Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 40)

Maan Yaram by Maha Gull Rana

“آپ کو گھوڑے پسند ہیں—عقیدت لالی کو بھی بہت پسند ہیں—ان کا تو جنون ہے ہورس رائیڈنگ کرنا—لیکن مجھے تو ڈر لگتا ہے عائث”—عائث خان کو سیاہ رنگ کے گھوڑے پر ہاتھ پھیرتے دیکھ حوریہ نے کہا تو عائث خان نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا—

جبکہ حوریہ آنکھوں میں چمک لیے سر سبز میدان اور کچھ فاصلے پر موجود سبز پہاڑوں کو دیکھ رہی تھی—

وہ حوریہ کے صبح اٹھنے پر اسے سیر کرانے کے لیے یہاں لے آیا تھا— حوریہ شاہ کو مکمل اپنا بنا لینے کے بعد سے عائث خان کے چہرے سے مسکراہٹ پل کے لیے بھی جدا نا ہوئی تھی—جبکہ اپنی قربت سے بکھرتے حیا کے رنگ حوریہ کے چہرے پر دیکھنے سے عائث خان کو اپنے رگ و پہ میں سرشاری کی کیفیت سرائیت کرتی محسوس ہوتی تھی–

“اور تمہیں کیوں ڈر لگتا ہے”—گھوڑے کی لگام تھامے آگے بڑھتی حوریہ شاہ کے ساتھ قدم ملاتے سوال کیا تو حوریہ نے بے ساختہ اپنی نازک ہونٹ کچلتے نظریں ترچھی کر کہ عائث خان کو دیکھا تھا—

سرمئی رنگ کا جوڑا پہننے—کندھوں پر شال اوڑھے—براؤن سلکی بالوں کی ڈھیلی سی چوٹی باندھ کر پشت گرائے—چہرے پر ازلی معصومیت سجائے وہ ہمیشہ کہ طرح کوئی کانچ کی گڑیا ہی معلوم ہو رہی تھی—گلابی نرمی ہتھیلیوں کو آپس میں مسلتے وہ یک دم رکی تھی—جس پر عائث خان نے ابرو آچکا کر سوالیہ نظروں سے حوریہ شاہ کو دیکھا تھا

“گھوڑے گرادیتے ہیں”— نظریں جھکائے اس طرح سے جواب دیا کہ نجانے کتنی بڑی غلطی کا اعتراف کیا گیا ہو

“گھوڑے نہیں گراتے—آپ کی نا اہلی آپ کو گراتی ہے”—عائث خان کے جواب پر حوریہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا—جبکہ وہ دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتا اپنا بایاں بازو حوریہ کے کندھے کے گرد حائل کرتا قدم آگے بڑھا چکا تھا—

“جب کوئی گھوڑے کو قابو نا کر سکے تو گرنے پر الزام گھوڑے پر ہی لگاتا ہے”—

تو مطلب آپ کو گھوڑے کو قابو کرنا آتا ہے”—چھوٹے چھوٹے قدم لیتے نظریں—عائث خان کے چہرے پر ٹکائے سوال کیا تو عائث خان نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا تھا

“تو گھوڑے کو قابو کرنے کے لیے کیا ضروری ہے—مجھے ان سے ڈر لگتا ہے لیکن مجھے یہ پسند بھی ہیں”— عائث خان کا ہاتھ کندھے سے ہٹا کر اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے—معصوم لہجے میں کہا تو عائث خان نے نا محسوس انداز میں اطراف میں نظریں گھمائی تھیں اور پھر حوریہ کو سمجھنے کا موقع دیے بغیر وہ اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا خود کے قریب تر کر چکا تھا—

“انسان ہو یا جانور اسے قابو کرنے کے لیے کسی ہتھیار کی نہیں—پیار کی ضرورت ہوتی ہے—جانور کوئی بھی ہو—وہ انسان کی کوئی زبان نہیں سمجھتا سوائے پیار کے—تم اسے پیار کرو گی—تو یہ تم سے مانوس ہو جائے گا اور پھر تمہیں کبھی گرنے نہیں دے گا”— ناک حوریہ شاہ کے نازک روئی جیسے گال پر ٹریس کرتے بھاری لہجے میں جواب دیا تو حوریہ شاہ نے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے سر اثبات میں ہلایا تھا

تو پھر چلیں ہواؤں کی سیر کو”—جھک کر سرگوشی کی تو حوریہ شاہ نے بالوں کی آوارہ لٹ کان کے پیچھے اڑستے سر اثبات میں ہلایا تھا جسے دیکھتے عائث خان کے مونچھوں کے تلے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی تھی—

گھوڑے پر سوار ہوتے اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی حوریہ شاہ کے آگے پھیلائی تھی—جو کچھ جھجھکتی ڈرتی اپنا ہاتھ عائث خان کی چوڑی ہتھیلی پر رکھ چکی تھی

ایک ہی جھٹکے میں وہ حوریہ کو کھینچتے اوپر بٹھا چکا تھا—

حوریہ کے بیٹھتے ہی گھوڑا آگے کی سمت بھاگا تھا—

“عائث مجھے گرائیں گا مت”—حوریہ شاہ کے چلا کر کہنے پر عائث خان نے اپنا دایاں بازو حوریہ کی کمر میں حائل کرتے اس کی پشت کو اپنے سینے میں بھنچا تھا

“میں تمہیں کبھی گرنے نہیں دوں گا مائے انوسنٹ وائفی—اب آنکھیں بند کرو”— عائث خان کی سرگوشی پر حوریہ شاہ کی دھڑکنیں بری طرح منتشر ہوئی تھیں—

گردن ترچھی کر کہ عائث خان کو دیکھنا چاہا تھا جو تھوڑی حوریہ شاہ کے کندھے پر رکھتے—ہونٹ حوریہ کے کان کی لو پر رکھ چکا تھا

مونچھوں کی چبھن محسوس کرتے—گال دہک کر سرخ انگارا ہوئے تھے

مگر اپنی بے ترتیب ہوئی دھڑکنوں کو قابو کرتے—وہ چہرے کا رخ سامنے کرتی آنکھیں بند کر چکی تھی—

آنکھیں بند ہوئی تو حوریہ شاہ کو اپنا آپ ہواؤں میں محسوس ہوا تھا—

تیز ٹھنڈی ہوا کے مسرور کرتے شور میں گھوڑے کے تیز قدموں کی آواز کی دھمک—چہرے کو چھوتی ٹھنڈی روح کو سکون پہنچا دینے والی ہوا کہ تازگی کو محسوس کرتے حوریہ شاہ نے اپنے بازو واہ کیے تھے—

وہ نہیں جانتی تھی کہ گھوڑا کس سمت جا رہا ہے اور کس رفتار سے—جو چیز وہ جانتی تھی تو بس اتنا کہ اسے اپنا آپ ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا—عائث خان کی نرم پرحدت گرفت میں اپنا آپ محفوظ محسوس ہو رہا تھا—

تھوڑی دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ جیسے گھوڑا رک چکا ہے—تو حوریہ نے آہستہ سے پلکوں کو اٹھایا تو اس قدر حسین منظر دیکھ حوریہ شاہ کی آنکھیں چمک اٹھی تھی—

اس وقت وہ سر سبز میدان کی اونچائی پر تھے جہاں سے نیچے اور اردگرد کے تمام مناظر با آسانی نظر آرہے تھے—

اردگرد پھیلے نیچے تک جاتے سر سبز گھنے درخت—اور رنگ برنگے پھولوں سے سجا سبز میدان— ٹھنڈے پانی کی بہتی نہر کے پانی کا مدھم شور

وہ عائث خان کا ہاتھ تھامے اطراف میں نگاہیں دوڑاتی نیچے اتری تھی—

جبکہ عائث خان گھوڑے کی پشت سہلاتا—اب نیچے بیٹھ چکا تھا—

عائث یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے نا”—حوریہ شاہ کے چہک کر کہنے پر عائث خان نے سر اٹھائے اسے دیکھا تھا—

“ہمم—خوبصورت بھی اور ظالم بھی”— سر جھٹکتے جواب دیا تو حوریہ شاہ کے آگے بڑھتے قدم رکے تھے—چونک کر عائث خان کو دیکھا تھا—

جو دائیں گھٹنے پر کہنی—دوسری ٹانگ کو فولڈ کیے بیٹھا تھا—

سیاہ سلکی بال ہوا کے باعث ماتھے پر بے ترتیبی سے بکھرے ہوئے تھے—

جبکہ چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ اب سنجیدگی لے چکی تھی—

“ظالم کیوں”— عائث خان کے قریب بیٹھتے نرم لہجے میں استفسار کیا تو عائث خان نے گردن ترچھی کرتے حوریہ شاہ کو دیکھا تھا—

“اس میدان کے پچھلی جانب—بابا اور چچا کا قتل ہوا تھا—ہم میں سے کوئی اس جگہ نہیں آتا—ضرغام تو بالکل نہیں—لیکن وہ اپنے چھوٹے خان کے لیے وہاں چلا جاتا ہے–—وہاں اگر کبھی اسے جانا بھی پڑا ہے تو ہمیشہ وہاں سے واپسی پر اس کی طبیعت خراب ہوئی ہے—مگر ارمغان وہی جاتا ہے—وہ جب بھی اداس ہوتا ہے—ہمارے لیے وہ جگہ اذیت کا باعث ہے—اور اس کے لیے اذیت سے نجات کا—ہم وہاں سکون کھو دیتے ہیں اور اسے سکون ہی وہی سے ملتا ہے—

“مجھے قبرستان سے خوف آتا ہے لالا— میں اپنے باپ کی قبر پر جاؤ—اور انہیں بتاؤں کہ ان کا چھوٹا خان انہیں کتنا یاد کرتا ہے—اسے اپنے باپ کی کتنی ضرورت ہے اور میری اتنی تڑپ پر بھی وہ خاموش رہے اور میں آگے بڑھ کر ان کے سینے نا لگ سکوں تو اتنی بے بسی پر چھوٹا خان مر نا جائیں”— ارمغان خان کے تکلیف دہ لہجے میں کہے گئے الفاظ دہراتے عائث خان نے اپنی آنکھوں میں اترتی نمی پر بامشکل قابو پایا تھا—اور پھر سر جھٹکتے حوریہ شاہ کو دیکھا تھا جو نم آنکھوں سے عائث خان کو دیکھ رہی تھی—

“اب سب ٹھیک ہو جائیں گا نا عائث”—امید بھرے لہجے میں استفسار کیا تو عائث خان نے سر اثبات میں ہلاتے بازو حوریہ شاہ کے کندھے کر گرد حائل کرتے اسے اپنے حصار میں لیا تھا—

“اب سب ٹھیک ہے—تمہارا خان اب کچھ بھی غلط نہیں ہونے دیں گا”— حوریہ شاہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامتے جواب دیا

“آپ کو مجھ سے پیار ہے نا عائث”—کچھ جھجھکتے ہوئے مدھم لہجے میں استفسار کیا تو عائث خان کے لبوں کو دلفریب مسکراہٹ نے چھوا تھا

“رات اتنا کچھ ہونے کے باجود بھی تمہارا یہ سوال پوچھنا بنتا ہے—مگر اب پوچھ ہی لیا ہے تو بتا دیتا ہوں—عائث میں کو اپنی بیوی سے بہت محبت ہے—تم سے نا ہوتی تو پھر کسی سے بھی نا ہوتی”— حوریہ شاہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے بھاری لہجے میں جواب دیا تھا—جبکہ نظریں کرسٹل گرے آنکھوں سے سرکتی پتلے گلابی ہونٹوں پر ان رکی تو حوریہ شاہ نے سٹپٹا کر دور ہونا چاہا تھا—

مگر اس سے پہلے ہی عائث خان شدت سے نرم ہونٹوں کو اپنی شدت بھری گرفت میں لے چکا تھا—

عائث خان کے لمس میں رات سے بھی زیادہ شدت محسوس کرتے حوریہ نے تڑپ کر اپنے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھے تھے

لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ ہونٹوں سے گردن تک کا سفر طے کرتے آگے بڑھتا کہ حوریہ نے تڑپ کر اسے پکارا تھا—

“عائثثث”—وہ جو اسی جگہ بیٹھی اپنے خیالوں میں گم تھی—چونک کر ہوش میں آئی تھی—تڑپ کر نظریں اطراف میں گھمائی تو وہاں وہ بس اکیلی تھی

عائث خان کے ساتھ گزرے خوبصورت لمحوں کا سوچتے نجانے کتنا وقت بیت گیا تھا—تبھی حوریہ ہتھیلیوں پر زور ڈالتی کھڑی ہوئی تھی—

وہ جگہ آج بھی اتنی ہی خوبصورت تھی—اور ظالم بھی

اس جگہ کے ساتھ سب کی اپنی اپنی یادیں تھی— کسی کے لیے سکوں کا باعث تھی اور کسی کے لیے اذیت کا

“بلیکی چلو واپس چل”—ہاتھ جھاڑتے وہ پلٹی تھی تو وہاں بلیکی کو نا پا کر حوریہ شاہ کے الفاظ ادھورے رہ گئے تھے—

وہ عائث خان کے گھوڑے کے ساتھ وہاں آئی تھی—اگرچہ اسے گھوڑ سواری نہیں آئی تھی مگر وہ پھر بھی گھوڑے کی لگام تھامے پیدل یہاں تک چلی آئی تھی—عائث خان نے ٹھیک کہا تھا وہ اس کے لمس سے مانوس ہو جائے گا تو اسے نقصان نہیں پہنچائیں گا—اور اتنے دنوں میں بلیکی حوریہ شاہ سے بہت مانوس ہو چکا تھا—

اور اب تو حوریہ کو بھی یقین تھا کہ وہ اسے نہیں گرائیں گا

“بلیکی”—دیوانہ وار چلاتے—حوریہ شاہ نے اطراف میں نظریں گھمائی تھیں

دور دور تک جب وہ دکھائی نا دیا تو حوریہ نے پلٹ کر پیچھے سر سبز درختوں کو دیکھا تھا جو میدان کے دوسری جانب جاتے تھے—

اور پھر بنا کچھ سوچے سمجھے وہ دیوانہ وار اس جانب بڑھی تھی—براؤن سلکی بال ہوا کے دوش سے چہرے پر آتے تو حوریہ جھٹکے سے انہیں پیچھے کرتی—کندھوں پر پھیلی میرون چادر پھسل کر بازؤں میں آئی تھی—

“بلیکی”—- پھولی سانسوں کے درمیان دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے آگے کو جھک کر حلق کے بل چلائی تھی—آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے آنسوؤں مٹی میں گم ہوئے تھے

وہ عائث خان کا گھوڑا تھا—اس کا پسندیدہ—وہ اس کے ساتھ کئی سالوں سے تھا—وہ عائث خان کا ہمراز تھا— اور وہ عائث خان کو اپنی جان سا پیارا تھا—

حوریہ شاہ کی آنکھوں میں تکلیف سے مرچیں سی بھرنے لگی تھیں

ایہہ وہ کیوں آئی تھی اس کے ساتھ—کیا ضرورت تھی اسے لانے کی—وہ شاید اس سے مانوس نہیں ہوا تھا—وہ شاید اسے محبت سے قابو میں نہیں کر سکی تھی—وہ عائث خان کا گھوڑا تھا—اسی کی طرح ساتھ تو چل پڑا تھا—منزل پر بھی پہنچا دیا تھا اور پھر بنا بتائیں غائب بھی ہو گیا تھا

حوریہ شاہ گھٹنوں کے بل گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی—

تبھی کراہنے کی آواز پر حوریہ شاہ نے چونک کر اطراف میں نظریں گھمائی تھیں

ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کرتی وہ جھٹکے سے اٹھی تھی—اور پھر غور سے آواز سننے کی کوشش کی تھی—

کسی کے بری طرح کراہنے کی آواز تھی—درد سے بھری—کسی انسان کی نہیں جانور کی تکلیف سے کراہتے گھوڑے کی—حوریہ شاہ کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی—جسم بے جان ہوتا محسوس ہوا تھا—مگر خود میں ہمت مجتمع کرتے وہ آواز کی سمت بھاگی تھی—

تبھی حوریہ شاہ کے قدم کچھ فاصلے پر جامد ہوئے تھے—آنکھیں غم و حیرت سے پھیلی تھیں—پورے وجود میں سنسنی دوڑتی محسوس ہوئی تھیں—

سامنے درختوں کے درمیان عائث خان کا بلیکی زخموں سے چور زمین پر لیٹے تڑپ رہا تھا—اس کی ایک ٹانگ دھڑ سے الگ فاصلے پر گری تھی—

جسم پر گہرے زخم تھے جن سے خون بھل بھل بہتا سبز میدان کی زمیں کو سرخ کرتا جا رہا تھا—

زخم ایسے تھے جیسے کسی نے بے دردی سے کسی تیز آلے سے وار کیا ہو

پیٹ کے پاس اس قدر گہرا زخم تھا کہ وہ دو حصوں میں بٹا ہوا محسوس ہو رہا تھا—

حوریہ شاہ کی ساکت ہوئی آنکھوں میں حرکت ہوئی تھی—اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرتے گلے میں گلٹی سے ابھر کر معدوم ہوئی تھی—بایاں ہاتھ درخت پر ٹکاتے گردن ترچھی کرتی سرخ پڑتی آنکھوں کو اطراف میں گھمایا تھا

وہاں کسی کو بھی ناپا کر وہ جھٹکے سے پلٹی تھی—

دل بری طرح دھڑک رہا تھا—کچھ غلط ہونے کا احساس رگ و پے میں سرایت کیا تھا

اپنی شال کو دونوں ہاتھوں سے سامنے کو تھامتے—خشک پڑتے حلق کو تر کرتی وہ جھٹکے سے نیچے کی جانب اترتے رستے کی جانب بھاگی تھی—

دیوانہ وار درختوں کے درمیان سے بھاگتی وہ کئی بار ٹھوکر لگنے سے گرتے گرتے بچی تھی—

ابھی وہ درختوں کے جھنڈ سے نکل کر سبز میدان میں آتی کے اپنے پیچھے کچھ گرنے کی آواز پر بے ساختہ رکی تھی—

مگر وہ پیچھے مڑ کر دیکھنا نہیں چاہتی تھی کہ کیا ہوا ہے کیسا شور تھا

اسی لیے لمحے کی دیر کیے بغیر قدم اٹھایا تھا—مگر اس سے پہلے حوریہ شاہ کو اپنے سر کے پچھلے حصے پر درد کی شدید لہر اٹھتی محسوس ہوئی تھی—آنکھوں کے آگے پل میں اندھیرا چھایا تھا—

دونوں ہاتھ پیچھے سر پر گئے تو نمی محسوس ہوئی تھی—

“عائث”—ہونٹوں نے حرکت کیے بنا سرگوشی کی تھی—جسم بے جان ہوتا محسوس ہوا تو وہ لمحے میں زمین بوس ہوئی تھیں

بند ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھولنے کی کوشش کرتے—خود پر جھکے سیاہ لباس میں موجود شخص کو دیکھنا چاہا تھا—جس نے ہاتھ میں تھامی کسی چیز سے پھر سے ماتھے پر وار کیا تو حوریہ شاہ کا چہرہ لمحے میں سرخ رنگ سے رنگتا چلا گیا تھا

“اب سب ٹھیک ہے—تمہارا خان اب کچھ بھی غلط نہیں ہونے دے گا”—ذہن کے پردوں پر عائث خان کے الفاظ گونجے تھے–

آور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی اندھیرے میں ڈوبتی چلی گئی تھی—

_________

وہ نک سک سا تیار ہوا نیچے لاونج میں آیا تو نظریں صوفے پر بیٹھی امتثال اور صبغہ شاہ سے ٹکرائی جو سر جوڑے باتیں کرنے میں مصروف تھی—

جسے دیکھتے حدائق شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی—سر جھٹکتے نظریں اپنی بیوی کی تلاش میں گھمائی تو وہ حدائق شاہ کو بائیں جانب کچن سے نکلتی نظر آئی تھی—

سفید رنگ کی پٹھانی فراک پہنے جس کے دامن اور گلے پر شیشوں اور کڑاہی سے خوبصورت ڈیزائن بنا تھا—چاکلیٹ براؤن بالوں کی ڈھیلی سی چوٹی بنائیں—نیلی گہری آنکھیں اپنے ہاتھ میں تھامے باؤل پر ٹکائے وہ سہج سہج کر چلتی سنگل صوفے پر جا بیٹھی تھی—

دونوں ٹانگیں فولڈ کر کہ صوفے پر بیٹھتے—وہ کھانا شروع ہوئی تھی—فارک میں بھرتے فروٹس کو دیکھ حدائق شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے مسکراہٹ روکی تھی—

اتنے دنوں میں اسے اندازا تو ہوگیا تھا کہ اس کی پٹھانی بیوی پھلوں کی دیوانی ہے—کھانے میں تینوں ٹائم کچھ اور وہ کھائیں نا کھائیں لیکن فروٹ ضرور کھائیں گی

“لالا آپ ہاسپٹل جا رہے ہیں”— کسی کی موجودگی محسوس کرتے امتثال خان نے گردن موڑ کر دیکھا تھا

اور پھر حدائق شاہ کو کھڑے دیکھ استفسار کیا تو حدائق شاہ چونک کر امتثال کی جانب متوجہ ہوا تھا—

“جی بھابھی—کچھ ضروری کام تھا بس اسی لیے جا رہا ہوں—جلدی واپس آجاؤ گا”— امتثال خان کو جواب دیتے اونچی آواز میں کسی اور کو متوجہ کرنے کے لیے تفصیل بتائی تھی جبکہ وہ بے نیاز سی کھانے میں مصروف تھی—

“لیکن اب تو لنچ ٹائم ہے—کھانا کھا کر جائیں گا”—اب کی بار صبغہ نے صوفے کی پشت پر دونوں بازو پھیلاتے رخ حدائق شاہ کی جانب کرتے ہوئے کہا تو اس نے انکار میں سر ہلایا تھا—

“بھوک نہیں آکر کھا لوں گا”—سادہ سے لہجے میں جواب دیتے قدم آگے بڑھائے تھے—

جبکہ پلوشہ خان کے حلق سے اب کچھ اترنا مشکل ہو گیا تھا

تبھی باؤل کو ٹیبل پر رکھتے جلدی سے صوفے سے اتری تھی—

“رکیں ایسے نا جائیں—میں کچھ لائٹ سا بنا دیتی ہوں—اور لنچ پیک کر دیتی ہوں—جب بھوک لگے کھا لیجئے گا”—ایک ہی سانس میں کہتی وہ جلدی سے کچن کی جانب بڑھی تھی—جبکہ حدائق شاہ حیرت سے پلٹے ابھی کچھ کہتا مگر اس سے پہلے وہ کچن میں داخل ہو چکی تھی—

ایک نظر صبغہ اور امتثال پر ڈالی جو دبی دبی ہنسی ہستی پھر سے سر جوڑے باتوں میں مشغول ہو چکی تھی—

پھر اپنا بیگ اور وائٹ کوٹ اس جگہ رکھتے جہاں پلوشہ بیٹھی تھی کچن کی جانب بڑھا تھا

وہ کچن میں داخل ہوا تو نظریں تیز تیز ہاتھ چلاتی پلوشہ خان کی پشت سے ٹکرائی تھی—

کافی اور سینڈوچز کا سامان دیکھتے حدائق شاہ نے گہری سانس بھری تھی—

جبکہ پلوشہ خان فریج کی جانب بڑھتی اس میں سے فروزن نگیٹس—رول نکالتی سلیپ پر رکھ چکی تھی—

تبھی وہ چھوٹے مگر مضبوط قدم لیتا پلوشہ خان کی پشت پر آن کھڑا ہوا تھا—

اور پھر پیچھے سے ہاتھ بڑھاتے وہ بریڈ پر مایونیز لگاتے پلوشہ خان کے ہاتھ کو تھامتے—دوسرے ہاتھ سے بریڈ کے سلائس کو پلیٹ میں رکھ چکا تھا—

“اس کی ضرورت نہیں—جب مجھے ابھی تک شوہر ہی قبول نہیں کیا تو اس احسان کی بھی ضرورت نہیں”— سرد ٹھہرے لہجے میں جواب دیتے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ چکا تھا جبکہ پلوشہ خان اپنی جگہ ساکت ہو چکی تھی—

پھر سنبھلتے وہ آہستگی سے پلٹی تھی—

“احسان نہیں ہے—میں تو بس”—ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ حدائق شاہ نے شہادت کی انگلی پلوشہ خان کے سرخ ہونٹوں پر رکھی تھی—

“خدمت— فرض جو بھی ہے—کسی کی بھی ضرورت نہیں—کھانے کی ہی تو بات ہے—اور وہ مجھے میری بھابھیاں بھی دے سکتی ہیں—میری ماں بھی—اور بالفرض وہ نا بھی دے تو میرے اپنے ہاتھ سلامت ہے—تم اپنی یہ خدمات کسی اور کو پیش کرو”— چہرے پر چٹانوں سی سختی سجائے ایک ایک لفظ چبا کر کہتے—وہ دائیں ہاتھ سے پلوشہ خان کو کندھے سے تھام کر سائیڈ پر کر چکا تھا

جبکہ وہ ہونٹ کچلتی—ہتھیلیاں مسلتی—کبھی کچن کے دروازے کو دیکھتی کہ اگر کوئی آگیا تو کیا سوچے گا اور کبھی حدائق شاہ کو جو پلوشہ کی رکھی چیزوں کو سائیڈ پر کر چکا تھا

“حدائق—پلیز میں کر دیتی ہوں نا”—روہانسے لہجے میں کہتے حدائق شاہ کا ہاتھ تھاما تو وہ جھٹکے سے پلوشہ کا ہاتھ جھٹک چکا تھا

سخت نظروں سے پلوشہ کو دیکھتے حدائق شاہ نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھنچی تھیں

“اگر اب مجھے ہاتھ لگایا تو جان لے لوں گا تمہاری”—دبے دبے لہجے میں غرا کر کہتے وہ بائیں ہاتھ سے سب چیزیں نیچے گرا چکا تھا—

“حح—حدائق میں تو بیوی ہوں نا”— سہمی نظروں سے نیچے گری چیزوں کو دیکھتے ہونٹ تر کرتے منمنا کر جواب دیا تو حدائق شاہ نے خونخوار نظروں سے پلوشہ کو دیکھا تھا—

اور پھر چند قدم کے فاصلے کو سمیٹتے وہ جارحانہ انداز میں اس کی جانب بڑھا تھا- پلوشہ خان کو کندھوں سے دبوچے اپنے سامنے کیا تھا—

“شوہر مانا ہے مجھے—جب مجھے شوہر نہیں مانا تو خود کو بیوی کہنے کی ہمت بھی کیسے کی تم نے”— کندھوں سے تھام کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا تو پلوشہ خان کی نیلی آنکھیں پل میں لبالب آنسوؤں سے لبریز ہوئیں تھیں

“نن-نہیں ہمارا دو بار نکاح ہوا ہے—میں بیوی ہوں”— لاکھ کہنے شوہر کہنے کی کوشش میں بھی وہ نا کہہ سکی

جبکہ پلوشہ خان کے جواب پر حدائق شاہ کا پارہ مزید ہائی ہوا تھا

“ہاں بیوی—ایسی بیوی جو شادی کے پہلے دن ہی شوہر کو مارنے کا پلین بنائے ہوئے تھی”— پلوشہ کو جھٹکے سے چھوڑتے—سپاٹ لہجے میں کہتے بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود پر قابو پانے کی کوشش کی تھی—

“مارںے— وہ تو کبھی مر کر بھی حدائق شاہ کو تکلیف دینے کا نہیں سوچ سکتی تھی تو پھر وہ کیسے اسے کہہ سکتا تھا کہ وہ اسے مارنا چاہتی تھی—ہاں وہ دودھ میں وہ پاؤڈر ملایا تھا مگر وہ زہر تو نہیں تھا—اور پھر وہ دودھ بھی تو گر گیا تھا نا—تو وہ کیسے یہ کہہ سکتا تھا—

“آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں خان—میں آپ کو کیوں مارنا چاہوں گی”—وہ تڑپ کر کہتی حدائق شاہ کے قریب ہوئی تھی—مگر اس بار اسے چھونے کی غلطی نہیں کی تھی

جب کہ وہ گہری سانس لیتا اپنےتنے اعصاب پر قابو پاتا—پلوشہ خان کی کمر کے گرد سخت گھیرا ڈالتے اپنے سینے سے لگا چکا تھا

“تم نے پہلے بھی غلطی کی تھی پلوشہ—تب ہم سب نے جانتے بوجھتے اس بات کا انتظار کیا کہ کب تم اپنی بیوقوفی کی وجہ بتاؤ گی—مگر اس بار ایسا نہیں ہے—اس بار اگر تم نے کوئی غلطی کی—یا مزید کچھ چھپا کر کوئی حماقت کی اور اس سے کسی کو ذرا سا بھی نقصان ہوا تو یقین مانو اپنے ہاتھوں سے تمہاری جان لے لوں گا”— ٹھٹھرا دینے والے لہجے میں کہتا وہ پلوشہ خان کی سانسیں خشک کر چکا تھا—

“نن-نہیں مم—میں نے”—کپکپاتے ہونٹوں سے ٹوٹ کے لفظ پھسلے تھے—

جبکہ حدائق شاہ اپنا بایاں ہاتھ پلوشہ خان کے گال پر ٹکاتے—انگھوٹے سے پلوشہ خان کے کپکپاتے ہونٹ کو سہلانے لگا تھا—گہری نیلی آنکھیں پلوشہ خان کے ہوائیاں اڑے چہرے پر رکی تھی—جبکہ وہ سانس روکے—پھٹی آنکھوں سے اپنے ہونٹ پر حرکت کر حدائق شاہ کے انگھوٹے جو دیکھتی اور کبھی پلکوں کی جھالر اٹھائیں حدائق شاہ کے سپاٹ چہرے کو

“مجھے شوہر مانتی ہو یا نہیں”— سرسراتے لہجے میں استفسار کیا تو پلوشہ خان نے سختی سے آنکھیں میچی تو آنسو موتی کی صورت آنکھوں سے بہتے سرخ پھولے گالوں پر گرے تھے

“ہاں”—ایک لفظی جواب دیتی وہ ہونٹوں پر ہتھیلی جماتی اپنی سسکیوں کو روکنے لگی تھی—

مگر حدائق شاہ ہنوز سپاٹ تاثرات چہرے پر سجائے—پلوشہ کو کندھوں سے تھامتے رخ سلیپ کی جانب کر چکا تھا—

“بناؤ—اب اگر تمہارے ہاتھ کسی بھی وجہ سے رکے تو انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی”—سرد لہجے میں کہتا وہ بریڈ اور دوسری چیزیں اس کے سامنے کر چکا تھا—جبکہ پلوشہ ایک نظر نیچے گری چیزوں پر ڈالتی جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی تھی—مگر اگلے ہی لمحے پلوشہ کو اپنے وجود میں سنسنی دوڑتی محسوس ہوئی تھی—

اپنی کمر پر حدائق شاہ کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے—کام کرتے ہاتھ سست پڑے تھے—جنہیں محسوس کرتے حدائق شاہ نے ایک قدم کے فاصلے کو سمیٹا تھا جس کے باعث پلوشہ سلیپ کے ساتھ جا لگی تھی—وہ اس کی وارننگ سمجھتی حلق تر کرتی جلدی جلدی سے سینڈوچ بنانے لگی تھی—

جبکہ حدائق شاہ بے نیاز ہوتے—پلوشہ خان کے چوٹی میں بندھے بالوں کو کھولتے چہرہ ان میں چھپائے—بالوں سے اٹھتی شیمپو کی بھینی بھینی خوشبو کو سانسوں میں اتارنے لگا تھا—

بال دائیں کندھے پر ڈالتے—ایک جھٹکے میں ڈوری کھنچی تو پلوشہ خان کے ہونٹوں سے سسکی نکلی تھی جس کا گلہ وہ ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے روک چکی تھی—

فراک کو کندھوں سے سرکایا تو دودھیا کمر دیکھتے حدائق شاہ کی آنکھوں میں خمار اترا تھا—ایک نظر پلوشہ کے کانپتے ہاتھوں پر ڈالتے وہ اپنے لب کندھے پر رکھ چکا تھا—

حدائق شاہ کے دہکتے لمس کو جابجا محسوس کرتے پلوشہ کو اپنی ٹانگیں بے جان ہوتی محسوس ہوئی تھی—ہاتھ بری طرح کپکپائے تو آدھ بنا سینڈوچ پلیٹ میں گرا تھا—سلیپ کو مضبوطی سے تھامے پلوشہ نے سختی سے آنکھیں میچی تھی

جبکہ حدائق شاہ کے مضبوط ہاتھوں کے لمس کو کمر سے سرکتے اپنے پہلو پر محسوس کرتے پلوشہ خان نے تڑپ کر پلٹنا چاہا تھا مگر اس سے پہلے ہی وہ فراک کو پہلو سے اٹھاتا اپنے ہاتھ پلوشہ خان کے پیٹ پر رکھ چکا تھا—

سخت ہاتھوں کے پرحدت لمس پر وہ جی جان سے لرزی تھی—

“حدائق—کک-کوئی آجائیں گا”—گہری سانسوں کے درمیان گھبرا کر پکارا تو وہ جھٹکے سے رخ اپنی جانب کرتا پلوشہ خان کے ہونٹوں کو اپنی سخت گرفت میں لے چکا تھا—

“اور جیسے کہ مجھے کسی کی پرواہ ہے”—دو ٹوک لہجے میں کہتے نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبائے کھینچا تو پلوشہ خان نے شرم سے سرخ پڑتے خود کو چھپانا چاہا تھا—

جبکہ وہ بنا کسی چیز کی پرواہ کیے چہرے پر جابجا اپنا بھیگا لمس چھوڑ رہا تھا—

جب اسے لگا کہ وہ نازک جان مزید شدتیں برداشت نہیں کرپائیں گی تو نرمی سے دور ہوا تھا—

جبکہ وہ سرخ چہرہ—گردن اور کندھے لیے تھر تھر کانپ رہی تھی—جسے دیکھتے حدائق شاہ نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبایا تھا—اور پھر آگے بڑھتے فراک کو کندھوں سے ٹھیک کیا تھا—

پھر پلٹ کر فریج سے پانی کی بوتل نکالتے گلاس میں انڈیلا تھا—

“پانی پئیو—اور تمہارے پاس پندرہ منٹ ہیں انہیں بنانے میں اور لنچ پیک کرنے میں”—گلاس پلوشہ خان کے ہونٹوں سے لگاتے حکم جھاڑا تو پلوشہ خان نے نم شکوہ کناں نظروں سے حدائق شاہ کو دیکھا تو حدائق شاہ نے سوالیہ انداز میں آبرو آچکائے تھے—

جسے دیکھتے پلوشہ نے آہستگی سے سر نفی میں ہلایا تھا

پانی پی کر وہ خود پر قابو پاتی پلٹی تھی—جلاد نے دھمکی بھرے لہجے میں نا کہا ہوتا تو پلوشہ کو یقین تھا جو کچھ ابھی وہ اس کے ساتھ کر چکا تھا کسی اور وقت کیا ہوتا تو وہ تب اتنی جلدی خود پر قابو پائے سب بھلائے کام نا کرنے لگتی—وہ خود کو اس جلاد کی نظروں سے چھپا لیتی

__________

اتنی دیر ہوگئی میں دیکھ کر آؤ—پلوشہ کو کسی چیز کی ضرورت نا ہو”—امتثال نے کچن کی جانب دیکھتے—صبغہ سے کہا تو صبغہ نے چونک کر پلٹ کر دیکھا تھا اور پھر امتثال کو دیکھتے سر جھٹکا تھا

“بیٹھی رہو—میاں بیوی چاہے کچن میں کسی کام سے جائیں یا روم میں—واپسی پر انہیں دیر ہو ہی جاتی ہے”—صبغہ شاہ کے بےباک لہجے میں کی گئی بات پر امتثال جو اٹھنے لگی تھی بری طرح خجل ہوتی واپس بیٹھی تھی—

“تم کیا کر رہی ہو—بالاج لالا کو کال کر رہی ہو کیا”— بات کا رخ بدلتے صبغہ شاہ سے سوال کیا جو کب سے نجانے کسے کال کرنے میں مصروف تھی اور اس سے بھی ذیادہ اگلا بندہ مصروف تھا جو اتنی کال اٹینڈ ہی نہیں کر رہا تھا—۔

“حوریہ کو کر رہی ہوں— پہلی رنگ ہر تو اس نے کبھی تمہارے لالا کی کال نہیں اٹھائی ہوگی مگر میری اٹھا لیتی ہے—مگر اب میں پچھلے ایک گھنٹے سے اسے کال کر رہی ہوں مگر مسلسل نمبر بزی جا رہا ہے”—بالاج شاہ کے ذکر کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے جواب دیا جبکہ صبغہ شاہ کے طنز کرنے پر امتثال نے گھور کر اسے دیکھا تھا

“کیا پتہ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ میرے لالا کے ساتھ مصروف ہو”— دوبدو جواب دے کر اپنی مسکراہٹ چھپائی تو صبغہ نے خاموش نظروں سے امتثال کو دیکھا تھا—

“تمہارے لالا کے ساتھ مصروف بھی ہو تو میری کال دیکھ کر مسیج کر کہ بتا دیتی ہے کہ وہ تھوڑی دیر میں خود کال کرتی ہے—اور پھر اس سے اگلے پانچ منٹ بعد سب کچھ بھلائے اپنی بیسٹ فرینڈ کو کال کرتی ہے”—ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے فخریہ لہجے میں کہا تو امتثال نے مسکرا کر سر جھٹکا تھا

اچھا بھئی میں ہاری تم جیتی”—ہاتھ اٹھائے ہارنے والے انداز میں کہا تو صبغہ شاہ کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ بکھری تھی—

________

داجی یار کیوں جانا ہے آپ نے–+ اب آپ کی عمر گھر بیٹھ کہ آرام کرنے کی ہے نا کہ دوسرے گاؤں جا کر لوگوں کے مسئلے حل کرنے کی”—ارمغان خان کے جھنجھلا کر کہنے پر داجی نے گھور کر اسے دیکھا تھا

جبکہ ارمغان خان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس ملازم کا سر پھاڑ دیں جس نے داجی کو دوسرے گاؤں کے سرپنچ کی کال کے بارے میں بتایا

دوسرے گاؤں میں کسی جوان لڑکے کا خون ہوا تھا—اور اب مقتول کے گھر والے خون بہا میں لڑکی مانگ رہے تھے—جبکہ جس لڑکے پر الزام تھا اس کا کہنا تھا کہ اس نے خون نہیں کیا—مگر پھر بھی سب اسے قاتل سمجھتے ہیں تو وہ اپنی زمین اور پیسے دینے کو تیار ہیں مگر اپنی بہن کو ناکردہ گناہ کی سزا بھگتنے نہیں دے گا—معاملہ پیچیدہ تھا تو گاؤں سے سرپنچ نے ضرغام خان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی وہ گاؤں نہیں تھا تو اس نے داجی سے رابطہ کیا تھا اور وہ اب جلد از وہاں پہنچ کر یہ معاملہ سمیٹنا چاہتے تھے—

“برخوردار—ولی خان نے اپنے کندھوں پر دو جوان بیٹوں کے جنازے اٹھائے ہیں—اپنی بیٹی کو بھری جوانی میں بیوہ ہوتے دیکھا ہے—کئی سال سامنے اور پشت پر چھپے دشمنوں سے تم لوگوں کی حفاظت کر کہ تم لوگوں کو تمہارے قدموں پر کھڑا کیا ہے—گاؤں کے لوگوں کی حفاظت کی ہے—اور ولی خان اب بھی اتنی ہی ہمت و حوصلہ رکھتا ہے—اور یہاں بات کسی کی بیٹی کی ہے اور بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہے—اس لیے اپنے افلاطون دماغ کو لگام ڈالو اور میرا رستہ چھوڑو—اور سلوی بیٹی کہی گھمانے لے جاؤ”— سخت لہجے میں ارمغان خان کی طبیعت صاف کرتے صوفے صوفے پر بیٹھی سلوی شاہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے منہ بسورتے سر اثبات میں ہلایا تھا جبکہ سلوی نے سر جھکائے مسکراہٹ ضبط کی تھی

وہ دونوں اس وقت ڈیرے پر موجود تھے—ارمغان خان گھر تھا جب اسے پتہ چلا کہ داجی جا رہے ہیں اسی لیے وہ آتے ہوئے سلوی کو بھی ساتھ لے آیا تھا تا کہ وہ بھی اموشنل بلیک میل کر کہ داجی کو روکے مگر وہ تو چپ چاپ سر جھکائے بیٹھی تھی

سلوی شاہ کے سر پر پیار دیتے – اور ارمغان خان کو سخت نظروں سے گھورتے داجی باہر جا کر گاڑی بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو چکے تھے

جبکہ ان کے جاتے ہی ارمغان خان نے تیز نظروں سے سلوی شاہ کو گھورا تھآ

“اٹھیں میڈم آپ کو سیر کروا لاؤں”—دانت کچکچا کر کہا تو سلوی شاہ نے آبرو آچکا کر ارمغان خان کو دیکھا تھا

پھر اپنی شال ٹھیک کرتی شان بے نیازی سے اٹھتی ارمغان خان کی کار کی جانب بڑھی تھی—

وہ جیپ کا دیوانہ تھا—مگر سلوی شاہ کے ساتھ سفر کرنے کے لیے وہ اپنی دیوانگئ کو چھوڑ چکا تھا—وہ اپنی بیوی کو لوگوں کی نظروں کا مرکز نہیں بنانا چاہتا تھا

سلوی شاہ کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے اور ٹھاہ کی آواز سے دروازا بند کرتے دیکھ ارمغان خان خود پر ضبط کرتا تیز قدم لیتا کار کی جانب بڑھا تھا-

________

ہم کہا جا رہے ہیں”— ارمغان خان کی جانب دیکھتے سادہ سے لہجے میں استفسار کیا تو ارمغان خان نے گھور کر سلوی شاہ کو دیکھتے سپیڈ مزید بڑھائی تھی—

“اس بار ٹوٹا نہیں—اگلی بار اور زور سے مارنا—تاکہ ٹوٹ کے ہاتھ میں اجائے”—جلے کٹے لہجے میں کہتے نظریں سامنے سڑک پر جمائیں تھی—

پہلے تو سلوی نے ناسمجھی سے ارمغان خان کو دیکھا پھر سمجھ آنے پر گاڑی کی خاموش فضا میں سلوی شاہ کی خوبصورت ہنسی گونجی تھی—

جسے دیکھتے ارمغان خان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ رینگ گئی تھی

“اب بتائیں نا کہاں جا رہے ہیں ہم’+– سر ارمغان خان کے کندھے سے ٹکاتے کہا تو ارمغان خان نے اپنا بایاں بازو سلوی شاہ کے کندھے کے گرد حائل کیا تھا—

“گاؤں سے نکلتے جائیں تو مین روڈ پر اب ایک نیو کیفے کھلا ہے—سنا وہاں کا چیز کیک اور کافی بہت مزے کی تو بس پھر آج وہاں چلتے ہیں باقی لالا لوگ آجائیں تو سب مل کر گھومنے کا پلین بناتے ہیں”— سادہ سے لہجے میں جواب دیتے گاڑی کی سپیڈ کم کرنی چاہی تھی مگر اگلے ہی لمحے ارمغان خان کو جیسے جھٹکا لگا تھا—

دھڑکتے دل کے ساتھ بریک پر دباؤ دیا مگر جب بریک نا لگا تو ارمغان خان کے چہرے پر سایہ سا لہرایا تھآ

نرمی سے سلوی شاہ کو خود سے الگ کیا تھا اور آگے جانے کی بجائے دائیں جانب موڑ کاٹا تھا—سپیڈ کم نہیں ہو رہی تھی اور ایسے ہی سڑک پر پیچھے کی جانب موڑ کاٹنا مشکل تھا جبکہ پیچھے آتی بائیکس اور رکشہ وغیرہ وہ دیکھ چکا تھا–—

“کیا ہوا ارمغان—کہی اور جا رہے ہیں کیا اب”—سلوی شاہ نے الجھ کر پوچھا تھا مگر جیسے ہی نظر ارمغان خان کے سرخ پڑتے چہرے پر گئی تو وہ بری طرح ٹھٹھکی تھی—

جبکہ ارمغان خان جیب سے موبائل نکال بار بار فون کان سے لگاتا اور پھر لب بھنچتے دوسرا نمبر ڈائل کرتا

“کک—کیا ہوا ارمغان”— دل کسی انجانے سے خوف سے بری طرح دھڑکا تھا جبکہ سلوی شاہ کے بولنے پر ارمغان خان نے بے بس نظروں سے اسے دیکھا تھا—

“گاڑی کی بریک فیل ہے—سب کو کال کر رہا ہوں—مگر ہر کسی کا نمبر مصروف مل رہا ہے—گھر کے لینڈ لائن پر بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا—اب میری بات دھیان سے سنو—میں کوئی محفوظ جگہ دیکھتا ہوں—اور پھر ہم وہاں کود جائیں گے—یہ جگہ ہے تو کچی مگر خطرناک ہے”— سلوی شاہ کے چہرے سے نظریں ہٹائیں دائیں بائیں سڑک کے کناروں پر موجود پتھروں کو دیکھا تھا– وہ خود تو یہاں بھی کود سکتا تھا—مگر بات سلوی کی تھی—

“لل—لیکن ارمغان”— تڑپ کر ارمغان خان کا بازو تھاما تھا جس پر ارمغان خان نے بے ساختہ سلوی شاہ کو اپنے حصار میں لیا تھا—

“یہ جس کی بھی حرکت ہے—تمہارا خان کا وعدہ ہے اس شخص کو عبرت کا نشان بنا دے گا”— سپاٹ لہجے میں کہتے شدت سے اپنے ہونٹ سلوی شاہ کے ماتھے پر رکھے تھے—

سیٹ بیلٹ کھولو—میں اپنی کھول لوں گا—اپنی کھولو سلوی اور میرے تین گننے پر تم چھلانگ لگا دو گی”— ارمغان خان کی بات کو سرے سے نظر انداز کرتے سلوی نے پہلے ارمغان خان کی سیٹ بیلٹ کھولی تھی—

نظریں اٹھائے نم آنکھوں سے ارمغان خان کو دیکھا تھا—

گرے نم آنکھیں ضبط سے سرخ پڑتی ہیزل ہنی آنکھوں سے ٹکرائی تو ارمغان خان کو اپنے سینے میں طوفان اٹھتا محسوس ہوا تھا

اور پھر تین گنتے ہی وہ سلوی شاہ کو باہر کی جانب دھکا دیتے خود دائیں جانب سے کودا تھا

جبکہ گاڑی کچھ فاصلے پر جا کر درخت سے ٹکرائی تو ایک دھماکا سا ہوا تھا

چکراتے سر—زخموں سے چور ہوتے وجود کو گھسیٹ کر اٹھاتے ارمغان خان نے سلوی شاہ کی تلاش میں نظریں دوڑائیں تھی—

آگ میں لپٹی گاڑی سے اٹھتے دھویں کو نظر انداز کرتا وہ آگے بڑھتا کہ لڑکھڑا کر نیچے گرا تھا—

زمین پر ہاتھ رکھ کر اٹھنا چاہا تو زخمی ہاتھوں کو دیکھتے—اپنی بے بسی پر ارمغان خان کی آنکھیں لبالب آنسوؤں سے لبریز ہوئیں تھیں

ضرغام خان اور عائث خان نے ساری عمر اپنے چھوٹے خان کے وجود پر خراش بھی نا آنے دی تھی—اور اب وہ سنسان سڑک پر زخموں سے چور پڑا تھا—اس کی بیوی اس سے تھوڑے سے فاصلے پر تھی اور یہ فاصلہ چھوٹے خان کو صدیوں کا لگ رہا تھا—

“لالا”— ہونٹوں سے تڑپ کر لفظ ادا ہوئے تھے—

خود میں ہمت مجتمع کرتے وہ لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھا تھا

اور پھر نظریں منہ کے بل گری سلوی شاہ کے وجود سے ٹکرائی تو ارمغان خان تڑپ کر اس کی جانب بڑھا تھا-

مگر ابھی وہ چند قدم کے ہی فاصلے پر تھا کہ پیچھے سے آتے کیری ڈبے نے ارمغان خان کو ٹکر ماری تھی اور وہ کئی قدم دور جا گرا تھا—

کیری ڈبے کے رکتے ہی اس میں سے دو لوگ باہر آئیں تھے

اور سلوی شاہ کے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئے وجود کو اٹھائے کیری ڈبے میں بیٹھتے وہاں سے لمحے میں غائب ہو چکے تھے

زمین پر گرے ارمغان خان کی بند آنکھوں سے کئی آنسو ٹوٹ کرکنپٹی میں جذب ہوئے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *