو ولیم نے بے یقینی سے عقیدت شاہ کی گردن پر موجود نشانوں کو دیکھا
گردن پر موجود ضرغام خان کی شدتوں کے نشان اتنے دن بعد بھی اتنے ہی گہرے تھے—سرخ ونیلے نشان دیکھتے ولیم نے سختی سے آنکھیں میچتے—قدم پیچھے لیے تھے—
وہ تو سمجھ رہا تھا کہ اس کا شوہر اسے قبول نہیں کرے گا اگر وہ کر بھی لیتا تو عقیدت اپنے باپ کو قاتل کہنے والے کو کبھی ایکسپٹ نہیں کرے گی
“مجھے امید ہے کہ اس سے زیادہ ثبوت کی ضرورت نہیں ہوگی”— سپاٹ لہجے میں کہتی وہ اندر کی جانب بڑھ گئی تھی—جبکہ ولیم سکتے کے عالم میں کافی دیر وہی کھڑا رہا
اور پھر تھکے تھکے قدموں سے وہاں سے نکلتا چلا گیا
____________
“عقیدت کہاں ہو تم—ویلیم نے سوسائیڈ کر لی ہے — جلدی پہنچو میرے فلیٹ پر”—کانوں میں عینی کی آواز گونجی تو عقیدت جھٹکے سے اٹھی
وہ جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی سوئی تھی اس بات پر بری طرح بے چین ہوئی تھی—
اپنے کل کے الفاظ یاد آئے تو دل بری طرح پیشمان ہؤا
وہ اور کرتی بھی کیا—وہ کیسے شادی شدہ ہونے کے باجود کسی مرد کو کئی اس یا امید دے سکتی تھی
وہ شادی شدہ نا بھی ہوتی تو ولیم کی اس کی حرکت کے بعد وہ اسے کبھی قبول نا کرتی—
ولیم بریج سے کود کر سوسائید کی تھی—اتنےدن تلاش کرنے کے باوجود بھی اس کی ڈیڈ باڈی نا مل سکی
ولیم کی موت پر اسے افسوس تھا—مگر دکھ اپنے الفاظ کا تھا—اور ان الفاظوں نے ہمیشہ اسے گلٹ میں رکھا تھا
گزرتے سالوں کے ساتھ ضرغام خان سے جتنی نفرت ہوئی تھی اتنی محبت بھی ہوئی تھی—لیکن محبت کو ہمشہ نفرت کے لبادے میں چھپایا تھا—
وہ اس کے سامنے نہیں آیا تھا—لیکن وہ دور رہتے ہوئے بھی ہر لمحہ عقیدت کا نگران بنا رہا تھا—
زندگی کے ہر موڑ پر وہ اس کی حفاظت کرتا رہا تھا—اور اس کا یہی سب کچھ کرنا کبھی عقیدت کے دل میں ہلچل مچا دیتا اور کبھی اسے بدزن کر دیتا
کبھی اسے لگتا کہ وہ صرف اپنی عزت کی وجہ سے کر رہا ہے اور کبھی لگتا محبت کی وجہ سے
زندگی کے کئی سال اسی کشمکش میں گزرتے چلے گئے
_____________
حال:-
داجی—آپ کیسے اتنا بڑا فیصلہ ہم سے پوچھے بغیر کر سکتے ہیں—ہمیں یہ رشتہ کسی قیمت پر قبول نہیں ہے—آپ آج اور ابھی ہی حلیمہ کو جواب دیں گے”— مقدس اور کشف بیگم جب حویلی آئیں تو داجی نے انہیں کمرے میں بلا کر اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو مقدس بیگم تو بھڑک ہی اٹھی
ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کر دیں—جبکہ کشف خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھیں
مقدس بیگم کے سامنے ان کی بولنے کی ہمت نہیں تھی—ورنہ اپنی بیٹی کے لیے بہرام شاہ جیسے شخص کے رشتہ کا سن انہیں خوشی ہوئی تھی—
بہرام انہیں ویسے بھی باقی سب لڑکوں سے سلجھا ہوا اور نرم مزاج کا لگا تھا
اگر داجی صرف ان سے پوچھتے تو وہ ضرور ہاں کر دیتی لیکن ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی مقدس بیگم بھڑک اٹھیں تو کشف بیگم نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی
“زبان کو لگام دو بہو— پہلے ایسے فیصلے عورتوں نے کیے تھے جو اب ہم تمہاری رائیں لیتے—تم دونوں کو صرف فیصلے سے آگاہ کرنا فرض تھا اور وہ کر دیا—اور لڑکوں کو اطلاع کر دی ہے میں نے—کل تک سبھی آجائیں گے— پھر آمنے سامنے بیٹھا کر بات کرو گا میں ان سے— آپس میں لڑنا جھگڑنا ہے یا پیار محبت سے رہنا ان کا مسئلہ مگر ان کی وجہ سے بچیوں کو کوئی تکلیف پہنچی تو انجان کے زمہ دار وہ ہوگے—مگر جہاں تک میرا اندازہ ہے یہ جڑنے والے نئے رشتے پرانی ساری خلش ختم کر دیں گے— اپنی اپنی بہنوں کی ہی وجہ سے جب ایک دوسرے کا لحاظ و احترام کریں گے تو محبت بھی کرنے لگ جائیں گے— اور اب تم دونوں جا سکتی ہو یہاں سے”— صاف الفاظ میں مقدس بیگم کو جواب دے کر جانے کا کہا تو کشف بیگم سب سے پہلے سر ہلاتی وہاں سے نکلی تھیں
کیونکہ وہ اس وقت مقدس بیگم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی— انہیں یقین تھا کہ مقدس بیگم اب انہیں پریشرائز کریں گی کہ وہ اپنی بیٹی کو اس رشتے سے انکار کرنے پر مجبور کریں— اور کشف بیگم کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا
“یہ بہت غلط کر رہیں داجی اپ— بہت پچھتائیں گے آپ”—- مقدس بیگم کے دانت کچکچا کر کہنے پر داجی نے ہاتھ میں تھامی کتاب سے نظریں ہٹا کر انہیں دیکھا تو ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی
“پچھتا تو ہم بہت پہلے چکے ہیں بہو— اب پچھتاووں سے بچنے کے لیے یہ فیصلے لے رہے ہیں— تم صبر و شکر سے کام لو یہ نا ہو تمہیں پچھتانا پڑے جائیں—اب جاؤ ہمارے سونے کا وقت ہو رہا ہے”—- کتاب بند کرتے سرد لہجے میں کہا تو مقدس بیگم مٹھیاں بھینچتی جھٹکے سے پلٹی وہاں سے نکلتی چلی گئی
جبکہ داجی نے کپکپاتے ہاتھوں سے چشمہ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھتے—ٹیبل پر پڑے فریم کو اٹھاتے اپنی آنکھوں کے سامنے کیا
شیر خان اور بہادر خان کی مسکراتی تصویر دیکھ کر ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ رینگ گئی
آنکھوں سے آنسوں متواتر سے بہنے لگے
“لوگ کہتے ہیں جوان اولاد کا جنازہ اٹھانا مشکل ہوتا ہے—میں نے تو دو دو جوان شیروں کے خون سے لت پت وجودوں کو سینے سے لگایا اور قبر میں اتارا ہے—تمہاری ماں کہتی تھی خان جی آپ بہت صابر ہے—کسی بھی مشکل کا سامنہ کر سکتے—جب تم دونوں کو قبر میں اتارا تو اپنے صابر ہونے پر بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے کو جی چاہا— لگتا تھا دل پھٹ جائے گا— آج یہاں دو قبریں ہیں کل میں بھی یہی آکر دفن ہو جاوں گا—مگر ہر گزرتا دن مجھے موت سے دور کرتا گیا—اور جب اپنے پوتوں کو کے چہروں میں تم لوگوں کا عکس دیکھا— تو خود کے زندہ رہ جانے میں رب کی مصلحت نظر آگئی— صابر ہونے کا پھل مل گیا— اب بس رب مجھے تم لوگوں کا انصاف دلوا دیں—تا کہ سکون سے مر سکوں”— تصویر کو گلے سے لگائے بھرائے لہجے میں سرگوشی کرتے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا لیا
_____________
“تم ادھر ہو میں تمہیں پوری حویلی میں ڈھونڈ رہی ہوں”—- سلوی کو گرین ہاؤس میں پرندوں کے پاس بیٹھے دیکھ ثمرین بیگم نے کہا تو سلوی نے مسکراتے ہوئے پلٹ کر انہیں دیکھا
“کوئی کام تھا تو ملازمہ کو کہہ کر بلالیتی”—پنجرے کے پاس سے اٹھتے ہوئے صوفے کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے کہا تو ثمرین بیگم نے نفی میں سر ہلایا
“کام نہیں تھا—بات کرنی تھی اور کان کھول کر بات سن لو اس بار پہلے کی طرح کوئی ڈرامہ کیا تو یاد رکھنا سلوی میں تمہاری عمر کا لحاظ بھی نہیں کروں گی—اور جوتی سے پٹائی کروں گی”— صوفے پر سلوی کے قریب بیٹھتے تنبیہہ لہجے میں کہا تو سلوی نے قہقہہ لگاتے ثمرین بیگم کو دیکھا
“کیوں بھئی ایسا کیا کر دیا میں نے—اور کونسی بات کان کھول کر سننی ہے—اور جہاں تک مجھے اندازہ ہے ہم کان کھول کر ہی سنتے ہیں کیونکہ یہ بند تو ہوتے نہیں”— گرے آنکھوں کو معصومیت سے پٹپٹاتے ہوئے کہا تو ثمرین بیگم نے گھور کر سلوی شاہ کو دیکھا
“مزاق کا وقت نہیں ہے سلوی— سنجیدہ ہو جاؤ لڑکی—تمہارے بھائی کے کہنے پر داجی سے ان کی پوتی امتثال کا ہاتھ مانگا ہے—اور انہوں نے ہاں بھی کر دی ہے—بس لڑکوں سے اور امتثال سے مشورہ کرنا ہے—اور اس مہینے کی تاریخ بھی رکھ دی ہے—اور تمہارے بھائی نے ارمان کے گھر والوں کو بھی ہاں کر دی ہے—اس بار یہ ہاں تمہارے کہنے پر ہی کی ہے—اسی لیے ہمیں شرمندہ مت کرنا—جو تیاریاں کرنی ہے لسٹ بنا لو— تمہارے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کروا دوں گی—اور کچھ چیزیں ہم ساتھ جا کر لے آئیں گی”—- ثمرین بیگم کیا کہہ رہی تھیں—سلوی کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا
اس کا دماغ تو ارمان والی بات پر اٹک چکا تھا—
ثمرین بیگم کب اپنی بات کر کہ گئی سلوی کو کچھ ہوش نا تھا—
بے جان ہوتے وجود کے ساتھ اٹھتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی
________
بیڈ پر بیٹھتے کانپتے ہاتھوں سے موبائل فون پر ارمغان خان کا نمبر ڈائل کیا
چہرہ مسلسل آنسوؤں سے تر ہو رہا تھا— گلابی ہونٹ بری طرح پھرپھرا رہے تھے—
دل اپنی بیوقوفی پر دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا—
دوسری ہی رنگ پر فون اٹھا لیا گیا تھا
فون میں گونجتی ارمغان خان کی گھمبیر آواز کو سنتے سلوی کا دل دھک سے رہ گیا
“ارمغان”— نم بھرائے لہجے میں سرگوشی نما لہجے میں کہا تو ڈیرے میں بیٹھے حساب کتاب کرتے ارمغان خان کے ہاتھ بے ساختہ تھمے تھے
سلوی کا نم لہجے محسوس کرتے دل پل میں بے چین ہوا تھا
“کیا ہوا ہے تمہیں— کیوں رو رہی ہو—کسی نے کچھ کہا ہے—تم کیا گاؤں سے باہر گئی ہو—کسی نے وہاں کچھ کہا ہے—مجھے سچ بتاؤ کیا ہوا ہے”—- جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتے ایک ہی ساتھ سارے سوال کر ڈالے
دل بری طرح دھڑک رہا تھا—جبکہ ارمغان خان کی اتنی فکر پر سلوی نے مٹھی ہونٹوں پر رکھتے اپنی سسکیوں کو روکا
“تم بتا رہی ہو یا میں لوکیشن ٹریس کر کہ پہنچو”—دبے دبے لہجے میں چلا کر کہتے بے بسی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا
“تت—تم تم ہو وجہ اپنا کیا بھول گئے— تم نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے ارمغان خان— میں تم سے بالکل شادی نہیں کروں گی سمجھے آئی ہیٹ یو”— ہچکیوں سے روتے چلاتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے پہلے بے یقینی سے موبائل کی سکرین کو دیکھا اور پھر سمجھ آنے پر سکون کا سانس لیا جبکہ سلوی کہ آخری بات پر سختی سے مٹھیاں بھینچی
“شہزادی یہ شکوہ فون پر کیے جانے والا تو نہیں— تم میرے سامنے یہ بات کرتی تو یقین جانو—جتنی تکلیف دی اس سے دگنا ازالہ کرتا—اور یہ جو آخر میں بکواس کی ہے شکر کرو سامنے نہیں—ورنہ زبان گدی سے کھینچ لیتا—اور یقین رکھو مجھے گونگی بیوی سے کوئی مسئلہ نہیں ہونا تھا”— دوبارا سے صوفے پر بیٹھتے سکون سے آنکھیں موندتے سپاٹ لہجے میں کہا تو سلوی شاہ نے بری طرح لب کچلے
دل چاہ رہا تھا کہ اسے بتا دے—مگر دماغ کہہ رہا تھا کہ وہ حشر برپا کر دے گا—اور آنا میں آکر اپنی بہن کا رشتہ نا کیا تو بہرام شاہ کا کیا بنے گا—وہ اپںے بھائی کی محبت کی راہ میں دیوار نہیں بن سکتی تھی—وہ رشتے سے انکار کر دے گی—بہرام شاہ کو سب بتا دے گی—یہی سوچتے وہ چپ ہو گئی تھی—
“میں تمہارا منہ نا نوچ لوں گی”—ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے طنزیہ لہجے میں کہا تو ارمغان خان کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“جی بھر کر چوم لینا روکا کس کافر نے ہے”— ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے شریر لہجے میں کہا تو ارمغان خان کی بے باکی پر سلوی پل میں سرخ انار ہوئی تھی—
“کان خراب ہو گئے ہیں تمہارے—عمر کا تقاضہ— علاج کرواؤ کسی اچھے ڈاکٹر سے”— بالوں کو کان کے پیچھے اڑستے تمسخرانہ لہجے میں کہا تو سلوی کی بات پر ارمغان خان نے سمجھنے کے انداز میں سر اثبات میں ہلایا
“کان نہیں—دل خراب ہو گیا ہے—جوانی کا تقاضہ ہے—جذبات امڈ امڈ کر آرہے ہیں اب قابو پانہ مشکل ہے—دل چاہ رہا ہے تم سامنے ہو اور میں اپنی ساری شدتیں تمہارے نازک وجود پر نچھاور کرروں— اتنی کھٹی مٹی میری شہزادی ہے دل چاہ رہا ایک بار کھا جاؤں”—– ارمغان خان کے شوخ لہجے میں کی گئی بے باک پر وہ جی جان سے کانپی تھی—چہرے خدوخال میں پل میں سرخیاں گھلی تھیں—زبان تو جیسے تالو سے چپک چکی تھی
“بتمیز—بے شرم لوفر انسان— بات مت کرنا مجھ سے”—- دبے دبے لہجے میں چلا کر کہتے ارمغان خان کی سنے بغیر فون رکھ دیا تو ڈیرے پر بیٹھے ارمغان خان کے قہقہے بے ساختہ تھے
