Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 23)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 23)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
ماضی۔۔۔
حدایت کو خط لکھا ہے میں نے یقین ہے جلد ہی جواب اجائے گا—مگر اس سے پہلے میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں—کیا تمہیں بھی لگتا ہے بہادر خان کے حدایت شیر خان کے ساتھ ایسے کر سکتا ہے—وہ بھی دولت کے لیے—کیا اس کے پاس دولت کی کمی ہے—میرا سب کچھ بھی تو میرے بھائی کا ہی ہے نا—— مگر اس نے آج تک مجھ سے اپنے حصے کا بھی جواب نہیں مانگا وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے—کیا تمہیں لگتا ہے کہ وہ شاہ ہو کر اتنا بغیرت ہو سکتا ہے کہ اپنی چھوٹی سی بیٹی کا نکاح پیسے کے لالچ میں کرے”— سمیر شاہ کے سوالیہ لہجے پر بہادر خان نے نفی میں سر ہلاتے ان کی جانب دیکھا—
“نا لالا—ایسا تو ہم مرکے بھی نا سوچ سکتا—مگر جو مر گیا ہے نا وہ خون تھا میرا—وجود کا حصہ تھا—اور کوئی وجود کے حصے کو اتنی بے رحمی سے کاٹ کر جدا کر ڈالے تو کسی انسان خود پر یقین کرنے کے قابل نہیں رہتا کسی پر کیا کرے گا—اگر قاتل حدایت شاہ نہیں تو کون ہے—کس سے اپنے بھائی کے خون کا بدلہ لیں— ہمارا پلوشے بہت چھوٹا ہے لالا—اس نے تو ابھی باپ کا شفقت بھی نا دیکھا تھا—ہم کیا منہ لے کر جائے اپنے بھائی کے بچوں کے سامنے کہ ان کے باپ کے قاتل کو ہی تلاش نا کر سکے—سزا نا دلوا سکے—بھائی کی محبت اور احسانوں کا بہت بوجھ ہے—اور وہی بوجھ ہمیں بے بس کر رہا ہے”— اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے نم لہجے میں کہا تو سمیر شاہ نے گہری سانس لیتے بہادر خان کی پشت کو دیکھا—
میدان چلتے ہیں—ضرور کوئی ثبوت ہمیں مل جائے گا— ویسے بھی اس جگہ پر اس دن سے کوئی نہیں گیا— تو اگر کچھ ہوا بھی تو یقیناً اس رات سے تعلق ہوگا اس کا— اور اس بار ہم اس میں کسی کو شامل نہیں کرے گے—چاہے وہ انسپکٹر ہی کیوں نا ہو—”— سمیر شاہ کے کہنے پر بہادر خان نے پر سوچ نظروں سے انہیں دیکھتے سر اثبات میں ہلایا ابھی وہ کچھ کہتے کہ بہادر خان کا خاص آدمی ڈیرے کے کمرے میں اردگرد احتیاط سے دیکھتا داخل ہوا
“بہادر لالا ایک ضروری خبر لایا ہوں”—چادر میں چہرہ چھپائے دھیمے لہجے میں کہا تو بہادر اور سمیر شاہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا
کیسی خبر مرجان”— بہادر خان نے آگے بڑھتے— حیرت سے استفسار کیا تو مرجان نے چہرے سے چادر ہٹاتے ایک نظر سمیر شاہ کو دیکھتے بہادر خان کو دیکھا—
“خان—اس رات جب شیر خان کا قتل ہوا تو حدایت شاہ وہاں نہیں تھا—”— مرجان کے سرگوشیانہ لہجے میں کہنے پر بہادر اور سمیر شاہ نے چونک کر اسے دیکھا
“کون تھا پھر وہاں—اگر حدایت وہاں نہیں تھا تو اس کے خلاف ثبوت کیسے وہاں پہنچے”— سمیر شاہ کے سخت لہجے پر مرجان خان نے انگلی ہونٹوں پر رکھتے آہستہ بولنے کا اشارہ کیا
“ہششش—حوصلہ شاہ—دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں—اور جب دشمن آستین میں چھپا ہو تو تب زیادہ محتاط ہونا چاہیے— شیر خان کا قتل جس وقت ہوا— ٹرین یہاں سے جا چکی تھی—اور اس کے بعد اگلے تین دن تک کوئی ٹرین کراچی نہیں گئی—جبکہ حدایت کو جو آرمی کا خط ملا تھا اس کے مطابق اسے اس شام ڈیوٹی پر پہنچنا تھا—اگر وہ قتل کر کہ چھپتا بھی تو تین دن بعد ڈیوٹی پر پہنچتا جو کہ وہ ہرگز نہیں کرسکتا تھا—اور سب سے اہم بات—بادام گل کو انسپکٹر جبار کے ساتھ دیکھا گیا ہے—قتل والی شام اور کے بعد بھی—ایک مجرم کا پولیس والے سے کیسا یارانہ ہو سکتا ہے—”—- مرجان خان کے سرگوشیانہ لہجے پر سمیر شاہ اور بہادر خان نے حیرت سے اس انکشاف پر ایک دوسرے کو دیکھا—
“مم—مطلب—بادام گل—اگر شیر خان کے مجرم کو ڈھونڈنا ہیں تو میدان جا کر ثبوت تلاش کرنے ہوگے ہمیں—کیونکہ قتل کے بعد اس جگہ پر پولیس نے چھان بین کی تھی—ہمیں وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی— اب ہمیں اکیلے ہی وہاں جا کر چھان بین کرنی ہوگی—اگر انہیں خبر ہو گئی تو وہ ثبوت مٹانے کی کوشش کریں گے”— بہادر خان کے کہنے پر مرجان خان اور سمیر شاہ نے سر اثبات میں ہلایا
ہم آج شام ہوتے ہی میدان کی طرف جائیں گے—کیونکہ اس وقت وہاں کوئی نہیں ہوتا— تو ہمارا اس وقت جانا ہی مناسب رہے گا”—- سمیر شاہ کے کہنے پر مرجان خان اور بہادر خان نے سر اثبات میں ہلایا
اب میں نکلتا ہوں اگر کسی کو خبر ہوگئی تو انہیں شک ہو جائے گا کہ ہم کچھ جانتے ہیں”— مرجان خان کے چہرہ چادر میں چھپا کر کہنے پر ان دونوں نے سر اثبات میں ہلایا تو مرجان آہستہ سے دروازا کھولتا اردگرد نگاہ دوڑاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
__________
آپ کہیں جا رہے ہیں چچا”— بہادر خان کو کمرے سے نکلتے دیکھ ضرغام خان نے استفسار کیا تو آگے بڑھتے بہادر خان نے پلٹ کر ضرغام خان اور ضرغام کے کندھے پر چڑھ کر بیٹھے ارمغان خان کو دیکھا— جبکہ ضرغام خان کے دائیں جانب خاموشی سے کھڑے عائث خان کو دیکھتے ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
ان تینوں کو اندر آنے کا اشارہ کرتے وہ واپس کمرے میں چلے گئے
“لالا بہت محبت کرتے تھے مجھ سے—کبھی مجھے ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی—تم لوگوں نے باپ کھویا ہے تو میں نے ایک بار پھر ماں کھو دی ہے— اپنی بات کہتے انہوں نے گہری سانس لی ضرغام کو لگا وہ اپنے نم لہجے کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں
“میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا— چاہے پاؤں سے زمین نکل جائے یا سر پر آسمان ٹوٹ جائے– اپنے ہوش و حواس قائم رکھنا— کبھی بھی وہ نا دیکھنا جو لوگ تمہیں دکھانا چاہے— وہ دیکھنا جس بات کو دیکھنے پر تمہارا دل چیخ کر گواہی دے رہا ہو—منظر کے پسِ منظر کو صرف اپنی آنکھوں سے دیکھنا— رشتے جتنے گہرے ہوتے ہیں اتنے ہی نازک بھی ہوتے ہیں—اور جب کوئی دشمن آپ کو ویسے نا ہرا پائے تو وہ آپ کے رشتوں پر وار کرتا ہے—جس طرح دشمن نے شیر خان اور حدایت کی دوستی پر کیا ہے—- ابھی وہ بات مکمل کرتے کہ کمرے میں داخل ہوتی کشف بیگم کو دیکھ کر خاموش ہو گئے
“اپنا اور بہن بھائیوں کا خیال رکھنا— میں جب تک لوٹ نا آؤ بادام گل کو حویلی کی حدودں میں داخل نا ہونے دینا— کھڑے ہوتے ضرغام خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے آہستہ آواز میں کہا کہ تو ضرغام خان نے چونک کر بہادر گل کے سنجیدہ چہرے کو دیکھا اور سر اثبات میں ہلایا
میرے ارمغان کا خیال رکھنا ضرغام—بالکل ویسے جیسے لالا میرا رکھتے تھے “— ارمغان خان کے چہرے پر پیار کرتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے مسکرا کر منہ بسورتے ارمغان خان کو دیکھا—
“بابا جتنی محبت نہیں کر سکتا—کیونکہ چھوٹے خان کے لیے میری محبت کی کوئی حد نہیں –دل میں کہتے کمرے سے باہر جاتے بہادر خان کو دیکھتے خاموش کھڑے عائث خان کے کندھے کے گرد اپنا بازو پھیلاتے مسکرا کر دیکھا تو عائث خان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
_________
اس جگہ پر لالا کی لاش پڑی تھی – اور وہ اس جانب سر کیے گرے تھے—مطلب جس نے حملہ کیا ہوگا اس نے پیچھے سے اس جانب سے کیا ہوگا”—- بہادر خان نے قتل والی جگہ کے گرد ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تو ہاتھ میں ٹارچ تھامے سمیر شاہ نے سر اثبات میں ہلایا
“وہ خان کی— پولیس کی تفتیش پر یقین نہیں تھا—جو خود رات گئے قاتل کے بھائی کے ساتھ تفسیش کرنے پہنچ گئے’— اپنے عقب سے آتی آواز پر بہادر خان اور سمیر شاہ نے سختی سے آنکھیں میچتے—پلٹ کر سخت نظروں سے انسپکٹر جبار کو دیکھا
“مت بھولو انسپکٹر ہم اس گاؤں کے نئے سردار ہے—اور گاؤں میں ہوئے قتل کی تفتیش کرنا اور سزا دینا ایک سردار کا فرض ہے—اور قتل جب بھائی کا ہو تو— تفسیش کرنی پڑے یا کئی راتیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا”— سرد لہجے میں کہتے انسپکٹر کو ہاتھ کے اشارے سے جانے کا اشارہ کیا تو انسپکٹر جبار کا مکروہ قہقہہ فضا میں گونجا
“او ہوں— غلط مت سمجھے خان صاحب— ہم تو بس یہی کہہ رہے— اتنی زحمت کرنے کی کیا ضرورت ہے—ہم سے کہے ہم آپ کو ڈائریکٹ مجرم—اور معاف کیجیے گا—قاتل سے ملوا دیتے ہیں”—- انپسکٹر جبار کے کہنے پر سمیر شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھینچتے آگے بڑھ کر انسپکٹر جبار کے منہ پر بے دریغ مکے برساتے نیچے زمین پر دھکا دیا
“چھوڑو گا نہیں میں تمہیں— حرام خور— گھٹیاں غدار شخص— بتاؤ کیوں قتل کیا شیر خان کا— ورنہ جان سے مار دوں گا”—انسپکٹر جبار پر مسلسل مکہ برساتے چلاتے ہوئے کہا تو پیچھے کھڑے بہادر خان نے اپنی پشت پر کسی کی موجودگی محسوس کر کہ پلٹ کر دیکھا تو اپنے پیچھے بادام گل اور اپنے ڈیرے پر کام کرنے والے چند ملازموں کو دیکھتے بہادر خان کی آنکھوں میں بے یقینی در آئی
“تم لوگوں کو کیا لگا—کہ تم لوگوں کو ثبوت ملے گا تو ہم ثبوت کے ساتھ تم لوگوں کو چھوڑ دیں گے—چچچچ بہت ہی معصوم اور بیوقوف ہو تم لوگ— تمہارے بھائی نے بھی یہی بیوقوفی کی دوست کو بچانے کی خاطر خود کو موت کے گھاٹ اتار دیا”— بادام گل کے مکروہ لہجے پر بہادر خان نے آگے بڑھتے دونوں ہاتھوں میں اس کا گریبان دبوچا
“کیوں قتل کیا میرے لالا کو بادام گل کیوں— کیا بگاڑا تھا انہوں نے تمہارا گھٹیا انسان— کس چیز کا بدلہ لیا تم نے”— بہادر خان کے غرا کر کہنے پر بادام گل نے سرخ نظروں سے بہادر خان کو دیکھتے اپنی اجرک میں چھپی پسٹل کو ان کے پیٹ پر رکھا تو بہادر خان نے حیرت و بے یقینی سے ان کی جانب دیکھا ابھی وہ پیچھے ہٹتے کہ خاموش فضا میں گولیاں چلنے کی آواز گونجی تو بہادر خان بے جان ہوتے وجود کے ساتھ زمین بوس ہوئے جبکہ پیچھے کھڑے سمیر شاہ کے سینے پر ٹانگ سے وار کر کہ پیچھے دھکیلتے گولی چلائی تو سمیر شاہ لمحے میں زمین بوس ہوئے تھے
“کس بات کا بدلہ—سب کچھ تو چھین لیا تھا شیر خان نے ہم سے— ہماری منگ کو اپنے یار کے ساتھ بیاہ دیا— خان حویلی میں ہمارے آنے پر پابندی لگا دی— پنچائیت کا حصہ بننا میرا حق تھا— اس میں بھی حدایت شاہ کو گھسیٹ لیا— الیکشن میں کھڑا ہونا چاہا تو میرے خلاف ہو گیا— جیل گیا تو میرا ساتھ دینے کی بجائے انصاف کی بات کرنے لگا— جس جگہ مجھے ہونا چاہیے تھا ہر جگہ شیر خان اور اس کا یار تھا—تایا کی چمچہ گری میں نے کی— دن رات ڈیرے کی حفاظت میں نے کی اور جب صلہ دینے کا وقت آیا تو اس میں سے بھی حصہ حدایت شاہ کو دے دیا نواسا ہونے کی خوشی میں— تو بادام گل نے بھی قسم کھا لی تھی—ولی خان کی آنکھوں کے سامنے اس کی نسل کو موت کے گھاٹ اتاروں گا— آج تم مرو گے پھر ایک دن شیر خان کا ضرغام—پھر عائث اور پھر ارمغان خان— چھوٹا خان کہتے ہو نا تم سب اسے—اسےسب سے آخر میں موت کے گھاٹ اتاروں گا— سب سے زیادہ دردناک اس کی موت ہوگی” اور پھر تمہاری بہن یعنی میری منگ کا بیٹا حدائق حدایت شاہ— اس کی تو بوٹی بوٹی سے اس کے باپ کا بدلہ لینا ہے—اس کی تو بیٹیاں بھی اپنے باپ کی غلطی کی سزا بھگتے گی—اور رہی بات سمیر شاہ کی اولاد کی اگر وہ میرے رستے میں نہیں آئے گی تو انہیں میں کچھ نہیں کہوں گا اگر آئی تو ان کا انجام بھی یہی ہوگا”— بہادر خان کے تڑپتے وجود پر پاؤں رکھتے زہر خند لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو بہادر خان نے گردن ترچھی کرتے خون میں لت پت سمیر شاہ کو دیکھا— آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے چہرے کو بھگوتے چلے گئے اپنی بے بسی پر دھاڑیں مار مار کر رونے کا دل کیا
“ای—ایک بب-باپ کک-کی دعا ہے—بب—بادام گل – تم میرے بب—چچوں کا بال بھی باکا نن—ہیں کر سکو گے—تم-ہارا انجام عبرتناک ہہ-ہوگا—مم—میرے بیٹے اپنے باپ اور چچا کے خون کا بب—بدلہ ضض—رور لے گے—انشاء اللہ”—تکلیف سے سرخ پڑتے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہتے وہ بادام گل کو لمحے میں آگ لگا گئے تھے—ربھی بادام گل نے غصے سے پاگل ہوتے بہادر خان کے سینے کے بیچوں بیچ گولی چلائی تو بہادر خان کے ہونٹوں سے خون بھری ہچکی نکلی—جس کے بعد ہر طرف خاموشی چھا گئی
“بدلہ حدایت شاہ سے لینا تھا—تو اسے کیوں قتل نہیں کیا—سب سے پہلے اس کا کام تمام کرنا چاہئے تھا—انسپکٹر جبار نے حیرت سے استفسار کیا تو بادام گل نے قہر بھری نظروں سے اسے دیکھا—
“عقل بیچ کھائی ہے—آرمی کے بندے کو قتل کرتے تو اب ان دونوں کی جگہ ہم نے اوپر پہنچے ہونا تھا—اس کا قتل کرنے کے لیے ضرغام خان ہے نا— وہ نا بھی قتل کرے تو حدایت شاہ تو جان سے پیارے بھائی اور بھائیوں جیسے یار کے مرنے پر ویسے ہی مر جائے گا— اگر نا مرا تو مروا دیں گے ضرغام خان کے ہاتھوں”—مکروہ قہقہہ لگاتے پسٹل ملازم کی طرف اچھالی تو انسپکٹر جبار نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“اب ان ملازموں کی ایسی حالت بناؤ کہ یہاں لڑائی ہوئی تھی—اور ان دونوں نے لڑائی کے دوران ایک دوسرے پر فائر کرتے قتل کر لیا— سمجھے اور اس کے بعد یہاں سے اپنا ٹرانسفر کرواؤں اور نو دو گیارہ ہو جاؤ— پلٹ کر کبھی اس گاؤں میں دوبارا نا آنا”— ملازم سے پیسوں کا بیگ تھامتے انپسکٹر جبار کو تھماتے ہوئے کہا تو انسپکٹر جبار نے مکروہ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے سر اثبات میں ہلایا اور ایک تاسف بھری نگاہ زمین پر بے جان وجودوں پر ڈالی—
___________
ایک قیامت تھی جو پھر سے حویلی والوں پر ٹوٹی تھی— دونوں حویلیوں میں ماتم کا سماں تھا—پولیس ثبوتوں کے ساتھ اس قتل کو لڑائی کا نام دے کر کہا ختم کر چکی تھی—جبکہ دونوں خاندانوں کے سربراہ تو زمین تلے جا سوئے تھے—اپنے دو جوان بیٹوں کی موت کے غم نے ولی خان کو بے جان کر چھوڑا تھا—بہادر میں کو قبر میں اتارنے کے بعد سے وہ اپنے کمرے میں بند ہوگئے تھے—
جبکہ مقدس بیگم نے اس موقع پر مبین بیگم کو ذلیل کر کہ رکھ دیا تھا کہ ان کے خاندان والوں نے ان سے شوہر اور بھائیوں جیسا دیوع چھین لیا— مقدس بیگم نے تو بہت کوشش کی مبین بیگم اور عائث کو حویلی سے نکالنے کی مگر خاندان کی دوسری عورتوں نے مقدس بیگم کو بہت مشکل سے سمجھایا کہ یہ معاملہ بعد کے لیے رکھ لے
جبکہ ضرغام خان کبھی غم سے نڈھال روتے بلکتے ارمغان خان کو دیکھتا اور کبھی بابا بابا کرتی امتثال خان کا— جبکہ چچا کی موت سے دل پھٹنے کو تھا—دس پہلے ہی تو وہ اپنے ہاتھوں سے باپ کو قبر میں اتار کر آیا تھا اور آج جان سے پیارے چچا کو قبر میں اتارتے ضرغام خان کا دل کر رہا تھا کہ خود بھی یہی خاموشی سے ٹھہر جائے
دنیا میں اب کوئی اسے چاہنے والا سمجھنے والا—محبت کرنے والا کوئی بچا ہی کہا تھا—سب تو چلے گئے تھے—دل خون کے آنسو رو رہا تھا مگر آنکھیں پتھر ہوئی پڑی تھی— عائث خان کو ولی خان کا خیال رکھنا کا کہتے ارمغان خان کو بانہوں میں تھامے بیڈروم میں لے جا کر بامشکل سلایا
جبکہ شاہ حویلی میں تو موت سے سناٹے چھا گئے تھے— سمیر شاہ کی موت کے ساتھ حدایت شاہ کی شہادت کی خبر ایک بجلی بن کر برسی تھی شاہ حویلی پر—حویلی سے ایک ساتھ دو دو جنازے اٹھے تو بہرام مچ گیا— گھر کے دونوں محافظ منو مٹی تلے جا سوئے تھے—ایک انسان کا حسد اور لالچ دو خاندانوں کو تباہ و برباد کر چکا تھا—
_________
کچھ عرصے بعد؛-
تم طلاق کیوں نہیں دے رہے ضرغام— طلاق دو اس منہوس لڑکی کو”— مقدس بیگم نے اپنے سامنے سر جھکائے بیٹھے ضرغام خان کو دیکھتے دانت پیستے ہوئے چلا کر کہا تو ضرغام خان نے سر اٹھا کر سرخ آنکھوں سے مقدس بیگم کو دیکھا—
“آپ کہیں ضرغام جان دے دو تو قسم ماں جی جان دے دوں گا—مگر عقیدت کو طلاق نہیں دوں گا—اپ نے شوہر کھویا تھا—دکھ میں تھی تو آپ کے کہنے پر زبان دے چکا ہوں کہ اسے شوہر ہونے کا مان نہیں دوں گا—تا کہ آپ کو یہ نا لگے کہ شوہر کے ساتھ بیٹا بھی کھو دیا آپ نے—لیکن اگر آپ پھر بھی یہ کہیں کہ میں اسے طلاق دے دوں— تو طلاق نہیں دوں گا”— سخت لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو مقدس بیگم نے مٹھیاں بھنچتے اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی
“تمہارا خون سفید ہو چکا ہے خان—کس قدر بغیرت ہو جس لڑکی کے باپ تایا نے تم سے باپ اور چچا چھین لیا— اسے کس منہ سے بیوی بنا کر لاؤ گے—اور جب بیوی بنا کر لاؤ گے—تو اپنا باپ کو دوسرا کارنامہ بھی تو یاد ہوگا—حدایت میں کے بیٹے کے نام بیٹی کو کر چکا ہے—تم ان کی بیٹی لاؤ گے تو بدلے میں اگر انہوں نے تمہاری بہن کو مانگ لیا پھر—کیا دشمن کے بیٹے کو بہن سونپ دو گے”— مقدس بیگم نے زہر خند لہجے میں کہا تو ضرغام کو اپنا دل کٹتا محسوس ہوا
نیلی آنکھوں میں سرخی لیے مقدس بیگم کے جھنجھلائے چہرے کو دیکھا— تو ہونٹوں پر درد بھری مسکراہٹ رینگ گئی
وہ جو باپ کے مرنے پر ماں کے دکھ کا سوچتا اندر اندر گھٹتا جا رہا تھا—لیکن یہاں ماں نے ایک بار بھی بیٹے کی آنکھوں میں ہچکولے لیتے غم کو دیکھتے سینے سے نہیں لگایا تھا—ایک بار بھی نہیں کہا تھا کہ وہ سینے سے لگ کر اپنا دل ہلکا کر لے— ایک بار بھی اپنی آغوش میں نہیں لیا تھا—ضرغام خان کو اپنے گلے میں آنسوؤں کا پھندا سا اٹکتا محسوس ہوا آنکھیں بند کرتے گہری سانس بھرتے اپنے بے جان ہوتے وجود میں ہمت مجتمع کرتے وہ مقدس بیگم کے روبرو کھڑا ہوا
“بغیرت ہوتا تو طلاق دے دیتا—غیرت مند ہوں— اسی لیے مردوں کی جنگ میں عورت کو نہیں گھسیٹوں گا—اور یہی امید مجھے حدائق شاہ سے بھی ہے—اور جس باپ کے قتل ہونے پر آپ میری غیرت جگا رہی ہے—اسی باپ کا حکم تھا کہ ضرغام خان عقیدت شاہ کو کبھی نا چھوڑیں— اور مجھے لگتا ہے ماں دشمنی قاتلوں کے ساتھ ہی ختم ہوگئی—اب تو بس اپنے مر جانے والوں کے غم میں نفرت کی دیوار حائل ہو گئی ہے ورنہ اب کوئی نہیں بچتا جس سے بدلہ لیا جائے— ہم سب نے اپنی دنیا لٹا دی ہے—کچھ نہیں بچا نا ہمارے پاس نا شاہ خاندان والوں کے پاس— اسی لیے آپ سے درخواست ہے دوبارا عقیدت کا نام مت لیجئے گا— آپ نام لے گی تو مجھے وہ یاد آئیں گی—اور جب وہ یاد آئیں گی تو اس سے جڑا اپنا رستہ بھی—اور میں بغیرت نہیں بننا چاہتا”—- اپنے لہجہ پر حتی الامکان قابو پاتے سخت لہجے میں کہتے بنا مقدس بیگم کی آنے کمرے کا دروازا کھولتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
جبکہ مقدس بیگم نے قہر بھری نظروں سے ضرغام خان کی پیٹھ کو دیکھا
پہلے تو انہوں نے جائیداد عقیدت کے نام ہونے کا جھوٹ بولا تھا—لیکن بعد میں وکیل کے فون آنے پر معلوم ہوا کہ شیر خان سچ میں اپنی جائیداد عقیدت کے نام کر چکے ہیں—اگر ضرغام خان عقیدت کو طلاق دے گا تو ضرغام خان کے حصے کی جائیداد بھی عقیدت کے نام ہو جائے گی اور یہی سب عائث خان کے لیے بھی تھا— اگر حوریہ آپنی مرضی سے الگ ہونا چاہئے گی تو عائث کا حصہ صرف اس کے نام رہے گا مگر اگر عائث نے حوریہ کو چھوڑا تو جائیداد حوریہ کے نام منتقل ہو جائے گی”— یہ سب سنتے ہی مقدس بیگم کو اپنا سارا پلین چوپٹ ہوتا محسوس ہوا اسی لیے انہوں نے وکیل کو پیسے دی کر اس کا منہ بند کروا دیا اور یہ بات حویلی والوں سے چھپا لی اور فائل وکیل سے لے کر چھپا دی— جبکہ اس دوران بادام گل ملک سے فرار ہو چکا تھا
اس پر اور بھی بہت سے کیسسز تھے—جس کی وجہ سے پولیس اس کی تلاش میں تھی—
__________
کچھ عرصہ بعد:-
تم عقیدت کو رہنے دو حدائق— لڑکی ذات کا باہر جانا مجھے پسند نہیں”— حلیمہ بیگم نے بیگ پیک کرتے حدائق شاہ کو دیکھتے کہا تو حدائق شاہ کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ رینگ گئی
“آپ چاہتی ہیں کہ میں اپنی بہن کو روز خان حویلی والوں سے ذلیل ہونے کے لیے چھوڑ جاؤں— تو ایسا ممکن نہیں ہے ماں— اور ویسے بھی عقیدت کا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے—وہ دن بدن بہت شدت پسند ہوتی جا رہی ہے—یہاں رہے گی تو ان یادوں سے نکل نہیں پائے گی-
شدت پسند نہیں باغی ہوتی جا رہی ہے— کسی کے منہ سے باپ ثلیے قاتل کا لفظ سن کر مرنے مارنے پر تل جاتی ہے—اور اب بھی مجھے یقین ہے یہ تم اسی کی ضد پر ساتھ لے جانے پر راضی ہوئے ہو”
“ایسا نہیں ہے ماں— اور سچ کے لیے ہی تو لڑتی ہے—کیا ہمارے بابا قاتل تھے—نہیں نا—— تو پھر وہ کیسے اپنے باپ کے لیے قاتل کا لفظ برداشت کر لے—اس کہ ضد پر نہیں—اسے اس قابل بنانے کے لیے لے جا رہا ہوں کہ اگر کل کو ہمارے باپ کو قاتل کہے تو وہ اس کی زبان کھنچ لے— اپنے رشتے کے لیے اسٹینڈ لے سکے— اپنے شوہر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے باپ کی بے گناہی ثابت کر سکے”—بیگ زمین پر رکھتے بیڈ سے اپنی جیکٹ اٹھاتے ہوئے جواب دیا تو حلیمہ بیگم نے نم نگاہوں سے حدائق شاہ کے چہرے کو دیکھا جس میں حدایت شاہ کی پرچھائی صاف نظر آتی تھی
دوپٹے کے پلو سے آنسو صاف کرتے اٹھ کر حدائق شاہ کے سر پر پیار دیتے آیت الکرسی پر کر دم کیا تو حدایت شاہ نے مسکرا کر حلیمہ بیگم کے چہرے کو دیکھا انہیں گلے سے لگاتے قدم باہر کی جانب بڑھائے
___________
“ضرغام ہے”— بہرام شاہ نے گاڑی جھٹکے سے روکتے گردن ترچھی کرتے پیچھے بیٹھے حدائق شاہ کو بتایا تو لیپ ٹاپ پر تیزی سے چلتی حدائق شاہ کی انگلیاں لمحے میں تھمی
سر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں سڑک کے بیچوں بیچ جیپ کے سامنے سفید کرتا شلوار پر بھوری اجرک لیے بائیس سالہ ضرغام خان چہرے پر چٹانوں سی سختی لیے کھڑا تھا—
حدایت شاہ کی نظروں کے تعاقب میں دیکھتی عقیدت شاہ نے ایک نظر ضرغام خان کی خون چھلکاتی آنکھوں میں دیکھتے—نظروں کا رخ بدلا تو گاڑی کے باہر سے یہ منظر دیکھتے ضرغام خان نے سختی سے مٹھیاں بھینچی
تم رکوں میں بات کرتا ہوں”—بہرام شاہ کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے حدائق شاہ باہر آیا تو ضرغام خان نے قدم آگے بڑھائے
“گاڑی ہٹاؤ ضرغام—ہمیں پہلے دیر ہو رہی ہے”— ضرغام خان کی نیلی خون چھلکاتی آنکھوں میں دیکھتے سپاٹ لہجے میں کہا تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی
“میری بیوی کو—میری مرضی کے بغیر میری حدود سے باہر لے کر جانے کی ہمت بھی کیسے کی تم نے حدائق شاہ”— مٹھیاں بھنچیں دبے ڈبے لہجے میں غرا کر کہا تو حدائق شاہ نے تاسف سے ضرغام خان کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا
“کونسی بیوی ضرغام خان—وہی جسے تم نے اپنی زندگی سے نکال باہر کیا تھا—یا وہ جسے تم کبھی شوہر ہونے کا مان نا دینے کی زبان دے چکے ہو— بیوی نہیں رہی وہ تمہاری—وہ صرف اور صرف حدائق شاہ کی بہن ہے—اوراپنی بہن کو کہی بھی لے جانے کے لیے مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں”— سخت لہجے میں کہتے حدائق نے پلٹ کر قدم گاڑی کی جانب بڑھائے مگر چند قدم اٹھانے پر ہی اپنے کندھے پر ضرغام خان کے ہاتھ کی سخت گرفت پر پلٹ کر دیکھا—
جبکہ اس منظر کو دیکھتے عقیدت اور بہرام بھی گاڑی سے باہر آتے حدائق شاہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے
“ضرغام خان کے جیتے جی اور مرنے کے بعد بھی وہ عقیدت ضرغام خان ہی رہے گی—صرف یہاں سے جانے کے لیے ہی نہیں اگر میرا بس چلے تو یہ سانس بھی”— ابھی ضرغام خان بات مکمل کرتا کہ حدائق شاہ نے ضرغام خان کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹایا
“بس ہی تو نہیں چلتا تمہارا—اور چل بھی کیسے سکتا—زبان جو دے چکے ہو— میں بھی زبان دیتا ہوں— اگر تمہارا ابھی بس چلے—ابھی تم اپنے دل کی کر سکو—ابھی اور اسی وقت عقیدت کو پورے مان سے اپنے ساتھ رخصت کروانے کی بات کرو تو یقین مانو ضرغام میں کوئی سوال جواب کیے بنا اپنی بہن کو اسی وقت تمہارے ساتھ رخصت کر دوں گا—اگر تم یہ نہیں کر سکتے تو میں اپنی بہن کو تمہاری زبان یا اس دشمنی کی نظر ہر گز نہیں ہونے دوں گا—اور تمہیں بھی حق نہیں پہنچتا اسے روکنے کا”–& سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے بہرام کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ایک نظر عقیدت شاہ کو دیکھا جو نم نگاہوں سے ضرغام خان کو دیکھنے میں محو تھی
ان دونوں کو بات کرنے کا موقع دینے کی خاطر حدائق خاموشی سے پلٹ کر جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا
ایک نظر ضرغام خان کو دیکھتے—بہرام نے نظریں موبائل پر مرکوز کر دیں جبکہ حدائق نے آنکھیں موندتے سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیا—
سبز رنگ کے کرتے کے ساتھ کیپری پہنے—گولڈن بالوں کو ٹیل پونی میں باندھے—کندھوں پر سیاہ چادر لیے—سبز نگینوں سی آنکھوں میں آنسو لیے ضرغام خان کی آنکھوں میں دیکھتی وہ پل کے لیے اسے شرمندہ کر گئی
وہ بھی کیا کرتا مجبور تھا— وہ شہید کی بیٹی تھی لیکن اس سے پہلے باپ کے قاتل کی بیٹی تھی— ہر ثبوت چیخ چیخ کر حدایت شاہ کے قاتل ہونے کی گواہی دے رہا تھا— وہ اس وقت بچے تھے اتنے سمجھدار تو نہیں تھے کہ قانون کو جھٹلا سکتے— ان کی نظر میں تو قانون انصاف کا نام تھا—اور پھر سمیر شاہ کا پہلے بہادر خان پر گولی چلانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا تھا کہ وہ جانتے تھے کہ خون ان کے بھائی نے کیا ہے—- وہ کیسے چشم دید گواہوں کی گواہی کو جھٹلا دیتے—وہ سب کچھ بھلا کر بھی اگر عقیدت کو بیوی بنا کر لے جاتا تو خاندان والے اس کے ساتھ جو سلوک کرتے وہ ضرغام کو قطع منظور نہیں تھا—اوع مقدس بیگم کبھی بھی عقیدت کو قبول نا کرتی—انہوں نے تو مبین بیگم کو قبول نہیں کیا تھا—ان کا جینا اس قدر محال کر دیا تھا کہ داجی نے مجبوراً مبین بیگم کو شہر شفٹ کر دیا تھا– اپنی زبان نبھانے کو وہ بے رخی برت سکتا تھا—لیکن بھلا نہیں سکتا تھا دل پر نقش ہوئی محبت ہو مٹا نہیں سکتا تھا—
“اگر میرے ساتھ بے ایمانی کی عقیدت شاہ جان سے مار دوں گا— جہاں بھی جاؤ یہ یاد رکھنا کہ تمہارے وجود—تمہاری سانسوں پر ضرغام خان کا حق ہے—صرف اور صرف میرا—اگر کسی کو اتنی ہمت دی کہ وہ تمہیں نگاہ بھر کر دیکھ بھی لے تو ذندہ درگور کر دوں گا— بے شک نفرت ہی کروں مگر اپنی چیز پر کسی کی نگاہ بھی برداشت کر سکتا—میری ہو تو میری ہی بن کر رہنا”— آگے بڑھتے پہلو میں گرے عقیدت کے بے جان ہوتے ہاتھوں کو سخت گرفت میں لیتے—عقیدت کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو عقیدت کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی مانند بہتے رخسار بھگونے لگے
“آئی رئیلی رئیلی ہیٹ یو ضرغام خان—آئی ہیٹ ہو— میں وہ سب کروں گی جو تمہیں نا پسند ہے ہر وہ چیز خود پر فرض کر لوں گی—جس سے تم منع کرو گے— سمجھے تم”— ضرغام خان کے ہاتھوں سے زبردستی اپنے ہاتھ چھڑواتے روتے ہوئے چلا کر کہا تو ضرغام خان نے ہونٹ بھنچتے عقیدت کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ ہاتھ چھوڑے تو عقیدت اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتی جھٹکے سے پلٹ کر گاڑی میں جا بیٹھی
سرخ جلتی آنکھوں سے عقیدت شاہ کو چہرہ ہاتھوں میں چھپائے روتے دیکھ—ضبط سے ہونٹ بھنچے—جیپ میں بیٹھتے جیپ سائیڈ پر کی تو بہرام شاہ نے گاڑی آگے بڑھائی
گردن ترچھی کر کہ آگے بڑھتی گاڑی کو دیکھا—تو شیشے سے نظر آتی دو روتی سبز آنکھوں کو دیکھ ضرغام خان کی آنکھوں میں نمی اتری گئیں
“ایک ہی وجود سے تو اپنی عمر بھر کی محرمیوں اور محبتوں کو پورا کرنا تھا — اپنے دل میں دبی حسرتوں اور خواہشوں کو اس ایک وجود کے ساتھ ہی تو پورا کرنے کی خواہش تھی آج وہ خواہش بھی دل کے قبرستان میں دفن ہو گئی—ضرغام خان کا کھلی آنکھوں سے دیکھا خواب آنکھوں میں ٹوٹ کر بکھر گیا— اگر تمہارے لوٹنے تک پتھر ہو جاؤں تو مجھے قصور وار مت ٹھہرانا— دل میں جو تھوڑے بہت احساسات بچے تھے—تمہارے دور جانے پر سب دم توڑنا شروع ہوگئے ہیں”— سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے بھرائے لہجے میں سرگوشی کرتے سختی سے آنکھیں بند کی تو کئی باغی آنسو پلکوں کی بار توڑتے کنپٹی کو بھگوتے بالوں میں جذب ہونے لگے—
______________
“کیا تمہیں بالاج سے محبت ہے”— فون سے صبغہ کی نرم مگر حیرت بھری آواز گونجی تو حوریہ نے جھٹ سے نفی میں ہلایا
“نن—ہیں پاگل محبت نہیں ہے—بس وہ مجھے اچھے لگتے ہیں”—لاونج میں اردگرد نگاہ دوڑاتے صوفے پر دونوں پاؤں اوپر کر کہ بیٹھتے ڈپٹنے کے انداز میں کہا تو دوسری جانب صبغہ نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“لیکن میں نے سنا ہے پسند وہی ہوتا ہے جس سے محبت ہوتی ہے—جس سے محبت نہیں ہوگی وہ پسند بھی نہیں ہوگا”— ہونٹوں میں انگلی دبائے پرسوچ لہجے میں کہا تو حوریہ نے آنکھیں گھماتے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبایا
“لیکن مجھے وہ دوسرے والے پسند ہیں”—پرسوچ لہجے میں جواب دیا تو صبغہ کا دل کیا اپنا سر کسی دیوار میں مار لے
“دوسرے والے کس طرح کے”—
“مطلب وہ بہت اچھے ہیں—دیکھو نا بہرام لالا حدائق لالا ہمیں چھوڑ کر باہر چلے گئے— ملنے بھی نہیں آتے—اور ایک وہ ہیں جو ہمارا اتنا خیال رکھتے ہیں—گاؤں والوں کا—حویلی کا— ماں کا تائی کا میرا—اتنے مصروف ہونے کے باجود بھی انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے— لوگ کہتے ہیں وہ ظالم ہیں—بہت بتمیز اور جھگڑالوں ہیں—لیکن وہ مجھے ایسے بالکل نہیں لگتے—ان کی نیچر تھوڑی غصے والی ہے اور تھوڑی شکل بھی—لیکن وہ اس کے علاؤہ دل کے بہت اچھے ہیں—ملازموں کی بھی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں—میرے آئیڈیل ہیں وہ میری خواہش ہے کہ میرا ہمسفر بالاج شاہ جیسا ہو یا پھر بالاج شاہ ہی ہو”وہ لاکھ چاہنے کے باجود بھی صبغہ کو یہ نا بتا پائی کے پچھلے کچھ عرصے سے وہ بدلا بدلا لگ رہا ہے—جس نے پہلے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی تھی اب چھوٹی چھوٹی بات پر ڈانٹنے لگا ہے—وہ کہنے لگا ہے کہ حوریہ شاہ اس کے سر پر بوجھ ہے—وہ یہ سب چاہ کر بھی نا بتا سکیں کیونکہ حوریہ کو لگتا تھا کہ وہ اپنے کام کی وجہ سے پریشان ہے بعد میں ٹھیک ہو جائے گا—جبکہ پچھلے دروازے داخل ہوتے سیڑھیوں کی جانب بڑھتے بالاج شاہ کے قدم بے ساختہ حوریہ کے الفاظ پر تھمے تھے—دل تو پہلے ہی اس کے لیے باغی ہوا جا رہا تھا—
اب یہ اظہار سن تو سینے میں سر پٹکنے لگا تھا—جس پر بالاج شاہ نے سر زنش کرتے—دل کو ڈپٹتے تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتے رخ آپنے کمرے کی جانب کیا
“حد ہے حوریہ— اسے محبت ہی کہتے ہیں—آئیڈیل شائیڈیل کچھ نہیں ہوتا— نا مجھے تمہاری سمجھ انی نا تمہیں میری—اسے لیے میں جا رہی ہوں سونے—تم اپنے آئیڈیل کے خواب سجا کو”— حوریہ کی سنے بغیر اپنی کہہ کر فون رکھ دیا تو حوریہ نے گھور کر فون کو دیکھا—
نظریں سامنے گھڑی پر اٹھی تو حوریہ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی کیونکہ یہ وقت بالاج شاہ کے گھر آنے کا تھا—
جلدی سے پاؤں میں چپل اڑستے—دوپٹہ ٹھیک کرتے کچن کی جانب دوڑ لگائی
___________
بب—بالاج چائے آپ کی”— حوریہ شاہ نے ککپپاتے ہاتھوں سے چائے کا کپ سٹڈی ٹیبل پر بیٹھے بالاج شاہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
تو حوریہ کی آواز پر بالاج شاہ نے اپنے ہاتھ میں تھامے پین پر گرفت سخت کی—
گردن موڑ کر خونخوار نظروں سے سر جھکائے کھڑی پندرہ سالہ حوریہ شاہ کو دیکھا
جو کپکپاتے ہاتھوں میں چائے کا کپ پکڑے—نظریں جھکائے کھڑی تھی
سکائے بلیو فراک پہنے—گلے میں ہم رنگ دوپٹہ لیے—براؤن بالوں کو رف جوڑے میں لپیٹے جس کی آوارہ لٹیں چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھیں—کرسٹل گرے جھکی آنکھوں میں خوف لیے مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑی تھی
“میری ایک بات تمہیں سمجھ نہیں—کتنی بار بکواس کر چکا ہوں اپنی یہ شکل مجھے مت دکھایا کرو—اور کس کی اجازت سے تم میرے روم میں داخل ہوئی ہو—ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری یہاں قدم رکھنے کی”—ایک ہی جھٹکے میں اپنی نشست سے اٹھتے کرسی کو پیچھے کی جانب گراتے سرد لہجے میں کہا
تو بالاج شاہ کی دھاڑ پر حوریہ شاہ کی بے ساختہ چیخ گونجی ہاتھ میں تھاما چائے کا کپ زمین بوس ہوا تو بالاج شاہ کی ماتھے کی تیوریوں میں اضافہ ہوا
“مم—میں مطلب—دروازا کھ—کھلا ہوا تھا—تت—تائی سائیں نے چچ—چائے”—حوریہ ابھی ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی بات مکمل کرتی اس سے پہلے بالاج شاہ نے ٹوٹے ہوئے کپ کے ٹکروں پر پاؤں رکھتے دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتا—حوریہ کے بازؤں کو اپنی سخت گرفت میں لے کر جھٹکا دیا
“تمہیں اپنی زندگی پیاری نہیں ہے کیا حوریہ شاہ – مجھے تو ویسے بھی تمہارا وجود کھٹکھتا ہے—بہت ناگوار گزرتی ہے تمہاری موجودگی یہ نا ہو میں تمہاری اس بے معنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر دوں – خود پر ترس کھاؤ اور مجھ سے دور رہو—اور کس خوشی میں پہنا ہے تم نے یہ رنگ—جب تم جانتی ہو کہ یہ رنگ میرا پسندیدہ ہے—مگر تمہارے وجود پر اس رنگ کو دیکھ مجھے اس سے نفرت ہو رہی ہے— آج کے بعد اگر تم مجھے اس رنگ میں نظر آئی تو چمڑی ادھیڑ دوں گا— اب نکلو یہاں سے”— شیر سی دھاڑ لیے غرا کر کہا اور بنا حوریہ کو سمجھنے کا موقع دیے بازو سے گھسیٹ کر دروازے کے قریب لا کر جھٹکا دیا تو حوریہ بامشکل گرتے ہوئے بچی
نم شکوہ کناں نظروں سے اس ستمگر کو دیکھا جو سرخ چہرہ—اور پھولی سانسوں جو کہ غصہ ضبط کرنے کی گواہی دے رہی تھی—ساتھ حوریہ شاہ کو دیکھ رہا تھا—
“آئی ہیٹ ہو بالاج—ائی—ہی—ٹ یو”— لڑیوں کی مانند رخسار پر بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کرتے ہوئے چلا کر کہا تو بالاج شاہ نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی
“آؤٹ”—دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو حوریہ شاہ نے شکوہ کناہ نظروں سے بالاج شاہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا اور پلٹ کر بھاگنے کے انداز میں اپنے کمرے کی جانب بڑھی
حوریہ کے جاتے ہی دھاڑ سے دروازا بند کرتے پوری شدت سے مکہ بند دروازے پر مارتے سختی سے آنکھیں میچ لیں
“عائثث خان—کیوں ہو تم— کاش تم نا ہوتے”—- نفی میں سر ہلاتے سرخ انگارا ہوتی آنکھوں سے پلٹ کر زمین پر بکھرے کانچ کے ٹکروں کو دیکھتے بیڈ پر اوندھے منہ گرتے چہرہ تکیے میں چھپا لیا
___________
تم نے بتایا نہیں کہ تم آرہی ہو—ورنہ میں سب کچھ پہلے سے ہی پلین کر کہ رکھتی”— گاؤں میں موجود جیولری کی چھوٹی سی دکان پر جیولری دیکھتے حوریہ نے ساتھ کھڑی صبغہ شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو صبغہ نے منہ بسور کر حوریہ کو دیکھا
“تم سے ملنے کہاں آئی ہوں— میں تو اس پرنس چارمنگ کو دیکھنے آئی ہوں جس کی باتیں کر کہ تم نے میرے کان کھا لیں تھے—اب اتنا حق تو بنتا میرا کہ اپنے فیوچر”— ابھی صبغہ بات مکمل کرتی کہ حوریہ نے جلدی سے اس کے ہونٹوں پر اپنی ہتھیلی رکھ دی
“ایسا کچھ نہیں ہے صبغہ—میں تمہیں بتا چکی ہوں محبت نہیں ہے—مجھے وہ اچھے لگتے ہیں مجھے—اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں “—- بالاج شاہ کے سرد رویہ یاد کرتے سپاٹ لہجے میں کہا تو صبغہ نے آنکھیں چھوٹی کرتے گھور کر حوریہ کو دیکھا—
چلو باہر سٹال پر بہت خوبصورت چوڑیاں لگتی ہیں—تم پر جچے گی بھی بہت”— صبغہ کا ہاتھ تھامے قدم باہر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا تو صبغہ نے بھی مسکرا کر سر جھٹکا
اگر وہ کہہ رہی تھی محبت نہیں تو صبغہ کو یقین تھا کہ محبت نہیں ہوگی—
صبغہ کو سرخ رنگ کی چوڑیاں پہنا کر حوریہ نے اپنے لیے رنگ برنگی چوریوں کے سیٹ کا کہا تو آدمی نے سیٹ بنا کر حوریہ کے ہاتھ کی جانب اشارہ کیا
جس پر حوریہ نے اپنا بایاں ہاتھ آگے بڑھایا—چوریاں پہنتے خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرتے حوریہ نے گردن ترچھی کر کہ اردگرد نگاہ دوڑائی تو اپنے بائیں جانب جیپ میں بیٹھے شخص کو خود کو گھورتے پا کر ناسمجھی سے چہرے کا رخ بدلا
“مجھے بہت نیند آرہی ہے اور گرمی بھی لگ رہی ہے—میں گاڑی میں جا کر بیٹھ رہی ہوں تم آجانا”— صبغہ کی آواز پر حوریہ نے اس کی جانب دیکھا مگر وہ ہمیشہ کی طرح اپنی کہتی یہ جا وہ جا ہوگئی جس پر حوریہ نے مسکرا کر سر جھٹکا
دبی دبی چیخ کی آواز پر حوریہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا تو آنکھیں حیرت کی زدیاتی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں
جیپ میں بیٹھا شخص اب حوریہ کے بالکل سامنے چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں وحشت لیے حوریہ کو گھورتے— چوریاں پہنانے والے آدمی کا ہاتھ توڑ چکا تھا—
ساکت وجود— آنکھوں میں بے یقینی لیے اب اس شخص کو چوریاں پہنانے والے شخص کو پٹتے ہوئے دیکھ رہی تھی
“ہاتھ کیسے لگایا— جانتے نہیں تھے تم کہ یہ عائث خان کی منگ ہے—تو ہمت کیسے ہوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی بھی”— سامنے کے منظر سے جان لیوا تو اس شخص کے ہونٹوں سے ادا ہوئے لفظ تھے—
“مم-منگ عع-عائث خان”+- ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں سرگوشی نما لہجے میں کہتی حوریہ نے لڑکھڑاتے ہوئے قدم پیچھے لیے
عقیدت اور حدائق کے رشتے کا تو وہ جانتی تھی—لیکن اپنے رشتے سے وہ بالکل انجان تھی — اگر یہ شخص عائث خان تھا تو وہ اس نام سے واقف تھی—اور جتنے حق اور یقین سے وہ اپنی بات کہہ چکا تھا حوریہ اسے جھٹلا نہیں سکتی تھی—
عائث خان کو اپنی جانب بڑھتے دیکھ حوریہ نے بے ساختہ اپنے قدم پیچھے لیے تھے—اور پھر وہ جھٹکے سے پلٹتی اندھا دھند وہاں سے بھاگی تھی
وہ صرف عائث خان سے ہی نہیں اس حقیقت سے بھی بہت دور بھاگ جانا چاہتی تھی— جبکہ وہ بخوبی عائث خان کا اپنے پیچھے آنا محسوس کر سکتی تھی
اندھا دھند بھاگتی دائیں جانب موڑ کاٹتے وہ ٹھوکر لگنے کے باعث منہ کے بل بری طرح گری تھی
تکلیف کی شدت سے گرے کانچ سی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر گئیں تھیں
ہاتھ زمین پر گرنے کے باعث جگہ جگہ سے چھل چکے تھے—ٹھوکر لگنے سے پاؤں میں شدید درد کی لہر دوڑتی جسم میں سرائیت کر گئی
“چچچچ—اتنی ہمت تھی حدائق شاہ کی بہن میں”— گھٹنوں کے بل زمین پر حوریہ کے قریب بیٹھتے—طنزیہ لہجے میں کہا تو حوریہ نے تکلیف سے سختی سے لب بھنچتے آنکھیں میچ لیں جس پر غم و غصے سے پاگل ہوتے عائث خان نے حوریہ کے بالوں کو اپنی مٹھی میں دبوچتے چہرہ اپنی جانب کیا
گرے رنگ کے سوٹ کے ساتھ گرین دوپٹہ گلے میں لیے—- کندھوں پر بھاگنے کے باعث گری سیاہ چادر— اور ٹیل پونی سے نکلے بالوں کی آوارہ لٹیں خوبصورت چہرے کا احاطہ کیے ہوئے تھیں—گلاب سی پنکھڑیوں جیسے نازک پتلے لب بری طرح کپکپا رہے تھے— گلابی گال آنسوؤں سے متواتر بھیگ رہے تھے— جنہیں دیکھتے عائث خان کے ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ رینگ گئی
“کیا تم نہیں جانتی تھی کہ تمہارا وجود ایک خان سے منسوب ہے—بولو”— حوریہ شاہ کے چہرے پر دھاڑتے ہوئے کہا تو حوریہ کے ہونٹوں سے بے ساختہ دبی دبی چیخ نکلی
“چچ—چھوڑیں مجھے جانے دیں خان”— گرے بھیگی آنکھوں کو کھولتے عائث خان کی چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں التجایہ نظروں سے دیکھتے بھرائے لہجے میں کہا تو عائث خان نے جھٹکے سے حوریہ کا چہرہ اپنے چہرے کے اس قدر قریب کیا کہ عائث خان کی دہکتی سانسوں کی تپش سے حوریہ کو اپنی جلد جھلستی محسوس ہوئی
“دل تو کر رہا ہے—اس شخص کی طرح تمہارے بھی ہاتھ توڑ دوں— مگر”—ہونٹ بھنچتے حوریہ کے کپکپاتے وجود کو دیکھا—
“پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر رہا ہوں— آئندہ ایسا ہوا تو جان سے مار دوں گا—اور یقین مانو تمہیں جان سے مارنے کا مجھے بہانہ ہی چاہیے اور تمہیں مارنے میں مزہ بھی بہت آئیں گا”— ہاتھ کی پشت حوریہ کے گلابی رخسار پر پھیرتے سرد و سپاٹ لہجے میں سرگوشی کی تو حوریہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی
عائث خان کو اپنے چہرے کی جانب جھکتے دیکھ حوریہ نے سختی سے آنکھیں میچتے زمین پر ہاتھ مارتے کچھ تلاشنا چاہا— اپنے ہاتھ تلے کچھ سخت محسوس کرتے حوریہ نے گہری سانس لیتے آنکھیں کھولیں تو نظریں خود کو تکتی چاکلیٹ براؤن آنکھوں سے ٹکرائی
خود میں ہمت مجتمع کرتے—ہاتگ آگے کرتے عائث خان کے ماتھے پر شدت سے وار کیا تو عائث خان لڑکھڑا کر پیچھے ہوا جس کا فایدہ اٹھاتے حوریہ جھٹکے سے اٹھتی وہاں سے بھاگی تھی دور جاتے بھاگتے ہوئے ایک نظر پلٹ کر دیکھا تو ماتھے سے نکلتے خون کو انگلیوں کے پوروں سے چھوتے— خون آشام نظروں سے خود کو تکتے عائث خان کو دیکھتے حوریہ نے بے ساختہ جھرجھری لی اور پلٹ کر لمحے میں وہاں سے غائب ہوئی تھی
“چھوڑو گا تو نہیں میں تمہیں— سود سمیت بدلہ لوں گا”— زیر لب بڑبڑاتے جیب سے رومال نکال کر زخم پر رکھتے—قدم اپنی جیپ کی جانب بڑھائے
