Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maan Yaram by Maha Gull Rana 

کچے راستوں سے ہوتی گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی—
گاڑی میں بیٹھے تین نفوس کے ہونے کے باجود خاموشی چھائی ہوئی تھی—
گاڑی کے پیچھے آرہی جیپ میں گارڈز ہتھیار لیے چونکنا بیٹھے ہوئے تھے
اردگرد شیر سی نگاہ دوڑاتے بہرام شاہ نے مرر سے پیچھے بیٹھی حوریہ شاہ کو سرد نظروں سے دیکھ نظریں پھر سامنے ٹکا دی
وہ رات کے نو بجے گاؤں کی حدود میں داخل ہو چکے تھے—
گاؤں میں داخل ہو تو گاؤں کے دائیں جانب شاہ حویلی تھی—جبکہ شہر کے رستے کے ختم ہونے پر جہاں سے گاؤں کی حدود شروع ہوتی تھی—وہاں بائیں جانب تھوڑا آگے آنے پر خان حویلی شروع ہو جاتی تھی—
اور شاہ حویلی تک جانے کے لیے خان حویلی کے آگے سے ہی گزرنا پڑتا تھا—
دوسرا راستہ گاؤں کی حدود میں داخل ہوتے بائیں جانب جنگل کی طرف سے تھا
جہاں سے گھوم کر شاہ حویلی کی طرف آیا جا سکتا تھا—مگر وہ راستہ تقریبا تین گھنٹے کا تھا—وہ بھی تب جب آپ کو بالکل ٹھیک راستہ پتہ ہو—
مگر بہرام شاہ نے کبھی بھی راستہ نہیں بدلا تھا—وہ ان پٹھانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی گاڑی سے دھول اڑاتا ان کے سامنے سے کسی طوفان کی طرح گزر کر جاتا تھا—
مگر آج وہ جس قدر غصے میں تھا تو اس کی یہی دعا تھی کہ آج کوئی خان اس کے راستے میں نا ائیں—
کیونکہ بہرام شاہ کو یہ بات معلوم ہو چکی تھی کہ حوریہ شاہ کو عائث خان چھوڑ کر گیا تھا—
اور اب اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ حوریہ اور عائث دونوں کو زندہ زمین میں گاڑھ دے—
"سب ٹھیک ہے نا بہرام—اس قدر خاموش کیوں ہیں آپ—کوئی مسئلہ ہوا ہے کیا"—بہرام شاہ کی خاموشی سے تنگ آکر آخر کار عقیدت نے اپنا رخ بہرام شاہ کی جانب کرتے فکر سے استفسار کیا
کیونکہ حوریہ کا تو وہ جانتی تھی کہ حدائق ہو یا بہرام یا پھر بالاج شاہ اس کی آواز ان تینوں کے سامنے کم ہی نکلتی تھی—
بالاج کے سامنے تو عقیدت بھی بولنے سے احتیاط ہی کرتی تھی کیونکہ وہ کھر دماغ بندہ تھا—
ایک سیکنڈ میں انسان کی کتوں والی کر کہ رکھ دیتا تھا—اسی لیے عقیدت بھی اس سے کم ہی مخاطب ہوتی تھی—
مگر بہرام شاہ سے اس کی اچھی خاصی دوستی تھی—اسی دوستی کی وجہ سے کبھی اس نے لالا کہنے کا بھی تکلف نہیں کیا تھا—
اور نا ہی کبھی بہرام شاہ نے اسے فورس کیا کہ وہ اسے لالا کہے
"ولی خان نے شادی کی تاریخ مانگی ہے—اس مہینے وہ ضرغام اور عائث خان کی شادی کرنا چاہتا ہے—
اور جہاں تک مجھے اندازہ ہے ہماری مائیں—سپیچ تیار کر کہ بیٹھی ہوگی ہمیں راضی کرنے کے لیے—
کیونکہ خان تو اب انکار نہیں کریں گے—اور ہماری مائیں خون خرابے سے بچنے کی خاطر تم دونوں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوگی—
اور میرا خدا گواہ ہے عقیدت شاہ میں نے کبھی نہیں چاہا کہ ہمارے یا خان خاندان کی بچیاں ہم مردوں کی دشمنی کا حصہ بنے—
میں اگر خاموش تھا تو صرف اور صرف حدائق کی وجہ سے—وہ خر کا بچہ دشمن کی بیٹی سے محبت کرتا ہے—
صرف اور صرف حدائق شاہ کی محبت کی وجہ سے—میں بہت کچھ نظر انداز کرتا رہا ہوں—
کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے خانوں کو کوئی بہانہ ملے اور وہ میرے بھائی سے اس کی محبت چھیننے کی کوئی سازش کریں—
پلوشہ کے بارے میں بے فکر تھا میں—جانتا ہوں کہ حدائق اسے ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھے گا—
مگر آج زندگی میں پہلی بار میں خود کو بے بس محسوس کر رہا ہوں—اور وہ بھی صرف تم دونوں کی وجہ سے—
کیسے بھیج دوں تم دونوں کو ان ظالموں کے ساتھ—ہاتھ اٹھانا تو دور بہرام شاہ کو یہ بھی منظور نہیں کہ کوئی اس کے گھر کی بچیوں کو لفظوں کی مار بھی مارے—
اگر ایسا کچھ ہوا تو یاد رکھنا عقیدت شاہ میں سب کچھ تباہ کر دوں گا—اور تب شاید مجھے حدائق شاہ کی محبت بھی نظر نا آئیں"—سرد و سپاٹ لہجے میں کہ کر سختی سے اپنے جبڑے بھنچے
جبکہ حوریہ اور عقیدت نے شاکی نظروں سے بہرام شاہ کو دیکھا—
"بہرام مم—میں یہ شادی نہیں کر سکتی—اپ جانتے ہو نا مجھے نفرت ہے ضرغام خان سے میں کیسے کر سکتی ہوں اس شخص سے شادی جو میرے باپ کو قاتل کہتا ہے—جو میرے بھائی کی جان کا دشمن ہے"—عقیدت شاہ نے نفی میں سر ہلاتے تڑپ کر کہا تو بہرام شاہ نے ایک سپاٹ نگاہ عقیدت شاہ کے چہرے پر ڈال کر سرد نظروں سے پیچھے بیٹھی حوریہ کو گھورا
بہرام شاہ کی اندھیری رات سی گہری سیاہ سرد آنکھوں کو خود پر محسوس کر کہ حوریہ کو اپنے گلے میں گلٹی سی ابھرتی محسوس ہوئی
خشک پڑتے حلق کو تر کرنے کے لیے بیگ سے نکال کر پانی کی بوتل کو منہ لگایا
حوریہ جانتی تھی کہ اسے کیوں ہر دو منٹ بعد سرد نظروں سے نوازا جا رہا ہے—
وہ جتنی بھی توپ چیز بن جائیں مگر بہرام شاہ ہو یا حدائق شاہ اپنے گھر کے مردوں کے سامنے تو اس کی زبان تالو سے چپک جاتی تھی
صرف عقیدت شاہ ہی تھی جو ان جلادوں کو سنبھال لیتی تھی—اور اس کی ان کے ساتھ بن بھی جاتی تھی—اسی لیے حوریہ کئی بار عقیدت سے کہہ چکی تھی جہاں اتنے جلادوں کو بھائی کے روپ میں سنبھالا ہوا ہے وہاں ایک جلاد کو شوہر کے روپ میں بھی سنبھال لے—
کیوں کسی معصوم کو ضرغام خان جیسے جلاد کے ہاتھوں شہید کروانا—
جس پر عقیدت صرف اسے گھور کر رہ جاتی تھی
"چاہتا تو میں بھی یہی تھا—اسی لیے تمہیں پاکستان آنے سے منع کیا تھا – تمہارے پاس یو کے کی نیشنلٹی تھی—وہاں سے ڈائیورس کے لیے کیس فائل کرتی تو پہلی ہیرنگ میں تمہارے حق میں فیصلہ ہو جانا تھا – مگر تم میری بات مان جاؤں تو پھر نا—
ابھی تو گھر جا کر پتہ چلے گا کہ ہماری ماؤں نے کونسی سکرپٹ ریڈی کی ہے—
اسے سن کر ہی کسی نتیجے پر پہنچے گے—
مگر اس سے پہلے اپنی چہیتی بہن سے پوچھ لو کہ یہ کیا چاہتی ہے—
جس طرح یہ بنا کسی خوف کے دشمن کے ساتھ لانگ ڈرائیو کرتی پھر رہی ہے—
اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ اسے شادی سے کوئی اعتراض نہیں"--- بہرام شاہ کے طنزیہ لہجے پر عقیدت شاہ نے حیرانگی سے پلٹ کر حوریہ کو دیکھا
جبکہ حوریہ نے شرمندہ سی ہنسی ہنس کر عقیدت کو بعد میں بتانے کا اشارہ کیا
ایم سوری لالا میں اس سے کسی پلینگ کے تحت نہیں ملی تھی—وہ سب اتفاق تھا—اور مجھے گھر چھوڑنا عائث خان کی مرضی اور ضد تھی—میں اسے روک نہیں سکتی تھی—ورنہ وہ—ابھی حوریہ اپنی بات مکمل کرتی کہ بہرام شاہ نے ایک جھٹکے میں گاڑی روکی
جس کے باعث حوریہ کا سر عقیدت کی سیٹ کی پشت سے زور سے ٹکرایا
جبکہ بہرام شاہ خونخوار نظروں سے سامنے جیپ میں بیٹھے ضرغام خان اس کے ساتھ بیٹھے عائث خان اور جیپ میں پیچھے رائفل تھامے کھڑے ارمغان خان کو دیکھ رہا تھا
وہ شاید شکار کے لیے نکل رہے تھے---
جبکہ آگے کے بارے میں سوچ کر حوریہ شاہ نے بے ساختہ جھرجھری لی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *