Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 08)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 08)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
برات بس پہنچنے ہی والی تھی—بہرام شاہ اور شاہ خاندان کے دوسرے مرد مردان خانے کی طرف حویلی کے دوسرے گیٹ کے پاس برات کے استقبال کے لیے کھڑے تھے—
برات ابھی شاہ حویلی پہنچی نہیں تھی – مگر آسمان میں گونجتی گولیوں کی تھرتھراہٹ سے اندازہ ہو رہا تھا کہ خان برات لا رہے ہیں
بہرام شاہ نے شادی میں کسی چیز سے روک ٹوک نہیں کی تھی—مگر ضرغام کو پیغام ضرور بھیجا تھا کہ وہ
اپنے کزنز کو اور خاص طور پر ارمغان خان کو فائرنگ نا کرنے دے—خوشی کے اظہار کے اور بھی بہت سے طریقے ہوتے ہیں—
ایک تو یہ کام غیر قانونی ہے دوسرا اگر انجانے میں کسی کو گولی لگ جائے—کوئی جانی نقصان ہو جائے تو پھر
کون ذمہ دار ہوگا
وہ میڈیا کا حصہ تھا—اکثر وہ شادی میں ہونے والی فائرنگ کی وجہ سے لوگوں کے جان سے جانے کی نیوز دیکھتا تھا—
وہ اس کے خلاف ایکشن بھی لے چکا تھا اور گاؤں میں شادی بیاہ پر ہوائی فائرنگ کرنے پر پابندی تھی
مگر یہ دماغ سے کھسکے ہوئے خانوں کو وہ کس طرح سمجھاتا
برات حویلی کے گیٹ پر آکر رکی تو فضا ایک بار پھر گولیوں کی تھرتھراہٹ سے گونج اٹھی
خان اپنی اپنی گاڑیوں سے سر نکالے قہقہے لگاتے فائرنگ اور پیسوں کی بوچھاڑ کر رہے تھے
جسے دیکھ بہرام شاہ نے تاسف سے سر ہلایا
چھوٹے بچوں کو پیسے پکڑنے کے لیے ایک دوسرے کو دھکا دیتے زمین پر گرتے دیکھ بہرام شاہ نے گہری سانس بھر کر اپنے اشتعال کو قابو پایا
تبھی اپنی بلیک لینڈ کروزر سے عائث خان باہر آیا
آف وائٹ کلر کی شروانی پہنے—جس پر گولڈن کام ہوا تھا—پاؤں میں گولڈن کلر کا کھسہ پہنے—سیاہ گھنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے—داجی کا ہاتھ تھامے مضبوط قدم لیتا بہرام شاہ کے سامنے آکر کھڑا ہوا
اپنے سامنے پٹھانی نقوش والے مغرور—مگر زیادہ تر خاموش رہنے والے شہزادے کو دیکھ بہرام شاہ نے آگے بڑھ کر عائث خان کے گلے میں پیسوں والے ہار کی مالا پہنانی—
عائث خان سے ملنے کے بعد اپنا سر داجی کے آگے جھکایا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے بہرام شاہ کو ڈھیروں دعائیں دے ڈالی
کہ تبھی فضا گولیوں کی تھرتھراہٹ اور ڈھول کی تھاپ سے گونج اٹھی جس پر بہرام شاہ نے اپنی آنکھیں سختی سے میچ کر غصہ ضبط کیا
کیونکہ اسے اندازہ ہو گیا تھا یہ سب اسے چڑھانے کے لیے ضرغام خان جان بوجھ کر رہا ہے
تبھی عائث خان کی گاڑی کے سامنے ضرغام خان کی کار آکر ایک جھٹکے سے رکی
ضرغام خان کی کار کے رکنے پر اس کے دوستوں نے کار کے آگے بھنگڑے ڈالنا شروع کیے تو بہرام شاہ کو لگا اب اس کا ضبط ٹوٹ جائے گا
جبکہ عائث خان خاموشی سے گردن موڑ کر ضرغام خان کو دیکھ رہا تھا
جو بلیک کلر کہ شیروانی پہنے—کسی ریاست کا شہزادہ ہی لگ رہا تھا—چہرے پر دل جلا دینے والی مسکراہٹ لیے بہرام شاہ کو دیکھتے—اپنے دوستوں کو پیچھے ہٹاتا بہرام شاہ کے قریب آکر رکا—
جس پر بہرام شاہ نے تاسف سے سر ہلاتے ضرغام خان کو گلے لگایا—
“سالے صاحب آج تو اگر تم مجھ پر بندوق بھی تان لیتے تو— یہ خان تمہیں معاف کر دیتا—بندوق تاننے کا اس لیے کہا کیونکہ جان سے مارنے کی آجازت تو صرف تمہاری بہن کو ہے”—ضرغام خان کی سرگوشی پر بہرام شاہ کی نظریں بے ساختہ عائث خان کی شیروانی پر نظر آتی لیزر لائٹ کے سرخ نشان پر گئی
“فکر مت کرو—میں بندوق نہیں تان رہا—مگر میری بہن ضرور تمہاری خواہش پوری کر دے گی”– ضرغام خان کا کندھا تھپتھپا کر کہا تو بہرام شاہ کی بات پر ضرغام خان کا دلکش قہقہہ گونجا
جس پر سر جھٹکتے بہرام شاہ مہمانوں کو لے کو اندر کی جانب بڑھا
————-
پیازی رنگ کی ساڑھی پہنے جس پر سلور کلر کا کام ہوا تھا—براؤن بالوں کی درمیان سے مانگ نکال کر اسٹریٹ کر کہ پیچھے کمر پر کھلا چھوڑا گیا تھا
ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہنے—گلے میں ڈائمنڈ کا خوبصورت پینڈٹ اور کانوں میں ڈائمنڈ کے ہی ایرنگ پہنے—لائٹ میک اپ کیے–
ساڑھی کا پلو ہاتھ میں تھامے سہج سہج کر چلتی کئی نظروں کو ٹھٹھکا رہی تھی–
اپنے قیامت خیز بجلیاں گراتے حسن سے لاپرواہ سیڑھیاں چڑھتی متلاشی نگاہوں سے عقیدت اور حوریہ کے روم کو تلاش کر رہی تھی
“اففف کس طرف جاؤں اب—پتہ نہیں کیا کہا تھا ملازمہ نے”—اوپر آکر اردگرد نگاہ دوڑاتے منہ میں بڑبڑا کر کہا
سر جھٹک کر دائیں جانب موجود راہدری کی جانب قدم بڑھائے
مگر اندر سے آندھی طوفان کی طرح آتا بہرام شاہ اپنے موبائل میں گم تیز تیز قدم لیتا—امتثال خان کے نازک وجود سے ٹکرایا
اس زور داد تصادم پر امتثال کی چیخ بے ساختہ تھی—
ابھی وہ لڑکھڑا کر نیچے گرتی کی بہرام شاہ نے ہڑبڑا کر اپنے دائیں کسرتی بازو کو امتثال خان کی کمر کے گرد لپیٹ کر اسے اپنی جانب کھینچا
اس افتاد پر دونوں کی دھڑکنیں بے ہنگم ہوئی تھی
زندگی میں پہلی بار بہرام شاہ کو اپنا دل کانوں میں دھڑکتا محسوس ہو رہا تھا—بائیں ہاتھ میں موجود موبائل ہاتھ سے چھوٹتا زمین بوس ہوا—مگر یہاں پرواہ ہی کسی تھے
اپنے دونوں بازو امتثال خان کی کمر کے گرد لپیٹ کر اسے اپنے قریب تر کر لیا
نظریں بے خود سی ہوتی امتثال خان کے خوبصورت نقوش میں الجھنے لگی—
نظریں سختی سے میچی آنکھوں پر ٹھہری تو امتثال خان نے پٹ سے اپنی شہد رنگ آنکھوں کو کھولا
“وہ مم—میں دلہنوں کا پوچھنے آئی تھی”—بہرام شاہ کے حصار کو توڑ کر چار قدم کے فاصلے پر کھڑے ہوتے اردگرد نگاہ دوڑاتے ہوئے کہا تو بہرام شاہ نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنے تاثرات چھپانے کی کوشش کی
نیلے رنگ کے کرتے کے ساتھ سفید شلوار پہنے—سیاہ گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ایک گہری نگاہ امتثال خان کے خوبصورت چہرے پر ڈالی
نظریں امتثال خان کے چہرے پر گئی تو بہرام شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
وہ ارگرد نگاہ دوڑاتی خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کرتی بار بار اپنے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کر رہی تھی
“سب نیچے دلہنوں کا انتظار کر رہے ہیں—اسی لیے میں پوچھنے آئی تھی—نکاح بھی روم میں ہی ہو گیا—اور اب تو رخصتی کا بھی وقت ہونے والا ہے—مگر دلہنیں ابھی تک نیچے نہیں ائیں”—شہد رنگ آنکھوں میں معصومیت لیے ایک نظر بہرام شاہ کی گہری سیاہ آنکھوں میں دیکھ نظریں پھیر کر اپنا مسئلہ بتایا تو بہرام شاہ نے نیچے جھک کر اپنا موبائل اٹھایا
“آپ کے بھائیوں کا حکم تھا کہ ان کی بیویوں کو اسٹیج پر نہیں لایا جائے گا—پھر چاہے وہاں صرف عورتیں ہی کیوں نا ہو—اسی لیے اپنی بھابھیوں سے یا تو آپ یہاں سے لفٹ سائیڈ جا کر سینکڈ روم میں مل لیں—یا اپنے گھر جا کر دیکھ لیجئے گا”— گہری پر تپش نظروں سے امتثال خان کی آنکھوں میں جھانکتے نرم لہجے میں کہا تو امتثال خان نے سٹپٹا کر نظروں کا رخ پھیرا
“نہیں آپ ایسا کریں مجھے ان کے روم تک ہی چھوڑ آئے—گھر جا کر وہ مجھے تھوڑی دیکھنے دے گے—تب تو خود دیکھے گے—اسی لیے بہتر ہے میں ابھی ہی دیکھ لوں”—اپنی ساڑھی کے پلو کو بار بار ٹھیک کرتی عام سے لہجے میں حکم سناتی قدم آگے بڑھائے تو بہرام شاہ نے داد دینے والے انداز میں آبرو آچکا کر امتثال خان کے لاپروا مالکانہ آنداز کو دیکھا
اور پھر سر جھٹک کر قدم امتثال خان سے آگے بڑھائے
جبکہ بہرام شاہ کے پیچھے چھوٹے چھوٹے قدم لیتی امتثال نے مسکرا کر بہرام شاہ کی چوڑی پشت کو دیکھا
امتثال کو دروازے کے باہر چھوڑ کر ایک گہری نگاہ امتثال خان پر ڈالتا وہاں سے نکلتا چلا گیا
جبکہ امتثال خان نے سر جھٹکتے کمرے کا دروازا کھول کر قدم اندر رکھے
—————–
السلام و علیکم—میں اندر آسکتی ہوں کیا”— امتثال نے دروازے کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے کہا
تو سلویٰ شاہ نے پلٹ کر دروازے کی جانب دیکھا
“وہ میں ضرغام لالا کی کزن ہوں”—سلویٰ شاہ کی نظروں سے کنفیوز ہوتے ہوئے بتایا تو سلویٰ شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“تو تمہیں اجازت کی کیا ضرورت— تمہارا ہی گھر ہے”— آگے بڑھ کر امتثال خان کے گلے لگتے مسکرا کر کہا تو سلویٰ کی بات پر امتثال بھی مسکرا دی
نارنجی اور گولڈن امتزاج کا لہنگا پہنے—نارنجی رنگ کا دوپٹہ جس کے کناروں پر گولڈن گوٹے کا کام ہوا تھا—
کانوں میں گولڈن کلر کے ایرنگ جن میں نارنجی رنگ کے نگ لگے تھے پہنے—اور ماتھے پر بندیاں لگائے— چہرے پر سنجیدگی طاری کیے—کوئی مغرور شہزادی ہی لگ رہی تھی
امتثال کو ایک دم سے وہ بہت اپنی اپنی سی لگی—نظریں دلہنوں کی بجائے بار بار سلویٰ شاہ پر ہی جا رہی تھی
“تمہاری دوسری کزن نہیں آئی کیا—میرا مطلب ہماری ہونے والی بھابھی”—عقیدت کا دوپٹہ سیٹ کرتے آبرو آچکا کر سلویٰ نے پوچھا تو
امتثال کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرا کر گزر گیا—
“طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس کی—وہ بچاری تو تیار بھی تھی مگر لالا نے کہا دلہنوں نے گھر ہی آنا ہے وہ تب مل لے ابھی آرام کرے—
اس کی طبیعت خرابی کی وجہ سے ماں جی بھی نہیں آسکی”— اپنے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا
تو سلویٰ نے دھیان دیے بنا سر اثبات میں ہلایا جبکہ عقیدت شاہ نے آئینے میں نظر آتے امتثال کے گھبرائے چہرے کو بغور دیکھا
ڈیپ ریڈ کلر کا کام دار بھای لہنگا پہنے—گردن میں بھاری زیورات پہنے—مہندی سے سجے خوبصورت ہاتھوں میں ڈائمنڈز کے کنگن کے ساتھ سرخ رنگ کی چوڑیاں پہنے—مخروطی انگلیوں میں انگوٹھیاں پہنے—
بالوں کا خوبصورتی سے بنائے گئے ہیر اسٹائل میں موتیوں کی لڑیوں کو پرویا گیا تھا—
پاؤں میں بھاری ڈائمنڈ کی پازیب پہنے–
وہ دونوں بہنیں دلہن کے روپ میں مبہوت کرنے دینے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی—کہ امتثال خان کو اپنی نظریں ہٹانا مشکل لگا
تبھی سلویٰ شاہ نے نگینوں سے سجے سرخ گھونگھٹ کو ان دونوں کے چہرے پر ڈال دیا—
“چلو بھائی کے میسج آرہے ہیں کہ دلہنوں کو نیچے لے آؤ”— سلویٰ نے ایک نظر موبائل پر ڈالتے کہا تو امتثال نے آگے بڑھ کر حوریہ کو اٹھنے میں مدد دی
جو بری طرح کپکپا رہی تھی
“بھابھی ریلیکس یار—کیوں اس طرح کانپ رہی ہیں—میرے عائث لالا تو بہت سویٹ سے ہیں—وہ تو کچھ کہتے بھی نہیں—بہت نرم لہجے والے ہیں”—حوریہ کے ککپپاتے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامتے مسکرا کر کہا تو حوریہ نے سر کو اثبات میں جنبش دی
“سویٹ ہوگا تمہارے لیے—بھائی جو ہے تمہارا—میرا تو شوہر ہے—وہ بھی جلالی شوہر– منہ سے آگ صرف میرے لیے ہی نکتی ہے—بہن تم تو اپنے بھائی کی شادی انجوائے کر رہی ہو—جب کی میں تمہارے بھائی سے شادی کے بعد اپنی آنے والی شامت کو امیجن کر رہی ہوں”—منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا
جبکہ امتثال خان بنا دیہان دیے حوریہ کا ہاتھ تھامے چھوٹے چھوٹے قدم لیتی سیڑھیاں اتر رہی تھی
————-
ضرغام اور عائث اپنی اپنی گاڑیوں کے سامنے کھڑے دلہنوں کا انتظار کر رہے تھے—
کہ تبھی بہرام شاہ کے ہمراہ وہ دونوں آتی ہوئی دکھائی دیں
گھونگھٹ میں چھپے چہرے کو دیکھ ضرغام خان کا دل بے ساختہ دھڑکا
جبکہ عائث خان نے ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر حوریہ کے کپکپاتے وجود کو دیکھا
“ماں جی مم—میں نے نہیں جانا—پل—پلیز آئی پرامس مم—میں تنگ نن—نہیں کروں گی مم—مجھے مت جانے دے”—حلیمہ بیگم حوریہ کو گاڑی میں بٹھانے لگی تو وہ روتے ہوئے حلیمہ بیگم سے لپٹ گئی
ہچکیوں سے جانے سے منع کرتی عائث خان کے غصے کو بڑھاوا دے گئی
چاکلیٹ براؤن آنکھوں میں پل میں خون اترا تھا—سختی میں مٹھیاں بھینچ کر حلیمہ بیگم سے لپٹی حوریہ کو دیکھا
“اوہو کیسی باتیں کر رہی ہو—آج نہیں تو کل تو تمہیں اپنے شوہر کے ساتھ ہی جانا ہے نا—دیکھو تمہارے انتظار میں کھڑا ہے—اس گھر کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کھلے رہے گے—مگر اصل گھر تمہارا وہی ہے جہاں تمہارے سر کا سائیں رہے گا”—حوریہ کا ہاتھ عائث خان کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا تو عائث خان نے اتنی سختی سے حوریہ کے ہاتھ کو تھاما کہ حوریہ کو اپنی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہوئی
ایسے ہی ہاتھ تھامے گاڑی کا دروازا کھولتے حوریہ کو سیٹ پر بٹھاتے دروازا بند کیا
جبکہ عائث خان کی اس حرکت پر بہرام شاہ نے سرعت سے نظروں کا زاویہ بدلا
جتنا شریف اور سیدھا وہ اسے سمجھا تھا اتنا وہ تھا نہیں
حوریہ کو فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر حلیمہ بیگم سے پیار لے کر خود جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو حوریہ نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں
“اپنا خیال رکھنا عقیدت—اپنے رشتے اور شوہر کی قدر کرنا—کیونکہ اب جو بھی ہے تمہارے لیے تمہارا شوہر ہی ہے—تمہاری خوشی غمی—تکلیف اگر اب کسی کے لیے سب سے زیادہ معنی رکھتی ہے تو وہ تمہارا شوہر ہے—اپنے رشتے میں کسی تیسرے کی وجہ سے مشکلات پیدا مت کرنا”—عقیدتکو گلے لگاتے ہوئے کہا تو عقیدت نے نم نظروں سے گھونگھٹ کی اوٹ سے انہیں دیکھ سر اثبات میں ہلایا
سلویٰ نے آگے بڑھ کر عقیدت کو گاڑی میں بٹھایا تو نظریں بے اختیار دائیں جانب گیٹ کی دیوار سے ٹیک لگائے کھڑے ارمغان خان پر گئی
جو گرے کلر کے پینٹ کوٹ میں—نظر لگ جانے کی حد تک ہنڈسم لگ رہا تھا
نظروں کی تپش محسوس کر کہ ارمغان خان نے جونہی نظریں اٹھائی تو شکوہ کناں نظروں سے زور دار تصادم ہوا
جس پر ارمغان خان نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچ کر اپنے اشتعال پر قابو پایا
داجی تو پہلے ہی خاندان کے مردوں کے ساتھ ڈیرے چلے گئے تھے
اب بس دلہنوں کو لانا تھا تو عائث اور ضرغام اپنی گاڑیوں کے ساتھ رکے تھے—
جبکہ ارمغان اور امتثال اپنی گاڑی میں ان کے ساتھ جانے کے لیے رکے تھے—
عقیدت کے گاڑی میں بیٹھتے ہی ضرغام خان اپنی سیٹ پر آکر بیٹھا—
ہاتھ کے اشارے سے سلام کرتا زن سے گاڑی بھگا لے گیا
___________
“کیا بکواس کر رہی تھی تم—کہ نہیں آنا میرے ساتھ – تو کہا جانا چاہتی ہیں آپ مہرانی صاحبہ بتائیں مجھے—
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میرے ساتھ آنے سے انکار کرنے کی— کیا سوچ کر یہ بکواس کی تھی کہ تم اس طرح کے ڈرامے کر کہ مجھ سے بچ جاؤ گی –
تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے مسسز عائث خان”—جھکٹے سے گاڑی گاؤں کی کچی سڑک کے کنارے روکتے حوریہ کے بازؤں کو اپنی آہنی گرفت میں لیتے پہلے طنزیہ اور بعد میں غرا کر کہا تو حوریہ شاہ کی سسکی خاموش فضا میں گونجی
حوریہ کی خاموشی سے تنگ آکر عائث خان نے ایک ہی جھٹکے میں گھونگھٹ کو الٹ دیا
جس پر حوریہ نے سختی سے آنکھیں میچی—جبکہ عائث خان مبہوت سا حوریہ شاہ کے خوبصورت چہرے کو دیکھ رہا تھا
عائث خان کے کسی ردعمل کو محسوس نا کر کہ حوریہ نے اپنی کانچ سی شفاف کرسٹل گرے آنکھوں کو واہ کیا تو دھک سے رہ گئی
“عائث– مم—میرا مطلب وہ نن—نہیں تھا میں تو بس ماں جی سے دور—ہونے کی وجہ”—عائث خان کی خون چھلکاتی آنکھوں میں دیکھتے نرم لہجے میں کہنے کی کوشش کی تو عائث خان نے چونک کر حوریہ کی نم آنکھوں میں دیکھا
“ماں سے دوری کو چھوڑوں—اگر کسی طرح کا کوئی ڈرامہ کیا تو انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی—”—
سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو حوریہ کو اپنی سانسیں خشک ہوتی محسوس ہوئی
“—ابھی تو خود سے بے وفائی کرنے کی سزا بھی دینی ہے—مجھے تو سمجھ نہیں آرہا تم میرے جنون کو برداشت کرو گی یا مجھ سے بے وفائی کرنے پر میرا قہر برداشت کرو گی”—حوریہ کے بالوں کو مٹھی میں دبوچ کر چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے طنزیہ لہجے میں کہا تو حوریہ نے اپنی کرسٹل گرے سرخ پڑتی آنکھوں سے عائث خان کو دیکھا
“مم—میرا کردار صاف ہے عائث—میں نے غلطی کی گناہ نہیں—تم اس طرح کا سلوک نہیں کرسکتے میرے ساتھ”—عائث خان کی خون چھلکاتی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے مضبوط لہجے میں کہا تو عائث خان نے آبرو آچکا کر حوریہ کی دیدہ دلیری کو دیکھا
“کردار پر اگر آنچ بھی آتی تو تمہارے اس نازک وجود کو آگ لگا دیتا میں حوریہ عائث خان—مگر بات کردار ہی کی تو نہیں ہے—یہ دل یہ تو صاف نہیں ہے نا—یہاں تم میرے پہلے کسی اور کو”—حوریہ کے سینے پر دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو عائث خان کی بات مکمل ہونے سے پہلے حوریہ نے نفی میں سر ہلاتے عائث خان کے ہاتھ کو اپنے کپکپاتے ہاتھوں میں تھاما
“ایسا نہیں ہے عائث—خدا گواہ ہے میرے دل کا ایسا کچھ بھی نہیں—وہ صرف میرا آئیڈیل تھا اس کے علاوہ کچھ نہیں— میرے دل میں کوئی بھی نہیں آیا—کیا تم میرا یقین نہیں کر سکتے—شادی بھی تو کی ہے نا—تو یقین بھی کر لو”—اب جیسا بھی تھا وہ عائث خان کی بیوی تھی
وہ جانتی تھی کہ یہ رشتہ کبھی بھی نہیں ٹوٹ سکتا تھا—انا میں وہ ایک دوسرے کو تو توڑ سکتے تھے— مگر اس رشتے کو نہیں—تو پھر وہ کیوں نا ایک قدم بڑھا کر اس آنا کو توڑ کر ایک دوسرے کو ٹوٹنے سے بچا لیتی
ساری زندگی کا ساتھ تھا—وہ ساری زندگی اپنے ہمسفر کی آنکھوں میں بدگمانی یا اپنے کردار کو مشکوک نہیں دیکھ سکتی تھی—
“تمہارے اس آئیڈیل نے میری روح کو تکلیف پہنچائی ہے—میرے دل پر وار کیا ہے—میں تکلیف نہیں بھلا پا رہا—کیا کروں میں ہاں—تمہارے لیے کہہ دینا آسان ہے—مگر اپنے نام سے منسوب شخص جس کے لیے آپ خود کو اس کی امانت سمجھ کر محفوظ کیے ہو—اس کے دل میں کسی اور کے لیے احساسات دیکھ کس قدر تکلیف ہوتی ہے تمہیں اندازہ بھی نہیں”— حوریہ کی نازک گردن کو اپنی سخت گرفت میں لیتے چلا کر کہا تو آنسو لڑیوں کی صورت میں حوریہ کہ رخساروں پر بہنے لگے جنہیں دیکھ عائث خان نے اپنے جبڑے بھنچ کر نرمی سے حوریہ کی گردن آزاد کی
“تو پھر مجھے معاف کر دو”- مضبوط لہجے میں کہا تو عائث خان نے پیچھے ہو کر حوریہ کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھ خاموشی سے گھونگھٹ حوریہ کے چہرے پر کرتے
بنا کوئی جواب دیے گاڑی سٹارٹ کی—مگر اس دوران وہ حوریہ کے ہاتھ کو اپنی سخت گرفت میں لے چکا تھا—
__________
“ارمغان کدھر ہے—نظر نہیں آرہا”—ضرغام خان کے پوچھنے پر عائث خان نے سرد نظروں سے اسے دیکھا
“چھت پر ہے— وہ ہم سے ناراض نہیں—مگر اب وہ راضی بھی نہیں ہے”—عائث خان نے چھت کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی
عقیدت اور حوریہ کو حویلی کے لاونج میں بٹھایا گیا تھا
جہاں خاندان کی عورتیں رسم کر رہی تھی—
اپنے چھوٹے کزنز کو وہاں بیٹھے دیکھ عائث خان گھسیٹنے کے انداز میں سب کو وہاں سے اٹھا کر باہر لایا تھا
کچھ کو تو وہ ڈیرے بھیج چکا تھا اور کچھ باہر لان میں بیٹھے ہوئے تھے
وہ لوگ اندر نا جائے اسی لیے عائث خان ان کے سر پر کھڑا تھا
وہ لوگ کیا دلہے کی ٹانگ کھنچتے یہاں دلہا ہی جلاد بنا ان پر پہرہ دے رہا تھا کہ جب تک اس کی بیوی کو کمرے میں نہیں بھیج دیا جاتا کوئی مرد اندر نہیں جائے گا—
“چلو میں دیکھ کر آتا ہوں—” عائث خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور تیز تیز قدم اندر کی جانب بڑھائے
—————
“کیوں اس طرح کر رہے ہو—تم جانتے بھی ہو کہ میں مجبور تھا—تم تکلیف میں ہوتے ہو تو میری روح کو وہ تکلیف محسوس ہوتی ہے—تم بہت قیمتی ہو اس خان کے لیے چھوٹے خان— بڑا بھائی سمجھ کر معاف”—ارمغان میں کے کندھے پر ہاتھ رکھتے نرم لہجے میں کہا تو ارمغان خان ایک ہی جھٹکے میں پلٹ کر ضرغام خان کے سینے سے لگ گیا
“نا لالا یہ بات نا کریں—تکلیف ہوئی ہے—مگر آپ کے فیصلے سے نہیں—آہنی بیوقوفی پر—ایک نا ایک دن ختم ہو جائے گی یہ تکلیف—آپ اس طرح مجھے شرمندہ نا کریں—آپ کی جگہ میں ہوتا تب میں بھی یہی فیصلہ کرتا—میں کسی اور کے لیے فکر مند ہوں”— ارمغان خان کے نم لہجے کو محسوس کر کہ ضرغام خان نے اسے خود میں بھینچ لیا
“وہ صرف چار سال چھوٹا تھا—مگر ضرغام خان نے اسے اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا—ارمغان خان کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا خیال رکھا تھا
اس کی پرورش خود کی تھی—اچھے برے کی تمیز ضرغام خان نے اسے سکھائی تھی—خاندان والے تو ضرغام خان کو ارمغان کی ماں کہتے تھے
“تم جانتے ہو یہ سب وقتی ہے—اسی لیے یہ بات میں نے گھر سے باہر نہیں نکلنے دی—بہت جلد یہ سب ختم ہو جائے گا—تم یہ کبھی مت سوچنا کہ میں تم سے یا تمہارے دل سے واقف نہیں ہوں—یہ سب مزید سازشوں سے بچنے کے لیے تھا—ورنہ ماں جی شادی تک کوئی اور ڈرامہ کرتی—تم سمجھ رہے ہو نا”— ضرغام خان کے کہنے پر ارمغان خان نے سر اثبات میں ہلایا
“اب جائیں لالا بھابھی انتظار کر رہی ہو—اگر لیٹ گئے تو کل سے مجھے وہ اپنی سوتن سمجھنے لگے گی”—ارمغان خان نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تو ضرغام خان کا دلکش قہقہہ گونجا
“اور لالا وہ کوئی قسم نہیں تھی—نا اس قسم کی کوئی اہمیت ہے – آپ اپنے اور بھابھی کے رشتے کو اس کی نظر مت کریں—وہ صرف غصے میں کی گئی بیوقوفی تھی – سمجھ رہے ہیں نا آپ کہ میں کہنا چاہ رہا ہوں—بھابھی اگر آپ کو قبول کر چکی ہیں تو ان کے مان کو ٹوٹنے مت دیجئے گا”—ارمغان خان نے سیڑھیاں اترتے ضرغام خان کو کہا تو ضرغام نے قدم روک کر بنا پلٹے سر اثبات میں ہلایا
————-
ضرغام خان دروازا کھول کر کمرے میں داخل ہوا تو نظریں سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنا قیامت خیز حسن لیے بیٹھی عقیدت ضرغام خان سے ٹکرائی
جو تمام ہتھیاروں سے لیس ضرغام خان کے دل پر بجلیاں گرا رہی تھی
نظریں عقیدت سے ہوتی روم کے اطراف میں گھومی تو ضرغام خان کے ہونٹوں پر تلخ سی مسکراہٹ رینگ گئی
اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی ارمغان خان اپنی زمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹا تھا
برات میں ارمغان خان کے لیٹ پہنچنے کی وجہ بھی اب ضرغام کو سمجھ آئی
سرخ—گلابی اور سفید گلاب کے پھولوں سے بیڈ کے کراؤن اور دیواروں کو سجایا گیا تھا—بیڈ کی چادر گلاب کی پتیوں تلے چھپی ہوئی تھی—کمرے کے دروازے سے لے کر کمرے کے چاروں کونوں تک گلاب کے پھولوں کو بچھایا گیا تھا—
ڈریسنگ ٹیبل—سائیڈ ٹیبل اور صوفے کے درمیان میں رکھے ٹیبل پر مختلف ڈیزائنز کی خوبصورت کینڈلز کو لگایا تھا—
روم میں پھیلی پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو اور کینڈلز کی لائٹ ماحول کو فسوں خیز بنا رہی تھی
اپنی شیروانی کے بٹن کھول کر صوفے پر اچھال کر قدم واشروم کی جانب بڑھائے
“کہاں جا رہے ہو تم”—اپنے سر پر پنو سے سیٹ دوپٹے سے جنگ لڑتے ضرغام خان کو واشروم کی جانب جاتے دیکھ تیز آواز میں کہا تو ضرغام خان نے چونک کر گردن موڑ کر اپنی بیوی کو دیکھا جس کے چہرے پر جھنجھلاہٹ صاف عیاں تھی—
“جہاں تک مجھے پتہ ہے تمہاری یہ دونوں آنکھیں سلامت ہیں—جب آنکھیں سلامت ہیں تو نظر بھی آرہا ہوگا کہ کہا جا رہا ہوں”—طنزیہ لہجے میں آبرو آچکا کر کہا تو عقیدت نے منہ بسور کر ضرغام خان کو دیکھا
“پہلے ادھر آکر اس مصیبت سے جان چھڑاؤ میری—ورنہ مجھے یقین ہے آج گنجی ہو جاؤں گی میں”—اپنے سر سے پنے نکالنے کی کوشش کرتی جھنجھلا کر کہا تو ضرغام خان نے گہری سانس بھر کر قدم عقیدت شاہ کی جانب بڑھائے
عقیدت کی پشت پر کھڑے ہو کر گہری استحاق بھری نظروں سے آئینے میں نظر آتے عقیدت کے ہوش ربا سراپے کو دیکھا
عقیدت کے ہاتھ دوپٹے سے ہٹا کر خود پنوں کو اتارنے لگا
سر سے پنے اتار کر کندھوں کے پاس لگی پن اتاری تو بھاری کام دار دوپٹہ کندھوں سے سرک کر زمین بوس ہوا — تو عقیدت نے آئینے میں نظر آتے صرغام خان کے عکس کو دیکھا تبھی صرغام خان کی نظریں اٹھی تو ضرغام خان جبڑے بھنچ کر پیچھے ہٹا اور واشروم میں جا کر بند ہو گیا—
————-
ضرغام خان نے فریش ہو کر کمرے میں قدم رکھے تو ٹھٹھک گیا
کمرے میں اون واحد لائٹ کو بھی اب بند کر دیا گیا تھا – اب صرف موم بتیوں کی روشنی کمرے کو روشن کیے ہوئے تھی
جبکہ عقیدت ابھی بھی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ہی بیٹھی ہوئی تھی
ضرغام خان کو باہر آتا دیکھ اپنے بھاری کام دار لہنگے کو اٹھاتی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی
جبکہ ضرغام خان اپنے جبڑے بھنچے عقیدت کو نظر انداز کرتا—گیلے بالوں میں ٹاول پھیرتا عقیدت سے کچھ فاصلے پر ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا ہوا
تبھی عقیدت اپنی مسکراہٹ چھپاتی ضرغام خان کی جانب بڑھی
ضرغام کے بالوں میں چلتے ہاتھ کو تھاما تو ضرغام نے بے تاثر نگاہوں سے عقیدت شاہ کو دیکھا جو ضرغام خان کی سخت گرفت سے ٹاول کھینچ کر فاتحانہ نظروں سے ضرغام خان کو دیکھ رہی تھی
دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے ضرغام خان کے قریب ہو کر کھڑی ہوئی—ہاتھ اوپر کر کہ ٹاول ضرغام خان کے بالوں میں پھیرا تو عقیدت کے اس طرح کرنے سے کمرے کی خاموش فضا میں چوڑیوں کے مدھم شور نے ارتعاش پیدا کیا
عقیدت کو گھور کری سے نوازتے ضرغام خان نے نظروں کا رخ پھیرنا چاہا جو کہ ناممکن سا تھا
نظریں بار بار بھٹک کر عقیدت کے چہرے پر ٹھہر رہی تھیں
عقیدت کے ہاتھوں کا لمس اب اپنے کندھوں پر محسوس کر کہ ضرغام خان نے ایک جھٹکے میں عقیدت شاہ کے ہاتھوں کو اپنی سخت گرفت میں لیا
جو اب ٹاول کو ضرغام خان کے مضبوط چوڑے کندھوں پر پھیر رہی تھی
“چاہتی کیا ہو تم عقیدت کیوں کر رہی ہو یہ سب”—ٹاول عقیدت کے ہاتھوں سے چھین کر نیچے پھینکتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو عقیدت نے آنکھیں گھما کر رہے سہے فاصلے کو بھی ختم کیا اپنے حنائی ہاتھوں کو ضرغام خان کے کندھے پر رکھا
“تمہیں چاہتی ہوں ضرغام خان—– مسکراہٹ دبائے چہرے پر معصومیت طاری کرتے کہا تو ضرغام خان نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی
“مجھے نہیں عقیدت—میری ماں کی وجہ سے کر رہی ہو نا—ان سے جیتنے کے لیے تم ہمارے رشتے کو ڈھال بنا رہی ہو—اگر یہ سب تم صرف اور صرف میرے لیے کرتی تو یقین کرو—ضرغام خان تمہارے اس انداز پر خود کو لٹا دیتا”— عقیدت شاہ کے دونوں بازوؤں کو اپنی سخت گرفت میں لیے دبے دبے لہجے میں دھاڑتے ہوئے کہا تو عقیدت کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
جسے دیکھ ضرغام خان نے جھٹکے سے عقیدت کو خود سے دور دھکیل رخ پھیر کر کھڑ ہو گیا
“بہت گہرے ہیں یوں تو سمندر لیکن
مرشد اس کی آنکھوں کی بات اپنی ہے”—
ضرغام خان کے روبرو کھڑے ہوتے شوخ لہجے میں کہا تو صرغام خان گہری سانس بھر کر رہ گیا
جو بات وہ عقیدت سے چھپا رہا تھا اگر اسے پتہ لگتی تو وہ اسے بہت غلط سمجھتی
جب تک وہ سب ٹھیک نہیں کر لیتا تھا—تب تک وہ اپنا رشتہ نہیں بنانا چاہتا تھا—اپنی ماں کو تو ان کی حرکت کے بعد وہ دو ٹوک لہجے میں کہہ چکا تھا کہ اب ان کی وہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی عقیدت کو وہ بیوی کا حق ضرور دے گا
مگر ابھی وہ جس قدر کشمکش کا شکار تھا وہ اپنے رشتے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا تھا
مگر اس کی پاگل بیوی—پوری طرح حواسوں پر چھاتی بے بس کر رہی تھی
“بہت شوق چڑھا ہوا ہے ایک ہونے کا— چلو تمہارا شوق پورا کرتا ہوں”—
جبکہ اب عقیدت کو اپنے گرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی
بامشکل اپنے چہرے کے تاثرات پر قابو پاتی مسکرانے کی کوشش کرتی خود پر گھٹا کی طرح چھاتے ضرغام خان کو دیکھا
جو اپنے دونوں ہاتھ عقیدت کے اطراف میں رکھتا اس پر جھک آیا تھا—
“تم اپنا ایک اور حق تو مانگنا ہی بھول گئی”—سائیڈ ٹیبل کے ڈرا کو کھولتے نیلے رنگ کی ڈبی نکالتے ہوئے کہا تو عقیدت نے سوالیہ نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا
جو تاسف سے سر ہلاتا ڈبی سے ایک خوبصورت ڈائمنڈ پینڈٹ نکال رہا تھا
خوبصورت سے ہارٹ پینڈٹ میں ہارٹ کے بیچوں بیچ ضرغام لکھا ہوا تھا—جب کے نام کے اردگرد نیلے رنگ کے نگینے لگے ہوئے تھے—
عقیدت کے گلے سے بھاری بھر کم ہار کو اتار کر پینڈٹ کو پہنایا
“من یارم نفرتوں کی دنیا میں خوش آمدید “—- سرد و سپاٹ لہجے میں کہا
جبکہ نظریں اس دوران عقیدت کے سرخ چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں
ناک میں پہنتی نتھ کو چھو کر نرمی سے اتارا اور اٹھ کر پیچھا ہوا
بیڈ کی پائنتی کے قریب پڑے عقیدت کے کلچ کو پکڑ کر عقیدت کے قریب آکر بیٹھا
” اس حرکت کی کیا وجہ ہے عقیدت—کیوں مجھے تکلیف دینے کے لیے یہ کر رہی ہو— تمہیں اندازہ بھی ہے کس قدر نقصان دہ ہے یہ”—عقیدت کے کلچ سے سگریٹ کی ڈبی نکال کر سامنے کرتے سرد لہجے میں کہا
“تمہیں پسند نہیں تھی—بس اسی لیے—تم نے مجھے دھکتار دیا—اور تمہاری دھتکار ہی مجھے یہاں تک لے آئی—یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ضرغام خان—تم اگر اس دن مجھے ہاتھ سے گھسیٹ کر صرف اپنی ماں کے کہنے پر نا نکالتے تو آج میں یہاں نا ہوتی—سب کو صرف تم نظر آتے ہو—تم تمہاری اچھائی—میں تو بہت بری ہو—ایک باغی آوارہ لڑکی—بتمیز منہ پھٹ پتھر دل”—سب کو یہی لگتی ہوں—مگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ موم سے پتھر ہونا کس قدر مشکل ہے—قطرہ قطرہ زمانے کے لہجوں اور نفرتوں کی آگ میں پگھل کر پتھر ہوا جاتا ہے—پتھر ہونا نظر آتا ہے—وجہ کسی کو نظر نہیں آتی”—ضرغام خان کو خود سے دور دھکیلتے بیڈ سے اتر کر ہذیانی انداز میں چلاتے ہوئے کہا
“نا ہی تم بتمیز ہو اور نا ہی پتھر دل—تم آج بھی میری وہی نازک موم سی عقیدت ہو جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونے لگتی تھی—جو کسی غیر کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی—میں نے غلط کیا—مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا—مگر جس طرح تم اپنے باپ کی محبت میں بے بس ہو—ویسے ہی میں اپنی ماں کے آگے بے بس ہوں—باپ کھو دیا تھا ماں نہیں کھو سکتا تھا—تمہیں نکالا تھا تب بھی دل کو سکون تھا کہ جہاں بھی جاؤں گی میرے نام سے منسوب ہی رہو گی—تم بتاؤں کبھی تمہیں خود سے جدا کرنے کی بات کی— یہ میں کبھی نہیں کر سکتا عقیدت—اتنا یقین رکھو مجھ پر—اور آئندہ کے بعد تم اس گھٹیا شے کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گی—ورنہ تمہاری سانسوں میں گھلی اس سگریٹ کو اپنے طریقے سے باہر نکالوں گا—پھر تمہیں ہی مسئلہ ہوگا—اور اب سوجاؤ— اپنی ماں کو بتا چکا ہوں کہ بہت جلد دادی بنانے والا ہوں میں—اسی لیے یہ ماں کی وجہ سے دور ہونے کے طعنے دینا بند کرو مجھے”— سخت لہجے میں باور کرواتے سگریٹ کو پاؤں تلے کچلتے اٹھا کر ڈسٹبین میں ڈالا
“یہ پہلے کیوں نہیں بتایا—نیند سے چکر آرہے تھے مجھے مگر—خیر چھوڑو”—کبرڈ سے اپنا ڈریس نکالتے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا تو ضرغام خان کا مدھم قہقہہ روم کی فضا میں گونجا
آدھے گھنٹے بعد عقیدت فریش ہو کر آئی تو ضرغام خان تکیے پر سر رکھے مسکراتی نظروں سے عقیدت کی جانب ہی دیکھ رہا تھا
اپنا دایاں ہاتھ عقیدت کی جانب بڑھایا تو چھوٹے قدم لیتی عقیدت ضرغام خان کے قریب آکر کھڑی ہوئی
سکائے بلیو ٹی شرٹ کے ساتھ سکائے بلیو ہی ٹراؤزر پہنے گیلے بالوں کو پشت پر کھلا چھوڑے وہ اس قدر پیاری لگ رہی تھی کہ ضرغام خان کا دل کیا اسے خود میں چھپا لے
مگر آنے والے کل کے بارے میں سوچ ضرغام خان کے چہرے پر چٹانوں سی سختی در آئی
عقیدت کو تو وہ مر کر بھی نہیں چھوڑنے والا تھا—وہ چاہتا تو اس رشتے کو آگے بڑھا لیتا
مگر وہ یہ رشتہ کسی دھوکے کی بنیاد پر نہیں بنانا چاہتا تھا—اب اسے یقین تھا جس بات کو وہ چھپا رہا تھا کل ضرور کسی نا کسی طرح مقدس بیگم اسے منظر عام پر لائیں گی
عقیدت کا ردعمل سوچ کر ضرغام خان کا دل بے ساختہ دھڑکا تھا سر جھٹک کر سوچوں سے فرار چاہی آنکھیں بند کر کہ سونے کی کوشش کی تو
رات کے نجانے کونسے پہر نیند کی دیوی نے ضرغام خان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
