Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 32)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 32)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
ان تینوں کی گاڑیاں خان حویلی کے پورچ میں ایک جھٹکے سے رکی تو عقیدت—حوریہ—پلوشہ اور امتثال تیر کی تیزی سے گاڑیوں سے نکلتی حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھی
عقیدت اور حوریہ کا اس وقت اپنے کمرے میں جانے کا کوئ ارادہ نہیں تھا—جانتی تھی اگر وہاں جاتی تو وہ دونوں بھپرے شیر ان کی جان لینے میں کوئی کسر نا چھوڑتے—اسی لیے وہ داجی کے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتی تھی—جبکہ پلوشہ اور امتثال کا اپنے کمروں میں بند ہونے کا ارادہ تھا—زبان کے جوہر دکھا کر ان شاہوں کے غصے کو تو دعوت تو دیں چکی تھیں اب اسے غصے کو ختم کرنا کسی محاظ سے کم تو نہیں تھا اسی لیے وہ اب اپنے روٹھے شاہوں کو منانے اور خود ان کے غصے سے بچنے کے بارے میں سوچنا چاہتی تھی
ابھی وہ چاروں تیز قدموں سے چلتی لاونج میں داخل ہوئی تو نظریں لاونج میں صوفے پر بیٹھے چائے پیتے ولی خان پر گئی
جنہیں دیکھتے عقیدت اور حوریہ نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا تھا—
“السلام و علیکم داجی”— ان چاروں نے یک زبان سلام کیا تو داجی نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلاتے سلام کا جواب دیا تھا
جبکہ عقیدت اور حوریہ آگے بڑھتی داجی کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھ چکی تھیں—
“ہوگئی شاپنگ تم لوگوں کی”— لاونج میں آتی کشف بیگم نے امتثال کو دیکھتے ان سب سے استفسار کیا
“جی ماں جی ہوگئی—آپ آجائیں روم میں—میں آپ کو دکھاتی ہوں”— امتثال نے صوفے سے کھڑے ہوتے نرم لہجے میں جواب دیا تو کشف بیگم نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“حوریہ اور عقیدت تم دونوں کی بھی شاپنگ ہوگئی—کچھ رہ تو نہیں گیا—کیونکہ شہر تھوڑا دور ہے — اگر کچھ رہ گیا تو اینڈ ٹائم پر کون جائیں گا—لڑکے تو سب کل سے مصروف ہوجائیں گے—کیونکہ عائث کے مہمان اور داجی کے جاننے والے تو کل سے آنا شروع ہو جائیں گے—اور حویلی کے مہمان بھی کل پرسوں تک آنا شروع ہو جائیں گے – ضرغام تو شاید تم لوگوں کو ڈرائیور کے ساتھ نہیں جانے دے گا”— صوفے پر ان کے سامنے بیٹھتے ہچکچاتے ہوئے نرم لہجے میں کہا تو عقیدت اور حوریہ نے چونک کر کشف بیگم کے چہرے پر ہچکچاہٹ اور شرمندگی کے تاثرات دیکھے تھے
“نہیں—چھوٹی ممانی—ہماری ساری شاپنگ ہوگئی—آپ فری ہیں تو آپ ہماری بھی شاپنگ دیکھ سکتی ہے—یا آجائیں امتثال کے روم سبھی ایک ساتھ دیکھ لیتے ہیں”—عقیدت کے نرم لہجے پر جواب دینے پر کشف بیگم کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا—
انہوں نے غلط کیا تھا—مگر ان کی غلطی صرف اتنی تھی کہ وہ مقدس بیگم کی باتوں میں آتی ان سے قطع تعلق کر چکی تھی—انہوں نے بھری جوانی میں شوہر کھویا تھا—پیچھے مآں باپ بھی نا رہے تھے— اور اس حویلی میں مقدس بیگم کی اجارہ داری تھی—وہ جس طرح کہتی کشف بیگم سر جھکا کر مان لیتی—وہ اپنی مرضی اپنی رائے کہی بھی دینے کا حق نہیں رکھتی تھی
آج اتنے سالوں بعد خوشیاں دیکھنی نصیب ہو رہی تھی—تو ان کا دل بھی اپنے بچوں کی خوشیوں میں شامل ہونے کو بری طرح مچل رہا تھا—آج وہ مقدس بیگم کی حویلی میں موجودگی کو بھی سرے سے نظر انداز کرتی وہاں آ بیٹھی تھی
کیونکہ جتنا احترام اور عزت وہ مقدس بیگم کی کرتی تھی اس سے بڑھ کر انہیں اپنے بچوں سے پیار تھا—خاص طور پر چھوٹے خان سے—وہ اپنے بیٹے کی خوشی میں نا شامل ہو کر اسے دکھ نہیں دینا چاہتی تھی
اور یہاں کے علاقوں میں تو دشمنی چلتی مردوں کی وجہ سے تھی—عورتیں بچاریاں تو اپنے سہاگ اور جوان بیٹے بچانے کے لیے ان دشمنیوں کو ختم کرنے کا کہتی تھی—جبکہ شاہ اور خان خاندان کی دشمنی تو ان کے مرد کی ختم کر رہے تھے— تو اس سے اچھی بات شاید ان کے لیے کچھ اور ہو بھی نہیں سکتی تھی—کیونکہ یہ دشمنی رکھ کر کشف بیگم اپنے لاڈلے بیٹے کو کھونے کا حوصلہ خود میں نہیں رکھتی تھی
وہ کئی بار مقدس بیگم سے بھی کہہ چکی تھی کہ وہ اپنے بہادر شاہ کے قتل پر صبر کر چکی ہیں انہوں نے انصاف خدا کی ذات پر چھوڑ دیا ہے—اب بچوں کو ان کی زندگی جی لینے دینا چاہیے—مگر وہ ہر بار ہتھے سے اکھڑ جاتی تھی جس پر کشف بیگم خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر سمجھتی تھیں
“نن—ہیں جب تم لوگ پہنو گی تب دیکھ لوں گی—ابھی تم لوگ میرے کمرے میں چلو کچھ خاندانی زیور نکال کر رکھے ہیں میں نے—کچھ تو امتثال اور میرے چھوٹے خان کی بیوی کے لیے تھے—اور کچھ گھر کی بڑی بہوؤں کے لیے سنبھال رکھے تھے—چلو آؤ آج تم لوگوں کو تمہاری امانت لٹاو”— کشف بیگم نے کھڑے ہوتے نرم لہجے میں کہتے امتثال اور پلوشہ کو چلنے کا اشارہ کیا تو وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی
جبکہ عقیدت اور حوریہ کی نظریں لاونج میں داخل ہوتے ضرغام اور عائث خان کے سپاٹ چہروں پر تھیں
“ہاں جاؤ بچیوں—جاؤ دیکھ آؤ—اور تم دونوں ادھر آؤ بات کرنی ہے کچھ مجھے”— داجی نے ان دونوں کو اٹھنے کا اشارہ کرتے ضرغام اور عائث خان کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا تو وہ سر اثبات میں ہلاتے ان کی جانب بڑھے
جبکہ داجی کے پاس سے اٹھتی عقیدت کو ضرغام خان نے سخت نظروں سے گھور کر دیکھا تھا—جبکہ عائث خان نے کلائی پر بندھی گھڑی پر رات کا اشارہ کیا تو حوریہ نے گھبرا کر سرعت سے نظریں پھیریں اور تیزی سے آگے بڑھتی کشف بیگم کے پیچھے ہو لی
___________
گھڑی رات کے نو بجا رہی تھی— حوریہ نے بے چینی سے پہلو بدلتے سامنے شیشے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھا تھا—
فالسے رنگ کی ساڑھی جس پر سلور کلر کا باریکی سے کام کیا گیا تھا—براؤن سلکی بالوں کو سٹریٹ کر کہ نیچے سے ہلکے کرل کر کہ کمر پر کھلا چھوڑے—کرسٹل گرے آنکھوں میں وائٹ پنسل لگا کر انہیں مزید دلکش بنایا گیا تھا— گالوں پر بکھری لالی اور ہونٹوں پر لگی سرخ رنگ کی لپ اسٹک اس کے حسن کو مزید دو آتشہ بنا رہی تھی—سلیوز کے نام پر سلور موتیوں کی باریک سی لڑی کندھوں پر ٹکی ہوئی تھی—جبکہ ساڑھی کے باریک سے پلو سے نظر آتی دودھیا کمر کے گرد سلور کلر کا کمر بندھ بندھا ہوا تھا—آئینے میں نظر آتے اپنے بجلیاں گراتے سراپے کو دیکھتے حوریہ نے بری طرح ہتھیلیاں مسلی تھیں—
وہ شاید زندگی میں کبھی بھی عائث کے کہنے پر یہ ساڑھی نا پہنتی مگر آج جو وہ کر چکی تھی—اسے پتہ تھا کہ عائث خان کے ہاتھوں اس کی شامت پکی ہے—یہ تیاری تو عائث خان کے غصے کو کسی نا کسی طرح کم کرنے کی کوشش میں کی گئی تھی
اب دروازے کے باہر جوتوں کی چاپ سنتے حوریہ کا دل چار سو بیس کی سپیڈ پر دھڑکا تھا—خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتی—ایک نظر دروازے کے ہینڈل کو دیکھا جسے باہر کی جانب سے گھمایا گیا تھا
جسے دیکھتے حوریہ شاہ نے بھاگنے کے انداز میں واشروم کی جانب دوڑ لگائی تھی—
دوسری جانب کمرے کا دروازا کھول کر عائث خان اندر داخل ہوا تھا—اور یہاں حوریہ بیگم واشروم کا دروازا بند کرتی—اس سے ٹیک لگاتے آنکھیں موند کر گہری سانس بھرتی وہی بیٹھتی چلی گئی تھی
وہ کوئی دبو سی اتنی شرمیلی لڑکی نہیں تھی—کبھی یہ وقت بھی تھا کہ وہ عائث خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نفرت کا اظہار بھی کر جاتی تھی—مگر اب جیسے دنیا بدل گئی تھی—
اس شخص کی معنی خیز جذبے لٹاتی آنکھوں کے سامنے نظریں اٹھانا محال تھا—وہ تو حوریہ شاہ کی سادگی میں بھی اسے اس قدر معنی خیز اور گہری نظروں سے دیکھتا تھا کہ حوریہ کو عائث خان کی نظریں اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہوتی تھی—مگر آج جو وہ تیاری کیے بیٹھی تھی حوریہ کو یقین تھا کہ عائث خان کا دیکھنا ہی اس کی جان لے لے گا—
________
عائث خان نے کمرے میں داخل ہوتے سخت نظروں سے حوریہ شاہ کو ڈھونڈا تھا—جو شام سے اس سے بچنے کی خاطر کشف بیگم کے کمرے سے نہیں نکلی تھی
عشاء کی اذان ہوئی تو داجی کے ساتھ وہ تینوں نماز پڑھنے کے لیے چلے گئے
پھر وہاں واپسی پر ضرغام خان کے جاننے والے مل گئے تو انہیں مجبورا رکنا پڑا
وہ شام سے اپنا غصہ ضبط کیے ہوئے تھا—جو کسی اور پر نہیں حوریہ شاہ کی نازک جان پر ہی اترنا تھا—
غصے سے مٹھیاں بھنچتے کمرے کے اطراف میں نظر دوڑائی تو نظریں بیڈ کی پائنتی کے قریب بکھری کانچ کی چوڑیوں سے ہوتی بیڈ کے آگے زمین پر پڑی سلور کلر کی ہیل پر گئی جسے دیکھتے عائث خان نے گردن ترچھی کر کہ واشروم کے بند دروازے کو دیکھا تھا—
چہرے پر سپاٹ تاثرات سجائے—مضبوط قدم لیتا وہ ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھا جہاں میک اپ کا سامان بے ترتیبی سے بکھرا پڑا تھا—سٹریٹنر—کرلر جیولری باکس کا پھلاوا اوپر نیچے بکھرا ہوا تھا—جسے لب بھنچ کر نظر انداز کرتے عائث خان نے ڈرا کھولتے—واشروم کی ڈوبلیکیٹ چابی نکالی تھی—
واشروم کی جانب بڑھتے عائث خان کے قدم ڈریسنگ ٹیبل کے قریب پڑے ڈیکوریشن پیس پر گئیں
جس میں گلاب کے پھولوں کو خوبصورتی سے رکھا گیا تھا—
غیر ارادی طور پر ہاتھ بڑھاتے وہ ان پھولوں کو نکال چکا تھا—
آگے بڑھ کر چابی لگاتے وہ جھٹکے سے دروازا کھول چکا تھا—
______________
حوریہ جو دروازے سے ہٹ کر سنک کے سامنے کھڑی بری طرح لب چباتی—واشروم کے بند دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی— کہ تبھی جھٹکے سے دروازا کھلنے اور سامنے چہرے پر چٹانوں سی سختی سجائے کھڑے عائث خان کو دیکھتی اچھل کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی
حوریہ شاہ کو خونخوار نظروں سے دیکھتے عائث خان نے اندر قدم رکھتے اپنے پیچھے دروازا بند کیا تھا—
حوریہ کی جانب قدم بڑھاتے وہ ہاتھ میں تھامے گلاب کے پھولوں کو باتھ ٹب میں پھینک چکا تھا—
حوریہ شاہ کے کپکپاتے وجود اور نفی میں ہلتے سر کو دیکھتے عائث خان چیل سی تیزی سے اس کے سر پر پہنچا تھا—حوریہ شاہ کے قریب پہنچتے—حوریہ کے دونوں بازو دبوچتے وہ جھٹکے سے اسے پیچھے دیوار سے لگا چکا تھا—
“سو یو لو ہم”— حوریہ شاہ کے جان لیوا حسن اور تیاری کو سرے سے نظر انداز کرتا وہ اس کی دونوں کلائیاں اپنی آہنی گرفت میں لیتے سر کے اوپر پن کرتے غرا کر کہتا حوریہ کو لرزنے پر مجبور کر گیا
“نن—ہیں آئی ڈڈ—ڈونٹ”— بری طرح کپکپاتے سرعت سے سر نفی میں ہلاتے جواب دیا تو عائث خان نے جبڑے بھنچتے حوریہ کی کلائیوں پر گرفت سخت کی تو حوریہ نے تڑپ کر خود کو چھڑوانا چاہا
“وہ تو کیوٹ—انوسنٹ اور نیک تھا نا—— جس کی وجہ سے تمہیں اس سے پیار تھا— انوسنٹ بھی تمہارے جیسا”— چہرہ حوریہ شاہ کے چہرے کے قریب تر کرتے زخمی شیر سی دھاڑ لیے غرا کر کہا تو حوریہ شاہ کی کرسٹل گرے آنکھیں پل میں لبالب پانیوں سے بھری تھیں—کپکپاتے ہونٹوں کو سختی سے دانتوں تلے دباتے رحم بھری نظروں سے خود پر آتش فشاں بنے کھڑے عائث خان کو دیکھا تھا—
عائث خان کی چاکلیٹ براؤن آنکھوں کو خون سی سرخی لیے دیکھ حوریہ کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی تھی
“عع—عائث آئی ٹولڈ یو نا کہ وو-وہ جج-سٹ کرش”— ہچکیوں سے روتے آنسوؤں سے تر چہرے کو عائث خان کی جانب اٹھائے جواب دینا چاہا تو عائث خان نے ایک ہاتھ میں کلائیاں جکڑتے دوسرے ہاتھ سے حوریہ کا چہرہ دبوچا تھا
“مجھ سے—اپنے شوہر سے کتنی بار اظہار محبت کیا ہے—- کتنی بار کہا ہے کہ ڈیٹ یو لو می— ایک بار بھی نہیں ڈیم اٹ—ایک بار بھی نہیں—اور تم حوریہ عائث خان—میرے ہوتے ہوئے—میرے جیتے جی کسی اور مرد کو اس نگاہ سے دیکھ بھی کیسے سکتی ہو— اس کے بارے میں اسیے لفظ کیسے کہہ سکتی ہو جن پر صرف میرا حق ہے—مجھے تم پر اگر ذرا سا بھی شک ہو کہ تم میرے بعد کسی کو ان نظروں سے دیکھو گی جس سے صرف مجھے دیکھنا ہے تو تمہاری قسم میری آخری خواہش ہوگی کہ تمہاری آنکھیں میرے مرنے پر چھین لی جائے—اگر مجھے ڈر ہو کہ میرے مرنے کے بعد تم کسی اور کی ہو سکتی ہو تو میری آخری خواہش ہوگی کہ مجھے قبر میں اتارنے سے پہلے تمہاری سانسیں—بھی چھین لی جائیں”— لہجے اور لفظوں میں جنون اور شدت لیے کہتا وہ حوریہ کے نازک وجود کو لرزنے پر مجبور کر گیا تھا
حوریہ شاہ نے سہمی نظروں سے عائث خان کو غصے کی وجہ سے تیز سانسیں بھرتے دیکھا تھا—نیلے کرتے کے کالر سے جاھنکتی گردن کی پھولی رگیں دیکھ حوریہ نے نظریں جھکائیں تھیں—
“آئی—لل-لو یو عائث—اونلی یو—آئی لو یو”— نظریں جھکائے نم لہجے میں اظہار محبت کیا تو عائث خان کا دل لمحے کے لیے تھما تھا—
مگر آج وہ کوئی نرمی دکھانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا— حوریہ شاہ کی باتیں یاد کرتے خون پھر سے کھول اٹھتا تھا— دل حسد کی آگ میں بری طرح جل رہا تھا— اس وقت ساری سوچے اس قدر مفلوج پڑی ہوئی تھیں کہ وہ حوریہ شاہ کی اپنے لیے کی گئی تیاری کو بھی فراموش کر چکا تھا—
“عائث مم—میرے ہاتھ چھوڑ دیں درد ہو رہا ہے”— عائث خان کے کوئی جواب نا دینے پر نم لہجے میں کہا تو عائث خان نے چونک کر حوریہ کو دیکھتے—ایک نظر اٹھا کر دیوار پر سر کہ اوپر پن کیے حوریہ کے بازوؤں کو دیکھا تھا—
نظریں گوری کلائیوں سے ہوتی سرخ و سپید بازوؤں پر سرکی تھی—دودھیا کندھوں سے ہوتی پتلی لمبی گردن سے سرکتی سینے سے ہوتی پلو سے نظر آتے دودھیاں پیٹ پر آکر رکی تو عائث خان کو اپنے گلے میں گلٹی سی ابھرتی محسوس ہوئی
“نا بے بی گرل—یہ درد تو آج ساری رات برداشت کرنا ہے”— دائیں ہاتھ کو حوریہ کے پلو کے نیچے لے جاتے کمر بندھ پر انگلیاں پھیرتے سپاٹ لہجے میں کہا تو حوریہ نے تڑپ کر عائث خان کے حصار سے نکلنا چاہا تھا
“عع-عائث مم—یں نے کہا نا کہ مم—مجھے آپ سے پپ-پیار ہے آپ بھی تو کک-رتے ہیں پپ—پلیز مجھے جانے دیں”—عائث خان کے ہاتھ کا جان لیوا لمس اپنے پیٹ سے سرکتے کمر پر رینگتے محسوس کر کہ حوریہ نے کپکپاتے لہجے میں کہا تو عائث خان نے سپاٹ نظروں سے حوریہ شاہ کی آنکھوں میں دیکھا تھا—
جسے دیکھتے حوریہ شاہ کا مزاحمت کرتا وجود تھما تھا—
“یہ اظہار کر کہ مجھ پہ احسان نہیں کیا حوریہ شاہ— میری بیوی ہو تم—مجھ سے محبت کرنا اور صرف مجھ سے محبت کرنا فرض ہے تم پر—اور اس کا اظہار تم خود کرو یا نا کرو—عائث خان کروانا جانتا ہے—اور اج تم نے اگر اظہار کر ہی دیا ہے تو اس کا جواب میں لفظوں سے نہیں عملاً دوں گا”— چاکلیٹ براؤن آنکھیں حوریہ شاہ کی کرسٹل گرے آنکھوں میں گاڑھتے ٹھٹھرا دینے والے لہجے میں کہتا—وہ حوریہ کی کمر میں بازو لپیٹتے—بائیں جانب پلٹتے حوریہ کو شاور کے نیچے کھڑا کرتے شاور ان کر چکا تھا
خود پر پڑتے یخ ٹھنڈے پانی سے جھرجھری لیتے حوریہ نے تڑپ کر عائث خان کو دیکھا تھا—
جو حوریہ کو واپس سے پانی کے نیچے کرتے ایک قدم پیچھے ہوتا—جھٹکے سے اپنا کرتا اتار کر دور اچھال چکا تھا—سینے پر موجود بلیک بنیان کو اتارتے ایک قدم کے فاصلے کو سمیٹا تھا—
“عع—عائث پانی بند کر دیں ٹٹ—ٹھنڈ لگ رہی”—عائث کو گھٹا کی طرح خود پر چھاتے دونوں ہاتھ دیوار پر ٹکاتے دیکھ سر اٹھا کر کہا تو عائث خان کے عنابی ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“اس ٹھنڈ سے بچنے کے لیے پانی بند نہیں ہوگا—بس تمہیں میرے قریب آنا ہوگا—میری پناہوں میں میری سلگتی قربت میں”— دائیں ہاتھ کی پشت حوریہ کے بائیں بازو پر پھیرتے— وہ اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر ایک جھٹکے سے پلو ہٹاتا نیچے گرا چکا تھا—
جسے محسوس کرتے حوریہ شاہ نے تڑپ کر عائث خان کو دیکھا تھا—مگر عائث خان کی معنی خیز نظریں اپنے وجود پر گڑھتے دیکھ وہ شرم سر چور پڑتی چہرہ ہاتھوں میں چھپا چکی تھی—
تبھی عائث خان لو دیتی نظروں سے حوریہ شاہ کے تھر تھر کانپتے وجود کو دیکھتا گھٹنوں کے بل جھکا تھا—
خمار آلود نظروں سے حوریہ کے ہاتھوں میں چھپے چہرے کو دیکھتے—وہ دونوں ہاتھوں سے حوریہ کی کمر تھامتے اپنے سلگتے لب حوریہ کے کمر بند پر رکھ چکا تھا—
جسے محسوس کرتے حوریہ شاہ نے تڑپ کر آنکھیں کھولی تھی—
جسے محسوس کرتے عائث خان نے سر اٹھا کر حوریہ شاہ کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھتے بائیں ہاتھ سے کمر بند کھینچ کر اتارتے زمین بوس کیا تھا—
حوریہ شاہ کی سرخ پڑتی نظروں میں دیکھتے وہ اپنے لب ناف پر رکھ چکا تھا—
عائث خان کے ہونٹوں کے جان لیوا لمس اور پہلو پر بڑھتے دانتوں کے دباؤ کو محسوس کرتے حوریہ نے بے ساختہ جھکتے اپنے ہاتھ عائث خان کے کندھوں پر رکھے تھے—جنہیں ہٹاتے عائث خان نے اپنا چہرہ حوریہ کے پہلو میں چھپایا تھا—
حوریہ کے وجود میں لرزش محسوس کرتے جھکٹے سے اٹھتے حوریہ کو اپنی بانہوں میں بھرا تھا—جس پر حوریہ نے شرم سے چور ہوتے چہرہ عائث خان کے نم سینے میں چھپایا تھا—
ایک ہاتھ سے شاور بند کرتے قدم باہر کمرے کی جانب بڑھائے تھے—
————
حوریہ کو بیڈ پر لٹاتے وہ اس کے اوپر جھکتے اپنے ہونٹوں سے چہرے پر پانی کی بوندوں کو چننے لگا تھا—
“عع—عائث بب-لینکٹ”— عائث خان کے ہونٹوں کے سلگتے لمس اور داڑھی کی چبھن کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے دونوں ہاتھ عائث خان کے نم سینے پر رکھتے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا تو عائث خان نے دونوں ہاتھ تکیے پر حوریہ کے اطراف رکھتے پیچھے ہو کر گہری نظروں سے حوریہ شاہ کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا تھا—
“اس کی ضرورت نہیں پڑے گی—تمہیں ڈھانپنے کے لیے میں ہوں— اور عائث خان ہی تمہارے لیے کافی ہونا چاہیے”— حوریہ کی تھوڑی دو انگلیوں سے تھامتے چہرہ اوپر کرتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو حوریہ شاہ نے پلکوں کی باڑ اٹھاتے عائث خان کو دیکھا تھا
“دوبارا سے کہو حوریہ عائث خان کے تمہیں عائث خان سے محبت ہے—صرف و صرف عائث خان سے”— انگھوٹھے کے پور کو حوریہ کے نچلے سرخ ہونٹ پر پھیرتے دھونس بھرے لہجے میں کہا تو حوریہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے عائث خان کو دیکھا تھا—
“می—ں کہہ تو چکی ہوں—کیا وہ کافی نن—ہیں”— پلکوں کی بار گراتے مدھم لہجے میں جواب دیا تو عائث خان نے سر نفی میں ہلاتے جھک کر حوریہ کی تھوڑی کو اپنے دانتوں میں دبایا جس پر حوریہ کے ہونٹوں سے نکلتی سسکی کا گلہ اپنے ہونٹوں سے گھونٹتے وہ پیچھے ہوا تھا—
“تم ساری زندگی – ہر لمحے بھی مجھے یہ بتاؤں کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو میرے لیے تب بھی وہ ناکافی ہوگا—اور اب میں کوئی فضول بات نا سنو—کہو کہ تمہیں مجھ سے پیار ہے”—کندھوں سے باریک سٹریپ کو جھٹکے سے نیچے کرتے اپنے ہونٹ حوریہ کی شہہ رگ پر رکھتے سخت لہجے میں کہا تو عائث خان کے وجود تلے دبا حوریہ کا نازک وجود بری طرح تڑپا تھا—
“عع-عائث پلیز”—اپنی گردن اور کندھوں پر جابجا عائث خان کے شدت بھرے لمس کو محسوس کرتے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے احتجاج کیا تو عائث خان نے خونخوار نظروں سے حوریہ شاہ کو گھورا تھا
حوریہ کی رحم طلب نظروں میں دیکھتے جھک کر وہ اپنے دانتوں میں حوریہ کے نچلے ہونٹ کو دباتا اسے لرزنے پر مجبور کر گیا تھا
حوریہ کو سختی سے آنکھیں میچتے دیکھ—عائث خان پوری شدت سے لپ اسٹک سے سجے سرخ ہونٹوں پر جھکا تھا—
پوری شدت سے حوریہ شاہ کی سانسوں میں اپنی سانسیں الجھاتے—وہ اس کی جان لبوں پر لے آیا تھا—
اپنے ہونٹوں پر لمحہ بہ لمحہ بڑھتی گرفت اور دانتوں کے دباؤ کو محسوس کرتے حوریہ نے مزاحمت کی تھی
جس پر عائث خان کے لمس میں شدت در آئی تھی—حوریہ کے پہلو میں ہاتھ لپیٹتے—وہ اسے سختی سے خود میں بھنچ چکا تھا—جبکہ حوریہ کو عائث خان کی انگلیاں اپنے پیٹ پر دھنستی محسوس ہو رہی تھی—
“اب بھی نہیں کہو گی”— حوریہ کی بری طرح منتشر ہوتی سانسوں کو محسوس کرتے پیچھے ہو کر لب کان کی لو پر رکھتے—سرد لہجے میں کہا تو حوریہ نے سسکتے ہوئے دونوں بازو عائث خان کی گردن میں ڈالتے چہرہ عائث خان کے سینے میں چھپایا تھا—
“آئی ہیٹ یو—سمجھے آپ—آئی ریلی رئیلی ہیٹ یو”— عائث خان کی کمر پر نازک ہاتھوں سے مکے برساتے نم لہجے میں کہا تو روم کی معنی خیز خاموشی میں عائث خان کا دلکش قہقہہ گونجا تھا—
“تمہیں یہ نہیں کہنا چاہیے تھا مائے انوسنٹ گرل—اب بھگتو انجام”— پیچھے ہوتے—سرد لہجے میں کہتا وہ حوریہ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھاتا سر کے اوپر پن کرتے—چہرہ حوریہ شاہ کی گردن میں چھپا چکا تھا—
گردن سے سینے اور سینے سے پہلو کا فاصلہ عائث خان نے لمحے طہ کیا تھا
اور پھر وہ حوریہ شاہ کے وجود کی گہرائیوں میں اترتا چلا گیا— کمرے کی معنی خیز خاموشی میں عائث خان کی شدتوں کے باعث حوریہ کی بکھری تیز سانسوں کا شور برپا تھا—عائث خان کی شدتوں کو سہتے حوریہ شاہ کا نازک وجود احتجاج کرتا تو اس کے نتیجے میں عائث خان کی شدتوں میں شامل ہوتی سختی کو محسوس کر کہ دم توڑ جاتا
عائث خان کی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جنونی قربت پر حوریہ شاہ نے تھک ہار کر اپنا بے ضرر سا احتجاج چھوڑتے خود کو عائث خان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا
_________
گزری رات میں کس کس طرح اس ظالم شخص نے حوریہ شاہ سے اظہار محبت نہیں کروایا تھا— ساری رات حوریہ شاہ کو اپنی محبت کی بارش میں پور پور بھگوتے تھوڑی دیر پہلے ہی وہ حوریہ کی حالت کے پیش نظر اس پر رحم کرتا اسے بانہوں میں بھرتا نیند کی وادیوں میں اترا تھا—
حوریہ نے آنکھیں کھولتے خود کو بانہوں میں دبوچنے کے انداز میں بھرے عائث خان کو دیکھتے بیڈ شیٹ کو مزید کھینچا تھا
سر اٹھاتے—دائیں جانب بیڈ سے نیچے گرے بلینکٹ کو افسوس بھری نظروں سے دیکھا تھا—
غصے اور بے بسی میں کہے گئے لفظوں کا وہ بہت اچھے سے انجام دیکھ چکی تھی—عائث خان کی بڑھتی بے باکیوں اور شرم سے دہری ہوتی جب اس نے اپنے وجود کو بلینکٹ میں چھپانا چاہا تو وہ ظالم شخص اس کے ہاتھوں سے بلیکنٹ چھینتا زمین بوس کر چکا تھا—اور پھر ساری رات حوریہ شاہ کو عائث خان کے سینے میں ہی پناہ لینی پڑی
عائث خان کے کروٹ لینے پر وہ باقی کی شیٹ کو بھی جھٹکے سے کھنچتی اپنے گرد لپیٹ چکی تھی—
چور نظروں سے عائث خان کی پشت کو دیکھتے—خشک پڑتے حلق کو تر کرتی وہ کھسکتی ہوئی بیڈ سے نیچے اترنے کے لیے پاؤں نیچے رکھتی اس سے پہلے ہی عائث خان نے جھٹکے سے اٹھتے حوریہ شاہ کی کمر میں بازو لپٹتے اسے تکیے پر گرایا تھا—
جبکہ اس اچانک ہوئی افتاد پر حوریہ نے دہل کر عائث خان کو دیکھا تھا—جو سرخ ڈوروں والی آنکھوں سے حوریہ شاہ کے ہونکوں کی طرح کھلے منہ کو دیکھ رہا تھا—
“کدھر”— ایک ہاتھ حوریہ کے سر کے قریب رکھتے جبکہ دوسرا ہاتھ حوریہ کے شیٹ تھامے ہاتھ میں پشت پر پھیرتے بوجھل لہجے میں استفسار کیا تو حوریہ نے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے عائث خان کی گہری بولتی آنکھوں سے نظریں چراتے پلکیں جھپکائیں تھیں—
“شش-شاور لینے”—نظریں جھکائے مدھم لہجے میں جواب دیا جبکہ سینے پر رکھے ہاتھوں میں شیٹ کو سختی سے دبوچا تھا—
“تو مجھے کیوں نہیں جگایا—میں ہیلپ کرتا تمہاری—جیسے رات کی تھی”— حوریہ کی گردن پر بنے سرخ نشانوں پر انگلی ٹریس کرتے گھمبیر لہجے میں کہا تو حوریہ نے بے ساختہ سر نفی میں ہلایا تھا—
“نن-نو آئی مین میں—آپ سو رہے تھے نا”— عائث خان کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں پر محسوس کرتے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا تو عائث خان نے ہنکارہ بھرتے حوریہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے تھے—
“اب تو جاگ گیا ہوں نا— اب تو ساتھ آسکتا ہوں تمہارے”— حوریہ کے ہاتھوں سے نرمی سے شیٹ چھڑوانے کی کوشش کرتے بوجھل لہجے میں کہا تو حوریہ نے سختی سے شیٹ تھامتے سر نفی میں ہلایا تھا—
“نن—ہیں خان مم—یں مم—مجھے نن—نید آئی ہے—شاور تو رات لل-لیا تھا نا— ویسے بب-بھی ٹٹ—ٹھنڈ ہو رہی”— عائث خان کے ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کرتے مدھم لہجے میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کیے تو عائث خان نے گہری بولتی نظروں سے حوریہ کے شرمائے گھبرائے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا تھا—
“مجھ سے چھپا رہی ہو خود کو—جبکہ رات میں تمہارے پور پور کو چھو کر اپنے نام کر چکا ہوں—جس وجود کے پور پور پر عائث خان کے لمس کی مہر لگی ہے—تم اسے مجھ سے کیسے چھپانے کی کوشش کر سکتی ہو—جبکہ میں اسے حفظ کر چکا ہوں—اور ٹھنڈ تو واقع ہی ہو رہی ہے—اور بلیکنٹ تمہارے پاس ہے نہیں—تو پھر ٹھنڈ سے بچنے کا تو ایک ہی طریقہ ہے”— حوریہ کی کمر میں بازو لپیٹتے—جھٹکے سے کروٹ بدل کر اسے اپنے سینے پر لٹاتے خمار الود لہجے میں کہا تو حوریہ کان کی لو سے گردن تک سرخ پڑتی چہرہ عائث خان کے سینے میں چھپا چکی تھی—
“پپ—پلیز عائث ای-سی بب-باتیں مت کریں”—ہتھیلی عائث خان کے ہونٹوں پر رکھتے سرگوشی نما لہجے میں کہا تو عائث خان نے مسکراتی نظروں سے حوریہ شاہ کے جھکے سر کو دیکھا تھا—
اور پھر دونوں ہاتھ حوریہ کے پہلو میں رکھتے جھٹکے سے شیٹ کھنچتے خود کو بھی اس میں لپیٹا تھا—
“اوکے نہیں کرتے باتیں—باتیں ویسے بھی فضول لوگ کرتے ہیں—ہم میاں بیوی عمل کرنے پہ فوکس کیا کریں گے”—شوخ لہجے میں کہتا وہ حوریہ کے مزاحمت کرتے وجود کو خود میں بھنچ چکا تھا—
حوریہ کی ٹانگوں کو لاک کرتے—اپنا بایاں بازو کمر کے گرد لپیٹتے—جبکہ دایاں بازو گردن میں حائل کرتے وہ حوریہ کے چہرے کو خود پر جھکاتا—اپنے تشنہ لب حوریہ کے ہونٹوں سے جوڑ چکا تھا—
قطرہ قطرہ حوریہ کی سانسوں کو خود میں اتارتا وہ ایک بار پھر اس نازک وجود کی نرمیوں میں بہکتا چلا گیا تھا—اور حوریہ جانتی تھی کہ مزاحمت رات بھر کی طرح فضول ہے سو چپ چاپ عائث خان کی شدتوں کو سہتی وہ اس کے سینے میں چھپتی سکون سے آنکھیں موند چکی تھی—
_________
وہ تینوں اس وقت ڈیرے پر موجود تھے—جبکہ سب ملازموں کو بالآج شاہ نے چھٹی دے رکھی تھی آج
کیونکہ مرجان خان آج یہاں آنے والا تھا—اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی کی نظروں میں بھی آئے
مرجان خان چادر کے ہالے میں چہرہ چھپائے وہاں داخل ہوا تو حدائق شاہ نے آگے بڑھتے دروازا بند کیا تھا—
“کسی نے آپ کو دیکھا تو نہیں”— بالآج شاہ نے استفسار کیا تو مرجان خان نے نفی میں سر ہلاتے چہرے سے چادر ہٹائی تھی—
جبکہ ان کا جلا ہوا چہرہ دیکھتے عقیدت نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اپنی چیخ کا گلا گھونٹا تھا
“ان کی نظر میں مرجان خان کئی سال پہلے مر چکا ہے—تمہارے باپ اور بہادر خان کے قتل کے بعد میرے گھر آگ لگائی گئی تھی—کیونکہ انہیں بہادر خان کے سبھی وفاداروں کو ختم کرنا تھا—مگر میں ان کے ارادے سے پہلے ہی باخبر ہو چکا تھا—ان کی نظروں میں میں اپنے گھر داخل ہو چکا تھا—جبکہ گھر کی پچھلی کھڑکی سے نکلتے میں جنگل کی جانب چلا گیا تھا—اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آیا—میں صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا—اور اب مجھے لگا کہ صحیح وقت آگیا ہے”— مرجان خان کے سپاٹ و سنجیدہ لہجے پر ان تینوں نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا—
“آپ پلیز جلدی بتائیں—کہ اس سب کے پیچھے کون ہیں—ہمیں بادام گل پر شک ہے—شک نہیں بلکہ یقین ہے—آپ بتائیں کہ کیا بس وہی ہے یا اور کوئی بھی اس سب کے پیچھے ہے”— عقیدت نے بے چینی سے آگے بڑھتے استفسار کیا تو مرجان خان کے ہونٹوں پر بے بس سی مسکراہٹ رینگ گئی
“جس پر اندھا یقین ہو نا پتر—وہ آپ کو سچ میں ایک نا ایک دن اندھا ثابت کر دیتا ہے—بادام گل اکیلا تو کبھی تھا ہی نہیں—اس کے ساتھ اس کی بہن مقدس شیر خان شامل تھی—اس کی غلطیوں میں اس کے گناہوں میں حتی کہ اپنے شوہر کے قتل میں بھی—یہ سب جو کچھ بھی ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے اس میں بادام گل کے ہر قدم پر وہ ساتھ ہے—کئی سال پہلے شوہر کو قتل کروایا اور اب وہ بدبخت عورت اپنے بیٹے کیا ان دونوں خاندانوں کی نسلیں ختم کرنے کا سوچے بیٹھی ہے—بادام گل نے باہر کے کسی بندے سے ہاتھ ملایا ہے—جتنا میں پتہ لگوا سکا ہوں— اس حساب سے وہ انسان ضرغام خان کا دشمن ہے—اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتا—کئی سالوں سے یہ راز دل میں لیے پھر رہا ہوں لگتا تھا موت بھی سکون کی نہیں آئے گی—آج یہ بوجھ اتر گیا تو اب موت بھی اجائے کوئی پرواہ نہیں”— مرجان خان کے ہر لفظ پر ان تینوں نے بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا—
جکی عقیدت لڑکھڑاتے قدم لیتی پیچھے ہوتی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتی چلی گئی
“یی—یہ لالا وہ عورت – وہ عورت کیسے اتنی سفاک ہو سکتی ہے—وہ مم—میرے ضرغام کو مارنا چاہتی ہے—مم—مجھے وہ بری لگتی تھی—بہت بری کیونکہ انہوں نے ضرغام کو مجھ سے چھینا تھا—انہوں نے کہا تھا کہ وہ مجھے طلاق دے دیں—اور جو میرے ضرغام کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش کرے گا یا کہے گا وہ شخص مجھے ساری زندگی برا ہی لگے گا اور وہ لگتی تھی مجھے—وہ کیسے کہہ سکتی تھی کہ وہ مجھے طلاق دے دیں—مگر اس کے باوجود بھی میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اس حد تک جا سکتی ہے—دائی نے بتایا تب بھی میں یہی سمجھی کہ اس نے ماموں کی دوسری شادی کی وجہ سے ایسا کیا—میں نے پھر بھی خود کو یہ سوچنے نہیں دیا— مگر اب لالا مم—یں کیسے بتاؤں گی ضرغام کو—وہ بہت بب-بہت محبت کرتا ہے اپنی ماں سے—مم—یں کیسے اس کے مان اور بھروسے کو ٹوٹتے ہوئے دیکھو گی—پتہ نن—ہیں وہ مم-میرا یقین بھی کریں گا یا نن—ہیں – میں کیسے اسے یقین دلاؤ گی—کیسے اس عورت سے دور رکھو گی”—ہاتھوں میں سر گرائے نم لہجے میں کہتی وہ حدائق شاہ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئی
“عقیدت ادھر دیکھو—تمہارا لالا ہے نا—ضرغام تمہیں کبھی غلط نہیں سمجھے گا—ہم جانتے ہیں وہ اس کی ماں ہے اور وہ بہت محبت کرتا ہے—لیکن ہم ایسے ہی منہ اٹھا کر اس کے سامنے جا کر اس کی ماں کو گنہگار تو نہیں کہنے والے—سب سے پہلے ہمیں شادی کے لیے ان کی گئی سازش کو ناکام کرنا ہے—پھر ثبوتوں کے ساتھ ضرغام خان کے سامنے جانا ہے اور مقدس بیگم کو اس حد تک مجبور کر دینا ہے کہ وہ اپنے جرم کا اعتراف اپنے منہ سے کریں وہ بھی سب کے سامنے—اور یقین رکھو ہم ضرغام خان کو ٹوٹنے نہیں دیں گے—ہمارے ہوتے بھلا ایسا ہو سکتا ہے—مت بھولو کہ وہ صرف میرا سالا نہیں بھائی بھی اور کسی زمانے میں جگری یار بھی تھا اور اب بھی ہے—وہ عورت صرف ہماری گنہگار ہوتی تو شاید ہم ضرغام کی خاطر صبر کر لیتے اس بات کو دلوں میں دفن کر کہ انصاف خدا کی ذات پر چھوڑ دیتے—مگر وہ سب سے بڑی دشمن ہی اپنے بیٹے کی ہے—اور ضرغام خان کو اس عورت کے شر سے بچانے کے لیے اس کی حقیقت سامنے لانا ضروری ہے”—- نرم لہجے میں کہتے سالا والی بات شوخ لہجے میں کہتے عقیدت کی ناک دبائی تو عقیدت نے آنسو صاف کرتے گھور کر حدائق شاہ کو دیکھا تھا—
“ہاں ٹھیک کہہ رہا ہے حدائق—اور ابھی یہاں سے چلو—سب سے پہلے مرجان چاچا کو کسی محفوظ جگہ پہنچانا ہے—تا کہ کوئی ان تک پہنچ نا سکے—اور باقی کی پلیننگ ہم بعد میں کرتے ہیں—ویسے بھی کچھ دن بعد مہندی ہے تو ہمیں اس سے پہلے پہلے یہ سب کرنا ہوگا”— بہرام شاہ کے کہنے پر ان تینوں نے سر اثبات میں ہلایا تو حدائق شاہ نے عقیدت کو اٹھاتے قدم دروازے کی جانب بڑھائے
مرجان خان کے دائیں جانب حدائق اور بائیں جانب بہرام شاہ نے باہر قدم رکھے
جبکہ ان کے پیچھے نکلتی عقیدت ٹھٹھک کر رکی تھی—
ہوا میں رچی جانی پہچانی خوشبو کو محسوس کرتے دل دھک سے رہ گیا
بے چینی سے اطراف میں نظریں گھمائی تھیں—
کہ تبھی حدائق شاہ کے پکارنے پر وہ سر جھٹکتی آگے بڑھی تھی—
____________
یہ کیا بتمیزی ہے بالآج”— ثمرین بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے سخت لہجے میں کہا تو بالآج شاہ نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا تھا—
“کیا ہوا اماں سائیں—کیا بتمیزی کی ہے میں نے”—- سٹڈی ٹیبل پر فائل رکھتے وہ نا سمجھی سے انہیں دیکھتا سامنے آکر کھڑا ہوا تھا—
“ایک تو تم نے بنا بتائے نکاح کر لیا— جس پر ہم۔صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گئے—خاندان والوں کو سو بہانے بنا کر سنانے پڑے—اور اب تم—تم چاہتے کیا ہو—خود بھی شادی کے لیے ہر جوڑا سیاہ لیا ہے اور بیوی کے لیے بھی—کیوں لوگوں میں اپنا اور اس کا تماشہ بنوانا چاہتے ہو—دلہن کے لیے تین دن کے جوڑے تو سہاگنوں والے لے آتے”—- مٹھیاں بھنچتے غصے سے چلاتی وہ بالآج شاہ کو سر جھکانے پر مجبور کر گئی
جبکہ صبغہ شاہ کی حرکت یاد کرتے بالآج شاہ نے سختی سے مٹھیاں اور جبڑے بھنچے تھے—
اس پاگل لڑکی کا دماغ تو وہ بہت اچھے سے ٹھکانے لگانے کا ارادہ رکھتا تھا—
لیکن سب سے پہلے اپنی ماں کا غصہ کم کرنا تھا
“مجھے یہ رنگ پسند ہے اماں سائیں—اور میری بیوی یہ رنگ پہن کر مجھے اچھی لگنی چاہیے لوگوں کی پرواہ نہیں مجھے”— سنجیدہ لہجے میں جواب دیا تو ثمرین بیگم نے گھور کر بالآج شاہ کو دیکھا تھا—
“کچھ سال پہلے تو تمہیں کوئی اور رنگ پسند تھا—اب پل میں تمہیں سیاہ رنگ اچھا لگنے لگا”—ماتھے پر ہاتھ مارتے غصے سے کہا تو بالآج شاہ نے اپنی سرخ پڑتی آنکھوں کو جھکایا تھا—
“پسند کا کہا ہے اماں سائیں—بدل جاتی—بدلتی رہتی ہے—میری بھی بد”—چہرے کا رخ پھیرتے سپاٹ لہجے میں جواب دیتے آخری بات ادھوری چھوڑتے جبڑے بھنچے تھے—جس پر ثمرین بیگم نے چونک کر بالآج شاہ کی پشت کو دیکھا تھا—
“آپ فکر مت کریں— آڈر کر دیتا ہوں نئے جوڑے آپ کی بہو کے لیے—اور ابھی مجھے کچھ ضروری کام کرنا ہے—مجھے ڈسٹرب نا کیا جائے”— قدم سٹڈی ٹیبل کی جانب بڑھاتے سپاٹ لہجے میں کہا تو ثمرین بیگم نے کچھ کہنے کے لیے لب واہ کیے تھے مگر پھر خاموش ہوتی سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا
“ٹھیک ہے کر دو—اور میری بہو ہونے سے پہلے تمہاری بیوی ہے—کہو اپنی بیوی کے لیے کر دیتا ہوں”— واپس پلٹتے مسکرا کر کہتی بالآج شاہ کو چونکنے پر مجبور کر گئی
وہ جو اپنی سوچوں میں ڈوب رہا تھا ان کی بات پر گردن ترچھی کرتے انہیں دروازا بند کر کہ باہر جاتے دیکھا تھا—
جبکہ کچھ دن پہلے شاپنگ کرنے کے مناظر آنکھوں کے سامنے گھومیں تو بالآج شاہ نے کرسی پر ڈھینے کے انداز میں بیٹھتے اپنا سر ہاتھوں میں گرایا تھا—
وہ بہرام شاہ کو کسی بھی طرح کا شک نہیں ہونے دینا چاہتا تھا—اس لیے ضبط کے لاکھ پہرے بٹھاتے وہ حوریہ شاہ کو ایک نظر اٹھا کر نا دیکھ سکا— بالآج شاہ اس کی موجودگی میں ایسے ہو گیا جیسے وہ وہاں تھی ہی نہیں—
مگر—مگر جب عائث خان اس کا ہاتھ تھامتے اٹھا تھا تو بالآج شاہ کی نظریں بے ساختہ اس کی جانب اٹھی تھیں—ایک لمحے کا کھیل تھا اور بالآج شاہ اس ایک لمحے میں قید ہوتا ماضی میں گم ہوتا گیا تھا
وہ نظر میں رکھ کر نظر انداز کرنے والوں میں سے تھا—وہ ماضی کے سامنے کھڑا ہوتا خود کے ضبط کا امتحان لینے والوں میں سے تھا—لوگ سمجھتے تھے وہ آگے بڑھ گیا اسے کچھ یاد نہیں – اور وہ ایسا اس لیے سمجھتے تھے کہ بالآج شاہ اپنے ہر عمل سے انہیں یہ سمجھنے پر مجبور کر دیتا تھا— مگر حقیقت کیا تھی—صرف وہ جانتا تھا—اس کے دل میں آج بھی وہ پہلی محبت کی یادیں – اس کی غلطی کے بوجھ تلے دفن تھی—بالآج شاہ کو اپنی گناہ کے آگے اپنی محبت بہت چھوٹی لگتی تھی—اسی لیے وہ پیچھے ہٹ گیا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اسے ہٹانے والے وہ ہیں—اس کے دل نے محبوب کی چاہت کی بجائے اپنی گناہ کی معافی کو اہمیت دی تھی—وہ اسے حاصل کر بھی لیتا تو ساری عمر سر نا اٹھا پاتا—شوہر ہونے کا حق یا مان نا جتا پاتا—یا پھر وہ حوریہ شاہ کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نہیں دیکھنا چاہتا تھا—اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ حوریہ چاہتی ہے کہ وہ صبغہ کو اپنا لے – اور پھر بالآج شاہ نے یہی کیا تھا—
وہ اس جنونی لڑکی کی محبت سے واقف تھا—ہر طریقے سے اسے دھتکار چکا تھا—کیونکہ جس آگ میں وہ جل رہا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ بھی جلے – اور پھر اس کا ضبط جواب دے گیا وہ اسے اس کی ضد کی وجہ سے زندگی میں شامل کر چکا تھا—
وہ بہت کوشش کرتا تھا کہ اب صبغہ کو تکلیف نا دے محبت نہیں دے سکتا تو ایسا سلوک بھی نا کریں—مگر جب جب وہ سامنے آتی تھی تو بالآج شاہ کو اپنا ماضی یاد آتا تھا—یہ بات دل میں آگ لگا دیتی تھی کہ یہ لڑکی بالآج شاہ کی ناکام محبت سے واقف ہے—وہ بالآج شاہ کی بے بسی سے واقف ہے—اور پھر خود پر لاکھ ضبط کرنے کے باجود وہ اپنے سینے میں جلتی آگ میں اسے بھی لپیٹ لیتا تھا
“وہ ماضی کی مار مرتا تھا تو صبغہ شاہ کو اپنے لفظوں کی مار مارتا تھا—دونوں مر رہے تھے – ایک محبت کھو دینے کہ غم میں اور دوسرا محبت کو پانے کی کوشش میں— دونوں ایک جیسے تھے—ایک محبت کھو جانے کی آگ میں جل رہا تھا تو دوسرا محبت کو اپنے نام کر لینے کی آگ میں— اور دونوں ہی انجام میں سے بے خبر تھے—جبکہ قسمت دور کھڑی ان دونوں کی بے بسی کو خاموش نظروں سے دیکھتی مسکرا رہی تھی-
