Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 37) Part 1,2
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 37) Part 1,2
Maan Yaram by Maha Gull Rana
”ایمی مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے”—
سرخ لہنگے میں پور پور سجی— ہتھیلیوں کو آپس میں مسلتی—نیلی آنکھوں کو امتثال خان کے چہرے پر سجائے پلوشہ خان نے سرگوشی نما لہجے میں امتثال سے کہا تو امتثال خان کا دل کیا اپنا ماتھا پیٹ لے
یہ گردان وہ صبح سے ہر دس منٹ بعد امتثال خان کے کان میں کر رہی تھی
اور اب امتثال خان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس معصومیت سے بھرپور گڑیا کے منہ پہ ٹیپ لگا دے
”مجھے بھی گھبراہٹ ہو رہی ہے—میں کونسا یہاں لوڈیاں ڈال رہی ہوں”—دونوں ہاتھ پلوشہ خان کے سامنے کرتے ہوئے کہا تو پلوشہ نے خفا نظروں سے امتثال خان کو دیکھا تھا
میرا مزاق مت بناؤ—مجھے سچ میں ہو رہی ہے”—اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا تو امتثال خان نے گہری سانس بھری تھی—
”یہ دیکھو—کیسے دھک دھک کر رہا ہے—جیسے ابھی سینے سے نکل کر باہر اجائے گا— تو مان لو میری جان مجھے بھی گھبراہٹ ہو رہی ہے—مزاق نہیں بنا رہی تمہارا—یہ نیچرل ہے—لڑکیاں گھبراتی ہے—اور ہمارا تو ویسے بھی گھبرانا بنتا ہی ہے”— پلوشہ خان کا نازک ہاتھ زبردستی پکڑتے اپنے سینے پر دل کے مقام پر رکھتے ہوئے جواب دیا—جبکہ آخری بات منہ میں بڑبڑاتے پیچھے ہوئی تو پلوشہ خان نے سرعت سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچتے گود میں رکھا تھا
”ہمم—ہمیں کیا پتہ کہ تمہارا دل گھبراہٹ سے دھک دھک کر رہا یا خوشی کے مارے”—پلوشہ خان کی بڑبڑاہٹ پر امتثال خان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جو گود میں دھرے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے میں محو تھی—
”واہ—تو پھر میں بھی یہ کیوں مانو کہ تم بھی سچ میں گھبرا رہی ہو—کیا پتہ تمہارے دل میں بھی حدائق لالا کے بارے میں سوچتے خوشی سے لڈو پھوٹ رہے ہو— یا کیا پتہ یہ بھی ہو سکتا کہ تم سے انتظار کرنا مشکل ہو رہا ہو اس لیے گھبراہٹ ہو رہی ہو”— کندھے اچکائے جواب دیا تو پلوشہ خان نے حیرت سے منہ کھولے امتثال خان کو دیکھا تھا—
”ہم نے ان کے بارے میں نہیں سوچ رہے”— دانت کچکچاتے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا تو امتثال نے آبرو آچکا کر دیکھا تھا—
”تو پھر—اگر ان کے بارے میں نہیں سوچ رہی تو پھر ایسا کیا سوچ رہی ہو جو اتنی گھبراہٹ ہو رہی ہے کہ ہتھیلیاں پسینے سے تر—اور چہرے پر اضطراب پھیلا ہوا ہے”— آنکھیں چھوٹی کیے منہ پھلا کر کہا تو پلوشہ خان کے چہرے کے تاثرات لمحے میں تبدیل ہوئے تھے—
چہرے پر گھبراہٹ کی جگہ سنجیدگی نے احاطہ کیا تھا
ابھی امتثال کچھ کہتی کہ ضرغام خان کمرے میں داخل ہوا تھا—
امتثال اور پلوشہ خان کے قریب آتے دونوں کے سروں پر پیار کیا تو پلوشہ خان اپنا لہنگا سنبھالتی اٹھتی ضرغام خان کے سینے سے لپٹی تھی—
نیلی آنکھیں پل میں لبالب آنسوؤں سے لبریز ہوئی تھیں
”ایم سوری لالا—سوری فار ایوری تھنگ—میں نے آپ کو—ارمغان لالا کو سب کو ہرٹ کیا—پلیز مجھے معاف کر دیں”—چہرہ اٹھائیں ضرغام خان کو دیکھتے نم لہجے میں کہا تو ضرغام خان نے مسکرا کر سر نفی میں ہلایا تھا
”لالا کی جان—سب بھول جاؤ— تم نے نا مجھے ہرٹ کیا نا ارمغان کو”— عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے نرم لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے سر نفی میں ہلایا تھا
”نہیں لالا—میں نے کیا ہرٹ—اور پھر سوری بھی نہیں کیا—مجھ میں ہمت ہی نہیں تھی سامنا کرنے کی—میں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ آپ ہمیشہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کو لگے کہ آپ نے کسی کو ہرٹ کیا تو سوری کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے—لیکن پھر بھی نہیں کیا”—
”زما ښکلې ګولۍ—My beautiful doll – تمہاری کوئی غلطی نہیں—ساری غلطی تو ہماری گڑیا کے اس ننھے سے دماغ کی ہے جو یہ سوچ نہیں سکا—اس لیے جب تمہاری کوئی غلطی ہی نہیں تو سوری کس بات کا”— ضرغام خان کی بات کر امتثال خان نا بامشکل اپنے قہقہے کا گلہ گھونٹا تھا
”لالا اب تھوڑا خیال میرا بھی کر لیں—میں بھی تو آپ کی چھوٹی گڑیا ہوں نا”—- امتثال خان کے منہ پھلا کر کہنے پر ضرغام خان نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا تھا
”تم سب تو میرے جگر کے ٹکڑے ہو”— امتثال خان کا ہاتھ تھامتے—اپنے برابر کھڑا کرتے ہوئے کہا تو امتثال خان کی آنکھیں شرارت سے چمکی تھیں
”ہم جگر کے ٹکڑے ہیں تو پھر عقیدت بھابھی کیا ہیں”—مسکراہٹ چھپائے سنجیدہ لہجے میں استفسار کیا تو ضرغام خان نے گلہ کھنکارتے دونوں ہاتھ پشت پر باندھے تھے—
”وہ تو ضرغام خان کے رگوں میں خون کی طرح سرائیت کرتی ہے—سینے میں دل کی طرح دھڑکتی ہے—جان ہے وہ ضرغام خان کی”— دائیں ہاتھ کو پیچھے بالوں سے پھیرتے کالر ٹھیک کرتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہا تو امتثال خان نے بے ساختہ ماشاءاللہ کہا تھا
”دل پر پتھر رکھ کر ہی جان کہا ہوگا—ورنہ دل تو چیخ چیخ کر جان کا عذاب کہنے کا کر رہا ہوگا—عذاب ہی تو سمجھ لیا ہے تمہارے لالا نے جو ایسے ہر وقت جان چھڑانے کے بہانے ڈھونڈتے کبھی حویلی سے غائب رہتے ہیں اب اور کبھی گاؤں سے ہی”— کمرے میں داخل ہوتی عقیدت شاہ نے بیک وقت ضرغام خان اور امتثال خان کو جواب دیا تو ضرغام خان نے گردن ترچھی کرتے آبرو آچکا کر سوالیہ انداز میں عقیدت شاہ کے تپے تپے چہرے کو دیکھا تھا—
وہ جب سے واپس آیا تھا وہ بہت عجیب بی ہیو کر رہی تھی—چرچراہٹ اس کی باتوں سے صاف واضح ہو رہی تھی—ایسی تو نہیں تھی وہ—وہ مزاق کرتی تھی لیکن چرچری نہیں ہوتی تھی—
خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتے عقیدت نے ضرغام خان کو دیکھا تھا—اور ضرغام خان کو خود کو تکتا پا کر ناک سکوڑی تو ضرغام خان کے ہونٹ سیٹی کی شیپ میں گول ہوئے تھے—
”رخصتی کا وقت ہو گیا ہے—دوسرے روم سے سلوی کو باہر لے گئے ہیں—اور اگر آپ کو دوسرے کاموں سے فرصت مل جائے تو یاد کروا دوں کی میں آئی تو ڈرائیور کے ساتھ تھی واپس آپ کے ساتھ جانا ہے—ڈرائیور کے آسرے نا چھوڑ کر چلے جائیں گا”—امتثال اور پلوشہ کو کہتے رخ بدل کر ضرغام خان کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے سر اثبات میں ہلایا تھا
”اب ایسے کیا دیکھ رہے ہیں”—ضرغام خان کو سنجیدگی سے خود کو تکتا پا کر استفسار کیا تو ضرغام خان کے عنابی ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے—
”آج تمہارے انداز خالصتاً بیوی جیسے ہیں–پہلے دشمن کے—پھر محبوبہ کے اور اب بیوی کے انداز میں تمہیں دیکھتے—دھڑکنیں سنبھالے نہیں سنبھل رہی—دھڑکنوں کو تو سنبھال لوں گا—لیکن واپسی پہ اپنے لہجے کی وضاحت کے لیے تیار ہو کر آنا”—ایک نظر امتثال اور پلوشہ کو آپس میں محو گفتگو دیکھتے—عقیدت شاہ کو ٹھہرے مدھم لہجے میں کہتے—ایک استحاق بھری نگاہ ڈالتے کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ عقیدت نے ناسمجھی سے ضرغام خان کی پشت کو دیکھا تھا—
___________
رخصتی ہو چکی تھی—شاہ اور خان حویلی کے لوگوں کی گاڑیاں آگے پیچھے اپنے واپسی کے رستوں کی جانب نکلی تھیں
خان فارم ہاؤس جانے والے رستے پر گامزن چھوٹے خان کی گاڑی میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا—
جبکہ اتنی خاموشی میں سلویٰ شاہ کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا—
اسے لگا تھا کہ رخصتی کہ وقت کوئی اور بھی اس کے ساتھ گاڑی میں موجود ہوگا
لیکن جب اسے بیک سیٹ کی بجائے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا گیا تو اس کا دل بری طرح کپکپایا تھا—اور جب فرنٹ سیٹ کا دروازا کھول کر ارمغان خان خاموشی سے آکر اس کے ساتھ براجمان ہوا تو سلویٰ شاہ کا دل اچھل کر حلق کو آیا تھا—
لیکن وہ چاہ کر بھی کوئی احتجاج نہیں کرسکتی تھی—پہلے ہی جو کچھ وہ انجانے میں کر چکی تھی نجانے اس کی سزا یہ خان کیا سوچے بیٹھا تھا—
ابھی وہ اپنی سوچوں میں غرق تھی کہ گاڑی کی خاموشی میں ارمغان خان کی گنگناتی ہوئی آواز گونجی تھی
جسے سنتے اور سمجھتے سلویٰ شاہ نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں
”دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے—اوو دل کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے”— ایک ہی لائن بار بار دہراتا وہ سلویٰ شاہ کو بری طرح زچ کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ تبھی سلوی شاہ جھٹکے سے ارمغان خان کی جانب مڑی تھی—
”سٹاپ اٹ ارمغان—اب بس بھی کریں”— دایاں ہاتھ ارمغان خان کے بازو پر رکھتے—وہ بڑی ہمت سے گویا ہوئی تو ارمغان خان نے سلویٰ شاہ کا ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکا تھا
”ڈونٹ ٹچ میں وومن—ورنہ دل کے ارمان کے ساتھ وہ ارمان بھی میرے ہاتھوں اپنے خون میں بہہ جائے گا—اور تم چاہ کر بھی دونوں پر ماتم بھی نہیں کر سکو گی”—گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے دھاڑتے ہوئے کہا تو سلوی شاہ نے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے—
وہ ابھی بھی سامنے دیکھ رہا تھا—اسٹیج پر وہ اس کے سامنے تو تھی لیکن جب وہ اس کی طرف بڑھا تھا ایک نظر دیکھتے وہ نظروں کا رخ پھیر چکا تھا—اور پھر وہ جتنی دیر بھی ساتھ رہا ایک بار بھی سلویٰ شاہ کو نہیں دیکھا تھا—یہ بات کسی اور نے نوٹ کی کو نا ہو لیکن سلوی شاہ کو بہت شدت سے محسوس ہوئی تھی—وہ اس سب کو اپنا وہم سمجھ کر جھٹلا دیتی لیکن گاڑی میں بیٹھنے حتی کہ سلوی کے مخاطب کرنے پر بھی ارمغان خان نے ایک نظر اس کی طرف نہیں دیکھا تھا—لفظوں سے زیادہ ارمغان خان کا رویہ اسے تکلیف دے رہا تھا—
”میری بلّا سے وہ جیے یا مرے—میں کیوں کروں اس کے لیے ماتم”—نم ہوتے لہجے پر قابو پاتے—ہمت مجتمع کر کہ جواب دیتے—نظریں—ارمغان کے ہاتھوں اور ماتھے کی پھولتی رگوں پر گئی تو سلوی شاہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی تھی—
”تم کیوں کرو گی ماتم—ماتم تو چھوٹے خان کا کرنا بنتا ہے—جس کی محبت اسے ٹھکرا کر کسی اور سے شادی کے لیے ہامی بھرتی ہے— کسی اور مرد کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کرتی ہے—سچ میں ماتم تو میرا کرنا بنتا ہے”— اسٹرینگ پر ہاتھ مارتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو سلوی شاہ بے ساختہ اپنی سیٹ پر سمٹی تھی—
وہ بہت نا محسوس انداز میں ارمغان خان کے بازو کے قریب رکھا ہاتھ سرکا چکی تھی—جسے وہ سامنے دیکھتے ہوئے بھی بہت آسانی سے محسوس کر گیا تھا
تبھی جبڑے بھنچتے خود پر قابو پانے کی کوشش کی تھی
گاڑی کی سپیڈ کم کرتے ایک نظر اپنے دائیں بائیں اور پیچھے آتی گارڈز کی گاڑیوں کو دیکھا تھا—
تبھی گاڑی کی خاموش فضا میں گھٹی گھٹی سی سسکی کی آواز گونجی تھی—جس پر ارمغان خان نے گردن ترچھی کرتے سر جھکائے بیٹھی سلوی شاہ کو دیکھا تھا—
سرخ لہنگا پہنے—زیوروں سے سجی— مہندی لگے ہاتھوں کو آپس میں مسلتی—سرخ لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں کو بری دانتوں میں دبائے— گنھی خم دار پلکوں کو سرخ عارضوں پر سایہ فگن کیے— وہ مکمل حسن کی مورت بنے ارمغان خان کے دل کے تار بری طرح چھیڑ چکی تھی—
نظریں سرخ گالوں سے ہوتی ناک پر پہنی نتھ پر گئی تو ارمغان خان کو اپنے گلے میں گلٹی سی ابھرتی محسوس ہوئی تھی—
ہیزل ہنی آنکھوں میں لمحے میں خمار سے سرخی اتری تھی—
تبھی ارمغان خان نے جھٹکے سے گاڑی روکی تھی—اس سے پہلے سلوی شاہ سر اٹھائے گاڑی رکنے کی وجہ پوچھتی—تبھی ارمغان خان نے جھٹکے سے سلویٰ شاہ کا بازو اپنی اپنی گرفت میں لیتے اپنی جانب کھسکایا تھا کہ وہ کٹی ہوئی ڈال کی طرح ارمغان خان کے سینے سے ٹکرائی تھی
”اگر تمہاری آنکھ سے ایک بھی آنسو بہا—یا ہونٹوں سے ایک بھی سسکی نکلی تو میں تمہاری ان آنکھوں کو اور اس آواز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گا”— ہیزل ہنی آنکھوں کے خمار نے لمحے میں غصے کا روپ دھارا تھا—سینے میں سر اٹھاتا جذباتوں کا طوفان چپ کی چادر اوڑھے چھپ چکا تھا—
جبکہ سلوی شاہ گرے آنکھوں میں حیرت لیے بے یقینی سے ارمغان خان کے اس قدر بدلے ہوئے لہجے کو دیکھ رہی تھی—
”آپ—مم-مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتے”—دونوں ہاتھ ارمغان خان کے سینے پر رکھتے دور ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے اس کوشش کو ناکام بناتے اپنا بایاں بازو سلویٰ شاہ کی کمر کے گرد حائل کیا تھا—
”تو اب یہ تم مجھے بتاؤ گی کہ میں تم سے کس طرح سے بات کر سکتا ہوں—مطلب کہ اب میری ایک دن کی دلہن مجھے یعنی کہ چھوٹے خان جو بات کرنا سکھائے گی—انٹرسٹنگ”— طنزیہ لہجے میں کہتے کمر پر دباؤ بڑھایا تو سلوی شاہ نے بامشکل اپنی سسکی پر قابو پایا تھا—
”مم—میرے لالا کہتے ہیں کہ بیوی کی قدر کرنی چاہیے—وہ آپ کے لیے سب چھوڑ کر آتی ہے—اور میں تو ایک دن کی بیوی—مطلب کہ ابھی ایک دن بھی نہیں ہوا بیوی بنے—تو آپ کو چاہئے کہ مجھ سے ایسے بات مت کریں نا—مجھے پہلے ہی گھر والوں کی یاد آرہی ہے—اور رونا بھی”—نظریں جھکائے—معصومیت سے مدھم لہجے میں کہتی وہ ارمغان خان کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی—
کمر پر رکھے ہاتھ پر خوبخود نرمی آئی تھی—
”ایک دن کی بیوی نہیں—ایک دن کی دلہن ہوتا ہے بیوقوف لڑکی—بیوی تو ساری عمر کے لیے ہوتی ہے—دلہن تم صرف ایک دن کے لیے بنی ہو”— کچھ سمجھ نا آنے پر وہ سلوی شاہ کی بات پکڑتا ڈپٹنے والے انداز میں بولتے سلوی شاہ کو پیچھے کر چکا تھا
جس پر وہ جلدی سے دروزے سے جا چپکی تھی جسے دیکھتے ارمغان خان نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھنچی تھی
لیکن ابھی وہ اسے پھر سے کچھ کہنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا—
سلوی شاہ نے چاہے جیسے بھی کہا تھا لیکن اس کے الفاظ تو سچ تھے نا
وہ اپنا سب کچھ اس کے لیے چھوڑ کر آئی تھی—وہ پہلے کیا کر چکی وہ اتنا معنی نہیں رکھتا تھا کہ جتنی یہ بات معنی رکھتی تھی کہ وہ اپنا سب کچھ ارمغان خان کے نام کرتے—اپنے سارے اختیارات اس کے سپرد کرتی—اس کی بیوی کی حثیت سے اس کے ساتھ تھی
اور یہ احساس ہی رگ و پے میں سرشاری کی لہر دوڑا دیتا تھا—
وہ دل ہی دل میں ارداہ کر چکا تھا کہ اپنی ناراضگی میں وہ سلویٰ شاہ سے اس کی نئی زندگی کے خوبصورت دنوں کی خوشی نہیں چھینے گا
وہ چاہے ناراض رہے گا لیکن اسے ہرٹ نہیں کرے گا—وہ اسے بعد میں بھی ہرٹ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا
وہ بھلا اسے تکلیف دے سکتا ہے— ساتھ بیٹھی لڑکی اگر بہرام شاہ کی شہزادی ہے تو وہ ارمغان خان کے دل کی ملکہ بھی ہے—جس نے اپنی پہلی نظر سے ارمغان خان کے دل کی سلطنت کو فتح کیا تھا—
لیکن وہ اپنی ناراضگی کا بھرپور مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا—وہ دو دو غلطیاں کر چکی تھی—اور ان دونوں کو بھول پانا ارمغان خان کے لئے نا ممکن تھا—وہ اسے جان سے مار دیتی وہ افف نا کرتا—لیکن وہ محض اسے تڑپانے کے لیے کسی اور شخص کو بیچ میں لائی تھی—اور یہ بات ناقابل برداشت تھی
نظریں سامنے سڑک سے ہٹاتے—گردن ترچھی کرتے سلوی شاہ کو دیکھا تھا جو گاڑی کے دروازے سے ٹیک لگائے شاید سو چکی تھی
جسے دیکھتے ارمغان خان نے ہاتھ بڑھاتے سلوی شاہ کو بازو سے تھامتے اپنی جانب سرکایا تھا جس پر سلوی شاہ نے مندی مندی آنکھیں کھولتے ارمغان خان کی جانب دیکھا تھا—جو خاموش نظروں سے سلوی شاہ کو دیکھتے اس کا سر اپنے بازو سے ٹکاتے اپنا بازو سلویٰ کے کندھے کے گرد حائل کر چکا تھا
سلوی شاہ کے وجود سے اٹھتی محسور کن خوشبو کو محسوس کرتے ارمغان خان نے گہری سانس بھرتے اپنے جذبات پر قابو پایا تھا—
part 2
ہال سے واپسی پر وہ لوگ گاوں نہیں گئے تھے—بلکہ ہال سے ہی
شاہ حویلی والے آسلام آباد میں موجود بہرام شاہ کے محل نما بنگلے میں آگئے تھے—
کچھ رسموں کے بعد حلیمہ بیگم پلوشہ خان کو حدائق شاہ کے کمرے میں چھوڑ گئی تھی—
ان کے جانے کے بعد پلوشہ خان نے گھونگھٹ اٹھاتے—نظریں اطراف میں گھمائی تھیں—
آف وائٹ پینٹ کی دیواریں—ٹیرس کے دروازے کو چھپائے—ڈارک بلیو کلر کے کرٹنز—سفید ہی صوفہ اور اس پر رکھے بلیو کشنز سرخ گلاب کی پتیوں سے ڈھکے ہوئے تھے—صوفہ کے آگے بچھی گلاس ٹیبل گلاب کے پھولوں اور رنگ برنگی موم بتیوں سے گجمگا رہی تھی—کمرے کی دہلیز سے لے کر بیڈ—سائیڈ ٹیبل—صوفی ڈریسنگ نیز ہر چیز گلاب کی سرخ پتیوں سے ڈھکی ہوئی تھی—
لہنگا سنبھالتے پلوشہ خان نے قدم زمین پر رکھے تھے—ٹھنڈی ٹھنڈی نرم پتیوں پر پاؤں رکھتے سکون کی ٹھنڈی لہر وجود میں سرائیت کی تھی جسے نظر انداز کرتی وہ دوسرا پاؤں بھی زمین پر رکھ چکی تھی—
اطراف میں نظریں دوڑاتے اپنے ہاتھ کی چند مٹھی کو دیکھا تھا—اور پھر ایثنظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے دودھ کے گلاس کو
ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے پلوشہ خان نے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا تھا—اور پھر دروازے کی جانب پشت کرتی وہ دودھ کے گلاس کی جانب متوجہ ہوئی تھی—
مٹھی میں دبے سفید کاغذ کو کھولتے— کاغذ میں موجود پاؤڈر کو دودھ میں ملایا تھا
جبکہ یہ سب کرتے ہوئے پلوشہ خان کے ہمہ وقت نظر آتے معصوم چہرے پر چٹانوں سی سختی تھی—
چہرہ ہر تاثر سے عاری تھا—
خالی کاغذ کو واشروم میں جا کر فلش میں پھینکتی وہ واپس وہی آکر کھڑی ہوئی تھی—
دودھ کے گلاس کو ڈھکتی ابھی وہ پلٹتی کہ کلک کے ساتھ دروازا کھلنے اور بند ہونے کی آواز کمرے میں گونجی تھی—جسے سنتے وہ اپنی جگہ ساکت ہوئی تھی—
کمرے میں پھیلی پھولوں کی خوشبو میں مرادانہ کلون کی خوشبو شامل ہوئی تو پلوشہ خان کو اپنی ہتھیلیاں پسینے میں بھگیتی محسوس ہوئی تھی—
ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہوئے تو پلوشہ خان نے نامحسوس انداز میں ہاتھ کی پشت سے انہیں صاف کیا تھا
”اہمم— انتظار کے لیے معذرت جاناں”— اپنی پشت سے آتی حدائق شاہ کی گھمبیر آواز کو سنتے پلوشہ خان کا دل بری طرح سکڑا تھا
”پہلے اتنے سال انتظار کر چکا ہوں—اور ہر سال میں صدیوں کا ہجر کاٹا ہے حدائق شاہ نے— اب میں مزید انتظار میں وقت برباد نہیں کرنا چاہتا”—کچھ لمحے تو وہ پلوشہ خان کی پشت دیکھتے اس کے جواب کا منتظر رہا مگر پلوشہ خان کو ویسے ہی کھڑے دیکھتے حدائق شاہ نے ہاتھ بڑھاتے پلوشہ خان کو بازو سے تھامتے جھٹکے سے رخ اپنی جانب کرتے سینے سے لگایا تھا—
حدائق شاہ کے حصار میں وہ بری طرح مچلی تھی جسے نظر انداز کرتے حدائق شاہ اسے خود میں بھنچتا—پلوشہ خان کے وجود سے دلکش خوشبو کو سانسوں کے رستے دل میں اتارتا نرمی سے پیچھے ہوا تھا—
سرخ لہنگے میں سر سے لے کر پاؤں تک پور پور سجی— مہندی سے رچے ہاتھ—کنگن اور چوڑیوں سے سجی کلائیاں—گلے اور کانوں میں بھاری زیور—ناک میں پہنی نتھ کے نیچے کپکپاتے سرخ ہونٹ—پٹھانی گلال بکھرے گالوں پر بکھری لالی—نیلی سمندر سی گہری آنکھوں پر سایہ فگن خمدار پلکیں—وہ صرف حسین نہیں – جان لیوا حد تک حسین تھی”
حدائق شاہ کے ہاتھ بے خودی کے عالم میں پلوشہ خان کے گرد حائل ہوئے تھے—جس پر پلوشہ نے گھبرا کر اپنے گرد حائل ہوتے حدائق شاہ کے ہاتھوں کو دیکھا تھا—
وہ بے ساختہ لڑکھڑاتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہوئی تھی جس پر حدائق شاہ نے ایک قدم پلوشہ خان کی جانب بڑھایا تھا—
”کچھ کہو گی نہیں”—ناک میں پہنی نتھ کو نرمی سے ہونٹوں سے چھوتے خمار آلود لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے اپنے دونوں ہاتھ حدائق شاہ کے سینے پر رکھتے اسے اپنے چہرے پر جھکنے سے نامحسوس انداز میں روکا تھا
جس پر حدائق شاہ نے آبرو آچکا کر سوالیہ انداز میں پلوشہ خان کو دیکھا تھا—
”کک—کیا کہوں”—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے مدھم لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے کمر پر دباؤ پڑھاتے پلوشہ کو اپنی جانب کھسکایا تھا—
جبکہ دائیں ہاتھ سے سر پر موجود گھونگھٹ کو اتار کر بیڈ پر اچھالا تھا
”کہنا تو بہت کچھ ہے—مگر ابھی آغاز ہے تو تم مجھے نکاح کی مبارک باد—نکاح نہیں شادی کی مبارکباد دو”— پرسوچ لہجے میں کہتے جواب دیا تو پلوشہ خان نے فورا اثبات میں ہلایا تھا
”نن-شادی مبارک شاہ”—تین لفظ میں جواب دیتے پلوشہ خان نے جھٹکے سے حدائق شاہ کا حصار توڑا تھا—جس پر حدائق شاہ کے چہرے کے زاویے ہل میں بگڑے تھے
مگر وہ سرعت سے انہیں چھپا چکا تھا—
”شوہر کو ایسے جواب دیتے ہیں—شوہر کی خوشی میں ایسے خوش ہوتے ہیں”— سخت لہجے میں کہتے قدم پلوشہ خان کی جانب بڑھائے تو پلوشہ نے گھبرا کر قدم پیچھے لیے تھے
مزید پیچھے ہوتی وہ پیچھے موجود سائیڈ ٹیبل سے ٹکرائی تھی—دودھ کا گلاس ٹیبل پر گرتا نیچے بہتا گیا تھا ۔اس سے پہلے پلوشہ کا ڈریس خراب ہوتا حدائق شاہ اسے بازو سے تھام کر اپنی جانب کھینچتا جھٹکے سے بازوؤں میں بھرتا بیڈ پر بٹھا چکا تھا
پیچھے ہوتے شیروانی کے بٹن کھولتے—صوفے کی طرف اچھالی تھی
جبکہ نظریں اس پلوشہ خان کے چہرے کے اتراؤ چڑھاؤ کو بغور دیکھ رہی تھیں—
حدائق شاہ کو شیروانی اتار کر پھینکتے دیکھ وہ دونوں ہاتھ بیڈ پر ٹکائے پیچھے کھسکتی
اس سے پہلے حدائق شاہ پلوشہ خان کے دونوں ہاتھ نرم گرفت میں لیتا— اسے بیڈ پر ہٹاتے—دونوں ہاتھوں کو سر کہ اوپر پن کرتے—گھنی گھٹا کئ طرح پلوشہ خان پر جھک آیا تھا—
”ڈو یو لو می”—بھاری گھمبیر لہجے میں سرگوشی کرتے اپنے ہونٹ پلوشہ خان کے ماتھے پر رکھے تھے—
جبکہ حدائق شاہ کے سوال پر سینے دھڑکتا پلوشہ خان کا دل ساکت ہوا تھا—
نظریں بے خودی کے عالم میں حدائق شاہ کی سوال کرتی نیلی آنکھوں سے الجھی تھیں
وہ نجانے کتنی دیر خاموش نظروں سے حدائق شاہ کو دیکھ رہی تھی کہ اپنے ہونٹوں پر سلگتا جان لیوا لمس محسوس کرتے ہوش میں آئی تھی—
”مم—مجھے تھوڑا ٹائم چاہیے شاہ”— وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ لفظ کیسے ہونٹوں سے ادا ہوئے تھے—وہ تو اسے روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی—وہ پہلے بھی تو قریب آیا تھا نا تب بھی تو نہیں روکا تھا لیکن آج—آج نجانے کیسے وہ روک گئی تھی
جبکہ سامنے والا جیسے جانتا ہی تھا کہ وہ یہی کہے گی اسے لیے پلوشہ خان کے جواب پر وہ سرعت سے مٹھیاں بھنچتے پیچھے ہوا تھا—
نظریں آنکھیں میچے گہرے سانس بھرتی پلوشہ خان کے چہرے پر گئیں تو حدائق شاہ نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے ماتھے کو مسلا تھا—
جبڑے بھنچتے—سر جھٹکتے جیسے دماغ میں اٹھتے بہت سے سوالوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی تھی
”ٹھیک کتنا وقت چاہیے تمہیں—میرے مرنے سے پہلے تو یہ انتظار ختم ہو جائے گا نا”—بازو سے تھام کر اپنے سامنے کرتے سپاٹ لہجے میں کہا تو پلوشہ خان کی آنکھوں میں تڑپ ابھری تھی—سر بے ساختہ نفی میں ہلا تھا—
دل جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچا تھا
یہ احساس کیوں ہوا تھا وہ نہیں جان سکی تھی—مگر یہ الفاظ بہت جان لیوا محسوس ہوئے تھے—
”بب-بس کچھ دن”—نظریں جھکائے منمنا کر کہا تو حدائق شاہ نے ہنکارا بھرا تھا—
کچھ لمحے وہ کھوجتی نظروں سے پلوشہ خان کے جھکے سر کو دیکھتا رہا اور پھر بازو سے تھامتے قدم واشروم کی جانب بڑھائے
”چینج کر لو— جتنے دن کا بھی ٹائم چاہیے اتنے دن تم مجھے میرے کمرے میں آنے سے پہلے سوئی ہوئی نظر آؤ—اگر تمہیں جاگتے ہوئے دیکھ میرے جذبات جاگ گئے تو پھر مجھ سے گلہ مت کرنا”—پلوشہ خان کو واشروم کے دروازے کے قریب لا کر کھڑا کرتے تنبیہہ لہجے میں کہا تھا
جس پر وہ سر ہلاتی واشروم میں گم ہوتی کہ پلوشہ خان کی جلد بازی پر تاؤ کھاتے حدائق شاہ نے اسے کمر سے تھامتے دروازے سے ہن کرتے اپنے دونوں ہاتھ اس کے اطراف میں رکھے تھے—
”صرف چند دن—اس کے بعد تم مجھے پلوشہ خان نہیں—مسسز حدائق شاہ بن کر ملو گی”— پلوشہ خان کے ہوش ربا سراپے کو استحاق سے دیکھتے ایک ایک لفظ چبا کر کہتے اسے واشروم میں دھکیلتے جھٹکے سے دروازا بند کیا تھا—
”شٹ”— دیوار پر زور سے ہاتھ مارتے حدائق شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھنچی تھی—
نظریں واشروم کے دروازے سے ہوتی بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر گرے دودھ کے گلاس پر جا ٹھہری تو حدائق شاہ کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ رینگی گئی
_________
سلو سپیڈ میں گاڑی چلاتے ضرغام خان نے مسکرا کر اپنے بائیں کندھے سے سر ٹکائے آنکھیں موندے عقیدت شاہ کو دیکھا تھا—
”ضرغام مجھے بعد میں دیکھ لینا—گاڑی تیز چلاؤ—میں اب گھر جا کر سکون سے نیند پوری کرنا چاہتی ہوں”— خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتے ضرغام خان سے کہا تو ضرغام خان نے گاڑی کی سپیڈ تھوڑی تیز کی تھی
”میری اگر آنکھیں بند ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ کان بھی بند ہیں”—عقیدت کی جھنجھلائی آواز پر ضرغام خان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا—
”تو میں نے کب کہا کہ تمہارے کان بند ہے”— کندھے اچکائے جواب دیا تو عقیدت شاہ کندھے سے سر اٹھائے پیچھے ہو کر بیٹھی تھی
”تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ مجھ سے باتیں کریں”—شان ِ بے نیازی سے کہتی وہ دوبارا اپنا سر ضرغام خان کے بازو سے ٹکا چکی تھی
”آج میں خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں”— نظریں سامنے سڑک پر جمائے آہستہ آواز میں کہا تو عقیدت نے سر اٹھائے ضرغام خان کے پرسکون چہرے کو دیکھا تھا—
”پلوشہ—امتثال اور ارمغان ان تینوں کو بھائی نہیں باپ بن کر پالا ہے میں نے—اور ایک باپ کی اپنی اولاد کے حوالے سے بہت سی زمہ داریاں ہوتی ہیں—اور میں ساری عمر باخوشی ان زمہ داریوں کو نبھا سکتا ہوں—مگر آج ان سب کو ان کی مرضی سے کسی اور کے نام کر کہ ایسے لگ رہا کہ میں جو ان کے لیے باپ کی حیثیت رکھتا ہوں—اس کا فرض پورا ہو چکا ہے—اب بھائی ہونے کی زمہ داری ہے اور وہ میں ساری عمر نبھاتا رہوں گا”—
”ہمم—ساری زمہ داریاں یاد ہیں—لیکن غلطی سے بھی ان زمہ داریوں میں شوہر کی کیا زمہ داری وہ یاد نہیں آیا”— ضرغام خان کے خاموش ہونے پر منہ پھلا کر کہا تو ضرغام خان نے بامشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی
”نہیں ایسی بات تو نہیں—شوہر کی ساری زمہ داریاں یاد ہیں—اور پھر کچھ ماہ تک مجھے باپ بننے کی زمہ داری بھی ملے گی میں اس سے بھی باخوبی واقف ہوں—لیکن سب سے پہلی زمہ داری بیوی کو خوش رکھنے کی ہے تو وہ گھر جا”—ابھی وہ بات مکمل کرتا کہ عقیدت شاہ اپنی ہتھیلی ضرغام خان کے ہونٹوں پر جماتی چہرہ اس کے چہرے کے قریب لائی تھی—
”مجھ سے کتنی محبت ہے خان”—سبز آنکھوں کو سمندر سی گہری نیلی آنکھوں میں گاڑھے سنجیدہ لہجے میں استفسار کیا تو ضرغام خان نے گاڑی کو روکا تھا
”میری اتنی محبت کے بعد بھی یہ سوال”— عقیدت کا ہاتھ ہونٹوں سے ہٹائے وہ نرم لہجے میں جواب دیتا کہ عقیدت نے آگے جھکتے ضرغام خان کے ہونٹوں پر پھر سے انگلی رکھی تھی—ضرغام خان کی دہکتی سانسوں میں سانس لیتے سر نفی میں ہلایا تھا
”یہ جواب نہیں ہے—مجھ سے کتنی محبت ہے اور کب تک ہے”—لہجے میں ضد لیے استفسار کیا تو ضرغام خان نے گہری سانس بھرتے اپنے دونوں بازو عقیدت کی کمر کے گرد حائل کیے تھے—
”خان کی جنگلی بلی—خان کو آپ سے بے پناہ محبت ہے—اور عقیدت ضرغام خان سے محبت کے لیے میں ہزاروں زندگیاں بھی ادھار لوں تو وہ بھی کم پڑ جائیں”— جذبات سے چور لہجے میں کہتے—اپنا ہاتھ عقیدت کے بالوں میں الجھایا تھا
نظریں سبز نگینوں سی آنکھوں سے سرکتی ہونٹوں پر آئی تو ضرغام خان کی آنکھوں میں خمار اترا تھا
ابھی وہ ان پر جھکتا کہ پیچھے سے آتی وین بری طرح ان کی گاڑی سے ٹکرائی تھی
جس پر ضرغام خان عقیدت کے گرد بازو لپیٹتے پیچھے ہوا تھا—وین کو دائیں جانب درخت سے ٹکراتے دیکھ وہ پریشانی سے باہر نکلنے لگا تھا کہ عقیدت نے ہڑبڑا کر ضرغام خان کا ہاتھ تھاما تھا
”باہر مت جاؤ”—
”عقیدت دیکھنے دو یار”—عقیدت کا ہاتھ تھامتے سر نفی میں ہلایا تھا
”نہیں—دیکھو پیچھے سے روڈ خالی ہے—یہ جان کر ہم سے ٹکرائی ہوگی—میں نے کہا بھی تھا کہ گارڈز کو آنے دو لیکن تم نے میری ایک نہیں سنی— تم خود نہیں جاؤ گے—ایمبولینس کوکال کر دو—اور اب میں کچھ نہیں سنوں گی تم نہیں جاؤ گے باہر”— دو ٹوک لہجے میں کہتی وہ موبائل ضرغام خان کی جانب بڑھا چکی تھی جس پر ضرغام خان سخت نظروں سے عقیدت کو گھورتے ایمبولینس کو کال ملا رہا تھا—
لوکیشن بتاتے وہ وہاں سے نکل چکے تھے—جبکہ ان کے نکلنے کے کچھ منٹو بعد ہی وہاں کچھ گاڑیاں آکر رکی تھی—وین کے دروازے توڑتے انہوں نے وین میں موجود نیم بیہوش لوگوں کو گھیسٹتے ہوئے گاڑیوں میں ڈالا تھا—
اور وہاں سے نکلتے چلے گئے تھے–
_________
”انہوں نے ابھی حملہ نہیں کیا تھا—ان کا ارادہ گاڑی کو ہٹ کر کہ انہیں اشتعال دلا کر گاڑی سے باہر لا کر ان پر حملہ کرنے کا تھا—مگر اس سے پہلے ہی ہمارے شوٹر نے وین کے ٹائرز پر فائر کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ درخت سے جا ٹکرائی تھی—وین کافی سپیڈ تھی اسی لیے ان کے لیے اس اچانک افتاد پر قابو پانا کافی مشکل تھا—کچھ لوگ کافی زخمی ہے کچھ کو بس معمولی چوٹیں آئیں ہیں”— کرسی پر بیٹھے شخص کے سامنے مؤدب سے سر جھکائے تفصیل بتاتے شخص نے بات مکمل کرتے سر اٹھا کر اپنے باس کو دیکھا تھا—
پھر ہمت مجتمع کرتے وہ دوبارا سے گویا ہوا تھا–
”آپ کو اسے مارنا نہیں چاہیے—اس نے جو بھی غلطی کی اسے مجھے لگتا ہے ہمیں اسے ایک اور موقع دینا چاہئے —یہ ہے تو خان اور شاہ کا دشمن ہی—اور دشمن کا دشمن تو دوست ہوتا ہے”— اپنے خاص آدمی کی بات پر سامنے کرسی پر جھولتے شخص کی آنکھوں میں خون اترا تھا
تبھی اس سے پہلے سامنے کھڑا شخص کچھ سمجھتا—کرسی پر بیٹھے شخص نے سامنے ٹیبل سے پسٹل اٹھاتے اس کی ٹانگوں پر فائر کیے تھے—
کمرے کی خاموش فضا گولیوں کی چلنے کی اواز اور سامنے کھڑے وجود کی چیخوں سے گونج اٹھی تھیں—
تبھی وہ شخص کرسی سے اٹھتا— مضبوط قدم جماتا زمین پر گرے—درد سے تڑپتے شخص کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا—
”وہ میری ہے—صرف اور صرف میری—میں نے خان اور شاہ خاندان کو ختم کرنے میں ساتھ دینے کی ڈیل کی تھی—نا کہ اسے—اگر اس مکار عورت یا اس کے بھائی کی کسی سازش میں اسے کھروچ بھی آئی تو میں— تم سب کا نام صفہ ہستی سے مٹا دوں گا”— زمین پر تڑپتے شخص کے خون سے اپنے ہاتھ کو رنگتے اس کے چہرے پر بری طرح لگاتے—سرسراتے لہجے میں کہا تھا جبکہ سامنے موجود شخص درد سے بری طرح تڑپ رہا تھا—
جبکہ ایسی ہی دلدوز چیخیں ساؤنڈ پروف اپارٹمنٹ کے اندھیرے میں ڈوبے کمرے کے کھلے دروازے سے بھی آرہی تھیں
جسے سنتے وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھتے ساتھ والے کمرے کی جانب بڑھا تھا
کمرے میں داخل ہوتے اس نے ہاتھ بڑھا کر کمرے کی لائٹ ان کی تھی—
کمرا روشنی میں نہایا تو نظریں پر زخموں سے چور زمین پر لیٹے جسموں پر گئی تھی
جن کے تن پر موجود کپڑے خون سے لت پت جسم کا حصہ ہی معلوم ہو رہے تھے—
دور سے ہی جسموں پر لگے بڑے کٹ واضح دکھائی دے رہے تھے—
کمرے میں پڑے واحد ٹیبل پر شیشے کے کچھ باکس تھے—جن میں طرح طرح کے کیڑے مکوڑے موجود تھے—
تبھی اس شخص نے آگے بڑھتے ایک ڈبے سے ڈھکن ہٹاتے—اسے زمین پر رکھا تھا کہ تبھی ڈبے سے نکلتی سیاہ موٹی موٹی چیونٹیاں اردگرد پھیلی تھی
جسے دیکھتے نیم بیہوشی کی حالت میں موجود آدمیوں کی چیخیں پھر سے ایک بار گونجی تھیں—
جنہیں سراسر نظر انداز کرتے وہ شخص کمرے کی روشنی بھجاتے دروازا بند کرتے باہر آیا تھا—
_____________
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سٹوری ایک جگہ رکی ہوئی ہے تو میں بس یہ کہنا چاہوں گی کہ یہ شاید اتنے گیپ کہ وجہ سے لگ رہا ہے اور دوسری وجہ یہ کہ ناول میں چھ کپل ہے اور اگر شادی کہ یا کسی بھی سچویشن کہ حساب سے اگر دو کپل کے سین بھی ایک ایپی میں آئیں تو تین ایپی ایسے جاتی ہیں—میں اک دم سے تو سٹوری کو آگے نہیں کر سکتی نا سب کچھ ساتھ لے کر چلنا ہوتا—اب نیکسٹ ایپیز میں ٹوسٹ بھی ہوگا اور سٹوری بھی آگے بڑھے گی__
