Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram (Episode 33)

Maan Yaram by Maha Gull Rana 

آج مہندی تھی — جس کے لیے خان حویلی اور شاہ حویلی کو دلہنوں کی طرح سجا دیا گیا تھا

جبکہ دونوں خاندانوں کے مرد حضرات کے لیے بہرام نے ڈیرے پر انتظامات کیے تھے—اس کا کہنا تھا کہ گاؤں کی عورتیں بھی آ جا رہی ہیں حویلی تو مردان خانے کے دروازے بھی حویلی کے اندرونی حصے کی جانب کھول دینے چاہئے اور مردوں کے لیے ڈیرہ ٹھیک رہے گا جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا—

اور یہاں خان حویلی میں عقیدت اور حوریہ صبح سے گھن چکر بنی ہوئی تھی— وہ دونوں بولائئ بولائئ سی کبھی کچن میں ہوتی کبھی باہر لان میں اور کبھی مہمانوں کو دیکھ رہی ہوتی—جبکہ آنکھیں تو چاروں طرف اپنے سر پھرے خانوں کو ڈھونڈ رہی تھی—جو کہ اتنے دنوں سے حویلی سے غائب تھے—پہلے تو حوریہ عائث خان کی معنی خیز نظروں سے بچ جانے پر کافی خوش تھی

مگر اب اتنے دن ہو گئے تھے اسے دیکھے ہوئے کہ دل بری طرح بے چین ہو رہا تھا—وہ اس دن صبح بن بتائے گیا تھا اور ابھی تک واپس نہیں آیا تھا—

اور نا کوئی رابطہ کیا تھا—حوریہ نے ہی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کال کی تھی جسے کاٹ کر عائث خان نے مسیج کیا تھا کہ وہ مہندی والے دن اجائے گا—

جس کا حوریہ نے غصے میں جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا—

اور آج مہندی کا دن بھی آگیا تھا—سب مہمان آگئے تھے—اگر نہیں آئیں تھے تو وہ دونوں نہیں آئیں تھے—

گولڈن رنگ کی بڑی تھال میں گلاب کے پھولوں کی پتیاں رکھ کر ان پر دیے رکھتے حوریہ نے تھکی تھکی سی سانس لیتے—ایک نظر موبائل کی سکرین کو دیکھا تھا—مگر وہاں کوئی میسج یا کال نا دیکھ آنکھوں میں در آئی نمی کو بامشکل پیچھے دھکیلا تھا—

جبکہ کچن میں داخل ہوتی مبین بیگم نے خاموش نظروں سے حوریہ شاہ کے سوگوار حسن کو دیکھتے سر جھٹکا تھا

ان کا شادی میں شرکت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا—مگر عائث خان نے ان کے لیے ڈرائیور اور گارڈ بھیج دیے تھے اور مبین بیگم کو میسج کر کہ حویلی آنے کا کہا تھا نا آنے کی صورت پر وہ ناراضگی کا کہہ کر انہیں مجبور کر چکا تھا

“تم ابھی تک تیار نہیں ہوئئ—جاؤ جا کر تیار ہو جاؤ—مہندی کی رسم شروع ہونے والی ہے اور پھر شاہ حویلی سے بھی وہ لوگ مہندی لے کر پہنچنے والے ہوگے”—مبین بیگم نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا تو حوریہ نے حیرت سے انہیں دیکھا تھا—مگر کوئی جواب دیے بغیر مسکرا کر سر اثبات میں ہلاتی وہ تھال ملازمہ کے حوالے کر چکی تھی—

“میں بس جا ہی رہی تھی—باقی سب کام ہو گیا آپ ایک بار دیکھ کر تسلی کر لیجئے گا”—کچن میں اردگرد نگاہ دوڑاتے نرم لہجے میں کہا تو مبین بیگم نے سر اثبات میں ہلایا تو حوریہ نے قدم باہر کی جانب بڑھائے

_________

“بڑی بی بی جی—وہ سردار آگئے ہیں—کمرے کی طرف گئے ہیں”—سٹوروم سے سامان نکلواتی عقیدت کو ملازمہ نے آکر بتایا تو عقیدت کے دل نے بے ساختہ بیٹ مس کی تھی—

اداس چہرے پر پل میں دنیا جہاں کے رنگ کھلے تھے—

“اچھا سنو یہ چینی اور شکر وغیرہ ڈبو میں ڈال کر دیہان سے لے کر جانا پانی وغیرہ نا گرا دینا— اور باقی جو بھی مصالحے وغیرہ استعمال ہونے ہیں ایک دن کے استعمال کے حساب سے نکالنا—کچن میں پہلے جگہ نہیں تو ایسے بکھیرا بکھرا رہے گا—ضرورت کا سامان نکال کر لے جانا اور جب کسی اور چیز کی ضرورت ہو تب رشیدہ کے ساتھ آکر یہاں سے نکال لینا”— چابی ملازمہ کے حوالے کرتے—ہدایت دیتے ہوئے کہا اور ایک نظر سب سامان کر ڈال کر تسلی کرتے وہ جھٹکے سے پلٹتی تیز قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی

_______

دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے—گہری سانس لیتے خود پر قابو پایا تھا—دھک دھک کرتے دل کو بامشکل سنبھالتے دروازا کھولتے—عقیدت کمرے میں داخل ہوئی تو نظریں

بیڈ کے بیچوں بیچ—اوندھے منہ—پاوں زمین پر لٹکائے—نیوی بلیو سلوٹ زدہ شلوار کرتا پہنے ضرغام خان کے وجود پر گئی تو دل نے بے ساختہ بیٹ مس کی تھی

دروازا بند کرتے چھوٹے چھوٹے قدم لیتی وہ بیڈ کے دائیں جانب ضرغام خان کے قدموں کے قریب آکر بیٹھی تھی

کچھ پل خاموش نظروں سے ضرغام خان کو دیکھتے—نظریں گھنے بالوں سے سرکتی ضرغام خان کے دائیں ہاتھ پر رکی تھی—آگے کو سرکتے ہاتھ بڑھا کر ضرغام خان کے ہاتھ کی رگوں پر انگلی پھیری تو ضرغام خان کے وجود میں جنبش پیدا ہوئی

“اتنے دن سے کہاں تھے خان”— بیڈ پر دھرے ضرغام خان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے—انگلیوں میں انگلیاں الجھاتے سخت لہجے میں استفسار کیا—مگر لاکھ ضبط کرتے بھی وہ اپنے لہجے میں گھلتی نمی کو محسوس کر کہ عقیدت نے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے

“بے سکونی میں”— کمرے کی خاموش فضا میں ضرغام خان کی نیند میں ڈوبی آواز گونجی تو عقیدت نے آگے بڑھتے اپنا سر ضرغام خان کی پشت سے ٹکایا تھا—

“اور اب”—ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبائے سرگوشی نما لہجے میں کہا—جبکہ کمرے میں پھیلی خاموشی میں گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز عقیدت شاہ کو بری طرح چبھنے لگی – وجود کا پور پور ضرغام خان جواب کے لیے بے چین ہوا تھا

“سکون میں— زندگی کے بہت قریب”— ٹھہرے لہجے میں جواب دیتے—بائیں ہاتھ کو پیچھے لے جا کر عقیدت کی کمر پر رکھتے نرمی سے کروٹ بدلی

ہاتھ بڑھا کر تکیہ سر کہ نیچے کرتے سمندر سی نیلی آنکھوں میں نرمی لیے خود پر جھکی عقیدت شاہ کو دیکھتے—دایاں ہاتھ بڑھا کر نرمی سے گال کو چھوا تھا

کاٹن کے سادہ پرنٹڈ سوٹ پہنے—بالوں کا رف جوڑا بنائے—چہرے پر لائٹ میک اپ کیے—اور سبز نگینوں جیسی آنکھوں میں شکوے لیے وہ ضرغام خان کو اپنی روح میں اترتی محسوس ہوئی تھی

عنابی ہونٹوں پر آسودہ مسکراہٹ سجائے—گال پر دھرے ہاتھ کو سرکاتے عقیدت کے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا تھا

“خان—تم ٹھیک ہو”—ضرغام خان کی گہری نیلی آنکھوں میں جھانکتے نرم لہجے میں استفسار کیا تو ضرغام خان نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا

“بالکل ٹھیک—نہیں بھی تھا تو اب ہوں”—ضرغام خان کے جواب پر عقیدت نے خاموش نظروں سے اسے دیکھا تھا

پھر گہری سانس لیتے وہ اٹھ کر بیٹھی تھی

“اگر ٹھیک ہو اور بالکل ٹھیک ہو تو یہ بھی یاد ہوگا کہ آج گھر پر مہندی ہے—آپ جناب اتنے دن بعد گھر تشریف لے ہی آئیں ہیں تو اب کمرے سے نکلنے کی زحمت کر کہ انتظامات دیکھ لیں—انتظامات کے ساتھ اپنے بیٹے کو بھی دیکھ لیں جو اپنے لالا کہ حویلی نا آنے کہ وجہ سے منہ پھلائے ڈیرے پر بیٹھا ہوا ہے اور تیار ہونے سے بھی منع کر چکا ہے”— اس وقت وہ ضرغام سے اس رات کے حوالے سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتی تھی—وہ جانتی تھی کہ اس دن وہاں ضرغام ہی تھا—مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ وہ سب سننے کہ بعد وہ کس تکلیف سے گزرا ہوگا—کس اذیت سے گزرا ہوگا کہ اپنی تکلیف کو چھپانے کی خاطر وہ اتنے دن سے حویلی نہیں آیا تھا—اور اب وہ کوئی بھی اس طرح کی بات نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے اس کے خان کو کوئی تکلیف ہو—اسی لیے وہ ان باتوں کو نظر انداز کرتی— ضرغام خان کو گھورتے ہوئے ارمغان خان کے بارے میں بتانے لگی تو کمرے کی فضا میں ضرغام خان کا دلکش مدھم قہقہ گونجا تھا

“تو بیٹے کی ماں بھی تو یہاں موجود تھی نا—ایک بیٹا نہیں سنبھال سکتی عقیدت ضرغام خان—جب اتنے چھوٹے چھوٹے بیٹوں کو سنبھالنا پڑے گا تو کیا بنے گا”—دونوں ہاتھ گھنے بالوں میں پھیرتے اٹھ کر بیٹھتے شوخ لہجے میں کہا تو عقیدت نے گھور کر ضرغام خان کو دیکھا تھا

“میرا دماغ پہلے ہی بہت خراب ہے ضرغام—فلحال چھیڑو مت مجھے—آٹھ کر تیار ہو جاؤ—اور جا کر اسے بھی مناؤ”— دانت ہچکچا کر کہتے وہ ابھی بیڈ سے نیچے اترتی کہ ضرغام خان نے ہاتھ بڑھاتے – عقیدت کے بائیں بازو کو تھامتے خود کی طرف جھٹکا دیا کہ وہ بری طرح ضرغام خان کے سینے سے ٹکرائی تھی

“تمہارا دماغ خراب ہے اور میری نیت—اور رہی بات چھیڑنے کی تو اس کا تو خان کے پاس پورا حق ہے کہ وہ جب چاہے جیسے مرضی چھیڑ سکے—لیکن فلحال تم ایسے قریب آکر—مجھے مت چھیڑو ورنہ بہت کچھ خراب ہو سکتا ہے”—دایاں ہاتھ عقیدت کے سر کہ پیچھے رکھتے— بوجھل لہجے میں سرگوشی کرتے—ناک کو گال سے ٹریس کرتے گردن میں چہرہ چھپاتے گہری سانس بھر کر عقیدت کے وجود سے اٹھتی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارا تھا

جبکہ ضرغام خان کے پل میں شوخا ہونے پر عقیدت نے گلابی پڑتے گھور کر ضرغام خان کے جھکے سر کو دیکھا تھا

“افففف—کیا عجیب پیس ہے میرے والا—مجھے پاگل کر کہ چھوڑے گا—سمجھ نہیں آرہی دل کہ اداسی پر اس سے پیار جتاو—یا اس بلاوجہ کے شوخے پن پر منہ توڑ دوں”— خود پر جھکے ضرغام خان کو دیکھتے دل ہی دل میں کہتے آنکھیں میچ کر خود پر ضبط کیا تھا

“ضرغام تم ہٹو گے یا میں تمہاری حالت خراب کروں—اچھا لگے گا کہ تم شادی پر اپنا سوجھا ہوا چہرہ چھپاتے پھرو”— دونوں کندھوں سے تھام کر ضرغام خان کو پیچھے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو ضرغام خان نے گردن سے چہرہ نکالتے گھور کر عقیدت کو دیکھا تھا

پھر سر جھٹکتے پیچھے ہوتے بیڈ سے اترا تو عقیدت نے بھی نیچے اتر کر قدم کبرڈ کی جانب بڑھائے

ضرغام خان کے پہننے کے لئے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھے

“میں نے تمہیں بہت مس کیا ضرغام کی جان”— بازو سے تھام کر رخ اپنی جانب کرتے لہجے میں سنجیدگی لیے کہا تو عقیدت نے خاموش نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا تھا

“اچھی بات ہے کہ تم نے مس کیا—لیکن میری ایک بات کان کھول کر سن لو خان—میں تمہیں مس نہیں کرنا چاہتی—مجھ سے نہیں ہوتا—میرے لیے تمہارے بغیر ایک لمحہ بھی گزارنا بہت تکلیف دہ ہے— مجھے آئندہ کبھی بھی انتظار کی اذیت سے نا گزارنا—میں اس اذیت کو برداشت نہیں کر سکتی ضرغام— مجھے تم اپنے پاس چاہیے ہو— ہمیشہ—آئندہ اگر تم مجھے ایسے چھوڑ کر گئے تو یاد رکھنا—عقیدت ضرغام خان ہوں میں بہت برا بدلہ لوں گی تم سے”—انگلی اٹھائے سخت لہجے میں تنبیہہ کیا تو ضرغام خان نے خاموش نظروں سے دیکھتے سر کو اثبات میں ہلایا تھا

پھر دو قدم کے فاصلے کو سمیٹتے نرمی سے عقیدت کے ماتھے کو چھوا تھا

“میری جان—نہیں جاؤں گا” نرم لہجے میں کہتے بانہوں میں سمیٹا تھا کہ اپنی گردن پر دانتوں کے سخت دباؤ کو محسوس کرتے ضرغام خان نے سختی سے ہونٹ بھنچے تھے

“اب مجھے سب ٹھیک لگ رہا ہے—میرا سکون—اب تم فریش ہو سکتے ہو”—پیچھے ہوتے ضرغام خان کی گردن پر دانتوں کے نشان پر انگلی پھیرتے مسکرا کر کہا تو ضرغام خان نے نفی میں سر ہلاتے قدم واشروم کی جانب بڑھائے تھے

________

چہرے پر سرد تاثرات سجائے وہ شاہ حویلی کے دائیں جانب بنے حصے کی طرف آیا تھا

جہاں اس وقت صبغہ اور ندا بیگم رہائش پذیر تھی

جس قدر شاہ حویلی میں اس وقت گہما گہمی تھی اس قدر ہی حویلی کے اس حصے میں سکوت طاری تھی

بالاج شاہ کو یہ خاموشی بری طرح چبھی تھی—

“عجیب پاگل لڑکی ہے—پہلے شادی کے لیے مرے جا رہی تھی اور اب شادی ہو رہی ہے تو بیگم صاحبہ کے مزاج ہی نہیں مل رہے”— اردگرد نگاہ دوڑاتے بڑبڑا کر کہتے گردن ترچھی کرتے ملازموں کو سامان رکھنے کا اشارہ کیا

کیا عجیب انسان تھا نا—کس قدر انجان بن رہا تھا— سب کچھ تو جانتا تھا کہ شادی کے لیے نہیں— جس شخص سے شادی ہونی تھی اس شخص کے لیے مری جا رہی تھی وہ—اپنے رویے سے اب وہ اسے مار ہی تو رہا تھا”—دل کی آواز کو بری طرح نظر انداز کرتے وہ تیز قدموں سے صبغہ شاہ کے کمرے کی جانب بڑھا تھا

ثمرین شاہ کے بار بار کہنے پر مجبور ہوتا وہ صبغہ کے لیے اب نئی شاپنگ کر چکا تھا

اور آج صبح ہی اسے پتہ چلا تھا کہ صبغہ نے مہندی کی رسم میں شامل ہونے سے منع کر دیا ہے—

ندا بیگم کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بابا کو یاد کر کہ اداس ہے اسی وجہ سے انہوں نے ضد نہیں کی

جو سامان وہ ملازموں کے ہاتھ بھیجنے کا ارادہ کرتا تھا—صبغہ کے انکار کو سنتا وہ خود دینے آگیا تھا

وہ پہلے ہی تپا ہوا تھا صبغہ کی یہ حرکت اسے مزید غصہ دلا چکی تھی

کمرے کے قریب پہنچتے بے ساختہ ہی قدم رکے تھے—یہ شاید زندگی میں پہلی ہی بار تھا کہ وہ صبغہ شاہ کے کمرے میں جانے لگا تھا—

بند دروازے کے پار جو وجود تھا وہ کبھی بھی بالاج شاہ کے لیے اتنی بھی اہمیت کا حامل نہیں تھا کہ وہ کبھی خود اس کے در تک آتا— اگر وہ لڑکی بالاج شاہ کے ماضی سے واقف نا ہوتی یا اپنی ہٹ دھرم محبت کا بے باکی سے مظاہرہ نا کرتی تو شاید وہ پیدا ہو کر مر بھی جاتی تو بالاج شاہ کو اس کے وجود سے کوئی سروکار نا ہوتا—مگر اب وہ وجود صرف ایک وجود نا رہا تھا—وہ بالاج شاہ کے وجود کا ایک حصہ بن چکا تھا—بالاج شاہ کو خود سے جوڑ چکا تھا—بالاج شاہ کی عزت—نام سب کچھ تو اپنے نام کر کہ اس کا حقدار بن چکا تھا—وہ وجود جو ذرہ بھی اہمیت کا حامل نہیں تھا نا چاہتے ہوئے بھی بہت اہمیت کا حامل بن چکا تھا—اہمیت بھی اس حد تک کہ بالاج شاہ کو اپنے غصے اور نفرت کا اظہار کرنے کے لیے بھی خود اس کے پاس آنا پڑا تھا—

سر جھٹکتے دھار سے دروازا کھولتے وہ اندر داخل ہوا تھا

نظریں کھڑکی سے باہر جمائے—دیوار سے سر ٹکائے کھڑی صبغہ شاہ کی پشت سے ٹکرائی تو بالاج شاہ کو اپنے وجود میں عجیب سی بے سکونی محسوس ہوئی

ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے کوٹ کے بٹن کو کھولتے دونوں ہاتھ جیبوں میں اڑستے وہ کچھ لمحے سیاہ گہری آنکھوں سے صبغہ شاہ کو گھورتا رہا

مگر صبغہ کو ہنوز ویسے ہی کھڑے دیکھ بالاج شاہ سختی سے ہونٹ بھنچے تھے

“یہ ماتم تو تمہیں کل رات سے شروع کرنا تھا—کیا پریکٹس ابھی سے شروع کر دی ہے”— صبغہ شاہ کی پشت پر کھڑے ہوتے—دایاں ہاتھ دیوار پر ٹکاتے نظریں کھڑکی سے باہر نظر آتے منظر پر ٹکائے طنزیہ لہجے میں کہا تو صبغہ شاہ نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں

“تمہیں پتہ ہے بالاج— لاعلاج مرض کونسا ہے”—صبغہ کے سپاٹ لہجے پر بالاج شاہ نے نا سمجھی سے اسے دیکھا تھا

جو طنز کا جواب دینا شاید بھول گئی تھی—جس پر بالاج شاہ کو حیرت ہوئی تھی

“فار یور کائنڈ انفارمیشن میں بزنس مین ہوں—مرض اور مریضوں سے میرا دور دور تک کوئی تعلق نہیں—ان کیس کہ میں ڈاکٹر ہوتا بھی تو تمہیں جواب دینا ضروری نا سمجھتا – مگر تم کل میرے پاس مریض بن کہ آنا چاہتی ہو تو تمہاری بیماری کو دیکھتے ہوئے میں ڈاکٹر بن کہ اچھے سے علاج کر بھی سکتا ہوں”— بایاں ہاتھ صبغہ کے کندھے پر رکھتے ہوئے کہا تو صبغہ نے گہری سانس بھرتے سر نفی میں ہلایا تھا

“مجھے لگتا کہ ہے جلد بازی میں فیصلہ کرںا مرد کی فطرت میں ہے—اسے اگر کوئی لڑکی پسند اجائے تو وہ بنا کچھ سوچے سمجھے محبت کا گمان کرنے لگتا ہے— جبکہ وہ محبت ہوتی بھی”— وہ جو صبغہ شاہ کو خاموشی سے سن رہا تھا آخری لفظوں پر بری طرح تلملایا تھا

کب یہ لڑکی کوئی موقع چھوڑتی تھی اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا—ہر بار ہر بات میں کہی نا کہی وہ بالاج شاہ کا ماضی سامنے لا کھڑا کرتی تھی جسے وہ نا چاہتے ہوئے بھی بھلانے کی کوشش کر رہا تھا—

“تم—تم صبغہ شاہ— کیسے میرے ہی سامنے میری محبت کو گمان کہنے کی جرات کر سکتی ہو”— اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑی آفت کی پڑکالہ کا دماغ ٹھکانے لگ دے

“بالکل ویسے ہی بالاج شاہ جیسے تم مجھے – یعںی کہ صبغہ بالاج شاہ کو ذلیل اور تکلیف دینے کی جرات کر سکتے ہو”—بالاج شاہ کی سرخ پڑتی آنکھوں میں بے خوفی سے آنکھیں ڈالیں دوبدو جواب دیتے سینے پر دونوں بازو تو بالاج شاہ نے سخت نظروں سے صبغہ شاہ کو گھورا تھآ

جو اپنا ماتم ختم کیے پل میں لڑاکا روپ میں واپس آ کی تھی

“اگر میں تمہیں اب کچھ کہہ نہیں رہا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کچھ کہہ نہیں سکتا – اب تمہاری عزت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تو اس لیے نہیں کہ عورت ہو یا میرے خاندان کی عزت”—ایک ایک لفظ چبا کر کہتے دائیں ہاتھ سے صبغہ کی تھوڑی تھامتے چہرہ اپنے چہرے کے قریب کیا تو صبغہ شاہ نے بے ساختہ اپنی سانسوں کو روکا تھا

“صرف اس لیے کہ تمہارے نام کے ساتھ اب بالاج شاہ کا نام جڑا ہے—بالاج شاہ کی بیوی ہر ایک کہ لیے قابلِ عزت اور قابل احترام ہے—خود بالاج شاہ کے لیے بھی—محبت کا آسرا نہیں دیتا—لیکن عزت کا یقین دلاتا ہوں صبغہ بالاج شاہ—مگر اس بات کا یقین بھی رکھو کہ اگر کسی دن تمہاری قینچی کی طرح چلتی زبان سے تنگ آگیا تو عزت عزت میں زبان کاٹ کے فریم کروا کہ کمرے میں لگوا دوں گا—کیونکہ بالاج شاہ کی بیوی کی زبان ہو گی اتنا احترام تو بنتا ہی ہے کہ کٹ بھی جائے تو احتراماً دیوار کی زینت بنی رہی”— وہ جو بالاج شاہ کے ہونٹوں سے ادا ہوتے ایک ایک لفظ کو دل میں اترتا محسوس کر رہی تھی آخر میں بری طرح تلملائی تھی

“مم—میرا دماغ خراب تھا بالاج شاہ جو تم سے محبت کر بیٹھی”—بالاج شاہ کے سینے پر مکے برساتے دانت کچکچا کر کہا تو بالاج شاہ نے سنجیدہ نظروں سے صبغہ شاہ کو دیکھا تھا

دل نجانے کیوں بے چین ہوا تھا— ایک لمحے کو سانس لینا مشکل ہوا– مگر وہ خود کو سنبھال چکا تھا

“تمہاری محبت دماغ کا مسئلہ ہوگی صبغہ شاہ—میرا دل کا معاملہ تھا—اور دل پر کب کسی کا اختیار ہوا ہے— میرا تجربہ کہتا ہے لوگ بہت ناشکرے ہوتے ہیں—پہلے رب سے دعائیں کرتے ہیں کہ یہ چیز ہمیں مل جائے—خاص کر تمہارے جیسے—ہمیں محبت مل جائے چاہے وہ محبت کرے نا کرے اس کا ساتھ کافی ہوگا—مگر جب ساتھ مل جاتا ہے تب تم لوگوں کی خواہشات کی حدود بڑھنے لگ جاتی ہے –پھر ساتھ ناکافی ہو جاتا ہے—پھر محبت بھی چاہیے– ہوتی – اور پرواہ بھی—بھلا محبوب سے محبت یا پرواہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے— وہ محبوب ہی کیا جو ظالم نا ہو—جو بے پرواہ نا ہو—تمہیں مل گیا ہوں تو اس پہ راضی ہو جاؤ نا—میرا ملنا ہی تو تم دعاؤں میں مانگتی رہی ہو— اور مجھے دیکھو صبغہ شاہ کچھ لوگ بالاج شاہ جیسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ملنا تو دور ملنے کی دعا کرنے کا بھی اختیار حاصل نہیں ہوتا”—- اپنے بائیں جانب سے گزرتی صبغہ شاہ کی کلائی تھامتے—نظریں کھڑکی سے نظر آتے آسمان پر ٹکائے جہاں اس وقت ڈوبتے سورج کی سرخی پھیلتی جا رہی تھی—کھوئے کھوئے لہجے میں کہتے وہ صبغہ شاہ کا دل بری طرح دھڑکا گیا تھا

بھوری شہد رنگ آنکھیں پل میں نم ہوئی تھیں

“اب دعا مانگو تو مکمل مانگنا— جو تمہیں تمہاری محبت دے سکتا ہے—وہ کیا اس کے دل میں تمہارے لیے محبت نہیں پیدا کر سکتا”— کلائی پر دباؤ بڑھا کر چھوڑتے وہ چند قدم پیچھے ہوا تھا

گردن ترچھی کر کہ صبغہ شاہ کی نم آنکھوں میں دیکھتے خاموشی سے پلٹتے وہ لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا

جبکہ صبغہ شاہ دیوار سے پشت ٹکاتے زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی—

وہ بالاج شاہ کے سامنے چیختی چلاتی تھی – وہ چاہتی تھی کہ وہ اپنے دل سے یہ بات نکال پھینکے کہ اسے کبھی محبت ہوئی تھی—وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہو مگر اس طرح بھی نا کہ محبت کو خود پر حرام ہی کر لے—مگر اس نے یہ تو کبھی نہیں چاہا کہ بالاج شاہ کمزور پڑیں—وہ چاہتی تھی کہ وہ صبغہ شاہ کی محبت کا اعتراف کر لیں مان لے کہ وہ جانتا ہے کہ اس دنیا میں ایک لڑکی ہے جو صرف بالاج شاہ سے محبت کرتی ہے— جس کی سانسیں صرف بالاج شاہ کے سینے میں دھڑکتے دل کی توسط چلتی ہیں – ہاں—صحیح تو کہہ کر گیا تھآ – اس نے کب مانگی تھی اس کی محبت—اسے تو صرف بالاج شاہ چاہئے تھا—اپنی محبت—اپنا محبوب—یہی چاہا تھا کہ وہ اپنی محبت بھول جائے یہ کب مانگا تھا کہ وہ بھی محبت کرے اس سے

“مجھے اپنے شوہر کی محبت چاہیے اللہ—مجھے اس کی آنکھوں میں صرف و صرف اپنا عکس چاہیے—مجھے بالاج شاہ کا محبت و عزت بھرا ساتھ چاہئے”—- آنسوں موتیوں کی مانند آنکھوں سے بہتے جا رہے تھے—سرگوشی نما آواز میں تکلیف کی کرچیاں لیے دعا کرتے سر پیچھے دیوار سے ٹکایا تھا—

اور وہ جو نجانے کیا کیا طہ کر کہ آیا تھا— پتہ نہیں وہ سب کیسے کہہ چکا تھا—وہ اس سب کا تو کبھی ارادہ نہیں رکھتا تھا —آج بالاج شاہ کو اپنا دل خود سے بغاوت کرتا محسوس ہوا تھا— م دل پر تو کسی کا اختیار نہیں ہوتا نا— چاہے وہ پھر بالاج شاہ ہی کیوں نا ہو

تیز رفتار سے گاڑی کو چلاتے وہ اپنے الفاظوں کو یاد کرتا بری طرح تلملا رہا تھا—اسٹیرنگ پر زور سے مکے برساتے بالاج شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ صبغہ شاہ کی زبان سے پہلے اپنی زبان کاٹ پھینکے جو اس آفت کی پڑکالہ کے آگے پتہ نہیں کون کون سی گل افشانیاں کر آئی تھی جنہیں صبغہ شاہ مرتے دم تک نہیں بھولے گی

اگر ان کی شادی شدہ زندگی ہنسی خوشی بسر ہو بھی گئی جو کہ صبغہ شاہ کی فراٹے بھرتی زبان کے ساتھ تو ناممکن ہی تھا مگر پھر بھی)—تو بالاج شاہ کو یقین ہے کہ ہر لڑائی میں وہ انہیں باتوں کا حوالہ پیش کر کہ بالاج شاہ کا منہ بند کرنے کی کوشش کیا کرے گی

ابھی تو شاید وہ صدمے میں ان باتوں پر عمل کرتی بالاج شاہ کی ایک دو دن عزت کر بھی لے مگر اس صدمے سے نکلتے ہی وہ جانتا تھا کہ صبغہ شاہ کیسے اس عزت کی دہی کرے گی—اور اس دہی میں بالاج شاہ کی عزت کی چٹنی بنا کر رائتہ بنا کر ساری زندگی اسے ہی پیش کرے گی

بالاج شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود کے بال نوچ ڈالے

____________

یار چھوٹے خان اب مان بھی جاؤ – ضرغام نے منہ پھلائے بیٹھے ارمغان خان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو ارمغان خان نے شکوہ کناں نظروں سے ضرغام خان کو دیکھا تھا

ایک دن لالا—ایک دن بھی مجھے دلہوں والی فیلنگ نہیں ائی— داجی نے ایک دن بھی اس بات کا احساس نہیں کیا کہ میں ان کا چھوٹا لاڈلہ پوتا ہوں جس کی کچھ دنوں میں شادی ہے—اب اسے کام نہیں کرنے چاہیے—کام نا کرنے دینا تو دور داجی نے تو جیسے سارے کام میرے لیے ہی رکھ چھوڑیں تھے – حویلی سے لے کر ڈیرے تک— زمینوں کے مسئلے سے لے کر پنچائیت تک—ملازمین کی تنخواہوں کے حساب سے لے کر شادی میں ہونے والے حسابات کے سارے کام داجی نے میرے کھاتے میں لکھ دیے تھے کہ تو ارمغان خان ہی کرے گا— قصائی—دھوبی—کسان—ڈرائیور نیز یہ کہ کام والے کی فیلنگ آرہی اگر نہیں آرہی تو دلہے کی فیلنگ نہیں آرہی”—ہاتھ میں تھامے رجسٹر کو میز پر لٹکتے جلے دل کے ساتھ کہا تو ضرغام خان نے بامشکل اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹا

“یار چھوٹے خان—یہ کام کرنے والے کی فیلنگ نہیں – ایک شوہر بننے کی پریکٹس کروائی ہے داجی نے – اتنے دنوں میں لاکھ چاہنے کی باوجود بھی تم داجی کو کسی بات پر انکار کر سکے ہو یہ کہہ کر کہ تم ہونے والے دلہے ہو”—ارمغان خان کے قریب صوفہ پر بیٹھ کر—بایاں بازو ارمغان خان کے کندھے کے گرد لپیٹتے نرم لہجے میں استفسار کیا تو ارمغان خان نے گردن ترچھی کرتے ہیزل ہنی آنکھوں میں معصومیت لیے سر انکار میں ہلایا تھا

“ہاں تو بس—یہ ایک شوہر بننے کی پریکٹس ہے—شادی کے بعد تم لاکھ چاہ کر بھی اپنی بیوی کو انکار نہیں کر سکو گے—یہ کہہ کر تو بالکل نہیں کہ تم اس کے شوہر ہو—کیونکہ جب تم یہ کہوں گے کہ تم شوہر ہو تو وہ تمہیں بیوی بن کے بتائے گی—اور جب بیوی—بیوی بن کر دکھاتی ہے تو ہم جیسے شوہر اکثر کمروں سے کیا حویلی سے بھی باہر پائے جاتے ہیں “—سمجھانے والے انداز میں کہتے چھوٹے خان کی کمر تھپتھپا کر میز پر پڑا رجسٹر اپنی طرف کھسکایا

“تو مطلب لالا—آپ کو اتنے دن سے عقیدت لالی نے حویلی سے نکالا ہوا تھا”—پرسوچ نظریں ضرغام خان کے رجسٹر پر چلتے ہاتھ پر ٹکائے سرگوشی نما لہجے میں اس طرح کہا کہ کوئی اور اس راز کو سن نا لے کہ اس کا لالا اتنے اپنی بیوی کے ہاتھوں گھر سے نکالا گیا تھآ

جبکہ ارمغان خان کی بات پر ضرغام خان کا دماغ بھک سے اڑا تھا – وہ اسے کیا سمجھا رہا تھا اور چھوٹا خان کیا سمجھ رہا تھا—پہلے تو نہیں اگر اب یہ بات ضرغام خان کی بیوی سن لیتی تو یقیناً وہ حویلی کیا گاؤں سے بھی نکال باہر کیا جاتا

لیکن یہاں بیوی نہیں تھی—خود کو سنبھالتے ضرغام خان نے چور نگاہ اردگرد دوڑائی

اب لاڈلے بھائی کی ناراضگی پوری طرح ختم کرنے کا موقع ملا تھا تو وہ کیسے جانے دیتا اسی لیے گلہ کھنکارتے وہ پیچھے کو ہوا تھا

نیلی گہری آنکھوں سے ارمغان خان کے سرخ و سفید چہرے کو دیکھا تھا—

“دیکھو یہ بات صرف ہم دونوں میں رہے گی”— انگلی اٹھائے رازدارانہ لہجے میں کہا تو ارمغان خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تھا

جسے دیکھتے ضرغام خان نے ہنسی ضبط کرتے رجسٹر پر سر جھکایا تھا

حساب دیکھتے ضرغام خان نے خاموشی محسوس کرتے گردن ترچھی کرتے ارمغان خان کو دیکھا تھا جو قالین پر نظریں جمائے ہوئے تھا

“کیا سوچ رہا ہے میرا چھوٹا خان”—

“لالا یار وہ اتنی پیاری ہے نا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ وہ جیسے ہی میری ہو میں اسے چھپا کر رکھ لوں”—

“چھپا کہ بعد میں رکھنا پہلے اپنے جذبات پر قابو رکھے چھوٹے خان”— وہ جو اپنی دھن میں بتا رہا تھا اپنی پشت سے عائث خان کی آواز سنتا حیرت و خوشی کی ملی جلی کیفیت لیے جھٹکے سے اٹھتا پلٹا تھا

“آج تو لگتا ہے میرے دونوں لالا کو مجھ معصوم پر ترس آگیا ہے”— عائث خان کے گلے لگتے شکوہ کناں لہجے میں کہا تو عائث خان نے مسکراتے زور سے چھوٹے کو بھینچا تھا

“ترس نہیں—بس چھوٹے خان سے دور ہی نہیں رہا جاتا—تمہاری یاد کھینچ لائی ہمیں”—ضرغام خان کے گلے لگتے چھوٹے خان کو جواب دیا تو ارمغان خان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا تھا

“ویسے لالا برا مت مانیے گا—ایک بات کہوں”— پرسوچ نظریں عائث خان پر ٹکاتے ہوئے کہا تو عائث خان نے الجھ کر ارمغان خان کو دیکھا جو اس وقت بالکل سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا—

“وہ آپ کو نہیں لگتا کہ یہ دور نہیں رہا جاتا—یا پھر یاد کھینچ لائی—یہ بات آپ بھابھی سے کریں یا یہ محبت بھرا جملہ میری بیوی کے منہ سے میرے لیے زیادہ اچھا لگنا تھا”— ارمغان خان کی بات سمجھنے کی کوشش کرتا عائث خان ضرغام خان کے قہقہے پر بری طرح خجل ہوا تھا—

“ویسے کہہ تو چھوٹا خان ٹھیک ہی رہا ہے—تم اپنے دل کی بات چھوٹے خان کا نام لے کر تو نا بتاؤ یار—اگر تم ویسے بھی بتا دو گے تو کونسا ہم کچھ کہنے والے”— ضرغام خان کے شوخ لہجے پر عائث خان نے گھور کر دونوں کو دیکھا تھا—

“ہاں نا لالا—جیسے ابھی آپ کے آنے سے پہلے ضرغام لالا نے مجھے حویلی سے باہر رہنے کی وجہ بتائی—ویسے ہی آپ مجھے اپنے آنے کی وجہ بتا سکتے ہیں—میں کسی کو نہیں بتاؤں گا”— ارمغان خان نے چہرے پر معصومیت لیے ہیزل ہنی آنکھوں کو پٹپٹاتے ہوئے کہا تو عائث خان نے گھور کر اسے دیکھا تھا جبکہ ضرغام خان نے گڑبڑا کر چہرے کا رخ بدلا تھا—

تم باتیں بعد میں کر لینا کھانا تیار ہوگیا ہوگا – اؤ پہلے کچھ کھا لیں”— اس سے پہلے ارمغان خان کوئی اور بات کرتا ضرغام خان کے سنجیدہ لہجے پر سر اثبات میں ہلایا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *