Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 15)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 15)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
ماضی:-
تم پاگل تو نہیں ہو گئے بادام گُل—نام تمہارا بادام گل ہے اور عقل تمہارے گھٹنوں میں بھی نہیں—اگر شیر خان کو اس بات کی بھنک بھی لگ گئی نا تو قیامت برپا کر دے گا—اور جس دولت کی وجہ سے میں نے شادی کی ہے وہ دولت میرے ہاتھ میں آنے سے پہلے ہی دھکے دے کر حویلی سے کیا گاؤں سے بھی نکال دے گا”—مقدس بیگم نے دانت کچکچا کر اپنے سامنے ڈھیٹوں کی طرح بیٹھے اپنے بھائی کو دیکھ دبے دبے لہجے میں چلا کر کہا تو بادام گل نے کوفت بڑھی نگاہ مقدس بیگم کے تپے تپے چہرے پر ڈالی
“تم سے تو کچھ ہوا نہیں – اپنی بہن کی شادی تک تو اس نے تمہارے کہنے پر بھی مجھ سے نا کروائی—دولت کیا خاک تمہارے نام کرے گا—اور اس دولت کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتا میں—اور مجھے کسی شیر خان کا ڈر نہیں—اور یہ کام میں کسی صورت نہیں چھوڑنے والا”— منہ میں پان ڈالتے زہر خند لہجے میں کہا تو مقدس بیگم نے ایک نظر اپنے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا اور پھر گھور کر اپنے چہیتے اکلوتے بھائی کو
“جوا کھیل رہے تھے نا—وہ کم تھا کیا—جو اب کوٹھے اور لڑکیوں کا دھندا شروع کر دیا ہے—شیر خان تو پہلے ہی تمہارے شراب پینے اور ایسی جگہوں پر جانے کی وجہ سے تمہارا نام تک حویلی میں لینا پسند نہیں کرتا—کجا کہ اب تم خود یہ کام کر رہے ہو—تمہیں تو قتل کرے گا سو کرے گا مجھے بھی زندہ گاڑھ دے گا”— صوفے پر بادام گل کے پاس بیٹھتے—ہاتھ مسلتے پریشان لہجے میں کہا تو بادام گل کے ہونٹوں پر مکروہ مسکراہٹ رینگ گئی
“تمہیں شیر خان چاہئے یا یہ دولت شہرت”— بادام گل کے سنجیدہ لہجے پر مقدس بیگم نے چونک کر اسے دیکھا
“شیر خان کا نام چاہئے تھا وہ بھی صرف اس دولت کے لیے جو کہ میں حاصل کر چکی ہوں—اور اب میرا مقصد اس ساری دولت کو اپنے نام کرنا اور حویلی پر راج کرنا ہے—اس سے پہلے شیر خان اپنے بھائی کی بیوی بیاہ کر لائے—اور مجھے اس مصیبت کو بھی جھیلنا پڑیں—اس سے پہلے پہلے میں اس سب سے چھٹکارہ پانا چاہتی ہوں”— مقدس بیگم کے زہر میں ڈوبے لفظوں پر بادام گل کا مکروہ قہقہہ بے ساختہ تھا
“پھر تھوڑا صبر کر لو—یہ دولت بھی تمہاری ہوگی اور راج بھی تمہارا ہوگا— شیر خان اور حدایت شاہ کا نام اس صفہ ہستی سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا—کیونکہ جو آگ شیر خان نے میری منگ کو اس میجر کے نام کر کہ میرے سینے میں لگائی ہے اسے ٹھنڈا صرف ان دونوں کا خون ہی کر سکے گا—اور اس میں تم میرا ساتھ دو یا نا دو مگر یہ بات یاد رکھو—جلد یا بدیر میں ان دونوں جگری یارو کو موت کے گھاٹ اتارنے والا ہوں—اور ان دونوں خاندانوں میں نفرت کی ایسی آگ لگاؤں گا کہ تا قیامت اس میں جلتے رہیں گے”— بادام گل کے سرسراتے لہجے اور ارادوں کو جان مقدس بیگم پل کے لیے ساکت رہ گئی
مگر آنکھوں کے سامنے دولت کی حوس کی پٹی بندھی ہوئی تھی—اور اس حوس نے ان کے ضمیر کو مار ڈالا تھا
کہ وہ آج اتنی عزت و مان دینے والے شوہر کو مارنے تک کا سوچ بیٹھی تھیں
حضرت علی رضہ کا قول تھا کہ:-
جب آنکھیں نفس کی پسندیدہ چیزیں دیکھنے لگ جائیں
تو دل انجام سے اندھا ہو جاتا ہے
اور مقدس بیگم کا دل بھی انجام سے اندھا ہو چکا تھا—وہ نہیں جانتی تھی جو اعمال وہ آج بو رہی ہیں—ان کے انجام کی فصل کو خود ہی کاٹنا پڑے گا—
رشتوں کی آڑ میں جو کھیل وہ آج کھیلنے جا رہی ہیں اس کے انجام میں بری طرح شکست ان کا انجام ہو گی
______
دیکھو مبین میں نہیں کر سکتا تم سے شادی—تم سمجھنے کی کوشش کرو—میری بیوی ہے ایک بیٹا ہے—میں کیسے انہیں دھوکہ دے سکتا ہوں—تم پڑھی لکھی ہو—تمہارے آگے پوری زندگی پڑی ہے—اپنے جیسے کسی قابل شخص کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھو نا کہ اس طرح مجھے مجرم بناؤ اور نا خود کو برباد کرو”— شیر خان نے سمجھانے والے انداز میں اپنے سامنے بیٹھی مبین بیگم سے کہا ورنہ دل تو ان کا کر رہا تو دو تھپڑ لگا دیں
شیر خان نے کب ان سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا—ہاں وہ پسند کرتے تھے انہیں مگر اپنے والد کے فیصلے کو جاننے کے بعد وہ اس راز کو اپنے سینے میں ہی دفن کر چکے تھے—
اور آج مبین بیگم نے انہیں پیغام بھجوا کر ملنے کے لیے بلوایا تو وہ کوئی ضروری بات سمجھ کر ان سے ملنے چلے آئے
مگر یہاں آکر مبین بیگم نے انہیں شادی کے لیے کہا تو وہ بھونچکا رہ گئے
مقدس بیگم جیسی بھی تھی ان کی بیوی تھی—وہ کیسے دھوکہ دے سکتے تھے اپنے نام سے جڑی عورت کو—ان کا چھوٹا سا بیٹا تھا—جس میں شیر خان کی جان بستی تھی—وہ کیسے بیٹے کے مجرم بن سکتے تھے—
دیکھو شیر مجھے کسی بات سے فرق نہیں پڑتا—اپنے لالا کو منا چکی ہوں میں—انہیں بھی کوئی اعتراض نہیں—تم بس مجھ سے نکاح کر لو—اپنے گھر والوں سے یہ بات چاہے چھپائے رکھنا—میں تمہیں کبھی کسی کو بتانے کے لیے فورس نہیں کروں گی—لیکن مجھے ٹھکراؤ مت—میں تمہارے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی”—صوفے پر بیٹھے شیر خان کے قدموں میں بیٹھتے منت بھرے لہجے میں کہا تو شیر خان نے افسوس بھری نگاہوں سے مبین بیگم کو دیکھتے تاسف سے سر جھٹکا اور مبین بیگم کو کندھوں سے تھام کر کھڑا کرتے—خود فاصلے پر کھڑے ہوگئے
“ہر انسان نے اپنے ہمسفر کے متعلق اپنے ذہن میں ایک خاکہ بنایا ہوتا ہے—وہ ساری زندگی خود کو پسند آنے والی چیزوں کو اس خاکے میں فٹ کرتا رہتا ہے—اور سوچتا رہتا ہے کہ اس کا ہمسفر ان خوبیوں یا صلاحیتوں کا حامل ہوگا—وہ بالکل میری خوابوں جیسے ہوگا—تمہیں دیکھا تو تم میرے اس خاکے میں پوری اترتی تھی مبین—مگر خدا گواہ ہے میں نے کبھی نہیں چاہا تھا میری وجہ سے تمہاری عزت پر حرف بھی آئے—میں یہ بات تمہیں کبھی بتانا بھی نہیں چاہتا تھا میں بابا سے ڈائیریکٹ بات کرنا چاہتا تھا—مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا—مگر اب جو تم یہ بلاوجہ کی ضد کر رہی ہو میں اسے کسی صورت پورا نہیں کر سکتا— کل کو تمہیں اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہو—اس سے بہتر ہے تم ابھی سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر کہ پیچھے ہٹ جاؤ”—سخت لہجے میں کہتے ایک نظر مبین بیگم کے آنسوؤں سے تر چہرے پر ڈالتے سختی سے جبڑے بھنچے—لمبے میں ڈنگ بھرتے مبین بیگم کے ڈرائنگ روم سے نکلتے چلے گئے
جبکہ وہ وہ زارو زار روتی وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئیں
________
حال:-
“نن—نہیں امتثال دروازا کھولو”—امتثال کے اچانک دھکا دینے اور دروازا بند کرنے پر پلوشہ پل کے لیے بھونچکا رہ گئی
جلدی سے آگے بڑھ کر دروازا کھولنا چاہا مگر دروازے کو نا کھلتا دیکھ آنکھیں پل میں نم ہوئی
مگر اچانک سے دماغ میں جھماکا سا ہوا جب ناک کے نتھنوں سے بھینی بھینی گلاب کے پھولوں کی خوشبو ٹکرائی— آنکھوں کی پتلیاں حیرت کی زیادتی سے پھیل گئی
نظریں ایک بار پھر سے بند دروازے پر گئیں تو پلوشہ کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں
دروازے پر بنے گلاب کے پھولوں کے ہارٹ میں لکھے اے اور ایچ ایلفابیٹ کو دیکھ گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی
نظریں بند دروازے سے ہوتی نیچے زمین پر آئی تو اپنے قدموں تلے گلاب کی پتیوں کو دیکھ ایسا محسوس ہوا جیسے گلاب کی پتیوں سے قالین بچھا دیا گیا ہو
کمرے میں اے اسی اون ہونے کے باوجود پل میں پلوشہ کا وجود پسینے سے تر ہوگیا
ہتھیلیوں کو بری طرح آپس میں مسلتے ایک بار پھر دروازا کھولنے کی کوشش کی—مگر دروازے کو نا کھلتا دیکھ بے بسی سے کئی باغی آنسوں پلکوں کی باڑ توڑ کر رخسار پر بہہ نکلے
وہ کس قدر تڑپی تھی حدائق شاہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے—کتنا چاہا تھا اس شخص کو—مگر اب جو وہ زندگی میں آگیا ہے—جسم و روح کا مالک بن چکا ہے تو اب پلوشہ خان میں اتنی ہمت نا تھی کہ وہ اس شخص کو نظر اٹھا کر دیکھ بھی لیتی
بری طرح لب کچلتے بے بسی سے بند دروازے کو دیکھتے—دروازے کے ساتھ لگتے خود کو اس بند دروازے میں گم کر کہ اپنی پشت پر محسوس ہوتی سلگتی نظروں کی تپش سے بچنا چاہا
“میری بیوی مجھے منانے کے لیے مجھ سے ملنے آنے والی تھی—اور تمہیں لگتا ہے کہ حدائق شاہ اس بات سے بے خبر ہو سکتا ہے”— اپنی پشت سے آتی گھمبیر لہجے میں کی گئی سرگوشی اور اپنی گردن پر سلگتی سانسوں کی تپش محسوس کر کہ پلوشہ کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی
ابھی پلوشہ کچھ سمجھتی کہ اپنی کمر پر رینگتی انگلیوں کے لمس پر دھک سے رہ گئی— سٹپٹا کر ابھی وہ دور ہوتی کہ مضبوط مردانہ بازو کمر سے ہوتا پیٹ پر سختی سے لپٹ گیا اور ایک ہی جھٹکے میں پلوشہ کا رخ اپنی جانب کیا
تو اس اچانک افتاد پر پلوشہ کی چیخ بے ساختہ تھی
خود کو گرنے سے بچانے کے لیے اپنی کمر کے گرد لپٹے دونوں ہاتھوں کو سختی سے نیچا
گہرے نیلے رنگ کی پٹھانی فراک پہنے—جس کے گلے اور دامن پر رنگ برنگے پھول بنے ہوئے تھے— آنکھوں کو سختی سے میچیں—گلابی بھرے بھرے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبائے—چھوٹی سی ناک اور بھرے بھرے رخسار رونے کے باعث سرخ انار ہو رہے تھے— پٹھانی نقوش میں گھلی معصومیت—چہرے کا احاطہ کیے چند آوارہ لٹے—پلوشہ خان کے معصوم حسن کو چار چاند لگا رہی تھی—
جبکہ سر پر ہم رنگ دوپٹہ لیے—اور کندھوں پر میرون رنگ کی چادر لیے—وہ بری طرح حدائق شاہ کے دل کے تار چھیر چکی تھی
“مائے شائنگ سٹار”— پلوشہ خان کے چہرے کے گرد جھولتی آوارہ لٹوں کو اپنی انگلی کے گرد لپیٹتے کان کے پیچھے اڑستے بوجھل لہجے میں کہا
تو حدائق شاہ کے گھمبیر لہجے اور سانسوں کی خوشبو پلوشہ کو اپنے حواسوں پر چھاتی محسوس ہوئی
خشک پڑتے حلق کو تر کرتے پلکوں کی جھالر اٹھا کر سامنے دیکھا
تو دو نیلی آنکھوں کے زور دار تصادم پر پلوشہ کو ساری دنیا رکتی محسوس ہوئی
ایسا لگا جیسے سمندر میں جذبات کو طوفان اٹھ آیا ہو—اپنا آپ حدائق شاہ کی نیلی آنکھوں میں ڈوبتا محسوس ہوا
وہ تو پہلے ہی اس شخص کی محبت میں پور پور ڈوبی ہوئی تھی—اور آج یوں اسے اپنے اس قدر حق سے قریب محسوس کر کہ پلوشہ کو اپنا آپ اس جان لیوا لمس سے پگھلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا—
وائٹ شرٹ کے ساتھ جینز کی پینٹ پہنے—شرٹ کی آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے—سیاہ گھنے سلکی بال بے ترتیبی سے کشادہ پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے—نیلی سمندر سی گہری آنکھوں میں جذبات کی آنچ لیے نظریں پلوشہ خان کے چہرے پر ٹکائے—مغرور تیکھی ناک کو پلوشہ کی پھولے گلابی گال پر رب کرتے— شدت بھرا لمس پلوشہ خان کے دائیں گال پر ثبت کیا
حدائق شاہ کی دہکتی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرتے پلوشہ کو اپنے حواس گم ہوتے محسوس ہوئے—رہی سہی کسر حدائق شاہ کے شدت بھرے لمس اور مونچھوں کی چھبن نے پوری کر دی
وہ نازک جان اتنی سی قربت پر ہی تھر تھر کانپتی—ہوش و حواس کھوتی حدائق شاہ کی مضبوط بانہوں کے حصار میں جھول گئی
جس پر حدائق شاہ نے سٹپٹا کر پلوشہ کو مضبوطی سے اپنے سینے میں بھینچا—ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دباتے—خمار الود نظروں سے اپنے حصار میں مومی وجود کو دیکھا
نرمی سے پلوشہ کو بازوؤں میں بھرتے پلٹ کر قدم صوفے کی جانب بڑھائے
پلوشہ کو نرمی سے صوفے پر لٹاتے ایک نظر اردگرد دوڑائی
ٹیبل صوفے اور چئیر تک گو کہ آفس میں موجود ہر چیز کو پھولوں کی پتیوں سے ڈھک دیا گیا تھا—جبکہ صوفے کے سامنے موجود ٹیبل پر پھولوں کے درمیان خوبصورت مختلف ڈیزائنز کی رنگ برنگی کینڈلز کو رکھا ہوا تھا—
کمرے میں چھائی معنی خیز خاموشی اور حواسوں پر چھاتی گلاب کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو کو سانسوں میں اتارتے حدائق شاہ نے استحاق بھری گہری نگاہ پلوشہ کے دلکش سراپے پر ڈالی
قدم رولنگ چئیر کے سامنے موجود ٹیبل پر پڑے پانی کے جگ کی جانب بڑھائے
“حدائق شاہ جانتا تھا کہ اس کی محبت معصوم ہے—مگر اس قدر نازک ہوگی کہ میری اتنی سی قربت کو برداشت نہیں کر پائے گی اس بات کا اندازہ نہیں تھا—یہ تو میری محبت تھی شائنگ سٹار—اگر جو حرکت تم نے کی اس کی سزا تمہیں دیتا تو کیسے برداشت کر پاتی تم”— پلوشہ کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر اسے ہوش میں لانے کا ارادہ ترک کرتے اپنے دونوں ہاتھ پلوشہ کے اردگرد ٹکاتے—پلوشہ خان کے چہرے پر جھکتے سرگوشی نما لہجے میں کہتے ہاتھ بڑھا کر پلوشہ کے گرد لپٹی چادر کو اتار کر ٹیبل پر رکھا
پلوشہ کے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر سر اوپر کرتے—دوپٹہ سر سے اتارا تو اس قدر نزدیکی پر حدائق شاہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی
پلوشہ کی مدھم چلتی سانسوں کی تپش اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے حدائق شاہ کو اپنے گلے میں کانٹے سے چبھتے محسوس ہوئے
اپنے بے لگام ہوتے جذبات پر بامشکل بندھ باندھتے دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھ کر پلوشہ کو دیکھا تو پلوشہ خان کا دلکش سراپہ دیکھ حدائق شاہ کی آنکھوں میں پل میں جذبات کی سرخی اتری—
بے خود ہوتے پلوشہ کے ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھائے – حدائق شاہ پلوشہ کے خوبصورت چہرے پر جھک آیا
جابجا شدت بھرا لمس چھوڑتے وہ پلوشہ خان کے لمس کو اپنی روح تک محسوس کرنے لگا
انگلیوں سے ہاتھ سرکتا سر کے بالوں میں الجھایا جبکہ دوسرے بازو کو پلوشہ کی کمر کے گرد لپیٹتے اسے خود میں بھنچا
“شاہ کی جان—ابھی تو اتنے سالوں کے ہجر کا جواب دینا ہے—یہ جو آنکھوں میں سمندر لیے پھر رہی ہو نا اس سے اپنے اس دیوانے کی تشنگی کو مٹانا ہے—جو کہ شاید عمر بھی نا مٹے—بہت غلط کیا یہاں آکر یہ جو تمہارے وجود کی حواسوں پر چھا جانے والی خوشبو ہے نا یہ مجھے بری طرح بہکا رہی ہے— تمہارا یہ موم سا نازک لمس مجھے تمہاری روح میں اترنے پر اکسا رہا ہے— تمہاری ان مدھم سانسوں اور بے ترتیب ہوئی دھڑکنوں کا شور مجھے دنیا سے بے خبر کر کہ تمہاری ذات میں گم ہو کر سارے فاصلوں کو سمٹنے پر مجبور کر رہا ہے—میں تو پہلے ہی بگڑا ہوا– تم پر دیوانوں کی طرح عاشق بندہ ہوں—اور اوپر سے تمہارا یہ ہوش ربا سراپا میری نیت بری طرح بگاڑ رہا ہے”— پلوشہ کی گردن میں چہرہ چھپائے گھمبیر لہجے میں سرگوشی کرتے—گہری سانس بھرتے پلوشہ کے وجود سے اٹھتی محسور کن خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتارا
چہرہ اٹھا کر خمار آلود نظروں سے پلوشہ خان کی بند آنکھوں کو دیکھا
نظریں آنکھوں سے سرکتی گلابی بھرے بھرے ہونٹوں پر آئی تو حدائق شاہ نے ہاتھ بڑھا کر انگھوٹھے سے پلوشہ کے نچلے ہونٹ کو نرمی سے رب کیا
مخمور نظروں سے پلوشہ کے نیم واہ ظکو دیکھتے—بے خود ہوتے انہیں اپنی شدت بھری گرفت میں لیا
پلوشہ خان کی مدھم چلتی سانسوں میں اپنی دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں کو شامل کرتے—قطرہ قطرہ پوری شدت سے حدائق شاہ پلوشہ خان کی سانسوں کو خود میں اتارنے لگا
کمرے کی معنی خیز خاموشی میں حدائق شاہ کی تیز چلتی سانسوں کا شور برپا تھا
بھولوں کی بھینی بھینی خوشبو ماحول کو فسوں خیز بناتی حدائق شاہ کو پلوشہ کہ لمس میں گم کرتی چلی گئی
پلوشہ کے وجود میں حرکت محسوس کر کہ حدائق شاہ لمحے کے لیے پیچھے ہوا—اپنی شدتوں سے خون چھلکاتے نم ہونٹوں کو دیکھ ہاتھ بڑھا کر پلوشہ کے نچلے ہونٹ کو نرمی سے چھوتے جھک کر ہونٹوں کی نمی کو چنتے جھٹکے سے پیچھے ہوا
گھنے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے پلوشہ کو ہوش میں آتے دیکھ جھٹکے سے وہاں سے اٹھ کر رولنگ چئیر پر جا کر بیٹھ گیا
پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگاتے اپنے خشک پڑتے گلے کو تر کرنے کی کوشش کی جبکہ نظریں ہنوز پلوشہ خان کے سراپے میں الجھی ہوئی تھیں
_________
اپنے ہونٹوں پر سلگتا ہوا لمس اور بند ہوتی سانسوں کو محسوس کر کہ پلوشہ کو اپنے پاؤں سے جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی—
ہوش میں آتے چند لمحے ناسمجھی سے وہ چت لیٹی سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
دیہان کے پردے میں کچھ دیر پہلے کے مناظر لہرائے تو پلوشہ خان جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی
نظریں سامنے مغرور انداز میں بیٹھے حدائق شاہ پر گئیں تو پل میں آنکھوں میں نمی اتری
لمحے میں نظروں کا زاویہ بدل کر وہاں سے اٹھنا چاہا تو نظریں ٹیبل پر پڑی اپنی چادر اور دوپٹے پر گئیں تو پلوشہ خان کی آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے سکڑ گئی
ہونکوں کی طرح منہ کھولے گردن موڑ کر حدائق شاہ کو دیکھا جو سنجیدہ نظروں سے پلوشہ کی جانب ہی دیکھ رہا تھا
حدائق شاہ کی وجود میں گڑھتی نظروں کو محسوس کر کہ پلوشہ کو شرم سے اپنا آپ زمین میں بڑھتا محسوس ہوا
جھک جھٹکے سے دوپٹہ اٹھا کر سر پر لیا اور چادر کندھوں پر پھیلاتے قدم دروازے کی جانب بڑھائے
“تم بہت کچھ میری مرضی کے بغیر کر چکی ہو— مگر اب تمہاری مرضی کیا تمہاری سانسوں تک حدائق شاہ کی مرضی چلے گی—یہ دروازا نہیں کھلے گا—اسی لیے اپنی نازک جان کو زحمت نا دو—اور یہاں آؤ میرے پاس”—پلوشہ کو دروازا کھولنے کی تگ ودو کرتے دیکھ سرد لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے سہمی نظروں سے رخ بدل کر حدائق شاہ کے سپاٹ چہرے کو دیکھا
“مم—مجھے گھر جانا ہے”—ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں مدھم لہجے میں کہا آواز اتنی مدھم تھی کہ پلوشہ خود بھی بامشکل سن سکی
اگر حدائق شاہ کا سارا دیہان پلوشہ کے چہرے کے اتراؤ چڑھاؤ پر نا ہوتا تو وہ کبھی بھی اس بات کو سن نا پاتا—مگر پلوشہ کے ہونٹوں کی جنبش سے ہی وہ اس کے الفاظوں کو بنا سنے سمجھ چکا تھا—
“سمجھ نہیں آرہی—کیا بکواس کر رہا ہوں میں—ایک سیکنڈ میں ادھر آو—ورنہ وہی زمین میں گاڑھ دوں گا—پھر گھر جانے کا شوق پورا کر لینا”— دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو حدائق شاہ کی دھاڑ پر پلوشہ اچھل کر بند دروازے سے لگی
آنسوغ پلکوں کی باڑ توڑ کر روانی سے رخساروں پر بہنے لگے—کپکپاتے وجود کو دروازے سے لگائے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
وہ کیوں اس طرح کا سلوک کر رہا تھا—جبکہ ہوش کھونے سے پہلے وہ کس قدر مہربان ہو رہا تھا—وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر ہوش سے بیگانہ ہونے کے باوجود اسے اپنے چہرے پر حدائق شاہ کے ہونٹوں کا نرم گرم لمس محسوس ہوتا رہا تھا
جسے وہ جھٹلا رہی تھی—مگر اب حدائق شاہ کے تیور دیکھ وہ اسے سچ میں اپنا وہم لگ رہا تھا
حدائق شاہ کی سرد نظریں محسوس کر کہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی—پھولوں کی پتیوں کو اپنے پاؤں تلے روندتی—حدائق شاہ کے سامنے جا کر سر جھکائے کھڑی ہو گئی
“سننے میں آیا ہے کہ میری منکوحہ کسی سے اظہار محبت کرتی اپنے بھائی کو اس سے شادی کے لیے مناتی رہی ہے—جبکہ حدائق شاہ سے نفرت کا اظہار کیا گیا تھا”—پلوشہ کی کلائی کو اپنی سخت گرفت میں لیتے سرد لہجے میں کہا تو پلوشہ نے جھٹکے سے سر اٹھاتے بے ساختہ نفی میں سر ہلایا
“نن—نہیں تو مم—میں نن—نہیں کیا قق—سم سے”—نم سرخ آنکھوں سے حدائق شاہ کی جانب دیکھتے لہجے میں معصومیت لیے کہا تو حدائق شاہ نے طنزیہ نظروں سے پلوشہ کو گھورا تو بچاری نے سٹپٹا کر سر جھکا لیا
“تمہیں اندازہ بھی ہے کہ کتنے دن تم کسی اور شخص کے نام سے منسوب رہی ہو—اور یہ بات کس قدر تکلیف دیتی رہی ہے مجھے—مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی تیز دھار آلے سے میرا سینہ چھلنی کر رہا ہو—اور تم کہہ رہی ہو یہ جھوٹ ہے—اگر یہ جھوٹ بھی تھا پلوشہ حدائق شاہ تب بھی تم میری روح کی مجرم ہو جیسے تمہارے اس جھوٹ نے تار تار کیا ہے”—پلوشہ کی کلائی کو جھٹکا دیتے گھٹنوں کے بل بٹھاتے—پلوشہ کی تھوڑی کو اپنی سخت گرفت میں لیتے سرد و سپاٹ لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے بھیگی نم پلکوں کی جھالر اٹھا کر التجائیہ نظروں سے حدائق شاہ کو دیکھا جو اس وقت ظالم بنا پلوشہ خان کی نازک جان نکالنے کے در پر تھا
“مجھ سے نفرت ہے تمہیں—میرا ساتھ تمہیں تکلیف دیتا ہے پلوشہ خان”—حدائق شاہ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی یہ سوال نا کر پایا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے—وہ جانتا تھا کہ وہ بات پلوشہ نے بیوقوفی میں کہی تھی مگر اب وہ غصے میں اپنی بیوی کو اس کی نظروں میں نہیں گراسکتا تھا – نا ہی وہ خود میں یہ حوصلہ رکھتا تھا کہ وہ پلوشہ خان کا نام کسی اور کے ساتھ غصے میں بھی جوڑ سکے
وہ ناراض تھا اس بات پر شدید غصہ بھی تھا—اسی لیے وہ نکاح کے بعد کہنے کے باوجود بھی پلوشہ سے ملنے نہیں گیا
وہ جانتا تھا کہ وہ اس بات کا غصہ پلوشہ خان پر نکالنے سے خود کو روک نہیں پائے گا—وہ اپنے بھائیوں کی لاڈلی نازوں میں پلی بڑھی معصوم شہزادی تھی—تو حدائق شاہ کا عشق بھی تو تھی—وہ چاہ کر بھی اسے تکلیف نہیں دے سکتا تھا—اتنے دنوں سے وہ اپنے غصے پر قابو پانے کی ہی کوشش کر رہا تھا— مگر خود پر لاکھ ضبط کرنے کے باوجود بھی وہ اپنی ناراضگی کا اظہار کر چکا تھا—
وہ پلوشہ کو بتانا چاہتا تھا کہ اس کا عمل حدائق شاہ کے لیے کس قدر جان لیوا تھا—
“نن—نہیں شاہ ہہ-ہمیں آپ سے نفرت نن—نہیں ہے”—تڑپ کر حدائق شاہ کے ہاتھوں کو تھامتے روتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا تو حدائق شاہ نے سختی سے جبڑے بھنچ کر سرخ انگارا ہوتی آنکھوں سے پلوشہ خان کو دیکھا—
“تو پھر کسی اور کے بارے میں سوچا بھی کیسے”—پلوشہ خان کے بالوں کو اپنی مٹھی میں دبوچتے جھک کر چہرہ پلوشہ کے چہرے کے قریب کرتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو حدائق شاہ کے چلانے پر پلوشہ نے بے ساختہ سانس روک کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے حدائق شاہ کی خون چھلکاتی آنکھوں میں دیکھا
پلوشہ کی ہرنی کی مانند سہمی نم آنکھیں حدائق شاہ کے دل میں ہلچل مچا چکی تھیں
“شاہ آپ کے لیے ماں جی نے کہا تھا کہ لالا آپ کو مار دیں گے—خدا گواہ ہے میں نے آپ کے علاوہ کسی کو نہیں سوچا—پلوشہ خان آپ سے خیانت کرنے سے پہلے اپنی سانسوں سے دغا نا کر جائے—زندگی کو دھوکہ دے کر موت کو گلے لگا سکتی ہوں—مگر حدائق شاہ کو دھوکہ دے کر کسی اور کی نہیں ہو سکتی”—ہمت کرتے حدائق شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے مضبوط لہجے میں کہا تو پلوشہ خان کے مان بھرے الفاظوں سے حدائق شاہ کو سرشاری کی لہر اپنے رگ و پے میں دوڑتی محسوس ہوئی
“میری بات کان کھول کر سن لو پلوشہ خان—خدا جب تک نا چاہے حدائق شاہ کو کوئی دشمن موت نہیں دے سکتا—اور تمہارا بھائی تو بالکل نہیں—کیونکہ وہ میری جان کی حفاظت تو کرسکتا ہے مگر مجھے مارنے کی سازش نہیں کرسکتا—اسی لیے اپنے بھائی کے لیے ایسا دوبارہ کبھی سوچنا بھی مت—
پلوشہ خان کا حدائق شاہ کا ہونا ہی حدائق شاہ کے لیے زندہ رہنے کی وجہ ہے—میرے زندہ رہنے کے لیے صرف میری بن کر رہنا پلوشہ خان—مگر جو تم کر چکی ہو اس کے لیے فلحال میں تمہیں معاف نہیں کر سکتا—پہلے جا کر اپنے بھائی سے معافی مانگو—جس کی اتنی محبت کے باوجود تم اس پر شک کر چکی ہو— اور پھر رخصتی تک مجھے منانے کے بارے میں سوچو—اگر تم مجھے نا منا سکی تو تمہاری اس نازک جان کی خیر نہیں”— دایاں ہاتھ پلوشہ کے چہرے اور گردن کے درمیان رکھتے—انگھوٹھے سے پلوشہ کی شہہ رگ سہلاتے سپاٹ لہجے میں کہا تو پلوشہ خان نے بری طرح اپنے لب کچلتے حدائق شاہ کے سپاٹ چہرے کو دیکھا
“لالا مجھ سے ناراض نہیں ہوتے—اور مجھے منانا بھی نہیں آتا”—انگلیاں چٹخاتے مدھم لہجے میں کہا تو حدائق شاہ نے آبرو آچکا کر پلوشہ کو دیکھا
“تو میں کیا کر سکتا ہوں”—
“تو آپ بھی ناراض نا ہو”—حدائق شاہ کے سرد لہجے پر سٹپٹا کر ایک ہی سانس میں کہا تو حدائق شاہ نے کینہ توز نظروں سے پلوشہ کو گھورا
“ٹھیک ہے سوچتے ہیں اس بارے میں مگر اس سے پہلے مجھے شاہ کہہ کر پکارو جیسے پہلے پکار رہی تھی”— انگلیوں کے پوروں سے پلوشہ کے چہرے کے نقوش کو چھوتے سنجیدہ لہجے میں کہا تو حدائق شاہ کی انگلیوں کے جان لیوا لمس پر پلوشہ نے خشک پڑتے حلق کو تر کرتے حدائق شاہ کی نیلی آنکھوں میں جھانکا
“پھر آپ ہمیں معاف کر دیں گے”—نظریں جھکائے نرم لہجے میں سوال کیا تو حدائق شاہ نے گھور کر پلوشہ کو دیکھا
“وہ بعد میں سوچیں گے پہلے جو کہا ہے وہ کرو—ورنہ آج پھر اپنی رخصتی ہی سمجھو—کمرہ تو پہلے ہی سجا ہوا ہے—اور تمہیں پھر میں خود سجا لوں گا—تو خیال ہے—شاہ پکارنا ہے یا میں تمہیں اپنی پسند سے سجانا شروع کروں”—پلوشہ کی کمر میں بازو لپیٹ کر جھٹکے سے اٹھا کر اپنے تھائی پر بٹھاتے—سپاٹ لہجے میں کہا
پلوشہ جو اس اچانک افتاد پر ابھی سنبھلی بھی نا تھی کہ حدائق شاہ کی بات پر بھونچکا رہ گئی
“نن—نہیں میں پکارتی ہوں”
“تو پکاروں—کیا عزرائیل کے آنے کا انتظار کر رہی ہو—اگر کر بھی رہی ہو تو دماغ میں بٹھا لو اپنی خواہش پوری کیے بغیر تمہیں جانے نہیں دوں گا”—پلوشہ کے کان کی لو کو دانتوں تلے دباتے سرد لہجے میں کہا تو بچاری نے روہانسی نظروں سے حدائق شاہ کو دیکھا
“شاہ”—نظریں جھکائے مدھم لہجے میں کہا تو حدائق شاہ کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی
“اوو شاہ کی شائنگ سٹار”— سرگوشی سے بھی کم آواز میں جواب دیتے—جس پر پلوشہ نے نا سمجھی سے حدائق شاہ کی جانب دیکھا مگر اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی حدائق شاہ پلوشہ کی گردن کے گرد بازو لپیٹتے—پلوشہ کا چہرہ خود پر جھکاتا پلوشہ کے ہونٹوں کو اپنی نرم گرفت میں لے چکا تھا
فسوں خیز لمحوں کا دورانیہ بھرنے لگا تو پلوشہ خان کی بکھرتی سانسوں کو محسوس کرتے حدائق شاہ نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا
جبکہ پلوشہ گہرے سانس لیتی سر حدائق شاہ کے کندھے سے ٹکا چکی تھی—
“رخصتی تک حویلی سے قدم باہر رکھنے کی کوشش بھی مت کرنا—ورنہ جہاں جاؤں گی وہاں سے ڈائیریکٹ بیڈروم میں لے کر جاؤں گا—اسی لیے ٹک کر حویلی میں بیٹھو—اگر رخصتی کی زیادہ جلدی ہے تو چاہو کل ہی حویلی سے باہر آجانا—تمہارے بھائی کو منانا میرا کام ہے—اور اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ میں راضی ہو گیا ہوں تو یہ غلط فہمی بھی دور کر کہ جاؤ—کیونکہ یہ تو میں نے اپنا حق وصول کیا ہے—پھر چاہے تم اس کے لیے راضی ہوتی یا نا”—پلوشہ کو بازو سے تھامتے کھڑے ہوتے سنجیدہ لہجے میں کہا اور ایک گہری استحاق بھری نظر پلوشہ کے ہونکوں کی طرح کھلے منہ پر ڈالتے سر جھٹکتے قدم دروازے کی جانب بڑھائے
“تمہاری کزن باہر ہی کھڑی ہے—اب سیدھا اس کے ساتھ گھر جانا—راستے میں کہی رکنے کی ضرورت نہیں ہے—ورنہ ٹانگیں توڑ دوں گا—اور اپنی کزن کو بھی کہہ دینا کہ نیکسٹ ٹائم اکیلے کہی نا جائے—میرا بھائی دکھنے میں ہی نرم ہے—اسے جلاد بننے میں ٹائم نہیں لگے گا”—حدائق شاہ کی باتوں پر پلوشہ نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا اس سے پہلے وہ کوئی سوال کرتی حدائق شاہ نے نرمی سے پلوشہ کے ماتھے کو چھوتے درواغ کھول کر اسے باہر جانے کا اشارہ کیا
جس پر پلوشہ نے ایک خفا نظر حدائق شاہ کے چہرے پر ڈالتے باہر نکلتے دھاڑ سے دروازا بند کیا
پلوشہ کی اس حرکت پر حدائق شاہ کے ہونٹوں پر تبسم بکھر گیا—
سر جھٹکتے ایک نظر آفس کے چاروں اطراف میں ڈالی جو کہ آفس کم پھولوں کی دکان ہی لگ رہا تھا
گہری سانس بھرتے قدم صوفے کی جانب بڑھائے
__________
ایک سال پہلے ارمان شاہ کا رشتہ سلویٰ کے لیے آیا تھا—
جس کے بارے میں بہرام شاہ نے گھر میں بات کی تھی—اور بتایا تھا کہ وہ انکار کر چکا ہے—کیونکہ وہ ابھی سلویٰ کی شادی نہیں کرنا چاہتا
اس دن غصے میں وہ ارمغان خان کے سامنے ارمان کا نام تو لے چکی تھی—مگر یہ بات جان کر اسے حیرت ہوئی کہ وہ پاگل شخص سچ میں ارمان کے بارے میں معلومات نکلوا رہا ہے—
اور جب ارمغان خان کو یہ بات پتہ چلی کہ بہرام شاہ اس رشتے سے انکار کر چکا ہے تب سے وہ کافی پرسکون تھا
اور سلوی کو ارمغان خان کا یہی سکون بری طرح کھل رہا تھا
اسی لیے وہ بہرام شاہ سے ارمان سے ایک بار ملنے کی بات کر چکی تھی—
سلویٰ کے اجازت مانگنے پر پہلے تو بہرام نے حیرت سے اسے دیکھا—مگر پھر کچھ سوچ کر اسے اجازت دے دی
اور اس وقت گاؤں سے باہر شہر کے قریب موجود کیفے میں ارمان کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی
پیازی رنگ کی فراک کے ساتھ چوری دار پاجامہ پہنے—کندھوں پر ہم رنگ دوپٹہ اوڑھے— ہونٹوں پر لائٹ پنک لپ گلوز لگائے—گرے آنکھوں میں کاجل کی لکیر کھینچیں—براؤن بالوں کو فرنچ چٹیا میں قید کیے—چند لٹوں کو ہلکے سے کرل کیے چہرے کے اطراف میں کھلا چھوڑا ہوا تھا— اپنے جان لیوا ایمان ڈگمگا دینے والے حسن سے بے نیاز چہرے پر کوفت سجائے—کیفے میں نظریں گھومنے میں مصروف تھی
جبکہ سامنے بیٹھا ارمان شاہ سلوی شاہ کے کچھ بولنے کہ انتظار میں ٹکٹکی باندھے اسے نہارنے میں مصروف تھا—
“بہرام شاہ انکار کر چکا تھا تو ہمیں امید نہیں تھی کہ دوبارہ سے رشتے کی بات چل نکلے گی—اور آپ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہو جائے گا”—سلویٰ شاہ کی مسلسل چپ کو دیکھ ارمان شاہ نے مسکراتے ہوئے بات کا آغاز کیا تو سلویٰ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا
وہ جو کب سے ارمغان خان کے آنے کا انتظار کر رہی تھی ارمان شاہ کی بات پر کوفت ذدہ نظروں سے اسے دیکھا
مگر ارمان کے پیچھے گلاس ڈور کو دھکیلتے اپنی سحر انگیز شخصیت لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا—اور مغرورانہ چال چلتا ارمغان خان— سلوی شاہ کی جانب ہی آرہا تھا
ارمغان خان کی شہد رنگ آنکھوں میں آگ کے شعلے بھڑکتے دیکھ سلویٰ شاہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ رینگ گئی
جبکہ کیفے میں بیٹھی لڑکیوں کو ارمغان خان کو گھورتے دیکھا غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی
“بس پھر قسمت اسی کا نام ہے—جو ہم سوچتے بھی نہیں وہی ہو جاتا ہے اور پھر ہمیں اسے قبول کرنا ہی پڑتا ہے”—ٹیبل کی سطح پر اپنی کہنیاں ٹکاتے— جان لیوا انداز میں کہا تو ارمان شاہ تو سلوی شاہ کے اس انداز پر قربان ہوتا ٹیک ہٹا کر آگے ہوا
اسے سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا کہ ارمغان خان کرسی کو سلوی شاہ کے قریب کرتا وہاں بیٹھ چکا تھا
“قسمت کی بات ہو رہی ہے تو میری بھی خوش قسمتی ہے کہ آپ جیسے شخص سے ملاقات کا شرف حاصل ہؤا—اور مجھے امید ہے کہ میری آمد آپ لوگوں کو کافی ناگوار گزری ہوگی مگر قسمت کی ستم ظریفیوں کی طرح میری آمد کو دل سے قبول کرنا آپ لوگوں کی مجبوری ہے—ورنہ ارمغان خان کے نام سے کون نہیں واقف—اور ارمغان خان کو انکار کرنے یا اس کے مقابل آنے والوں کے انجام سے مجھے امید ہے کہ آپ بھی بخوبی واقف ہوگے”— ٹانگ پر ٹانگ رکھے—سرد آگ برساتی آنکھوں سے ارمان کو دیکھتے سپاٹ لہجے میں کہا تو ارمان شاہ نے سٹپٹا کر ارمغان خان کو دیکھا اور پھر سلوی شاہ کو دیکھا
“سیکنڈ سے پہلے اپنی نظریں اس سے ہٹاؤ—اب اگر غلطی سے بھی تمہاری نظر اس پر گئی تو یقین مانو—یہی زندہ زمین میں گاڑھ دوں گا”—ارمان کو سلوی کی جانب دیکھتے دیکھ دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو اس نے ہڑبڑا کر پل میں نظروں کا زاویہ بدلا
“ارمغان”—سلوی شاہ نے دانت پیستے دبے دبے لہجے میں سرزنش کی تو ارمغان خان نے کھا جانے والی نظروں سے سلوی کو دیکھا
“جانِ ارمغان تم یہی بیٹھو—میں ذرا تمہارے امیدوار کی امید کی ساتھ ہڈیاں توڑ کر پانچ منٹ میں واپس آتا ہوں—پھر تمہیں اپنے ہاتھوں سے بریانی بھی تو کھلانی ہے نا”— سلوی شاہ کی جانب جھکتے سرد لہجے میں ایک ایک لفظ چبا کر کہا تو سلوی کو اپنے ارگرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی
وہ تو بس ارمغان خان کو جیلس فیل کروانا چاہتی تھی—اسے وہی تکلیف دینا چاہتی تھی جو اس نے محسوس کی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ سر پھرا چھوٹا خان اس تکلیف کے بدلے دوسرے بندے کی ہڈیوں کا سرمہ بنا دے گا—
اپنے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے گھبرائی نظروں سے ارمغان خان کو دیکھا جو ارمان کو بازو سے تھام کر باہر لے جا رہا تھا—
جبکہ وہ بچارا گردن موڑ کر رحم کی اپیل کے لیے سلوی کو دیکھ بھی نہیں سکتا تھا—
__________
سلویٰ شاہ تیز تیز قدموں سے چلتی باہر آئی تو نظریں سامنے ارمغان خان کی جیپ اور اس کے آگے پیچھے اس کے گارڈز کو ان کی گاڑیوں کے آگے اسلحے سے لیس دیکھ خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کرتے اردگرد ارمغان خان کی تلاش میں نگاہ دوڑائی
“میڈم سر اس طرف گئے ہیں” سلوی کو سڑک کی جانب بڑھتے دیکھ گارڈ نے آگے بڑھتے نظریں جھکائے کیفے کے دائیں جانب گلی کی طرف اشارہ کیا تو سلوی نے سر ہلا کر پلٹ کر جلدی سے گلی کی جانب بڑھی—
گلی میں داخل ہوتے ہی ارمان شاہ کی دبی دبی چیخیں سنائیں دی تو سلوی شاہ نے شرمندگی سے سختی سے اپنی آنکھیں میچ کر کھولیں
چند قدم آگے آئی تو نظریں سامنے کرسی پر اپنی جانب پشت کیے بیٹھے ارمغان خان پر گئی اور سامنے ارمغان خان کے گارڈز کے ہاتھوں درگت بنتے ارمان پر گئیں تو سلویٰ شاہ نے شرمندگی سے نظریں چرا کر ارمغان خان کی پشت کو گھورا
“لیو ہم—ایک سیکنڈ میں اس سے پیچھے ہٹو تم لوگ”—سلویٰ شاہ کے چلا کر کہنے پر ارمغان خان نے گردن ترچھی کر کہ سلوی کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ ہاتھ کے اشارے سے اپنے گارڈز کو رکنے کا اشارہ کیا
“اتنا ڈوز میرے خیال سے کافی ہوگا—اور اس بات کا بخوبی اندازہ بھی ہو گیا ہوگا کہ چھوٹا خان ہے کون—دوبارہ کبھی میری عزت کی طرف نگاہ کرنے کی جرات بھی نا کرنا نگاہ کیا تم مجھے اس کی طرف جاتے کسی بھی رستے پر ملے تو یقین مانو وہی تمہاری قبر بنادوں گا”—ارمان شاہ کے قریب زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہتے جھٹکے میں اپنی جگہ سے اٹھ کر قدم سلوی شاہ کی جانب بڑھائے
بنا سلوی شاہ پر ایک نگاہ بھی ڈالے—سلوی کے بازو کو اپنی آہنی گرفت میں لیتے تیز تیز قدم چلتا اپنی جیپ کی جانب بڑھا
جبکہ ارمغان خان کے تیز چلتے قدموں کے ساتھ بامشکل گھسیٹتی سلوی شاہ نے اپنے بازو کو ارمغان خان کی سخت گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کی
“تم پاگل خان— کیا حشر کیا ہے تم نے اس بے قصور شخص کا—کوئی احساس یا انسانیت نام کی کوئی چیز بھی ہے تم میں یا بس جنگلی پن بھرا ہوا ہے”— ڈائیونگ سیٹ پر پیٹھتے ارمغان خان کو دیکھتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو ارمغان خان نے خون چھلکاتی نظروں سے سلوی شاہ کو دیکھا
سرمئی رنگ کا کرتا شلوار پہنے—ماتھے پر بکھرے براؤن بال پیسنے سے چپکے ہوئے تھے— شہد رنگ آنکھوں میں وحشت لیے—عنابی ہونٹوں کو سختی سے بھنچے وہ سلوی شاہ کو ہنس مکھ شوخ ارمغان خان سے یکسر مختلف لگا
ارمغان خان کی خون چھلکاتی نظروں کو دیکھ سلوی شاہ کو اپنے گلے میں گلٹی سی ابھر کر معدوم ہوئی
جبکہ سلویٰ کو گھورتے ارمغان خان نے پلٹ کر پیچھے پڑی اپنی اجرک اتار کر سلویٰ کی جانب بڑھائی
ارمغان خان کے چہرے پر اس قدر چٹانوں سی سختی تھی کہ سلوی شاہ کو بے ساختہ ارمغان خان کے تیور دیکھ ڈر لگنے لگا
اسی لیے بنا کچھ کہے ہاتھ بڑھا کر اجرک لیتے خود پر اچھے سے پھیلائی
“تم صرف بہرام شاہ کی ہی نہیں اس خان کی بھی عزت ہو—اسی وجہ سے ارمغان خان نے کیفے میں موجود لوگوں کے سامنے خود پر ضبط کیا اور اس شخص کو کچھ نہیں کہا تا کہ کوئی تمہارے کردار پر سوال نا اٹھا سکے—اور اگر اسے کچھ کہا ہے تو اس لیے کہ اس بغیرت شخص کو اندازہ ہو کہ جسے عزت بنانا ہو اس سے یوں ملاقاتیں نہیں کی جاتی—اور تمہیں کوئی اندازہ ہے سلوی شاہ کہ لوگ تمہارے اور اس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہوگے—تم اور وہ بغیرت شخص لوگوں کی نظروں میں سوکالڈ گرل فرینڈ اور”— دبے دبے لہجے میں غرا کر کہتے آخر میں پوری شدت سے اسٹیرنگ پر مکا مارا تو سلوی شاہ اچھل کر سیٹ سے پیچھے کھسکی
“ایسا کچھ نن—نہیں ہے اور وہ وی—ویسے بھی میرا ہونے والا شوہر ہے”— ارمغان خان کی خون چھلکاتی شہد رنگ آنکھوں میں دیکھتے نڈر لہجے میں جواب دیا تو ارمغان خان نے سختی سے جبڑے بھنچ کر سلوی شاہ کو دیکھا
“تمہاری عزت کا تماشہ نہیں بنایا تھا—اور نا بنا سکتا ہوں—مگر تمہاری اس بکواس پر جان سے ضرور مار سکتا ہوں”— سرسراتے لہجے میں کہتے جیپ سٹارٹ کی تو سلوی شاہ نے بری طرح لب کچلتے ارمغان خان ک کو دیکھا
نظریں وجیہہ چہرے سے ہوتی بازوؤں کی پھولی ہوئی نیلی رگوں پر آئی تو سلوی شاہ کا دل بے ساختہ دھڑکا
“تم نے بھی تو نکاح کیا تھا”— خفا لہجے میں کہتے نظریں روڈ پر ٹکرائی تو ارمغان خان نے ایک نظر سلوی شاہ کے خفا چہرے پر ڈالتے سر جھٹکتے نظروں کا رخ بدلا
“اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم یہ سب کر کہ اپنی ناراضگی کا اظہار کرو—اگر ایسا دوبارا سوچا بھی تو یاد رکھنا سلوی اس بار ارمان کا یہ حشر کیا تھا—اگلی بار تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا— اور اسے دھمکی ہر گز نا سمجھنا— کیونکہ ارمغان خان کا ماننا ہے محبوب ہو تو صرف آپ کا اگر آپ کا نہیں ہوسکتا تو پھر وہ خود کا بھی نہیں رہنا چاہیے”— سرد و سپاٹ لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تو سلوی شاہ نے آنکھیں گھما کر ارمغان خان کو دیکھا—
“تم نے ڈرایا اور میں ڈر گئی نا—ہاتھ لگا کر دکھانا پھر بتاؤں گی—اور اس طرح کیا تم دیکھتے جاؤ بچو میں تمہارے ساتھ کرتی کیا ہوں— تا کہ آئیندہ اگر کسی اور کو میری جگہ دینے کے بارے میں سوچا بھی تو یہ بات ہمیشہ یاد رہے تمہیں—ابھی تو میں لالا کو جا کر بتانے والی ہوں کہ تم نے کیا حال کیا ہے ارمان کا”—سارا راستہ خاموشی سے کٹا تو اترتے ہوئے سلوی شاہ نے دانت کچکچا کر کہا تو ارمغان خان نے طنزیہ نظروں سے سلوی کو دیکھا
جو سارے رستے تو بھیگی بلی بنی ہوئی تھی—اور اب اپنی حویلی پہنچ کر شیرنی بن رہی تھی
ہونٹ کا کنارہ دانتوں تلے دبا کر بامشکل اپنی مسکراہٹ کو روکا
“یہ غصہ مجھے لگتا ہے بریانی نا کھلانے کی وجہ سے ہے—ڈونٹ وری مائے بھیگی بلی—تمہیں اپنے نام کرتے پہلا ادھار یہی اتاروں گا—اور پھر اس کے بعد میرے جو ادھار تم پر ہیں وہ تم اتارنا”— شوخ لہجے میں لوٹتے مسکرا کر کہا تو سلوی شاہ نے ناسمجھی سے ارمغان خان کو دیکھا اس سے پہلے وہ کوئی سوال کرتی کہ ارمغان خان پل میں وہاں سے غائب ہوا
جس پر سلوی شاہ نے دھول اٹھتے رستے پر جاتی ارمغان خان کی جیپ کو دیکھتے دانت کچکچائے
اور سر جھٹکتی قدم اندر کی جانب بڑھائے
اہنے کندھوں کے گرد لپیٹی ارمغان خان کی اجرک سے اٹھتی محسور کن خوشبو کو محسوس کرتے سلوی شاہ کے ہونٹوں پر شرمیگی مسکراہٹ رینگ گئی
