Maan Yaram by Maha Gull Rana NovelR50628 Maan Yaram (Episode 22)
Rate this Novel
Maan Yaram (Episode 22)
Maan Yaram by Maha Gull Rana
ماضی:-
طلاق دیں آپ اسے ابھی کہ ابھی— آپ کی بیوی صرف میں ہوں – اس گاؤں کے سردار کی ایک ہی بیوی ہے جو کہ مقدس شیر خان ہے—یہ میرے مقابلے پر نہیں آسکتی”— مقدس بیگم کے ہذیانی انداز پر چلا کر کہنے پر کشف بیگم نے افسوس سے انہیں دیکھا
شیر خان آج کہے کے مطابق مبین بیگم اور عائث خان کو حویلی لے آیا تھا— جب انہوں نے مبین بیگم کو اپنی بیوی کی حیثیت سے متعارف کروایا تھا تو حویلی میں تو جیسے قیامت آگئی تھی
مقدس بیگم نے چیخ چیخ کر ساری حویلی کے ملازموں کو اکٹھا کر لیا تھا—آہنی پیٹتی بددعائیں دیتی وہ شیر خان کو کوس رہی تھی
جبکہ ولی خان لاونج کے صوفے پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے—بچوں کو کشف بیگم اپنے کمرے میں بٹھا کر ملازمہ کو ان کا خیال رکھنے کا بول آئی تھیں
“وہ تمہارے مقابلے پر نہیں آرہی— سردارنی تم ہی رہو گی—وہ صرف میری بیوی ہے—اور میری بیوی بن کر ہی رہے گی—اسے ان چیزوں سے فرق نہیں پڑتا—اور کس بات کا دکھ منا رہی ہو تم—تمہیں میری ذات سے پہلے کوئی غرض تھی میری کوئی پرواہ تھی یا میں بہت محبوب شوہر رہ چکا ہوں تمہارا جسے تم کسی دوسرے کے ساتھ بانٹ نہیں سکتی”شیر خان نے سخت لہجے میں کہا تو مقدس بیگم نے نخوت سے سر جھٹکا
مجھے نہیں پتہ — لیکن یہ عورت میری حویلی میں نہیں رہ سکتی—نکلو یہاں سے”— آگے بڑھتے چیل کی طرح مبین بیگم پر جھپٹتے چلا کر کہا تو لاونج میں داخل ہوتے حدائق شاہ نے ایک ہی جست میں ان کے قریب پہنچتے مبین بیگم کو ان کی گرفت سے چھڑوایا
“بھابھی بس کر جائیں— جو ہونا تھا سو ہوگیا—اب تو خود میں نرمی پیدا کریں – آپ ایک معصوم بچے کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہیں”—شیر خان اور حدایت کے چھڑواتے چھڑواتے بھی وہ مبین بیگم کے ساتھ عائث خان کے پھولے پھولے سرخ گالوں پر تھپڑ رسید کر چکی تھی کہ اس قدر زور سے تھپڑ لگنے پر وہ معصوم بچہ سسک اٹھا تھا—
آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لیے ہچکیوں سے روتے وہ چہرہ ماں کی گردن میں چھپا چکا تھا جسے دیکھتے حدایت شاہ کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا—
“یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے—تمہاری منہوس بیوی کی وجہ سے ہوا ہے—پہلے تمہارے منہوس قدم ہماری زندگی میں شامل ہوئے تو میرے بھائی کا گھر بسنے سے پہلے اجڑ گیا— آج تمہاری منہوس بیٹی اس دنیا میں آئی تو میرے سر پر سوتن اگئی—چھوڑوں گی نہیں میں انہیں – مار دوں گی میں— مار دوں گی میں اس منہوس کو”—- دونوں ہاتھ بالوں میں الجھاتے—بہکے بہکے لہجے میں کہتی ہذیانی انداز میں چلاتی جھٹکے سے پلٹ کر حلیمہ بیگم کے کمرے کی جانب بڑھی تو حدایت شاہ لمحے کی تاخیر کیے بنا ان کے پیچے بھاگا
آج صبح فجر کے وقت ہی حلیمہ بیگم نے ایک خوبصورت سی بیٹی کو جنم دی تھا—حویلی میں تو جیسے خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی—دونوں خاندانوں میں یہ پہلی بیٹی تھی— جو کہ پیدا ہوتے ہی بیٹوں سے زیادہ لاڈلی ہو گئی تھی— ولی خان کا کہنا تھا کہ وہ سارے نقوش اپنی نانی سے چرا کر لائی ہے—
اور وہ تب سے کئی بار جا کر اس چھوٹی سی گڑیا کو پیار کر چکے تھے—اور جب وہ اپنی موٹی موٹی سبز نگینوں سی آنکھوں میں آنسو ٹکر ٹکر دیکھتی تو سب اس پر صدقے واری جاتے
بہرام،حدائق اور ضرغام تو دیوانے ہوئے جا رہے تھے اس چھوٹی سی گڑیا کے جبکہ بالاج شاہ نے پہلے تو خوشی سی عقیدت شاہ کو اٹھایا مگر جب اس نے بالاج کو دیکھ کر منہ بنایا جسے دیکھتے حلیمہ بیگم نے کہا کہ اس کی عادتیں تو ابھی سے بالاج جیسی ہیں تو تب سے جیلس ہوتا دوبارا اس کے قریب نہیں گیا تھا
سامنے صوفے پر بیٹھا بریڈ کھاتا وہ گھور گھور کر عقیدت شاہ کو دیکھ رہا تھا—جسے دیکھتے بالاج شاہ کو بھی اندازہ ہونے لگا کہ وہ ایک دن کی بچی واقع اس کی عادتیں کاپی کر رہی ہے
مقدس بیگم کمرے کا دروازا دھاڑ سے کھولتی بیڈ پر بیٹھی حلیمہ بیگم کی جانب بڑھی تو بچوں نے سہم کر مقدس بیگم کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھا جبکہ بالاج شاہ صوفے سے چھلانگ لگا کر بیڈ پر آچکا تھا
“ادھر دو – ادھر دو یہ منہوس بچی— زندہ نہیں چھوڑوں گی—آج تم دونوں ماں بیٹیوں کو جان سے مار دوں گی—میرے دل پر مونگ ڈلنے کو ماں کم تھی جو بیٹی بھی آگئی”— حلیمہ بیگم کے ہاتھوں سے عقیدت کو چھیننے کی کوشش کرتے چلاتے ہوئے کہا تو ضرغام اور حدائق بے ساختہ آگے آئیں
“نو ماما شی از انوسنٹ— وہ ڈر جائے گی—مت ماریں اسے”— مقدس بیگم کے ہاتھوں کو پکڑنے کی کوشش کرتے ضرغام خان نے کہا تو مقدس بیگم نے پلٹ کر ایک زور دار تھپڑ ضرغام خان کے چہرے پر رسید کیا
“بھابھی کیا کر رہی ہیں آپ—چھوڑیں میری بیٹی کو— بابا—بھائی”—- مقدس بیگم کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے روتے ہوئے چلا کر کہا تو بالاج شاہ نے ایک نظر سرخ دھواں دھواں چہرہ لیے کھڑے ضرغام خان کو دیکھا اور ایک نظر اپنی روتی ہوئی چچی کو دیکھا
اور پھر وہ بیڈ پر اٹھ کر کھڑا ہوتا چھلانگ لگا کر مقدس بیگم کی پیٹھ پر چڑھتا اپنے دانت ان کے کندھے پر گاڑھ چکا تھا— جس سے کمرے میں مقدس بیگم کی دلدوز چیخیں گونج اٹھیں تھی
کمرے میں داخل ہوتے حدایت شاہ نے بالاج کو زبردستی ان سے الگ کیا— شیر خان نے آگے بڑھتے مقدس کا بازو اپنی سخت گرفت میں لیتے—قدم آپنے کمرے کی جانب بڑھائے
“بالاج یہ کیا بتمیزی تھی—وہ بڑی تھیں آپ سے”— حلیمہ بیگم کے گرد بازو پھیلاتے بالاج شاہ کو ڈپٹتے ہوئے کہا تو بالاج شاہ نے آنکھیں گھما کر ان کی بات کو نظر انداز کیا
“آئی نو شو از بگ وچ اینڈ آئی ہیٹ ہر”— نظریں ضرغام خان کے سرخ چہرے پر ٹکائے ناک سکور کر کہا تو بہرام شاہ نے آگے بڑھتے ایک چپت بالاج شاہ کے کندھے پر رسید کی جبکہ حدایت شاہ نے تنبیہہ نظروں سے بالاج شاہ کو گھورا جو اب سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گیا تھا—
“تم ٹھیک ہو— کہی لگی تو نہیں”— عقیدت کو اپنی بانہوں میں بھرتے حلیمہ بیگم سے پوچھا تو انہوں نے نم آنکھوں سے مسکراتے نفی میں سر ہلا دیا
“چاہے یہ میرے جگری یار کا گھر ہے—لیکن آئندہ سے تم اکیلی یہاں نہیں آؤ گی حلیمہ—تمہارے معاملے میں رسک نہیں لے سکتا—اور اب تو بھابھی نے ہر حد پار کر دی اس سب میں چھوٹی بچی کا کیا قصور”—حدایت شاہ کے کہنے پر حلیمہ بیگم نے ان کے بازو پر ہاتھ رکھتے خاموش—رہنے کا اشارہ کیا اور مسکرا کر ان کی جانب خاموشی سے دیکھتے ضرغام خان کو دیکھا—
اگر اس خاندان میں ماں باپ کی لڑائی جھگڑوں میں کسی کی ذات بری طرح متاثر ہو رہی تھی تو وہ تھا ضرغام خان—جسے ماں کا پیار بھی اس کے موڈ یا کسی کو نیچہ دکھانے کی کوشش میں ہی ملا تھا—باپ بے انتہا پیار کرتا تھا—لیکن مقدس بیگم سے لڑائی ہونے کے بعد وہ بھی حویلی سے کئی کئی دن غائب رہتے—اور اگر ہوتے بھی تو ہو کر بھی ضرغام خان کی ذات سے لاتعلق ہی رہتے
“آپ نے بتایا نہیں کہ گڑیا کیسی لگی آپ کو”—عقیدت حلیمہ بیگم کی گود میں لٹاتے ضرغام خان کو اٹھاتے نرم لہجے میں استفسار کیا تو ضرغام خان نے ہاتھ کی پشت سے آنسوں صاف کرتے مسکرا کر انہیں دیکھا
اپنے بھانجے کی سرخ نیلی آنکھیں اور گال پر تھپڑ کا نشان دیکھ حلیمہ بیگم کا دل کٹ کر رہ گیا
“شی از سو بیوٹیفل بیٹ آلسو سو موڈی جسٹ لائک باج”— اپنے گالوں کے اردگرد ہاتھ ٹکاتے عقیدت کی جانب جھکتے ہوئے کہا تو صوفے پر بیٹھے بالاج شاہ نے گھور کر عقیدت شاہ کو دیکھا جو جب سے پیدا ہوئی تھی سب اسے اس کے ساتھ ملانے پر لگے ہوئے تھے—
“نو—شی از ناٹ لائک می— جسٹ لوک ایٹ ہر ائیز—ہر آئیز لکس لائک لٹل فراگ”— دونوں ہاتھوں کو گھماتے منہ بسور کر کہا تو حدائق شاہ نے بالاج شاہ کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے گھور کر اسے دیکھا
“شی از مائے سسٹر—ڈونٹ یو ڈیر باج”— نیلی آنکھوں کو چھوٹا کیے تنبیہ لہجے میں کہا جسے سمجھتے بالاج شاہ نے سر اثبات میں ہلایا
وہ جتنا بھی موڈی—غصے والا اور بتمیز تھا لیکن وہ اپنے بھائیوں کی عزت کرتا تھا—اتنی وہ ماں باپ کی نہیں مانتا تھا جتنی اپنے بھائیوں کی مانتا تھا—پھر چاہے وہ ضرغام خان ہی کیوں نا ہو—صرف بالاج ہی نہیں وہ سب ہی ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے— ہم عمر ہونے کے باوجود دوسرے کی بات حکم سمجھ کر مان جاتے تھے—
“لالا—لاا—لا”—- کمرے میں گونجتی میٹھی سی آواز پر سب نے بیک وقت دروازے کی جانب دیکھا جہاں دو سالہ ارمغان خان اپنے بھاری بھرکم وجود کو گھسیٹتے— کرول کرتا آرہا تھا— پھولے پھولے سرخ اناری گال—ماتھے پر بکھرے براؤن بال— ہونٹوں کے گرد پھیلی چاکلیٹ— آسمانی رنگ کا کرتا شلوار پہنے—وہ چھوٹا سا بھالو لمحے میں سب کے چہروں پر مسکراہٹ لے آیا تھا—سب کہ اپنی جانب متوجہ ہو جانے پر دروازے کے قریب رکتے—چھوٹے چھوٹے پھولے ہاتھوں کی تالی بجاتے بازو واہ کیے تو سب سے پہلے صوفے پر بیٹھے بالاج شاہ نے چھلانگ لگاتے ارمغان خان کی جانب دوڑ لگائی—
اس کے پیچھے ضرغام پھر حدائق اور پھر بہرام لمحے میں دروازے کے قریب پہنچے جہاں بالاج شاہ چھوٹے سے بھالو کو اٹھاتا چٹا چٹ پیار کرنے میں مصروف تھا—
سب بھائیوں کو اپنے قریب دیکھ کمرے میں ارمغان خان کی کھلکھلاہٹیں گونجیں جسے دیکھتے حلیمہ بیگم نے دل ہی دل میں ان کی نظر اتاری
“لالا—لالا”— ضرغام خان سینے پر دونوں پاؤں رکھتے اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے— کھلکھلا کر کہا تو ضرغام خان نے جھک کر شدت سے پھولے پھولے گالوں کو چوما—ضرغام خان کے جھکنے سے ارمغان خان کندھوں سے تھوڑا کھسک گیا— جس پر ارمغان خان نے منہ پھلا کر ضرغام خان کو دیکھا اور جھٹکے سے اوپر ہوتے اپنے چاکلیٹ سے بھرے منہ کو ضرغام خان کے گالوں پر ٹکاتے اپنے ننھے ننھے دانتوں سے کاٹتے بدلہ لینے کی کوشش کی جس پر ضرغام خان نے مسکراتے—ارمغان میں کو نرمی سے پیچھے کیا جو کہ پیچھے ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا—
سینے سے کرول کر کہ کندھوں پر پہنچ کر بیٹھنا ارمغان خان کا فیورٹ مشغلہ تھا—اور جو کوئی اس کے اس کام میں رکاوٹ ڈالتا تھا—پھر اسے وہ اپنے ننھے دانتوں سے زخمی کرنے کی پوری کوشش کرتا تھا—
“چھوڑ اسے ادھر آجا میرا جنگلی شیر”—ضرغام خان کے بال ارمغان خان کی چھوٹی چھوٹی مٹھیوں سے نکالتے اپنے کندھے پر بٹھاتے بہرام شاہ نے کہا تو بالاج شاہ نے گھور کر ان سب کو دیکھا—
جو سب سے پہلے اس تک پہنچا تھا—لیکن وہ اس کے علاؤہ باقی سب کے پاس چلا گیا تھا
وہ سب چھوٹے خان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے—جبکہ کمرے کے سامنے سے گزرتے عائث خان نے خاموش حسرت بھری نظروں سے ان بھائیوں کو دیکھا تھا–
ماں کا ہاتھ تھامے سر جھکائے آگے بڑھتا وہ کمرے سے آتی کھلکھلاہٹوں اور قہقہوں کی آوازیں سنتا— سختی سے اپنی آنکھیں میچ چکا تھا—یہ محبت بھری کھلکھلاہٹیں ہتھوڑے کی مانند عائث خان کے سر پر لگ رہی تھی—
کئی باغی آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے گالوں سے پھسلتے زمین پر گریں تو عائث خان نے سر اٹھا کر گردن ترچھی کر کہ پلٹ کر دیکھا—
جہاں وہ چاروں ایک چھوٹے سے بچے کو کندھوں پر بٹھائے ایک دوسرے سے باتیں کرتے جا رہے تھے—
جسے دیکھ ایک دکھ بھری مسکراہٹ نے عائث خان کے ہونٹوں کا احاطہ کیا تھا
پھر وہ خاموشی سے سر جھکائے اپنی ماں کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
_____________
وقت نے تو گزر ہی جانا ہوتا— وہ کبھی بھی ہم انسانوں کے افسوس کرنے—رونے تڑپنے یا سنبھلنے کے لیے رک نہیں سکتا—لیکن وہ گزرتے ہوئے ہی لمحوں میں ہماری زندگیوں کو بدلتا رہتا ہے—وقت ہمیں اپنے ہر موسم سے ملاتا ہے— ہر موسم کے رنگ دکھاتا ہے– آنسو—خوشی غم تکلیف بچھڑ جانا مل جانا—تڑپنا سسکنا راحتیں وصل و ہجر یہ سب وقت کے ہی تو موسم ہے–
اور ہم سب کو زندگی میں ایک بار ان سب سے گزرنا ہی پڑتا ہے—پھر چاہے ہم کتنے ہی ماں باپ کے لاڈلے کیوں نا ہو—کتنا ہی احتجاج کیوں نا کر لیں—وقت کی گھڑیوں میں پروئے یہ موسم ہم سب کے نصیب کا حصہ ہے—
میں اگر تم سے کچھ مانگوں تو کیا تم مجھے بنا سوال و جواب کیے سونپ دو گے”—مسجد کے صحن میں کھڑے شیر خان نے پرسوچ نظریں آسمان پر ٹکائے کہا تو حدایت شاہ نے چونک کر انہیں دیکھا
“آج تک تمہیں کبھی انکار کیا جو آج یہ اس طرح سوال کر رہے ہو—تم یار ہو میرے—اجازت نا مانگا کر حکم کیا کر”— حدایت شاہ کے کہنے پر شیر خان نے گہری سانس فضا کے سپرد کی
ہر گزرتا دن ان کے لیے نئی آزمائش لے کر ہی آیا تھا—مقدس بیگم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ان کی زندگی جہنم بنانے میں— حویلی آنے کے بعد مبین بیگم ایک بار پھر سے ماں بننے والی تھی
جب مقدس بیگم نے دائی کو پیسے دے کر ان کا بچہ ضائع کروا دیا یہ بات جب دائی کے بیٹے نے شیر خان کو بتائی تو انہیں سانس لینا مشکل لگا اور جب انہیں پتہ چلا کہ وہ اب کبھی ماں نہیں بن سکی گی تو شیر خان کو پاؤں تلے زمین نکلتی محسوس ہوئی
یہ بات انہیں کافی دیر بعد پتہ چلی تھی تب اگر مقدس بیگم ماں بننے والی نا ہوتی تو وہ شاید انہیں جان سے مار دیتے – لیکن اپنی ہونے والی اولاد کا سوچتے وہ خون کے گھونٹ بھر کر رہ گئے اس راز کو سینے میں ہی دفن کر لیا
حویلی میں آئے دن مقدس بیگم کا کسی نا کسی بات پر جھگڑنا لازم تھا—
اور آج کل تو ان کا بھائی جیل سے واپس آیا ہوا تھا—جسے وہ گھر لانے پر بضد تھی— جبکہ شیر خان دو ٹوک لہجے میں انہیں منع کر چکے تھے—
بادام گل کے بارے میں جو کچھ انہیں معلوم پڑا تھا—اس کے بعد وہ اسے حویلی کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نا دیتے
کیونکہ وہ جوا کھیلنے اور لڑکیاں اغواہ کرنے کے الزام میں پکڑا گیا تھا جسے بعد میں جھوٹ قرار دے دیا گیا لیکن جب شیر خان نے تحقیق کروائی تو وہ سب حرف بہ حرف سچ تھا
“میں چاہتا ہوں بچوں کا نکاح کر دیا جائے”— شیر خان کے فیصلہ کن لہجے پر وہاں آتے بہادر خان اور سمیر شاہ نے چونک کر دیکھا—
یہ کیا کہہ رہے ہیں لالا—بچے ابھی چھوٹے ہیں—انہیں خود کی سمجھ نہیں اس رشتے کی کیا سمجھ ہو گی”
تم خاموش رہو بہادر—تم بتاؤ—تم نے یہ بات کیوں کہ شیر—اتنا بڑا فیصلہ کیسے لے لیا—ہم بچوں کے ساتھ ایسا ظلم نہیں کر سکتے—یہ ان کی زندگی بھر کا سوال ہے”— بہادر خان کو ٹوکتے شیر خان کے روبرو کھڑے ہوتے دو ٹوک لہجے میں کہا تو شیر خان نے تلخی سے مسکراتے سر جھٹکا
“ظلم سے بچانے کے لیے ہی کر رہا ہوں— میں اپنے بیٹے کو برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتا شاہ—میرا ضرغام بہت معصوم ہے—بہت محبت کرتا ہے اپنی ماں سے—وہ جو کہتی ہے ضرغام خان کے لیے پتھر پر لکیر ہوتا ہے—میں نے اپنے بیٹے سے کبھی سخت لہجے میں بات نہیں کی اور وہ عورت اسے جوتوں تھپڑوں سے اس سفاکی سے مارتی ہے کہ جب تک وہ اپنے ہوش نا کھو دے اسے ترس نہیں آتا— اور وہ بیوقوف ماں کی ہر مار کھانے کے بعد بھی اس پر جان نچھاور کرنے کو تیار رہتا ہے—مجھے نہیں پتہ کتنی سانسوں کی مہلت ہے—بہت تھکا دیا ہے زندگی نے یار—اپنے جیتے جی اپنے بیٹے کی زندگی کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں—میں نہیں چاہتا میرے بعد وہ عورت اپنی خواہشات یا ضد کے پیچھے میرے بیٹے کی زندگی خراب کرے—یا اپنے جیسے عورت میرے ضرغام کے لیے چنے—اس لیے میں عقیدت کو مانگتا ہوں— جانتا ہوں تمہاری بیٹی کے ساتھ ظلم ہے—لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے جو بیٹا ماں کا ہر ظلم برداشت کر کہ افف نہیں کرتا—اس ک ہر بات کو حکم سمجھتا ہے وہ اپنی بیوی کے ساتھ کبھی نا انصافی نہیں ہونے دے گا—وہ کبھی بھی اپنی بیوی کے آنسوؤں کی وجہ نہیں بنے گا— میں نے اپنے بیٹے میں بہت ٹھہراؤ دیکھا ہے شاہ— وہ رشتوں کو ان کے مقام پر رکھ کر آگے چلنے والوں میں سے ہے—وہ اپنی ماں سے اگر محبت کرے گا تو بیوی سے عشق بھی کرے گا—وہ ڈھال بنے گا ہر تکلیف ہر ظلم خود برادشت کر لے گا مگر اپنی بیوی پر آنچ نہیں آنے دے گا—میرا دل کہتا ہے یار “—- نم بھرائے لہجے میں کہتے آخر میں ہاتھ جوڑے تو حدایت شاہ نے تڑپ کر آگے بڑھتے شیر خان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے—
“تو یقیں رکھ شیر خان — تیرا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوگا—مگر یہ بھی یاد رکھنا اگر تمہارا بیٹا ڈھال بننے والوں میں سے ہے تو میری بیٹی بھی باپ کی طرح محبت کرنے والوں پر جان نچھاور کرنے والی ہے—تمہارے بیٹے کو ڈھال نہیں بننے نہیں دے گی—نا اس پر انچ آنے دے گی — بلکہ اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہونے والی ہوگی – ہر مشکل کا مقابلہ اس کے ہمقدم ہو کر کرے گی — وہ عقیدت حدایت شاہ ہے اس میجر کی بیٹی— جو فیصلہ اس کا باپ کرے گا اس پر خاموشی سے سر جھکا دے گی—مگر جو اس کے شوہر کی طرف نگاہ اٹھائے گا اس کا سر گردن سے جدا بھی کر دے گی—یہ میرا دل کہتا ہے”— شیر خان کو گلے لگاتے مسکرا کر کہا تو بہادر خان نے مسکرا کر اپنے بھائی کو دیکھا—
“ایسے دل ہمیں بھی چاہئے— جو مسقبل بتاتے ہو—ہمارے دل نے تو جب بھی بتایا پیٹ کا پیغام ہی پہنچایا ہے جیسے ابھی کہہ رہا کہ شدید بھوک لگی ہے – اور ہمارا ماننا ہے کہ دل کے اس پیغام کا فورا جواب دینا چاہیے”—- بہادر خان کے مسکرا کر کہنے پر ان چاروں کے قہقہے فضا میں گونجے جبکہ دور کھڑی تقدیر نے مایوسی سے سر جھٹکتے بادلوں کی اوٹ میں خود کو چھپا لیا
___________
لاکھ مقدس بیگم کے احتجاج کے باجود بھی شیر خان اور حدایت شاہ نے سب کو نکاح کے لیے راضی کر لیا اور چند دن پہلے عقیدت شاہ کو ضرغام خان کے نکاح میں دے دیا گیا
رات کے ڈھائی بجے کا وقت تھا جب شیر خان کی بے چینی سے آنکھ کھل گئی جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتے انہوں نے اپنے دائیں جانب لیٹی مبین بیگم کو دیکھا جو پلوشہ خان کو سینے سے لگائے گہری نیند میں تھی
مبین بیگم نے سچ میں اپنی محبت کا حق ادا کیا تھا—انہوں نے ضرغام اور پلوشہ کو اپنی اولاد کی طرح ہی چاہا تھا—انہیں اتنی ہی محبت دی جتنی عائث خان کو دی
پانچ سالہ پلوشہ کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرتے شیر خان بیڈ سے نیچے اترتے اپنی اجرک کندھوں کے گرد پھیلائی
اور کمرے کا دروازا کھول کر باہر آئے
مقدس بیگم کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے کو دیکھ اندر داخل ہوئے تو وہ کہی نظر نا آئی تو حیرت سے شیر خان نے اردگرد نگاہ دوڑائی
مقدس تم اندر ہو کیا’— واشروم کے دروازے کے قریب کھڑے ہو کر پکارا مگر اندر سے کوئی جواب نا پا کر انہیں شدید حیرت ہوئی
پریشانی سے ماتھا مسلتے وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکلے تو قدم خود بہ خود ضرغام خان کے کمرے کی جانب بڑھے
کمرے سے گھٹی گھٹی آوازوں کو سنتے شیر خان پریشانی سے اندر داخل ہوئے
مگر نظر آتے منظر کو دیکھ انہیں لگا وہ ایک قدم آگے بڑھائے گے تو زمین میں دھنس جائے گے
آج اس عورت نے اپنی سفاکی کی ساری حدیں پار کر دی تھیں
“مم—میرا کہا ٹالو گے—اس ناگن کی بیٹی کو میری بہوں بناؤ گے”— ضرغام خان کے چہرے پر تکیہ رکھے— پاگلوں کی طرح ایک ہی بات کو دھراتی وہ ضرغام خان کے تڑپتے وجود کو فراموش کیے ہوئے تھی
ہوش میں آتے شیر خان ایک ہی جست میں مقدس بیگم کے قریب پہنچے اور بازو سے تھام کر اپنے سامنے کرتے وہ نجانے کتنے ہی بے دریغ تھپڑ ان کے چہرے پر رسید کر چکے تھے—
غصے سے ہانپتے مقدس بیگم کو پیچھے دھکا دیتے وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ضرغام خان کی جانب متوجہ ہوئے
جبکہ شیر خان کے دھکا دینے پر مقدس بیگم نے قہر بھری نظروں سے انہیں دیکھا اور وہاں سے بھاگنے کے انداز میں کمرے سے نکلتی چلی گئی
جبکہ ضرغام خان کو سانس دیتے—ہاتھ پاؤں سہلاتے شیر خان اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہے تھے— ضرغام خان کو کھانستے اور مندی مندی آنکھیں کھولتے دیکھ شیر خان نے شدت سے اسے خود میں بھنچ لیا
دل تھا کہ بیٹے کی حالت پر دھاڑے مار مار کر رونے کو چاہ رہا تھا—اگر وہ ایک لمحہ بھی ضائع کر دیتے تو آج وہ عورت ان سے ان کا بیٹا چھین لیتی
________
گھٹیاں عورت تم نے ایسا سوچا بھی کیسے— میرے بیٹے کو تکلیف دینے کی ہمت بھی کیسے ہوئی”— مقدس بیگم کی گردن اپنی آہنی گرفت میں لیتے—دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا تو مقدس بیگم نے قہقہہ لگاتے شیر خان کی آنکھوں میں دیکھا
جبکہ مقدس بیگم کے یوں پاگلوں کی طرح قہقہ لگانے پر شیر خان نے حیرت سے انہیں دیکھا
“وہ میرے خلاف گیا تھا— مقدس خان کے خلاف – اور جو میرے خلاف جائے گا— اسے مرنا ہوگا—سمجھے تم مرنا ہوگا—چاہے وہ پھر کوئی بھی ہو”—- مقدس بیگم کے زہر خند لہجے پر شیر خان نے حیرت سے انہیں دیکھا
کتنی محبت مان عزت دی تھی انہوں نے اس عورت کو نا صرف بیوی سمجھ کر بلکہ یہ سوچ کر بھی کہ دنیا میں ان کا ہے ہی کون—کتنی غلطیوں کو نظر انداز کیا تھا
کتنے رازوں کو دل میں دفن کیا تھا—
تم بھی تو گئے تھے نا میرے خلاف—اور تمہارا وہ دوست—سب کا آج آخری دن ہے سب کا—بیٹے کو تو بچا لیا دوست کو کیسے بچاؤ گے—خود کیسے بچو گے— میرے خلاف کیا ثبوت دو گے کہ میں نے یہ سب کچھ کیا—اچھا ہوا تمہیں پتہ چل گیا— اب قبر میں تمہاری روح بے چین تو نہیں رہے گی—جاؤ تمہارا دوست جا رہا ہے نا آج واپس—بچا لو اسے”— شیر خان کے کان کے قریب جھکتے سرگوشیانہ لہجے میں کہا تو شیر خان نے بے یقینی سے ان کی جانب دیکھا—
مقدس بیگم کی آنکھوں میں نفرت کی آگ دیکھتے الٹے قدم وہ مبین بیگم کے کمرے کی جانب بڑھے
________
کیا ہوا کہاں جا رہے ہیں آپ”— کمرے میں ہوتی کھٹ پٹ کی آواز پر مبین بیگم نے حیرت سے اٹھتے ہوئے سوال کیا
“حدایت—زندہ نہیں چھوڑوں گا میں”— ہاتھ میں پسٹل تھامے باہر کی جانب بڑھتے ہوئے چلا کر کہا تو مبین بیگم نے گھبرا کر قدم بیڈ کے کنارے پر پڑی اپنی چادر کی جانب بڑھائے
شیر خان کو اگر اندازہ ہوتا کہ ان کے آدھے ادھورے الفاظ دو خاندانوں میں نفرت کی دیوار کھڑی کر دے گے تو وہ شاید کبھی مر کر بھی یہ الفاظ نا بولتے
اپنے پیچھے ننگے پاؤں دوڑ کر آتی مبین بیگم کی آوازوں کو نظر انداز کیے وہ حویلی کے گیٹ سے نکلتے چلے گئے
جبکہ کھڑکی میں کھڑی مقدس بیگم نے ہونٹوں پر مکروہ مسکراہٹ سجائے کھڑکی پر پردہ گرادیا
___________
آج حدایت شاہ نے واپس جانا تھا—انہیں فوج کی طرف سے مشن پر جانے کا خط موصول ہوا تھا—شیر خان سے وہ ایک دن پہلے ہی مل چکے تھے—کیونکہ ٹرین صبح پانچ بجے نکلنی تھی اور وہ انہیں صبح کے وقت پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے—
شیر خان کو اندازہ تھا کہ وہ کھیتوں سے گزرتی نہر سے ہوتے آگے سر سبز کھلے میدان کی جانب سے ریلوے اسٹیشن جائیں گے اسی لیے بھاگنے کے انداز میں کھیتوں اور نہر سے ہوتے میدان میں آئے تھے— تیز تیز قدم لیتے وہ لمحے میں اسٹیشن پہنچنا چاہتے تھے
ٹھنڈی سرسراتی ہوا کی آواز کے ساتھ دور جنگل سے آتی جانوروں اور کتوں کے بھونکنے کی آواز کے سوا وہاں اس وقت کوئی ذی روح نہیں تھا
تیز تیز قدموں سے چلتے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرتے شیر خان جیسے ہی پلٹا تو پیچھے کھڑے شخص نے لوہے کی سلاخ کو آنے کے سر پر اس قدر شدت سے مارا کا شیر خان بند ہوتی آنکھوں اور لڑکھڑاتے قدموں سے کئی قدم پیچھے جا کر گرے
چکراتے سر اور بند ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھولتے سامنے نظر آتے عکس کو غور سے دیکھنا چاہا
آنکھوں سے دھند ہٹی تو نظریں اپنے سامنے چہرہ پر مکروہ سجاہٹ سجائے کھڑے بادام گل کو دیکھ شیر خان کو اپنا خون کھولتا محسوس ہوا
“حدایت—کہاں ہے بادام گل—اگر میرے دوست کی جانب ہاتھ بڑھایا بھی تو کندھے سمیت اکھاڑ دوں گا”— زمین پر ہاتھ ٹکائے بامشکل کھڑے ہوتے دھاڑتے ہوئے کہا تو بادام گل نے مکروہ قہقہہ لگاتے شیر خان کے اٹھنے سے پہلے ہی ان کے سر پر دوبارا پوری قوت سے وار کیا تو میدان کی سراسرتی خاموش ہوا میں شیر خان کی دلدوز چیخ گونجی
خون پھوارے کی مانند سر سے بہتا سر سبز میدان کو رنگتا چلا گیا— چہرہ خوں سے تر ہوتا سبھی نقوش کو اپنے رنگ میں رنگ گیا
بے جان ہوتے جسم سے وہ اوندھے میں زمین پر گرے تو بادام گل نے پسٹل نکالی
“مرنے والے کو سوال جواب نہیں کرنے چاہئیے— بلکہ قبر میں ہونے والے سوال جواب کا سوچنا چاہیے— چچچ کیا دوستی ہے نا—— مرتے وقت بھی دوست کی پڑی ہے—دیکھنا اس دوستی کی قیمت ساری عمر ادا کرتا رہے گا تمہارا وہ یار— یہ دیکھو یہ اس کی پسٹل ہے—کتنے یقین سے دوست کے حوالے کر گیا— یہ بھی نہیں سوچا غلط ہاتھوں میں لگ گئی پھر—چلو خیر چھوڑو—مرتے مرتے تمہیں مسقبل بتا کر احسان کر دیتا ہوں— شاہ اور خان برباد ہونے والے ہے—ولی خان کی نسل اس کے پوتوں پر ختم ہونے والی ہے”— شیر خان کے بے جان وجود کو بالوں سے تھام کر سیدھا کرتے—ان کے سینے پر پسٹل کی ساری گولیاں اتارتے زہر خند لہجے میں غرا کر کہتے—
جیب سے سفید رنگ کا پیکٹ نکال کر اس میں سے حدایت شاہ کی وردی پر لگے بٹن سے ملتا بٹن نکال کر شیر خان کے دائیں ہاتھ میں تھما دیا—
اللہ حافظ جیجا جی”—شیر خان کے بے جان وجود کو ٹھوکر رسید کرتے اجرک میں چہرہ چھپائے لمبے لمبے ڈنگ بھرتے بادام گل وہاں سے نکلتا چلا گیا
جبکہ دور سے ولی خان اور بہادر خان کے ساتھ ان کے ملازموں کی آوازیں آرہی تھی
شیر خان کے جانے کے بعد مبین بیگم نے جا کر یہ بات ولی خان کو بتائی جس پر ولی خان بہادر خان اور اپنے ملازموں کے ساتھ شیر خان کو ڈھونڈنے نکلے تھے—
کھیتوں میں پہنچے تو میدان کی جانب سے آتی گولیوں کی آواز سن انہیں کسی انہونی کا گمان ہوا
تیز تیز قدموں سے آگے بڑھتے وہ اس بات سے انجان تھے کہ آگے کا منظر ان کی زندگیوں میں کیا قیامت ڈھانے والا ہے
_____________
ایک قیامت تھی جو شاہ اور خان حویلی کے لوگوں پر گزری تھی— گاؤں کے سردار کا قتل پر پورا گاؤں دکھ و صدمے میں نڈھال تھا—
خان حویلی سے جنازہ اٹھا تو پر طرف چیخوں پکار سے کہرام مچ گیا تھا
شیر خان کے قتل کو دس دن ہو چلے تھے جو ثبوت ولی خان اور بہادر خان کو شیر خان کی لاش کے قریب سے ملے تھے وہ چاہ کر بھی اس پر یقین نہیں کر پا رہے تھے—
پولیس معاملے کی چھان بین میں مصروف تھی اور بہادر اور ولی خان اس امید پر چپ تھے کہ اللہ کر کہ وہ ثبوت جھوٹ ثابت ہو جائے ان کا داماد—شیر خان کا جگری یار ان کا یار ہی رہے دشمن نا ثابت ہو جائے
ولی خان اور بہادر خان اس وقت مردان خانے میں بیٹھے تھے جب انپسکٹر جبار وہاں داخل ہوا
سلام دعا کے بعد وہ ایک نظر دائیں جانب سر جھکائے بیٹھے سمیر شاہ پر ڈالتا ولی خان کے سامنے بیٹھ گیا
بتاؤں انسپکٹر کیا بنا—مجرم کون ہے—
دیکھیں ولی خان صاحب—میں یہ بات اس طرح کرنا تو نہیں چاہتا تھا—اور نا ہی یہ بات میں تھانے میں کسی کے سامنے کرنا چاہتا تھا
آپ مدعے کی بات پر آئیں انسپکٹر— یہ دس دن سولی پر کاٹنے کے مترادف تھے ہمارے لیے—میرے بھائی کا قاتل زندہ ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں”— بہادر خان کے غرا کر کہنے پر بادام گل نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے معنی خیز نظروں سے انسپکٹر کو دیکھا جس پر انسپکٹر—نے سمجھتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا
“کتنی تکلیف دہ بات آپ کے لیے ہے اتنی ہی ہمارے لیے ہے—کہ جن دوستوں کی دوستی کی مثالیں ہماری مائیں ہمیں دیتی تھی—اسی دوست نے اپنے جگری یار کو محض دولت میں خاطر اتنی دردناک موت دی— داجی آپ شاید جانتے نہیں—یہ بات تفسیش کے دوران معلوم ہوئی ہے کہ حدایت شاہ نے نکاح پر حق مہر کے نام پر شیر خان کی آدھی دولت اپنی بیٹی کے نام لکھوائی ہے—اور اب وہ اپنے بیٹے سے پلوشہ بیٹیاں کا نکاح باقی کی جائیداد حدائق کے نام لگوا کر کرنا چاہتے تھے—حدایت شاہ نے جانے سے پہلے تک فیصلہ کرنے کا وقت دیا تھا شیر خان کو اور جب شیر خان نے قتل کے دن صبح جا کر انکار کیا تو حدایت شاہ نے غم و غصے سے پاگل ہوتے ان کا قتل کر دیا”— انسپکٹر کے ہونٹوں سے ادا ہوا ہر لفظ کسی تیر کی طرح ولی خان اور بہادر خان کا دل چھلنی کر گئے تھے—
ولی خان تو جیسے اپنی جگہ ڈھے گئے تھے—دونوں ہاتھوں میں سر تھامے وہ بے یقینی سے انسپکٹر جبار کو دیکھ رہے تھے
_____________
ارے نکل کلموہی یہاں سے—ورنہ جان سے مار دوں گی—عقیدت شاہ کو بازو سے دبوچے سیڑھیوں سے گھسیٹتے— لاونج میں لا کر دھکا دیا تو کشف بیگم تڑپ کر آگے بڑھی
کیا کر رہی ہیں بھابھی معصوم بچی پہلے بخار میں تپ رہی ہے اور آپ ایسا سلوک کر رہی ہیں”— عقیدت کو بانہوں میں بھرتے ٹوکتے ہوئے کہا تو مقدس بیگم اپنا سینہ پیٹتی وہی زمین پر بیٹھتی چلی گئی
قاتل کی بیٹی ہے – میرے شیر خان کو مار دیا اس کے باپ نے—میرے بچوں کو یتیم کر دیا— سب اس ڈائن کی نحوست کی وجہ سے ہوا ہے—مقدس بیگم کے چلانے کی آواز سنتے سب وہی جمع ہونے لگے تھے
سیڑھیوں سے اترتے ضرغام خان نے اپنی سرخ انگارا ہوتی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھتے کشف بیگم کے حصار میں تھر تھر کانپتی عقیدت شاہ کو دیکھا
دل اس وقت ہر احساس سے عاری تھے— نگاہوں کے سامنے باپ کا خون میں لپٹا وجود گھوم رہا تھا—نظریں بے ساختہ اپنے ہاتھوں پر گئی جن سے جان نچھاور کرنے والے باپ کو قبر میں اتارا تھا—
یہ کیا کہہ رہی ہیں بھابھی—ایسا نہیں ہو سکتا حدائق بھائی”— ارے چپ کرو تم – آپ بتائے داجی کیا نہیں سچ کہہ رہی میں—بتائے نہیں کیا آپ کے داماد نے قتل”— مقدس بیگم کے طنزیہ لہجے پر کمرے سے نکلتی مبین بیگم نے لڑکھڑاتے ہوئے بامشکل دروازے کو تھاما
میری بات پر یقین نہیں تو اپنی اس چہیتی بھابھی سے پوچھ لو— اس کے کمرے سے ہی گئے تھے—اس نے کی بتایا تھا نا کہ حدایت کا نام لے رہے تھے غصے سے”—-
بس کر جائے بھابھی میرے حدایت ایسا کچھ نہیں کر سکتے— جھوٹ ہے یہ سب بابا—آپ جانتے ہیں حدایت ایسا مر کر بھی نہیں کر سکتے— وہ شیر خان کو بھائیوں سے بھر کر چاہتے ہیں”— مقدس بیگم کے کہنے پر حلیمہ بیگم نے ترپ کر ولی خان کا بازو تھامتے ہوئے کہا تو ولی خان نے نرمی سے اپنا بازو حلیمہ خان کے ہاتھوں سے چھڑوایا
جب کہ ولی خان کی اس حرکت کو حلیمہ بیگم کے علاؤہ ضرغام خان نے بھی بے یقینی سے دیکھا تھا—
تمہارا شوہر قاتل ہے—ہر ثبوت اس کے خلاف ہے—بھائیوں کی طرح چاہنے اور بھائی ہونے میں فرق بتا دیا اس نے—ہمارے شیر کو مار دیا اس نے—دولت چاہیے تھی ہم سے مانگ لیتا—میری زندگی بھر کی جمع پونجی چھننے کی کیا ضرورت تھی—میرے جگر کے ٹکڑے کو مارنے کی کیا ضرورت تھی”— آنسوؤں سے تر چہرہ لیے—بھیگے لہجے میں کہا تو لاونج میں موت سا سناٹا چھا گیا
نکلو یہاں سے دفع ہو جائے— نہیں ہے کوئی جگہ تم لوگوں کی یہاں—میرے شیر کے قاتل ہو تم لوگ”—کشف بیگم کے لاکھ روکنے کے باوجود مقدس بیگم نے حلیمہ بیگم کو بازو سے تھامتے باہر کی جانب دھکا دیتے ہوئے کہا تو حلیمہ بیگم نے ترپ کر اپنے بھائی کی جانب دیکھا جو سر جھکائے خاموشی سے ولی خان کے پیچھے کھڑا تھا
عقیدت کو طلاق دو ضرغام— مقدس بیگم کے سخت و سپاٹ لہجے پر ضرغام خان نے تڑپ کر ان کے چہرے کی طرف دیکھا
یہ کیا بکواس ہے بہو— بچو کو مت گھسیٹو—یہ بعد کی باتیں ہیں’— ولی خان نے دو ٹوک لہجے میں ٹوکا تو مقدس بیگم نے تالی بجاتے— اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے
آپ کی بیٹی کے شوہر نے میرا سہاگ اجاڑ دیا— اور میں ایسی باتیں بھی نا کروں—بیٹے گا زیادہ آپ کو بیٹی اور نواسی عزیز ہے—عقیدت کو طلاق دو ضرغام – ورنہ میں تمہیں اپنا دودھ نہیں بخشو گی – جس لڑکی کے باپ نے تمہاری ماں کا سہاگ اجاڑ دیا—تم کیسے اسے سہاگن بنا سکتے ہو—
اگر تم نے عقیدت کو طلاق نا دی تو مجھے کبھی ماں مت کہنا”— طنزیہ لہجے میں داجی کو جواب دیتے بت بنے کھڑے ضرغام خان کو دونوں بازوؤں سے جھنجھوڑتے ہوئے کہا تو ضرغام خان نے سپاٹ نظروں سے مقدس بیگم کو دیکھتے نظریں گھما کر خود کو تکتی سبز نگینوں سی آنکھوں میں دیکھا—
محبت نہیں ہوئی تھی—مگر روحیں ایک دوسرے سے جڑ چکی تھی—نکاح میں نجانے ایسی کونسی طاقت تھی—کہ عقیدت کو اپنے نام کرتا اپنا آپ ہواؤں میں اڑتا محسوس ہو رہا تھا—زندگی میں اتنا شاید کسی کو نہیں چاہا تھا جو جتنا ایک مہینے میں خود سے جڑے رشتے کو چاہا تھا—اور یہ چاہت ہر گزرتے دن کے ساتھ ضرغام خون کو بڑھتی محسوس ہو رہی تھی— ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ نکاح نے عشق کے نام کا پودا دل میں جڑ دیا ہو اور اب اس کی شاخیں پورے وجود میں پھیلتی جا رہی ہو—اگر وہ کسی ایک شاخ کو کاٹے بھی تو دس اور پھیل جائے اور اگر دل سے اس عشق کو نکالنے کا سوچے بھی تو جسم سے روح نکل جائے
“طلاق نہیں دوں گا ماں— بابا نے کہا تھا— عقیدت کو نہیں چھوڑنا—انہوں نے کہا تھا بیوی مرد کا لباس اس کی عزت ہوتی ہے—اور خان اپنی عزت کسی اور کے حوالے نہیں کرتے—آپ چاہتی ہیں عقیدت سہاگن نا ہو—میں اس سے اپنا رشتہ نا بناؤ—تو نہیں بناؤں گا—مگر میں اسے طلاق نہیں دوں گا ماں جی—وہ میری بیوی ہے اور مرتے دم تک وہ ضرغام خان کے نام سے ہی منسوب رہے گی—مگر میں زبان دیتا ہوں کبھی بھی عقیدت شاہ کو شوہر ہونے کا مان نہیں دوں گا—
دوٹوک لہجے میں مقدس بیگم کو جواب دیتے آگے بڑھتے کشف بیگم کے پیچھے چھپتی عقیدت کی بازو کو اپنی سخت گرفت میں لیا جس پر عقیدت نے تڑپ کر سر نفی میں ہلایا
“میرا بابا قاتل نہیں—ضر—بابا قاتل نہیں—مجھے مت نکالو—مجھے پلوشے کے پاس رہنا ہے “—ضرغام خان کے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑواتے روتے ہوئے تڑپ کر کہا تو ضرغام خان نے خون چھلکاتی آنکھوں سے عقیدت کو دیکھا
سختی سے ہونٹ بھنچتے بازو سے گھسیٹتے حویلی کے گیٹ کے پاس لا کر دھکا دیا تو بیٹی کے پیچھے آتی حلیمہ بیگم نے دہل کر عقیدت شاہ کو دیکھا
“اب ایک لفظ منہ سے نکالا تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا”— گھٹنے سے بہتے خون کو نظر انداز کرتے—سرخ گالوں پر تھپڑ مارتے دھاڑتے ہوئے کہا تو یہ منظر حویلی میں داخل ہوتے بالاج شاہ کو لمحے میں آگ لگا گیا
تبھی ایک ہی جست میں ضرغام خان کے سر پر پہنچتے وہ عقیدت کا بازو چھڑوا کر ضرغام خان کے چہرے پر مکہ رسید کر چکا تھا—
“بہن ہے میری سالے—ہاتھ کیسے لگایا”— ضرغام خان کا کالر دونوں مٹھیوں میں دبوچے دھاڑتے ہوئے کہا اس سے پہلے ضرغام خان بالاج شاہ پر جھپٹتا کہ بالاج کے پیچھے آتے بہرام نے دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا
عقیدت کی حالت دیکھ غصہ تو اسے بھی بہت آیا تھا—لیکن وہ ضرغام کے دکھ اس کی کنڈیشن کو سمجھتا خاموشی اختیار کر گیا تھا
“بہن تھی—اب بیوی ہے میری— ایک بار کیا مرتے دم تک ہاتھ لگاؤں گا کیا کر لو گے”— بہرام کو پیچھے کرنے کی کوشش کرتے غرا کر کہا تو بالاج شاہ نے خون چھلکاتی سیاہ آنکھوں سے ضرغام خان کو دیکھا
” تو میرا بھی وعدہ ہے خان—جتنی بار تمہارا ہاتھ میری بہن کو تکلیف دینے کے لیے اٹھے گا—بالاج شاہ ڈھال بن کر کھڑا ہو گا اس کے سامنے—اگر تمہارے ہاتھ کو کاٹ کر کتوں کے آگے نا ڈالا تو مجھے بالاج شاہ نا کہنا”—- سرد و سپاٹ لہجے میں کہتے جھک کر روتی بلکتی عقیدت کو بانہوں میں اٹھایا تو یہ منظر ضرغام خان کے رگ و پے میں آگ لگا گیا اس سے پہلے ضرغام آگے بڑھتا کہ حلیمہ بیگم نے آگے بڑھتے اپنے دونوں ہاتھ ضرغام خان کے آگے جوڑ دیے
“میرا شوہر بے گناہ ہے ضرغام—تمہیں پتہ تمہاری پھوپھو جھوٹ نہیں بولتی—اگر تم یقین نہیں کرسکتے تو ان کے واپس آنے تک انتظار کر لو—مگر اس سب کی سزا میری بیٹی کو نا دو—میرے بھائی نے بہت محبت و مان سے یہ رشتہ جوڑا ہے اسے مت توڑنا”— نم لہجے میں کہتی وہ بہرام شاہ کا بازو تھامتی حویلی سے نکلتی چلی گئی
جبکہ ضرغام خان وہی گھٹنوں کے بل بیٹھتا خود سے دور جاتی عقیدت شاہ کو دیکھتا رہا—کئی باغی آنسو پلکوں کی بار توڑتے رخسار پر بہتے گردن میں جذب ہونے لگے—
